Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

نوح کی شرمندگی اور حام کا گناہ

THE SHAME OF NOAH AND THE SIN OF HAM
(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 55)
(SERMON #55 ON THE BOOK OF GENESIS)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
22 جون، 2008، خُدا کے دِن کی ایک شام
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, June 22, 2008

’’نُوح نے کاشتکاری شروع کی اور انگور کا ایک باغ لگایا۔ جب اُس نے اُس کی کچھ مَے پی تو متوالا ہو گیا اور اپنے خیمہ میں ننگا ہی جا پڑا۔ کنعان کے باپ حام نے اپنے باپ کو ننگا دیکھا اور باہر آکر اپنے دونوں بھائیوں کو بتایا۔ تب سِم اور یافت نے ایک کپڑا لیا اور اُسے اپنے کندھوں پر رکھ پچھلے پاؤں اندر گئے اور اپنے باپ کے ننگے بدن کو ڈھانک دیا۔ اُنہوں نے اپنے منہ دوسری طرف کیے ہوئے تھے اِس لیے وہ اپنے باپ کی برہنگی کو نہ دیکھ سکے۔ جب مَے کا نشہ اُترا اور نُوح ہوش میں آیا اور اُسے پتا چلا کہ اُس کے چھوٹے بیٹے نے اُس کے ساتھ کیا کِیا‘‘ (پیدائش 20:9-24).

آپ میں سےکچھ پیدائش کی کتاب کو پہلی مرتبہ پڑھ رہے ہیں۔ کلام پاک کا یہ حوالہ آپ کے لیے شدید حیرت کا باعث ہونا چاہیے! نوح مَے پی کر متوالا ہوتا ہے، اور اپنے پوتے کنعان کو بد دُعا دیتا ہے آپ کے لیے ایک دھچکا ہونا چاہیے۔ لیکن میرے خیال میں اِس حوالے میں بے شمار اسباق ہیں جو کہ حقیقت میں ہمارے لیے بہت مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ آئیے فوراً اُن اسباق کے لیے چلیں۔

I۔ اوّل، حوالہ ظاہر کرتا ہے کہ بائبل خُدا کا کلام ہے۔

’’ہر صحیفہ خدا کے کلام سے ہے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 16:3).

اِس کا مطلب ہے کہ تمام کی تمام بائبل، پیدائش سے لیکر مکاشفے تک، خُود خُدا کے ذریعے سے پیش کی گئی ہے،

پولوس کے معنوں کو واضح طریقے سے پیش کرنے کے لیے اُس کا اِس طرح ترجمہ کرنا ہے، ’’تمام پاک کلام، کیونکہ یہ خُدا کا کلمہ ہے، منافع بخش ہے ...‘‘ کلام پاک کا نقطۂ آغاز مسلمہ ہے: یہ ’’خُدا کا کلمہ‘‘ ہے (تھیوپ ایوسٹوس theopneustos, Greek) یعنی کہ کلام پاک کے الفاظ خود خُدا سے موصول کیے گئے ہیں۔ بائبل کے ذریعے سے کلام پاک کے نظام عقائد کو دُرست حالت میں رکھنا یہ ہے کہ اُس کے الفاظ ’’خُدا کا کلمہ‘‘ ہیں (ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل، پی ایچ۔ ڈی۔، W. A. Criswell, Ph.d.,، کرسویل کا مطالعۂ بائبل The Criswell Study Bible، تھامس نیلسن اشاعت خانے Thomas Nelson Publishers، 1979، 2۔تیموتاؤس16:3 پر غور طلب بات)۔

اِس حوالے میں ہماری تلاوت الہام کا ثبوت پیش کرتی ہے۔ آرتھر ڈبلیو۔ پنک Arthur W. Pink نے کہا کہ یہ تلاوت پیش کرتی ہے،

کلام پاک کے خُدائی الہام کا نمایاں ثبوت۔ بائبل میں انسانی فطرت کو سچے رنگوں میں رنگا گیا ہے: اِس کا جہاد کرنے والوں کے کردار پوری ایمانداری کے ساتھ واضح کیے گئے ہیں، اِس کی سب سے زیادہ نمایاں ہستیوں کے گناہوں کا اندراج [صاف صاف] کیا گیا ہے ... ثبوت ہے کہ بائبل کے کرداروں کو سچائی کے رنگوں میں رنگا گیا ہے ... کہ ایسے کردار انسانی قلم کی نقش و نگاری نہیں تھے، کہ موسیٰ اور دوسرے [بائبل کے مصنفین] نے خُدائی الہام کے وسیلے سے لکھا ہے (آرتھر ڈبلیو۔ پنک Arthur W. Pink، پیدائش میں حاصل کردہ پھل Gleanings in Genesis، موڈی پریس Moody Press، دوبارہ اشاعت 1981، صفحہ 121)۔

یہ کیا ہے ماسوائے نوح کی شرمندگی اور حام کے گناہ کا ایک سچا واقعہ؟ یہ کیا ہے ماسوائے ایک بالکل دُرست تصویر، خُدا کے وسیلے سے پیش کی گئی، الہام کے ذریعے سے پیش کی گئی؟ آپ پیدائش کی کتاب پر بھروسہ کر سکتے ہیں کیونکہ یہ آپ کو اِس کے عظیم ترین لوگوں کے انوکھے مزاجوں اور غیر ہم آہنگیوں کو پیش کرتی ہے! بائبل کے دوسرے ہیروز اور محب وطنوں کے واقعات سچائی کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ ہم اُنہیں بطور لوگ دیکھتے ہیں، جیسے کہ وہ تھے، شکوک وشُبہات کے ساتھ ہراساں، خوف اور عدم تحفظ سے گھیرے ہوئے اور غیر محفوظ۔۔ کبھی کبھی وہ ڈگمگا جاتے تھے، جیسے نوح لڑکھڑا گیا تھا۔ ہم خُدا کے کلام پر بھروسہ کرنا سیکھتے ہیں کیونکہ یہ ہمارے ساتھ اِس قدرمطابقت کے ساتھ بات کرتا ہے، اور ہم پر ظاہر کرتا ہے کہ لوگوں میں سے بہترین بھی مٹی کے بنے مقدسین نہیں ہیں، اپنے تمام اعمال میں کامل تر۔ نوح کے بارے میں سیلاب سے پہلے بائبل سچ کہتی ہے،

’’نُوح راستباز انسان تھا اور اپنے زمانہ کے لوگوں میں بےعیب تھا‘‘ (پیدائش 9:6).

یہ اشارہ دیتا ہے کہ وہ ’’راستباز‘‘ تھا کیونکہ وہ ایمان کے وسیلے سے راستباز ٹھہرایا گیا تھا، ناکہ بے گناہی کی کاملیت سے۔ اصلاح پرستوں نے کہا کہ تبدیل شُدہ لوگ ’’چاہے گناہ کر رہے ہوں راستباز ٹھہرائے‘‘ جاتے ہیں۔ اصلاح پرستوں کے ذریعے سے راستباز لوگوں کے بارے میں روشنی میں لائے گئے عظیم بیانات میں سے ایک ہے۔ پھر پیدائش9:6 کہتی ہے، ’’وہ اپنے زمانہ کے لوگوں میں بے عیب تھا۔‘‘ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بے گناہی میں کامل تھا۔ عبرانی لفظ جس نے ’’کامل‘‘ کا ترجمہ کیا وہ عبرانی کے ایک لفظ سے ہے جس کا مطلب ’’معزز‘‘ اور ’’مخلص‘‘ ہے (Strong #8549)۔ ہم دیکھیں گے کہ نوح ایک مخلص اور راستباز شخص رہا تھا، حالانکہ وہ بے گناہی کے اعتبار سے کامل نہیں تھا۔ یہ نظریہ ہے جو پبتسمہ دینے والے اور اصلاح پرستوں نے عمومی طور پر راستباز لوگوں سے تعلق رکھتے ہوئے قائم کیا ہوا تھا، اور میں یقین کرتا ہوں کہ یہ نوح پر اُس کی تمام زندگی میں لاگو ہوتا ہے۔ اِس ایک واقعے کے علاوہ، نوح ایک ایسے شخص کی مانند نمودار ہوتا ہے جو متجسم مسیح میں ایمان کے ذریعے سے راستباز تھا، اِس واقعے سے ہٹ کر، خُدا کے ساتھ اپنی راہ میں بطور ’’مخلص‘‘ انسان زندہ رہا تھا۔ خُدا کے تمام کلام میں کہیں بھی نوح کے مَے پینے کے بارے میں کوئی تزکرہ نہیں ہے۔ پیدائش کے ریکارڈ سے اور بائبل میں سے کہیں بھی، ہمیں اُس کے زندگی کے باقی 350 سالوں میں جو اُس نے گزارے ہمیں نوح کے اِس واقعے کو دھرائے جانے کا کوئی تزکرہ نہیں ملتا ہے، اور اُس نے یقیناً اِس سے قبل سیلاب سے پہلے ایسا نہیں کیا تھا۔

II۔ دوئم، حوالہ نشہ آور مشروبات پینے کے خطرے کو ظاہر کرتا ہے۔

بائبل کہتی ہے،

’’مَے مضحکہ خیز ہوتی ہے، شراب ہنگامہ برپا کرتی ہے: اور جو کوئی اُن سے بہک جاتا ہے وہ دانا نہیں ہے‘‘ (امثال 1:20).

ڈاکٹر جان آر۔ رائس نے کہا،

کس قدر حیرت انگیز کہ نوح مَے پی کر متوالا ہو گیا تھا! کچھ رائے دیتے ہیں کہ ممکن ہے نوح کو کشید کی ہوئی شراب کے نتائج کے بارے میں معلوم ہی نہ ہو۔ یہ دلچسپ ہے کہ سیلاب سے پہلے کی دُنیا میں ظلم وتشدد اور ہولناک بدکاری کی تمام گفتگو میں، کثرتِ شراب خواری کا کبھی تزکرہ نہیں کیا گیا۔ وہاں قتل تھا، کیونکہ کائین نے ھابل کو مارا تھا۔ ’’اور خُداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی ہے اور اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں‘‘ (پیدائش5:6)۔ پیدائش11:6 کہتی ہے، ’’زمین بھی خُدا کی نظر میں بگڑ چکی تھی اور ظلم و تشدد سے بھری ہوئی تھی۔‘‘ آیت 12 کہتی ہے، ’’دیکھو یہ بہت بگڑ چکی تھی؛ کیونکہ زمین پر سب لوگوں نے اپنے طور طریقے بگاڑلیے تھے۔‘‘ اور آیت 13کہتی ہے، ’’زمین ظلم و تشدد سے بھر چکی ہے‘‘ (جان آر۔ رائس، ڈی۔ڈی۔ John R. Rice, D.D.، ابتداء میں In the Beginning، خُداوند کی تلوار اشاعت خانے Sword of the Lord Publishers، 1975، صفحہ 238)۔

ڈاکٹر رائس نے کہا، ’’سیلاب سے پہلے کثرت شراب خواری کا بالکل بھی تزکرہ نہیں تھا۔‘‘ درحقیقت، لفظ ’’شراب‘‘ کا تزکرہ کہیںنہیں تھا یہ سیلاب کے بعد آیا تھا۔ لفظ ’’شراب‘‘ کا پہلا تزکرہ ہماری تلاوت، پیدائش21:9 میں، سیلاب کے بعد۔ یہ شاید ٹھیک طور پر نشاندہی کرتی ہے کہ کوئی نہیں جانتا تھا شراب کیسے بنائی جائے، یا کہ وہ کسی اور وجہ سے سیلاب آجانے کے بعد تک بنائی ہی نہیں گئی تھی۔ بالکل جیسے انسان نےسیلاب گزر جانے کے بعد تک گوشت نہیں کھایا تھا (پیدائش3:9)، تو اِس سے یوں لگتا ہے کہ اُن کے پاس شراب اُس وقت تک نہیں تھی جب تک کہ سیلاب گزر نہیں گیا (پیدائش21:9)۔ شاید یہ نوح کی بیوقوفی کی وضاحت کرتا ہے۔ ڈاکٹر رائس نےکہا،

سیلاب سے پہلے حالات مختلف تھے۔ لوگوں کی بہت لمبی لمبی عمریں ہوتی تھیں – نو سو سالوں سے بھی زیادہ تک کی۔ جانور جن کے آثار متحجر ہمیں سیلاب سے بنی تہوں کے نیچے دفن ملے، آج کے اُنہی جانوروں سے کافی بڑے تھے۔ ہم فرض کرتے ہیں، تب، وہ بالکل جیسے کہ بُخارات کا شامیانہ تھا، ’’اُس پانی نے جو بہشت کے اوپر تھا،‘‘ شاید سورج کی کچھ انفراریڈ شعاعوں کو روک دیا تھا اور عمر کے بڑھنے کے اثر کو غائب کر دیا تھا، بالکل ایسے ہی بیکٹیریا کا عمل کرنا رُک گیا تھا، خوراک اتنی جلدی خراب نہیں ہوتی تھی، اور پھلوں کے جوس اِس قدر آسانی سے خمیرے نہیں ہوتے تھے۔
اب نئی زمین میں نوح نے انگوروں کا ایک باغ لگایا تھا اور شراب پی تھی اور متوالا ہو گیا تھا۔ آئیے [اِس لیے] ہم مخیّرانہ طور پر فرض کر لیتے ہیں کہ وہ تیزی سے پھٹنے یا کھٹی ہونے والی شراب سے واقف نہ تھا اور اب افسوس کے ساتھ نشہ آور مشروب کے اثر کو سیکھتا ہے (جان آر۔ رائس John R. Rice، ‏ibid.)۔

یقیناً کلام پاک کا یہ حوالہ نشہ آور مشروب کی بُرائی اور خطرے کو ظاہر کرتا ہے۔ آرتھر ڈبلیو۔ پنک Arthur W. Pink نے کہا،

یہ یقیناً نہایت اہم ہے اور ایک سنجیدہ تنبیہہ کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے کہ پہلی مرتبہ جب کلام پاک میں شراب کا حوالہ آتا ہے تو اِس کا تعلق کثرت شراب خواری، شرمندگی اور بددعا کے ساتھ پایا جاتا ہے (آرتھر ڈبلیو۔ پنک Arthur W. Pink، ‏ibid.)۔

III۔ سوئم، یہ حوالہ انسان کے مکمل اخلاقی زوال کی عکاسی کرتا ہے۔

آرتھر ڈبلیو۔ پنک نے کہا کہ پیدائش 9 میں واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ

انسان اپنی بہترین حالت میں کُلی طور پر زعم باطل میں ہے، دوسرے لفظوں میں، ہم انسانی فطرت کا نرا اور پورے کا پورا بگاڑ دیکھتے ہیں۔ پیدائش 9 ایک نئے نظام کے آغاز کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، اور اُن کی مانند جو اِس کے پیشرو تھے اور وہ جنہوں نے اِس کی پیروی کی، یہ بھی ناکامی کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔ امتحان چاہے کوئی بھی ہو، اِنسان جیتنے کے قابل نہیں ہے (اے۔ ڈبلیو۔ پنک A. W. Pink، ‏ibid.)۔

انسان بنیادی طور پر ’’بُرا‘‘ ہے (متی11:7)۔ انسان ’’گناہوں میں مردہ‘‘ ہے (افسیوں5:2)، اور اِسی لیے، ضروری ہے کہ ’’مسیح کے ساتھ ... زندہ‘‘ (افسیوں 5:2)۔ جیسا کہ یسوع اِسے بتاتا ہے،

’’بشر سے تو بشر ہی پیدا ہوتا ہے مگر جو رُوح سے پیدا ہوتا ہے وہ رُوح ہے۔ حیران نہ ہوکہ میں نے تجھ سے کہا کہ تُم سب کو نئے سرے سے پیدا ہونا لازمی ہے‘‘ (یوحنا 6:3-7).

حالانکہ کشتی میں حام کو سیلاب میں مرنے سے بچا لیا گیا تھا، یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ نئے سرے سے پیدا ہوا تھا، اور اِسی لیے اُس نے اپنے باپ نوح کے خلاف بغاوت کی تھی، اور اُس کی توہین کی تھی۔ حام نوح کے خیمے میں آیا تھا اور

’’کنعان کے باپ حام نے اپنے باپ کو ننگا دیکھا اور باہر آکر اپنے دونوں بھائیوں کو بتایا‘‘ (پیدائش 22:9).

ڈاکٹر رائس Dr. Rice نے کہا،

حام نے نوح کی برھنگی اُس کے خیمے میں دیکھی اور اپنے دونوں بھائیوں کو بتایا۔ شاید اُس نے اِس کے بارے میں مذاق کیا تھا... یہاں پر احترام کی کمی ہے، خُدائی خوف کی کمی ہے جو بچوں کو اپنے والدوں سے ہونا چاہیے۔ اِسی لیے نوح نے حام کے بیٹے کو اِس معاملے میں اُس کی توھین کی وجہ سے بد دعا دی تھی (جان آر۔ رائس John R. Rice، ‏ibid.، صفحات 239۔240)۔

لعنت حام کے بیٹے، کنعان پر دی گئی تھی۔ اور نوح نے کہا،

’’کنعان ملعوُن ہو؛ اور وہ اپنے بھائیوں کے غلاموں کا غلام ہو‘‘ (پیدائش 25:9).

ڈاکٹر رائری Dr. Ryrie نے کہا،

حام کو، ایک ایسا بیٹا پیدا کرنے سے جو اُس کے لیے ذلت و رسوائی کا سبب بن جائے گا، اپنے باپ کے لیے اُس کی توھین پر سزا دی گئی ہے۔ لعنت حامیوں پر نہیں ہے، بلکہ کنعانیوں پر ہے، فلسطین کے باسیوں پر... کنعانی ایک عرصہ گزرے ناپید ہو گئے ہیں؛ لعنت اِس لیے آج کسی پر بھی لاگو نہیں ہو سکتی ہے (چارلس سی۔ رائری Charles C. Ryrie، پی ایچ۔ ڈی۔ رائری کا مطالعۂ بابئل The Ryrie Study Bible، موڈی اشاعت خانہ Moody Press، 1978، پیدائش25:9 پر غور طلب بات)۔

لیکن یہاں پر ایک سبق ہے جو آج لاگو ہوتا ہے۔

’’لعنت اُس آدمی پر جو اپنے باپ یا ماں کو [بے عزّت] کرے‘‘ (استثنا 16:27).

بنیادی طور پرحام کا گناہ یہ تھا کہ اُس نے اپنے باپ کو ذلیل و رُسوا کیا تھا۔ آئیے تمام بچوں کو یہ یاد کروائیں کہ لعنت اُس وقت ملتی ہے جب آپ اپنے باپ کی نافرمانی یا بے عزتی کرتے ہو، خاص طور پر اگر وہ ایک مسیحی ہے۔ اخلاقی طور پر گرے ہوئے، غیر تبدیل شُدہ لوگوں میں اپنے والدوں کو بے عزت کرنے کا رجحان ہوتا ہے، اور یہ آج لعنت لاتا ہے جیسے یہ اُس وقت لایا تھا۔

IV۔ چہارم،حوالہ مسیح کے کفارے کی عکاسی کرتا ہے۔

’’تب سِم اور یافت نے ایک کپڑا لیا اور اُسے اپنے کندھوں پر رکھ پچھلے پاؤں اندر گئے، اور اپنے باپ کے ننگے بدن کو ڈھانک دیا؛ اُنہوں نے اپنے منہ دوسری طرف کیے ہوئے تھے اِس لیے وہ اپنے باپ کی برہنگی کو نہ دیکھ سکے‘‘ (پیدائش 23:9).

نوح کی حالت میں حام، سِم اور یافت کے برعکس کوئی تسلی نہیں پاتے۔ اِس کے بجائے اُنہوں نے ’’اپنے باپ کی برہنگی کو ڈھانپا۔‘‘ اِصلاح مطالعۂ بائبلThe Reformation Study Bible (ژونڈروان Zondervan، ‏2003، پیدائش23:9 پر غور طلب بات) واضح کرتی ہے کہ ’’اُنہوں نے خُدا کی مانند روئیہ اختیار کیا۔‘‘ اِس کے مطلب ہوتا ہے کہ اُنہوں نے باغ عدن میں خُدا کی مانند عمل کیا تھا جب اُس نے ہمارے پہلے والدین آدم اور حوّا کے گناہ کو ڈھانپا تھا۔

’’خداوند خدا نے آدم اور اُس کی بیوی کے لیے چمڑے کے کُرتے بنا کر اُنہیں پہنا دئیے‘‘ (پیدائش 21:3).

اِسی طرح سے، سِم اور یافت نے ’’اپنے باپ کی برھنگی کو ڈھانپا‘‘ (پیدائش23:9)۔

جو لفظ پیدائش23:9 میں ’’ڈھانکنے‘‘ کے ترجمے کے لیے استعمال ہوا ہے وہی عبرانی لفظ زبور1:32 میں بھی پایا گیا ہے،

’’مبارک ہے وہ جس کی خطائیں بخشی گئیں، اور جس کے گناہ ڈھانکے گئے‘‘ (زبُور 1:32).

پولوس رسول نے اُس آیت کا رومیوں 7:4 میں حوالہ دیا،

’’مبارک ہیں وہ جن کی خطائیں بخشی گئیں، اور جن کے گناہوں پر پردہ ڈالا گیا‘‘ (رومیوں 7:4).

رومی زبان میں یونانی لفظ کا مطلب ’’پوشیدہ کرنے کے لیے‘‘ ہوتا ہے (Strong#1943)۔ یہ نوح کی اُس کے بیٹوں کے ذریعے سے جنہوں نے اُس کو عزت بخشی، اور اُس پر اُس کے خیمے میں کپڑا ڈھانکا، خُدائی ڈھانکنے پر روشنی ڈالتا ہے۔ یوں کرنے سے وہ ایک طرح سے مسیح کی تشبیہہ بنتے ہیں، جو ہمارے گناہوں کو اپنے صلیبی کفارے کے وسیلے سے ڈھانپتا ہے۔ مسیح کا خون ایک مسیحی کے گناہوں کو ’’ڈھانکتا‘‘ اور ’’پوشیدہ کرتا‘‘ ہے۔

یہ ہے جو خُداوند یسوع مسیح آپ کے لیے کر سکتا ہے۔ صلیب پر یسوع مسیح کی موت کے وسیلے سے، اور خون جو اُس نے بہایا، اُس سے آپ کے گناہ خُدا کی نظر سے ’’ڈھانپے‘‘ اور ’’پوشیدہ کیے‘‘ جاتے ہیں! ہم بہت سے پرانے حمد و ثنا اور انجیلی گیتوں میں گناہ کو ڈھانکنے، پوشیدہ کرنے اور چُھپانے کا وہ موضوع پاتے ہیں۔ میں کس قدر خواہش کرتا ہوں کہ لوگ آج پھر اُنہیں دوبارہ گائیں! چارلس ویزلی Charles Wesley نے لکھا،

مجھے چُھپا لے، اے میرے نجات دہندہ، چُھپا لے،
   جب تک کہ زندگی کا طوفان گزر نہیں جاتا ہے؛
حفاظت سے محفوظ ٹھکانے میں رہنمائی کر؛
   ہائے آخر کار میری جان کو قبول کر لے۔
(’’یسوع، میری جان کو پیار کرنیوالا Jesus, Lover of My Soul‘‘
   شاعر چارلس ویزلی Charles Wesley،‏ 1707۔1788)۔

اُگستُس ٹاپ لیڈی Augustus Toplady نے لکھا،

چٹان کے زمانے، میرے لیے پھٹ گئے،
   مجھ کو تجھ میں خود کو چھپانے دے؛
آئیے اِس پانی اور خون کو،
   جو تیرے دریا کے کناروں سے بہا،
مجھے اِس جرم اور قوت سے پاک صاف کرنے دے۔
   (’’چٹان کے زمانے Rock of Ages‘‘ شاعر اگستس ایم۔ ٹاپلیڈی Augustus M. Toplady،‏ 1740۔1778)۔

ولیم کُشینگ William Cushing نے لکھا،

تجھ میں چھپنےسے، تجھ میں چھپنے سے،
   تو بابرکت ہے ’’چٹان کے زمانے،‘‘
میں تجھ میں چھپ رہا ہوں۔
   (’’تجھے میں چھپنے سے Hiding in Thee ‘‘ شاعر ولیم او۔ کُشینگ William O. Cushing،‏ 1823۔1902)۔

اور فینی کراسبی Fanny Crosby نے لکھا،

وہ میری روح کو چٹان کے شگاف میں رکھتا ہے
   جو ایک خشک، پیاسی زمین کو سایہ کرتی ہے؛
وہ میری زندگی کو اپنے پیار کی گہرائی میں چُھپاتا ہے،
   اور وہاں مجھے اپنے ہاتھ کے ساتھ چُھپاتا ہے،
اور وہاں مجھے اپنے ہاتھ کے ساتھ چُھپاتا ہے۔
   (’’وہ میری روح کو چُھپاتا ہے He Hideth My Soul‘‘ شاعر فینی جے۔ کرسبی Fanny J. Crosby،‏ 1820۔1915)۔

کیا آپ کے گناہ یسوع کے خون کے وسیلے سے ڈھانکے گئے ہیں؟ کیا آپ خُدا کے غضب سے اُس میں چُھپے ہوئے ہیں؟ کیا آپ اپنے گناہوں سے پاک صاف کیے گئے ہیں اُس کے خون کے وسیلے سے جو ہے

’’بنائے عالم سے ذبح کیا ہُوا برّہ‘‘ (مکاشفہ 8:13).

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے دُعّا ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: پیدائش 9:20۔29.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’وہ میری روح کو چُھپاتا ہے He Hideth My Soul‘‘ (شاعر فینی جے۔ کرسبی
Fanny J. Crosby،‏ 1820۔1915)۔

لُبِ لُباب

نوح کی شرمندگی اور حام کا گناہ

THE SHAME OF NOAH AND THE SIN OF HAM
(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 55)
(SERMON #55 ON THE BOOK OF GENESIS)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’نُوح نے کاشتکاری شروع کی اور انگور کا ایک باغ لگایا۔ جب اُس نے اُس کی کچھ مَے پی تو متوالا ہو گیا اور اپنے خیمہ میں ننگا ہی جا پڑا۔ کنعان کے باپ حام نے اپنے باپ کو ننگا دیکھا اور باہر آکر اپنے دونوں بھائیوں کو بتایا۔ تب سِم اور یافت نے ایک کپڑا لیا اور اُسے اپنے کندھوں پر رکھ پچھلے پاؤں اندر گئے اور اپنے باپ کے ننگے بدن کو ڈھانک دیا۔ اُنہوں نے اپنے منہ دوسری طرف کیے ہوئے تھے اِس لیے وہ اپنے باپ کی برہنگی کو نہ دیکھ سکے۔ جب مَے کا نشہ اُترا اور نُوح ہوش میں آیا اور اُسے پتا چلا کہ اُس کے چھوٹے بیٹے نے اُس کے ساتھ کیا کِیا‘‘ (پیدائش 20:9-24).

I.    اوّل، حوالہ ظاہر کرتا ہے کہ بائبل خُدا کا کلام ہے،
2۔تیموتاؤس 16:3؛ پیدائش 9:6 .

II.   دوئم، حوالہ نشہ آور مشروبات پینے کے خطرے کو ظاہر کرتا ہے،
امثال 1:20؛ پیدائش5:6، 11، 12، 13؛ 21:9 .

III.  سوئم، یہ حوالہ انسان کے مکمل اخلاقی زوال کی عکاسی کرتا ہے،
متی 11:7؛ افسیوں5:2؛ یوحنا6:3۔7؛ پیدائش22:9، 25؛ استثنا 16:27 .

IV.  چہارم،حوالہ مسیح کے کفارے کی عکاسی کرتا ہے،
پیدائش 23:9؛ 21:3؛ زبور 1:32؛ رومیوں 7:4؛ مکاشفہ 8:13 .