Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


بائبل کی پیشنگوئی میں امریکہ کا زوال

THE FALL OF AMERICA IN BIBLE PROPHECY
(Urdu)

ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

خداوند کے دِن کی شام تبلیغ کیا گیا ایک واعظ، 26 اکتوبر، 2008
لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں
A sermon preached on Lord’s Day Evening, October 26, 2008
at the Baptist Tabernacle of Los Angeles

’’اور اُسے مقدسوں سے جنگ کرنے اور اُن پر غالب آنے کی قوت دی گئی اور ہر قبیلہ، اُمت، زبان اور قوم پر اِختیار دیا گیا۔ تمام اہل زمین جن کے نام اُس بنائے عالم سے ذبح کیے ہوئے برّہ کی کتاب میں درج نہیں تھے اُس حیوان کی پرستش کریں گے۔ جس کے کان ہوں وہ سُن لے‘‘ (مکاشفہ 13: 7۔9)۔

اِس تلاوت پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر جان ایف والوورد Dr. John F. Walvoord نے کہا،

بائبل کی پیشین گوئی کے مطابق، امریکہ کا مستقبل روشن نہیں ہے۔ صحیفے نے ایک عالمی حکومت کی پیشین گوئی کی ہے کہ اس زمانے کے آخر میں جس کا مرکز امریکہ میں نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں ہوگا۔ طاقت کی مرکزیت جس کی پیشن گوئی کی گئی ہے کہ وہ ’’تمام نسلوں، زبانوں اور قوموں‘‘ تک پھیلے ہوئے ہے (مکاشفہ 13: 7) واضح طور پر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس [قریبی] مستقبل کے دن میں امریکہ دنیا میں اپنی موجودہ اسٹریٹجک [حکمت عملی سے متعلق ] جگہ کا زیادہ تر حصہ کھو دے (جان ایف والوورد، تھامس ایس میکال کی کتاب تاریخ اور بائبل کی پیشنگوئی میں امریکہAmerica in History and Bible Prophecy کے ایڈیٹر میں درج، موڈی پریس Moody Press، 1976، صفحہ 24)۔

ڈاکٹر والوورد درست تھے۔ آخری زمانے کی پیشن گوئی میں کہیں بھی امریکہ کا ذکر نہیں ہے۔ یہ سمجھنا مشکل لگتا ہے۔ سوویت یونین کے زوال کے بعد اب امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے۔ اس کے باوجود امریکہ مستقبل قریب میں بائبل کی پیشین گوئی میں عالمی منظر نامے سے اپنی غیر موجودگی سے نمایاں ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اس طاقت کے ساتھ یہاں نہیں آئے گا جو اس کے پاس آج ہے۔ مجھے یہ کہنا واقعی میں بُرا لگتا ہے۔ یہ میرے دل کو دُکھاتی اور آنکھوں میں آنسو لاتی ہے۔ لیکن مجھے وہی کہنا چاہیے جو میں سچ سمجھتا ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم امریکہ کے خاتمے میں رہ رہے ہیں۔

ایذا رسانیوں کے آنے والے زمانے میں امریکہ کہاں ہے؟ اس سوال کا جواب نہیں دیا جا سکتا کیونکہ بائبل اس موضوع پر خاموش ہے۔ یہ بات انتہائی یقینی ہے – حتمی ایذا رسانیوں کے دور کے شروع ہونے تک امریکہ مذید عالمی طاقت نہیں رہے گا۔

دنیا میں تمام تر – طاقتور امریکی موجودگی کیسے ختم ہوگی؟ میرے خیال میں اس کے کئی امکانات ہیں۔


1. ایک کمزور امریکی صدر کے حوصلہ میں دہشت گرد، چھوٹے تابکار بموں کو امریکہ کے ایک یا زیادہ بڑے شہروں میں اسمگل کر سکتے ہیں اور پھر ان ’’غلیظ بموں‘‘ کو دور سے یا ٹائمر کے ذریعے اُڑا سکتے ہیں۔ ایک ’’غلیظ‘‘ بم تابکار مواد سے بنا ہوتا ہے جسے روایتی طریقوں سے پھاڑا جا سکتا ہے، اور ہوا اور پانی کی سپلائی کو آلودہ کر کے شہر کو ناقابل رہائش بنا دیا جاتا ہے۔ اس سے عام خوف و ہراس پھیل جائے گا اور ہزاروں لوگ مارے جائیں گے۔ اگر یہ واشنگٹن ڈی سی اور نیو یارک سٹی میں ہوتا ہے، تو یہ آنے والی دہائیوں تک امریکہ کو معذور کر سکتا ہے۔

2. کیلیفورنیا میں سان اینڈریاس فالٹ کے ساتھ آنے والے زلزلے سالوں تک پورے مغربی ساحل کو چوٹ پہنچا سکتے ہیں۔

3. اگر دہشت گرد مستقبل قریب میں ایٹمی وار ہیڈز بناتے ہیں تو وہ اسرائیل میں ہمارے دوستوں اور ممکنہ طور پر امریکہ کے مشرقی ساحل پر بھی حملہ کر سکتے ہیں۔


کیا ہوگا اگر مذکورہ بالا تمام آفات ایک ساتھ، یا چند ہفتوں کے دوران پیش آئیں؟ چند مہینوں میں امریکہ عالمی طاقت نہیں رہے گا۔ چند ہفتے پہلے ہم نے دیکھا کہ ہماری قوم کی معیشت کتنی نازک ہے۔ میں نے خبروں کے ایک پروگرام میں سنا کہ دو تہائی امریکی اس بارے میں خوفزدہ ہیں کہ مستقبل میں ہماری معیشت کا کیا ہو سکتا ہے۔ لوگ کی آراء بتاتی ہیں کہ ان کا خوف ممکنہ طور پر آئندہ صدارتی انتخابات میں فیصلہ کن ثابت ہو گا۔ لیکن کوئی صدر اس قوم کو نہیں بچا سکتا جب خدا کی سزا ہم پر آ جائے۔

ہماری قوم بہت کمزور ہے، دوسری جنگ عظیم کے دوران سے کہیں زیادہ، اور آج چین جیسے بہت سے دوسرے ممالک سے کہیں زیادہ کمزور ہے۔ ہم اب ایک مشترکہ قوم کے طور پر کام نہیں کرتے، ایک مشترکہ ثقافت اور مشترکہ زبان کے ساتھ۔ بہت سے لوگ اب اپنے آپ کو ’’امریکی‘‘ نہیں بلکہ صرف اپنے مخصوص ’’نسلی‘‘ گروپ کے ممبر کے طور پر سوچتے ہیں۔ ہمارے بہت سے لوگ ہنگامہ کرنے کے لیے فوراً تیار ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ کام نہیں کرتے، اور یہاں تک کہ جو لوگ کام کرتے ہیں، وہ خود سے انکار اور قربانی کے عادی نہیں ہیں، اور زیادہ تر لوگ (جو کام کرتے ہیں یا نہیں) اپنے نام نہاد ’’حق‘‘ کے طور پر بہت سے فوائد اور خدمات کی توقع کرتے ہیں۔

زیادہ تر امریکی خود کو آرام دہ زندگی اور بہت سے فوائد کا حقدار سمجھتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ ان کی حکومت ان پر روزی روٹی، ٹیکس میں کٹوتی اور آسان زندگی کی مقروض ہے۔ ان کے سکول اور سیاست دان انہیں یہ بات مسلسل بتاتے ہیں۔ ہمارا ملک اب بچت اور محنت کی بجائے لذت، تفریح اور قرض پر چلتا ہے۔ ہمارے بہت سے لوگ ملازمت کی کمی یا مالی چیلنج کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ اور زیادہ تر خاندان اب سپورٹ گروپس کے طور پر کام نہیں کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس ملک اور دنیا کے مسائل، یہاں تک کہ دہشت گردی بھی، واقعی امریکہ کی غلطی ہے۔ مووی میکر مائیکل مور جیسے لوگ سوچتے ہیں کہ حکومت ان کو روزی روزگار مہیا کرنے کی ’’مقروض‘‘ ہوتی ہے، جس کی ادائیگی ’’جو دی پلمبر‘‘ جیسے محنتی مردوں کے زیادہ ٹیکسوں سے ادا کی جاتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس پر پہلے ہی کافی ٹیکس لگایا گیا ہے، اور آپ پر بھی!

اس ملک میں زیادہ تر لوگ اس کے لیے کام کیے بغیر فوری اور آسان فتوحات کی توقع کرتے ہیں، جیسا کہ وہ فلموں اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں ہر وقت دیکھتے ہیں، لیکن بہت سے مالی تنازعات میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔ لہٰذا اس ملک کے زیادہ تر لوگ کسی چیلنج یا تنازع میں اس وقت پسپا ہو جائیں گے یا ہار جائیں گے، جب ان کی ذاتی امن و خوشحالی کو خطرہ لاحق ہو جائے، یا جب ایسا لگتا ہو گا کہ جدوجہد طویل عرصے تک جاری رہے گی اور قربانیاں درکار ہوں گی۔ دوسری جنگ عظیم میں ایسا نہیں تھا – لیکن کیا ہمارے زمانے کے امریکی جنگ عظیم دوئم کو آخر تک لڑ سکتے اور جیت سکتے تھے، یا وہ ہٹلر – یا آج کے انتہا پسندوں کے ساتھ پیچھے ہٹ کر کوئی انتظام کریں گے؟

دوسرے لفظوں میں، ایک حقیقی چیلنج، ایک فوجی یا حتیٰ کہ مالیاتی بحران، امریکہ کو اپنے ذاتی امن اور خوشحالی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہونے کی صورت میں امریکہ کو گرانے، مکمل طور پر ٹوٹنے، یا یورپی یونین میں شامل ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔

ہم نے بائبل سے منہ موڑ لیا ہے۔ ہم نے ہالووین [تہوار] کو اپنے اسکولوں اور کام کی جگہوں پر لاگو کیا ہے، ساتھ ہی ساتھ مسیح کے نام پر پابندی لگا دی ہے، اور کتاب مقدس پر پابندی لگا دی ہے۔ ہم نے یہودی – مسیحی اخلاقیات سے منہ موڑ لیا ہے، اور جدید بت پرستی کے طریقوں کو اپنا لیا ہے۔ ہم نے ہول سیل اسقاط حمل کے ذریعے ہر روز 4,150 بچوں کو (بشمول کرسمس ڈے) ذبح کیا ہے۔ ہمارے 61 ملین بے باپ بچے اسقاط حمل کرنے والوں کے ہاتھوں قتل ہو چکے ہیں۔ جب خدا کا ہاتھ ہماری قوم کے خلاف ہو جائے تو کوئی صدر ہمیں نہیں بچا سکتا۔ جیسا کہ یہوداہ کی قدیم بادشاہی میں تھا، اسی طرح اُس عدالت کے دن جدید امریکہ میں بھی ہو سکتا ہے۔ یرمیاہ نبی کے الفاظ ہمارے زمانے میں بھی امریکہ کے لیے موزوں لگتے ہیں۔

’’وہ موٹے اور چکنے ہو گئے ہیں: جی ہاں، اُن کے بُرے کاموں کی کوئی حد نہیں ہوتی: وہ یتیموں کا مقدمہ نہیں لڑتے تاکہ یتیم جیت نہ پائیں، پھر بھی وہ خوشحال ہوتے ہیں؛ اور نہ ہی مسکینوں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔ کیا میں اُنہیں اِس کے لیے سزا نہ دوں؟ خداوند فرماتا ہے: کیا میں ایسی قوم سے انتقام نہ لوں؟‘‘ (یرمیاہ 5: 28۔29)۔

’’اِس لیے خداوند فرماتا ہے کہ میرا غصہ اور غضب اِس مقام پر، ہر اِنسان اور حیوان پر، پیڑوں اور پودوں پر اور میدان کے پھلوں پر اُنڈیل دیا جائے گا اورجو جلتا ہی رہے گا اور بُجھایا نہیں جائے گا‘‘ (یرمیاہ 7: 20)۔

’’کیونکہ جب وہ کہیں گے، سلامتی اور تحفظ ہو، تو اچانک تباہی اُن پر آتی ہے، جیسا کہ بچہ جننے والی عورت پر درد نازل ہوتا ہے، اور وہ بچ نہیں پائیں گے‘‘ (1 تسالونیکیوں 5: 3)۔

مجھے بہت خوف ہے کہ یہ آیات ہماری پیاری قوم امریکہ پر لاگو ہوتی ہیں۔ کاش ایسا نہ ہوتا – لیکن مجھے ڈر ہے کہ وہ ایسا کرتے ہیں۔ میں اپنی پوری جان سے امریکہ سے پیار کرتا ہوں۔ اس طرح کا واعظ دینے سے میرا دل ٹوٹتا ہے۔ آپ سمجھیں گے کہ میں یہ واعظ لکھتے ہوئے رویا تھا۔ جب میں جوان تھا تو ہمیں ملک سے محبت کرنا سکھایا گیا تھا۔ خدا ہماری مدد کرے!

مرحوم ڈاکٹر جان ایف والوورد کئی سالوں تک ڈلاس تھیولوجیکل سیمینری کے صدر رہے۔ ڈاکٹر والوورد ایک انتہائی قابل احترام اسکالر تھے، اور انہوں نے بائبل کی پیشن گوئی پر وسیع پیمانے پر لکھا۔ امریکہ کے بارے میں ان کے تبصرے کسی پاگل انقلابی کے نہیں تھے۔ وہ بائبل کے ایک انتہائی معزز عالم تھے۔ میں یہاں دہراؤں گا جو ڈاکٹر والورڈ نے ہماری تلاوت کے بارے میں کہا:

بائبل کی پیشن گوئی کے مطابق، امریکہ کا مستقبل روشن نہیں ہے۔ صحیفہ زمانے کے آخر میں ایک عالمی حکومت کی پیشین گوئی کرتا ہے جس کا مرکز امریکہ میں نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں ہوگا۔ طاقت کی مرکزیت جس کے بارے میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ وہ ہر نسل، زبان اور قوم تک پھیلے گی (مکاشفہ 13: 7) [طاقت کی وہ مرکزیت] واضح طور پر اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ امریکہ اس مستقبل کے دن میں دنیا میں اپنی موجودہ اسٹریٹجک جگہ سے محروم ہو جائے (جان ایف والوورد، تھامس ایس میکال کی کتاب تاریخ اور بائبل کی پیشنگوئی میں امریکہAmerica in History and Bible Prophecy کے ایڈیٹر میں درج، موڈی پریس Moody Press، 1976، صفحہ 24)۔

یہاں، پھر دوبارہ سے، مکاشفہ کی کتاب میں اِس حوالے کی مکمل تلاوت موجود ہے جس سے ڈاکٹر والوورد نے حوالہ دیا:

’’اور اُسے مقدسوں سے جنگ کرنے اور اُن پر غالب آنے کی قوت دی گئی اور ہر قبیلہ، اُمت، زبان اور قوم پر اِختیار دیا گیا۔ تمام اہل زمین جن کے نام اُس بنائے عالم سے ذبح کیے ہوئے برّہ کی کتاب میں درج نہیں تھے اُس حیوان کی پرستش کریں گے۔ جس کے کان ہوں وہ سُن لے‘‘ (مکاشفہ 13: 7۔9)۔

I. پہلی بات، مکاشفہ میں یہ حوالہ آنے والے دجال کی بات کرتا ہے۔

یہ کہتی ہے، ساتویں آیت میں،

’’… اور اُسے ہر قبیلہ، اُمت، زبان اور قوم پر اِختیار دیا گیا‘‘ (مکاشفہ 13: 7)۔

یہ آیت ’’حیوان‘‘ کی طرف اشارہ کرتی ہے - جسے نئے عہد نامے میں ’’دجال‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جیسا کہ 1 یوحنا 2: 18،

’’چھوٹے بچو، یہ آخری زمانہ ہے: اور جیسا کہ تم نے سنا ہے کہ دجال آئے گا…‘‘ (1 یوحنا 2: 18)۔

اس آنے والے عالمی آمر کو دجال کہا جاتا ہے کیونکہ ’’مخالف‘‘ کا مطلب ہے کہ وہ مسیح کے خلاف ہے اور مسیح کی جگہ لینا چاہتا ہے۔ کیا ہم ابھی واشنگٹن اور ہمارے اسکولوں میں ایسا ہوتا نہیں دیکھتے؟ ڈاکٹر والوورد نے کہا کہ [دجال] کو ’’خدا کے لیے شیطان کے متبادل کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا‘‘ (جان ایف والوورد، ٹی ایچ ڈی John F. Walvoord, Th.D.، بائبل کی بڑی پیشن گوئیاںMajor Bible Prophecies، ژونڈروان پبلشنگ ہاؤس، 1991، صفحہ 315)۔

دانیال کے ساتویں باب کے مطابق، دجال دس قوموں کا رہنما بن جائے گا جو پہلے رومی سلطنت کا حصہ تھیں۔ اس میں اٹلی اور یورپ کی کئی دوسری قومیں شامل ہوں گی۔ ڈاکٹر والوورد نے کہا،

اگرچہ اس طرح کی ایک مکمل پیشین گوئی کے امکان کو پچھلی نسلوں نے اکثر طعنہ دیا تھا، لیکن اب یہ ایک بہت ہی ممکنہ امکان بن گیا ہے، اور یہاں تک کہ بےدین دنیا بھی یونائیٹڈ سٹیٹس آف یوروپ کی کسی نہ کسی طرح پیشنگوئی کر رہی ہے۔ پیشنگوئی کے نقطہ نظر سے، اہمیت یہ ہے کہ یہ آخری وقت کے واقعات میں ایک اہم قدم ہے جو مسیح کی دوسری آمد تک لے جاتا ہے (بائبل کی اہم پیشین گوئیاںMajor Bible Prophecies، گذشتہ بات کے تسلسل میں ibid.)۔

ڈاکٹر جان والوورد بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں،

سب سے پہلے، وہ [دجال] دس قومی گروہ کو [یورپ میں] استحکام دلائے گا، جو اسے مشرق وسطیٰ کے مرکزی رہنما کے طور پر کام کرنے کی طاقت دے گا… اس کے بعد وہ اسرائیل کے ساتھ سات سالہ عہد میں داخل ہوگا (دانیال 9: 27) جو مسیح کی دوسری آمد تک آخری سات سالوں کا وقت دے گا۔ وہ مسیح کی دوسری آمد سے ساڑھے تین سال پہلے عالمی آمر کے طور پر بھی اقتدار سنبھالے گا، جیسا کہ مکاشفہ 13: 7 میں اشارہ کیا گیا ہے۔ اس طرح، وہ یہودیوں اور مسیحیوں دونوں کا سزا دینے والا کہلایا جائے گا (گذشتہ بات کے تسلسل میں ibid.، صفحہ 316)۔

II۔ دوسری بات، مکاشفہ کا یہ حوالہ دجال کی ایذا دینے کی طاقت کے بارے میں بتاتا ہے۔

’’اور اُسے مقدسوں سے جنگ کرنے اور اُن پر غالب آنے کی قوت دی گئی …‘‘ (مکاشفہ 13: 7)۔

مسیح نے اس دور کو متی 24: 21-22 میں اور متی 24: 29 میں بہت بڑی ایذا رسانیاں‘‘ کہا۔ مسیح نے کہا،

’’کیونکہ اُس وقت کی مصیبت ایسی بڑی ہو گی کہ دُنیا کے شروع سے نہ تو اب تک آئی ہے اور نہ پھر کبھی آئے گی۔ اگر اُن دِنوں کی تعداد گھٹائی نہ جاتی تو کوئی شخص نہ بچتا …‘‘ (متی 24: 21۔22)۔

یہ دجال کے دور حکومت میں ظلم و ستم کے خوفناک وقت کی بات کرتا ہے۔ ڈاکٹر والوورد نے کہا،

مصیبت کا آخری وقت [بہت بڑی ایذا رسانیوں میں] بے مثال کے طور پر الگ کر دیا گیا ہے۔ یہ کردار، واقعات اور حد تک مصیبت کے دیگر تمام سابقہ اوقات سے مختلف ہو گا (گذشتہ بات کی تسلسل میں، صفحہ 346)۔ رومی سلطنت کا خوفناک جبر… ان ظلم و ستم سے بہت زیادہ ہو جائے گا جو [رومن] سلطنت [دجال کی آمریت کے تحت] کی بحالی کی شکل میں آئیں گے (گذشتہ بات کے تسلسل میں ibid.، صفحہ 248)۔

نیو یارک ٹائمزNew York Times میں لکھتے ہوئے، 20ویں صدی کے اختتام کے قریب، ایک فکر مند اور ایماندار یہودی مبصر، اے ایم روزنتھال A.M. Rosenthal نے کہا، ’’ہمارے وقت کی چونکا دینے والی ان کہی کہانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ مسیح کی پیدائش کے بعد سے کسی بھی صدی کے مقابلے میں اس صدی میں زیادہ مسیحی محض مسیحی ہونے کی وجہ سے مرے ہیں۔‘‘ مسٹر روزنتھال کے انتباہات کے باوجود اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ یہ مستقبل میں بہتر ہونے والا ہے۔

’’اور اُسے مقدسوں سے جنگ کرنے اور اُن پر غالب آنے کی قوت دی گئی …‘‘(مکاشفہ 13: 7)۔

III۔ تیسری بات، مکاشفہ میں یہ حوالہ یہ محسوس کرنا کہ آپ پہلے سے ہی ایک مسیحی ہیں اِس پر آپ کی آزمائش کی بات کرتا ہے۔

آٹھویں آیت پر نظر ڈالیں۔

’’تمام اہل زمین جن کے نام اُس بنائے عالم سے ذبح کیے ہوئے برّہ کی کتاب میں درج نہیں تھے اُس حیوان کی پرستش کریں گے‘‘ (مکاشفہ 13: 8)۔

ساری دنیا اس آمر کے سامنے سر تسلیم خم کرے گی جسے دجال کہا جاتا ہے۔ مستثنیٰ صرف وہ لوگ ہوں گے جن کے نام ’’زندگی کی کتاب‘‘ میں لکھے گئے ہیں، وہ جو سچے مسیحی ہیں، وہ جو حقیقی طور پر مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے ہیں۔ صرف سچے مسیحی ہی آنے والے دجال کے آگے جھکنے اور اس کی پرستش کرنے سے انکار کر دیں گے۔ یہ اُن کے لیے اور اُن تمام لوگوں کے لیے جو مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں بڑی آزمائش کا وقت ہوگا۔ آنے والے وقت میں یہ بہت واضح ہو جائے گا کہ کون حقیقی مسیحی ہے اور کون جھوٹا ہے۔ لیکن یہ ہمیشہ سچ رہا ہے، ہے نا؟ بیج بونے والے کی تمثیل میں، یسوع نے ان لوگوں کے بارے میں بات کی جن میں

وہ [کلام] جڑ نہیں پکڑ پاتا، چنانچہ وہ کچھ دِنوں تک ہی قائم رہتا ہے، بعد میں جب اُن پر اِس کلام کی وجہ سے مصیبت یا ایذا نازل ہوتی ہے تو وہ فوراً گمراہ ہو جاتے ہیں‘‘ (مرقس 4: 17)۔

اور لوقا مسیح کے ان اضافی الفاظ کو شامل کرتا ہے، جو اُس وقت کہے گئے تھے، ’’...اور آزمائش کے وقت پسپا ہو جاتے ہیں‘‘ (لوقا 8: 13)۔

’’چٹان پر کے وہ ہیں جو کلام کو سُن کر اُسے خوشی سے قبول کرتے ہیں لیکن کلام اُن میں جڑ نہیں پکڑتا۔ وہ کچھ عرصہ تک تو کلام پر قائم رہتے ہیں لیکن آزمائش [اور ’’ایذا رسانیوں‘‘] کے وقت [وہی لوگ] پسپا ہو جاتے ہیں‘‘ (لوقا 8: 13)۔

دجال کے تحت مسیحیوں پر ظلم و ستم تصور سے باہر خوفناک ہوگا، اس سے بھی بدتر دنیا نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ صرف وہی جو حقیقی مسیحی ہیں، جن کے نام خدا کی ’’کتابِ زندگی‘‘ میں لکھے گئے ہیں۔ کیا آپ کا نام خدا کی کتاب زندگی میں ہے؟ بائبل کہتی ہے،

’’اور جو کوئی کتابِ حیات میں لکھا ہوا نہیں پایا گیا وہ آگ کی جھیل میں ڈالا گیا‘‘ (مکاشفہ 20: 15)۔

آپ کا نام اس کتاب میں نہیں لکھا گیا جب تک کہ آپ گناہ سے باز نہ آئیں اور خدا کے بیٹے یسوع مسیح پر بھروسہ نہ کریں۔ وہ صلیب پر آپ کے گناہ کے لیے مرا۔ وہ آپ کو زندہ کرنے کے لیے مردوں میں سے جی اُٹھا۔ اس کا خون آپ کو ’’تمام گناہ‘‘ سے پاک کر سکتا ہے (1 یوحنا 1: 7)۔ ایمان کے ساتھ مسیح کے پاس آئیں اور آپ کا نام ’’زندگی کی کتاب‘‘ میں پایا جائے گا، اور آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہاں تک کہ اگر آپ کو دجال کے ذریعے سزائے موت دی جاتی ہے، تو آپ کی روح مسیح کے ساتھ جلال میں زندہ رہے گی! میں دعا کرتا ہوں کہ آپ مکمل طور پر مسیح کے پاس آئیں اور تبدیل ہو جائیں۔ پھر آپ محفوظ رہیں گے خواہ دجال آپ کے فانی جسم کو مار ڈالے۔ آپ جو بھی کریں، مسیح کے پاس آئیں، تو آپ کا نام ’’کتابِ زندگی‘‘ میں ہوگا۔

خُداوندا، میرے گناہ وہ بے شمار ہیں،
   سمندر کی ریت کی مانند،
مگر تیرا خون، اے میرے نجات دہندہ،
   میرے لیے کافی ہے؛
کیونکہ تیرا وعدہ لکھا ہوا ہے،
   چمکدار لفظوں میں جو جگمگاتے ہیں،
’’حالانکہ تیرے گناہ سُرخی مائل ہیں،
   میں اُن کو برف کی مانند بنا ڈالوں گا۔‘‘
جی ہاں، میرا نام وہاں پر لکھا ہوا ہے،
   اُس صفحہ پر جو سفید اور منصفانہ ہے؟
تیری بادشاہی کی کتاب میں،
   جی ہاں، میرا نام وہاں پر لکھا ہوا ہے!
(’’کیا میرا نام وہاں پر لکھا ہوا ہے؟ Is My Name Written There?‘‘ شاعرہ میری اے۔ کیڈر Mary A. Kidder، 1820۔1905)۔

یہ وہ عظیم سوال ہے جس سے میں چاہتا ہوں کہ آپ آج رات اس سے نمٹیں: کیا آپ کا نام ’’زندگی کی کتاب میں لکھا ہوا ہے؟‘‘ (مکاشفہ 20: 15)۔ اِس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ ہے۔ گرجا گھر میں واپس آئیں۔ مکمل طور پر یسوع مسیح کے پاس آئیں اور اُس کے ذریعے نجات پائیں۔ میری دعا ہے کہ امریکہ پر خدا کی سزا نازل ہونے سے پہلے آپ کے ساتھ ایسا ہو جائے۔ آمین۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

لُبِ لُباب

بائبل کی پیشنگوئی میں امریکہ کا زوال

THE FALL OF AMERICA IN BIBLE PROPHECY

ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’اور اُسے مقدسوں سے جنگ کرنے اور اُن پر غالب آنے کی قوت دی گئی اور ہر قبیلہ، اُمت، زبان اور قوم پر اِختیار دیا گیا۔ تمام اہل زمین جن کے نام اُس بنائے عالم سے ذبح کیے ہوئے برّہ کی کتاب میں درج نہیں تھے اُس حیوان کی پرستش کریں گے۔ جس کے کان ہوں وہ سُن لے‘‘ (مکاشفہ 13: 7۔9)۔

(یرمیاہ 5: 28۔29؛ 7:20؛ I تسالونیکیوں 5: 3)

I۔   پہلی بات، مکاشفہ میں یہ حوالہ آنے والے دجال کی بات کرتا ہے،
مکاشفہ 13: 7؛ 1 یوحنا 2: 18۔

II۔  دوسری بات، مکاشفہ کا یہ حوالہ دجال کی ایذا دینے کی طاقت کے بارے میں بتاتا ہے،
مکاشفہ 13: 7؛ متی 24: 21-22۔

III۔ تیسری بات، مکاشفہ میں یہ حوالہ یہ محسوس کرنا کہ آپ پہلے سے ہی ایک مسیحی ہیں اِس پر آپ کی آزمائش کی بات کرتا ہے۔
مکاشفہ 13: 8؛ مرقس 4: 17؛ لوقا 8: 13؛ 1 یوحنا 1: 7۔