Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


مسیح کی آمدِ ثانی

THE SECOND COMING OF CHRIST
(Urdu)

ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

خداوند کے دِن کی صبح تبلیغ کیا گیا ایک واعظ، 7 دسمبر، 2008
لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں
A sermon preached on Lord’s Day Morning, December 7, 2008
at the Baptist Tabernacle of Los Angeles

’’اُن دِنوں کی مصیبتوں کے بعد سورج ایک دم تاریک ہو جائے گا، اور چاند کی روشنی جاتی رہے گی، آسمان سے ستارے گِرنے لگیں گے، اور آسمانی کی قوتیں ہِلا دی جائیں گی۔ اُس وقت ابنِ آدم کا نشان آسمان پر دکھائی دے گا اور تب دُنیا کی تمام قوتیں چھاتی پیٹیں گی اور ابنِ آدم کو آسمان کے بادلوں پر عظیم قدرت اور جلال کے ساتھ آتے دیکھیں گی‘‘ (متی 24: 29 – 30)۔

بائبل مسیح کے زمین پر دو بار آنے (یعنی دو آمد) کی تعلیم دیتی ہے۔ پہلی آمد اُس وقت ہوئی جب مسیح بیت لحم میں پیدا ہوا۔ مسیح آسمان سے نیچے تشریف لایا اور ’’بادشاہ ہیرودیس کے زمانے میں یہودیہ کے بیت لحم میں پیدا ہوا‘‘ (متی 2: 1)۔ اسی لیے کیتھولک اور بہت سے پروٹسٹنٹ کرسمس کے زمانے کو ’ایڈونٹ‘‘ (آمد کا زمانہ) کہتے ہیں۔

’’لیکن جب وقت پورا ہو گیا تو خدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا جو عورت سے پیدا ہوا اور شریعت کے ماتحت پیدا ہوا‘‘ (گلِتیوں 4: 4)۔

مسیح اس کرہ ارض پر تینتیس سال زندہ رہا۔ پھر اسے صلیب پر چڑھایا گیا۔ اُنہوں نے اُس کی میت کو ایک قبر میں رکھا اور اُس پر مہر لگا دی۔ لیکن تیسرے دن، اتوار کی صبح، وہ جسمانی طور پر مردوں میں سے جی اُٹھا۔ وہ شاگردوں پر ظاہر ہوا،

’’دُکھ سہنے کے بعد اُس نے اپنے زندہ ہو جانے کے کئی قوی ثبوت بھی بہم پہنچائے اور وہ چالیس دِن تک اُنہیں نظر آتا رہا‘‘ (اعمال 1: 3)۔

اُن چالیس دِنوں کے اِختتام کے بعد

’’اِن باتوں کے بعد وہ دیکھتے ہی دیکھتے اُن کے سامنے اُوپر آسمان پر اُٹھا لیا گیا اور بدلی نے اُسے اُن کی نظروں سے چُھپا لیا‘‘ (اعمال 1: 9)۔

وہ پہلی آمد تھی – یعنی مسیح کی زمین پر پہلی آمد تھی۔

لیکن بائبل یہ تعلیم دیتی ہے کہ ایک دوسری ’ایڈونٹ‘ (آمدِ ثانی) بھی ہوگی — یعنی مسیح کی دوسری آمد۔ بائبل کہتی ہے کہ وہ ”دوسری بار ظاہر ہو گا“ (عبرانیوں 9: 28)۔ اور ہماری زیرِ بحث تلاوت بھی مسیح کی اسی دوسری آمد کا ذکر کرتی ہے۔

’’اُن دِنوں کی مصیبتوں کے بعد سورج ایک دم تاریک ہو جائے گا، اور چاند کی روشنی جاتی رہے گی، آسمان سے ستارے گِرنے لگیں گے، اور آسمانی کی قوتیں ہِلا دی جائیں گی۔ اُس وقت ابنِ آدم کا نشان آسمان پر دکھائی دے گا اور تب دُنیا کی تمام قوتیں چھاتی پیٹیں گی اور ابنِ آدم کو آسمان کے بادلوں پر عظیم قدرت اور جلال کے ساتھ آتے دیکھیں گے‘‘ (متی 24: 29 – 30)۔

مسیح کو ”ابنِ آدم“ کہا جاتا ہے۔ ”اُن دنوں کے بہت بڑے مصائب کے فوراً بعد“ زمین پر تاریکی چھا جائے گی، بالکل اُسی طرح جیسے اُس دن ہوا تھا جب مسیح صلیب پر فوت ہوا تھا۔

’’اور وہ ابنِ آدم کو آسمان کے بادلوں پر عظیم قدرت اور جلال کے ساتھ آتے دیکھیں گے‘‘ (لوقا 21: 27)۔

’’کیونکہ جیسے بجلی مشرق سے چمک کے مغرب تک دکھائی دیتی ہے ویسے ہی ابنِ آدم کا آنا ہوگا‘‘ (متی 24: 27)۔

وہ دوبارہ آ رہا ہے، وہ دوبارہ آ رہا ہے،
   بالکل وہی یسوع، جِسے لوگوں نے رد کیا؛
وہ دوبارہ آ رہا ہے، وہ دوبارہ آ رہا ہے،
   عظیم جلال اور قوت کے ساتھ، وہ دوبارہ آ رہا ہے!
(’’وہ دوبارہ آ رہا ہے He is Coming Again، شاعر میبل جانسٹن کیمپ Mabel Johnston Camp، 1871۔1937).

’’اُن دِنوں کی مصیبتوں کے بعد سورج ایک دم تاریک ہو جائے گا، اور چاند کی روشنی جاتی رہے گی، آسمان سے ستارے گِرنے لگیں گے، اور آسمانی کی قوتیں ہِلا دی جائیں گی۔ اُس وقت ابنِ آدم کا نشان آسمان پر دکھائی دے گا اور تب دُنیا کی تمام قوتیں چھاتی پیٹیں گی اور ابنِ آدم کو آسمان کے بادلوں پر عظیم قدرت اور جلال کے ساتھ آتے دیکھیں گی‘‘ (متی 24: 29 – 30)۔

بائبل دوسری آمد کے بارے میں دو باتیں بالکل واضح کرتی ہے۔

I۔ پہلی بات، یہ ریپچر نہیں ہے۔

ریپچر میں، مسیح ظاہری طور پر نہیں آتا، اور وہ زمین پر نہیں آتا۔ ریپچر میں،

’’پھر ہم جو زندہ باقی ہوں گے اُن کے ساتھ بادلوں میں اُٹھا لیے جائیں گے تاکہ ہوا میں خداوند کا استقبال کریں‘‘ (Iتھِسّلُنیکیوں 4: 17)۔

’’ریپچر‘‘ کے دوران، حقیقی مسیحیوں کو ’’اوپر اٹھا لیا جائے گا... تاکہ وہ ہوا میں خداوند کا اِستقبال کر سکیں۔‘‘ میں نے کچھ عرصہ قبل اسی موضوع پر واعظ کیا تھا۔ پرانے عہد نامے میں، حنوک اور ایلیاہ کی کایا پلٹ دی گئی تھی اور انہیں زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا۔ حنوک اور ایلیاہ دونوں ہی زمین پر مسیح کی دوسری آمد سے قبل حقیقی مسیحیوں کے ’’ریپچر‘‘ (یعنی آسمان پر اٹھائے جانے) کی مثالیں یا نمونے ہیں۔ اسے ایک ’’بھید‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی ایسی بات جو انسانی عقل و فہم سے بالاتر ہے۔ پولوس رسول نے کہا،

’’دیکھو، میں تمہیں ایک راز کی بات بتاتا ہوں … ہم سب بدل جائیں گے، ایک لمحے میں، یہ پلک جھپکتے ہی میں ہو جائے گا یعنی ایک دم جب آخری نرسنگا پھونک جائے گا کیونکہ سارے مُردے نرسنگے کے پھونکے جانے پر غیرفانی جسم پا کر زندہ ہو جائیں گے اور ہم سب بدل جائیں گے‘‘ (I کرنتھیوں 15: 51 – 52)۔

’’اُن کے ساتھ بادلوں میں اُٹھا لیے جائیں گے تاکہ ہوا میں خداوند کا استقبال کریں‘‘ (Iتھِسّلُنیکیوں 4: 17)۔

اوہ، خوشی، اوہ مسرت! کیا ہمیں مرے بغیر جانا چاہیے،
   کوئی بیماری نہیں، اُداسی نہیں، خوف اور رونا نہیں،
اپنے خداوند کے ساتھ جلال میں بادلوں میں اُٹھا لیا جانا،
   جب یسوع ’’اُس کے اپنوں کو‘‘ خیرمقدم کرتا ہے۔
(’’مسیح واپس آ گیا Christ Returneth‘‘ شاعر ایچ۔ ایل۔ ٹرنر H. L. Turner، 1878)۔

وہ ریپچر ہے! ’’بدل جائیں گے … خداوند کا ہوا میں اِستقبال کرنے کے لیے۔‘‘

II۔ دوسری بات، یہ زمین پر اُس کی واپسی ہے۔

’’ریپچر‘‘ کے دوران، حقیقی ایمان لانے والوں کو فضا میں مسیح سے ملنے کے لیے اوپر اٹھا لیا جائے گا۔ زمین پر موجود کسی اور شخص کو اس بات کا علم نہیں ہوگا۔ ’’ریپچر‘‘ کے مخالفین اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اسے ’’خفیہ ریپچر‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ درحقیقت، پیچھے رہ جانے والوں کے لیے یہ واقعی ایک خفیہ واقعہ ہی ہوگا!

لیکن مسیح کی ’’دوسری آمد‘‘ ہرگز کوئی خفیہ واقعہ نہیں ہوگی! متی 24: 30 کے دوسرے حصے پر غور کریں۔

اور تب دُنیا کی تمام قوتیں چھاتی پیٹیں گی اور ابنِ آدم کو آسمان کے بادلوں پر عظیم قدرت اور جلال کے ساتھ آتے دیکھیں گی‘‘ (متی 24: 30)۔

یہ مسیح کی دوسری آمد ہے! جان سینک John Cennickاور چارلس ویزلی Charles Wesley نے لکھا،

اب ہر آنکھ اُسے دیکھے گی،
   ہیبت ناک جلال کی قبا پہنے ہوئے؛
جنہوں نے اُسے حقیر جانا اور بیچا،
   اُسے چھلنی کیا اور صلیب پر جڑ دیا،
وہ زار و قطار روتے ہوئے، وہ زار و قطار روتے ہوئے، وہ زار و قطار روتے ہوئے،
   سچے مسیحا کو دیکھیں گے۔
(’’دیکھو! وہ آتا ہےLo! He Comes‘‘ شاعر جان سینک John Cennick، 1718۔1755؛
   چارلس ویزلیCharles Wesley، 1707۔1788 کی جانب سے ترمیم کیا گیا)

مسیح کی دوبارہ آمد بالکل یقینی ہے۔ خدا نے بائبل میں ہمیں اس بارے میں بتایا ہے۔ اور ”خدا کا جھوٹ بولنا ناممکن ہے“ (عبرانیوں 6: 18)۔ مسیح اس زمین پر اپنی بادشاہی قائم کرنے کے لیے آ رہا ہے۔ لیکن اُس کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لیے آپ کا نئے سرے سے پیدا ہونا ضروری ہے۔ مسیح نے کہا،

’’جب تک کوئی شخص پانی اور روح سے پیدا نہ ہو وہ خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا‘‘ (یوحنا 3: 5)۔

اُس نے کہا،

’’جب تک کوئی شخص پانی اور روح سے پیدا نہ ہو وہ خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا‘‘ (یوحنا 3: 5)۔

اُس نے کہا،

’’تمہیں نئے سرے سے جنم لینا چاہیے‘‘ (یوحنا 3: 7)۔

میں جان ہس John Huss، لوتھرLuther، بنیعان Bunyan، وائٹ فیلڈ Whitefield، ویزلی Wesley اور سی ایچ سپرجیئن کے ایمان لانے کے واقعات کے بارے میں سوچتا رہا ہوں۔ ان کے معاملے میں کوئی ابہام یا غیر واضح بات نہیں تھی۔ انہیں اپنے گناہوں کی سزایابی کا شدید احساس ہوا۔ انہوں نے خود کو سدھارنے اور ایک مسیحی کی طرح زندگی گزارنے کی کوشش کی، لیکن انہیں احساس ہوا کہ وہ ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کیفیت نے انہیں گناہ کے مزید گہرے احساس اور مایوسی میں مبتلا کر دیا۔ بالاآخر، وہ مسیح کے پاس آئے اور صرف اُس کے خون اور اُس پر ایمان کے وسیلے سے اپنے گناہوں سے پاک ہوئے۔ وہ بدل گئے – یعنی ’’اُس کے خون پر ایمان کے وسیلے سے‘‘ نئے سرے سے پیدا ہوئے (رومیوں 3: 25)۔

لیکن برسوں کے تجربے سے میں نے یہ جانا ہے کہ انسان کو اپنی ذات پر انحصار ترک کرنا پڑتا ہے اور خود کو بچانے کی تمام امیدیں چھوڑنی پڑتی ہیں، ورنہ وہ کبھی بھی حقیقی معنوں میں نئے سرے سے پیدا نہیں ہو سکتا۔ اور اگر آپ نئے سرے سے پیدا نہیں ہوئے تو آپ اُس بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکیں گے جسے قائم کرنے کے لیے مسیح اس زمین پر تشریف لائے گا۔

تمہیں نئے سِرے سے جنم لینا چاہیے،
   تمہیں نئے سرے سے جنم لینا چاہیے،
میں بار بار تم سے کہتا ہوں،
   تمہیں نئے سرے سے جنم لینا چاہیے۔
(’’تمہیں نئے سرے سے جنم لینا چاہیےYe Must Be Born Again‘‘ شاعر ولیم ٹی سلیپرWilliam T. Sleeper، 1819۔1904)۔

جان ہس، لوتھر، بنیعان، وائٹ فیلڈ، ویزلی اور سی ایچ سپرجیئن کے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کے واقعات کا مطالعہ کرنے سے میں نے ایک اور بات یہ سیکھی ہے کہ وہ بہت سنجیدہ تھے۔ وہ سنجیدہ مزاج لوگ تھے۔ انہیں اپنی نجات کے حصول میں سنجیدہ دلچسپی تھی۔ اگر آپ سنجیدہ ہیں – اور مجھے امید ہے کہ آپ ہیں – تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ گرجا گھر کی حاضری سے محروم نہ رہیں۔ مسیح نے کہا،

’’تنگ دروازے سے داخل ہونے کی پوری کوشش کرو کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں بہت سے لوگ اندر جانے کی کوشش کریں گے لیکن نہ جا سکیں گے‘‘ (لوقا 13: 24)۔

خدا کے فضل سے، آپ مسیح میں شامل ہونے کی کوشش کریں اور اُس کے اُس خون کے وسیلے سے نجات اور معافی پائیں جو گناہوں کی معافی کے لیے صلیب پر بہایا گیا تھا۔

جان ہس کو مسیح کی خوشخبری کی منادی کرنے کی پاداش میں زندہ جلا دیا گیا تھا۔ لوتھر، بنیعان، وائٹ فیلڈ، ویزلی اور سپرجیئن کی طرح وہ بھی ایک انتہائی سنجیدہ انسان تھے – اتنے سنجیدہ کہ اُنہوں نے مسیح کی خاطر اپنی جان تک قربان کر دی۔ ہس جیسے لوگوں کو اپنا نمونہ اور ہیرو بنائیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو زندہ جلائے جانے کی صورت میں اپنی جان نہ دینی پڑے، لیکن اُن جیسا بننے کے لیے آپ کو یقیناً اپنے دنیاوی عزائم کو ترک کرنا پڑے گا۔ ہس کی طرح بننے کے لیے آپ کو یقیناً اپنی امیدوں اور منصوبوں کو چھوڑنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ آپ کو صرف مسیح کے لیے جینے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ آپ کو یقیناً ایک زندہ قربانی بننے کے لیے تیار رہنا ہوگا، اور یسوع کے پیروکار کی حیثیت سے جینے اور دکھ اٹھانے کو اپنا اعلیٰ ترین مقصد بنانا ہوگا، چاہے اس کے لیے آپ کو کوئی بھی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔ میری دلی دعا ہے کہ کوئی نوجوان ہس کی مثال کی پیروی کرے اور مسیح کے لیے زندگی گزارے، چاہے اس کے لیے کوئی بھی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔ کیا آپ ایسا کریں گے؟ خدا آپ کو ایسا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

لُبِ لُباب

مسیح کی آمدِ ثانی

THE SECOND COMING OF CHRIST

ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’اُن دِنوں کی مصیبتوں کے بعد سورج ایک دم تاریک ہو جائے گا، اور چاند کی روشنی جاتی رہے گی، آسمان سے ستارے گِرنے لگیں گے، اور آسمانی کی قوتیں ہِلا دی جائیں گی۔ اُس وقت ابنِ آدم کا نشان آسمان پر دکھائی دے گا اور تب دُنیا کی تمام قوتیں چھاتی پیٹیں گی اور ابنِ آدم کو آسمان کے بادلوں پر عظیم قدرت اور جلال کے ساتھ آتے دیکھیں گی‘‘ (متی 24: 29 – 30)۔

(متی 2: 1؛ گلتیوں 4: 4؛ اعمال 1: 3، 9؛ عبرانیوں 9: 28؛
لوقا 21: 27؛ متی 24: 27)

I۔   پہلی بات، یہ ریپچر نہیں ہے، I تھِسّلُنیِکیوں 4: 17؛ I کرنتھیوں 15: 51 – 52۔

II۔  دوسری بات، یہ زمین پر اُس کی واپسی ہے، متی 24: 30؛ عبرانیوں 6: 18؛
یوحنا 3: 5، 3، 7؛ رومیوں 3: 25؛ لوقا 13: 24۔