اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔
واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔
جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔
کُچھ لوگ اُس سے آ ملےCERTAIN MEN CLAVE UNTO HIM ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے ’’جب اُنہوں نے مُردوں کی قیامت کے بارے میں سُنا، تو اُن میں سے بعض نے اُسے ہنسی میں اُڑا دیا اور بعض نے کہا ہم اس مضمون پر تجھ سے بعد میں پھر کبھی سُنیں گے۔ یہ حال دیکھ کر پولوس اُن کی مجلس سے نکل کر چلا گیا۔ مگر کچھ لوگ پولوس سے آ ملے اور ایمان لائے۔ اُن میں سے ایک دیونسُی یُس، اریوپگُس کونسل کی مجلس کا رُکن تھا۔ ایک عورت تھی جس کا نام دمرِس تھا اور اُن کے علاوہ اور بھی تھے‘‘ (اعمال 17: 32۔34)۔ |
کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ اتھینے میں پولوس کی منادی ناکام تھی۔ لیکن ڈاکٹر ڈبلیو اے کرسویل نے آیت 34 کی بنیاد پر وہاں پولوس کی تبلیغ کا صحیح اندازہ لگایا،
مگر کچھ لوگ پولوس سے آ ملے اور ایمان لائے۔ اُن میں سے ایک دیونسُی یُس، اریوپگُس کی مجلس کا رُکن تھا۔ ایک عورت تھی جس کا نام دمرِس تھا اور اُن کے علاوہ اور بھی تھے‘‘ (اعمال 17: 34)۔
ڈاکٹر کرسویل نے کہا،
[آیت] 33 کا بیان سب سے پہلے یہ ظاہر کرتا ہے کہ پولوس کامیاب نہیں تھا… اتھینے میں۔ تاہم، یہ بیان [آیت 34 میں] بہت کچھ اور بھی ظاہر کرتا ہے۔ دیونسُی یُس ارپگکُس ایتھنے کونسل کے اعلیٰ عہدوں کے ارکان میں سے ایک تھا... روایت [سے] ہمیں پتا چلتا ہے کہ یوسیبی یُس Eusebius، ایک ابتدائی کلیسیائی مورخ، اور کلیسیا کے دیگر آباؤ اِجداد میں سے] دیونسُی یُس ایتھنے کا پہلا بشپ تھا اور وہ ایک شہید کی موت مرا تھا (ڈبلیو اے کرسویل، پی ایچ ڈی۔، کرسویل کا مطالعہ بائبل The Criswell Study Bible، پبلیشرز، 1979، اعمال 17: 34 پر غور طلب بات)۔
وہ پہلا پادری بن گیا اور ایمانداری سے خوشخبری کی تبلیغ کرتے جو اُس نے اُس دِن اتھینے میں مارس کی پہاڑی پر پولوس رسول سے سیکھی تھی ایک شہید کی موت مرا۔ میرے دوست، جب آپ ایک ایسے آدمی کو نجات دلائیں جو ایک پادری بن جاتا ہے تو یہ کوئی ناکامی نہیں ہے!
ڈاکٹر جے ورنن میگی نے اسی طرح کی تشخیص کی،
کچھ ناقدین نے کہا ہے کہ پولوس اتھینے میں ناکام ہو گیا۔ میرے دوست، وہ ناکام نہیں ہوا۔ خوشخبری کا مذاق اڑانے والے ہمیشہ رہیں گے۔ لیکن وہاں وہ لوگ بھی ہوں گے جو یقین رکھتے ہیں (جے ورنن میگی، ٹی ایچ ڈی۔، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلس پبلیشرز Thomas Nelson Publishers، 1983، جلد چہارم، صفحہ 591)۔جب پولوس رسول نے اتھینے میں منادی کی، تو اس نے اپنے واعظ کو یہ اعلان کرتے ہوئے ختم کیا کہ خدا نے ’’[مسیح کو] مردوں میں سے زندہ کیا ہے‘‘ (اعمال 17: 31)۔ یہاں پر تین نتیجے تھے، جیسا کہ ہم آیات 32 اور 34 میں دیکھتے ہیں۔
’’جب اُنہوں نے مُردوں کی قیامت کے بارے میں سُنا، تو اُن میں سے بعض نے اُسے ہنسی میں اُڑا دیا اور بعض نے کہا ہم اس مضمون پر تجھ سے بعد میں پھر کبھی سُنیں گے‘‘ (اعمال 17: 32)۔
’’یہ حال دیکھ کر پولوس اُن کی مجلس سے نکل کر چلا گیا۔ مگر کچھ لوگ پولوس سے آ ملے اور ایمان لائے۔ اُن میں سے ایک دیونسُی یُس، اریوپگُس Dionysius the Areopagite کونسل کی مجلس کا رُکن تھا۔ ایک عورت تھی جس کا نام دمرِس تھا اور اُن کے علاوہ اور بھی تھے‘‘ (اعمال 17: 34)۔
وہ وجہ کہ کچھ ناقدین کہتے ہیں کہ ایتھنے میں پولوس کی منادی ناکامی تھی ایک بڑا حیات نو کا رونما نہ ہونا تھا۔ پھر بھی یہ سوچنا بہت بڑی غلطی ہے کہ ہر انجیلی بشارت کی عبادت کو ایک عظیم حیات نو پر ختم ہونا چاہیے۔ یہ سچ ہے کہ جب پولوس نے ایتھنے میں منادی کی تو بڑے پیمانے پر کوئی حیات نو نہیں آیا ۔ کچھ لوگوں نے مذاق اڑایا اور بغیر نجات پائے ہوئے اپنے اپنے راستے ہو لیے۔ دوسرے متجسس تھے، اور پولوس کو دوبارہ جی اٹھنے پر بات کرتے ہوئے سننا چاہتے تھے۔ پولوس نے مارس ہل کو چھوڑ دیا، جہاں وہ منادی کرتا رہا تھا۔
’’مگر کچھ لوگ پولوس سے آ ملے اور ایمان لائے‘‘ (اعمال 17: 34)۔
کچھ اس کے ساتھ شامل ہوئے اور مسیح میں ایمان لائے۔ پولوس ناکام نہیں ہوا تھا۔ جیسا کہ ڈاکٹر میگی نے کہا، ’’ایسے لوگ ہمیشہ رہیں گے جو خوشخبری کا مذاق اڑاتے ہیں۔ لیکن وہ بھی ہوں گے جو یقین رکھتے ہیں‘‘ (گذشتہ بات کے تسلسل میں ibid.)۔ آمین!
ہمارے ہاں یہ سوچنے کا رجحان ہے کہ پہلی صدی میں انجیلی بشارت کا کام آسان تھا۔ ہم یہ سوچنے کا رجحان رکھتے ہیں کہ جہاں کہیں بھی رسول گئے وہاں تھوڑی سی دشواری کے ساتھ بہت بڑا حیات نو واقع ہوا۔ ہم تصور کرتے ہیں کہ انہوں نے چند بار دعا کی اور روزہ رکھا، چند بار انجیل کی منادی کی، اور لوگ ہمیشہ بڑی تعداد میں مسیح پر ایمان لانے کے لیے دوڑے چلے آئے۔ ہمارے خیال میں یہ ان کے لیے آسان تھا۔ لیکن، دوبارہ سوچیں! پولوس رسول نے اپنی مذہبی خدمت کے بارے میں لکھا،
’’میں نے یہودیوں کے ہاتھوں پانچ دفعہ اُنتالیس، اُنتالیس کوڑے کھائے۔ تین دفعہ رومیوں نے مجھے چھڑیوں سے مارا، ایک مرتبہ سنگسار بھی کیا، تین دفعہ جہاز کی تباہی کا سامنا بھی کیا، ایک دِن اور ایک رات کُھلے سمندر میں بہتا پِھرا۔ میں اپنے سفر کے دوران بارہا دریاؤں کے، ڈاکوؤں کے، اپنی قوم کے، غیر یہودیوں کے، شہر کے، بیابان کے، سمندر کے، جھوٹے بھائیوں کے خطروں میں گِھرا رہا ہوں۔ میں نے محنت کی ہے، مشقت سے کام لیا ہے، اکثر نیند کے بغیر رہا ہوں۔ میں نے بھوک پیاس برداشت کی۔ اکثر فاقہ کیا، میں نے سردی میں بغیر کپڑوں کے گزارا کیا ہے۔ کئی اور باتوں کے علاوہ تمام کلیسیاؤں کی فکر کا بوجھ مجھے ستاتا رہا ہے‘‘ (II کرنتھیوں 11: 24۔28)۔
وہ کیسے بشارت کو دیتے رہنا جاری رکھنے کے قابل تھا، حالانکہ اسے اکثر مسترد کر دیا جاتا تھا، اس کا پیغام سنا نہیں جاتا تھا، اور اس کی زندگی اتنی مشکل تھی؟ کس بات نے پولوس کو اس طرح کی شدید مشکلات میں ڈالا؟ میرے خیال میں کم از کم تین باتیں ہیں جنہوں نے اسے [خوشخبری] کو جاری رہنا رکھا۔
1. سب سے پہلے، وہ بشارت دیتا رہا۔ اِس کے بعد ہم اسے کورنتھس میں پاتے ہیں۔ وہ کیا کر رہا ہے؟ وہ ’’یہودی عبادت خانہ میں بحث سے قائل کرتا… روح میں بڑے جوش کے ساتھ، اور یہودیوں کو گواہی دیتا کہ یسوع ہی مسیح ہے‘‘ (اعمال 18: 4، 5)۔ بھائیو اور بہنو، انجیلی بشارت کا کام کرنے سے زیادہ کوئی بھی بات ہمارے اپنے دلوں کو اِس قدر تیزی سے زندہ نہیں کرے گی!
2. دوسری بات، وہ آگے بڑھا، اور پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اُس نے کہا، ’’یہ ایک کام جو میں کرتا ہوں، اُن چیزوں کو بھول کر جو پیچھے رہ گئی ہیں آگے کی جانب بڑھتا ہوں، اور میں مسیح یسوع میں خُدا کی اعلیٰ بُلاہٹ کے انعام کے نشان کو پانے کے لیے تیزی سے دوڑتا ہوں (فلپیوں 3: 13-14)۔ ایک رومن کھلاڑی کی طرح، اُس نے ’’انعام‘‘ کی طرف زور دیا جو کہ ’’مسیح یسوع میں خُدا کی اعلیٰ بُلاہٹ‘‘ تھی۔
3. تیسری بات، وہ مسیح کی طاقت پر انحصار کرتا تھا، اپنی خود کی طاقت پر نہیں۔ اُس نے مسیح پر یقین کیا، جس نے اُس سے کہا، ’’میرا فضل تیرے لیے کافی ہے کیونکہ میری قدرت کمزوری میں پوری ہوتی ہے‘‘ (2 کرنتھیوں 12: 9)۔ اسی لیے وہ کہہ سکتا ہے، ’’میں مسیح کے ذریعے وہ سب کچھ کر سکتا ہوں جو مجھے مضبوط کرتا ہے‘‘ (فلپیوں 4: 13)۔ ہو سکتا ہے کہ ہم محسوس نہ کریں کہ ہم یہ کام کر سکتے ہیں، لیکن ہم بہرحال انجیلی بشارت کا کام ضرور کریں گے! ’’کیونکہ یہ خُدا ہی ہے جو تم میں اپنی مرضی اور خوشنودی کے لیے کام کرتا ہے‘‘ (فلپیوں 2: 13)۔ ہمیں اس طاقت پر چلنا چاہیے جو خدا ہمیں بخشتا ہے۔ جب ہم ایسا کرتے ہیں تو ہمیں روکا نہیں جا سکتا اور ہمیں فتح نہیں کیا جا سکتا!
یہ وہ کچھ چیزیں تھیں جنہوں نے پولوس رسول کو زمانوں کے عظیم ترین روح کے فاتح کے طور پر جاری رکھا۔ اور ہوسکتا ہے کہ وہ آسان نکات آپ کو کام جاری رکھنے کی ترغیب دیں: مسیح کی طاقت میں آرام کریں، اپنی خود کی طاقت میں نہیں! آگے بڑھیں اور پیچھے مت دیکھیں! خوشخبری جاری رکھیں، چاہے کچھ بھی ہو! کسی چیز کو آپ کو روکنے نہیں دیں!
آپ میں سے کئی آج صبح پہلی بار یہاں آئے ہیں، یا صرف ایک یا دو بار یہاں آئے ہیں۔ ہمارا آپ کو کیا پیغام ہے؟ یہ وہی پیغام ہے جس کی تبلیغ پولوس رسول نے مسلسل کی، وہ جہاں بھی گیا،
’’صحائف کے مطابق مسیح ہمارے گناہوں کی خاطر مر گیا؛ اور کہ وہ دفنایا گیا اور پاک صحائف کے مطابق تیسرے روز دوبارہ جی اُتھا‘‘ (I کرنتھیوں 15: 3۔4)۔
ہم آپ کو خوشخبری سناتے ہوئے کبھی نہیں تھکتے – کہ مسیح آپ کے گناہوں کا مکمل کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پر مرا۔ کہ مسیح جسمانی طور پر مردوں میں سے جی اُٹھا اور واپس آسمان پر چڑھ گیا۔ کہ مسیح آج زندہ ہے، خدا باپ کے داہنے ہاتھ پر بیٹھا ہے۔ اور یہ کہ آپ ایمان سے مسیح کے پاس آسکتے ہیں اور اس کے فضل سے نئے سرے سے جنم لے سکتے ہیں۔ یہ ہمارا نہ ختم ہونے والا پیغام ہے۔ آپ اسے سن سکتے ہیں۔ آپ مسیح پر بھروسہ کریں اور اُس کے ابدی خون کے ذریعے اپنے گناہوں سے پاک صاف ہو جائیں۔ آمین!
آئیے کھڑے ہو کر آپ کے گیتوں کے ورق پر سے حمدوثنا کا آخری گیت گائیں۔ اور جیسے ہی ہم اسے گاتے ہیں، ڈاکٹر اوسوالڈ جے سمتھ کے الفاظ کو ہمارا نعرہ بننے دیں جب ہم آج دوپہر ایک کھوئی یا گمراہ ہوتی ہوئی اور مرتی ہوئی دنیا کو خوشخبری سنانے کے لیے نکلتے ہیں۔
ہمیں اِس لمحے کے لیے ایک نعرہ دے، ایک سنسنی خیز لفظ ، طاقت کا ایک لفظ،
جنگ کا رونا، ایک آتش گیر سانس جو فتح یا موت کو پکارتی ہے۔
ایک لفظ جس نے سوتی ہوئی کلیسیا کو اٹھانا ہے، تاکہ مالک کی بڑی درخواست پر توجہ دی جائے۔
بلاوہ دیا گیا ہے، اے میزبان، اُٹھو، ہمارا نعرہ ہے، انجیلی بشارت کرو!
پُرمسرت انجیل اب اعلان کرتی ہے، ساری زمین پر، یسوع کے نام میں؛
یہ لفظ آسمانوں میں سُنائی دیتا ہے: انجیلی بشارت کرو! انجیلی بشارت کرو!
مرتے ہوئے لوگوں کے لیے، ایک گمراہ نسل، انجیلی فضل کے تحفے کو شہرت دیں؛
وہ دُںیا جو ابھی تاریکی میں ہے، انجیلی بشارت کرو! انجیلی بشارت کرو!
(انجیلی بشارت کرو! انجیلی بشارت کرو! Evangelize! Evangelize!‘‘ شاعر ڈاکٹر اُوسولڈ جے۔ سمتھ Dr. Oswald J. Smith، 1889۔1986؛ بطرز ’’اور کیا یہ ہو سکتا ہے؟ And Can It Be?‘‘ شاعر چارلس ویزلی، 1707۔1788)۔
اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔
(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ
www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔
یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔