اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔
واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔
جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔
ایک چھیدا ہوا دِل(انجیلی بشارت کی تبلیغ پر واعظ # 3) ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے ’’اب جب اُنہوں نے یہ باتیں سُنی تو اُن کے دِلوں پر چوٹ لگی اور اُنہوں نے پطرس سے اور باقی رسولوں سے کہا، اے بھائیو، ہم کیا کریں؟‘‘ (اعمال 2: 37)۔ |
پہلی عظیم بیداری کا آغاز 1737 میں نیو انگلینڈ میں ہوا۔ جوناتھن ایڈورڈز نے اس کے بارے میں اپنی کتاب، خدا کے اُس حیرت انگیز کام کا سچا بیان، جس کے ذریعے سینکڑوں لوگوں نے ایمان قبول کیا A Faithful Narrative of the Surprising Work of God in the Conversion of Many Hundred Souls. میں لکھا ہے۔ ڈاکٹر آئزک واٹس، مشہور حمدوثنا کے مصنف، اور ڈاکٹر جان گائس نے ایڈورڈز کی کتاب کے پہلے ایڈیشن کا تعارف لکھا۔ اُنہوں نے کہا،
جہاں کہیں بھی خدا انسانوں کے ذہنوں پر نجات کے لیے اپنی قدرت کے ساتھ کام کرتا ہے، وہاں گناہ کے احساس اور خدا کے غضب کے خطرے کا کچھ نہ کچھ ادراک ضرور پیدا ہوتا ہے (جوناتھن ایڈورڈز کے کام The Works of Jonathan Edwards، دی بینر آف ٹروتھ ٹرسٹ، 1992 ایڈیشن، جلد اول، صفحہ 345)۔
تمام حقیقی حیاتِ نو کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب لوگ گناہ کا گہرا احساس محسوس کرتے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ میں 1859 کے حیاتِ نو کے ایک عینی شاہد نے کہا،
اس میں سب سے نمایاں پہلو گناہ کا شدید احساس تھا... وہاں بوڑھے، سفید بالوں والے مرد و خواتین، نوجوان مرد اور لڑکیاں موجود تھے، جو اس طرح رو اور سسکیاں لے رہے تھے جیسے غم کے مارے ان کے دل پھٹ جائیں گے (1959 اور 60 کے حیات نو کی یادیں Reminiscences of the Revival of ’59 and the Sixties، یونیورسٹی پریس، 1910، صفحات xii، 90)۔
ایک حیات نو میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے وہ اِفراد کے ساتھ بھی ہوتا ہے جب وہ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوتے ہیں۔ گناہ کا احساس، زیادہ یا کم حد تک، عام طور پر حقیقی تبدیلیوں کے تجربے میں پایا جاتا ہے۔ جب پطرس نے پینتیکوست کے موقع پر منادی کی تو جو ہوا وہ غیر معمولی نہیں تھا۔ یہ باقاعدہ طریقہ ہے، معمول کا طریقہ، جس سے لوگ حقیقی تبدیلی کا تجربہ کرتے ہیں۔
’’اب جب اُنہوں نے یہ باتیں سُنی تو اُن کے دِلوں پر چوٹ لگی …‘‘ (اعمال 2: 37)۔
یونانی لفظ جس کا ترجمہ ”چبھنا pricked‘‘ کیا گیا ہے، اس کا مطلب ہے ”چھید کر دینا، یا شدت سے ڈنک مارنا۔ یہ لفظ ایسے تکلیف دہ جذبات کے لیے استعمال ہوتا ہے جو دل میں یوں اتر جاتے ہیں جیسے کوئی چیز ڈنک کی طرح چبھ رہی ہو“ (فرٹز رینیکر Fritz Rienecker، نئے عہدنامے کی زباندانی کی کُلید A linguistic Key to the New Testament، زونڈروان پبلشنگ ہاؤسZondervan Publishing House، 1980، اعمال 2:37 پر غور طلب بات)۔
’’اب جب اُنہوں نے یہ باتیں سُنی تو اُن کے دِلوں پر چوٹ لگی …‘‘ (اعمال 2: 37)۔
انہوں نے دردناک جذبات کا ایک تجربہ کیا، جس سے ان کے دلوں پر چوٹ لگی۔
جب پطرس نے اپنا واعظ ختم کیا تو ان کے دل چھید گئے۔ درد بھرے جذبات سے وہ پکار اٹھے،
’’بھائیو، ہم کیا کریں؟‘‘ (اعمال 2: 37)۔
میں دعا کرتا ہوں کہ آج صبح یہاں موجود کوئی ایسا شخص، جس نے ابھی تک مسیح میں ایمان قبول نہیں کیا، اس کے دل میں کسک پیدا ہو اور وہ اپنے دل ہی دل میں کہے: ”میں کیا کروں؟“
’’اب جب اُنہوں نے یہ باتیں سُنی تو اُن کے دِلوں پر چوٹ لگی اور اُنہوں نے پطرس سے اور باقی رسولوں سے کہا، اے بھائیو، ہم کیا کریں؟‘‘ (اعمال 2: 37)۔
آج صبح میرا موضوع ’دل کا چِھدنا‘ (یا دل میں چبھن) ہے۔ میں آپ کے سامنے چار نکات پیش کروں گا: اول، اس کی ضرورت؛ دوئم، اس کا فقدان؛ سوم، اس کا اثر؛ اور چہارم، اس کا ذریعہ۔
I۔ پہلی بات، دل میں چبھن (یا احساسِ ملامت) کی ضرورت۔
سپرجیئن نے کہا،
نجات بخش اثر ہمیشہ دل میں ایک چبھن پیدا کرتا ہے... مبلغین اپنے سُننے والوں پر بہت سے اثرات مرتب کرتے ہیں، مگر خوش نصیب ہے وہ واعظ جو ان کے دلوں کے عین اندر ایک زخم (یا چبھن) پیدا کر دے۔ نجات بخش اثر کا دل میں قائم ہونا ضروری ہے، کیونکہ ہر سچے مذہب کا آغاز وہیں سے ہوتا ہے (سی ایچ سپرجیئن، ”دِل کا چھیدا جانا یا دِل پر چوٹ لگنا“، میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ The Metropolitan Tabernacle Pulpit، پلگرم پبلیکیشنز، 1978 کی اشاعتِ نو، جلد LIV، صفحہ 254)۔
”ہر سچا مذہب وہیں سے شروع ہوتا ہے۔“ کہاں سے؟ دل سے۔ دماغ میں نہیں، بلکہ دل میں۔ میں نے گزشتہ اتوار کی صبح کہا تھا کہ انسان کا مسئلہ فکری (ذہنی) نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ انسان کا مسئلہ گناہ ہے۔ چونکہ یہ بات سچ ہے، اس لیے محض انجیل کے حقائق پر یقین کر لینے سے کوئی شخص نجات نہیں پا سکتا۔ تبدیلی (ایمانی تبدیلی) ذہن میں نہیں ہوتی، بلکہ یہ دل میں ہوتی ہے۔
”کیونکہ انسان دل سے ایمان لاتا ہے جس سے وہ راستباز ٹھہرتا ہے۔“ (رومیوں 10: 10)۔
بائبل میں، ”دل“ سے مراد انسان کی باطنی زندگی کا مرکز اور ضمیر کا مقام ہے۔ لیکن انسان کا دل گناہ کی وجہ سے بگڑ گیا ہے اور ناپاک ہو گیا ہے۔ یرمیاہ نبی نے فرمایا،
”دل سب چیزوں سے زیادہ دغا باز اور انتہائی بُرا ہے“ (یرمیاہ 17: 9)۔
آپ کے دل کا اندرونی فریب اور شرارت آپ کو حقیقت دیکھنے سے اندھا کر دیتی ہے، اور آپ کو خود فریبی کی حالت میں رکھتی ہے۔
ایسے ہی موقع پر روح القدس کا کردار سامنے آتا ہے۔
”جب وہ آئے گا تو دنیا کو گناہ کے بارے میں قصوروار ٹھہرائے گا“ (یوحنا 16: 8)۔
گنہگاروں کی ایمان کی تبدیلی کا عام طریقہ یہ ہے کہ روح القدس، خدا کے کلام کی منادی کے ذریعے عمل کرتے ہوئے، مسیح میں ایمان نہ لائے ہوئے شخص کی ملامت کرتا ہے، اسے ٹوکتا ہے اور اسے اس کے گناہ کا احساس دلاتا ہے۔ یوحنا 16: 8 پر جنیوا بائبلGeneva Bible کی حاشیے میں غور طلب بات کہتی ہے: ”خدا کی روح کلام کی منادی کے ذریعے اتنی قوت سے کام کرتی ہے کہ وہ دنیا کو... اپنی ناراستی کا اقرار کرنے پر مجبور کر دیتی ہے“ (جنیوا بائبل 1599 ، ٹول لیگے پریس، 2006 دوبارہ اشاعت، یوحنا 16: 8 پر حاشیے میں غور طلب بات)۔ خدا کی روح کا یہ کام، یعنی گناہ کا احساس دلانا اور ملامت کرنا، آپ کے دل میں یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ آپ خدا کی نظر میں ایک گنہگار ہیں۔
یہ محض حقائق کی واقفیت نہیں ہے! یہ انجیل پر محض ایک ذہنی یقین بھی نہیں ہے! ہرگز نہیں! یہ تو آپ کا وہ فریب کار، انتہائی شریر اور دھوکے باز دل ہے جسے خدا کی روح، جو خدا کے کلام کی منادی کے ذریعے عمل پیرا ہوتی ہے، گہرائی تک چیر دیتی ہے؛ یہاں تک کہ آپ کا ضمیر چھلنی ہو جاتا ہے اور آپ کو اس حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ آپ ایک گناہ گار ہیں، اپنے گناہ میں بھٹکے ہوئے ہیں، خود فریبی میں الجھے ہوئے ہیں، اور اپنے ہی دل کی شدید شرارت کے باعث ہلاکت کے دہانے پر کھڑے ہیں!
”جب وہ آئے گا تو دنیا کو گناہ کے بارے میں قصوروار ٹھہرائے گا“ (یوحنا 16: 8)۔
’’اب جب اُنہوں نے یہ باتیں سُنی تو اُن کے دِلوں پر چوٹ لگی …‘‘ (اعمال 2: 37)۔
اور میں کہتا ہوں کہ یہ ’چبھن‘ انتہائی ضروری ہے؛ یہ ایمان کی تبدیلی (توبہ) کا آغاز ہے، اور اس کے بغیر کوئی حقیقی تبدیلی ممکن ہی نہیں، صرف ایک جھوٹی تبدیلی، محض ایک کھوکھلا دعویٰ، اور محض ایک بے جان ’’فیصلہ پرستی‘‘ باقی رہ جاتی ہے۔
’’اب جب اُنہوں نے یہ باتیں سُنی تو اُن کے دِلوں پر چوٹ لگی …‘‘ (اعمال 2: 37)۔
II۔ دوسری بات، دل میں اس چبھن کا نہ ہونا۔
سپرجیئن نے کہا،
اگر یہ کام واقعی دل کی گہرائیوں سے نہ کیا گیا ہو، تو یہ قائم نہیں رہے گا۔ بہت سے لوگوں کے راہِ حق سے ہٹ جانے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی بنیاد ریت پر رکھی تھی؛ یعنی کوئی گہری بنیاد نہیں ڈالی گئی تھی۔ روح کی نجات کا کام، وہ کام جو پائیدار ہوتا ہے، وہ ہے جس میں خدا انسان کے ضمیر میں بہت گہرائی تک ہل چلاتا ہے... یہ ہوتا ہے … مکمل راسخ عقیدے پریقین، نہ کہ محض ایمان کا زبانی دعویٰ، جو آخر تک قائم رہتا ہے۔ اگر کوئی اثر دل میں چبھن پیدا نہ کرے، تو وہ محض عارضی ہوگا؛ اور جب یہ اثر زائل ہو جائے گا تو اس کے برے نتائج نکلیں گے، کیونکہ شاید ایسے لوگوں کو متاثر کرنا سب سے مشکل ہوتا ہے جو بارہا متاثر تو ہوئے، مگر نجات نہ پا سکے... ایک عام اصطلاح میں کہا جائے تو، وہ انجیل کے پیغام کے سامنے سخت دل ہو چکے ہیں؛ اور کسی بھی انسان کا اس حالت تک پہنچ جانا انتہائی تشویشناک امر ہے (سپرجیئن، حوالہ مذکورibid.، صفحات 256-257)۔
خُدا کی روح کے چوٹ لگائے بغیر، ایمان کی کوئی تبدیلی نہیں ہو گی۔ وقت آنے پر خدا آپ سے کہے گا،
”میں اب دوبارہ اِنہیں نہیں چھوڑوں گا“ (عاموس 7: 8؛ 8: 2)۔
اور اُس دن، ضمیر کو چبھنے والا احساس مزید کبھی نہیں ہوگا۔ آپ کا دل ہمیشہ کے لیے پتھر کی مانند ہو جائے گا۔ اور خدا اب آپ کو نہیں چھوڑے گا۔ آپ وہ گناہ کر چکے ہوں گے جس کی معافی ممکن نہیں۔ اب، ہمیشہ کے لیے، خوشخبری ہو جائے گی
’’آپ کی نظروں سے اوجھل‘‘ (لوقا 19: 42)۔
اگر خدا آپ کو ویسا ہی چھوڑ دے جیسے آپ ابھی ہیں، تو آپ کا کیا بنے گا؟ اگر آپ کا ضمیر بیدار نہ ہو، اور آپ کو اپنے گناہوں پر پچھتاوا یا احساسِ جرم نہ ہو، تو پھر آپ کا کیا ہوگا؟ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ کیا ہوگا۔ خدا آپ کو
’’گمراہی [ناپسندیدہ خیالات اور نامناسب حرکات] کا شکار ہونے دے گا‘‘ (رومیوں 1: 28)۔
اور جب خدا آپ کو ایسی گمراہی کے حوالے کر دیتا ہے، تو آپ کا سخت ہو چکا دل
’’اُس روز اپنے حق میں قہر کے لیے غضب کما رہا ہے جب خدا کا سچا انصاف ظاہر ہو گا۔ وہ ہر شخص کو اُس کے اعمال کے مطابق بدلہ دے گا‘‘ (رومیوں 2: 5۔6)۔
جب آپ کے دِل میں مذید اور چوٹ نہیں لگتی ہے تو آپ ایک مُردے کی مانند زندہ بندے کی زندگی گزار رہے ہوں گے،
’’دُںیا میں خدا اور اُمید کے بغیر‘‘ (افسیوں 2: 12)۔
’’اب جب اُنہوں نے یہ باتیں سُنی تو اُن کے دِلوں پر چوٹ لگی …‘‘ (اعمال 2: 37)۔
III. تیسری بات، دل کی اس چبھن کا اثر۔
ان کے دلوں کے چھد جانے کا کیا نتیجہ نکلا؟ اس کا کیا انجام ہوا؟ اس نے انہیں کیا کرنے پر آمادہ کیا؟ تلاوت کا دوسرا حصہ اس کا جواب فراہم کرتا ہے۔
’’اب جب اُنہوں نے یہ باتیں سُنی تو اُن کے دِلوں پر چوٹ لگی اور اُنہوں نے پطرس سے اور باقی رسولوں سے کہا، اے بھائیو، ہم کیا کریں؟‘‘ (اعمال 2: 37)۔
ان کے ضمیروں کے چھیدے جانے نے انہیں چیخنے پر مجبور کر دیا،
’’اے لوگو، ہم کیا کریں؟‘‘ (اعمال 2: 37)۔
کوئی بھی حقیقی جذبوں یا طاقت کے ساتھ اُس وقت تک یہ نہیں کہے گا جب تک کہ اس کے دل میں خُدا کی روح نہ چبھ جائے۔ وہ سوچے گا کہ وہ بالکل جانتا ہے کہ کیا کرنا ہے! وہ سوچے گا کہ وہ جواب جانتا ہے۔ وہ سوچے گا کہ اس نے یہ سب سمجھ لیا ہے۔ وہ سوچے گا، ’’اگر میں صرف یہ، اور یہ کروں گا، تو میں بچ جاؤں گا۔‘‘ صرف جب خُدا کی رُوح کا یقین اُس کے دل کو چھیدتا ہے تو وہ پوری شدت سے پکارے گا،
’’[میں] کیا کروں؟‘‘
ہم انجیل کی تعلیمات کو بار بار دہرا سکتے ہیں، لیکن اس سے آپ کو تب تک کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا جب تک کہ خدا کا روح آپ کے ضمیر کو جھنجھوڑ نہ دے۔ پھر، جب آپ (اس چوٹ سے) گھائل ہوں گے، تب آپ یسوع کے بارے میں ہماری باتیں سنیں گے، کہ کیسے اُس کی موت آپ کے گناہوں کا کفارہ بنی، اور کیسے اُس کا لہو آپ کی غلاظت کو دھو ڈالتا ہے۔ لیکن آپ مسیح کو تھام نہیں سکیں گے، اُس کے آگے سرِ تسلیم خم نہیں کر پائیں گے، اور ہماری باتوں سے آپ کو نجات کی کوئی مدد نہیں ملے گی، جب تک کہ آپ کا دل چھلنی نہ ہو جائے اور آپ اپنے دل اور اپنی زندگی کی عظیم برائی کو پوری وضاحت کے ساتھ محسوس نہ کر لیں۔
’’اب جب اُنہوں نے یہ باتیں سُنی تو اُن کے دِلوں پر چوٹ لگی اور اُنہوں نے پطرس سے اور باقی رسولوں سے کہا، اے بھائیو، ہم کیا کریں؟‘‘ (اعمال 2: 37)۔
بالکل یہی تھا جو پولوس رسول کی مسیح میں ایمان لانے کی تبدیلی میں رونما ہوا تھا۔
’’اُور اُس نے پوچھا، اے خداوند، تو کون ہے؟ اور خداوند نے کہا، میں یسوع ہوں جسے تو ستا رہا ہے: تیرے لیے کانٹوں پر لات مارنا مشکل ہے۔ اور وہ کانپتے ہوئے اور حیران ہو کر بولا، ”اے خداوند، تو کیا چاہتا ہے کہ میں کروں؟“ اور خداوند نے اس سے کہا، اُٹھ اور شہر میں داخل ہو، اور تجھے بتایا جائے گا کہ تجھے کیا کرنا ہے‘‘ (اعمال 9: 5۔6)۔
اس نے کپکپاہٹ اور حیرت سے کہا،
’’خداوند تو کیا چاہتا ہے کہ میں کروں؟‘‘ (اعمال 9: 6)۔
یہی تھا جو فلپی میں نگران کے ساتھ رونما ہوا تھا۔ وہ
”کانپتا ہوا آیا اور پولوس اور سیلاس کے سامنے گر پڑا... اور کہا: جناب! نجات پانے کے لیے مجھے کیا کرنا چاہیے؟“ (اعمال 16: 29۔30)۔
’’اب جب اُنہوں نے یہ باتیں سُنی تو اُن کے دِلوں پر چوٹ لگی اور اُنہوں نے پطرس سے اور باقی رسولوں سے کہا، اے بھائیو، ہم کیا کریں؟‘‘ (اعمال 2: 37)۔
پس، یہ بات واضح ہے کہ آپ کے ضمیر کی یہ خلش آپ کو اس احساس تک لے آئے گی کہ آپ کو ذرا بھی اندازہ نہیں کہ نجات کیسے حاصل کی جائے! یہ آپ کو یہ باور کرائے گی کہ آپ اس بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے۔ تب آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کچھ نہیں جانتے، بلکہ آپ خوشخبری یعنی انجیل سے اتنے ہی ناواقف اور اس کے معاملے میں اتنے ہی نابینا ہیں، جتنا کہ کوئی ایسا غیر قوم شخص جو کبھی گرجا گھر میں نہیں گیا۔ یہ کیفیت آپ کو خدا کے حضور نرم اور سیکھنے کے لیے تیار بنا دے گی۔
شریعت کے ہاتھوں ذبح ہو کر اور خدا کی روح کے ذریعے گہرے گھاؤ کھا کر، آپ عاجزی اور سنجیدگی کے ساتھ آئیں گے اور کہیں گے،
’’اے بھائیو، [میں] کیا کروں؟‘‘ (اعمال 2: 37)۔
IV. چوتھی بات، دل میں اس چبھن کا بنیادی ذریعہ۔
ایسے کئی طریقے ہیں جن سے خُدا کی روح قانون کو گنہگاروں کے دل میں چبھنے کے لیے لاگو کرتی ہے۔ اکثر وہ انہیں کسی خاص گناہ کی یاد دلاتا ہے جو انہوں نے ماضی میں کیا ہے۔ وہ آپ میں ایسا کر سکتا ہے۔ وہ آپ کو کسی ایسی چیز کی یاد دلا سکتا ہے جس سے آپ شرمندہ ہیں، اور اس طرح آپ کے دل کو چبھن ہو سکتی ہے۔
لیکن گہرا چھیدنا اکثر تب ہوتا ہے جب ایک بھٹکا ہوا شخص محسوس کرتا ہے کہ اس کی انتہائی فطرت ہی گناہ ہے۔ پھر اسے یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ
”پاؤں کے تلوے سے لے کر سر تک اس میں کوئی بھی جگہ سلامت نہیں؛ بلکہ زخم، چوٹیں اور سڑتے ہوئے ناسور ہیں۔“ (اشعیا 1: 6)۔
لیکن خدا جس بنیادی طریقے سے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے، وہ وہی طریقہ ہے جو پینتیکوست کے موقع پر پطرس کے واعظ میں نظر آتا ہے۔
’’اب جب اُنہوں نے یہ باتیں سُنی تو اُن کے دِلوں پر چوٹ لگی …‘‘ (اعمال 2: 37)۔
یہ تھا ’’کیا‘‘؟ آیت 36 پر نظر ڈالیں۔
’’اِس لیے اسرائیل کے سارے لوگوں کو معلوم ہو کہ اُسی نے یسوع کو جِسے تم نے صلیب پر چڑھیا، خداوند بھی ٹھہرایا اور مسیح بھی‘‘ (اعمال 2: 36)۔
’’خداوند نے اُسی یسوع کو جِسے تم نے صلیب پر چڑھیا خداوند بھی ٹھہرایا اور مسیح بھی‘‘ (اعمال 2: 36)۔
’’اب جب اُنہوں نے یہ باتیں سُنی تو اُن کے دِلوں پر چوٹ لگی …‘‘ (اعمال 2: 37)۔
ہم ان الفاظ کو بڑی احتیاط کے ساتھ بیان کرتے ہیں، ایسا نہ ہو کہ ہم یہود دشمنی کے گناہ کا جواز یا تائید کرتے دکھائی دیں۔ زیادہ تر لوگ جن سے پطرس نے بات کی تھی ان کا ذاتی طور پر مصلوب کیے گئے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان میں سے زیادہ تر وہ زائرین تھے جو حال ہی میں یروشلم میں پینتیکوست کی عید منانے آئے تھے۔ اور ان میں سے بہت سے متفرق تھے، یہاں تک کہ یہودی والدین کے ہاں پیدا نہیں ہوئے۔ یہ جشن عید فسح کے پچاس دن بعد منایا گیا جب یسوع کو مصلوب کیا گیا۔ تقریباً تمام لوگ جو فسح کے لیے آئے تھے گھر جا چکے ہوں گے۔ لہذا، ان میں سے اکثر لوگ یروشلم میں بھی نہیں تھے جب مسیح کو مصلوب کیا گیا تھا۔ اس وقت بھی، یہ رومی سپاہی تھے، پینطوس پیلاطُس کے ماتحت، جنہوں نے درحقیقت اس کے ہاتھوں اور پیروں میں کیل ٹھونک دیے تھے۔ چنانچہ جب پطرس نے کہا، ’’جسے تم نے مصلوب کیا ہے،‘‘ وہ بہت گہری اور مدلل چیز کی بات کر رہا ہے۔ وہ مسیح کے کفارہ کی بات کر رہا ہے، اور اُس کی مصلوبیت سے تمام بنی نوع انسان کے گناہوں کے کفارے کی بات کر رہا ہے ۔ یوحنا رسول، جو مصلوبیت کا چشم دید گواہ تھا، نے کہا،
’’وہ ہمارے گناہوں کا کفارہ ہے اور نا صرف ہمارے ہی گناہوں کا بلکہ ساری دُنیا کے گناہوں کا کفارہ ہے‘‘ (I یوحنا 2: 2)۔
جیسا کہ اشعیا نے کہا،
’’وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھائل کیا گیا، اور ہماری بداعمالی کے باعث کُچلا گیا: جو سزا ہماری سلامتی کا باعث ہوئی وہ اُس نے اُٹھائی، اور اُس کے کوڑے کھانے سے ہم شفا یاب ہوئے‘‘ (اشعیا 53: 5)۔
اور پولوس رسول نے کہا،
’’جو کوئی اُس پر ایمان لائے گا وہ کبھی شرمندہ نہ ہوئے گا۔ کیونکہ یہودی اور غیر یہودی میں کوئی فرق نہیں اِس لیے کہ ایک وہی سب کا خداوند ہے اور اُن سب کو جو اُس کا نام لیتے ہیں کثرت سے فیض پہنچاتا ہے‘‘ (رومیوں 10: 11۔12)۔
یہی ہے جو پطرس کا مطلب تھا جب اُس نے کہا،
’’خداوند نے یسوع کو جِسے تم نے صلیب پر چڑھیا، خداوند بھی ٹھہرایا اور مسیح بھی‘‘ (اعمال 2: 36)۔
اس نے ان کے ضمیروں کو جھنجھوڑا کیونکہ انہوں نے محسوس کیا کہ یسوع کو اُن کے ذریعے اور اُن کے لیے مصلوب کیا گیا تھا، اور تمام بنی نوع انسان کے لیے بھی۔ مجھے یقین ہے، خواہ کتنی ہی دھیمی ہو، وہ انجیل کی اس سچائی کے بارے میں کچھ آگاہی رکھتے تھے،
’’وہ ہمارے گناہوں کا کفارہ ہے اور نا صرف ہمارے ہی گناہوں کا بلکہ ساری دُنیا کے گناہوں کا کفارہ ہے‘‘ (I یوحنا 2: 2)۔
’’اب جب اُنہوں نے یہ باتیں سُنی تو اُن کے دِلوں پر چوٹ لگی اور اُنہوں نے پطرس سے اور باقی رسولوں سے کہا، اے بھائیو، ہم کیا کریں؟‘‘ (اعمال 2: 37)۔
سپرجیئن نے کہا،
لیکن میرے خیال میں، گناہ گاروں کے دلوں میں کسک پیدا کرنے کے لیے خدا جس اہم ترین وسیلے کو استعمال کرتا ہے، وہ یسوع مسیح کی وہ محبت ہے جس کی خاطر اُس نے جان دی۔ مسیح کی صلیب کی طرح کوئی اور چیز دل کو گھائل نہیں کرتی، بالکل اسی طرح جیسے صلیب کی مانند کوئی اور چیز شفا بھی نہیں دیتی۔ جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یسوع نے، اپنی بے پایاں محبت اور رحم کے باعث، اس زمین پر قدم رکھا، ہمارے گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر اٹھایا... اور ہمارے بدلے کلوری کی صلیب پر اپنی جان دے دی... تو اُس کی طرف دیکھ کر، جسے ہم نے اپنے گناہوں سے چھلنی کیا تھا، ہماری آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں... جی ہاں، لہولہان نجات دہندہ انسانوں کے دلوں کو بھی لہولہان کر دیتا ہے؛ جب وہ چھلنی ہوتا ہے، تو ان کے دل بھی چھلنی ہو جاتے ہیں۔ مجھے ایک بات کا یقین ہے کہ میرے دل کو کسی اور چیز نے اتنا نہیں چھلنی کیا جتنا کہ خدا کی اُس بے کراں محبت کے انکشاف نے، جس کے تحت اُس نے اپنے پیارے بیٹے کو میرے لیے قربان کر دیا... اے زندہ خدا کی روح! یہاں موجود خدا کے چنے ہوئے لوگوں پر ایسی ہی روشنی ڈال! اُن کے دلوں کو اِس طرح گھائل کر دے، اور پھر انہیں اُس گھائل نجات دہندہ کے پاس لے جا؛ اور اُن پر یہ ظاہر کر دے کہ جو کوئی اُس پر ایمان لاتا ہے، اُس سے خدا نے زمان و مکان کے آغاز سے بھی پہلے محبت کی تھی، اور اُس وقت بھی محبت کرتا رہے گا جب وقت کا وجود ہی باقی نہ رہے گا! (سپرجیئن Spurgeon، حوالہ مذکورibid.، صفحات 260-261)۔
مصلوب نجات دہندہ کے خیالات نے پینتیکوست کے دن ان لوگوں کے دلوں کو چھید دیا، اور انہیں آپ کے دل کو بھی چھیدنا چاہیے، جیسا کہ آپ یسوع کے بارے میں سوچتے ہیں کہ آپ کے گناہوں کے لیے، آپ کی جگہ، آپ کے متبادل کے طور پر مر رہا ہے۔ جیسا کہ بوڑھے جان نیوٹن نے اسے اپنے حمدوثنا کے ایک گیت میں تحریر کیا ہے،
میں نے ایک شخص کو صلیب پر لٹکے ہوئےدیکھا
اذیت اور خون میں تر؛
اُس نے اپنی ناتواں [درد سے بھری] آنکھیں مجھ پر ٹکائی ہوئی تھیں
جب میں اُس کی صلیب کے قریب کھڑا تھا۔
کیا وہ ایک صلیب پر تھا،
کہ نجات دہندہ میرے لیے جان دے گیا؟
میری روح جھوم اٹھتی ہے، میرا دل بھر آتا ہے،
یہ سوچ کر کہ وہ میرے لیے جان دے گیا۔
میرے ضمیر نے جرم کو محسوس کیا اور اسے تسلیم کر لیا،
اور مجھے مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیا؛
میں نے دیکھا کہ میرے گناہ نے ہی اُس کا خون بہایا،
اور اُسے صلیب پر کیلوں سے جڑنے میں مدد دی۔
کیا وہ ایک صلیب پر تھا،
کہ نجات دہندہ میرے لیے جان دے گیا؟
میری روح جھوم اٹھتی ہے، میرا دل بھر آتا ہے،
یہ سوچ کر کہ وہ میرے لیے جان دے گیا۔
(’’وہ میرے لیے مرا تھا He Died For Me‘‘ شاعر جان نیوٹن John Newton، 1725۔1807)۔
اگر آپ کا دل اس خیال سے تڑپ اٹھتا ہے کہ یسوع نے آپ کی جگہ موت قبول کی، تاکہ آپ کو گناہ کی ہولناک سزا سے بچا سکے، تو پھر اُس کے پاس آئیں؛ وہاں آپ کو اپنی روح کے لیے سکون ملے گا، اور اپنے زخمی ضمیر کو شفا دینے کے لیے مکمل دوا نصیب ہوگی۔ آپ کے ساتھ ایسا ہی ہو۔ آمین۔
اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔
(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ
www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔
یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
|
لُبِ لُباب ایک چھیدا ہوا دِل (انجیلی بشارت کی تبلیغ پر واعظ # 3) ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے ’’اب جب اُنہوں نے یہ باتیں سُنی تو اُن کے دِلوں پر چوٹ لگی اور اُنہوں نے پطرس سے اور باقی رسولوں سopے کہا، اے بھائیو، ہم کیا کریں؟‘‘ (اعمال 2: 37)۔ I. پہلی بات، دل میں چبھن (یا احساسِ ملامت) کی ضرورت؛ رومیوں 10: 10؛ یرمیاہ 17: 9؛ یوحنا 16: 8۔
II. دوسری بات، دل میں اس چبھن کا نہ ہونا؛ عاموس 7: 8؛ 8: 2؛ لوقا 19: 42؛ III. تیسری بات، دل کی اس چبھن کا اثر؛ اعمال 9: 5۔6؛ 16: 29۔30۔
IV. چوتھی بات، دل میں اس چبھن کا بنیادی ذریعہ؛ اشعیا 2: 36؛ اعمال 2: 36؛ |