Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

سیلاب کے بعد نوح کی قربانی

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 49)
NOAH’S SACRIFICE AFTER THE FLOOD
(SERMON #49 ON THE BOOK OF GENESIS)
(Urdu)

ڈاکٹرآر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ


25 مئی، 2008، خُداوند کے دِن کی صبح
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, May 25, 2008

’’تب نُوح نے خداوند کے لیے ایک مذبح بنایا اور سب چرندوں اور پرندوں میں سے جن کا کھانا جائز تھا چند کو لے کر اُس مذبح پر سوختنی قربانیاں چڑھائیں‘‘ (پیدائش 8:20).

ہزاروں لاکھوں ناپید قبل از ریکارڈ کی ہوئی تاریخ کے جانور دُنیا کے بہت سے شمالی علاقوں میں منجمد حالت میں دریافت کیے گئے ہیں۔ اِن جانوروں کے جسم یکدم مجنمد ہو گئے تھے۔ اُن کا معائنہ کیا گیا اور پایا گیا کہ وہ ڈوب گئے تھے۔ ڈاکٹر جے۔ ای۔ شیلی Dr. J. E. Shelly نے کہا،

اِن کا سب سے زیادہ ذکر مثال کے طور پر دیو ہیکل ہاتھیوں کے معاملے میں پایا جاتا ہے۔ یہ ہاتھی براعظم ایشیا کے تمام طول اور الاسکا اور کینیڈا کے شمال میں، سائبیریا کے ٹُندرا Tundra کے مجنمد رسوب silt [تہ نشین] میں دفن پائے گئے۔ وہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں بُلند زمین پر غُول کے غُول دلدلی زمین میں لیکن مٹی میں غیر حنوط شُدہ حالت میں پائے گئے ... جتنا مذید شمال کی طرف بڑھتے جائیں، وہ تعداد میں مذید اور ملتے جائیں گے، جب تک کہ اُوقیانوسیہ Arctic کے دائرے کے اندر وائٹ سمندر White Sea کے جزیروں کے مٹی تک نہیں پہنچ جاتے جو کہ بہت زیادہ تعداد میں اُن کی ہڈیوں کے ساتھ ساتھ لمبے دانتوں والے چیتے Sabre-tooth Tiger، ایک قسم کے دیو ہیکل بارہ سینگے giant elk، غار والے ریچھ، کستوری بیل musk ox اور درختوں کے تنوں اور زمین میں کھڑے درختوں میں گھلے ملے ہوئے پائے گئے ہیں۔ اب اُن علاقوں میں کوئی درخت نہیں ہیں، نزدیک ترین جاندار سینکڑوں ... میل دور ہے۔ ناپید دیو ہیکل ہاتھی اُس غیرکامل نمو والے سبزے کو جو اب سال میں تین مہینوں کے لیے اِس علاقے میں اُگتا ہے نہیں کھا سکتے ہونگے، جس کا کہ سو مربع میل بھی اُن میں سے ایک کو بھی ایک مہینے تک کے لیے زندہ رکھنے کے لیے ناکافی ہوگا۔ اُن کے معدے میں خوراک میں صنوبر، پھولوں والے ایک قسم کے خار دار درخت howthorn کی شاخیں وغیرہ پائیں گئی۔ یہ ناپید دیو ہیکل ہاتھی رسوبsilt میں زندہ دفن ہو گئے تھے جب رسوب نرم ہی تھی۔ وہ اور رسوب پھر اکھٹے ہی اچانک منجمد ہوگئے اور پھر کبھی بھی پگھل نہیں پائے۔ کیونکہ وہ گلنے سڑنے کی کوئی علامت ظاہر نہیں کرتے۔ ناپید دیو ہیکل ہاتھیوں کے دانت ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک انگلستان کی بندرگاہوں پر بکتے رہے ہیں۔ نیچرل ھسٹری عجائب گھر نے ایک ناپیدا دیو ہیکل ہاتھی کا سر اور دانت لندن کی بندر گاہ کے ایک ہاتھی دانت بیچنے والی دکان سے خریدے تھے۔ یہ سر مکمل طور پر بالکل تازہ تھا اور اپنے اصلی بالوں سے ڈھکا ہوا تھا (ڈاکٹر جے۔ ای۔ شیلی، حوالہ دیا تھا ڈاکٹر جے۔ ورنن میکجی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ Dr. J. Vernon McGee, Th.D. نے، بائبل میں سے، تھامس نیلسن پبلشرز Thomas Nelson Publishers، 1981، جلد اوّل، صفحہ45)۔

ڈاکٹرھنری ایم۔ مورس Dr. Henry M. Morris نے کہا،

بائبل اور سائنسی اعداد و شمار کو دُرست طور پر سمجھا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ دُنیا کے سب سے بڑے آثار متحجر کے قبرستانوں کے زیادہ تر علاقے سیلاب کے ذریعے سے اور اُس کے بعد کے اثرات کی وجہ سے دفن ہوئے تھے۔ چٹانوں میں موجود ریکارڈ ارتقاء کی گواہی نہیں ہے، بلکہ اس کے بجائے خُدا کی گناہ پر مقتدر اعلٰی کی قوت اور فیصلے کی تصدیق ہے (ھنری ایم۔ مورس، پی ایچ۔ ڈی۔ Henry M. Morris, Ph. D.، پیدائش کی کتاب کا ریکارڈ The Genesis Record، بیکر کتاب گھر Baker Book House، اشاعت 1986، صفحہ 213)۔

نوح اور اس کے خاندان کے کشتی میں داخل ہونے کے ایک سال اور سترہ دِن بعد، سیلاب کا پانی کم ہونا شروع ہوا تھا،

’’تب خدا نے نوح سے کہا: تُو اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں اور اُن کی بیویوں سمیت کشتی سے باہر نکل آ اور اپنے ساتھ سارے حیوانات یعنی پرندے، جانور اور زمین پر رینگنے والے سب جانداروں کو بھی نکال لا جو تیرے ساتھ ہیں‘‘ (پیدائش 8:15۔17).

نوح کشتی میں سے باہر ایک ایسی دُنیا میں آیا تھا جو سیلاب سے تباہ و برباد ہو چکی تھی۔ آسمان ’’فضا کے اوپر کے پانیوں‘‘ کی وجہ سے مختلف نظر آتا تھا (پیدائش1:7) کیونکہ وہ نیچے آ گئے تھے، اور اب وہاں مذید پانی کے بخارات کی چھتری زمین کے گرد نہیں رہی تھی۔ اب سورج مکمل طور پر چمکتا تھا اور رات کے وقت ستارے صاف طور پر دیکھے جا سکتے تھے۔ یہ سوچا گیا ہے کہ آسمان کا وہ رنگ اب تبدیل ہو گیا تھا۔

موسم میں انتہائی واضح تبدیلیاں رونما ہو چکی تھیں۔ آسمان میں پانی کے بخارات کی چھتری نے پوری دُنیا میں ایک گرین ہاؤس تاثر قائم کر دیا تھا۔ جب یہ آبی بخارات گرے تو اِنہوں نے قُطبی علاقوں میں برف اور برف باری کے آغاز کی ابتدا کی۔ یوں، اب شمالی یورپ کو عظیم برف کی تہوں نے ڈھانپ لیا اور ریاست ہائے متحدہ کے شمالی حصوں تک پہنچ گئی، اور اُن علاقوں میں بے شمار سینکڑوں سالوں کے ایک ’’برفانی زمانے‘‘ کا آغاز کر دیا۔

اِس انقلابی طور پر بدلی ہوئی اور ناخوشگوار دُنیا میں،

نوح اور اُس کے خاندان کشتی میں سے باہر نکلے تھے۔ کوئی شاید تصور کر سکتا ہے کہ نوح کا فوراً دھیان خوراک اور سائبان ڈھونڈنے کی طرف گیا ہوگا۔ لیکن اُس سے پہلے خیالات خُداوند کی پرستش کرنا تھے، جس نے اُس کو اور اُس کے خاندان کو سیلاب کی قیامت سے بچا لیا تھا۔

’’تب نُوح نے خداوند کے لیے ایک مذبح بنایا اور سب چرندوں اور پرندوں میں سے جن کا کھانا جائز تھا چند کو لے کر اُس مذبح پر سوختنی قربانیاں چڑھائیں‘‘ (پیدائش 8:20).

مارٹن لوتھر Martin Luther نے کہا،

یہاں پر پہلی مرتبہ سوختنی نزرانے کا تزکرہ کیا گیا ہے، جو کہ ظاہر کرتا ہے کہ موسیٰ سے پہلے بھی قربانیوں سے تعلق رکھتے ہوئے ایک شریعت تھی۔ خُداوند نوح کے سوختنی نزرانوں کے ساتھ بہت خوش ہوا تھا، جو کہ اُس نے اپنے پاکیزہ آباؤاِجداد کی مثالوں کے مطابق ادا کی تھیں (مارٹن لوتھر، ٹی ایچ۔ ڈی۔ Martin Luther, Th.D.، پیدائش کی کتاب پر لوتھر کا تبصرہ Luther’s Commentary on Genesis، ژونڈروان اشاعتی گھر Zondervan Publishing House، دوبارہ اشاعت1958 ، جلد اوّل، صفحہ 156)۔

کیلوِن Calvin نے کہا،

یہ حوالہ ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ قربانیوں کی بنیاد بالکل آغاز سے ہی تھی ... اِسی لیے جب مقدس بزرگوں نے، ماضی میں، قربانیوں کے ذریعے سے خُدا کی جانب اپنی سعادت مندی کا اقرار کیا، تو اُن کا استعمال کسی طور بھی غیر ضروری نہیں تھا۔ اِس کے علاوہ، یہ دُرست تھا کہ ہمیشہ اُن کی نظروں کے سامنے کوئی علامات ہونی چاہیئں، جن کے ذریعے سے اُنہیں باز رکھا گیا ہوگا کہ وہ ماسوائے ایک ثالث کے ذریعے سے خُداوند تک رسائی نہیں کر سکتے۔ اب، تاہم، مسیح کے ظہور نے اِن قدیم سایوں کو پرے ہٹا دیا ہے (جان کیلون John Calvin، موسیٰ کی پہلی کتاب پر تبصرہ جو پیدائش کی کتاب کہلاتی ہے Commentaries on the First Book of Mosses, Called Genesis، بیکر کتاب گھر Baker Book House، دوبارہ اشاعت 1988، صفحہ 281)۔

لوتھر نے کہا نوح کی قربانیاں ادا کی گئیں تھی ’’اُس کے پاکیزہ آباؤ اِجداد کی مثالوں کے مطابق۔‘‘ کیلون نے کہا ’’اُن قربانیوں کا قائم کیا جانا ابتدا ہی سے تھا۔‘‘

I۔ قربانی کا پہلا تزکرہ۔

قربانی کا پہلا مشورہ پیدائش 3:21 میں رونما ہوتا ہے۔ مہربانی سے وہ کھولیں اور آیت کو باآواز بُلند پڑھیں۔

’’خداوند خدا نے آدم اور اُس کی بیوی کے لیے چمڑے کے کُرتے بناکر اُنہیں پہنا دیئے‘‘ (پیدائش 3:21).

ڈاکٹر ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل Dr. W. A. Criswell نے کہا،

انسان کے گناہ کے کفارے کے لیے یہ پہلی قربانی تھی، جو کہ انسان کے گناہوں کے کفارے کے لیے یا اُنہیں ’’ڈھانپنے‘‘ کے لیے مسیح کی صلیب پر موت کی قبل ازیں عکاسی کرتی ہے ... یہ آیت انجیل کو علامتی طور پر ظاہر کرتی ہے: (1) ’’خون کے بہائے جانے‘‘ کی ضرورت کا ابتدائی اعلان (عبرانیوں 9:22، غور طلب بات) اور (2) متبادل کی ایک انتہائی نایاب مثال، یعنی کہ، معصوم کی قصورواروں کے لیے موت۔ آدم اور حوّا کو لباس پہنانے اور کھالوں کو خاص ضرورت کے تحت حاصل کرنے کے لیے، اُن جانوروں کا ذبح ہونا اور اُن کا خون بہایا جانا ضروری تھا۔ خُداوند نے کھالوں کو سنوارا … انسان کی شرمندگی کو ڈھانپنے کے لیے (ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل W. A. Criswell, Ph. D.، کرسویل کا مطالعہ بائبل The Criswell Study Bible، تھامس نیلسن پبلشرز Thomas Nelson Publishers،1979، پیدائش 3:21 پر غور طلب بات)۔

یوں، پہلی قربانی ایک تصویر پیش کرتی ہے کہ مسیح صلیب پر کیا کرے گا،

’’خدا نے یسُوع کو مُقرّر کیا کہ وہ اپنا خُون بہائے اور اِنسان کے گناہ کا کفّارہ بن جائے اور اُس پر ایمان لانے والے فائدہ اُٹھائیں…‘‘ (رومیوں 3:25).

’’مبارک ہیں وہ جن کی خطائیں بخشی گئیں، اور جن کے گناہوں پر پردہ ڈالا گیا‘‘ (رومیوں 4:7).

خُدا نے انسان کے گناہوں پر پردہ ڈالنے کے لیے کھالیں مہیا کیں۔ یہ مسیح کے خون کی ایک پیشن گوئی، نشان دہی، تشبیہہ تھی، جو خُدا کے قہر و غضب کی تشفی کرتی ہے اور اُن کے گناہوں پر پردہ ڈالتی ہے جو مسیح کے پاس آتے ہیں۔

کیا آپ خون میں دھوئے گئے ہیں،
   برّے کے روحوں کو پاک صاف کرنے والے خون میں؟
کیا آپ کے کپڑے بے داغ ہیں؟ کیا وہ برف کی مانند سفید ہیں؟
   کیا آپ برّہ کے خون میں دھوئے گئے ہیں؟
(’’کیا آپ برّہ کے خون میں دھوئے گئے ہیں؟
      Are You Washed in the Blood?‘‘ شاعر ایلشاہ اے۔ ھوفمین
         Elisha A. Hoffman، 1839۔1929)۔

II۔ قربانی کا دوسرا تزکرہ۔

قربانی کا دوسرا تزکرہ پیدائش 4:3َ۔5 میں رونما ہوتا ہے۔ مہربانی سے یہ تین آیات باآواز بُلند پڑھیں۔

’’کچھ عرصہ کے بعد قائِن زمین کی پیداوار میں سے خداوند کے لیے ہدیہ لایا۔ اور ہابل بھی اپنی بھیڑ بکریوں کے چند پہلوٹھے بچّےاور اُن کی چربی لے آیا۔ خداوند نے ہابل اور اس کے ہدیہ کو منظور کیا: مگر کائن اور اُس کے ہدیہ کو منظور نہ کیا۔ اور قائِن نہایت برہم ہُوا اور اُس کا چہرہ بگڑ گیا‘‘ (پیدائش 4:3:5).

دوبارہ، ڈاکٹر کرسویل کی رائے انتہائی قیمتی ہے۔

رسمی عبادت کے اِس پہلے اندراج کیے ہوئے عمل میں، ھابل کا ہدیہ ’’اُس کی بھیڑ بکریوں کے پہلوٹھے بچے‘‘ تھے ... ھابل اور اُس کے ہدیہ کو منظور کیا گیا مگر کائن اور اُس کے ہدیہ کو منظور نہ کیا گیا (آیت 5)۔ اِس باب میں توجہ کا مرکز ناصرف خود آدمیوں پر بلکہ اُن کے ہدیوں میں تضاد پر بھی ہے۔ کائن کا ہدیہ (1) بغیر خون کے تھا (حوالہ دیکھیں عبرانیوں9:22)، (2) خود اُس کے اپنے ہاتھوں کا کام (حوالہ دیکھیں طیطُس 3:5)، اور (3) معلون زمین کی ایک پیداوار (حوالہ دیکھیں 3:17)۔ دوسری طرف ھابل نے ’’ایک زیادہ شاندار قربانی‘‘ کا اظہار کیا تھا ( کرسویل، ibid.، پیدائش4:4 پر ایک غور طلب بات)۔

’’ایمان ہی سے ہابِل نے قائِن سے افضل قُربانی پیش کی... (عبرانیوں 11:4).

ڈاکٹر جے۔ ورنن میکجی نے کہا، ’’کائن اور ھابل کے درمیان فرق بالکل بھی کردار کا فرق نہیں تھا، بلکہ فرق اُس ہدیے کا تھا جو وہ لائے تھے‘‘ (میکجی، ibid.، صفحہ 29)۔ ھابل کی قربانی کے بارے میں اِس قدر شاندار کیا بات تھی؟ یہ ایک خونی قربانی تھی! کائن کی قربانی ایک خونی قربانی نہ تھی، اِسی لیے وہ منظور نہ کی گئی۔ یہ ایک انتہائی شاندار تصویر ہے جو کہ میسح کے خون کی نشاندہی کرتی ہے،

’’اور جب تک خُون نہ بہایا جائے گناہ بھی نہیں بخشے جاتے‘‘ (عبرانیوں 9:22).

کیا آپ خون میں دھوئے گئے ہیں،
   برّے کے روحوں کو پاک صاف کرنے والے خون میں؟
کیا آپ کے کپڑے بے داغ ہیں؟ کیا وہ برف کی مانند سفید ہیں؟
   کیا آپ برّہ کے خون میں دھوئے گئے ہیں؟
(’’کیا آپ برّہ کے خون میں دھوئے گئے ہیں؟
   Are You Washed in the Blood?‘‘ شاعر ایلشاہ اے۔ ھوفمین
         Elisha A. Hoffman، 1839۔1929)۔

III۔ قربانی کا تیسرا تزکرہ۔

اور یوں، ہم دیکھتے ہیں کہ جب نوح نے ایک قربان گاہ تعمیر کی اور اُن جانوروں کا نزرانہ دیا، تو وہ کچھ نیا نہیں کر رہا تھا۔ وہ وہی کر رہا تھا جو زمانوں کی ابتدا سے دین دار لوگ کرتے چلے آ رہے تھے۔

’’تب نُوح نے خداوند کے لیے ایک مذبح بنایا اور سب چرندوں اور پرندوں میں سے جن کا کھانا جائز تھا چند کو لے کر اُس مذبح پر سوختنی قربانیاں چڑھائیں‘‘ (پیدائش 8:20).

یہ جاننا انتہائی دلچسپ اور معاون ہے کہ موسیٰ نے احبار کی کتاب میں دی گئی شریعت کے پیش کیے جانے سے پہلے اِسی قسم کی قربانی پیش کی تھی! موسیٰ نے فرعون سے کہا تھا،

’’لیکن مُوسٰی نے کہا کہ تجھے ہمیں قربانی اور سوختنی قربانی کے جانور لے جانے کی اجازت دینا ہوگی تاکہ ہم اُنہیں خداوند اپنے خدا کو پیش کر سکیں‘‘ (خروج 10:25).

بعد میں خروج کی کتاب میں، قربانیوں کے قانونی نظام کے قائم کیے جانے سے قبل، اور احبار کی کتاب میں تفصیل سے پیش کیے جانے پر یہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ قربانیاں نوح کے زمانے سے پہلے سے لیکر ٹھیک موسیٰ کے دور تک جاری رہی تھیں۔

نوح اور موسیٰ کے بیچ میں، ابراھام نے بھی خُدا کے لیے قربانیاں گزرانی تھیں۔

’’اور ابرہام نے سوختنی قربانی کی لکڑیاں لے کر اپنے بیٹے اِضحاق کو دیں کہ وہ اُنہیں اُٹھا لے اور آگ اور چھُری خود سنبھالی۔ جیسے ہی وہ دونوں ایک ساتھ روانہ ہوئے اِضحاق اپنے باپ ابرہام سے کہنے لگا: ابّا! ابرہام نے جواب دیا: ہاں میرے بیٹے؟ اِضحاق نے کہا: آگ اور لکڑیاں یہاں ہیں لیکن سوختنی قربانی کے لیے برّہ کہاں ہے؟ ابرہام نے جواب دیا: اَے میرے بیٹے! خدا آپ ہی سوختنی قربانی کے لیے برّہ مہیا کرے گا‘‘ (پیدائش 22:6۔8).

چاہے کتنا دھندلا سا ہی اُن لوگوں نے مسیح کی آنے والی قربانی کو شاید سمجھا ہو، جو کہ اُن ہدیوں میں عکاسی کرتی تھی، وہ بِلاشُبہ جانتے تھے کہ مسقتبل میں ’’خدا خود سوختنی قربانی کے لیے برّہ مہیا کرے گا۔‘‘ حالانکہ ابراھام ٹھیک اُس ہی وقت پر سمجھ گیا تھا کہ اُن کا کیا مطلب ہے، یہ یقینی طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ اُس کے ذہن میں اِس سے کہیں زیادہ نظریہ تھا جب اُس نے کہا، ’’خُدا ہدیہ مہیا کرے گا۔‘‘ خُدا نے اُس دِن ضرور ہدیہ مہیا کیا، اور یہ یسوع، خُدا کے برّے کے قیمتی نزرانے کی تصویر پیش کرتا ہے، جسے خُداوند تمام عالم کے گناہوں کے لیے ایک نزرانےکے طور پر مہیا کرے گا۔

خروج اور پیدائش کی کتاب میں اِن تشبیہات کو کامل طور پر پورا اُس وقت کیا گیا جب یسوع مسیح نے گتسمنی کے باغ میں خود پر تمام بنی نوع انسان کے گناہ کو لاد لیا تھا، اور اگلے دِن انسان کے گناہ کو صلیب تک برداشت کیا، جب اُنہوں نے بے داغ خُدا کے برّے، اُس خُداوند یسوع مسیح کو مصلوب کیا، جب نے ہمارے قرضوں کی ادائیگی کی اور اپنے پاک اور بے گناہ خون سے اِسے پاک صاف کرنے کے لیے ممکن بنایا۔ اب ہم، جو یسوع کے پاس ایمان کے وسیلے سے آئے ہیں، کامل یقین دہانی کے ساتھ کہہ سکتے ہیں،

’’اُس کے بیٹے یسُوع مسیح کا خُون ہمیں ہر گناہ سے پاک کرتا ہے‘‘ (1۔ یوحنا 1:7).

مسیح کی صلیب پر قربانی خروج اور پیدائش کی کتاب میں اُن قربانی کی تصاویر کو مکمل کرنے والی بن گئی۔ اِسی لیے یوحنا بپتسمہ دینے والے نے، جب یسوع کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تو زور سے پکار کر کہا،

’’دیکھو، یہ خدا کا برّہ ہے، جو دنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے‘‘ (یوحنا 1:29).

آدم اور حوّا کا تن ڈھانپنے کے لیے خُداوند نے جو خونی قربانی دی تھی آنے والے مسیح کی بات کرتی ہے جو ہمارے گناہوں کو خود اپنے خون میں چھپا لے گا اور ہمیں خود اپنی راستبازی کا لبادہ پہنا دے گا۔ وہ خون کی قربانی جو ھابل نے دی تھی خُدا کے ساتھ قبولیت کو مہیا کرتی ہے، اور مسیح کی آنے والی صلیب کی طرف اشارہ کرتی ہے، جو اُن تمام کو جو اُس کے پاس آتے ہیں خداوند کی نظر میں اُس کے خون کی تاثیر کے ذریعے سے جو صلیب پر بہایا گیا قابل قبول بناتی ہے۔ خونی قربانی جو نوح نے دی تھی انسان کے گناہ کے لیے خدا کے قہر و غضب کو گناہ کے کفارے کی تشفی بناتی ہے، جیسے مسیح،

’’ہمارے گناہوں کا کفارہ ہے اور نہ صرف ہمارے ہی گناہوں کا بلکہ ساری دُنیا کے گناہوں کا کفارہ ہے‘‘ (1۔ یوحنا 2:2).

قربانیوں کی وہ لمبی قطار، جو آدم کی کھال سے لیکر ھابل کے ہدیے تک، اور نوح کی قربانی سے لیکر ابراہام کی قربانی تک، اور یہاں تک کہ موسیٰ کی شریعت سے پہلے کی قربانی تک، پرانے عہد نامے کے زمانے میں خُدا کو خوش کرنےکے لیے ایک طرح سے نسل در نسل چلی آرہی تھیں، کیونکہ یہ قربانی آنے والے دور میں مسیح کی طرف اشارہ کرتی تھیں، جو اِن تمام تشبیہات قربانی کو پورا کرے گا، اور اُن میں کہی گئی تمام برکات کو مہیا کرے گا۔

ایک اور بات۔ اِن ابتدائی قربانیوں میں سے ہر ایک، ایک خون کی قربانی تھی! کچھ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ یسوع کا وہ خون مسیح کی موت کے لیے محض ایک اور لفظ ہے۔ یہ غلط ثابت ہوتا ہے بالکل اُس قربانی کے ذریعے سے جس کا ہم نے کلام پاک میں سے اِس صبح مطالعہ کیا تھا۔ اِن تمام قربانیوں میں بدن جو ذبح کیا گیا اور خون جو بہایا گیا – دو مختلف باتیں تھیں، ایک جیسی بات نہیں تھی۔ مگر آپ آسانی کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ ایک ہی بات نہیں تھی، کہ تاریخ کے آغاز ہی میں اِن میں سے ہر ایک قربانی میں بدن اور خون دو علیحدہ باتیں تھی۔

یہ ہی سب سے اہم ہے، کیونکہ آپ کو دونوں ہی یسوع کے بدن اور خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُس کے بدن کا مرنا آپ کے گناہوں کے کفارے کی ادائیگی کرتا ہے۔ وہ خون جو اُس نے بہایا آپ کا گناہ دھو ڈالتا ہے،

’’اور اُس کے بیٹے یسُوع کا خُون ہمیں ہر گناہ سے پاک کرتا ہے‘‘ (1۔یوحنا1:7).

اور اِس لیے، آج صبح میرا آپ سے سوال یہ ہے: کیا آپ مسیح کی راستبازی میں لباس زیب تن کیے ہوئے ہیں – اُس میں ایمان کے وسیلے سے راستباز کیے ہوئے؟ کیا آپ یسوع کے پاس اُس کے خون میں پاک صاف ہونے کے آئے ہیں؟ خُداوند کی حضوری میں پاک صاف ہونے کے لیے اِس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ ایمان کے وسیلے سے نوح نے یہ دھندلا سا دیکھ لیا تھا جب اُس نے کشتی چھوڑنے کے بعد اُن تمام جانوروں کا نزرانہ پیش کیا۔

مجھے اُمید ہے کہ آپ بھی مسیح کے خون کی اہمیت کو دیکھ پائیں گے۔ آپ کے ریکارڈ میں بہت بڑے بڑے گناہ ہیں۔ وہ کسی اور طریقے سے چھپائے نہیں جا سکتے اور پاک صاف نہیں کیے جا سکتے ماسوائے مسیح کے قیمتی خون کے ذریعے سے۔

آپ میں سے ہر کسی اور ہر ایک کو جو مسیح میں ایک غیر تبدیل شُدہ حالت میں یسوع کے پاس آنا چاہیے اور اُس کے خون کے وسیلے سے پاک صاف ہو کر دھل جانا چاہیے اور صلیب پر اُس کی موت کے وسیلے سے خُدا کی حضوری میں راستباز ٹھہرائے جانا چاہیے۔ اور اِسی لیے میں آپ سے دوبارہ کہتا ہوں،

کیا آپ خون میں دھوئے گئے ہیں،
برّے کے روحوں کو پاک صاف کرنے والے خون میں؟
کیا آپ کے کپڑے بے داغ ہیں؟ کیا وہ برف کی مانند سفید ہیں؟
کیا آپ برّہ کے خون میں دھوئے گئے ہیں؟
(’’کیا آپ برّہ کے خون میں دھوئے گئے ہیں؟ Are You Washed in the Blood?‘‘
شاعر ایلشاہ اے۔ ھوفمین Elisha A. Hoffman، 1839۔1929)۔

آپ کو یسوع کے پاس آنا چاہیے اور اُس پر بھروسہ کرنا چاہیے، ورنہ آپ کے ریکارڈ میں لگے یہ کالے دھبے کبھی بھی یسوع کے خون کے ذریعے سے چھپائے، پاک صاف یا مٹائے نہیں جا سکتے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ آج آپ سادہ ایمان کے ساتھ اُس کے پاس آئیں گے اور اُس عظیم قربانی کے ذریعے سے جو اُس نے کلوری کی صلیب پر آپ کے لیے دی بچائے جائیں گے۔

کیا آپ خون میں دھوئے گئے ہیں،
برّے کے روحوں کو پاک صاف کرنے والے خون میں؟
کیا آپ کے کپڑے بے داغ ہیں؟ کیا وہ برف کی مانند سفید ہیں؟
کیا آپ برّہ کے خون میں دھوئے گئے ہیں؟
(’’کیا آپ برّہ کے خون میں دھوئے گئے ہیں؟ Are You Washed in the Blood?‘
‘ شاعر ایلشاہ اے۔ ھوفمین Elisha A. Hoffman، 1839۔1929)۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے دُعّا ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین
Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: پیدائش 9:20۔29.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’اُن پرانے طور طریقوں سے The Old-fashioned Way‘‘ (شاعر سویلہ ڈی۔
مارٹن Civilla D. Martin، 1866۔1948)۔

لُبِ لُباب

سیلاب کے بعد نوح کی قربانی

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 49)
NOAH’S SACRIFICE AFTER THE FLOOD
(SERMON #49 ON THE BOOK OF GENESIS)

ڈاکٹرآر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’تب نُوح نے خداوند کے لیے ایک مذبح بنایا اور سب چرندوں اور پرندوں میں سے جن کا کھانا جائز تھا چند کو لے کر اُس مذبح پر سوختنی قربانیاں چڑھائیں‘‘ (پیدائش 8:20).

(پیدائش 8:15۔15؛ 1:7)

I.   قربانی کا پہلا تزکرہ، پیدائش3:21؛ رومیوں3:25؛ 4:7۔

II.   قربانی کا دوسرا تزکرہ، پیدائش4:3۔5؛ عبرانیوں11:4؛ عبرانیوں9:22۔

III. ; قربانی کا تیسرا تزکرہ، پیدائش8:20؛ خروج10:25؛ پیدائش22:6۔8؛
 1۔ یوحنا1:7؛ یوحنا1:29؛ 1۔یوحنا2:2۔