Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

بد نصیب دُنیا کی عکاسی

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 41)
PORTRAIT OF A DOOMED WORLD
(SERMON #41 ON THE BOOK OF GENESIS)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز کی جانب سے

.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُدا کے دِن کی صبح، 20 اپریل، 2008
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, April 20, 2008

’’اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی ہے اور اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں‘‘ (پیدائش 6:5).

کلام پاک کے اِس حوالے سے تعلق رکھتے ہوئے انتہائی بے شمار نظریات رہ چکے ہیں۔ سکوفیلڈ مطالعۂ بائبل The Scofield Study Bible (پیدائش6:4 پر غور طلب بات میں) دو سب سے زیادہ قابل ذکر نظریات پیش کرتی ہے۔ میں اِن نظریات کے تمام جُزیات میں نہیں جا رہا ہوں کیونکہ میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ حوالے کے اہم موضوع سے پرے لے جائے گا جو ہے،

’’اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی ہے اور اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں‘‘ (پیدائش 6:5).

کیسے نسل انسانی اِس افسوس ناک حالت میں پہنچی؟ نسل انسانی خُدا کے لیے اِس قدر بیہودہ ہو گئی تھی کہ نسل انسانی کو خُدا عظیم سیلاب میں تباہ کرنے کے قریب ہی تھا۔ لیکن ایسا کیسے ہوا تھا؟ کیسے نسل انسانی اِس قدر بُری طرح سے بدحال ہو چکی تھی؟ میرا یقین ہے کہ پیدائش6:1۔4 میں تین وضاحتیں موجود ہیں۔

I۔ اوّل، ابلیسیت اُن پر حاوی ہو گئی تھی۔

مہربانی سے پیدائش6:1۔2 باآوازِ بُلند پڑھیں۔

’’اور جب رُوئے زمین پر آدمیوں کی تعداد بڑھنے لگی اور اُن کی بیٹیاں پیدا ہُوئیں تو خدا کے بیٹوں نے دیکھا کہ آدمیوں کی بیٹیاں خوبصورت ہیں اور اُنہوں نے جن جن کو چُنا اُن سے بیاہ کرلیا‘‘ (پیدائش 6:1۔2).

میرے خیال میں ڈاکٹر جان ایف۔ والوورد Dr. John F. Walvoord اور ڈاکٹر رُائے بی زُک Dr. Roy B. Zuck کا تبصرہ درست ہے جب وہ کہتا ہے،

وہ خُدا کے بیٹے الہٰی نہیں تھے؛ وہ گرفتِ ابلیس میں تھے۔ اُن کی اتنی عورتوں سے شادیاں کرنا جتنی وہ چاہتے تھے... اُن کی بنیادی جبلت کو تسلی دینا تھا۔ وہ مخلوقات کا محض ایک دوسرا کم تر درجہ تھے، حالانکہ طاقتور تھے اور متاثرینِ ابلیس تھے (جان ایف۔ والوورد، پی ایچ۔ ڈی، John F. Walvoord, Ph.D. اور رُائے بی۔ زُک، ٹی ایچ۔ ڈی Roy B. Zuck, Th.D.، دی بائبل نالج ھینڈبُک The Bible Knowledge Handbook، پرانا عہد نامہ، وکٹر بُکس Victor Books، اشاعت 1985، صفحہ36)۔

مجھے پیدائش6:1۔2 کی وہ ایک سمجھ میں آنے والی وضاحت لگتی ہے۔ جیمیسن Jamieson، فوسٹ Fausset اور براؤن Brown نے کہا کہ یہ تصور کہ ’’خُدا کے بیٹے‘‘ آسمان سے رد کیے ہوئے فرشتے ہیں ’’انتہائی قدیم زمانے کے بارے میں‘‘ ہے جس پر جوزیفس Josephus، یہودی ربّی، اور ابتدائی مسیحی عالمین الہٰیات جیسے جسٹن Justin اور ٹرٹولیعین Tertullian کے ساتھ ساتھ اور زیادہ جدید تبصرہ نگار جیسے ڈاکٹر فرانس ڈیلیٹزشچ Dr. Franz Delitzsch (رابرٹ جیمیسن، پی ایچ۔ ڈی Robert Jamieson, Ph. D.، پرانے اور نئے عہد نامے پر ایک تبصرہ A Commentary on the Old and New Testament، ولیم بی۔ عیئرڈ مینز اشاعتی کمپنی William B. Eerdmans Publishing Company، دوبارہ اشاعت1976، جلد اوّل، صفحہ87)۔ یہی نظریہ ڈاکٹر جان میک آرتھر Dr. John MacArthur نے بھی پیش کیا جوبےشک مسیح کے خون کے بارے میں غلط ہیں، میرے خیال میں درست طور پر کہتے ہیں،

خُدا کے بیٹے [بائبل میں] دوسری جگہ پر تقریباً مکمل طور پر فرشتوں کے طور پر شناخت کیے گئے [ہیں] (ایوب1:6؛ 2:1؛ 38:7)... یہ حوالہ [پیدائش6:1۔2] انسان بمقابلہ فرشتوں کے امتزاج پر شدید زور ڈالتا ہے۔ NT [نیا عہد نامہ] اِس واقعے کو پیدائش کے واقعات کے دوسرے واقعوں کے ساتھ ترتیب میں رکھتا ہے اور اِس کو آسمان سے خارج کیے گئے اُن فرشتوں کے طور پر شناخت کرتا ہے جو لوگوں میں شامل ہونے کے لیے آ بسے تھے۔ (جان میک آرتھر، ڈی۔ڈی۔ John MacArthur, D.D.، میک آرتھر کا مطالعۂ بائبل The MacArthur Study Bible، ورلڈ بائبلز World Bibles، 1997، پیدائش6:2 پر غور طلب بات)۔

میری رائے میں، یہ معاملہ تھا۔ پیدائش 6:2 میں ’’خُدا کے بیٹے‘‘ جیسا کہ والووردWalvoord اور زُک Zuck کا تبصرہ کہتا ہے، ’’گرفتِ ابلیس تھے... اور متاثرین ابلیس تھے‘‘ (ibid.)۔ یوں ہم پہلی وجہ دیکھتے ہیں کہ سیلاب سے پہلے نسل انسانی اِس قدر افسوس ناک حالت میں تھی۔

’’ اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی ہے اور اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں‘‘ (پیدائش 6:5).

کیا اِس کا اِطلاق ہمارے زمانے میں کہیں پر ہوتا ہے؟ میں یقین کرتا ہوں کہ ہوتا ہے۔ یسوع نے کہا،

’’جیسا نوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24: 37).

انسان شروع سے ہی شیطان کے اثر کے تحت تابع رہا ہے۔ پولوس رسول ہمیں بتاتا ہے کہ شیطان

’’نے اُن بے اعتقادوں کی عقل کو اندھا کردیا ہے‘‘ (2۔ کرنتھیوں 4:4).

یوں، ’’اُن کے لیے جو کھوئے ہوئے ہیں‘‘ خوشخبری پوشیدہ ہے (2۔ کرنتھیوں4:3)۔ پولوس رسول نے اِس بارے میں بھی بتایا

’’ہوا کی عملداری کے حاکم شیطان کی پیروی کرتے تھے جس کی رُوح اب تک نافرمان لوگوں میں تاثیر کرتی ہے‘‘ (افسیوں 2:2).

یہ حوالے اُن میں جو غیر تبدیل شُدہ ہیں شیطان کے اندھے کر دینے والے اور اسیری میں مبتلا کر دینے والے اعمال کے لیے حوالہ پیش کرتے ہیں۔ مگر بائبل کی پیشن گوئیاں کہ ایسی شیطانی سرگرمیاں اِس زمانے کے خاتمے پر بڑھ جائیں گی،

’’اور اِس سبب سے خدا اُن پر گمراہی کا ایسا اثر ڈالے گا کہ وہ جھوٹ کو سچ تسلیم کرنے لگیں گے۔ اور جو لوگ سچائی کا یقین نہیں کرتے بلکہ ناراستی کو پسند کرتے ہیں وہ سب سزا پائیں گے‘‘ (2۔ تھسلنیکیوں 2:11۔12).

ہم تاریخ میں اُسی دور میں زندگی گزارتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ پہلے کے مقابلے میں شیطان اور زیادہ سرگرم عمل ہے۔

’’جیسا نوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

بدی کے اِن دِنوں میں، آپ کو مکمل طورپر مسیح کی جانب رُخ کرنا چاہیے، اُس کو اپنے نجات دہندہ کے طور پر قبول کرنا چاہیے، اور مقامی گرجہ گھر کی مکمل رُکنیت میں آنا چاہیے، جیسا کہ نوح کشتی میں داخل ہوا تھا۔ صرف مسیح ہی آپ کو بچا سکتا ہے۔ آنے والے فیصلے سے بچنے کا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

’’ اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی ہے اور اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں‘‘ (پیدائش 6:5).

سیلاب سے پہلے کے دِنوں میں، ابلیسی سرگرمیاں انتہائی حدوں پر پہنچی ہوئی تھیں، لوگوں کے ذہنوں کو اندھا کر رہی تھیں، اور اُنہیں شیطانی اسیری میں گھسیٹ رہی تھیں۔ سیلاب سے پہلے نسل انسانی کی ہولناک حالت کے لیے یہ حوالہ ہمیں پہلی وجہ پیش کرتا ہے۔ وہ ابلیسیت اُن پر حاوی ہو گئی تھی۔

II۔ دوئم، اُنہوں نے پاک روح کے کاموں کی مخالفت کی تھی۔

مہربانی سے پیدائش6:3 باآواز بُلند پڑھیں۔

’’اور خداوند نے کہا میری روح انسان کے ساتھ ہمیشہ مزاحمت نہ کرتی رہے گی کیونکہ وہ فانی ہے۔ اُس کی عمر ایک سو بیس برس کی ہوگی‘‘ (پیدائش6:3).

ڈاکٹر ھنری ایم۔ مورس Dr. Henry M. Morris نے کہا،

حوالے کی سب سے زیادہ قدرتی آیت خُدا کے پاک روح کی’’گناہ، راستبازی اور انصاف کی دُنیا کو مجرم قرار دینے‘‘ کے بارے میں اُس کی منادی میں ہے (یوحنا16:8)۔ جیسے جیسے دقیانوسی دُنیا کا اخلاقی اور روحانی کردار بگڑ رہا تھا، خاص طور پر [پیدائش6:1۔2 میں] پہلے ہی بیان کیے گئے ابلیس کے قبضے کو ماننے سے، یہ واضح ہو جاتا تھا کہ لوگ اِصلاح سے بہت پرے اِس قدر مایوسانہ طور پر بدکار ہو گئے تھے۔ وہ مکمل اور ناقابل تنسیخ طور پر روح کی گواہی کی مزاحمت کرچکے تھے... خُدا ہمیشہ سے ہی شدید تکلیف میں رہا ہے، یہاں تک کہ اِس قدر ناخوشگوار حالات میں جیسے کہ نوح کے دِنوں میں قائم ہو چکے تھے (1 پطرس3:20)۔ حالانکہ سب نے اُس کو مسترد کیا، اُس نے پھر بھی نوع انسانی کو محض اِس اِمکان کی روشنی میں 120 سال کی عمر عطا کی کہ شاید کچھ لوگ ’’توبہ کے لیے آ جائیں‘‘ (2پطرس3:9)۔ یہ معقول وقت سے زیادہ تھی (ھنری ایم۔ مورس، پی ایچ۔ ڈی۔ Henry M. Morris, Ph.D.، پیدائش کا ریکارڈ The Genesis Record، بیکر بُک ہاؤس Baker Book House، 1986 ایڈیشن، صفحات170۔171)۔

سیلاب سے پہلے پاک روح کی سرگرمی کے بارے میں ڈاکٹر جے ورنن میکجی کی عظیم بصیرت تھی۔ اُنہوں نے کہا،

ہم یقین رکھتے ہیں کہ نوح نے 120 سالوں تک تبلیغ کی تھی، اور اُس وقت کے دوران خُدا کا روح لوگوں کے ساتھ جدوجہد کر رہا تھا۔ پطرس اِس کو انتہائی واضح کرتا ہے کہ ماضی میں نوح کے دِنوں میں خُدا کا روح لوگوں کے ساتھ جدوجہد کر رہا تھا کہ وہ شاید اُنہیں خُدا کی طرف رجوع کروا سکے – لیکن اُنہوں نے رُخ نہیں پھیرا تھا... (1 پطرس3:18۔19)۔ یہ روحیں قید میں تھیں جب پطرس نے لکھا تھا، مگراِن کو نوح کے دِنوں میں تبلیغ کی گئی تھی۔ ہمیں اِس بارے میں کیسے پتہ چلتا ہے؟ [1 پطرس3:20] 20ویں آیت پڑھیں، ’’یہ اُن لوگوں کی روحیں ہیں جنہوں نے نوح کے زمانے میں خُدا کی نافرمانی کی تھی۔ حالانکہ خُدا نے صبر کر کے اُنہیں توبہ کرنے کا موقع بخشا تھا۔ اُس وقت نوح کشتی تیار کر رہا تھا جس میں صرف آٹھ اشخاص سوار ہو کر پانی سے صحیح سلامت بچ نکلے تھے۔‘‘ وہ کب نافرمان تھے؟ نوح کے زمانے میں خُدا کے صبر کے دوران – اُن 120 سالوں کے دوران (جے۔ ورنن میکجی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن پبلیشرزThomas Nelson Publishers، 1981، جلد اوّل، صفحات36۔37)۔

یوں، نوح کے زمانے کے لوگوں نے سرزد کیا تھا جس کو اب ہم ’’ناقابل معافی گناہ‘‘ کہتے ہیں۔ پیدائش6:3 سے تعلق رکھتے ہوئے، ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice نے کہا،

ایک ناقابل معافی گناہ؟ جی ہاں، اور حتٰی کہ آج بھی، بِلا شُبہ روح بُلاتا ہے اور بُلاتا ہے۔ لیکن ایک دِل شاید خُدا کے خلاف اِس قدر تیار ہو جاتا ہے اور اُس کے میٹھے اصرار پر اب کوئی تیار نہیں ہوتا اور یوں اُس وقت سے پرے نکل جاتا ہے جس میں وہ کبھی بچایا جا سکتا تھا۔ خُدا نہیں بدلتا ہے، لیکن جب یہ ممکن ہی نہیں رہ جاتا کہ کسی کو بچایا جا سکے، تو خُدا کا روح اپنا بُلانا چھوڑ دیتا ہے: کلام پاک کہتا ہے، ’’میری روح ہمیشہ تک انسان کے ساتھ مزاحمت نہ کرتی رہے گی۔‘‘ (جان آر۔ رائس، ڈی۔ڈی۔ John R. Rice, D.D.، آغاز میں In the Beginning، خُداوند کی تلوار پبلیشرز Sword of the Lord Publishers، 1975، صفحہ 190)۔

اِن الفاظ میں ایک بہت بڑی تنبیہہ ہے، ’’میری روح ہمیشہ تک انسان کے ساتھ مزاحمت نہ کرتی رہے گی‘‘ (پیدائش6:3)۔ ڈاکٹر رائس نے اپنے مشہور گیتوں میں سے ایک میں اِس تنبیہہ کو انتہائی واضح طور پر بتایا:

آپ نے نہایت بے رُخی سے انتظار کیا، میسح کو انتہائی آرام سے مسترد کیا،
   آپ نے کافی عرصے اور ہولناک طور پر گناہ کیے، آپ کا دِل اِس قدر غلط ہے؛
اوہ، اگر خُدا کا صبر لبریز ہو گیا، تو پیاری روح کو ٹھیس پہنچتی ہے،
   اگر وہ مزید آپ کو نہیں بلاتا ہے، تو جب وہ چلا جائے گا تباہی آپ کا نصیب ہوگی۔
پھر کس قدر اُداس کردینے والے بغیر رحم کے فیصلے کی آپ کو یاد آئے گی،
   جس کو آپ نے طوالت دی اور لٹکایا جب تک کہ روح چلی نہ گئی؛
اب کیا ماتم کرنا اور لعن طعن کرنی، جب موت ہی اگر آپ کو نااُمید پاتی ہے،
   آپ نے بہت طوالت دی اور لٹکایا اور بہت زیادہ انتظار کیا ہے۔
(’’اگر آپ بہت زیادہ طوالت دیتے ہیں If You Linger Too Long‘‘ شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice، 1895۔1980)۔

جی ہاں، اُنہوں نے بہت زیادہ انتظار کیا۔ اُنہوں نے پاک روح کے کاموں کے ساتھ مزاحمت کی۔ وہ شیطان کے ذریعے سے اندھے ہی بنے رہے۔ لیکن ہماری تلاوت کی ایک تیسری وضاحت ہے،

’’ اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی ہے اور اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں‘‘ (پیدائش 6:5).

III۔ سوئم، وہ آسمان سے ٹھکرائی ہوئی مخلوقات تھیں۔

مہربانی سے پیدائش6:4 باآواز بُلند پڑھیں۔

’’اُن دِنوں مں زمین پر بڑے قدآور اور مضبوط لوگ موجود تھے بلکہ بعد میں بھی تھے جب خدا کے بیٹے اِنسانوں کی بیٹیوں کے پاس گئے اور اُن سے اولاد پیدا ہُوئی۔ یہ قدیم زمانہ کے سورما اور بڑے نامور لوگ تھے‘‘ (پیدائش 6:4).

یہ اُن انتہائی چند جگہوں میں سے ایک ہے کہ میں سوچتا ہوں کنگ جیمس بائبل کو صفائی کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہاں پر عبرانی لفظ ’’نفلیّم nephilim‘‘ کا ترجمہ ’’دیوقامت giants‘‘ کیا گیا ہے۔ یہ اِس لیے ہے کیونکہ کنگ جیمس بائبل کے ترجمانوں نے پرانے عہد نامے کے قدیم ترین یونانی ترجمے [Septuagint] کے ’’نیفلیم nephilim‘‘ سے ’’دیوہیکل gigantes‘‘ پر انحصار کیا تھا۔ لیکن اصلی عبرانی لفظ ’’نیفلیم nephilim‘‘ یہ اشارہ نہیں دیتا کہ سیلاب سے پہلے وہ دیوہیکل لوگ تھے۔ میرے خیال میں ڈاکٹر ھنری ایم۔ مورس Dr. Henry M. Morris نے اِس کا کیا مطلب ہوتا ہے کی ایک واضح تصویر پیش کی جب اُنہوں نے کہا،

عبرانی میں لفظ نیفیلیم nephilim ہے اور فعل نفعالnaphal (’’رد کیے ہوئے یا گِِرے ہوئے fall‘‘) سے آتا ہے۔ حالانکہ کچھ تبصرہ نگار رائے دیتے ہیں کہ لفظ کا مطلب ہوتا ہے ’’وہ جو آ پڑے تھے‘‘ – یعنی کہ، ’’حملہ آور‘‘ – مذید بہتر قدرتی اور ممکنہ مطلب ہے ’’وہ جو گناہ میں گِرچکے ہیں یا وہ جو مسترد کیے جا چکے ہیں‘‘ (ھنری ایم۔ مورس، پی ایچ۔ڈی۔ Henry M. Morris, Ph.D.، ibid.، صفحہ172)۔

غورکریں کہ ’’نفیلیم nephilim‘‘ ابلیسیت کے داخلے سے پہلے وجود رکھتے تھے،

’’اُن دِنوں میں [نوح کے زمانے میں] زمین پر بڑے قدآور اور مضبوط لوگ [نفیلیم nephilim – مسترد کیے ہوئے fallen ones‘] موجود تھے اور بعد میں بھی تھے جب خدا کے بیٹے اِنسانوں کی بیٹیوں کے پاس گئے اور اُن سے اولاد پیدا ہُوئی۔ یہ قدیم زمانہ کے سورما اور بڑے نامور لوگ بنے تھے‘‘ (پیدائش 6:4).

ڈاکٹر میکجی نے کہا،

وہ غیر معمولی انسان نہیں تھے؛ وہ لوگ تھے۔ یہاں پر ریکارڈ انتہائی واضح کرتا ہے کہ [’’آسمان سے گِرے ہوئے یا مسترد کیے ہوئے‘‘] اِس کے [پیدائش 6:2] رونما ہونے سے پہلے زمین میں تھے، اور اِس کا سادہ سا مطلب ہوتا ہے کہ یہ بچے قابل ذکر افراد تھے (جے۔ ورنن میکجی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، ibid.)۔

میں یقین کرتا ہوں کہ ’’نیفیلیم nephilim‘‘ محض انسان کی اُس کی گناہ میں گری ہوئی حالت کے بارے میں بات کرتے ہیں – وہ ’’جو گناہ میں گِرے ہوئے‘‘ تھے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ کہنا ضرورت سے کہیں زیادہ عجیب اور دلچسپ ہوگا، جیسا کہ کچھ کرتے ہیٰں، کہ یہ لوگ دیو قامت درندے تھے، لیکن میں پیدائش 6:4 مں اِس کے لیے کوئی جواز تلاش نہیں کر سکا ہوں۔ تاہم، بائبل میں ہم بہت سی جگہوں پرباغ عدن میں انسان کے گناہ میں گرنے کے بارے میں بتاتے ہوئے پا سکتے ہیں۔ بائبل کہتی ہے،

’’ایک آدمی کے ذریعہ گناہ دنیا میں داخل ہُوا‘‘ (رومیوں 5:12).

آرتھر ڈبلیو۔ پنک Arthur W. Pink نے کہا،

آدم نے معاملات خود اپنے ہاتھوں میں لے لیے، خُدا سے بغاوت کی اور اُس [خُدا] کے قانوں کو اپنے پیروں تلے روندا... اپنے سربراہ [آدم] کے گناہ کے ذریعے سے [انسانی] نسل تباہ ہو گئی تھی اور انتہائی ہولناک اخلاقی چھوت کی حالت میں گِر گئی تھی۔ ہماری گناہ میں گِری ہوئی دُنیا ہے؛ خُدا اور بزرگی کے مخالف، بدکرداری اُس میں بکثرت، موت اِس پر حکومت کر رہی ہے، ھوس اور جرم اُس کی کردار سازی کر رہے ہیں، مصائب اور بدحالی اِس کو بھر رہے ہیں (آرتھر ڈبلیو۔ پنک Arthur W. Pink، کلام پاک سے ذخیرۂ معلومات: انسان کی مکمل خباثت Gleanings From the Scriptures: Man’s Total Depravity، موڈی پریس Moody Press، 1981 ایڈیشن، صفحہ 46)۔

یہ گناہ میں گِری ہوئی ایک نسل کی تصویر ہے جو ہمیں ہماری تلاوت میں پیش کی گئی،

’’ اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی ہے اور اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں‘‘ (پیدائش 6:5).

نسل انسانی اُس وقت کے مقابلے میں اب بھی اتنی مختلف نہیں ہے۔ انسان اپنی گنہگار فطرت کی بدولت خُدا سے کٹ چکا ہے، اپنے دِل میں خُدا کی شدت کے ساتھ مخالفت کرتا ہوا، اور مستقبل میں ایک خوف سے بھرپور فیصلے کی بدقسمتی میں گھرتا ہوا۔ اِسی لیے یسوع مسیح اِس دُنیا میں آیا۔ بائبل کہتی ہے،

’’مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا‘‘ (1۔ تیموتاؤس 1:15).

مسیح صلیب پر آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے مرا تھا۔ وہ مُردوں میں سے آپ کو زندگی دینے کے لیے جی اُٹھا تھا۔ مسیح کی طرف مُڑیں اور وہ آپ کو بچائے گا، اور اپنے قیمتی خون سے آپ کے گناہوں کو دھو ڈالے گا۔

ایسے وقتوں کے دوران تمہیں ایک نجات دہندہ کی ضرورت ہوتی ہے،
ایسے وقتوں کے دوران تمہیں ایک رابطہ کار کی ضرورت ہوتی ہے؛
انتہائی یقین کرو، انتہائی یقین کرو
تمہارا رابطہ کار مضبوط چٹان کو گرفت میں کیے اور اُٹھائے ہوئے ہے!
یہ چٹان یسوع ہے، جی ہاں، یہ وہی ایک ہے؛
یہ چٹان یسوع ہے، وہی تنہا واحد!
انتہائی یقین کرو، انتہائی یقین کرو
تمہارا رابطہ کار مضبوط چٹان کو گرفت میں کیے اور اُٹھائے ہوئے ہے!
(’’ایسے وقتوں کے دوران In Times Like These‘‘ شاعر رُوتھ کائی جونز Ruth Caye Jones، 1944)۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت ڈاکٹر کرھیٹن ایل۔ چعین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: پیدائش6:1۔5 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’ایسے وقتوں کے دوران In Times Like These‘‘ (شاعر رُوتھ کائی جونز Ruth Caye Jones، 1944)۔

لُبِ لُباب

بد نصیب دُنیا کی عکاسی

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 41)
PORTRAIT OF A DOOMED WORLD
(SERMON #41 ON THE BOOK OF GENESIS)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز کی جانب سے

.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی ہے اور اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں‘‘ (پیدائش 6:5).

I.   ابلیسیت اُن پر حاوی ہو گئی تھی؛ متی24:37؛
2۔ کرنتھیوں 4:4، 3؛ افسیوں2:2؛ 2۔ تسالونیکیوں2:11۔12 .

II.  دوئم، اُنہوں نے پاک روح کے کاموں کی مخالفت کی تھی، پیدائش6:3؛
یوحنا16:8؛ 1۔ پطرس3:20؛ 2۔ پطرس3:9 .

III. ۔سوئم، وہ آسمان سے ٹھکرائی ہوئی مخلوقات تھیں، پیدائش6:4؛ رومیوں5:12؛
1۔ تیموتاؤس 1:15 .