Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

’’دُنیا کوقائل کرتی ہوئی پاک روح‘‘
مصنف جارج وائٹ فیلڈ، جدید انگریزی کے لیے موافق
اور مختصر کیا گیا

“THE HOLY SPIRIT CONVINCING THE WORLD”
BY GEORGE WHITEFIELD, CONDENSED AND
ADAPTED TO MODERN ENGLISH
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
3 فروری، 2008، خُداوند کے دِن، شام کو
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, February 3, 2008

’’جب وہ مددگار آجائے گا تو جہاں تک گناہ، راستبازی اور اِنصاف کا تعلق ہے وہ دنیا کو مُجرم قرار دے گا‘‘ (یوحنا 16:8).

تعارف: جارج وائٹ فیلڈ George Whitefield (1714۔1770) کے بارے میں درج ذیل معلومات ایڈ ریز Ed Reese کی طرف سے ہیں، مسیحی ہال آف فیم سلسلہ Christian Hall of Fame Series،بنیادی اشاعت خانے Fundamental Publishers، 126 پائن لین Pine Lane، گلین ووڈ Glenwood، ایلینوائس Illinois 60425۔

اپنے دور تک وائٹ فیلڈ سب سے زیادہ مسافت طے کرنے والے خوشخبری کے مبلغ تھے، اور بہت سے محسوس کرتے تھے کہ وہ تمام ادوار کے عظیم ترین مبشر انجیل تھے۔ بحراوقیانوس کے آر پار 13مرتبہ سفر کرنا اپنی ذات میں خود ایک کارنامہ تھا، کیونکہ یہ اُس دور میں ہوا تھا جب سمندری سفر کا ابھی آغاز ہی ہوا تھا۔ اِس کا مطلب ہے کہ اُنہوں نے اپنی زندگی کا دو سال سے زیادہ عرصہ پانی پر سفر کرنے میں گزار دیا تھا – 782 دِن۔ تاہم، اُن کے کام کو ادا کرنے کے لیے مستقل مزاجی سے ارادے اور قربانی نے اُنہیں خُدا کے لیے دو قوموں کا رُخ موڑنے میں مدد دی۔

جانتھن ایڈورڈز Jonathan Edwards نئے انگلستان میں حیات نو کو پروان چڑھا رہے تھے اور جان ویزلی ایسا ہی انگلستان میں کر رہے تھے۔ وائٹ فیلڈ نے بحراوقیانوس کی دونوں جانب عظیم بیداری کے لیے لوگوں کی انسانی ذمہ داری کی مثلث کو مکمل کیا تھا۔ اُنہوں نے 24 سال برطانوی چھوٹے جزیروں اور مذید نو سال امریکہ میں تقریباً کچھ دس ملین لوگوں میں منادی کرنے میں گزارے۔

یہ کہا جاتا ہے کہ اُن کی آواز ایک میل دور سے سُنی جا سکتی تھی، اور اُن کی کھلے میں منادی سے سکاٹ لینڈ میں ایک اجتماع میں 100,000 جتنے لوگ مستفید ہوئے۔ مائیکروفوں کے دِنوں سے پہلے، اور اگر ہم شاید اضافہ کریں، تو اشتہارات کے دِنوں سے بھی پہلے، انجیل کی تبلیغ کو سُننے کےلیے ابھی تک جمع ہونے والے ہجوموں میں سب سے بڑے تھے ... ۔

اُن کے بالکل پہلے واعظ کا تعاقب کرنے والی ہنگامہ خیزی سے تعلق رکھتے ہوئے، وائٹ فیلد نے لکھا:

کچھ چند نے مذاق اُڑایا، لیکن زیادہ تر جو موجود تھے، منجمند ظاہر ہوتے تھے، اور اُس وقت سے سُنا ہے کہ اُسقف کو ایک شکایت لگائی گئی تھی، کہ میں نے پہلے واعظ کے دوران پندرہ لوگوں کو پاگل کر دیا تھا۔

وائٹ فیلڈ کے خلاف ایسی شکایات کا اِزالہ اکثر نئے سرے سے جنم کی انتہائی ضرورت کی تبلیغ سے ہو جاتا تھا۔ لیکن جتنی اُن پر تنقید کی گئی اتنا ہی خُدا نے اُن کی تبلیغ کو برکات سے نوازا۔

آج ہمیں وائٹ جیسے نڈر مبلغین کی ضرورت ہے۔ افسوس کے ساتھ، زیادہ تر مبلغین گرجہ گھر کے لوگوں کو بتانے کے لیے تیار نہیں ہوتے ہیں، جو اُن کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں، کہ وہ کھوئے ہوئے ہیں۔ ہمارے دور میں وائٹ فیلد جیسے لوگوں کی انتہائی ضرورت ہے۔

درج ذیل واعظ کو جدید انگریزی میں تبدیل کیا گیا ہے تاکہ وائٹ فیلڈ کا پیغام اِس نئی نسل کے لیے مذید اور قابلِ فہم ہو۔

واعظ:

’’جب وہ مددگار آجائے گا تو جہاں تک گناہ، راستبازی اور اِنصاف کا تعلق ہے وہ دنیا کو مُجرم قرار دے گا‘‘ (یوحنا 16:8).

الفاظ اُس وعدے کے کچھ حصے پرمشتمل ہیں جو یسوع نے اپنے شاگردوں سےکیا تھا۔ وہ غم سے بھرپور تھے۔ صلیب پر یسوع کی موت کا وقت قریب تھا۔ زمین پر اپنی تمام منادی کے دوران یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ انتہائی مہربان تھا۔ اُس نے اُن کے ساتھ ملازموں جیسا برتاؤ نہیں کیا تھا۔ اُس نے اُن کے ساتھ دوستوں کی طرح برتاؤ کیا تھا۔ اور اُن پر گاہے بگاہے راز افشا کیے تھے۔ اُس نے اُنہیں خُدا کی بادشاہی کے خفیہ اسرار سمجھائے تھے، بےشک دوسروں کو اُس نے تمثیلوں میں بتائے تھے۔ وہ شاگردوں کا ملازم بن گیا تھا، اور حتٰی کہ اُن کے پاؤں تک دھوئے تھے۔

یسوع جیسے ایک پیارے دوست کو کھو دینے کی سوچ نے شاگردوں کو ضرور بہت زیادہ افسردہ کر دیا تھا۔ جب وہ اُنہیں صرف ایک رات کے لیے چھوڑنے کے لیے جا رہا تھا تو اُسے اُن سے پیچھا چُھڑانے میں مشکل ہوئی تھی۔ اِس میں کوئی حیرت کی بات نہیں تھی کہ وہ اپنے دِلوں میں دُکھی تھے جب اُس نے اُنہیں بتایا کہ وہ آسمان میں واپس جانے کے لیے اُنہیں مکمل طور پر چھوڑ رہا تھا۔

یوحنا 16:5 پر غور کریں،

’’لیکن اب میں اپنے بھیجنے والے کے پاس واپس جارہا ہُوں اور تُم میں سے کوئی بھی نہیں پُوچھتا کہ تُو کہاں جا رہا ہے؟ لیکن چونکہ میں نے تمہیں بتا دیا ہے اِس لیے تُم بڑےغمگین ہو گئے ہو‘‘ (یوحنا 16:5۔6).

یہ تاثر انتہائی تاکیدی ہے؛ اُن کے دِل اِس قدر فکر سے بھر گئے تھے،کہ وہ ٹوٹنے کو تیار تھے۔

اُن کو تسلی دینے کی خاطر، یسوع نے اُن پر ظاہر کیا کہ اُس کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ اُنہیں چھوڑ کر چلا جائے:

’’مگر میں تُم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ : میرا یہاں سے رُخصت ہو جانا تمہارے حق میں بہتر ثابت ہوگا‘‘ (یوحنا 16:7).

یہ ایسا ہی تھا جیسے اُس نے کہا، ’’یہ مت سوچنا کہ میں تم سے ناراضگی کی وجہ سے رخصت ہو رہا ہوں۔ نہیں، یہ تمہاری ہی خاطر ہے۔ یہ تمہاری مدد کرنے کے لیے۔ اگر میں نہیں جاؤں گا – صلیب پر مرنے کے لیے، مردوں میں سے جی اُٹھنےکےلیے، اور آسمان میں اُٹھائے جانے کےلیے – اگر میں نہیں جاؤں گا اور یہ چیزیں نہیں کروں، تو پاک روح تم پر نازل نہیں ہوگا۔ لیکن اگر میں تمہیں چھوڑتا ہوں، تو میں تمہیں پاک روح بھیجوں گا۔‘‘

اور پھر یسوع نے وضاحت کی کہ پاک روح کیا کر سکے گا:

’’جب وہ مددگار آجائے گا تو جہاں تک گناہ، راستبازی اور اِنصاف کا تعلق ہے وہ دنیا کو مُجرم قرار دے گا‘‘ (یوحنا 16:8).

تلاوت میں جس ہستی کا حوالہ دیا گیا ہے وہ واضح طور پر پاک روح ہے۔ اور وعدہ پہلے رسولوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔ لیکن اگرچہ وعدہ اُن کے ساتھ کیا گیا تھا، اِس کے باوجود وہ تمام سچے مسیحیوں کے نمائندے تھے۔ اِس لیے، ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ تلاوت براہ راست ہمارے لیے بات کرتی ہے۔ پاک روح کا یہ وعدہ آپ کے لیے ہے، آپ کے بچوں کے لیے ہے، اور اتنے بے شماروں کے لیے ہے جتنوں کو خُداوند ہمارا خُدا بُلانا چاہے (حوالہ ملاحظہ کریں اعمال 2:39)۔

لیکن اِس واعظ میں میرا وعدہ آپ پر یہ ظاہر کرنا ہے کہ پاک روح کیسے عام طور پر اُن کے دِلوں میں جو مسیح میں تبدیل شُدہ ہیں کام کرتا ہے۔ میں کہتا ہوں ’’عام طور پر‘‘ کیونکہ خُدا اقتدار اعلٰی ہے، اور اُس کی روح جب اور جیسے وہ چاہے چلتی ہے۔ اِس لیے، میں خُدائے قادر مطلق کو پابند نہیں کر سکتا کہ وہ ہر ایک پر ایک ہی طریقے سے عمل کرے۔ وہ تمام لوگوں کو ایک ہی درجے کا راسخ عقیدہ نہیں دیتا ہے۔ نہیں، وہ جو بچائے جائیں گے اُنہیں بُلانے کے لیے خُدا کے مختلف طریقے ہیں۔ لیکن ہم اِس بات کا یقین کر سکتے ہیں: جب کبھی بھی کہیں گناہ کے تحت سزایابی اور مسیحی میں تبدیل ہونے کا حقیقی عمل ہوتا ہے، یہ ہمیشہ پاک روح ہوتا ہے جو کام کرتا ہے۔ چاہے زیادہ یا کم درجے کا ہو، یہ ہمیشہ پاک روح ہوتا ہے جو ایک گناہ سے بھر پور شخص میں اندرونی پریشانی لاتا ہے، جیسا کہ یسوع نے شاگردوں کو بتایا تھا، ہماری تلاوت میں، کہ وہ کرے گا جب خُدا کی روح آئے گی:

’’جب وہ مددگار آجائے گا تو جہاں تک گناہ، راستبازی اور اِنصاف کا تعلق ہے وہ دنیا کو مُجرم قرار دے گا‘‘ (یوحنا 16:8).

اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ پاک روح کے اندرونی کام ایک طلسم ہے، یا اگر آپ سوچتے ہیں کہ پاک روح کو محسوس کرنے یا پانے جیسی کوئی بات نہیں ہے، تو مجھے افسوس ہے کہ میری تبلیغ آپ کو احمقانہ محسوس ہو گی۔ لیکن چونکہ تلاوت میں وعدہ ’’دُنیا‘‘ کے ساتھ کیا گیا ہے، تو میں وضاحت کروں گا کہ کیسے ہر مسیح میں غیر تبدیل شُدہ گنہگار کے دِل میں پاک روح کام کرے گا۔ اور مجھے اُمید ہے کہ خُدا آپ کے دِل میں کام کرے اور آپ کو گناہ کی تنبیہہ کرے۔

’’تنبیہہ‘‘ لفظ کا ترجمہ ’’رضامند کرنا‘‘ ہونا چاہیے۔ یونانی میں یہ ایک سزایابی پر لاگو ہوتا ہے جو دلیل کے ذریعے سے دماغ میں بہت زیادہ قوت کے ساتھ آتا ہے – جیسے ایک وکیل ایک فیصلہ ساز کمیٹی کو ’’قائل کر رہا‘‘ ہو۔ اِس لیے، پاک روح گنہگاروں کو گناہ کے لیے قائل کرتا ہے۔ یہ کیسا محسوس ہوتا ہے جب پاک روح آپ کے ساتھ ایسا کرتا ہے؟ آپ کو کیسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پاک روح ہے؟ آپ شاید یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ کیسا محسوس ہوتا ہے یا آپ کیسے جانتے ہیں جب دِن کے وقت سورج آپ پر چمکتا ہے۔ کیونکہ اتنی ہی قوت اور ثبوت کے ساتھ پاک روح گنہگاروں پر اُن کی جانوں کو یہ قائل کرنے کے لیے کہ وہ گنہگار ہیں کام کرتا ہے۔

I۔ اوّل، وہ گناہ کے لیے قائل کرتا ہے۔

عام طور پر وہ کسی بہت زیادہ، بہت بڑے گناہ، شاید بدترین جس کے آپ قصوروار ہوں کے لیے قائل کرتا ہے۔ جب یسوع نے سامریہ کی عورت سے بات کی تھی، اُس نے پہلے اُسے اُس کی زناکاری کے لیے قائل کیا تھا۔

’’یسُوع نے اُس سے کہا: جا اور اپنے شوہر کو بُلا لا... اُس نے جواب دیا کہ میرا کوئی شوہر نہیں ۔ یسُوع نے اُس سے کہا: تُو سچ کہتی ہے کہ تیرا کوئی شوہر نہیں۔ تُو پانچ شوہر کر چُکی ہے اور جس کے پاس تُو اب رہتی ہے وہ آدمی بھی تیرا شوہر نہیں ہے۔ تُو نے جو کچھ کہا بالکل سچ ہے‘‘ (یوحنا 4:16۔18).

اِس کے ساتھ اُس کے دوسرے تمام گناہوں کی اِس قدر طاقتور گناہ کے تحت سزایابی آتی ہے، کہ ’’وہ عورت پانی کا گھڑا وہیں چھوڑ کر واپس شہر چلی گئی اور لوگوں سے کہنے لگی، آؤ ایک آدمی سے ملو جس نے مجھے سب کچھ جو میں نے اب تک کیا تھا، بتا دیا: کیا یہی مسیح تو نہیں ہے؟‘‘ (یوحنا 4:28۔29)۔

یہی طریقہ ہے جو یسوع نے ساؤل جلاد کے ساتھ اختیار کیا تھا: پہلے اُس نے اُسے اذیت دینے کے ہولناک گناہ کے بارے میں قائل کیا۔ یسوع نے اُس سے کہا،

’’ساؤل، ساؤل، تُو مجھے کیوں ستاتا ہے؟‘‘ (اعمال 9:4).

اُس کے دوسرے تمام گناہ اُس کے ذہن میں آ گئے، اور اُس نے تمام جھوٹے آسرے چھوڑ دیے۔ وہ جان کی اِس قدر اذیت میں ڈالا گیا، کہ اُس نے تین دِنوں تک کچھ کھایا پیا نہیں، جبکہ وہ خُود اپنی نجات کے لیے دعا کیا کرتا تھا۔

یہ پاک روح کا طریقہ ہے جو عموماً گنہگاروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ پہلے اُنہیں کسی ہولناک گناہ کے لیے قائل کرتا ہے، اور اُسی دوران اُن کے دوسرے تمام گناہوں کو یاد دلاتا ہے۔ ’’جب وہ مدد گار آ جائے گا تو جہاں تک گناہ کے اِنصاف کا تعلق ہے وہ دُنیا کو مجرم قرار دے گا۔‘‘ اور کیا ایسا کبھی آپ کے ساتھ رونما ہوا ہے؟ کیا کبھی پاک روح نے آپ کے ذہن میں آپ کے تمام گناہ یاد دلائے ہیں؟ کیا کبھی پاک روح نے آپ کو خُدا کے لیے رُلایا ہے، ’’تم میرے خلاف ناقابلِ برداشت باتیں لکھتے ہو‘‘؟ کیا کبھی آپ کے سامنے آپ کے گناہ ظاہر ہوئے ہیں جیسا کہ وہ درج کیے گئے تھے، ہر ایک، اُس کے فیصلوں کی کتاب میں؟ اگر نہیں، تو آپ کبھی بھی گناہ کے تحت سزا یابی میں نہیں آئے یا مسیحی میں تبدیل نہیں ہوئے! آپ ابھی تک کھوئے ہوئے ہیں! ابھی تک – آپ کی زندگی میں تلاوت کا وعدہ کبھی بھی پورا نہیں ہوا ہے۔

’’جب وہ مددگار آجائے گا تو جہاں تک گناہ کے اِنصاف کا تعلق ہے وہ دنیا کو مُجرم قرار دے گا‘‘ (یوحنا 16:8).

لیکن، اِس سے بھی پہلے، جب پاک روح پہلی دفعہ ایک کھوئے ہوئے گنہگار کو گناہ کے تحت سزایابی میں لاتا ہے، تو وہ عموماً اُسے پہلے اُس کے اصلی گناہ دکھاتا ہے۔ لیکن پھر اُسے ظاہر کیا جاتا ہے اور اُس کے اصلی گناہ پر غمگین ہونے کے لیے راہ دکھائی جاتی ہے، وہ چشمہ جس سے دوسرے تمام گناہ بہتے ہیں۔ انسان کے تجربے میں ہر بات ثابت کرتی ہے کہ آپ ایک بدکار فطرت کے ہیں، کہ

’’جس طرح ایک آدمی کے قصور کے سبب سے سب آدمیوں کے لیے مَوت کی سزا کا حکم ہُوا‘‘ (رومیوں 5:18).

حالانکہ انسانی تجربے میں ہر بات آدم میں آپ کی بدکاری کو ثابت کرتی ہے، اِس کے باوجود زیادہ تر لوگ گناہ کی دھوکہ بازی کے ذریعے سے اِس قدر سخت دل ہیں، کہ بے شک اگر وہ اپنے ذہن میں یہ تسلیم کر بھی لیں، وہ اپنے دِلوں میں محسوس نہیں کرتےکہ یہ کس قدر بھیانک ہے۔ کچھ انکار کریں گے کہ اُن کی فطرت مکمل طور پر بدکار اور مسخ شُدہ ہے۔ حالانکہ بے شک اُن کے زندگیاں واضح طور پر اُنہیں ناجائز باپ کی ناجائز اولاد ثابت کرتی ہیں۔ لیکن جب پاک روح گنہگاروں کو گناہ کی سزایابی کے تحت لاتا ہے، اُس کے تمام جھوٹے اعتراضات فوراً غائب ہو جاتے ہیں۔ اُسے ’’اِس موت کے جسم سے مجھے کون نجات دلائے گا؟‘‘چلانے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے (رومیوں 7:24)۔ وہ اب اپنے اصلی گناہ پر اتنا غمزدہ نہیں ہوتا ہے جتنا وہ خود اپنے دِل کی گمراہی پر ہوتا ہے۔ اُسے اب معلوم ہو جاتا ہے کہ خود اُس کا اپنا دِل خُدا کا ایک دشمن ہے۔ خود کو دھوکہ دینے کے بجائے، وہ اب خود اپنے بدکار اور تباہ حال دِل کی گہرائی میں اقرار کرتا ہے کہ وہ خُدا کا دشمن ہے۔

میرے دوست، کیا آپ نے کبھی اپنے بدکار دِل سے تعلق رکھتے ہوئے، اِس قائل کر دینے والی قوت کا تجربہ کیا ہے؟ کیا آپ کو کبھی محسوس کرایا گیا کہ آپ میں کوئی نیکی نہیں ہے؟ کیا آپ نے کبھی محسوس کیا کہ قدرتی طور پر قہر کے ایک بچے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی محسوس کیا کہ آپ گناہ میں پیدا ہوئے تھے؟ کیا آپ نے کبھی اعتراف کیا کہ آپ میں کوئی اچھائی نہیں تھی؟ کیا آپ نے کبھی اپنے اصلی گناہ کی بدکار، بے دین فطرت اور اپنے حقیقی گناہ کی یاد پر ماتم کیا تھا؟ کیا یہ گناہ کبھی آپ کے لیے ناقابلِ برداشت ہوئے تھے؟ اگر نہیں، تو آپ ابھی تک کھوئے ہوئے ہیں! آپ کبھی بھی مسیح میں تبدیل ہوئے ہی نہیں تھے۔ پاک روح نے کبھی بھی آپ کو مؤثر طریقے سے بیدار یا قائل نہیں کیا تھا۔ نتیجے کے طور پر، بالکل ابھی آپ لعنت کی حالت میں ہیں۔ آپ ایک مسیحی نہیں ہیں۔

’’جب وہ مددگار آجائے گا تو جہاں تک گناہ کے اِنصاف کا تعلق ہے وہ دنیا کو مُجرم قرار دے گا‘‘ (یوحنا 16:8).

دوبارہ، پاک روح جب گنہگار پر اپنا کام شروع کرتا ہے، وہ نا صرف گنہگار کو اُس کی گناہ سے بھرپور فطرت کے لیے، اور اُس کی زندگی میں حقیقی گناہوں پر، بلکہ وہ اپنے مذہب اور اخلاقیات کے گناہ پر بھی قائل کرتا ہے۔

تمام کھوئے ہوئے لوگ سوچتے ہیں کہ وہ کافی مذہبی اور کافی نیک ہیں۔ جب ایک گنہگار اپنے گناہ کے لیے بیدار ہونا شروع ہوتا ہے، تو وہ اچھی باتیں جو اُس نے کی ہوتی ہیں اُنہیں سوچنے کی کوشش کرتا ہے، اپنے آپ کو درست ثابت کرنے کے لیے، اور اپنی خود کی اچھائی قائم کر لیتا ہے۔ لیکن یہ جھوٹی تسلیاں ہیں۔ پاک روح آپ کو ضرور دکھانا چاہتا ہے کہ آپ کی تمام راستبازیاں ماسوائے غلیظ چیتھڑوں کے کچھ نہیں ہیں۔ ایک صاف ترین اور بہتر شخص نکمے نوکر کی بدنصیبی کے مقابلے میں، جسے ’’باہر اندھیرے میں (جہاں) رونا اور دانتوں کا پیسنا ہوتا ہے‘‘ کسی اور بات کا مستحق نہیں ہوتا ہے (متی 25:30)۔

کیا کبھی پاک روح نے آپ کو اِس قسم کی گناہ کے تحت سزایابی دی ہے؟ کیا وہ کبھی آپ کے دِل میں آیا اور آپ کو اپنی اخلاقی، اچھائی اور مذہب سے بےزار کیا ہے؟ کیا آپ نے کبھی خود اپنی راستبازی سے نفرت کرنی چاہی، اور کیا کبھی آپ نے اپنے آپ سے اقرار کیا کہ آپ لعنتی کیے جانے کے مستحق ہیں؟ کیا کبھی پاک روح نے آپ کو محسوس کرایا کہ آپ کے ہر کفارے کو توبہ کی ضرورت ہے، اور کہ خود آپ میں ہر بات گوبر کے مقابلے میں بہتر نہیں ہے؟ کیا آپ نے کبھی محسوس کیا کہ آپ ہر طرح سے گناہ سے بھرپور اور دو کوڑی کے ہیں؟ کیا آپ کبھی چلائے ہیں، ’’خُداوندا مجھ جیسے گنہگار کے لیے مہربان ہو‘‘؟ اگر آپ کے ذہن میں کبھی بھی پاک روح کے وسیلے سے ایسے خیالات نہیں آئے ہیں، تو آپ مسیحی نہیں ہیں۔ آپ ابھی تک کبھی بھی مسیح میں تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔

لیکن یہاں ایک چوتھا گناہ ہے، جس کے لیے پاک روح جان کو قائل کرتا ہے، جب وہ ایک شخص کے پاس آتا ہے۔ اور یہ ایسا شاندار گناہ ہے کہ یہ واحد ایک ہے جس کا مسیح نے ذکر کیا۔ یہ پوری دُنیا کا مرکزی گناہ ہے۔ یہ ملعون گناہ ہے، دوسری تمام بُرائیوں کی جڑ۔ میرا مطلب یسوع میں بے اعتقادی کا گناہ ہے۔ آیت نو پر غور کیجیے،

’’گناہ کے بارے میں، اِس لیے کہ لوگ مجھ پر ایمان نہیں لاتے‘‘ (یوحنا 16:9).

آج شام یہاں لوگ ہیں جو یسوع میں بچائے جانے کا یقین نہیں رکھتے ہیں۔ یہ آپ کا سب سے بڑا گناہ ہے – یسوع میں یقین نہ کرنے کا گناہ۔ یسوع آپ سے محبت کرتا ہے۔ وہ صلیب پرآپ کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے مرا۔ وہ واقعی مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور آسمان میں اُٹھایا گیا، ایک اور وسعت میں۔ وہ ابھی زندہ ہے، آسمان میں خُدا کے داہنے ہاتھ پر بیٹھا ہوا۔ آپ یسوع کے پاس آ سکتے ہیں۔ آپ اپنے گناہوں سے یسوع کے ذریعے سے بچائے جا سکتے ہیں۔ لیکن آپ اُس پر یقین کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ یہ ایک ہولناک، جان کے لیے لعنتی گناہ ہے – آپ کا یسوع میں یقین نہ کرنے کا گناہ۔ آپ شاید کہتے ہیں کہ آپ اُس میں یقین رکھتے ہیں، لیکن آپ کے پاس خود بدروحوں کے مقابلے میں زیادہ ایمان نہیں ہے۔ شاید آپ سوچتے ہیں کہ آپ یقین کرتے ہیں کیونکہ آپ یوحنا 3:16 جانتے ہیں یا ’’گنہگاروں کی دعا‘‘ کہی تھی، یا بپتسمہ پا چکے ہیں، لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ یسوع میں یقین رکھتے ہیں۔ یہ سب کچھ تونئے سرے سے دوبارہ جنم لیے بغیر، خُدا کے بیٹے کا سچا عبادت گزار بنے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے۔

میں اِس کے مقابلے میں بہتر امتحان نہیں جانتا ہوں: آپ نے کب یسوع میں یقین کیا تھا؟ اگر آپ بتا نہیں سکتے کہ کب تو آپ نے بلا شُبہ اُس میں یقین کیا تھا، پھر آپ نے اُس میں بچائے جانے والے طریقے سے یقین نہیں کیا ہے۔ اگر آپ ایک مخصوص وقت کا نہیں سوچ سکتے جب آپ نے پہلی مرتبہ اُس پر یقین کیا تھا تو یہ ایک یقینی علامت ہے کہ آپ کے پاس کوئی سچا ایمان نہیں ہے۔ آپ ابھی تک کھوئے ہوئے ہیں، آپ ابھی تک مسیح میں غیر تبدیل شُدہ ہیں۔

’’جب وہ مددگار آجائے گا تو جہاں تک گناہ کے اِنصاف کا تعلق ہے وہ دنیا کو مُجرم قرار دے گا گناہ کے بارے میں، اِس لیے کہ لوگ مجھ پر ایمان نہیں لاتے‘‘ (یوحنا 16:8۔9).

یہ طریقے ہیں جن سے پاک روح گناہ کی روحِ رواں کو قائل کراتا ہے۔

II۔ دوئم، وہ راستبازی کیا ہے جس کے بارے میں پاک روح دُنیا کو قائل کرتا ہے؟

تلاوت پر ایک مرتبہ پھر نظر ڈالیں:

’’جب وہ مددگار آجائے گا تو جہاں تک گناہ کے اِنصاف کا تعلق ہے وہ دنیا کو مُجرم قرار دے گا راستبازی کے بارے میں… راستبازی کے بارے میں، اِس لیے کہ میں واپس اپنے باپ کے پاس جا رہا ہُوں اور تُم مجھے پھر نہ دیکھو گے‘‘ (یوحنا 16:8،10).

یہ پاک روح ہے جو ایک گنہگار کو یسوع مسیح کی تمام کی تمام راستبازی کے لیے قائل کرتا ہے۔ پاک روح کو چاہیے کہ آپ کو تنہا مسیح کی راستبازی دکھائے۔ آپ کو مسیح پر ’’چھوڑ دینا‘‘ چاہیے۔ اُس کی راستبازی آپ کو زیب تن کرنی چاہیے۔ جیسا کہ ایک پرانا حمد و ثنا کا گیت کہتا ہے:

تنہا اُس کی راستبازی کو زیب تن کیے ہوئے،
تخت کے سامنے بے عیب کھڑا ہوں۔
   (’’ٹھوس چٹان The Solid Rock،‘‘ شاعر ایڈورڈ موٹ Edward Mote، 1797۔1874)۔

پاک روح کو چاہیے کہ آپ کو یسوع کے پاس آنے کےلیے قائل کرے اور اُس کی اچھائیاں اور راستبازی آپ کے ریکارڈ سے منسوب کرے۔

جب پاک روح آپ کی یسوع کی راستبازی کی ضرورت کے لیے آپ کو قائل کرتا ہے، تو بابرکت یسوع کتنا شاندار نظر آتا ہے! آپ خداوند کو بطور اپنی راستبازی کے دیکھیں گے! لیکن محض مسیح کی راستبازی کو دیکھنا ہی آپ کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ پاک روح کو اِسے آپ کی ملکیت بنانا چاہیے۔ اپنے آپ کو بچانے کے لیے آپ کو خود مسیح کی راستبازی کو ملکیت بنانا چاہیے۔

III۔ سوئم، پاک روح، جب ایک شخص کے پاس آتا ہے، تو فیصلے کے لیے قائل کرتا ہے۔

ایک آخری مرتبہ تلاوت پر غور کیجیے:

’’جب وہ مددگار آجائے گا تو جہاں تک گناہ، راستبازی اور اِنصاف کا تعلق ہے وہ دنیا کو مُجرم قرار دے گا‘‘ (یوحنا 16:8).

بیچارہ مسیح کے بغیر بشر! کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کسی حالت میں ہیں؟ کیوں، ایک فاسِق، شیطان آپ پر حکومت کرتا ہے! وہ آپ کی یہی زندگی چلاتا ہے۔ وہ آپ میں سماتا اور چلتا ہے، جب تک کہ آپ مسیح میں تبدیل نہیں ہو جاتے ہیں۔ لیکن شیطان آپ کو کیا دے گا؟ وہ آپ کو دائمی موت دے گا، جہنم میں ہمیشہ کے لیے لعنت۔

اوہ وہ آپ مسیح کو اپنا دِل دینے کےلیے چاہیں گے! یسوع اُن تمام کو جو اُس کے پاس آتے ہیں دائمی زندگی کا تحفہ پیش کرتا ہے۔ مسیح کو اپنا جسم اور روح دو۔ اُس کو اپنی تمام زندگی دو۔

فیصلہ! کتنا ہولناک لفظ! پاک روح کو چاہیے کہ آپ کو دکھائے کہ اگر آپ کے پاس مسیح نہیں ہے تو فیصلہ آپ کی طرف آ رہا ہے۔ پاک روح کو چاہیے کہ مسیح میں نجات نہ پائے ہوئے مُردوں کے آخری فیصلے کو آپ کے لیے حقیقی بنائے۔ کتابیں کھولی جائیں گی۔ خُدا آپ کی گناہوں کو کتابوں میں سے پڑھے گا۔ پھر آپ جہنم میں جھونکے جائیں گے (حوالے کے لیے ملاحظہ کریں مکاشفہ 20:11۔15)۔ پاک روح کو آپ کو یہ ضرور دکھانا چاہیے۔ پھر آپ دیکھ پائیں گے کہ آپ کو یسوع کی ضرورت کیوں ہے۔ آپ کو آسمان میں خُدا کی کتابوں میں سے اپنے گناہوں کو دھونے کے لیے یسوع کے خون کی ضرورت ہے۔ ’’اُس کے بیٹے یسوع مسیح کا خون ہمیں تمام گناہوں سے پاک صاف کرتا ہے‘‘ (1۔ یوحنا 1:7)۔

پھر آئیں، غموں سے بھرپور ہو کر پرے مت جائیں۔ میرے واعظ کو سُنیں اور یسوع میں بھروسہ رکھیں! وہ آپ کو بچائے گا! وہ آپ کو ہمیشہ کے لیے بچائے گا!

اے خُداوند نیچے بھیج، نیچے بھیج، اپنی پاک روح کو کہ اُن کو جو گناہ میں کھو گئے ہیں، میسح کی راستبازی اور فیصلے کے لیے قائل کرے، اگر وہ خُدا کے بیٹےکو مسترد کرتے ہیں۔ ہم یسوع کے نام میں مانگتے ہیں۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے دُعّا ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: یوحنا 16:7۔11 .
اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا: ’’خُدا ابھی تک
                      بلا رہا ہے God Calling Yet‘‘ شاعر گرہارڈ ٹرسٹیجن Gerhard Tersteegen (1697۔1769)


جارج وائٹ فیلڈ کی سوانح حیات: جارج وائٹ فیلڈ 1714 میں انگلستان کے شہر گلوسیسٹر میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ ایک مے خانے کے مالک کے بیٹے تھے۔ اِس ماحول میں بحیثیت ایک بچے کے اُن پر مسیحیت کا کم اثر ہوا تھا، لیکن سکول میں اُن کے اہلیت غیر معمولی تھی۔ اُنہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی جہاں وہ جان اور چارلس ویزلی کے دوست بنے اور اُن کے بائبل کے مطالعے اور دعا کے گروہ کا حصہ بنے۔

جب وہ آکسفورڈ میں ایک طالب علم ہی تھے تو اُنہیں مسیح میں تبدیلی کا تجربہ ہوا۔ اِس کے کچھ ہی عرصے بعد اُنہیں انگلستان کے گرجہ گھر میں مذہبی عُہدے پر فائز کیا گیا۔ اُن کی نئے سرے سے پیدائش کی انتہائی ضرورت کی منادی کے نتیجے میں گرجہ گھروں نے اُن پر اپنے دروازے بند کر دیے، چونکہ جسمانی پادری خوفزدہ تھے کہ اُن کے نئے سِرے سے جنم پر واعظ اُن کے علاقہ داروں کو ناراض کریں گے۔ یوں، اُنہیں زبردستی گرجہ گھروں سے نکال باہر کیا گیا، کہ وہ کُھلے میدانوں میں تبلیغ کریں، جس کی وجہ سے وہ مشہور ہو گئے۔

وائٹ فیلڈ نے 1738 میں امریکہ کے لیے سفر کیا اور ایک یتیم خانے کی بنیاد رکھی۔ اُنہوں نے بعد میں تمام امریکی نو آبادیوں اور برطانیہ میں سفر کیا تبلیغ کرتے گئے اور یتیموں کو سہارا دینے کے لیے فنڈ جمع کرتے رہے۔ اُنہوں نے سپین، ہالینڈ، جرمنی، فرانس، انگلستان، وھیلز اور سکاٹ لینڈ میں منادی کی، اور امریکہ میں منادی کرنے کے لیے بحر اوقیانوس کو تیرہ مرتبہ عبور کیا۔

وہ بنجامِن فرینکلن، جانتھن ایڈورڈز اور جان ویزلی کے گہرے دوست تھے، اور اُن میں سے ایک تھے جنہوں نے ویزلی کو میدانوں میں تبلیغ کرنے کے لیے، جیسا کہ وہ کرتے تھے، قائل کیا تھا۔ بنجامِن فرینکلن نے ایک دفعہ اندازہ لگایا کہ وائٹ فیلڈ نے تیس ہزار سامعین کو مخاطب کیا تھا۔ اُن کی بیرونی عبادتوں میں حاضرین کی تعداد اکثر 25,000 ہزار سے زیادہ ہوتی تھی۔ ایک دفعہ اُنہوں نے سکاٹ لینڈ میں گلاسگو کے قریب ایک ہی اجتماع میں 100,000 سے زیادہ لوگوں کو تبلیغ کی تھی – ایک ہی دِن میں جب کہ اُن دِنوں میں مائیکروفون بھی نہیں ہوتے تھے! دس ہزار لوگوں نے اُس عبادتی پروگرام میں مسیح میں تبدیلی کا اقرار کیا۔

بہت سے تاریخ دان اُن کا شمار اب تک کے انگریزی بولنے والے مبشرانِ بشارتِ انجیل کے عظیم ترین لوگوں میں کر چکے ہیں۔ حالانکہ بلی گراہم الیکٹرانک مائیکروفون کی مدد سے اِن سے زیادہ لوگوں سے مخاطب ہوئے تھے ، تہذیب و ثقافت پر وائٹ فیلڈ کا اثر بِلا کسی سوال کے انتہائی شدید اور زیادہ مثبت تھا۔

وائٹ فیلڈ پہلی عظیم بیداری کی نمایاں ہستی ہیں، وہ شدید تجدید نو جس نے 18 ویں صدی کے وسط میں امریکہ کے کردار کی تشکیل کی تھی۔ ہمارے مُلک میں نو آبادیوں میں تجدید نو کے ساتھ شعلے بھڑک اُٹھتے تھے جب وہ منادی کرتے تھے۔ اِس تجدید نو کا بُلند ترین دور وہ تھا جب 1740 میں چھے ہفتے کے دورانیے کا دورہ وائٹ فیلڈ نے نئے انگلستان میں کیا۔محض صرف پینتالیس دِنوں میں اُنہوں نے ایک سو پچتر واعظوں کی تبلیغ ہزاروں لاکھوں کو کی، اور اُس علاقے کو ایک روحانی ہنگامہ خیزی میں بدل دیا، جو امریکہ کی مسیحیت کے ادوار میں سے ایک شاندار دور کہلایا۔ ریاست ہائے متحدہ میں بپتسمہ دینے والوں کی تحریک کے بڑھنے کا سہرا بھی براہ راست اِس دور کے دوران وائٹ فیلڈ کی منادی کو ہی جاتا ہے۔

اپنی موت کے وقت تک اُنہوں نے لوگوں کے دِل جیت لیے تھے اور تمام انگریزی بولنے والی دُنیا کی توجہ پر حکمرانی کی۔ اُنہوں نے پرنسٹن یونیورسٹی، ڈارتھماؤتھ کالج،اور پینسِلوانیا کی یونیورسٹی کی بنیاد رکھنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اُن کا انتقال امریکی انقلاب سے چھ سال پہلے 1770 میں میساشوسٹز کے شہر نیوبری پورٹ میں تبلیغ کرنے کے کچھ ہی دیر بعد ہوا۔ (وائٹ فیلڈ کی مختصر سوانح حیات کے لیے دیکھیے ’’جارج وائٹ فیلڈ کی زندگی اور منادی The Life and Ministry of George Whitefield ‘‘ مصنف ایڈ رییز Ed Reese، بنیادی اشاعت خانے Fundamental Publishers، 126 پائن لین Pine Lane، گلین ووڈ Glenwood، ایلینوائس Illinois 60425)۔

لُبِ لُباب

’’دُنیا کوقائل کرتی ہوئی پاک روح‘‘
مصنف جارج وائٹ فیلڈ، جدید انگریزی کے لیے موافق
اور مختصر کیا گیا

“THE HOLY SPIRIT CONVINCING THE WORLD”
BY GEORGE WHITEFIELD, CONDENSED AND
ADAPTED TO MODERN ENGLISH

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’جب وہ مددگار آجائے گا تو جہاں تک گناہ، راستبازی اور اِنصاف کا تعلق ہے وہ دنیا کو مُجرم قرار دے گا‘‘ (یوحنا 16:8).

(یوحنا 16:5۔8؛ اعمال 2:39)

I.   وہ گناہ کے لیے قائل ہوتا ہے
1.  عموماً کوئی بڑا گناہ، یوحنا 4:16۔18؛ یوحنا 4:28۔29؛ اعمال 9:4 ۔
2.  اصلی گناہ – ایک بدکار فطرت، رومیوں 5:18؛ رومیوں 7:24 ۔
3.  آپ کی بہترین کوششوں کو اچھا کرنے کے گناہ، متی 25:30 ۔
4.  یسوع میں بے اعتقادی کا گناہ، یوحنا 16:9 ۔

II.  وہ راستبازی کے لیے قائل کرتا ہے، یوحنا 16:8، 10 ۔

III. وہ فیصلے کے لیے قائل کرتا ہے، مکاشفہ 20:11۔15؛ 1۔ یوحنا 1:7 ۔