Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


حقیقی مسیحیت – ایسٹر کا ایک پیغام

REAL CHRISTIANITY – AN EASTER MESSAGE
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 23 مارچ، 2008
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, March 23, 2008

’’اور اگر مسیح زندہ نہیں ہُوا ہوتا، تو تمہارا ایمان بے فائدہ ہوتا اور تُم ابھی تک اپنے گناہوں میں گرفتار ہوتے‘‘ (1۔ کرنتھیوں 15:17).

آج کی شام میں ’’حقیقی مسیحیت‘‘ کے موضوع پر بات کرنے جا رہا ہوں۔ آج ہمارے ہاں بہت بڑے پیمانے پر جعلی مسیحیت اور دھوکے بازی والی مسیحیت ہے۔ آپ کیسے نقلی میں سے اصلی کا بتا سکتے ہیں؟ یہ آج کی شام میرا موضوع ہے۔ میں آپ کو چار حقیقی باتیں پیش کرنے جا رہا ہوں جو خالص بائبلی مسیحیت کے بارے میں سچی ہیں۔

I۔ پہلی بات، اصلی مسیحیت تعلیم دیتی ہے کہ مسیح واقعی میں مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا۔

1۔ کرنتھیوں میں اِس حوالہ کا تمام کا تمام متن آشکارہ کرتا ہے کہ پولوس رسول مسیح کے بدن کے واقعی میں جسمانی طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ جن سیمنریوں میں مَیں نے پڑھائی کی اُن میں سے ایک سیمنری میں ایک آزاد خیال پروفیسر تھا جنہوں نے کہا کہ یسوع شاگردوں کے ذہنوں میں مُردوں میں سے زندہ ہوا تھا۔ یہ کہنے کا ایک چالباز طریقہ ہے کہ اُس کا بدن واقعی میں جی نہیں اُٹھا تھا، وہ صرف ’’شاگردوں کے ذہنوں میں ‘‘ زندہ ہوا تھا۔ لیکن حقائق کے سامنے یہ بات غلط ہے۔ درحقیقت شاگردوں نے ’’اپنے ذہنوں میں‘‘ یقین کیا ہی نہیں تھا کہ یسوع مُردوں میں سے زندہ ہو چکا ہے جب تک کہ بعد میں اُنہوں نے اُس کو واقعی میں دیکھ نہ لیا۔ صرف جب اُنہوں نے اُس کو دیکھ لیا اور چھو لیا تب آخرکار، ہچکچاتے ہوئے اُنہوں نے یقین کیا کہ اُس کا بدن مُردوں میں سے زندہ ہو چکا ہے۔ تمام مسیحی مذہب اِس حقیقت پر قائم ہے کہ یسوع دراصل قبر میں سے جسمانی طور پر جی اُٹھا تھا۔ صرف جیسے اُس کے پیروکاروں نے مسیح کو دیکھا، اور مسیح کا سامنا کیا، وہ بالاآخر قائل ہو گئے تھے کہ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا۔ اور یہ کہ وہ کوئی روح نہیں تھی جو زندہ ہو گئی تھی۔ بالکل بھی نہیں۔ جب اپنے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد یسوع اپنے گیارہ شاگردوں پر ظاہر ہوا تھا، اُس نے کہا،

’’تمہاری سلامتی ہو۔ لیکن وہ اِس قدر ہراساں اور خوف زدہ ہو گئے کہ سمجھنے لگے کہ وہ کسی رُوح کو دیکھ رہے ہیں۔ یسوع نے اُن سے کہا، تُم کیوں گھبرائے ہُوئے ہو اور تمہارے دلوں میں شکوک کیوں پیدا ہو رہے ہیں؟ میرے ہاتھ اور پاؤں دیکھو، میں ہی ہُوں۔ مجھے چھُو کر دیکھو کیونکہ رُوح کی ہڈیاں ہی ہوتی ہیں اور نہ گوشت جیسا تُم مجھ میں دیکھ رہے ہو۔ یہ کہنے کے بعد اُس نے اُنہیں اپنے ہاتھ اور پاؤں دکھائے‘‘ (لوقا 24:36۔40).

وہ اُس کے ہاتھوں اور پیروں میں صلیب دیے جانے کی وجہ سے پڑنے والے کیلوں کے نشانات دیکھ سکتے تھے۔ اُس نے تو یہاں تک کہ شاگرد توما سے کہا، ’’اپنی اُنگلی لا اور میرے ہاتھوں کو دیکھ اور اپنا ہاتھ بڑھا اور میری پسلی کو چھو، شک مت کر بلکہ اعتقاد رکھ‘‘ (یوحنا20:27)۔

کلام پاک کی یہ آیات ظاہر کرتی ہیں کہ یسوع واقعی میں جسمانی طور پرقبر میں سے مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا۔ اور یہاں اِس حقیقت سے پھرنے کی کوئی راہ نہیں ہے کہ اُس گوشت اور ہڈیوں کا بدن خود مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا۔ یسوع کا جسمانی بدن قبر میں مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا جہاں اُنہوں نے اُس کو دفنایا تھا، وہ قبر جس کو مہربند کیا جا چکا تھا، جس کی نگرانی دِن اور رات رومی نگران کر رہے تھے۔ لیکن یسوع جی اُٹھا اور اُن بندھنوں کو توڑ ڈالا اور جسمانی طور پر باہر آیا، مُردوں میں سے زندہ ہو کر۔

وہ میرا پہلا نکتہ ہے۔ ہم یسوع مسیح کے جسمانی طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھنے پر محض اِس لیے یقین رکھتے ہیں کیونکہ یہ ہی ہے جو چاروں اناجیل کا ریکارڈ ہمیں بتاتا ہے۔ ہمیں کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ لاکھوں لوگوں کا اُس ہی دِن سے یقین رہا ہے جس دِن مسیح کا بدن قبر میں سے زندہ ہو کر چل کر باہر نکلا تھا۔ باقی ہر ایک بات سچی مسیحیت میں چاروں اناجیل کے ریکارڈ پر کھڑی ہوتی ہے یا گِر جاتی ہے، جو ہمیں بتاتی ہیں کہ وہ جی اُٹھا تھا۔ مسیح کے جسمانی طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے معجزے کو ہٹا دیں اور مسیحی پیغام کے لیے کوئی بھی بنیاد نہیں بنتی۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ مسیح کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا اور کے بدن کا واقعی میں مُردوں میں سے جی اُٹھنا تھا۔ وہ ایک روح نہیں تھی؛ وہ اب ایک جیتا جاگتا انسان تھا جو مُردوں میں سے زندہ ہو چکا تھا۔ یہی مسیحی ایمان کی بنیادی سچائی ہے۔ ہم یسوع مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے میں یقین رکھتے ہیں! پولوس رسول نے اِس بات کو واضح کیا جب اُس نے ہماری تلاوت میں کہا،

’’اور اگر مسیح زندہ نہیں ہُوا ہوتا تو تمہارا ایمان بے فائدہ ہوتا اور تُم ابھی تک اپنے گناہوں میں گرفتار ہوتے‘‘ (1۔ کرنتھیوں 15:17).

II۔ دوسری بات، اصل مسیحیت تعلیم دیتی ہے کہ مسیح واقعی میں صلیب پر گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے قربان ہوا تھا۔

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ یسوع مسیح واقعی میں ہمارے گناہوں کی ادائیگی کے لیے ایک تبدلیاتی موت مرا تھا۔ بائبل کہتی ہے،

’’کتابِ مقدس کے مطابق مسیح ہمارے گناہوں کے لیے قُربان ہُوا‘‘ (1۔ کرنتھیوں 15:3).

مسیح واقعی میں صلیب پر قربان ہوا تھا، حقیقی گنہگاروں کے حقیقی گناہوں کی ادائیگی کے لیے۔ اِس کے علاوہ، اُس نے صلیب پر اصلی خون بہایا تھا حقیقی گنہگاروں کو حقیقی گناہوں سے پاک صاف کرنے کے لیے۔ یہ محض کوئی خوبصورت کہانیاں یا قصے نہیں ہیں، یہ حقائق ہیں، اور یہ اصلی حقائق ہیں۔ مسیح کی ہماری جگہ پر اِس اصلی تبدلیاتی موت کے بارے میں اِن اصلی حقائق میں یقین رکھیں، اور اُس کے خون کی پاک صاف کر دینے والی قدرت میں ایمان لائیں، اور آپ نجات پا لیں گے۔ اُنہیں مسترد کریں اور آپ مجرم قرار دیے جائیں گے۔ یہ انتہائی حقیقی ہے، اور انتہائی انتہائی اہم ہے۔ خود یسوع نے کہا،

’’جو ایمان لائے … نجات پائے گا لیکن جو ایمان نہ لائے وہ مجرم قرار دیا جائے گا‘‘ (مرقس 16:16).

آپ کے دائمی نصیب کا اِنحصار یسوع کی موت، آپ کو گناہ سے نجات دلانے، اور پھر حقیقی ایمان کے ساتھ اُس کے پاس آنے اور اُس یسوع کو اپنا دِل اور زندگی بخشنے کے بارے میں اِن اصلی حقائق میں یقین کرنے پر ہے۔ تب آپ واقعی میں نجات پا لیں گے۔

III۔ تیسری بات، اصلی مسیحیت تعلیم دیتی ہے کہ آپ کو حقیقت میں مسیح پر ایمان لا کر تبدیل ہونے کی ضرورت پڑتی ہے۔

ہم یقین کرتے ہیں کہ آپ کو مسیح کے بارے میں فقط اِن حقائق سے کہیں بہت زیادہ ایمان لانا چاہیے۔ محض اُن حقائق میں یقین کرنے کے مقابلے میں یہاں اِس بارے میں اور بہت کچھ ہے۔ آپ کو مسیح کے پاس آنا چاہیے اور اصلیت میں جیتے جاگتے مسیح کا سامنا کرنا چاہیے، اور یوں حقیقت میں مسیح پر ایمان لا کر تبدیل ہونا چاہیے۔ کوئی بھی جھوٹی تبدیلی قبول نہیں کی جاتی۔ آپ کو جس بات کی ضرورت ہے وہ مسیح میں حقیقی ایمان لا کر تبدیل ہونے کی ہے، اور آپ اِسے پا سکتے ہیں اگر آپ اپنے تکبر اور تعصب کو ایک طرف رکھ دیں اور یسوع کے پاس جائیں، جیتے جاگتے مسیح کے ساتھ روبرو سامنا کرنے کے وسیلے سے، جو اب خُدا کے داہنے ہاتھ پر آسمان میں ہے۔ مسیح میں حقیقی طور پر ایمان لا کر تبدیل ہونے کے لیے کسی متبادل کو قبول مت کریں۔ تمام متبادل آپ کو نجات دلانے میں ناکام ہو جائیں گے۔ یسوع نے کہا،

’’سچی بات تو یہ ہے کہ اگر تم تبدیل نہ ہوئے … تُم آسمان کی بادشاہی میں ہرگز داخل نہ ہوگے‘‘ (متی 18:3).

مسیح پر ایمان لانے کی ایک حقیقی تبدیلی میں کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ اِس ہی لیے آپ کو مسیح یسوع میں ایمان لانے کی ایک حقیقی تبدیلی کو تلاش کرنا چاہیے۔ اگر آپ کی مسیح میں ایمان لا کر تبدیلی جھوٹی ہوتی ہے تو آپ جہنم کے شعلوں میں ابدیت تک کے لیے اپنی جان کو کھو دیں گے، جس کے بارے میں یسوع نے کئی مرتبہ چاروں اناجیل میں بتایا۔ یسوع نے کہا،

’’تُم سب کو نئے سرے سے پیدا ہونا لازمی ہے‘‘ (یوحنا 3:7).

نیا جنم مسیح پر ایمان لا کر تبدیل ہونے کا دوسرا رُخ ہے۔ آپ کو نیا جنم لینا چاہیے اور مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونا چاہیے، ورنہ آپ ایک حقیقی مسیحی نہیں ہو سکتے چاہے آپ کتنی ہی دعائیں مانگیں اور گرجا گھر میں عبادت کے لیے جائیں۔ اُس میں سے کچھ بھی آپ کی بالکل بھی مدد نہیں کرے گا جب تک کہ آپ سچے طور پر نیا جنم نہیں لیتے اور مسیح پر ایمان لا کر تبدیل نہیں ہوتے، مسیح میں ایمان لانے کی ایک حقیقی تبدیلی کے وسیلے سے۔

IV۔ چوتھی بات، اصلی مسیحیت تعلیم دیتی ہے کہ ایک شخص جو واقعی میں مسیح پر ایمان لا کر تبدیل ہوا ہوتا ہے ایک اصلی مسیحی زندگی گزارے گا۔

آپ صرف ایک اصلی مسیحی زندگی اپنے مسیح پر ایمان لا کر تبدیل ہو چکنے کے بعد ہی گزار سکتے ہیں۔ آپ مسیح پر ایمان لائے بغیر بھی مذہبی ہو سکتے ہیں، لیکن اِس میں سے کچھ بھی آپ کے لیے حقیقی نہیں ہوگا جب تک کہ مسیح کے پاس نہیں جاتے، خود کو اُس کے حوالے نہیں کرتے، اور دائمی زندگی نہیں پاتے، ایک نئی زندگی، جو آپ کو مقامی کلیسیا میں ایک حقیقی مسیحی زندگی بسر کرنے کے لیے اہل بنا ڈالے گی۔ جی ہاں، ہم یقین رکھتے ہیں کہ آپ مسیح پر ایمان لا کر تبدیل ہونے کا تجربہ کر چکنے کے بعد ہی صرف اصلی مسیحی زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ یسوع نے کہا،

’’جو بیٹے پر ایمان لاتا ہے وہ ہمیشہ کی زندگی پاتا ہے۔ لیکن جو بیٹے کو ردّ کرتا ہے وہ زندگی سے محروم ہو کر خدا کے غضب میں مبتلا رہتا ہے‘‘ (یوحنا 3:36).

میرے پیارے دوستو، یہ حقیقی باتیں ہیں، وہ باتیں جو آپ کو دِل میں بیٹھا لینی چاہیے، اور حقیقت کی حیثیت سے گلے سے لگا لینی چاہیے، اگر آپ وراثت میں ایک دائمی زندگی چاہتے ہیں۔ اور یہ سب اُس ہی وقت شروع ہوتا ہے جب آپ واقعی میں یقین کرتے ہیں کہ یسوع مسیح حقیقت میں مُردوں میں سے جسمانی طور پر جی اُٹھا تھا۔ ہماری تلاوت نے کہا،

’’اور اگر مسیح زندہ نہیں ہُوا ہوتا تو تمہارا ایمان بے فائدہ ہوتا اور تُم ابھی تک اپنے گناہوں میں گرفتار ہوتے‘‘ (1۔ کرنتھیوں 15:17).

’’اگر مسیح زندہ نہیں ہوا ہوتا تو تمہارا ایمان بے فائدہ ہوتا [بے فائدہ، دو کوڑی کا]۔‘‘ یہ میری دعا ہے کہ آپ اپنی زندگی کی بے قدری کو دیکھ پائیں گے اگر آپ جی اُٹھے مسیح کے پاس نہیں آتے اور اُس پر بھروسہ نہیں کرتے اپنے تمام دِل کے ساتھ۔ ایسا کریں، اور باقی تمام نکات خود منکشف ہو جائیں گے، اور آپ مسیح پر ایمان لا کر تبدیل ہو جائیں گے، اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ ایک حقیقی مسیحی بن جائیں گے۔ کاش مُردوں میں سے جی اُٹھا مسیح آپ کی زندگی اور آپ کی جان میں ایک جیتی جاگتی اصلیت بن جائے۔ جیسا کہ پرانے زمانے کے مبشرِ انجیل پال ریڈر Paul Rader نے اِس کو تحریر کیا، اپنے گیتوں میں سے ایک میں،

مریم نے اُس کو دیکھا، اور پکار اُٹھی ’’مالک‘‘، اُس کے قبر میں سے نکل آنے کے بعد؛
اچانک یسوع اُن کے درمیان میں کھڑا ہوا تھا، سختی سے بند کمرے کے اندر۔
وہ جو مر چکا تھا دوبارہ جی اُٹھا ہے! وہ جو مر چکا تھا دوبارہ جی اُٹھا ہے!
موت کے مضبوط برفیلے شکنجے کو توڑ ڈالا – وہ جو مر چکا تھا دوبارہ جی اُٹھا ہے!

پطرس نے اُس کو وہاں ساحل پر دیکھا تھا،وہاں سمندر کے ساحل پر اُس کے ساتھ کھانا کھایا تھا؛
یسوع کہہ رہا تھا، اُن ہونٹوں کے ساتھ جو کبھی مُردہ تھے، پطرس، کیا تو مجھ سے پیار کرتا ہے؟
وہ جو مر چکا تھا دوبارہ جی اُٹھا ہے! وہ جو مر چکا تھا دوبارہ جی اُٹھا ہے!
موت کے مضبوط برفیلے شکنجے کو توڑ ڈالا – وہ جو مر چکا تھا دوبارہ جی اُٹھا ہے!

تھوما نے وہاں کمرے میں اُسے پہچانا تھا، اُس کو اپنا آقا اور خُداوند کہا،
سوراخوں میں اپنی انگلیوں کو ڈالا جو کیلوں اور تلوار سے بنے تھے۔
وہ جو مر چکا تھا دوبارہ جی اُٹھا ہے! وہ جو مر چکا تھا دوبارہ جی اُٹھا ہے!
موت کے مضبوط برفیلے شکنجے کو توڑ ڈالا – وہ جو مر چکا تھا دوبارہ جی اُٹھا ہے!
     (’’دوبارہ جی اُٹھاAlive Again‘‘ شاعر پال ریڈر Paul Rader، 1878۔1938)۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک میں سے تلاوت ڈاکٹر کرھیٹن ایل۔ چعین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: لوقا 24:36۔43 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’دوبارہ جی اُٹھاAlive Again‘‘ (شاعر پال ریڈر Paul Rader، 1878۔1938)۔

لُبِ لُباب

حقیقی مسیحیت – ایسٹر کا ایک پیغام

REAL CHRISTIANITY – AN EASTER MESSAGE

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’اور اگر مسیح زندہ نہیں ہُوا ہوتا، تو تمہارا ایمان بے فائدہ ہوتا اور تُم ابھی تک اپنے گناہوں میں گرفتار ہوتے‘‘ (1۔ کرنتھیوں 15:17).

I.   پہلی بات، اصلی مسیحیت تعلیم دیتی ہے کہ مسیح واقعی میں مُردوں میں سے جی اُتھا تھا، لوقا 24:36۔40؛ یوحنا 20:27۔

II.  دوسری بات، اصلی مسیحیت تعلیم دیتی ہے کہ مسیح واقعی میں صلیب پر گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے قربان ہوا تھا، 1۔ کرنتھیوں 15:3؛ مرقس 16:16۔

III. تیسری بات، اصلی مسیحیت تعلیم دیتی ہے کہ آپ کو حقیقت میں مسیح پر ایمان لا کر تبدیل ہونے کی ضرورت پڑتی ہے، متی 18:3؛ یوحنا 3:7۔

IV. چوتھی بات، اصلی مسیحیت تعلیم دیتی ہے کہ ایک شخص جو واقعی میں مسیح پر ایمان لا کر تبدیل ہوا ہوتا ہے ایک اصلی مسیحی زندگی گزارے گا، یوحنا 3:36۔