اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔
واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔
جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔
دوبارہ جی اُٹھا! جی اُٹھنے کے بعد یسوع مسیح کے ظہور!ALIVE AGAIN! THE POST-RESURRECTION APPEARANCES OF JESUS CHRIST! ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے ’’اور یہ یوں لکھا ہوا ہے، اور کہ مسیح دُکھ اُٹھائے گا اور تیسرے دِن مُردوں میں سے جی اُٹھے گا‘‘ (لوقا 24: 46)۔ |
یہ ہے جو مسیح نے کہا تھا جب وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا۔ حالانکہ میں اُن کی لکھی ہوئی پر بات کی تصدیق نہیں کرتا، مجھے نئے عہد نامے کے دورِ حاضرہ کے دو نئے عالمین ڈاکٹر والٹر اے ایلویل Dr. Walter A. Elwell اور ڈاکٹر رابرٹ ڈبلیو یاربروھ Dr. Robert W. Yarbrough کے ذریعے سے پیش کیا گیا یہ بیان پسند ہے،
کوئی بھی [اِس واقعے] کو مکمل طور پر سمجھنے کا دکھاوا نہیں کرتا، لیکن بعض باتیں واقعی میں شدید تر اہمیت کے طور نمایاں ہو جاتی ہیں اگر ہمیں [اِس واقعے] کا اِدراک کرنا پڑے۔ پہلی بات یسوع کی انفرادیت ہے۔ وہ محض کوئی دوسرا مذہبی رہنما نہیں ہے، محمد، بُدھا یا موسیٰ کے برابر یا یہاں تک کہ بہتر ہو۔ وہ خود ایک درجہ بندی میں آتا ہے۔ ابتدائی مومنین اسے بیان کرنے کے لیے اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں ڈھونڈ سکتے تھے کہ وہ اسے، ’’بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خداوند‘‘ کہیں، درحقیقت خود خدا کہیں۔ اگرچہ غیرمتزلزل یا غیر متبدلانہ طور پر توحید پرست تھے، لیکن انہوں نے ایسا کرنے میں عذر پیش کرنا محسوس کیا کیونکہ یسوع نے خود ایسے دعوے کیے تھے اور انہیں صرف وہی یسوع یاد تھا جس نے انہیں مکمل اختیار کے ساتھ تعلیم دی تھی، جس کی کبھی بھی کسی بندے نے بات نہیں کی۔
دوسری بات، یسوع کی کہانی شروع سے لیکر آخر تک مافوق الفطرت ہے۔ واقعات میں سے اِس عنصر کو ہٹانے کی کوئی سی بھی کوشش اُنہیں مکمل طور پر تباہ کر دیتی ہے۔ کہانی، خدا، فرشتوں، آسیبوں، شیطان، معجزاتی واقعات، الہٰی شفایابیوں، پاک روح اور وقت کے ساتھ ابدی وسعتوں کے حوالوں سے بھری پڑی ہے۔ ساری چاروں اناجیل یسوع مسیح کی زندگی کے بے شمار منفرد واقعات کے انتہائی تانے بانوں پر مشتمل ہیں، اُس کا تبدل [صورت کا بدل جانا]، اُس کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا، اور اُس کا آسمان میں اُٹھایا جانا۔ یہ کوئی قدیم طِلسماتی کہانیاں نہیں ہیں بلکہ تاریخی حقیقتیں ہیں، وہ بنیاد جن پر مسیحی ایمان تعمیر ہوتی ہے۔ اِنہیں نکال دیں تو کوئی مسیحی ایمان باقی نہیں بچتا۔
تیسری … اگر ہم ایمان میں ثابت قدم رہیں گے تو ہم اُس ہی طرح نئے لوگ بن جائیں گے جو وہ لوگ بنے تھے جو یسوع کو جانتے تھے جب وہ زمین پر موجود تھا وہ لوگ جو بدل گئے تھے جب اُنہوں نے اپنے دِل اُس کے حوالے کر دیے تھے۔ جاننے کا دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ درحقیقت کون تھا۔
چوتھی بات، یسوع کی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ موت اختتام نہیں ہوتی ہے … بالکل جیسے یسوع نے قبر کی قوت کو شکست دی تھی، اُس ہی طرح جب ہم اُس میں یقین کرتے ہیں تو موت کی قوت ہم پر سے ٹوٹ جاتی ہے۔ اُس [نے مارتھا سے کہا]، ’’قیامت اور زندگی میں ہوں، جو مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ مرنے کے بعد بھی زندہ رہے گا اور جو کوئی زندہ ہے اور مجھ پر ایمان لاتا ہے کبھی نہ مرے گا‘‘ (یوحنا 11: 25۔26)۔ یہ غیرمعمولی الفاظ ہیں، لیکن یہ ہی وعدہ ہے۔ چونکہ یسوع زندہ ہے، وہ جو اُس پر بھروسہ کرتے ہیں اُس کے ساتھ ہمیشہ کی زندگی جئیں گے۔
آخر میں، درج بالا باتیں بالکل سچی ہیں کیوں کہ آخری نکتہ سچا ہے – کہ یسوع زندہ ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ وہ اب عمر کے آخر تک ہمارے ساتھ رہے گا… وہی یسوع جو گلیل کے ساحلوں پر چلتا تھا، جو بیماروں کو اُس کی بیماریوں سے شفا بخشتا تھا [اور] گنہگاروں کو اُن کے قصور معاف کرتا تھا (والٹر اے۔ ایلویل، پی ایچ۔ ڈی۔ Walter A. Elwell, Ph.D.، اور رابرٹ ڈبلیو یاربروھ، پی ایچ۔ ڈی۔ Robert W. Yarbrough, Ph.D.، نئے عہدنامے کا سامنا کرنا Encountering the New Testament، بیکر بُکس، 1998، صفحات 134۔135)۔
اور یوں آج کی صبح ہم یسوع مسیح کے جسمانی طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھنے پر آتے ہیں۔ جب وہ جی اُٹھا، یسوع نے کہا،
’’پس یوں لکھا ہوا ہے، مسیح دُکھ اُٹھائے گا اور تیسرے روز مُردوں میں سے جی اُٹھے گا‘‘ (لوقا 24: 46)۔
ڈاکٹر اے ٹی رابرٹسن نے کہا،
[جی اُٹھے مسیح کے] ظاہر ہونے کی پانچ واقعات اُس کے مُردوں میں سے جی اٹھنے کے دِن پیش کیے گئے ہیں، اور پانچ بعد میں اُس کے [اگلے] چالیس دِنوں کے دوران پیش کیے گئے ہیں۔ اِس دِن وہ پانچ ظہور [ایسٹر کے اِتوار] تھے (1) مریم مگدلین کو (یوحنا اور مرقس کو)؛ (2) اُن دوسری عورتوں کو (متی)؛ (3) اُن دو کو جو عاموس کی راہ پر تھے؛ (4) شمعون پطرس کو (لوقا 24: 34)؛ (5) دس رسولوں اور دوسروں کو (اے ٹی رابرٹسن، ڈی۔ ڈی۔ A. T. Robertson, D.D.، اناجیل میں ہم آھنگی A Harmony of the Gospels، ہارپر اور رو Harper and Row، پبلیشرز، اشاعت 1950)، صفحات 172)۔
1. پہلا واقعہ، یسوع ایسٹر کے اتوار صبح سویرے مریم مگدلین پر ظاہر ہوا تھا:
’’ہفتہ کے پہلے دِن صبح سویرے جب کہ اندھیرا ہی تھا مریم مگدلینی قبر پر آئی۔ اُس نے یہ دیکھا کہ قبر کے مُنہ پر سے پتھر ہٹا ہوا اے۔ تب وہ دوڑتی ہوئی شمعون پطرس اور اُس دوسرے شاگرد کے پاس پہنچی جو یسوع کا چہیتا تھا اور کہنے لگی: وہ خداوند کو قبر میں سے نکال کر لے گئے ہیں اور پتا نہیں اُسے کہاں رکھ دیا ہے۔ یہ سُںتے ہی پطرس اور دوسرا شاگرد قبر کی طرف چل دیے۔ دونوں دوڑے جا رہے تھے لیکن وہ دوسرا شاگرد پطرس سے آگے نکل گیا اور اُس سے پہلے قبر پر جا پہنچا۔ اُس نے جُھک کر اندر جھانکا اور سوتی کپڑے پڑے دیکھے لیکن اندر نہیں گیا۔ اُس دوران پطرس بھی پیچھے پیچھے وہاں پہنچ گیا اور سیدھا قبر میں داخل ہو گیا۔ اُس نے دیکھا کہ وہاں سوتی کپڑے پڑے ہوئے ہیں اور کفن کا وہ رومال جو یسوع کے سر پر لپیٹا گیا تھا سوتی کپڑوں سے الگ ایک جگہ تہہ کیا ہوا پڑا تھا۔ تب وہ دوسرا شاگرد بھی جو قبر پر پہلے پہنچا تھا اندر داخل ہوا۔ اُس نے بھی دیکھ کر یقین کیا۔ کیونکہ وہ ابھی تک پاک کلام کی اِس بات کو سمجھ نہ پائے تھے جس کے مطابق یسوع کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا لازمی تھا۔ تب یہ شاگرد واپس اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ لیکن مریم قبر کے باہر کھڑی ہوئی رو رہی تھی۔ روتے روتے اُس نے جُھک کر قبر کے اندر نظر کی تو وہاں اُسے دو فرشتے دکھائی دئیے جو سفید لباس میں تھے اور جہاں یسوع کی لاش رکھی گئی تھی وہاں ایک کو سرہانے اور دوسرے کو پینتیانے بیٹھے دیکھا۔ اُنہوں نے مریم سے پوچھا: اے عورت! تو کیوں رو رہی ہے؟ اُس نے اُن سے کہا، کیونکہ وہ میرے خداوند کو اُٹھا کر لے گئے ہیں اور پتا نہیں اُسے کہاں رکھ دیا ہے۔ یہ کہتے ہی وہ پیچھے مُڑی اور وہاں یسوع کو کھڑا دیکھا لیکن پہچان نہ سکی کہ وہ یسوع اے۔ یسوع نے کہا: اے خاتون! تو کیوں رو رہی ہے؟ تو کسے ڈھونڈتی ہے؟ مریم نے سمجھا کہ شاید وہ باغبان ہے اِس لیے کہا: میاں اگر تو نے اُسے یہاں سے اُٹھایا ہے تو مجھے بتا کہ اُسے کہاں رکھا ہے تاکہ میں اُسے لے جاؤں۔ یسوع نے اُس سے کہا: مریم! وہ اُس کی طرف مُڑی اور عبرانی زبان میں بولی: ربّونی (جس کا مطلب ہے ’’اے میرے اُستاد)! یسوع نے کہا: مجھے چھو مت کیوںکہ میں ابھی باپ کے پاس اوپر نئیں گیا بلکہ جا اور میرے بھائیوں کو بتا کہ میں اپنے باپ اور تمہارے باپ، اپنے خدا اور تمہارے خدا کے پاس اوپر جا رہا ہوں۔ مریم مگدلینی نے شاگردوں کے پاس آ کر اُنہیں خبر دی کہ میں نے خداوند کو دیکھا ہے اور اُس نے مجھ سے یہ باتیں کیں‘‘ (یوحنا 20: 1۔18)۔
2. دوسرا واقعہ، یسوع کچھ دوسری عورتوں پر ظاہر ہوا جو خالی قبر پر آئی تھیں:
’’اور جوں ہی وہ عورتیں شاگردوں کو بتانے کے گئیں، دیکھو، یسوع اُن سے آن مِلا اور کہنے لگا، سب پر سلام۔ اور اُنہوں نے پاس آ کر اُس کے پاؤں پکڑ لیے اور اُسے سجدہ کیا۔ تب یسوع نے اُن سے کہا، ڈرو مت، جاؤ اور میرے بھائیو سے کہوکہ گلیل کے لیے روانہ ہو جائیں۔ اور وہ مجھے وہاں دیکھیں گے‘‘ (متی 28: 9۔10)۔
3. تیسرا واقعہ، یسوع عاموس کی راہ پر دو لوگوں پر ظاہر ہوا تھا:
’’اِس کے بعد یسوع ایک دوسری صورت میں اُن میں سے دو آدمیوں پر جب وہ دیہات کی طرف چلے جا رہے تھے ظاہر ہوا۔ اُنہوں نے لوٹ کر باقی لوگوں کو بتایا لیکن اُنہوں نے بھی اُن کا یقین نہ کیا‘‘ (مرقس 16: 12۔13)۔
4. چوتھا واقعہ، یسوع شمعون پطرس پر ظاہر ہوا:
’’اور تب وہ اُسی گھڑی اُٹھے اور یروشلم واپس آئے جہاں اُنہوں نے گیارہ رسولوں اور اُن کے ساتھیوں کو ایک جگہ اِکٹھے پایا۔ وہ کہہ رہے تھے: خداوند سچ مچ جی اُٹھا ہے اور شمعون کو دکھائی دیا ہے۔ اُن دونوں نے راستے کی ساری باتیں بتائیں اور یہ بھی کہ اُنہوں نے کس طرح یسوع کو روٹی توڑتے وقت پہچان لیا‘‘ (لوقا 24: 33۔35)۔
5. پانچواں واقعہ، یسوع رسولوں میں سے دس پر ظاہر ہوا، جن کے ساتھ تھوما نہیں تھا:
’’اور ابھی وہ یہ باتیں کہہ ہی رہے تھے کہ یسوع خود ہی اُن کے درمیان آن کھڑا ہوا اور اُن سے کہا، تمہاری سلامتی ہو۔ لیکن وہ اِس قدر ہراساں اور خوفزدہ ہو گئے کہ سمجھنے لگے کہ وہ کسی روح کو دیکھ رہے ہیں۔ یسوع نے اُن سے کہا، تم کیوں گھبرائے ہوئے ہو اور تمہارے دِلوں میں شکوک کیوں پیدا ہو رہے ہیں؟ میرے ہاتھ اور پاؤں دیکھو، میں ہی ہوں۔ مجھے چھو کر دیکھو کیوں کہ روح کی ہڈیاں ہی ہوتی ہیں اور نہ گوشت جیسا تم مجھ میں دیکھ رہے ہو۔ یہ کہنے کے بعد یسوع نے اُنہیں اپنے ہاتھ اور پاؤں دکھائے لیکن خوشی اور حیرت کے مارے اُنہیں یقین نہیں آ رہا تھا۔ لہٰذا یسوع نے اُن سے کہا: یہاں تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ اُنہوں نے اُسے بُھنی ہوئی مچھلی کا قتلہ پیش کیا۔ اُس نے لیا اور اُن کے روبرو کھایا‘‘ (لوقا 24: 36۔43)۔
6. چھٹا واقعہ، ایسٹر کے اِتوار کی رات تھوما وہاں پر نہیں تھا۔ اگلے اِتوار کی رات کو تھوما دوسرے شاگردوں کے ساتھ تھا،
’’ایک ہفتہ بعد [شام 6:00 بجے کے بعد، جو یہودیوں کے حساب سے ایک دن کا آغاز ہوا، لیکن پھر بھی رومی حساب سے اتوار ہی ہو گا۔ تو یہ وہی ہوگا جسے ہم اتوار کی رات کہتے ہیں] یسوع کے شاگرد ایک مرتبہ پھر سے اُسی جگہ موجود تھے اور تھوما بھی اُن کے ساتھ تھا۔ اگرچہ دروازے بند تھے اور یسوع آ کر اُن کے بیچ میں کھڑا ہو گیا اور اُن سے کہا، تم پر سلام۔ پھر اُس نے تھوما سے کہا، اپنی انگلی لا اور میرے ہاتھوں کو دیکھ اور اپنا ہاتھ بڑھا اور میری پسلی کو چھو، شک مت کر بلکہ اعتقاد رکھ۔ تھوما نے اُس سے کہا، اے میرے خداوند اے میرے خدا! یسوع نے اُس سے کہا توُ تو مجھے دیکھ کر مجھ پر ایمان لایا، مبارک ہیں وہ جِنہوں نے دیکھا بھی نہیں پھر بھی ایمان لائے‘‘ (یوحنا 20: 26۔29)۔
7. ساتواں واقعہ، اگلے بہت سے دنوں کے دوران، شاگردوں میں سے سات واپس گلیل کے سفر پر گئے، اور تبریاس کی جھیل میں مچھلیاں پکڑ رہے تھے (جسے گلیل کی جھیل بھی کہا جاتا ہے)، جب یسوع ساحل پر ظاہر ہوا،
’’یسوع نے اُن سے کہا، آؤ کچھ کھا لو۔ شاگردوں میں سے کسی کو بھی جرأت نہ ہوئی کہ پوچھے کہ تو کون ہے؟ وہ جانتے تھے کہ وہ خداوند ہی ہے۔ یسوع نے آ کر روٹی لی اور اُنہیں دی اور مچھلی بھی دی۔ یسوع مُردوں میں سے زندہ ہو جانے کے بعد تیسری مرتبہ شاگردوں پر ظاہر ہوا‘‘ (یوحنا 21: 12۔14)۔
8. آٹھواں واقعہ، اِس عرصہ کے دوران، یسوع گلیل کے ایک پہاڑ پر پانچ سو سے زائد لوگوں پر ظاہر ہوا،
’’اس کے بعد، وہ بیک وقت پانچ سو سے زائد بھائیوں کو دکھائی دیا؛ جن میں سے زیادہ تر اس وقت زندہ ہیں، لیکن بعض البتہ مر چکے ہیں‘‘ (1 کرنتھیوں 15: 6)۔
’’تب گیارہ شاگرد گلیل گئے اور اُس پہاڑ پر جمع ہوئے جہاں یسوع نے اُنہیں جانے کی ہدایت کی تھی۔ جب اُنہوں نے یسوع کو دیکھا تو سجدہ کیا لیکن بعض کو ابھی تک شک تھا۔ لیکن یسوع اُن کے پاس آیا اور اُن سے کہنے لگا: مجھے آسمان اور زمین پر پورا اِختیار دے دیا گیا ہے۔ اِس لیے تم جاؤ اور ساری قوموں کو شاگرد بناؤ اور اُنہیں باپ، بیٹے اور پاک روح کے نام سے بپتسمہ دو۔ اور اُنہیں یہ تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جن کا میں نے تمہیں حکم دیا ہے اور دیکھو! میں دُںیا کے آخر تک تمہارے ساتھ ہوں۔ آمین‘‘ (متی 28: 16۔20)۔
9. نواں واقعہ، وہ خود اپنے سوتیلے بھائی یعقوب پر بھی ظاہر ہوا تھا،
’’اُس کے بعد، وہ یعقوب کو دکھائی دیا‘‘ (I کرنتھیوں 15: 7)۔
10. دسواں واقعہ، چالیس دِنوں کے اِختتام پر، یسوع شاگردوں پر ظاہر ہوا،
’’اور، اُن کے ساتھ ایک جگہ اِکٹھے جمع ہونے پر، اُنہیں تاکید کی کہ یروشلم سے باہر نہ جانا اور میرے باپ کے اُس وعدہ کے پورا ہونے کا انتظار کرنا جس کا ذکر تم مجھ سے سُن چکے ہو۔ اِس لیے تم تھوڑے دِنوں کے بعد پاک روح کا بپتسمہ پاؤ گے جب کہ یوحنا پانی سے بپتسمہ دیتا تھا۔ پس جب وہ ایک جگہ جمع تھے تو اُنہوں نے اُس سے پوچھا: خداوند! کیا تُو اِسی وقت اسرائیل کو پھر سے اُس کی بادشاہی عطا کرنے والا ہے؟ اُس نے اُن سے کہا: جِن وقتوں اور میعادوں کو مقرر کرنے کا اِختیار صرف آسمانی باپ کو ہے اُنہیں جاننا تہمارا کام نہیں۔ لیکن جب پاک روح تم پر نازل ہو گا تو تم قوت پاؤ گے اور یروشلم اور تمام یہودیہ اور سامریہ میں بلکہ زمین کی اِنتہا تک میرے گواہ ہو گے۔ اِن باتوں کے بعد وہ اُن کے دیکھتے دیکھتے اُوپر اُٹھا لیا گیا اور بدلی نے اُسے اُن کی نظروں سے چُھپا لیا۔ جب وہ ٹکٹکی باندھے اُسے آسمان کی طرف جاتے ہوئے دیکھ رہے تھے تو دیکھو دو مرد سفید لباس میں اُن کے پاس آ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے گلیلی آدمیو! تم کھڑے کھڑے آسمان کی طرف کیوں دیکھ رہے ہو؟ یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اُٹھایا گیا ہے، اِسی طرح پھر آئے گا جس طرح تم لوگوں نے اُسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے‘‘ (اعمال 1: 4۔11)۔
11. گیارہواں واقعہ، وہ پولوس رسول پر دمشق کی راہ پر(اعمال 9: 3۔6؛ I کرنتھیوں 15: 8) اور ہیکل میں ظاہر ہوا تھا (اعمال 22: 17۔21؛ 23: 11)۔
12. بارھواں واقعہ، وہ یروشلم سے باہر، اِستیفانُس پر ظاہر ہوا (اعمال 7: 55)، اور پِطمس کی راہ پر یوحنا پر ظاہر ہوا (مکاشفہ 1: 10۔19)۔
مضبوط ترین ثبوتوں میں سے ایک کہ جن لوگوں نے جی اُٹھے مسیح کو دیکھا تھا یہ ہے کہ اُن تمام نے یہ منادی کرنے کے لیے کہ اُنہوں نے اُسے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد دیکھا تھا شہیدوں کی حیثیت سے مرنا پڑا۔ صرف یوحنا شہادت سے بچ پایا، اُسے کھولتے ہوئے تیل میں ڈال دیا گیا تھا، لیکن وہ بمشکل ہی ایسا کر پایا تھا۔
یعقوب، خداوند کے سوتیلے بھائی، کو 100 فٹ سے زیادہ اُونچی ہیکل کی چوٹی سے پھینک دیا گیا تھا اور پھر اسے یہ تبلیغ کرنے پر لاٹھیوں سے مارا گیا تھا کہ اس کا بھائی مردوں میں سے جی اٹھا ہے۔
یسوع کے ایک اور سوتیلے بھائی یہودہ کو اس بات سے انکار کرنے پر تیروں سے مار دیا گیا کہ یسوع، اس کا سوتیلا بھائی، مردوں میں سے جی اٹھا ہے۔
زبیدی کے بیٹے یعقوب کا یروشلم میں سر قلم کر دیا گیا۔ یعقوب کی حفاظت کرنے والا رومی سپاہی حیرانی سے سن رہا تھا جب یعقوب نے اپنے مقدمے میں مسیح کے جی اٹھنے کے بارے میں بتایا تھا۔ بعد میں، وہ رومی سپاہی یعقوب کے ساتھ پھانسی کی جگہ تک چلا گیا۔ سپاہی یقین کے ساتھ اس قدر مغلوب ہوا کہ اس نے منصف کے سامنے جی اٹھے مسیح میں اپنے ایمان کا اعلان کیا، اور شہادت قبول کرنے کے لیے یعقوب کے ساتھ گھٹنے ٹیک دیے، اور یعقوب کے ساتھ ہی ایک مسیحی کی حیثیت سے سر قلم کر دیا گیا۔ یعقوب کا سر قلم یسوع کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی منادی کرنے پر کیا گیا تھا۔
متی ایتھوپیا میں شہادت کا شکار ہوا، تلوار کے زخم سے مارا گیا، کیونکہ اس نے مسیح کے جی اٹھنے کی منادی کی تھی۔
مرقس اسکندریہ میں مارا گیا، گھوڑوں کے ذریعے گلیوں میں گھسیٹا گیا یہاں تک کہ وہ مر گیا، کیونکہ اس نے بھی یسوع کے جی اٹھنے کی منادی کی تھی۔
لوقا کو یونان میں یسوع کے جی اٹھنے کی منادی کرنے پر گلے میں پھندہ ڈال کر لٹکا کر مارا گیا۔
یوحنا کو ایذارسانیوں کی لہر کے دوران ابلتے ہوئے تیل کے ایک کڑہائے میں زندہ جلا دیا گیا تھا، کیونکہ اس نے مسیح کے جی اٹھنے کی منادی کی تھی۔ وہ معجزانہ طور پر زندہ بچ گیا، لیکن اپنی باقی زندگی کے لیے خوفناک طور پر زخموں کا نشان رہا۔ بعد میں اسے مسیح کے جی اٹھنے کی منادی کرنے پر جزیرہ پطمس پر جلاوطنی میں بھیج دیا گیا، جہاں وہ 90 سال کی عمر میں انتقال کر گیا۔ اسے یسوع مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے کی منادی کرنے کے لیے اذیت دی گئی اور جلاوطن کر دیا گیا۔
پطرس کو X کی شکل کی صلیب پر الٹا مصلوب کیا گیا تھا، کیونکہ اس نے ان لوگوں کو جنہوں نے اسے مارا تھا کہا کہ وہ اسی طرح مرنے کے لائق نہیں تھا جس طرح یسوع مرا۔ اُنہوں نے پطرس کو یسوع مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے کی منادی کرنے پر مار ڈالا گیا۔
برتلمائی، جسے نتھانی ایل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایشیا کے رومن صوبے کا ایک مشنری تھا۔ یسوع کے جی اٹھنے کی منادی کرنے پر اسے کوڑے مار مار کر مارا گیا تھا۔
تھوما نے پہلے تو مسیح کے مُردوں میں سے جی اٹھنے پر شک کیا، لیکن پھر وہ جی اٹھے نجات دہندہ سے ملا۔ اسے ہندوستان میں مسیح کے جی اٹھنے کی منادی کرنے پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔
متیاس، رسول جسے غدار یہوداہ کی جگہ لینے کے لیے چنا گیا تھا، جی اٹھے یسوع کی منادی کرنے پر سنگسار کیا گیا اور پھر سر قلم کر دیا گیا۔
برناباس کو سلونیکا میں یسوع جسمانی طور پر مردوں میں سے جی اُٹھا ہے کی منادی کرنے پر سنگسار کر دیا گیا تھا۔
پولوس کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور آخر کار روم میں بُرے شہنشاہ نیرو نے سر قلم کر دیا۔ پولوس نے ایک طویل قید کو برداشت کیا۔ جب وہ جیل میں تھا تو پولوس نے جیل میں مُراسلے لکھے۔ مسز ہائیمرز اور میں چند سال قبل روم میں واقع مامرٹائن جیل میں ایک سیڑھی سے نیچے اس کوٹھڑی میں گئے تھے جہاں پولوس کو رکھا گیا تھا جب اس نے تیموتاؤس کو I اور II مُراسلہ لکھا تھا۔ پولوس کو اس تاریک جیل کے تہ خانے سے نکالا گیا اور نیرو کے ذریعہ اس کا سر قلم کر دیا گیا کیونکہ اُس نے مسیح کی جسمانی طور پر مردوں میں سے جی اُٹھنے کی تعلیم دی تھی اور منادی کی تھی۔
ان تمام رسولوں نے مسیح کے جی اٹھنے کی منادی کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں۔ یسوع کے مردوں میں سے جی اٹھنے کے بعد، ان رسولوں نے ہر جگہ منادی کی، ’’ہم نے خداوند کو دیکھا ہے‘‘ (یوحنا 20: 25)۔ وہ سب اس بات کا اعلان کرتے ہوئے مر گئے کہ پطرس اور یوحنا نے کیا کہا جب انہیں مسیح کے جی اٹھنے کی تبلیغ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
’’ہم وہ باتیں نہیں کہہ سکتے جو ہم نے دیکھی اور سنی ہیں‘‘ (اعمال 4: 20)۔
اُنہوں نے مسیح کو اُس کے جی اُٹھنے کے بعد پہچانا، اور ’’دُکھ سہنے کے بعد اُس نے اپنے زندہ ہو جانے کے کئی قوی ثبوت بھی بہم پہنچائے اور وہ چالیس دِن تک اُنہیں نظر آتا رہا‘‘ (اعمال 1: 3)۔ انہیں ان چیزوں کے بارے میں بولنے سے روکا نہیں جا سکتا تھا جو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی تھیں۔
آپ جی اٹھنے والے مسیح کو بھی جان سکتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے جانا تھا۔ جیسا کہ ڈاکٹر ایلویل اور ڈاکٹر یاربرو نے کہا، ’’اگر ہم ایمان میں ثابت قدم رہیں گے تو ہم اُس ہی طرح نئے لوگ بن جائیں گے جو وہ لوگ بنے تھے جو یسوع کو جانتے تھے جب وہ زمین پر موجود تھا وہ لوگ جو بدل گئے تھے جب اُنہوں نے اپنے دِل اُس کے حوالے کر دیے تھے۔ جاننے کا دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ درحقیقت کون تھا۔‘‘
مریم نے اسے دیکھا، اور ’’آقا!‘‘ پکارا،
جب وہ قبر سے آیا۔
اچانک یسوع ان کے درمیان کھڑا ہو گیا،
تنگ بند کمرے میں داخل ہوا۔
وہ جو مر چکا تھا دوبارہ جی اُٹھا ہے!
وہ جو مر چکا تھا دوبارہ جی اُٹھا ہے!
موت کے مضبوط برفیلے شکنجے کو توڑ ڈالا –
وہ جو مر چکا تھا دوبارہ جی اُٹھا ہے!
پطرس نے اسے ساحل پر دیکھا،
وہاں اس کے ساتھ سمندر کے کنارے کھانا کھایا۔
کبھی مُردہ ہوئے ہونٹوں کے ساتھ یسوع باتیں کر رہا تھا،
’’پطرس، کیا تو مجھ سے محبت کرتا ہے؟‘‘
وہ جو مر چکا تھا دوبارہ جی اُٹھا ہے!
وہ جو مر چکا تھا دوبارہ جی اُٹھا ہے!
موت کے مضبوط برفیلے شکنجے کو توڑ ڈالا –
وہ جو مر چکا تھا دوبارہ جی اُٹھا ہے!
تھوما نے وہاں کمرے میں اُسے پہچانا تھا،
اُس کو اپنا آقا اور خُداوند کہا،
سوراخوں میں اپنی انگلیوں کو ڈالا
جو کیلوں اور تلوار سے بنے تھے۔
وہ جو مر چکا تھا دوبارہ جی اُٹھا ہے!
وہ جو مر چکا تھا دوبارہ جی اُٹھا ہے!
موت کے مضبوط برفیلے شکنجے کو توڑ ڈالا –
وہ جو مر چکا تھا دوبارہ جی اُٹھا ہے!
(’’دوبارہ جی اُٹھاAlive Again‘‘ شاعر پال ریڈر Paul Rader ، 1878۔1938)۔
اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔
(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ
www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔
یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔