اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔
واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔
جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔
مسیحی کہاں پر جائیں گے جب اُنہیں ریپچر میں [مسیح کی آمد ثانی پر اُس کے اِستقبال کے لیے آسمان میں بادلوں پر زندہ اُٹھا] لیا جائے گا؟WHERE WILL CHRISTIANS GO WHEN THEY ARE RAPTURED? ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے نوٹ: ڈاکٹر ہائیمرز اور ڈاکٹر کیگن ریپچر [مسیح کی آمد ثانی پر ایمانداروں کا اُس کے اِستقبال کے لیے آسمان میں بادلوں پر زندہ اُٹھا لیے جانے] پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن وہ اِس بات میں یقین نہیں رکھتے کہ یہ فوری طور پر رونما ہو جائے گا یا بہت بڑے مصائب سے پہلے ہوگا۔ ’’میرے باپ کے گھر میں بہت سے مکان ہیں: اگر نہ ہوتے تومیں نے تمہیں بتا دیا ہوتا۔ میں تمہارے لیے جگہ تیار کرنے وہاں جا رہا ہوں۔ اگر میں جا کر تمہارے لیے جگہ تیار کروں گا تو میں دوبارہ واپس آ کر تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤں؛ تاکہ جہاں میں ہوں تم بھی وہاں ہو‘‘ (یوحنا 14: 2۔3)۔ |
بائبل سکھاتی ہے کہ سچے مسیحی ریپچر میں[مسیح کی آمد ثانی پر اُس کے اِستقبال کے لیے آسمان میں بادلوں پر زندہ اُٹھا] لیے جائیں گے۔ یسوع زمین کے اوپر فضا میں اترے گا، اور سچے مسیحی، زندہ اور مردہ دونوں کو، ایک لمحے میں بدل کر بادلوں میں اس سے ملنے کے لیے اُٹھا لیا جائے گا۔ یہ ہماری تلاوت میں پیش کیا گیا ہے۔
’’میرے باپ کے گھر میں بہت سے مکان ہیں: اگر نہ ہوتے تومیں نے تمہیں بتا دیا ہوتا۔ میں تمہارے لیے جگہ تیار کرنے وہاں جا رہا ہوں۔ اگر میں جا کر تمہارے لیے جگہ تیار کروں گا تو میں دوبارہ واپس آ کر تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤں؛ تاکہ جہاں میں ہوں تم بھی وہاں ہو‘‘ (یوحنا 14: 2۔3)۔
بائبل ہمیں اِس واقعے کے بارے میں مذید اور I تھسالونیکیوں 4: 16۔17 آیت میں بتاتی ہے۔ مہربانی سے اِسے کھولیں۔
’’کیونکہ خداوند خود بڑی للکار اور مقرب فرشتے کی آواز اور نرسنگے کے پھونکے جانے کے ساتھ آسمان سے اُترے گا اور وہ سب جو مسیح میں مر چکے زندہ ہو جائیں گے۔ پھر ہم جو زندہ باقی ہوں گے اُن کے ساتھ بادلوں پر اُٹھا لیے جائیں گے تاکہ ہوا میں خداوند کا استقبال کریں اور ہمیشہ اُس کے ساتھ رہیں‘‘ (I تھسالونیکیوں 4: 16۔17)۔
سچے مسیحی زندہ اور مردہ دونوں ہی ہوا میں مسیح کے ساتھ اُٹھائے جائیں گے۔
ریپچر [مسیح کی آمد ثانی پر اُس کے اِستقبال کے لیے آسمان میں بادلوں پر زندہ اُٹھا لیے جانے] کی مذید تفصیل I کرنتھیوں 15: 51-52 میں دی گئی ہے۔ براہ کرم اس حوالے کی طرف متوجہ ہوں۔
’’دیکھو میں تمہیں ایک راز کی بات بتاتا ہوں؛ ہم سب موت کی نیند نہیں سوئیں گے، لیکن بدل ضرور جائیں گے، یہ پلک جھپکتے ہی ہو جائے گا، یعنی ایک دم جب آخری نرسنگا پھونکا جائے گا۔ کیونکہ سارے مُردے نرسنگے کے پھونکے جانے پر غیر فانی جسم پا کر زندہ ہو جائیں گے اور ہم سب بدل جائیں گے‘‘ (I کرنتھیوں 15: 51۔52)۔
ان آیات میں ہمیں ریپچر کے مظہر اور اسرار کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ ہمارے جسموں کو ایک سیکنڈ میں تبدیل کیا جائے گا اور ان مسیحیوں کے ساتھ جو پہلے ہی مر چکے ہوں گے زندہ ہو جائیں گے۔ یہ سب کچھ ’’ایک لمحے میں، پلک جھپکتے میں‘‘ ہو جائے گا (I کرنتھیوں 15: 52)۔
یہ ہمیں اپنی تلاوت کے الفاظ پر واپس لے جاتی ہے، جہاں یسوع نے کہا،
’’اگر میں جا کر تمہارے لیے جگہ تیار کروں تو میں دوبارہ آؤں گا، اور تمہیں اپنے پاس لے لوں گا، تاکہ جہاں میں ہوں تم بھی ہو‘‘ (یوحنا 14: 3)۔
اب ہم بہت سے صحیفوں سے جانتے ہیں کہ یسوع اب آسمان میں ہے، خدا کے داہنے ہاتھ پر بیٹھا ہے، ایک اور جہت میں جسے آسمان کہا جاتا ہے۔ تو، جب یسوع نے کہا،
’’اگر میں جا کر تمہارے لیے جگہ تیار کروں تو میں دوبارہ آؤں گا، اور تمہیں اپنے پاس لے لوں گا، تاکہ جہاں میں ہوں تم بھی ہو‘‘ (یوحنا 14: 3)۔
اُس کا مطلب تھا کہ سچے مسیحی اُن جسموں میں آسمان پر اُٹھائے جائیں گے جو مسیح کے گوشت اور ہڈی کی طرح زندہ کیے گئے، جلالی جسم ہیں۔
لیکن جنت میں یہ جگہ کیسی ہوگی؟ مسیحی ریپچر میں [مسیح کی آمد ثانی پر اُس کے اِستقبال کے لیے آسمان میں بادلوں پر زندہ اُٹھا لیے] جائیں گے، ھیت تبدیل ہو گی اور مسیح کے ساتھ جنت میں اٹھائے جائیں گے، لیکن جب وہ وہاں پہنچیں گے تو جنت میں کیسا ہوگا؟
آسمان کی ایک جھلک کے لیے ہم ریپچر میں داخل ہوں گے، ہمیں مکاشفہ 7: 9-15 کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ براہِ کرم کھڑے ہو کر ان آیات کو بلند آواز سے پڑھیں۔
’’اِس کے بعد جب میں نے نگاہ کی تو دیکھا کہ ہر قوم، قبیلہ، اُمت اور اہلِ زبان کی ایک ایسی بھیڑ موجود ہے جس کا شمار کرنا ممکن نہیں۔ سب سفید جامے پہنے ہوئے تھے اور ہاتھوں میں کجھور کی ڈالیاں لیے ہوئے تخت کے آگے اور برّہ کے روبرو کھڑے تھے۔ وہ بُلند آواز سے چِلا چِلا کر کہہ رہے تھے کہ نجات ہمارے خدا کی طرف سے ہے جو تخت پر بیٹھا ہے اور برّہ کی طرف سے ملتی ہے۔ اور اُن تمام فرشتوں نے جو اُس تخت کے گردا گرد اور اُن بزرگوں کے اور چار درندوں کے جو چاروں طرف کھڑے تھے تخت کے سامنے سجدہ میں گِر کر یہ کہنا شروع کیا: آمین! حمد اور تمجید، اور حکمت اور شکر اور عزت اور قدرت اور طاقت تا ابد ہمارے خدا کی ہو۔ آمین! پھر بزرگوں میں سے ایک نے مجھے سے پوچھا کہ یہ سفید جامے پہنے ہوئے لوگ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ اے میرے آقا! یہ تو تجھے ہی معلوم ہے۔ اور اُس نے مجھ سے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو بڑی مصیبت میں سے نکل کر آئے ہیں۔ اِس لیے وہ خدا کے تخت کے سامنے موجود ہیں اور اپنے لباس کو برّہ کے خون سے دھو کر سفید کر دیا ہے۔ اِس لیے وہ خُدا کے تخت کے سامنے ہیں، اور اُس کی ہیکل میں دن رات اُس کی خدمت کرتے ہیں: اور جو تخت پر بیٹھے گا وہ اُن کے درمیان رہے گا‘‘ (مکاشفہ 7:9-15)۔
آپ بیٹھ سکتے ہیں۔ یہ جنت کی کتنی شاندار تفصیل ہے! لیکن یہ اس شاندار جگہ کی مکمل تصویر نہیں ہے۔ پولوس رسول نے کہا،
’’نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سُنا، نہ کسی کے خیال میں آیا، اُسے خدا نے اُن کے لیے تیار کیا ہے جو اُس سے محبت رکھتے ہیں‘‘ (I کرنتھیوں 2: 9)۔
ہم آسمان کی شان کا پوری طرح اِدراک نہیں کر سکتے یا مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتے ہیں، جس میں ہمارے تبدیل شُدہ جسم ریپچر میں پکڑے جائیں گے۔ یہ بات تو یقینی ہے، ہم مسیح کو آمنے سامنے دیکھیں گے۔
اکثر اوقات دن لمبا لگتا ہے، ہماری آزمائشیں برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے،
ہم شکایت کرنے، بڑبڑانے اور مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں؛
لیکن مسیح جلد ہی اپنی دلہن کو پکڑتا ہوا نظر آئے گا،
خدا کے ابدی دن میں تمام آنسو ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتے ہیں۔
جب ہم یسوع کو دیکھیں گے تو یہ سب کچھ قابل قدر ہو جائے گا،
جب ہم مسیح کو دیکھیں گے تو زندگی کی آزمائشیں بہت چھوٹی لگیں گی۔
اس کے پیارے چہرے کی ایک جھلک سارے غم مٹا دے گی
لہٰذا بہادری سے ریس دوڑیں جب تک کہ ہم مسیح کو نہ دیکھ لیں۔
زندگی کا دن جلد ہی ختم ہو جائے گا، تمام طوفان ہمیشہ کے لیے گزر جائیں گے،
ہم عظیم تقسیم کو عبور کریں گے، جلال کے لیے، آخر کار باحفاظت؛
ہم جنت کی خوشیاں بانٹیں گے – ایک بربط، ایک گھر، ایک تاج،
فتنہ باز مٹ جائے گا، ہم اپنا بوجھ اُتار دیں گے۔
جب ہم یسوع کو دیکھیں گے تو یہ سب کچھ قابل قدر ہو جائے گا،
جب ہم مسیح کو دیکھیں گے تو زندگی کی آزمائشیں بہت چھوٹی لگیں گی۔
اس کے پیارے چہرے کی ایک جھلک سارے غم مٹا دے گی
لہٰذا بہادری سے ریس دوڑیں جب تک کہ ہم مسیح کو نہ دیکھ لیں۔
(’’جب ہم مسیح کو دیکھیں گے When We See Christ‘‘ شاعر ایستر کیر روسکوئی Esther Kerr Ruskoi، 1909-1962)۔
اس لیے ہمیں آج شام کو انتہائی غور سے سننے کی ضرورت ہے۔ یہ واعظ آپ کو بالکل وہی بتائے گا جو بائبل آسمان کے بارے میں سکھاتی ہے، وہ جگہ جہاں مسیحی اپنے جلالی جی اٹھے جسموں میں، ریپچر پر جائیں گے۔ میں اُس جگہ کے بارے میں تین باتیں بتاؤں گا جہاں ریپچر ہوئے مسیحی جائیں گے جب وہ ’’مسیح سے ملنے کے لیے ہوا میں اُٹھائے جائیں گے۔‘‘
I۔ پہلی بات، وہ ایک حقیقی جگہ جائیں گے جسے ’’جنت‘‘ کہا جاتا ہے۔
ہماری تلاوت پر دوبارہ نظر ڈالیں:
’’میرے باپ کے گھر میں بہت سے مکان ہیں: اگر نہ ہوتے تومیں نے تمہیں بتا دیا ہوتا۔ میں تمہارے لیے جگہ تیار کرنے وہاں جا رہا ہوں۔ اگر میں جا کر تمہارے لیے جگہ تیار کروں گا تو میں دوبارہ واپس آ کر تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤں؛ تاکہ جہاں میں ہوں تم بھی وہاں ہو‘‘ (یوحنا 14: 2۔3)۔
اُن آیات سے تعلق رکھتے ہوئے، ڈاکٹر ڈبلیو اے کرسویل Dr. W. A. Criswell نے کہا:
دو بار یسوع نے جنت کو (یونانی میں) ٹوپوس Topos کہا، جس کا مطلب ہے ’’ایک جگہ۔‘‘ یہاں (یوحنا 14: 2-3 میں) جنت کو ایک حقیقی جگہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے… کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ جنت ’’دماغ کی حالت‘‘، ’’ایک خواب‘‘، ’’خواہش مندانہ سوچ،‘‘ ’’جذبہ‘‘ ہے۔ لیکن، بائبل گواہی دیتی ہے کہ آسمان اتنا ہی حقیقی ہے جتنا کہ آپ جس گھر میں رہتے ہیں اور جس شہر میں آپ رہتے ہیں (ڈبلیو اے کرسویل W. A. Criswell، پی ایچ۔ ڈی۔ Ph.D.، جنتHeaven ، ٹائینڈیل ہاؤس Tyndale House، 1991، صفحات 5۔6)۔
جنت ایک جگہ ہے - ایک حقیقی جگہ۔ مسیح نے کہا، ’’میں تمہارے لیے جگہ تیار کرنے جاتا ہوں۔ اس نے صرف ایک بار نہیں کہا۔ مسیح نے ہماری تلاوت میں دو بار کہا:
’’میں تمہارے لیے جگہ تیار کرنے جاتا ہوں۔
میں تمہارے لیے جگہ تیار کرنے جاتا ہوں۔‘‘
جنت ایک جگہ ہے – ایک حقیقی جگہ۔
وہاں بہت سے ’’مکان‘‘ ہیں۔ ’’مکانات‘‘ کے لیے یونانی لفظ ’’مونائیmonai‘‘ ہے۔ نئے انجیلی مبشر جان میک آرتھر John MacArthur نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ ’’مکانات (دورِ حاضرہ کی اصطلاحات میں) کی وضاحت کر سکتا ہے۔ سبھی ’باپ کے گھر‘ میں ہیں‘‘ (میک آرتھر کا مطالعۂ بائبل MacArthur Study Bible، یوحنا 14: 2 پر غور طلب بات)۔
ہم ان جدید اصطلاحات میں یسوع کے کہنے کی وضاحت کر سکتے ہیں:
’’خدا کے ہوٹل میں بے شمار مکانات ہیں۔‘‘
یہ ترجمہ نہیں ہے۔ یہ ایک توضیح ہے، لیکن اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یسوع کیا کہہ رہا تھا۔ جنت ایک جگہ ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں خدا رہتا ہے – اور وہاں ہر اس شخص کے لیے رہنے کی جگہیں ہیں جو مسیحی بن جاتا ہے۔
ڈاکٹر کرسویل نے کہا:
(مونائی، یونانی میں) ’’مکانات‘‘ کا لفظ صرف یہاں اور آیت 23 میں پایا جاتا ہے اور اس کا مطلب ہے ’’مسکن‘‘ یا ’’مستقل رہائش کی جگہیں‘‘۔ واضح طور پر، یسوع جانتا تھا کہ شاگرد ایسے ہی کچھ آسمانی ٹھکانے کی توقع کر رہے تھے۔ وہ انہیں یقین دلاتا ہے کہ اگر یہ درست نہ ہوتا تو وہ صورت حال کو درست کر دیتا۔ وہ جگہ جہاں مسیحی رہیں گے (زندگی بسر کریں گے) ایک ’’تیار شُدہ‘‘ جگہ ہے (کرسویل کا مطالعۂ بائبل Criswell Study Bible، یوحنا 14: 2 پر غور طلب بات)۔
ہم جانتے ہیں کہ جنت ایک یقینی جگہ ہے کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں یسوع اپنے آسمان میں اُٹھائے جانے کے وقت گیا تھا۔ فرشتوں نے کہا:
’’وہی یسوع، جو تمہارے پاس سے آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے…‘‘ (اعمال 1: 11)۔
’’پھر خُداوند کے اُن سے کلام کرنے کے بعد وہ آسمان پر اُٹھایا گیا اور خُدا کے داہنے ہاتھ پر بیٹھ گیا۔‘‘ (مرقس 16:19)
۔اسے ’’آسمان میں اٹھا لیا گیا‘‘۔ وہ ’’خدا کے داہنے ہاتھ پر بیٹھا تھا۔‘‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جنت ایک جگہ ہے۔
عبرانیوں 10: 12 میں ہم پڑھتے ہیں،
’’لیکن یہ شخص، ہمیشہ کے لیے گناہوں کے لیے ایک ہی قربانی پیش کرنے کے بعد، خُدا کے داہنے ہاتھ پر بیٹھ گیا‘‘ (عبرانیوں 10: 12)۔
وہ ایک جگہ پر بیٹھ گیا – جنت میں۔ اور ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم اپنی رغبت اور ذہن اس جگہ کی چیزوں پر مرکوز رکھیں جسے جنت کہا جاتا ہے:
’’عالمِ بالا کی چیزوں کی جستجو میں رہو، جہاں مسیح خدا کی دائیں طرف بیٹھا ہوا ہے۔ عالمِ بالا کی چیزوں کے خیال میں رہو نہ کہ زمین پر کی چیزوں کے‘‘ (کُلسیوں 3: 1۔2)۔
ہمیں اپنے ذہن اور دل کو اس جگہ پر مرکوز رکھنا ہے۔
جب میں چھوٹا لڑکا تھا تو، میری خالہ میرٹلMyrtle نے مجھے اپنے بیٹے جونیJohnny کے ساتھ شمالی کیلیفورنیا میں ریڈ ووڈز [جنگل کا نام] دیکھنے کے لیے لے جانے کا وعدہ کیا تھا۔ میری عمر تقریباً چھ سال تھی، لیکن مجھے واضح طور پر یاد ہے کہ میرے کزن جونی نے مجھے ریڈ ووڈز کے بارے میں بتایا تھا۔ اس نے کہا، ’’رابرٹ، یہ دنیا کے سب سے بڑے درخت ہیں، زمین پر کہیں بھی ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو ان درختوں کی طرح پرانی یا اتنی بڑی ہو۔‘‘ میرے دل میں درد سا اُبھرا تھا اور انہیں دیکھنے کی آرزو تھی۔ بعد میں جب مجھے پتہ چلا کہ میری خالہ اور خالو میرے بغیر ان درختوں کو دیکھنے گئے تو میرا دل ٹوٹ گیا۔ انہوں نے مجھے سرخ لکڑی کا ایک چھوٹا ٹکڑا واپسی پر لا کر دیا، جس پر ایک پتہ اُگ رہا تھا جسے اگر آپ پانی میں رکھیں تو اگتا ہے۔ کس قدر شدید مایوسی ہوئی! میں دنیا کا سب سے بڑا درخت دیکھنے کی امید کر رہا تھا۔ مجھے صرف چھال کا ایک ٹکڑا ملا جس پر ایک پتہ تھا۔ تقریباً اٹھائیس سال بعد میں نے اپنے لیے ان بڑے درختوں کو دیکھا۔
اُس نوجوان لڑکی کو یاد کریں جس نے خود کو ان درختوں میں سے ایک کی بُلندی میں باندھ رکھا تھا؟ درخت ایک ہزار سال پرانا تھا۔ لمبر کمپنی نے درخت کو نہیں کاٹا۔ لیکن میں نے پچھلے ہفتے اخبار میں پڑھا کہ کسی پاگل نے ایک مشینی آری لی اور درخت کو چاروں طرف سے چھال تک کاٹ دیا۔ انہوں نے اسے مار ڈالا… بغیر کسی وجہ کے۔ اوہ، انسان کے مسخ ہوئے دل کی دیوانگی اور شرارت! اوہ، انسان کی وحشی، شیطانی فطرت!
اس میں اٹھائیس سال لگے، لیکن آخرکار میں ان درختوں کو دیکھنے کے لیے وہاں پہنچا – ایک ہزار، پندرہ سو، کوئی دو ہزار سال پرانے! میں نے کھڑا ہو کر ان درختوں کی چوٹی کی طرف دیکھا، آنسو میرے گالوں پر بہہ رہے تھے۔ میں نے سوچا، ’’یہاں پہنچنے میں اور تمہیں دیکھنے میں، اے خوبصورت، قدیم چیز مجھے اٹھائیس سال لگے۔ لیکن اِس تمام وقت میں تم یہیں تھے۔ تم اس وقت اس جگہ پر تھے - میرا انتظار کر رہے تھے۔‘‘
اور یسوع مسیح کے ساتھ یہ ایسا ہی ہے۔ وہ وہاں ہے، اس جگہ، جنت میں، آپ کا انتظار کر رہا ہے – ’’وہ ہر وقت وہاں انتظار کر رہے تھے۔‘‘ مسیح کو مایوس نہ کریں۔ یقینی بنائیں کہ آپ وہاں – اس جگہ – جنت میں پہنچ گئے ہیں۔
II۔ دوسری بات، وہ نئے یروشلم میں جائیں گے۔
آئزک واٹسIsaac Watts کا حمدوثنا کا عظیم گیت تھا، ’’کیا میں صلیب کا سپاہی ہوں؟‘‘ بعد میں ایک امریکی گلوکار کے ذریعہ سنڈے اسکول کا کورس اس پر ٹک گیا۔ مجھے عام طور پر وہ کورس پسند نہیں ہے، لیکن یہ خاص یادگار ہے:
اور جب جنگ ختم ہو جائے گی تو ہم تاج پہنیں گے،
ہاں، ہم ایک تاج پہنیں گے! ہاں، ہم ایک تاج پہنیں گے!
اور جب جنگ ختم ہو جائے گی، ہم ایک تاج پہنیں گے۔
نئے یروشلم میں۔
(ولیم بلیک William B. Blake کی طرف سے ترتیب دیا گیا)
یہ سچ ہے! ایک حقیقی مسیحی تاج پہنے گا – نئے یروشلم میں!
جنت نئے یروشلم میں واقع ہے۔ ہم اس کے بارے میں نئے عہد نامہ میں مکاشفہ، ابواب بیس اور اکیس کو پڑھ کر جانتے ہیں:
’’اور میں نے یوحنا نے مقدس شہر، نئے یروشلم کو، خُدا کی طرف سے آسمان سے نیچے آتے دیکھا‘‘ (مکاشفہ 21: 2)۔
ابراہام اس آسمانی شہر کو دیکھنے کا منتظر رہا تھا:
’’کیونکہ وہ ایک ایسے شہر کی تلاش میں تھا جس کی بنیادیں ہوں، جس کا بنانے اور تعمیر کرنے والا خدا ہے‘‘ (عبرانیوں 11: 10)۔
’’اور سچے طور پر، اگر وہ [بزرگان] اپنے چھوڑے ہوئے مُلک کا خیال کرتے رہتے تو اُنہیں واپس جانے کا بھی موقع تھا۔ لیکن حقیقت میں وہ ایک بہتر یعنی آْسمانی مُلک کے مشتاق تھے۔ اِسی لیے خدا اُن کا خدا کہلانے سے شرماتا نہیں کیونکہ اُس نے اُن کے لیے ایک شہر تعمیر کیا‘‘ (عبرانیوں 11: 15۔16)۔
کتنا شاندار وعدہ ہے! اس نے ہمارے لیے ایک شہر تیار کیا ہے! (عبرانیوں 11: 16)۔ لہٰذا، نیا یروشلم، جو شہر خدا نے تیار کیا ہے، وہ جگہ ہے جہاں خدا ہے، جہاں مسیح خدا کے دائیں جانب بیٹھا ہے، جہاں مسیحی جاتے ہیں جب وہ ریپچر کیے جاتے ہیں – خدا کے اس شاندار شہر کی طرف!
میری ماں نے مرنے سے پہلے مجھے بہت پیسہ دیا تھا۔ میں نے اسے اپنے خاندان کے لیے ایک خوبصورت گھر خریدنے کے لیے استعمال کیا۔ لیکن میں چاہتا تھا کہ میری ماں ہمارے ساتھ رہیں۔ میری بیوی نے اسے دعوت دی کہ وہ آکر ہمارے گھر کے ایک بیڈ روم میں رہیں۔ ایک دن وہ اچانک نمودار ہوئی اور اپنی چیزیں ساتھ لے آئی۔ میں اپنی ماں کو اپنے ساتھ رکھنا پسند کرتا تھا۔ ہم ہر روز بات کرتے تھے۔ وہ ہفتے میں سات دن میرے ساتھ رہتی تھی۔ میری ماں اور میں نے بہت اچھا وقت گزارا۔
پھر ایک دن میری ماں نے کہا، ’’رابرٹ، مجھے گھر چھوڑ کر کہیں جانا ہے، میں یہاں مذید نہیں رہ سکتی۔‘‘ میں نے کہا، ’’اوہ، براہ کرم چھوڑ کر نہ جائیں۔‘‘ اُنہوں نے اصرار کیا کہ اُنہیں جانا ہوگا۔ اُنہوں نے کہا، ’’مجھے تمہارے ساتھ رہنا پسند ہے، لیکن مجھے گھر چھوڑ کر جانا ہے۔‘‘ میں نے اُنہیں سختی سے کہا کہ میرے ساتھ رہیں۔ اُںہوں نے سنا اور اس کے بعد اس کے بارے میں مذید کچھ نہیں کہا۔ تقریباً ایک ماہ بعد وہ اچانک ہسپتال چلی گئی، جہاں چند ہفتوں بعد اُن کی موت ہو گئی۔
پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں، مجھے لگتا ہے کہ میری ماں کسی نہ کسی طرح فطری طور پر جانتی تھی کہ اُنہیں ایک آخری قدم اُٹھانا ہے۔ ’’رابرٹ، مجھے گھر چھوڑ کر کہیں جانا ہے، میں یہاں مذید نہیں رہ سکتی۔‘‘ میرے خیال میں وہ جانتی تھیں کہ اُںہیں جلد ہی جنت میں اپنے نئے گھر میں منتقل ہونا ہے!
’’میں نے خداوند سے ایک درخواست کی ہے، میں چاہتا ہوں کہ عمر بھر میں خداوند کے گھر میں رہوں، خداوند کا جمال دیکھتا رہوں، اور اُسے اُس کی مَقدِس میں ڈھونڈتا رہوں‘‘ (زبور 27: 4)۔
ہر اتوار کو گرجا گھر میں ان دوستوں کے ساتھ جنہیں ہم کئی سالوں سے جانتے اور پیار کرتے ہیں ہونا بہت اچھا ہوتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ واپس آئیں گے اور یہاں دیرپا دوست بنائیں گے۔ ہر اتوار کو گرجا گھر میں ہونے سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ گرجا گھر میں رہنا آپ کی عادت نہیں ہے، لیکن یہ ایک اچھی عادت ہے!
لوگ اکثر کہتے ہیں، ’’مسیحی بننے کے لیے مجھے کیا کرنا ہوگا؟‘‘ پہلی چیز جو آپ کو کرنا ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی دروازہ کھلا ہو تو اس گرجا گھر میں ہوں۔ آپ ہر طرح کے عقائد اور بائبل کی آیات سیکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ اپنے مقامی چرچ میں رہنا پسند کرنا نہیں سیکھتے ہیں، تو آپ ایک حقیقی، بائبل کے مسیحی نہیں بن پائیں گے۔ اور آپ جو بھی کریں، کرسمس سنڈے، کرسمس کی شام اور نئے سال کی شام کو گرجا گھر میں ہونا یاد رکھیں۔ ان عبادتوں کے لیے یہاں گرجا گھر میں رہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کو ذاتی طور پر کیا قیمت چکانی پڑے۔
لوگ اکثر کہتے ہیں، ’’ایک مسیحی بننے کے لیے مجھے کیا کرنا ہوگا؟‘‘ وہ پہلی بات جو آپ کو کرنی ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی دروازہ کھلا ہو تو اس گرجا گھر میں ہوں۔ آپ ہر طرح کے عقائد اور بائبل کی آیات سیکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ اپنے مقامی گرجا گھر میں رہنا پسند کرنا نہیں سیکھتے ہیں، تو آپ ایک حقیقی، بائبل کے مسیحی نہیں بن پائیں گے۔ اور آپ جو بھی کریں، کرسمس سنڈے، کرسمس کی شام اور نئے سال کی شام کو گرجا گھر میں ہونا یاد رکھیں۔ ان عبادتوں کے لیے یہاں گرجا گھر میں رہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کو ذاتی طور پر کیا قیمت چکانی پڑے۔
جنت ہمیشہ کے لیے گرجا گھر میں رہنے جیسا ہے! اگر آپ یہاں زمین پر ہر اتوار کو ہمارے گرجا گھر میں رہنا پسند نہیں کرتے، تو آپ جنت میں ہمیشہ کے لیے گرجا گھر میں رہنے سے محبت کرنے کی توقع نہیں کر سکتے!
جب آپ اتوار کو گرجا گھر آتے ہیں، تو یہ اپنے پیاروں اور دوستوں، زمانوں کے شہیدوں، عظیم مشنریوں اور زندگی بھر کے مسیحی دوستوں کے ساتھ ہونے کا پیش خیمہ ہے۔
جن دوستوں سے میں مدتوں پہلے محبت کر چکا ہوں وہیں پر ہونگے،
دریا کی مانند خوشی میرے گرد بہے گی؛
اِس کے باوجود میرے نجات دہندہ کی محض ایک مسکراہٹ، میں جانتا ہوں،
زمانوں تک میرے لیے جلال ہو گی۔
ہائے وہی میرے لیے جلال ہو گا،
میرے لیے جلال، میرے لیے جلال۔
جب اُس کے فضل کے وسیلے سے میں اُس کے چہرے کو دیکھوں گا،
وہی جلال ہو گا، میرے لیے جلال ہوگا۔
(’’ہائے وہی میرے لیے جلال ہو گا O That Will Be Glory‘‘ شاعر چارلس ایچ۔ گیبرئیل Charles H. Gabriel، 1856۔1932)۔
III۔ تیسری بات، وہ وہاں تبھی جائیں گے جب وہ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل شُدہ مسیحی ہوں۔
آپ جانتے ہیں، جو لوگ نئے سِرے سے پیدا نہیں ہوئے وہ جنت کو بھی نہیں دیکھ سکتے، وہاں جانے والے بہت کم ہیں! یسوع نے کہا:
’’میں تم سے سچ کہتا ہوں، جب تک کوئی آدمی نئے سرے سے پیدا نہ ہو، وہ خدا کی بادشاہی کو نہیں دیکھ سکتا‘‘ (یوحنا 3: 3)۔
شمعون پطرس اس کے بارے میں سوچ رہا تھا جب اس نے لکھا کہ ہم ایک زندہ امید کے لیے دوبارہ پیدا ہوئے ہیں (I پطرس 1: 3)،
’’تاکہ ہم ایک غیر فانی، پاک اور لازوال میراث پائیں، جو خدا کی طرف سے ہمارے لیے آسمان میں محفوظ ہے‘‘ (I پطرس 1: 4)۔
جب آپ دوبارہ پیدا ہوتے ہیں، آپ کے پاس ایک نئی امید ہوتی ہے، آپ ایمان سے جنت دیکھتے ہیں۔ یہ ایک حقیقی جگہ بن جاتی ہے، جہاں آپ واقعی جا رہے ہیں۔ شاندار!
جنت آپ کے لیے حقیقی نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ آپ ابھی تک کھوئے ہوئے یا گمراہ ہیں۔ آپ دوبارہ کبھی پیدا نہیں ہوئے۔
’’جس میں خدا کا پاک روح نہیں وہ خدا کی باتیں قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ اُس کے نزدیک بیوقوفی کی باتیں ہیں اور نہ ہی اُنہیں سمجھ سکتا ہے کیونکہ وہ صرف پاک روح کے ذریعہ سمجھی جا سکتی ہیں‘‘ (I کرنتھیوں 2: 14)۔
جب ہم جنت کے بارے میں بات کرتے ہیں تو یہ آپ کو احمقانہ اور غیر حقیقی لگتا ہے، کیونکہ آپ روحانی طور پر اندھے ہیں۔ آپ کے گناہوں نے آپ کی روح کی آنکھیں اندھی کر دی ہیں۔ آپ کی روحانی سمجھ آپ کے گناہوں سے اندھی ہو گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے آپ کی آنکھوں میں مٹی ڈال دی ہو۔ درد ہوتا ہے! یہ جلتا ہے! یہ آپ کو ایسا بناتا ہے کہ آپ دیکھ نہیں سکتے! یہی گناہ کرتا ہے۔ یہ آپ کو جنت کی حقیقت سے اندھا کر دیتا ہے!
جب بھی آپ کسی گندی چیز کو دیکھتے ہیں تو یہ گناہ ہے۔ ہر بار جھوٹ بولنا گناہ ہے۔ ہر بار جب آپ گرجا گھر میں حاضر ہونا بھول جاتے ہیں تو یہ ایک گناہ ہے۔ آپ کی فطرت گناہ گار ہے۔ آپ کے دل میں یہ تمام گناہ آپ کو روح کی دنیا کی چیزوں سے اندھا کر دیتا ہے۔ آپ یہ سمجھنے کے لیے گناہ کی وجہ سے اتنے اندھے ہو گئے ہیں کہ ایک جنت ہے جہاں آپ جا سکتے ہیں – اگر آپ یسوع مسیح کے پاس آئیں گے تو آپ کے گناہ اُس کے خون سے دھل جائیں گے! اگر آپ مسیح کے پاس آئیں گے اور گناہ سے دھوئے جائیں گے، تو جنت حقیقی ہو جائے گی – ایمان سے۔ کیوں؟ کیونکہ،
’’ہم دیکھی ہوئی چیزوں پر نہیں بلکہ اندیکھی چیزوں پر نظر کرتے ہیں۔ کیونکہ دیکھی ہوئی چیزیں چند روزہ ہیں مگر اندیکھی ہمیشہ کے لیے ہیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں … ہمیں خدا کی طرف سے آسمان پر ایک ایسی عمارت ملے گی جو انسانی ہاتھوں کی بنائی ہوئی نہیں بلکہ ابدی ہے‘‘ (II کرنتھیوں 4: 18۔5: 1)۔
کیا آپ ریپچر ہونا اور جنت میں جانا چاہتے ہیں؟ پھر آپ کو گرجا گھر واپس آنا چاہیے۔ کیا آپ جنت چاہتے ہیں؟ پھر آپ کو گرجا گھر آنا چاہئیے۔ کیا آپ ہمیشہ کے لیے جنت میں رہنا چاہتے ہیں؟ پھر جب بھی دروازہ کھلا ہو تو آپ کو گرجا گھر میں ہونا چاہیے۔
سب سے پہلے، آپ مقامی گرجا گھر میں آتے ہیں۔ پھر آپ یسوع مسیح کے پاس آتے ہیں۔ وہ آپ کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پر مرا۔ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا اور آسمان میں خُدا کے دائیں طرف بیٹھا ہے۔ گرجا گھر میں آئیں۔ یسوع مسیح کے پاس آئیں۔ اُس کے خون سے پاک صاف ہو جائیں جو اُس نے صلیب پر بہایا! تب آپ جنت کے لیے تیار ہو جائیں گے!
اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔
(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ
www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔
یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
|
لُبِ لُباب مسیحی کہاں پر جائیں گے جب اُنہیں ریپچر میں [مسیح کی آمد ثانی پر اُس کے اِستقبال کے لیے آسمان میں بادلوں پر زندہ اُٹھا] لیا جائے گا؟ WHERE WILL CHRISTIANS GO WHEN THEY ARE RAPTURED? ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے ’’میرے باپ کے گھر میں بہت سے مکان ہیں: اگر نہ ہوتے تومیں نے تمہیں بتا دیا ہوتا۔ میں تمہارے لیے جگہ تیار کرنے وہاں جا رہا ہوں۔ اگر میں جا کر تمہارے لیے جگہ تیار کروں گا تو واپس آ کر تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤں؛ تاکہ جہاں میں ہوں تم بھی وہاں ہو‘‘ (1 تھسالونیکیوں 4: 16۔17؛ I کرنتھیوں 15: 51۔52؛
I. پہلی بات، وہ ایک حقیقی جگہ جائیں گے جسے ’’جنت‘‘ کہا جاتا ہے، یوحنا 14: 2-3؛
II دوسرا، وہ نئے یروشلم جائیں گے، مکاشفہ 21: 2؛
III تیسرا، وہ وہاں تبھی جائیں گے جب وہ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل شُدہ مسیحی ہوں، |