Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

کہ جہنم کے عذاب انتہائی شدید ہیں –
جاناتھن ایڈورڈ کے دیئے گئے واعظ کا حصّہ نمبر4
جدید انگریزی کے لیے موافق اور مختصر کیا گیا

THAT THE TORMENTS OF HELL ARE EXCEEDING GREAT –
PART IV OF A SERMON BY JONATHAN EDWARDS
CONDENSED AND ADAPTED TO MODERN ENGLISH
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
31 جنوری، 2008، جمعرات کی شام کو
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Thursday Evening, January 31, 2008

’’اور اُس نے چلّا کر کہا، اَے باپ ابرہام، مجھ پر رحم کر، اور لعزر کو بھیج، تاکہ وہ اپنی اُنگلی کا سراپانی سے ترکر کے میری زبان کو ٹھنڈک پہنچائے؛ کیونکہ میں اِس آگ میں تڑپ رہا ہُوں‘‘ (لوقا 16:24).

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ لعنتی روئیں گے اور ماتم کریں گے اور اپنے دانت پیسیں گے، جیسا کہ ہمیں مسیح نے متی 8:12 میں اور متی 13:42 میں بتایا ہے۔ مسیح ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے جو بدنصیبی کے سب سے زیادہ ممکن تاثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔ وہ روئیں اور ماتم کریں گے۔ وہ بہت غصے میں اپنے دانت پیسیں گے۔ اور ہمارے پاس اِس کا ایک خاص واقعہ ہماری تلاوت میں ہے، جو سادگی سے ہمیں ایک امیر آدمی کے بارے میں بتاتا ہے جو اپنی زبان کو تر کرنے کے لیے پانی کے ایک قطرے کے لیے چلا رہا ہے، جبکہ وہ ’’اِس آگ میں تڑپتا‘‘ ہے (لوقا 16:24)۔ ایڈورڈ نے چھے دلائل بدکار کی دائمی لعنت کی حمایت میں دئیے تھے۔ آج ہم اُن کے واعظ میں سے ساتویں اور آٹھویں دلیل کے ساتھ جاری رکھیں، کہ جہنم کے عذاب انتہائی شدید ہیں۔‘‘

7.  دلیل 7 – جہنم کی یہ پریشانی اپنی اقسام اور شبیہات سے انتہائی شدید ہوگی۔

1.  جسمانی موت دائمی پریشانی کا صرف سایہ اور عکس ہے۔ جسمانی موت کو عموماً اِس طرح سے لیا جاتا ہے جیسے اِس دُنیا میں انسان کے ساتھ ہونے والی سب سے بڑی تباہی یہی ہے۔ موت کے بارے میں ایسا کیا ہے جو انسان کو اِس سے اتنا خوفزدہ کرتی ہے؟ ایوب 18:14 میں موت کو ’’دھشتوں کا شہنشاہ‘‘ کہا گیا ہے۔ لوگ مرنے کے مقابلے میں ترجیحاً تقریباً کوئی بھی دُکھ اور آفت برداشت کر لیں۔ کھال کے بدلے کھال، اور وہ تمام جو ایک انسان کے پاس ہے، زندہ رہنے اور موت سے بچنے کے لیا دیا جائے گا۔
      موت کئی طرح سے ہولناک ہو سکتی ہے۔ وہ جو مر رہے ہیں اُن کی تکالیف، آہیں اور کھلبلی نہایت ناخوشگوار ہیں، اور اُن کی زندگی کو ختم ہوتے ہوئے اور مرتی ہوئی تکالیف کو ہانپتے ہوئے سانس لیتے دیکھناصدمہ انگیز ہوتا ہے، اُن کے حلقوں میں اُن کی آنکھیں گڑھی ہونا، موت کی پیلاہٹ سے اُن کے چہرے بدلنا، اور موت کی یہ تبدیلیاں دیکھنا بھیانک ہوتا ہے۔ پھر اُن کا مردہ جسم اندھیری اور سنسان زمین میں رکھ دیا جاتا ہے، جہاں وہ گلتا اور سڑتا ہے، اور انتہائی قابلِ کراہت اور غیلظ ہو جاتا ہے۔ اِس کے بارے میں سوچنا ہولناک ہوتا ہے۔ ایوب 10:21۔22 کہتی ہے،

’’اِس سے قبل کہ میں چلا جاؤں جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا، ظلمت اور موت کے سایہ کی جگہ وہ مقام جہاں راتیں بڑی تاریک، سائے بڑے گہرے اور ہر چیز بے ترتیب ہوتی ہے، جہاں روشنی بھی تاریکی کی مانند ہے‘‘ (ایوب 10:21).

لیکن یہ صرف دائمی پریشانی کا سایہ ہے۔ پاک کلام میں جسمانی موت اور روحانی موت دونوں کو ’’موت‘‘ کہا گیا ہے، اِس لیے نہیں کیوں کہ اِن دونوں کی قدرت ایک جیسی ہوتی ہے، اِس لیے کیونکہ بائبل میں کہ پہلی (جسمانی موت) دوسری (روحانی موت) کی تصویر ہے۔ اِس لیے جنت کو ایک ہیکل کہا گیا ہے، اِس لیے نہیں کیونکہ یہ اُسی طرح کی ہے جیسے کہ ایک ہیکل،بلکہ اِس لیے کیونکہ ہیکل ایک عکس تھی، ایک سایہ، اُس کی ایک قسم۔ اور جسمانی موت کو بائبل میں اکثر دائمی پریشانی کی ایک قسم کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
      لیکن اگر سایہ اور قسم اِس قدر ہولناک ہیں، تو پھر حقیقی شے کتنی بھیانک ہے! پرانے عہد نامے کی اقسام حقیقی شے سے نہایت کمتر ہیں، قربانیاں مسیح کی صلیب پر قربانی کی حقیقت سے کہیں کمتر ہیں، عبادت گاہ اور ہیکل آسمانی ہیکل کی حقیقت سے کہیں درجے کمتر ہیں۔ اِس لیے جسمانی موت دائمی موت سے انتہائی کمتر ہے۔
      جسمانی موت اُس لعنت میں شامل ہے جو آدم اور اُس کی آل اولادپر لاگو کیا گیا، ’’تُو یقیناً مر جائے گا‘‘ (پیدائش 2:17) لیکن یہ اُس موت کا ایک چھوٹا حصّہ ہے، اور صرف ایک عکس یا دائمی موت کی قسم ہے، کیونکہ یہ کہا گیا ہے کہ وہ جو مسیح میں لاتے ہیں کبھی نہیں مریں گے۔ یوحنا 11:26 کہتی ہے کہ وہ ’’کبھی نہیں مریں گے۔‘‘ یہ ظاہر کرتی ہے کہ مسیح میں سچا ایمان رکھنے والےدائمی موت کا تجربہ نہیں کریں گے۔ اِس سے میں یہ ثبوت دیتا ہوں کہ جسمانی موت کا جب دائمی موت سے موازنہ کرتے ہیں تو وہ کچھ بھی نہیں ہے،کہ اِس ہی کو مسیح نے دیکھا تھا،جو اِس کے بارے میں سب کچھ جانتا تھا، کہ یہ حقیقی موت ہے ہی نہیں،اور یہ ماسوائے عکس اور سائے کے کچھ بھی نہیں ہے۔
      ایک سچے مسیح میں ایمان لائے ہوئے کے لیے اِن دونوں میں سے یہ شے (دائمی موت) سائے سے بڑھ کر ہے۔ ایک بدکار کی دائمی موت کا روحِ رواں پریشانی اور ہولناکی میں درجے کے لحاظ سے بدکار کے لیے سائے (جسمانی موت) سے بڑھ کر ہے، اور پھر اپنی طوالت میں بھی بڑھ کر ہے۔ جسمانی موت، جیسی کہ یہ ہولناک ہے، محظ ایک گزرنے والی بات ہے۔ ایک انسان اِس کی اذیتوں کو محض چند لمحوں کے محسوس کرتا ہے۔ لیکن دائمی موت ایک مسلسل جاری رہنے والی بات ہے۔ مسیح میں ایمان نہ لائے ہوئے مرُدے ہمیشہ مر رہے ہیں۔ یہ ناصرف اتنا ہی بُرا نہیں ہے جتنا کہ ہزار بار مرنا، یا دس ہزار بار، لیکن یہ تو ہر وقت مرتے رہنے کی ایک حالت ہے، ہمیشہ کے لیے۔ اگر ایک انسان کو دائمی طور پر وہی درد اور دھشت کا تجربہ کرنا پڑے جو اُس نے جسمانی موت کے وقت محسوس کیا تھا، تو یہ جہنم کی تصویر ہوگی، اور اِسکا ایک عکس ہوگا۔

2.  ایک اور عکس یا جہنم کی قسم جو اِس کے عذابوں کی حمایت میں ثبوت دیتی ہے وادیٔ ہنّوم ہے۔ کیونکہ نئے عہد نامے میں جہنم کا نام اِس وادی کے نام سے لیا گیا ہے۔ پرانے عہد نامے میں ہنّوم کی وادی کو اکثر توفت کہا گیا ہے۔ اشعیا 30:33 میں حوالہ جہنم کے بارے میں بات کرتا ہوا ظاہر ہوتا ہے، ’’کافی عرصہ سے توفت تیار ... خُداوند کی سانس اُسے جلتے ہوئے گندھک کے چشمے کی طرح سُلگائے گی۔‘‘
      بُت پرستی کے دور میں وہ اپنے بچوں کو اپنے بتوں کے لیے بطورِ قربانی ہنّوم کی وادی میں جلاتے تھے۔ اِن بچوں کا جلایا جانا یا تو ایک اینٹوں کے تندور میں ہوتا تھا یا کھوکھلے پیتل میں آگ کے اوپر سیکا جاتا تھا۔ جہنم کے عکس یا قسم کے طور پر، یہ جہنم کے عذاب کا ایک ہولناک تصور پیش کرتا ہے۔ اینٹوں کے تندور کی تپش انتہائی خوفناک ہوتی ہے۔ ایک انسان کا عذاب بہت شدید ہوگا اگر وہ ہوش میں ہو اور ایک اینٹوں کے تندور میں بند ہو۔ یہ قسم بالکل اُس آگ کی بھٹی کی مانند ہے جس کا موازنہ بائبل میں جہنم سے کیا گیا ہے۔ ہنّوم کی وادی میں بچوں کو جلائے جانے کا دوسرا طریقہ اُنہیں آگ کے اوپر پیتل کے کھوکھلے مرتبانوں میں بند کر دینے کا تھا،اور اِس طرح اُنہیں مرنے تک کھولایا جاتا۔ یہ جہنم کی انتہائی شدید پریشانی اور عذاب کو ظاہر کرتی ہے۔
      اور ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ باتیں صرف اقسام اور سائے ہیں، اور اِس لیے بِلا شک و شبہ اُس بات سے جس کا تذکرہ ہو رہا ہے انتہائی کمتر ہیں۔ اگر اینٹوں کے تندور میں زندہ جلنا یا کھوکھلے پیتل کے مرتبانوں میں مرتے دم تک جُھلسنا صرف ایک تصویر ہے تو پھر اصل چیز کیسی ہوگی جس کی تصویر کشی کی گئی ہے؟

3.  جہنم کی ایک اور قسم (تصویر) سیدوم اور عمورہ ہیں۔ آسمان سے اِن بدکار شہروں کو تباہ کرنے کے لیے خُدا کی آگ اور گندھک کی بارش جہنم میں بے دین لوگوں پر اُس کے خوفناک قہر کی عکاسی کرتی ہے۔ لُوط کا بحفاظت سیدوم سے بچ کر نکلنا خُدا کا اپنے لوگوں کو جہنم سے بچانے کی ایک قسم ہے۔ یہودہ 7 آیت میں ہمیں خصوصی طور پر بتایا گیا کہ سیدوم اور عمورہ کے شہروں کا جلایا جانا ’’ہمارے لیے باعث عبرت ٹھہرے، اور دائمی آگ کی مصیبت میں پڑے۔‘‘ کیوں وہ آگ جس نے اُن شہروں کو جلایا ’’دائمی آگ‘‘ کہلاتی ہے اگر وہ جہنم کی دائمی آگ کی ایک قسم نہیں تھی؟
      اب جب کہ اُن شہروں کی تباہی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ آگ اور گندھک کی بارش پڑنے سے ہوئی ہے، تو یوں ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معجزانہ آسمانی بجلی کی کڑک اور آسمانی بجلی کے ذریعے سے ہوئی ہے۔ یہ غالباً اِس لیے ہے کہ وہ آسمانی بجلی کی تیز چمک کے ذریعے سے تباہ ہوئے تھے۔ یہ مرنے کا ایک طریقہ ہے جس کی اپنی خاص ایک دھشت ہے۔ اور یہ جہنم کی ہولناکی کی کس قدر مُہیب تصویر پیش کرتی ہے، کہ یہ بدکاروں کے سروں پر لگاتار بجلی کے لشکارے گرنے کی مانند ہوگا، جو اُن کی جانوں میں سے گزر گزر کر چیرتی ہے، چُندھیا دینے والی آسمانی بجلی کی چمک ہر کسی کے سر پر پڑتی ہے، اور ہر کسی کے دِل سے گزرتی ہے، اور کہ یہ کبھی ختم ہی نہیں ہو گی، جسے وہ محسوس کریں گے، اور اِس کے باوجود اِس کو زیادہ اور زیادہ محسوس کرنے کے لیے جیتے رہیں گے۔ یہ بالکل ایسا ہی نہیں ہوگا جیسا اِس دُنیا میں جب کوئی آسمانی بجلی سے مر جاتا ہے تو ہوتا ہے؛ وہ تو ایک لمحے میں مر جاتا ہے، اور وہ درد جو وہ محسوس کرتا ہے ایکدم گزر جاتی ہے۔ لیکن جہنم میں وہ یہ درد بغیر کسی وقفے کے مسلسل محسوس کرتے رہیں گے۔
      آسمانی بجلی کی آگ انتہائی گرم ہوتی ہے، جو ایکدم سخت ترین دھات کو بھی فوراً پھگلا دیتی ہے، اور جہنم کی آگ کی ایک قسم ہے۔ اِس لیے جہنم کی آگ کا اکثر موازنہ گندھک اور آگ سے اُس کے غیر معمولی غیظ و غضب کو ظاہر کرنے کے لیےکیا جاتا ہے

8.  دلیل 8 – شہیدوں کی تکالیف لعنتیوں کے عذابوں کی انتہائی شدت کا ثبوت دیتی ہے۔ میں نے یہ دلیل 1۔ پطرس 4:16۔18 سے لی ہے،


’’ لیکن اگر وہ مسیحی ہونے کی وجہ سے دُکھ اُٹھائے تو شرمائے نہیں؛ بلکہ اِس نام کی وجہ سے خدا کی تمجید کرے۔ کیونکہ وہ وقت آ پہنچا ہے کہ خدا کے گھر سے عدالت شروع ہو اور جب اُس کی ابتداہم ہی سے ہوگی تو اُن کا انجام کیا ہوگا جو خدا کے کلام کو نہیں مانتے؟ اور جب راستباز ہی مشکل سے نجات پائے گا، تو بے دین اور گنہگار کا حشر کیا ہوگا؟ (1۔ پطرس 4:16۔18).

رسول یہاں پر مسیحیوں کی تکالیف کے بارے میں بتاتا ہے، اور اِس سے یہ دیکھنے کو مِلتا ہے کہ اُن میں سے بہتوں نے اِس قدر تکالیف سہیں، تو پھر بدکاروں کی تکالیف تو بِلا مقابلہ انتہائی شدید ہونگی۔ اگر شہیدوں نے اِس قدر شدید تکالیف برداشت کیں، تو اُن کا کیا حشر ہو گا جو خُدا کے کلام کو نہیں مانتے؟ اور شہید بہت مشکل سے نجات پائیں گے، یعنی کہ اِس قدر شدید تکالیف برداشت کرنے کے بعد نجات پائی، تو پھر ’’بے دین اور گنہگاروں کا حشر کیا ہوگا‘‘؟
      تاریخ ہمیں اُن ظالمانہ عذابوں کو دکھاتی ہے جو بہت سے مسیحی شہیدوں کے ساتھ پیش آئے۔ لوگوں اور شیطانوں کے ذہنوں نے اُنہیں اذیت دینے کے کئی طریقے ایجاد کیے۔ اُنہیں زندہ جلا دینا بہت عام سا رہا ہے۔ لیکن اُن کے دشمنوں کو اِس سے تسلی نہیں ہوتی تھی۔ اُنہوں نے اُنہیں آہستہ آہستہ جُھلسا کر مارنے کے لیے طریقے دریافت کیے؛ اُنہوں نے اُنہیں مدھم آگ پر آہستہ آہستہ بھونا؛ انہوں نے اُنہیں سیخوں پر بھونا؛ اُنہوں نے اُنہیں لال سُرخ تپتی زنجیروں سے باندھا؛ اُنہوں نے ایک جیتے جاگتے شہید کو مُردے کے منہ کے ساتھ منہ لگا کر باندھا، اور اُنہیں آہستہ آہستہ مرنے کے لیے چھوڑ دیا، گلتی سڑتی ہوئی لاش کے ساتھ سختی سے باندھا؛ اُنہوں نے اُن کی ہڈیوں سے گرم تپتے ہوئے اوزاروں سے گوشت اُدھیڑا؛ اُنہوں نے کیلیں ٹھونک کر اُن کی اُنگلیاں پھاڑ ڈالیں۔ ایک شہید کے اُنہوں نےکان، گال اور ناک کاٹ ڈالی، اور پھر اُسے لال سُرخ تپتی ہوئی سلاخوں سے اُس وقت تک جلایا جب تک کہ وہ مر نہ گیا۔ ایک اور کے پیروں کے تلووں میں خنجر گھونپا گیا، اور اُس کے بعد اُس کے جسم کے حصّوں کو باری باری کاٹا گیا، اور پھر خون روکنے کے لیے جلتی ہوئی موم بتی کے ساتھ اُسے سیکا گیا، اور پھر سڑکوں کی زمین پر اُسے گھسیٹا گیا، اور پھر اُس کے سر کے اردگرد ایک رسی کو کَس کر اِس قدر بل دیے گئے کہ اُس کا بھیجہ باہر نکل آیا۔ کچھ کے ہاتھوں اور پیروں کو لوہے کے جوتوں میں اُبلتا تیل بھر کر ڈالا گیا، جنہیں بعد میں آگ لگا دی گئی جب تک کہ کھال میں سے ہڈیاں نظر نہ آنے لگتی۔ بہت سوں کو شیر، چیتوں، ریچھوں ا ور بھوکے کتّوں جیسے جنگلی جانوروں کے آگے ڈالا گیا، جنہوں نے اُن کے جسموں کے چیتھڑے اُڑا دیے۔ اور خُدا کے لوگوں نے ایسے بہت سے عذاب برداشت کیے [اور اب بھی دُنیا کے بہت سے حصّوں میں کرتے ہیں]۔ خُدا نے اُنہیں اِن حالات سے گزرنے کی اجازت دی، حالانکہ وہ اُنہیں بہت پیار کرتا تھا (حوالے دیکھیے۔ فوکسی کی شہیدوں کی کتاب Foxe’s Book of Martyrs
      پھر اُن کی مستقبل میں سزا کس قدر ہولناک ہونی چاہیے جن کے ساتھ خُدا اِس قدر ناراض ہے کہ وہ اُنہیں آسیبوں کے حوالے کر دے گا تاکہ اُنہیں عذاب دیں۔ اور آسیبوں سے یا خُدا سے اُنہیں کوئی رحم نہیں ملے گا۔ بے شک خُدا کے لوگوں کی تکالیف بعض اوقات انتہائی شدید ہوتی ہیں، اِس کے باوجود پطرس رسول ثبوت دیتا ہے کہ وہ جہنم میں بے دین لوگوں کی پریشانیوں کے مقابلے میں اِس قدر شدید نہیں ہیں۔ اور یقیناً یہ ثبوت بہت سادہ اور واضح ہے۔
       خُدا کے لوگ وہ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کو معاف کروا لیا ہے، یہ وہ ہیں جنہیں نجات دلانے کے لیے مسیح نے اپنی جان قربان کی۔ یہ وہ ہیں جنہیں خُدا ہر روز یاد رکھتا ہے۔ اور اگر کبھی وہ ناقابلِ بیان دھشت برداشت کرتے ہیں، تو پھر اُن کا کیا حشر ہوگا جو لعنتی ہیں؟ کیسا شدید غصّہ اور قہر، کیسی تکلیف اور ذہنی اذیت، اُن کو برداشت کرنی ہوگی جو خُدا کا کلام نہیں مانتے؟


یہ جاناتھن ایڈورڈ کے واعظ کا چوتھا حصّہ ہے، ’’کہ جہنم کے عذاب انتہائی شدید ہیں۔‘‘ اِس کا اختتام کل رات ہوگا۔

’’وہ دروازہ تنگ اور وہ راستہ سکڑا ہے جو زندگی کی طرف لے جاتا ہے اور اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں‘‘ (متی 7:14).

(جاناتھن ایڈورڈ کے واعظ کے چوتھے حصے کا اختتام،
جدید انگریزی کے لیے موافق اور مختصر کیا گیا)

آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.