Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


بیدار ہوئے ایک شخص کی دِل کی پکار

THE HEART CRY OF AN AWAKENED MAN
(Urdu)

ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

خداوند کے دِن کی صبح تبلیغ کیا گیا ایک واعظ، 18 جنوری، 2009
لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں
A sermon preached on Lord’s Day Morning, January 18, 2009
at the Baptist Tabernacle of Los Angeles

’’اور لڑکے کا باپ فوراً چِلّا کر بُولا اور آنسوؤں کے ساتھ کہا، میں اعتقاد رکھتا ہوں؛ تو میرے اعتقاد کو اور بھی پختہ کر دے‘‘ (مرقس 9: 24)۔

مرقس 9 باب کا واقعہ ایک نوجوان پر مرکوز ہے جس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی اور زمین پر لڑھک رہا تھا۔ اس لڑکے کے آسیب زدہ ہونے کے بارے میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یہ آیات اُس کے بارے میں کافی خوفناک بیان کرتی ہیں، ’’[جھاگ] اور [دانت پیسنا]‘‘ (مرقس 9: 18)۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ شاگرد اُس میں سے بدروح کو نہیں نکال سکتے تھے۔

پھر مسیح آتا ہے۔ لڑکے کو یسوع کے پاس لایا جاتا ہے، اور ’’جونہی بدروح نے یسوع کو دیکھا اُس نے لڑکے کوزور سے دھکا دیا اور وہ زمین پر یسوع کے قدموں میں گِر پڑااور لوٹنے لگا اور اُس کے مُنہ سے جھاگ نکلنے لگا‘‘ (مرقس 9: 20)۔ یسوع باپ سے لڑکے کے بارے میں سوال کرتا ہے اور [اُسے] بتایا جاتا ہے کہ بدروح نے ’’اُسے [لڑکے کو] مار ڈالنے کے لیے اکثر… اُسے آگ اور پانی میں پھینک چکی ہے‘‘ (مرقس 9: 22)۔ باپ نے یسوع سے کہا، ’’اگر تجھ سے کچھ ہو سکے تو ہم پر ترس کھا، اور ہماری مدد کر‘‘ (مرقس 9: 22)۔

’’یسوع نے اُس سے کہا، اگر تو یقین نہیں کر سکتا تو اُس کے لیے سب کچھ ممکن ہے جو اعتقاد رکھتا ہے‘‘ (مرقس 9: 23)

۔

پھر باپ کا ردعمل آتا ہے۔ اس خوفناک، رونگھٹے کھڑی کر دینے والی کہانی میں یہ ایک معمولی واقعہ معلوم ہو سکتا ہے، لیکن والد کا ردعمل واقعی کہانی کا ایک اہم نکتہ ہے – کیونکہ یہ بندے کی اپنی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے، جس کے بارے میں مجھے یقین ہے کہ اِس واقعہ کے اہم اسباق میں سے ایک ہے جسے اکثر اس واقعہ کی تبلیغ میں نظرانداز کیا جاتا ہے۔ والد کی تبدیلی کا عروج تب آیا جب وہ

’’چِلّا کر بُولا اور آنسوؤں کے ساتھ کہا، میں اعتقاد رکھتا ہوں؛ تو میرے اعتقاد کو اور بھی پختہ کر دے‘‘ (مرقس 9: 24)۔

مدد کے لیے اس آدمی کی چِلّاتے ہوئے اِلتجا میں، مجھے یقین ہے کہ ہم اسے روحانی نیند سے بیدار ہوتے ہوئے، اپنے آپ کو یسوع کے رحم و کرم کے حوالے کرتے ہوئے، اور حقیقی تبدیلی میں موت سے زندگی کی طرف جاتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ مجھے بتانے دو کہ میرا کیا مطلب ہے۔ یقین کی بیداری ایک آدمی کو تب آتی ہے جب وہ اس سے گزرتا ہے جس سے وہ باپ گزرا تھا۔

I۔ پہلی بات، انسان نے شیطان سے نجات پانے کے لیے بہت سے کام کیے۔

شیطان نے اُس کے بیٹے کو مکمل قابو میں کیا ہوا تھا۔ باپ نے لڑکے (اور خود) کو شیطان کے چنگل سے نکالنے کے لیے بہت سے طریقے آزمائے تھے۔ وہ اپنے بیٹے کو ٹھیک کرنے کے لیے شاگردوں کے پاس گیا، لیکن وہ اس صورت حال میں مدد نہ کر سکے۔

کیا بالکل ایسا نہیں ہے جو [مسیح میں ایمان نہ لائے ہوئے]غیر تبدیل شدہ لوگ کرتے ہیں؟ جب وہ شیطانی طاقت کا سامنا کرتے ہیں، تو لوگ اکثر دوسروں کی طرف رجوع کرتے ہیں، جو ان کی مدد نہیں کر سکتے۔ وہ اپنے گناہ کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے انسانی ذرائع سے بار بار کوشش کرتے ہیں۔ وہ اکثر مشورہ اور مدد کے لیے دوسرے لوگوں سے رجوع کرتے ہیں۔ لیکن کوئی انسانی مدد انسان کو شیطان کی غلامی سے چھٹکارا نہیں دے سکتی۔ آپ مدد کے لیے اپنے دوستوں سے، یا اپنے خاندان کے دوسروں سے، یا شیطان پر قابو پانے کے بارے میں اپنے خیالات کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ صرف یسوع ہی کر سکتا ہے۔

’’انہیں توبہ کی پیشکش کرو… تاکہ وہ اپنے آپ کے لیے شیطان کے پھندے سے چھٹکارا حاصل کر سکیں، جو اُس کی مرضی سے اُس کے اسیر ہو گئے ہیں‘‘ (2۔ تیمتھیس 2: 25-26)۔

II۔ دوسری بات، انسان سزایابی کے تحت آیا۔

وہ اس ناامید حالت سے بیدار ہوا جس میں اس نے اپنے آپ کو پایا، شیطان کی اس کے بچے پر اور اس طرح خود پر بھی اس خوفناک گرفت سے بچنے کے لیے قطعی طور پر نااہل تھا۔ اس کا پورا خاندان شیطان کے قبضے میں تھا لیکن باپ یہ دیکھ کر بیدار ہوا کہ وہ بالکل بے بس ہے۔

’’اور لڑکے کا باپ فوراً چِلّا کر بُولا اور آنسوؤں کے ساتھ کہا، میں اعتقاد رکھتا ہوں؛ تو میرے اعتقاد کو اور بھی پختہ کر دے‘‘ (مرقس 9: 24)۔

یہ تب ہی ہوا تھا جب وہ خوفناک شیطانی غلامی سے بیدار ہوا، جس [غلامی] کا اس کا بیٹا اور درحقیقت اس کا پورا خاندان تابع تھا، کہ وہ آخر کار یسوع کی طرف متوجہ ہوا۔

اس کی بیداری شروع میں سست ہے۔ وہ صرف یسوع سے کہتا ہے، ’’اگر تو کچھ کر سکتا ہے تو ہم پر رحم کر‘‘ (مرقس 9: 22)۔ اسے یقین نہیں ہے کہ یسوع اس کی مدد کر سکتا ہے۔ اسی لیے اسے قطعی طور پر یقین نہیں ہے کہ یسوع ہی اس کے مخمصے کا جواب ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’اگر تو کچھ کر سکتا ہے تو ہم پر رحم کر‘‘ (مرقس 9: 22)۔ اس وقت، اسے بالکل یقین نہیں ہے کہ یسوع اسے اور اس کے لڑکے کو شیطان کی طاقت سے بچا سکتا ہے۔ تب یسوع نے اس سے کہا،

’’اگر تو یقین نہیں کر سکتا تو اُس کے لیے سب کچھ ممکن ہے جو اعتقاد رکھتا ہے‘‘ (مرقس 9: 23)۔

چونکہ فضل دِلانے والا ایمان یا اعتقاد خدا کا تحفہ ہے انسان کو یہ ایمان خدا کے فضل کے مفت تحفہ کے طور پر حاصل کرنا ہوگا،

’’کیونکہ تمہیں ایمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجات ملی ہے اور یہ تمہاری کوششوں کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ خدا کی بخشش ہے‘‘ (افسیوں 2: 8)۔

اگر یہ آدمی خدا کے فضل سے ایمان حاصل کرتا، تو اسے اور اس کے بیٹے کو یسوع کے ذریعہ بچایا جانا تھا۔

باپ پھر ٹوٹ گیا۔ وہ سزایابی کے تحت ’’چیخ اُٹھا‘‘ کہ وہ ایک بے بس گنہگار تھا، جس میں اپنے آپ کو یا اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے کچھ کرنے کی صلاحیت نہیں تھی

’’ہوا کی علمداری کے حاکم، جس کی روح اب تک نافرمان لوگوں میں تاثیر کرتی ہے‘‘ (افسیوں 2: 2)۔

اس آدمی کو یقین ہو گیا کہ اس کی حالت شیطان کی زبردست طاقت کے سامنے بالکل ناامید ہے۔ وہ اُنہیں شیطان کی گرفت سے بچانے کے لیے یسوع کی طاقت کی حقیقت سے بیدار ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ چِلّا اُٹھا، لفظی طور پر چیخا، اور اُن آنسوؤں کے ساتھ کہا جو اکثر سزایابی میں نکل پڑتے ہیں،

’’اے خُداوند، میں اعتقاد رکھتا ہوں؛ تو میرے اعتقاد کو اور بھی پختہ کر دے‘‘ (مرقس 9: 24)۔

یسوع کی طرف سے کوئی ممکنہ مدد نہیں ہو سکتی جب تک کہ آپ کو بیداری کی اس حالت میں نہ لایا جائے – جہاں آپ جانتے ہیں کہ آپ ایک گنہگار ہیں – جہاں آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ بے بس اور ناامید ہیں جب تک کہ یسوع آپ کی شفاعت نہ کرے اور آپ کو بچا نہ لے۔ مختصراً، ایسی بیداری ہی آپ کو آپ کے غرور اور خود انحصاری سے دور کر سکتی ہے، اور آپ کو یسوع کے سامنے گرنے اور مدد کے لیے اس سے فریاد کرنے کے لیے تیار کر سکتی ہے۔ کیا آپ کو اپنی بے بسی اور اپنی خوفناک، کھوئی ہوئی حالت سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے کچھ بھی کرنے کی مکمل نااہلی محسوس کرنے کا فضل دیا گیا ہے؟ آخرکار، اِس لمحے تک، وہ شخص واقعی میں

’’اُن کی عقل تاریک ہو گئی ہے اور وہ اپنی سخت دِلی کے باعث [جو اُس میں تھی] جہالت میں گرفتار ہیں اور خدا کی دی ہوئی زندگی میں اُن کا کوئی حصہ نہیں‘‘ (افسیوں 4: 18)۔

صرف ابھی ہی وہ بیدار ہوا ہے، اور وہ ’’آنسوؤں کے ساتھ‘‘ بیدار ہوا ہے (مرقس 9: 24)۔

ہم نے کتنی بار دیکھا ہے کہ لوگ آتے ہیں اور نجات کا منصوبہ پڑھتے ہیں، یا خود کو بہتر انسان بنانے کی کوشش کرتے ہیں، یا خدا کو خوش کرنے کے لیے کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں – اس تکلیف کو محسوس کیے بغیر – بغیر سزایابی یا یقین کے – آنسوؤں کے بغیر۔ لیکن میں یقین نہیں کرتا کہ آپ کے ساتھ [مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کی] حقیقی تبدیلی ہو سکتی ہے جب تک کہ خُدا کی روح آپ کو آپ کے گناہ اور آپ کی خوفناک حالت کے لیے ایک مقدس خُدا کے سامنے بیدار نہ کرے۔ کیا ایسا کبھی آپ کے ساتھ ہوا ہے – آپ کے ساتھ ذاتی طور پر؟ یسوع نے کہا کہ صرف خُدا کی روح ہی ایک آدمی کو اپنے انجام تک پہنچا سکتی ہے، اور اُسے اس طرح گہری سزایابی کے تحت لا سکتی ہے۔ اس نے کہا

’’جب وہ [خدا کا روح] مددگار آئے گا تو جہاں تک گناہ، راستبازی اور انصاف کا تعلق ہے وہ دُنیا کو مجرم قرار دے گا‘‘ (یوحنا 16: 8)۔

صرف خُدا کی روح ہی ایک آدمی کو قائل کر سکتی ہے کہ وہ فطرتاً ایک گنہگار ہے، کہ وہ ہے۔

’’فطرتاً قہر کا [ایک بچہ]‘‘ (افسیوں 2: 3)۔

یہ بیداری کی اس حالت میں ہوا تھا – اس کے اپنے پیدائشی گناہ اور روحانی موت کی طرف – کہ یہ آدمی خدا کی روح سے کھینچا گیا تھا۔ بیدار ہوا اور اپنے ہی گناہ کی بھرپوری سے دل تک چیر ڈالا گیا، یہ آدمی اب آخرکار [مسیح میں ایمان لا کر] تبدیل ہونے کے لیے تیار ہے،

’’اور لڑکے کا باپ فوراً چِلّا کر بُولا اور آنسوؤں کے ساتھ کہا، میں اعتقاد رکھتا ہوں؛ تو میرے اعتقاد کو اور بھی پختہ کر دے‘‘ (مرقس 9: 24)۔

یہ اُس کی اپنی نجات کے لیے اُتنا ہی رونا تھا، جتنا اُس کے بدروح زدہ بیٹے کی نجات کے لیے تھا!

کیا آپ کو کبھی ایسا بیداری کا، گناہ کی سزا دینے والا تجربہ ہوا ہے؟ کیا آپ نے کبھی اپنے گناہ کو محسوس کیا ہے؟ کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ آپ ایک مکمل طور پر ناپاک گنہگار ہیں جو صرف یسوع ہی کے ذریعے بچایا جا سکتا ہے؟ کچھ بھی کہنا اچھا نہیں ہوتا، ’’ہمیں نجات کی ضرورت ہے۔‘‘ سچی سزایابی تب ہوتی ہے جب آپ کہتے ہیں، جیسا کہ اس آدمی نے کیا، ’’تو میرے اعتقاد کو اور بھی پختہ کر دے‘‘ (مرقس 9: 24)۔ ایک آدمی نجات کے لیے کبھی بھی حقیقی طور پر تیار نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنے دل سے نہیں پکارتا، ’’میری مدد کرو۔‘‘ سچ ہے، ’’ہمیں‘‘ بچانے کی ضرورت ہے۔ لیکن آپ کا کیا ہوگا؟ جب تک کہ آپ محسوس کرتے ہیں اور واقعی اس کا مطلب ہے جب آپ کہتے ہیں، ’’میری مدد کر، یسوع‘‘ آپ اب بھی کھلواڑ کر رہے ہیں یعنی کھیل کھیل رہے ہیں اور مسیح میں ایمان لانے کی تبدیلی کے لیے بالکل بھی تیار نہیں ہیں۔

میں نے حال ہی میں کئی غیر نجات یافتہ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے، ’’ہمیں بچائے جانے کی ضرورت ہے۔‘‘ ’’ہمیں یسوع کے خون سے پاک صاف ہونے کی ضرورت ہے۔‘‘ ایسی باتوں سے دور ہی رہیں! آپ کو بیدار اور عاجز ہونا چاہیے تاکہ آپ سچائی سے ’’آنسوؤں کے ساتھ‘‘ کہہ سکیں، مجھے یسوع میں نجات کی ضرورت ہے۔‘‘ ’’مجھے اپنے گناہوں سے یسوع کے خون سے پاک صاف ہونے کی ضرورت ہے۔‘‘ آپ کو خُدا کی طرف سے یہ کہنے کے قابل ہونا چاہیے، ’’مجھے مسیح کی ضرورت ہے۔‘‘ ’’مجھے آسمان میں خدا کی اندراج [ریکارڈ] کی کتاب میں سے اپنے گناہوں کو دھونے کے لیے اس کے خون کی ضرورت ہے۔‘‘

’’اور لڑکے کا باپ فوراً چِلّا کر بُولا [وہ واقعی میں چیخا تھا] اور آنسوؤں کے ساتھ کہا، میں اعتقاد رکھتا ہوں؛ تو میرے اعتقاد کو اور بھی پختہ کر دے‘‘ (مرقس 9: 24)۔

تبھی جب آپ یسوع کے پاس دردناک دل اور آنسو بھرے جذبات کے ساتھ آئیں گے تو وہ آپ کو جواب دے گا، اس پر آپ کے ایمان میں اضافہ کرے گا، اور آپ کی روح کو اس عذاب سے بچائے گا جس کے آپ آگ کی جھیل میں مستحق ہیں۔

کیا آپ اس آدمی کی طرح مسیح کے ذریعہ نجات پا جائیں گے، یا آپ بہانے بناتے رہیں گے، اور [مسیح میں ایمان لانے کی] اپنی تبدیلی کو روکتے رہیں گے، جب تک کہ آپ کے [مسیح میں ایمان لا کر] تبدیل ہونے میں ہمیشہ کے لیے بہت دیر نہ ہو جائے، جب تک کہ آپ کے لیے جہنم کے ابدی عذابوں سے بچنے میں ہمیشہ کے لیے بہت دیر نہ ہو جائے؟


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

لُبِ لُباب

بیدار ہوئے ایک شخص کی دِل کی پکار

THE HEART CRY OF AN AWAKENED MAN

ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’اور لڑکے کا باپ فوراً چِلّا کر بُولا اور آنسوؤں کے ساتھ کہا، میں اعتقاد رکھتا ہوں؛ تو میرے اعتقاد کو اور بھی پختہ کر دے‘‘ (مرقس 9: 24)۔

(مرقس 9: 18، 20، 23)

I۔   پہلی بات، انسان نے شیطان سے نجات پانے کے لیے بہت سے کام کیے،
تیمتھیس 2: 25-26۔

II۔  دوسری بات، انسان سزایابی کے تحت آیا، مرقس 9: 23؛ افسیوں 2: 8، 2؛
افسیوں 4: 18; یوحنا 16: 8؛ افسیوں 2: 3۔