Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

یسوع کے ساتھ دُکھ

SUFFERING WITH JESUS
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائمیرز،جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 29 مارچ، 2009
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, March 29, 2009

’’جب ہم اُس کے ساتھ مرگئے، تو اُس کے ساتھ جِئیں گے: اگر ہم دُکھ اُٹھائیں گے، تو اُس کے ساتھ بادشاہی بھی کریں گے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 2:11۔12).

یہ ایک سادہ سے بیان ہے۔ وہ جو مسیح کے ساتھ دُکھ اُٹھائیں گے اُس کے ساتھ حکومت کریں گے۔ پولوس رسول مسیح کے ساتھ دُکھوں کے بارے میں جانتا تھا۔

I۔ اوّل، خود مسیح کے دُکھوں پر غور کریں۔

مسیح نے اِس دُنیا میں ساری زندگی دُکھ اُٹھائے۔ ہیرودیس نے اُس کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی جب وہ صرف بچہ ہی تھا۔ اُس کے خاندان کو اُسے ہیرودیس کے ہاتھوں سے بچانے کے لیے مصر لے جانا پڑا۔ وہاں بھی اُس نے دُکھ اُٹھائے، اپنے لوگوں سے جُدا ہو کر۔

جب وہ اپنی زمینی منادی میں داخل ہوا تو مذید اور دُکھوں نے فوراً اُس کا تعاقب کیا۔ اُس نے چالیس دِنوں تک بیابان میں بھوک اور پیاس کا دُکھ اُٹھایا جہاں پر اُس کو شیطان نے بے رحمی سے مصیبتوں میں مبتلا کیا، جس کے انتہائی نام کا مطلب ’’حریف‘‘ یا دشمن ہوتا ہے۔ اُس پر حکومت کرنےکے لیے اور اُسے بھی خُدا کا ایک دشمن بنانے کے لیے، شیطان کی کوششوں کے تحت مسیح ٹوٹنے کے بالکل قریب تھا۔ جب وہ گدرینیوں کے مُلک میں گیا اور ایک پاگل شخص میں سے آسیبوں کو باہر نکالا تو اُس شہر کے لوگوں نے ’’اُس کو ڈھونڈا کہ وہ اُن کی سرحدوں سے باہر چلا جائے‘‘ (متی8:34)۔ بجائے اِس کے کہ اُن کے شہر کو اِس پاگل شخص کے خوف اور جبر یا ظلم سے بچانے کے لیے اُسکا شکریہ ادا کرتے، یسوع کو اُن سے دور ہونے پر اُن کے توہین آمیز رویوں کا دُکھ سہنا پڑا کہ اُنہیں اُس کی منادی کو سُننا نہ پڑے۔ یہ انکار ضرور اُس کے لیے اندرونی دُکھ اور تکلیف کا سبب بنا ہوگا۔ جب وہ آسیب نکال چکا اور دو نابیناؤں کو شفا دے چکا، اُس کو فریسیوں کی بے شرمی اور توہین آمیز رویوں کا دُکھ سہنا پڑا، جنہوں نے کہا کہ اُس نے بدروحوں کے سردار بالعزبول کی مدد سے آسیبوں کو باہر نکالا تھا (متی12:24)، اور اِلزام لگانا کہ وہ ایک جادوگر تھا بجائے اِس کے کہ خُدا کا اِکلوتا بیٹا تھا جو اُنہیں شیطان کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے زمین پر آیا۔ پھر یسوع ناصرت میں آیا، جہاں پر اُس نے بچے کی حیثیت سے پرورش پائی تھی، جہاں پر وہ اپنے لڑکپن والی ہیکل میں گیا اور ایک واعظ کی منادی کی۔ مگر اُس کے دوست اور رشتہ دار، جن کے ساتھ وہ پلا بڑھا تھا، جب اُنہوں نے اُس کا واعظ سُنا تو

’’اِن باتوں کو سُنتے ہی غُصّہ سے بھر گئے، اور وہ اُٹھے، اور اُنہوں نے یسُوع کو شہر سے باہر نکال دیا اور پھر اُسے اُس پہاڑی کی چوٹی پر لے گئے… تاکہ اُسے وہاں سے نیچے گرادیں‘‘ (لوقا 4:28۔29).

اُس کو شدید دُکھ سہنا پڑا جب اِن زندگی بھرکے دوستوں نے اُس کو اِس واعظ کے لیے شرمندہ کیا اور اُس کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ جب ایک مفلوج شخص کو چھت میں ایک سوراخ کے ذریعے سے نیچے لایا گیا، یسوع نے اُس کو شفا دی اور کہا، ’’دوست، تیرے گناہ معاف ہو گئے‘‘ (لوقا5:20)۔ مگر بجائے اِس کے کہ وہ شکرگزار ہوتے کہ اُس نے اُس شخص کو شفایاب کیا اور اُس کو معاف کیا، فریسیوں نے کہا، ’’یہ کون ہے جو کفر بکتا ہے؟‘‘ اُس کے نیک کاموں کے بارے میں اُن کی ملامت ضرور اُس کے دِل کے لیے شدید دُکھ کا سبب بنی ہوگی۔ جب سبت کے روز اُس نے ایک شخص کے سوکھے ہوئے ہاتھ کو شفا دی تو یہی بااِختیار مذھبی لوگ

’’غُصّہ کے مارے پاگل ہوگئے؛ اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم یسُوع کے ساتھ کیا کریں‘‘ (لوقا 6:11).

یہ ردعمل، بھی، یسوع کے دِل کے لیے شدید تکلیف اور دُکھ کا سبب بنا ہوگا، کہ خود اُس کے اپنے لوگ اُس کے خلاف ’’پاگل ہو گئے، منصوبہ بنا رہے تھے ’’اُس کے ساتھ وہ کیا کریں۔‘‘

خود اُس کے اپنے رشتہ دار بھائی بھی اُس کے خلاف تھے۔ اُنہوں نے اُس کو بُرا بھلا کہا جب ’’یہودی اُس کو قتل کرنے کے لیے ڈھونڈ رہے تھے‘‘ (یوحنا7:1)۔ اُنہوں نے اُس کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ خود کو جان لیوا خطرے میں ڈال لے جب اُنہوں نے کہا،

’’تو خُود کو دنیا پر ظاہر کر۔ کیونکہ اُس کے بھائی بھی اُس پر ایمان نہ لائے تھے‘‘ (یوحنا 7:4۔5).

لیکن یسوع نے خود اپنے ہی بھائیوں کے ہاتھوں مسترد کیے جانے کے دُکھ کو برداشت کیا۔

’’تب یسوع نے اُن سے کہا، یہ وقت میرے لیے مناسب نہیں … دنیا تم سے عداوت نہیں رکھ سکتی لیکن مجھ سے رکھتی ہے کیونکہ میں اُس کے بُرے کاموں کی وجہ سے اُس کے خلاف گواہی دیتا ہُوں‘‘ (یوحنا 7:6۔7).

ہائے، دِل کی وہ تکلیف اور دُکھ جو اُس نے محسوس کیا جب اُس کے چھوٹے بھائیوں نے اُس کا تمسخر اُڑایا اور اُس کو مسترد کیا!

’’اِس پر اُنہوں نے اُسے پکڑنے کی کوشش کی لیکن کوئی اُس پر ہاتھ نہ ڈال سکا کیونکہ ابھی اُس کا وقت نہیں آیا تھا‘‘ (یوحنا 7:30).

جب اُس کے دوستوں نے اُس کا دفاع کرنے کی کوشش کی، تو فریسیوں نے اُن سے کہا، ’’کیا تم بھی دھوکہ کھا گئے؟‘‘ ہائے، اُن دِنوں میں کیسی نفسیاتی مصیبتوں سے یسوع گزرا! اُس کے دشمنوں نے کہا،

’’تو سامری ہے[برادری سے نکالا ہوا آدھا یہودی] اور تجھ میں بدروح ہے؟‘‘ (یوحنا 8:48).

’’اِس پر اُنہوں نے پتھر اُٹھائے کہ اُسے سنگسار کریں لیکن یسُوع اُن کی نظروں سے بچ کر ہیکل سے نکل گیا‘‘ (یوحنا 8:59).

’’اُن میں سے کئی ایک نے کہا کہ اُس میں بد رُوح ہے[ایک آسیب] اور وہ پاگل ہوگیا ہے؛ اُس کی کیوں سُنیں‘‘ (یوحنا 10:20).

’’یہودیوں نے پھر اُسے سنگسار کرنے کے لیے پتھر اُٹھائے … یہودیوں نے جواب دیا، ہم تجحے کسی معجزہ کے لیے نہیں بلکہ اس کفر کے لیے سنگسار کرنا چاہتے ہیں کہ محض آدمی ہوتے ہُوئے تُو اپنے آپ کو خدا بناتا ہے‘‘ (یوحنا 10:31،33).

پھر یسوع بیت عنیاہ میں آیا، جہاں مریم اور مارتھا کا گھر تھا۔ لعزر، اُن کا بھائی، مر گیا تھا جب یسوع گیا ہوا تھا۔ یسوع قبر پر گیا اور اُن سے کہا کہ اُس پتھر کو ہٹا دیں جو دروازے پر تھا۔ پھر یسوع نے کہا، ’’لعزر، باہر چلا آ‘‘ (یوحنا11:43)۔

’’اور وہ مُردہ لعزر نکل آیا، اُس کے ہاتھ اور پاؤں کفن سے بندھے ہُوئے تھے اور چہرہ پر ایک رومال لپٹا ہُوا تھا۔ یسوع نے اُن سے کہا، اُسے کھول دو اور جانے دو‘‘ (یوحنا 11:44).

کچھ جنہوں نے یسوع کو لعزر کو زندہ کرتے ہوئے دیکھا بھاگے اور فریسیوں کو بتایا، کہ اُس کو ایسے کاموں کے کرنے سے روکنے کی کوشش کریں۔

’’پس اُنہوں نے اُس دِن سے یسوع کے قتل کا منصوبہ بنانا شروع کردیا‘‘ (یوحنا 11:53).

کیسی دغابازی، تکلیف، اور اندرونی دُکھ سے یسوع کو نیک کام کرنے اور سچائی کی منادی کرنے سے گزرنا پڑا!

آخر کار اُس کا شاگرد یہوداہ

’’… سردار کاہنوں کے پاس گیا اور اُن سے کہنے لگا، اگر میں یسوع کو تمہارے حوالہ کردوں تو تُم مجھے کیا دوگے اُنہوں نے چاندی کے تیس سکے گِن کر اُسے دے دیئے۔ اور وہ اُس وقت سے یسُوع کو پکڑوانے کا مناسب موقع ڈھونڈنے لگا‘‘ (متی 26:14۔16).

یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ فسح کا کھانا کھانے کے لیے ایک بالا خانے میں گیا۔ کھانے کے اختتام پر، اُن نے عشائے ربانی کو قائم کیا۔ پھر یہوداہ میں ’’شیطان داخل ہوا‘‘ اور وہ فوراً ہی باہر چلا گیا: اور وہ رات کا وقت تھا‘‘ (یوحنا13:27، 30)۔ یہوداہ سردار کاہنوں کو اُس جگہ پر لانے کے لیے گیا تھا جہاں پر وہ جانتا تھا کہ یسوع دعا مانگ رہا ہوگا۔

بعد میں اُس رات، یسوع اپنے شاگردوں کو گتسمنی کے باغ میں لے گیا۔

’’اُس جگہ پہنچ کر اُس نے اُن سے کہا: دعا کرو تاکہ تُم آزمائش میں نہ پڑو۔ اور وہ اُن سے ہٹ کر ذرا آگے چلا گیا اور گھُٹنے ٹیک کر یوں دعا کرنے لگا: اَے باپ! اگر تیری مرضی ہوتو اِس پیالے کو میرے سامنے سے ہٹالے لیکن پھر بھی میری مرضی نہیں بلکہ تیری مرضی پُوری ہو۔ اور آسمان سے ایک فرشہ اُس پر ظاہر ہُوا جو اُسے تقویت دیتا تھا۔ پھر وہ سخت دردوکرب میں مبتلا ہوکر اور بھی دِلسوزی سے دعا کرنے لگا اور اُس کا پسینہ خون کی بوندوں کی مانند زمین پر ٹپکنے لگا‘‘ (لوقا 22:40۔44).

یہاں گتسمنی کے باغ میں، مسیح کے دُکھ اِس قدر شدید بڑھ گئے کہ وہ اذیت میں تھا ’’اور اُس کا پسینہ زمین پر خون کی بڑی بڑی بوندوں کی مانند ٹپکنے لگا‘‘ (لوقا22:40۔44)۔ گتسمنی کے باغ میں خُداوند نے نسل انسانی کے تمام گناہ یسوع پر لاد دیے، اور وہ ہمارے گناہوں کو اُٹھانے والا بن گیا، گتسمنی کے باغ سے لیکر صلیب تک (1پطرس2:24)۔

یہوداہ نے سردار کاہن اور لوگوں کے ہجوم کی رہنمائی باغ میں کی تھی۔ اُنہوں نے یسوع کو گرفتار کیا اور اُس کو سردار کاہن کے گھر پر لے گئے۔

’’اور جو آدمی یسوع کو اپنے قبضہ میں لیے ہُوئے تھے اُس کی ہنسی اُڑاتے اور اُسے مارتے تھے۔ وہ اُس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر پُوچھتے تھے کہ بنوت سے بتا کہ کس نے تجھے مارا؟ اور انہوں نے اُس کے خلاف بہت سی کفر آمیز باتیں بھی کہیں‘‘ (لوقا 22:63۔63).

پھر وہ اُس کو رومی گورنر، پیلاطُوس کے پاس لے گئے – مگر پیلاطُوس نے کہا، ’’میں اِس شخص میں کوئی قصور نہیں پاتا‘‘ (لوقا23:4)۔ وہ اُس کو پیلاطُوس کے پاس سے ہیرودیس کے پاس لے گئے اور پھر واپس پیلاطُوس کے پاس لائے۔

’’پھر پِیلا طُس نے یِسُو ع کو لے کر کوڑے لگوائے۔ اور سِپاہِیوں نے کانٹوں کا تاج بنا کر اُس کے سر پر رکھّا اور اُسے اَرغوانی پَوشاک پہنائی۔ اور اُس کے پاس آ کر کہنے لگے اَے یہُودِیوں کے بادشاہ آداب! اور اُس کے طمانچے بھی مارے۔ پِیلاطُس نے پِھر باہر جا کر لوگوں سے کہا کہ دیکھو مَیں اُسے تُمہارے پاس باہر لے آتا ہُوں تاکہ تُم جانوکہ مَیں اُس کا کُچھ جُرم نہیں پاتا۔ یِسُو ع کانٹوں کا تاج رَکھّے اور اَرغوانی پَوشاک پہنے باہر آیا اور پِیلا طُس نے اُن سے کہا دیکھو یہ آدمی!۔ جب سردار کاہِن اور پیادوں نے اُسے دیکھا تو چِلاّ کر کہامَصلُوب کر مَصلُوب! پِیلا طُس نے اُن سے کہا کہ تُم ہی اِسے لے جاؤ اورمَصلُوب کرو کیونکہ مَیں اِس کا کچھ جُرم نہیں پاتا‘‘ (یوحنا19:1۔6)

’’اور اِس پر پِیلا طُس اُسے چھوڑ دینے میں کوشِش کرنے لگا مگر یہُودِیوں نے چِلاّ کر کہا اگر تُو اُس کو چھوڑے دیتا ہے تو قَیصر کا خَیر خواہ نہیں ۔ جو کوئی اپنے آپ کو بادشاہ بناتا ہے وہ قَیصر کا مُخالِف ہے‘‘ (یوحنا19:12)۔

’’یہ فَسح کی تیّاری کا دِن اور چَھٹے گھنٹے کے قرِیب تھا ۔ پِھر اُس نے یہُودِیوں سے کہا دیکھو یہ ہے تُمہارا بادشاہ۔ پس وہ چِلاّئے کہ لے جا! لے جا! اُسے مَصلُوب کر! پِیلا طُس نے اُن سے کہا کیا مَیں تُمہارے بادشاہ کومصلُوب کرُوں؟ سردار کاہِنوں نے جواب دِیا کہ قَیصر کے سِوا ہمارا کوئی بادشاہ نہیں۔ اِس پر اُس نے اُس کو اُن کے حوالہ کِیا کہ مصلُوب کِیا جائے۔ پس وہ یِسُوع کو لے ئے۔ اور وہ اپنی صلِیب آپ اُٹھائے ہُوئے اُس جگہ تک باہر گیا جو کھوپڑی کی جگہ کہلاتی ہے ۔ جِس کا تَرجُمہ عِبرانی میں گُلگُتا ہے۔ وہاں اُنہوں نے اُس کو اور اُس کے ساتھ اَور دو شخصوں کومصلُوب کِیا ۔ ایک کو اِدھر ایک کو اُدھر اور یِسُو ع کو بِیچ میں‘‘ (یوحنا19:14۔18)۔

’’اِس کے بعد جب یِسُو ع نے جان لِیا کہ اب سب باتیں تمام ہُوئِیں تاکہ نوِشتہ پُورا ہو تو کہا کہ مَیں پیاسا ہُوں۔ وہاں سِرکہ سے بھرا ہُؤا ایک برتن رکھا تھا۔ پس اُنہوں نے سِرکہ میں بِھگوئے ہُوئے سپنج کو زُوفے کی شاخ پر رکھ کر اُس کے مُنہ سے لگایا۔ پس جب یِسُو ع نے وہ سِرکہ پِیا تو کہا کہ تمام ہُؤا اور سر جُھکا کر جان دے دی‘‘ (یوحنا19:28۔30)۔

یوں، اُس کے دُکھوں کا خاتمہ ہوا۔

’’کلام پاک کے مطابق مسیح ہمارے گناہوں کے لیے مرا‘‘ (1کرنتھیوں15:3)۔

اور پولوس رسول نے کہا،

’’جب ہم اُس کے ساتھ مرگئے، تو اُس کے ساتھ جِئیں گے: اگر ہم دُکھ اُٹھائیں گے، تو اُس کے ساتھ بادشاہی بھی کریں گے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 2:11۔12).

II۔ دوئم، پولوس رسول نے مسیح کے ساتھ دُکھ اُٹھائے۔

اُس کی تبدیلی کے وقت پر مسیح نے پولوس کو بتایا کہ وہ شدید دُکھ اُٹھائے گا،

’’میں اُسے جتا دُوں گا کہ میرے نام کی خاطر اُسے کس قدر دُکھ اُٹھانا پڑے گا‘‘ (اعمال 9:16).

2کرنتھیوں، 11 باب میں، پولوس ہمیں اپنے اُن دُکھوں کے بارے میں بتاتا ہے جن سے وہ مسیح کی خاطر گزرا:

’’مَیں نے یہُودِیوں سے پانچ بار ایک کم چالِیس چالِیس کوڑے کھائے۔ تِین بار بیَنت لگے، ایک بار سنگسار کِیا گیا، تِین مرتبہ جہاز ٹُوٹنے کی بَلا میں پڑا، ایک رات دِن سمُندر میں کاٹا، مَیں بار ہا سفر میں، دریاؤں کے خطروں میں، ڈاکُوؤں کے خطروں میں، اپنی قَوم سے خطروں میں، غَیر قَوموں سے خطروں میں، شہر کے خطروں میں، بیابان کے خطروں میں، سمُندر کے خطروں میں، جُھوٹے بھائِیوں کے خطروں میں، مِحنت اور مشقّت میں، بارہا بیداری کی حالت میں، بُھوک اور پِیاس کی مُصِیبت میں، بارہا فاقہ کشی میں، سردی اور ننگے پَن کی حالت میں رہا ہُوں۔ اَور باتوں کے عِلاوہ جِن کا مَیں ذِکر نہیں کرتا سب کلِیسیاؤں کی فِکر مُجھے ہر روز آ دَباتی ہے‘‘ (2۔ کرنتھیوں 11:24۔28).

اپنی زندگی کے اختتام پر، پولوس کو انجیل کی منادی کرنے کے لیے قید کر دیا گیا تھا۔ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ پولوس کا نیرو بادشاہ کے حکم پر سر قلم کر دیا گیا تھا۔ یہ پولوس رسول تھا جس نے اپنی سزائے موت سے تھوڑی دیر پہلے کہا،

’’جب ہم اُس کے ساتھ مرگئے، تو اُس کے ساتھ جِئیں گے: اگر ہم دُکھ اُٹھائیں گے، تو اُس کے ساتھ بادشاہی بھی کریں گے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 2:11۔12).

III۔ سوئم، ابتدائی مسیحیوں نے مسیح کے ساتھ دُکھ برداشت کیے تھے۔

اُن رسولوں کو مارا گیا تھا

’’… اور جب رسُولوں کو پاس بُلا کر اُن کو پِٹوایا اور یہ حُکم دے کر چھوڑ دِیا کہ یِسُو ع کا نام لے کر بات نہ کرنا۔ پس وہ عدالت سے اِس بات پر خُوش ہو کر چلے گئے کہ ہم اُس نام کی خاطِر بے عِزّت ہونے کے لائِق تو ٹھہرے۔ اور وہ ہَیکل میں اور گھروں میں ہر روز تعلِیم دینے اور اِس بات کی خُوشخبری سُنانے سے کہ یِسُو ع ہی مسِیح ہے باز نہ آئے‘‘ (اعمال 5:40۔42).

اِستیفینُس کو شہید کیا گیا کیونکہ اُس نے منادی کی تھی،

’’ اَے گردن کشو اور دِل اور کان کے نامختُونو، تُم ہر وقت رُوحُ القُدس کی مُخالِفت کرتے ہو: جَیسے تُمہارے باپ دادا کرتے تھے، وَیسے ہی تُم بھی کرتے ہو۔ نبِیوں میں سے کِس کو تُمہارے باپ دادا نے نہیں ستایا؟ اور اُنہوں نے تو اُس راست باز کے آنے کی پیش خبری دینے والوں کو قتل کِیا؛ اور اب تُم اُس کے پکڑوانے والے اور قاتِل ہُوئے: تُم نے فرِشتوں کی معرفت سے شرِیعت تو پائی پر عمل نہ کِیا۔ جب اُنہوں نے یہ باتیں سُنِیں، تو جی میں جَل گئے، اور اُس پر دانت پِیسنے لگے۔ مگر اُس نے، رُوحُ القُدس سے معمُور ہو کر، آسمان کی طرف غَور سے نظر کی اور خُدا کا جلال اور یِسُو ع کو خُدا کی دہنی طرف کھڑا دیکھ کر، کہا کہ دیکھو! مَیں آسمان کو کُھلا اور اِبنِ آدم کو خُدا کی د ہنی طرف کھڑا دیکھتا ہُوں۔ مگر اُنہوں نے بڑے زور سے چِلاّ کر اپنے کان بند کر لِئے اور ایک دِل ہو کر اُس پر جَھپٹے اور شہر سے باہر نِکال کر اُس کو سنگسار کرنے لگے‘‘ (اعمال 7:51۔58).

پہلے مسیحیوں کو ایذارسانیوں کے ذریعے سے تِتر بتر کر دیا گیا تھا۔

’’اور ساؤُ ل اُس کے قتل پر راضی تھا۔ اور ساؤُل کلِیسیا کوستاتا ہےاُسی دِن اُس کلِیسیا پر جو یروشلِیم میں تھی بڑا ظُلم برپا ہُؤا؛ اور رسُولوں کے سِوا سب لوگ یہُودِیہ اور سامریہ کی اطراف میں پراگندہ ہو گئے۔ اور دِین دار لوگ ستِفَنُس کو دفن کرنے کے لِئے لے گئے اور اُس پر بڑا ماتم کِیا۔ اور ساؤل کلِیسیا کو اِس طرح تباہ کرتا رہا کہ گھر گھر گُھس کر اور مَردوں اور عَورتوں کو گھسِیٹ کر قَید کراتا تھا۔ پس جو پراگندہ ہُوئے تھے وہ کلام کی خُوشخبری دیتے پِھرے‘‘ (اعمال 8:1۔4)

.

تمام کے تمام رسول، ماسوائے یوحنا کے، شہیدوں کی حیثیت سے فوت ہوئے۔ فلپ کو مصلوب کیا گیا۔ متی کا افریقی ایتھوپیا میں سرقلم کیا گیا۔ یعقوب کو انڈیا میں مرنے تک سنگسار کیا گیا۔ متیاہ کو یروشلیم میں مرنے تک سنگسار کیا گیا۔ اندریاس کو ایک ’’X‘‘ نما صلیب پر مصلوب کیا گیا۔ اُس کو مرنے میں تین دِن لگے تھے۔ مرقس کو سکندریہ کی سڑکوں پر مرنے تک گھسیٹا گیا تھا۔ پطرس کو نیرو کے سرکس میں اُلٹی صلیب پر مصلوب کیا گیا تھا۔ عالیانہ Ileana اور میں اُس مقام پر کھڑے ہوئے تھے جہاں پر اُس کو مصلوب کیا گیا تھا۔ تدّی کو آرمینیا میں تیروں کے ساتھ مارا گیا تھا۔ برتلمائی کو مصلوب کیا گیا تھا۔ تھامس کو ہندوستان میں ایک ہندو پُجاری نے نیزے سے مارا تھا۔ لوقا کو یونان میں ایک زیتون کے درخت کے ساتھ پھانسی دی گئی تھی۔ شمعون جوشیلے کو ایران میں آری سے آدھا کاٹ ڈالا گیا تھا۔ یوحنا کو اُبلتے تیل میں ڈبو دیا گیا تھا مگر وہ معجزانہ طور پر بچ نکلا۔ وہ پطمس Patmos کے جزیرے پر جلا وطنی میں مرا تھا۔

نیرو بادشاہ کی حکمرانی میں شدید ایذائیں دی گئی تھیں، جن کا آغاز ہوا تھا 64 بعد از مسیح میں؛ شہنشاہ ڈیشئیس Emperor Decius کے تحت 249۔251 میں؛ ولیرئیس Valerius کے تحت257 میں؛ اور ڈایوکلیشیئن کے تحت آغاز ہوا 303میں۔ اِن بڑی بڑی ایذارسانیوں کے درمیان، ہمیشہ چھوٹی چھوٹی بھی ہوتی تھیں۔ سمرنہ کے پولیکارپ Polycarp of Smyrna کو 155 میں آلاؤ میں زندہ جلا دیا گیا تھا۔ شہید جسٹن کو کوڑے مارے گئے اور 165 میں سر قلم کر دیا گیا۔ اپنا سر قلم کیے جانے سے پہلے اُس نے لکھا، ’’تم ہمیں قتل کر سکتے ہو مگر ہمیں کوئی اصلی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔‘‘

تمام قرون وسطیٰ میں وہ جو یقین کرتے تھے کہ کلیسیا سے ہٹ کر تنہا مسیح ہی بچا سکتا ہے اُنہیں ہزاروں کی تعداد میں شدید پوچھ گُچھ کے دوران اذیت دی گئی اور قتل کیا گیا۔

یہ اب واضح ہو جاتا ہے کہ گذشتہ تمام مشترکہ صدیوں کے مقابلے میں 20ویں صدی میں زیادہ مسیحی محض مسیحی ہونے کی وجہ سے مرے۔ اُن تمام نے واقعی میں پولوس کے الفاظ پر یقین کیا تھا،

’’جب ہم اُس کے ساتھ مرگئے، تو اُس کے ساتھ جِئیں گے: اگر ہم دُکھ اُٹھائیں گے، تو اُس کے ساتھ بادشاہی بھی کریں گے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 2:11۔12).

IV۔ چہارم، آپ مسیحی کے پاس صرف دُکھوں کے ذریعے سے آ سکتے ہیں۔

ہر ایک کے لیے جو ایک حقیقی مسیحی ہوگا مسیح کے ساتھ دُکھوں کا سہنا ضروری ہوتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ پولوس نے کہا، ’’اگر ہم دُکھ اُٹھائیں گے تو ہم اُس کے ساتھ بادشاہی بھی کریں گے۔‘‘ انطاکیہ میں پولوس نے مسیحیوں کو تعلیم دی،

’’ہمیں خدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لیے بہت سی مصیبتوں کا سامنا کرنا لازم ہے‘‘ (اعمال 14:22).

ایک حقیقی مسیحی اپنے ساری زندگی میں دُکھوں کا تجربہ کرتا ہے۔ یسوع نے کہا، ’’اِس دُنیا میں تم مصیبت اُٹھاؤ گے‘‘ (یوحنا16:33)۔ اُس نے کہا، ’’میں نے تمہیں چُن کر دُنیا سے الگ کر دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ دُنیا تم سے دشمنی رکھتی ہے‘‘ (یوحنا15:19)۔ امریکی ’’خوشحالی‘‘ کے مبلغین نے کلام پاک کے الفاظ کو تڑورمروڑ دیا ہے۔ مسیح دُکھوں کا وعدہ کرتا ہے، خوشحالی کا نہیں۔ مسیح نے کہا، ’’جوکوئی اپنی صلیب اُٹھا کر میرے پیچھے نہیں چلتا، میرے لائق نہیں‘‘ (متی10:38)۔ یہی ہے جو لوگوں کو مسیحی ہونے سے روکتا ہے۔ وہ مسیح کے ساتھ دُکھ اُٹھانا نہیں چاہتے۔ لیکن دُکھوں کو نظرانداز کرنے سے وہ اپنی جانوں کو کھو دیتے ہیں۔ یسوع نے کہا، ’’جوکوئی اپنی جان بچاتا ہے اُسے کھوئے گا: اور جو کوئی میرے لیے اپنی جان کھوتا ہے، اُسے سلامت پائے گا‘‘ (متی10:39)۔ وہ جو دُکھوں کا مسترد کرتے ہیں صرف سطحی مسیحی ہو سکتے ہیں، صرف نام کے مسیحی۔ میں کہتے ہوئے افسردہ ہوں کہ امریکہ اُن سے بھرا پڑا ہے۔ یہ ہولناک طور پر یہاں ایک دُکھ والی صورتحال ہے! مگر حقیقی مسیحیوں نے ہمیشہ ہی جانا ہے کہ دُکھ اُٹھانا کیا ہوتا ہے۔

ابتدائی دُکھ خود تبدیلی کے تجربے ہی میں شروع ہو جاتا ہے۔ پادری وورمبرانڈPastor Wurmbrand اپنے تبدیل ہونے سے بالکل پہلے ’’اندرونی افراتفری کے اِس وقت‘‘ کے بارے میں بتاتے ہیں (مسیح کے لیے اذیت برداشت کی Tortured for Christ، لیونگ سیکریفائز بُکس Living Sacrifice Books، اشاعت1998، صفحہ12)۔

جب خُدا کا روح آپ کے پاس آتا ہے تو وہ آپ کو گناہ کی سزایابی میں لائے گا (یوحنا16:8)۔ یہ ایک ناخوشگوار تجربہ ہوتا ہے، ’’اندرونی افراتفری کا ایک وقت۔‘‘ لیکن، اگر آپ سزایابی کی افراتفری میں سے نہیں گزرتے تو آپ نہیں دیکھ پائیں گے کہ آپ کی فطرت کس قدر گناہ سے بھرپور ہے۔ آپ رسول کے ساتھ پُکار پائیں گے،

’’ہائے میں کیسا بدبخت آدمی ہوں! اِس مَوت کے بدن سے مجھے کون چُھڑائے گا؟‘‘ (رومیوں 7:24).

صرف جب آپ سزایابی کے دُکھوں کا ذائقہ چکھیں گے تو آپ یسوع مسیح کی ضرورت کو دیکھ پائیں گے، جس نے صلیب پر اپنا خون بہایا تاکہ آپ خود اُس کے اپنے خون میں [اپنے] گناہوں سے… پاک صاف ہو جائیں‘‘ (مکاشفہ1:5)۔ تب آپ دُنیا کو چھوڑ دیں گے اور یسوع کے پاس آئیں گے۔ ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice نے اس کو بہت خوب کہا:

مجھے کیوں بڑبڑانا، دُکھوں سے پیچھا چُھڑانا چاہیے،
   یسوع کے نام میں دوستوں یا پیسے لُٹنے کے لیے خوفزدہ ہونا چاہیے؟
اوہ، مجھے خطروں اور سخت سزاؤں کو خوش آمدید کہنا چاہیے
   اگر میں شاید یسوع کی شرم میں کچھ حصّہ بانٹ پاؤں!
میرے دِل کا تمام پیار، میرے تمام پیارے خواب –
   اُنہیں صرف خُداوند یسوع تیرے لیے بنا دے۔
میں جو کچھ بھی ہوں، میں جو کچھ بھی ہو سکتا ہوں،
   خُداوند یسوع مجھے ہمیشہ کے لیے اپنانے کے لیے لے لے۔
(’’میرے دِل کا تمام پیار All My Heart’s Love ‘‘ شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس
      Dr. John R. Rice، 1895۔1980)۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت ڈاکٹر کرھیٹن ایل۔ چعین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: 2کرنتھیوں11:24۔28.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
نے گایا تھا: ’’میرے دِل کا تمام پیار All My Heart’s Love‘‘
( شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice، 1895۔1980)۔

لُبِ لُباب

یسوع کے ساتھ دُکھ

SUFFERING WITH JESUS

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائمیرز،جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’جب ہم اُس کے ساتھ مرگئے، تو اُس کے ساتھ جِئیں گے: اگر ہم دُکھ اُٹھائیں گے، تو اُس کے ساتھ بادشاہی بھی کریں گے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 2:11۔12).

I. اوّل، خود مسیح کے دُکھوں پر غور کریں،
متی8:34؛ 12:24؛ لوقا4:28۔29؛ 5:20، 21؛ 6:11؛
یوحنا7:1، 4۔5، 6۔7؛ 7:30؛ 8:48، 59؛ 10:20، 31، 33؛
یوحنا11:43، 44، 53؛ متی26:14۔16؛ یوحنا13:27، 30؛
لوقا22:40۔44؛ 1پطرس2:24؛ لوقا22:63۔65؛ 23:4؛
یوحنا19:1۔6، 12، 14۔18، 28۔30؛ 1کرنتھیوں15:3 .

II. دوئم، پولوس رسول نے مسیح کے ساتھ دُکھ برداشت کیے تھے، اعمال9:16؛
2کرنتھیوں11:24۔28 .

III. سوئم، ابتدائی مسیحیوں نے مسیح کے ساتھ دُکھ برداشت کیے،
اعمال5:40۔42؛ 7:51۔58؛ 8:1۔4 .

IV. چہارم، آپ مسیح کے پاس صرف دُکھ سہنے کے ذریعے سے آ سکتے ہیں،
اعمال14:22؛ یوحنا16:33؛ 15:19؛ متی10:38، 39؛
یوحنا16:8؛ رومیوں7:24؛ مکاشفہ1:5 .