Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

کہ جہنم کے عذاب انتہائی شدید ہیں –
جاناتھن ایڈورڈ کے دیئے گئے واعظ کا حصّہ نمبر5
جدید انگریزی کے لیے موافق اور مختصر کیا گیا

THAT THE TORMENTS OF HELL ARE EXCEEDING GREAT –
PART V OF A SERMON BY JONATHAN EDWARDS
CONDENSED AND ADAPTED TO MODERN ENGLISH
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
یکم فروری ، 2008، جمعہ کی شام کو
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Friday Evening, February 1, 2008

صدر ایڈورڈ کے اِس مشہور واعظ کی تاریخ نہیں ہے، لیکن یہ پہلی عظیم بیداری کے دوران دیا گیا تھا، جو 18 ویں صدی کے وسط میں ایڈورڈ کے گرجہ گھر اور کچھ آس پڑوس کے گرجہ گھروں سے شروع ہوئی تھی۔ اُس تجدید نو کو جس کا پوری دُنیا پر اثر پڑا اِس قسم کے واعظوں کے ساتھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جو جاناتھن ایڈورڈ نے دئیے تھے، جنہوں نے اپنی منادی کا اختتام پرنسٹن کے صدر کی حیثیت سے کیا (جسے اب پرنسٹن یونیورسٹی کے نام سے جانا جاتا ہے)۔

اِس واعظ کا متن کلام پاک میں سے آٹھ دلائل پر مشتمل ہے جو ظاہر کرتے ہیں کہ جہنم کے عذاب انتہائی شدید ہیں۔ اُن کی ساتویں اور آٹھویں دلیل واعظ کی آخری حصّے میں پیش کی گئیں۔ آج میں اُس واعظ کا’’اِطلاق‘‘ پیش کرنے جا رہا ہوں۔ میں نے واعظ کو کئی حصّوں میں تقسیم کیا ہے، جو ہمارے گرجہ گھر میں مسلسل چار راتوں تک بشارتِ انجیل کی عبادتوں میں پیش کیا گیا۔ یہاں، پھر، واعظ کا حتمی ’’استعمال‘‘ ہے، تلاوت لی گئی ہے لوقا 16:24،

’’اور اُس نے چلّا کر کہا، اَے باپ ابرہام، مجھ پر رحم کر، اور لعزر کو بھیج، تاکہ وہ اپنی اُنگلی کا سراپانی سے ترکر کے میری زبان کو ٹھنڈک پہنچائے؛ کیونکہ میں اِس آگ میں تڑپ رہا ہُوں‘‘ (لوقا 16:24).

اِطلاق

قابلِ فہم نتائج : ہم نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ جنت کی خوشی اور مسرت انتہائی شدید ہیں۔ اِس دُنیا میں ہماری زندگی پریشانی اور فضل و کرم، اِن دونوں کی انتہا کی ایک درمیانی حالت ہے۔ جنت کی مسرت زمین پر اِس درمیانی حالت کی زندگی سے اتنی ہی زیادہ بُلند ہے جتنی اِس سے نیچے جہنم میں بدنصیبی یا پریشانی۔ کوئی بھی ایسے جاندار موجود نہیں ہیں، جسے انسانی سمجھ قبول کر سکے، جو اِس قدر خُدا کے غصے کی مکمل قوت کو جانتے ہوں جس قدر وہ خُدا کے پیار کی بُلندی کو جانتے ہیں، کیونکہ کلامِ پاک میں لکھا ہے کہ، ’’جو نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سُنا، نہ کسی کے خیال میں آیا، اُسے خُدا نے اُن کے لیے تیار کیا ہے جو اُس سے محبت رکھتے ہیں۔‘‘ (1۔ کرنتھیوں 2:9)۔ اور خُدا اپنی قوت کی پہچان ملعنوں کی بدنصیبی کی شدت میں بھی کروائے گا۔

ہم ثبوت دیتے ہیں کہ لعنتیوں کی بدنصیبی انتہائی شدید ہوگی کیونکہ یہ خُدا قادرِمطلق کا خالص، دیوانہ قہر ہے، جو ایک انتہائی عظیم ہستی ہے، جس کے سامنے باقی تمام ہستیاں خاک کے برابر بھی نہیں ہیں۔ اِس لیے شاید ہم استدلال کر سکتے ہیں کہ جنت میں نجات پانے والوں کا فضل و کرم بہت زیادہ ہوگا،کیونکہ یہ اُسی عظیم خُدا کے خالص اور دیوانے پیار کو بالکل ظاہر کرتا ہے۔

ہم یہ بھی دلیل دیتے ہیں کہ لعنتیوں کی بدنصیبی بھی بِلا شک وشبہ شدید ہوگی، کیونکہ اُن کی سزا کا تعین خُدا کی ناخوشگوار قوت اور مسیح میں نجات نہ پانے والوں کی جانب خُدا کی ناراضگی کی ہولناکی کے اظہار کے لیے بالکل اوّل سے کیا گیا تھا۔ جب وہ اپنے پیار کااظہار کرتا ہے تو وہ خُدا کی طرح عمل کرتا ہے۔ جب وہ اپنے غصے کا اظہار کرتا ہے تب بھی وہ خُدا کی ہی طرح عمل کرتا ہے۔

چونکہ جہنم میں مسیح میں نجات نہ پانے والے لوگوں کی سزا پکی بدنصیبی ہوگی، اِس لیے اُنکا انعام جومسیح میں نجات پاتے ہیں جنت کا کامل فضل و کرم ہوگا۔

جیسا کہ جہنم کی بدنصیبی جسمانی موت میں دکھائی گئی ہے، جو کہ صرف اِس کا ایک عکس ہے، لہذا جمسانی زندگی دائمی زندگی کا ایک عکس ہے۔

جیسا کہ کلامِ پاک کی تشبیہات جہنم کی بدنصیبی ظاہر کرتی ہیں، اِسی طرح جنت کے بارے میں تشبیہات اُس کی مسرتوں کی عظمت بیان کرتی ہیں۔ اور دُنیا میں ہر چیز جو خوبصورت ہے جنت کی خوبصورتی اور خوشیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ کلامِ پاک میں اقسام اِس مسرت کی بڑھائی بھی ظاہر کرتی ہیں، بالکل جیسے وہ جہنم کی بدنصیبی کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔

اور جیسا کہ شہیدوں کی تکالیف بدکاروں کی بدنصیبی کے لیے ثبوت دیتی ہیں،اِسی طرح شہیدوں کے مصائب جنت کی مسرتوں کی نمائندگی کرتی ہیں، کہ اُن کے وہ مصائب اُن خوشیوں کے موازنے میں کچھ بھی نہیں ہیں۔ رسول اِنہیں ’’معمولی سی مصیبتیں‘‘ کہتا ہے، اور 2۔ کرنتھیوں 4:17 میں ہمیں بتاتا ہے کہ یہ ہمارے لیے ’’ایسا ابدی جلال‘‘ پیدا کر رہی ہیں جو ہمارے قیاس سے باہر ہے۔

اور جن تکالیف اور مسائل سے ہم اِس دُنیا میں گزرتے ہیں وہ نہیں ہیں جن کے ہم مستحق ہیں۔ وہ مشکلات کیا ہیں جب اُن کا موازنہ اُس تاریکی اور عذاب سے کیا جائے جس کے مستحق آپ ہیں؟ یہ قابلِ فہم قیاس ہے: کہ شدید ترین آزمائشیں ا ور مشکلات جن کا سامنا ہم اِس دُنیا میں کرتے ہیں گناہ کی سزا کے طور پر کچھ بھی نہیں ہیں جن کے آپ مستحق ہیں۔

اِستفادہ: گنہگاروں کو بیدار کرنا اور اُنہیں تحریک دینا کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ امن و حفاظت کی تلاش کریں۔ سوچیں آپ کی حالت کس قدر خوفناک ہے، جب سے آپ کو اِن ہولناک عذابوں کے لیے ملعون قرار دیا گیا ہے! اِس کے بارے میں سوچنا ہی بھیانک ہے کہ آپ کیسے حالات سے گزریں گے! اگر آپ جہنم کے بارے میں سُننے کے عادی نہیں ہیں، اگر آپ اِس کے بارے میں پہلی مرتبہ سُن رہے ہیں، تو یہ آپ کو دِن اور رات خوفزدہ کرے گی۔ آپ اِس کے خیال کو کبھی بھی اپنے ذہن سے باہر نہیں نکال سکیں گے۔ سوچیں آپ کے لیے یہ کس قدر خوفزدہ کر دینے والا ہونا چاہیے،کیونکہ آپ وہ شخص ہیں، آپ ہی وہی شخص ہیں، جس کو اِن دھشتوں کے لیے ملعون قرار دیا گیا ہے: جو کہ آپ اب بھی ہیں، اور ہر رات کو جب آپ سوتے ہیں، اور ہر دِن کو جب آپ بیدار ہوتے ہیں، ایک ملعون کی حالت میں؛ کہ آپ کی جگہ جہنم میں ہے، اُن میں سے کبھی نہ ختم ہونے والے تشددوں اور عذابوں میں جن کے بارے میں آپ نے سُنا ہے۔ اگر آپ کو جس طرح کے اب ہیں اِسی طرح مرنا چاہیے، تو آپ براہ راست بدنصیبی کے انہیں شعلوں میں جائیں گے۔

خود اپنی حالت پر نظر ڈالیے۔ اِس کے بارے میں سوچیے کہ جہنم میں کیا غیر مناسب قرار دیا جائے گا۔ آپ کیوں کسی بیل یا خچر سے زیادہ یا ایک چیونٹی سے زیادہ بے حس رہنا چاہتے ہیں؟

کیوں اِس بدنصیبی کی شدت آپ کو بیدار کرنے کے لیے کافی نہیں ہے؟ اگر یہ بدنصیبی اِس قدر شدید ہے، اور اگر آپ دانائی اور حِکمت سے عمل کرتے ہیں، تو آپ کو اِس گڑھے میں گرنے سے دھشت زدہ ہونا چاہیے۔ مرنے کا خطرہ لوگوں کو شدید دھشت زدہ کرتا ہے۔ کیوں، پھر، آپ جہنم کی دھشتوں میں سے گزرنے کے خطرات سے خوفزدہ نہیں ہیں، جو محض جسمانی موت سے کہیں زیادہ خوفناک ہیں؟ آپ کیوں جہنم جانے سے خوفزدہ نہیں ہیں؟ آپ کیوں اِس قدر پُرسکون اور بے فکر، اِس قدر کاہل اور سُست ہیں؟ آپ کیوں اِس قدر مطمئین ہیں؟ آپ کیوں اگر بچاؤ کی کوئی صورت ہے تو اُس پر کم توجہ دیتے ہیں؟ آپ کیوں نہیں اِن ہولناک، کبھی نہ ختم ہونے والے شعلوں سے بچاؤ کے لیے سخت کوشش نہیں کرتے؟ آپ کیوں کئی کئی دِنوں تک اِس کے بارے میں بالکل سوچے بغیر گزارا کر لیتے ہیں؟ آپ کیوں اِس آج کے دِن اُس خطرے کے بارے میں جس کا آپ کو سامنا ہے اِس قدر کم سوچتے ہیں؟

کیا اِس کی توجیہہ بنتی ہے کہ آپ بے خوف رہیں جب کہ یہاں امکان ہے، اور خاص طور پر بچاؤ کا اِمکان ہے؟ اور اِس سے بھی زیادہ، کیا آپ کے لیے اِس میں کوئی توجیہہ بنتی ہے کہ اپنے آپ کو روز بروز زیادہ اور مذید اور زیادہ خطرے میں ڈالیں؟

اگر آپ اپنا گھر، یا اپنی ملازمت، یا اپنی زندگی کو کھونے کے خطرے میں تھے تو کیا آپ اپنے آپ کو جھنجھوڑیں گے نہیں؟ آپ کو اِن خطرات سے خوف کھانے کے لیے منادی کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہ صرف جہنم کے خطرات کے بارے میں ہوتا ہے کہ لوگ اُس کے بارے میں بات کرنے کے لیے اور اُس کے بارے میں منادی سُننے کے لیے بے حِس و حرکت ہیں، اور اِس کے باوجود اُن میں کوئی تحریک نہیں ہوتی ہے۔

کیوں جہنم کے بارے میں آپ کو اِس سے چُھٹکارے کی تلاش کروانے کے لیے پاک کلام کی نصیحتوں کے علاوہ کسی اور توجیہہ کے لیے ضرورت محسوس ہونی چاہیے؟ اِس سے زیادہ اور کس محرک کی آپ کو ضرورت ہے؟

اگر جو کچھ خُدا کے پاک کلام میں جہنم کی ہولناکیوں کے بارے میں آپ کو بتایا گیا ہے وہ آپ کو عملی قدم اُٹھانے کے لیے بیدار نہیں کرتا، تو پھر کیا آپ کو بیدار کرے گا؟ گناہ میں گرنے کی وجہ سے لوگوں کے بچوں میں کیسی سختی اور بےوقوفی ہے!

اگر آپ اِس کے بارے میں سُننے کے عادی نہیں ہیں، تو ہم سوچیں گے کہ خُدا کا آپ کو جہنم کے بارے میں بتانا آپ کو بیدار کرنے کے لیے کافی ہوگا۔ لیکن، اگر آپ جو خُدا جہنم کے بارے میں پاک کلام میں کہتا ہے اُس کو نہیں مانیں گے، تو آپ بیدار نہیں ہونگے چاہے اگر کوئی جو جہنم میں رہ چُکا ہو آپ کو اِس کی ہولناکیوں کے بارے میں بتانے کے لیے ہی واپس کیون نہ آ جائے۔ جیسے ابراہام نے جہنم میں امیر آدمی کو کہا تھا،

’’لیکن ابرہام نے اُس سے کہا: جب وہ مُوسیٰ اور نبیوں کی نہیں سُنتے توا گر کوئی مُردوں میں سے زندہ ہو جائے تب بھی وہ قائل نہ ہوں گے‘‘
       (لوقا 16:31).

لیکن میں مذید کچھ دیر اور جاری رہوں گا تاکہ آپ کو آپ کے جہنم کے خطرے سے تعلق رکھنے والی کچھ دوسری باتوں کو سوچنے پر قائل کر سکوں، جن سے مجھے اُمید ہے کہ آپ بیدار ہوں گے، اگر آپ انتہائی حد تک بےوقوف نہیں ہیں۔

1.  یہ بہت غیر یقینی ہے کہ آپ کبھی جہنم سے بچائے بھی جائیں گے۔ ابھی تک تو کسی بات نے آپ کو بیدار نہیں کیا۔ ابھی تک آپ نے بچاؤ کے لیے کوشش نہیں کی (لوقا 13:24)۔ جب آپ جہنم کے بارے میں اِن ہولناک باتوں کو سُنتے ہیں، تو آپ سوچتے ہیں کہ آپ وہاں کبھی نہیں جائیں گے۔ کیا آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آپ اُن سے کوئی مختلف ہونگے؟
      اگر آپ نے واقعی سوچا تھا کہ آپ جہنم کے لیے جائیں گے تو آپ بہت خوفزدہ ہونگے۔ مگر آپ سوچتے ہیں کہ آپ بچاؤ کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کر لیں گے۔ آپ ’’اندر داخل ہونے کی پوری کوشش‘‘ کا عزم کریں گے (لوقا 13:24) لیکن آپ کا ایسا کرنے کی نیت کے باوجود، یہ بہت غیر یقینی ہے کہ آیا آپ کبھی جہنم سے بچ پائیں گے۔ اگر آپ سوچتے ہیں کہ کچھ اُمید ہے کیونکہ آپ کے والدین مسیحی ہیں، اِس کے باوجود یہ پھر بھی انتہائی غیر یقینی ہے۔ اگر آپ سوچتے ہیں ابھی تک نوجوان اور صحت مند ہیں، اور سوچتے ہیں کہ آپ کافی عرصہ جئیں گے، اِس کے باوجود یہ پھر بھی انتہائی غیر یقینی ہے۔ اگر آپ سوچتے ہیں کہ جو بہت سے واعظ آپ نے سُنیں ہیں آپ کی مدد کریں گے، اِس کے باوجود یہ بہت غیر یقینی ہے۔ اگر اِس قسم کی سوچیں ہی آپ کا کُل اثاثہ ہیں، تو ایک علقمند انسان آپ کے جہنم سے بچنے کے کسی خاص نتیجے کے اِمکان پر ایک ڈالر بھی نہیں لگائے گا۔

2.  خیال کریں جہنم کس قدر نزدیک ہے، کہ جہنم یقیناً نزدیک ہے۔ آپ نہیں بتا سکتے کہ یہ آپ سے کتنی نزدیک ہے۔ بے شک اگر آپ مذید پچاس سال اور جی لیں، وہ بھی جلد ہی گزر جائیں گے۔ کتنی جلدی ایک سال ختم ہوتا ہے، اورکتنی جلدی اُن میں سے پچاس سال گزر جائیں گے؟ یہ آپ کو دھشت زدہ کر دے گا اگر آپ جان جائیں کہ آپ کو کھمبے سے باندھ کر زندہ جلا دیا جائے گا، یا مرنے تک بھونا جائے گا، اب سے پچاس سال بعد۔ یہ آپ کو نزدیک نظر آئے گا۔ آپ دھشت میں دِن اور مہینے گنیں گے۔لیکن، پچاس سالوں بعد، انتہائی شدید عذابوں کی اُس جگہ میں، یہ جہنم میں جھونکے جانے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے؟ چاہے زندگی کا دور چھوٹا لگے یا نا لگے، جب آپ اُس کے اختتام پر پہنچتے ہیں، تو پھر یہ چھوٹا ظاہر ہوتا ہے، جیسا کہ آپ نے بہت سے بوڑھے لوگوں کو کہتے ہوئے سُنا ہے۔ جب آپ دائمیت میں داخل ہوتے ہیں، تو پھر زمین پر آپ کی زندگی بہت چھوٹی محسوس ہوتی ہے۔

’’تمہاری زندگی چیز ہی کیا ہے؟ وہ صرف بھاپ کی مانند ہے جو تھوڑی دیر کے لیے نظر آتی اور پھر غائب ہو جاتی ہے‘‘ (یعقوب 4:14).

3.  اِس حقیقت کا خیال کریں کہ اگر آپ جہنم سے بچاؤ کے لیے خود کو نہیں جھنجھوڑیں گے، تو آپ اِس کے عذابوں کو شدید اور شدید کرتے جائیں گے۔ ہر روز آپ مسلسل مذید اور مذید فیصلے اِس میں شامل کررہے ہیں۔ ہر روز آپ مذید اور قہر کا ڈھیر بنا رہے ہیں۔
      وہ جو جہنم میں ہیں اپنے عذابوں کی کسی بھی کمی پر بہت خوش ہونگے۔ وہ کسی بھی کمی پر بہت خوش ہونگے، چاہے وہ ایک گناہ کی سزا کی، ایک گناہ سے بھرپور لفظ کی، یا گناہ سے بھرپور خیال کی کمی ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ ہم امیر آدمی کے ذریعے سے دیکھتے ہیں جو اپنی زبان کو تر کرنے کے لیے ایک قطرہ پانی کے لیے بھیک مانگ رہا ہے (لوقا 16:24)۔ اِس لیے، اپنے آپ کے لیے جہنم کے عذابوں میں مذید اور اضافہ نہ کریں۔

4.  خیال کریں کہ اگر آپ واقعی جہنم میں جاتے ہیں، تو آپ کبھی بھی باہر نہیں آ پائیں گے۔ اگر آپ اچانک اور غیر متوقع طور پر وہاں چلے جاتے ہیں، تو آپ کو ہمیشہ کے لیے وہیں رہنا پڑے گا۔ وہاں سے باہر کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ جو وہاں جاتے ہیں وہ کبھی بھی چھٹکارہ پانے کی اُمید نہیں کر پاتے۔ وہ مایوسی اُن کے عذاب کو مذید دُگنا بُرا کر دیتی ہے۔ اگر آپ کے سرمیں درد ہوتی یا دانت میں درد ہوتی، یا اِسی قسم کی کوئی دوسری درد، اور جانتے کہ یہ درد آپ کو باقی کی تمام زندگی سہنی ہے، تو اِس سے مصیبت دُگنی ہو گی؛ یہ درد کو کہیں بڑا کر دے گی، اِسے جھیلنے کے لیے کہیں زیادہ ناقابلِ برداشت کر دے گی۔ آپ اُمید چھوڑ دیں گے، کیونکہ درد کا کوئی اختتام نہیں ہوگا۔ یہ ہے لعنتیوں کے عذابوں کے ساتھ مانی جانے والی یقینی مایوسی۔

’’وہ دروازہ تنگ اور وہ راستہ سکڑا ہے جو زندگی کی طرف لے جاتا ہے اور اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں‘‘ (متی 7:14).

(جاناتھن ایڈورڈ کے واعظ کے پانچویں حصے کا اختتام،
جدید انگریزی کے لیے موافق اور مختصر کیا گیا)

آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.