اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔
واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔
جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔
|
کہ شریر لوگ شیطان کی اولاد ہیں – THAT WICKED MEN ARE THE CHILDREN OF THE DEVIL – ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے ’’تم اپنے باپ ابلیس کے ہو، اور اپنے باپ کی مرضی پر چلنا چاہتے ہو‘‘ (یوحنا 8: 44)۔ |
جوناتھن ایڈورڈز 1703 میں پیدا ہوئے اور 1758 میں وفات پائی۔ وہ تقریباً 17 سال کی عمر میں مسیح میں ایمان لا کر مذہبی طور پر تبدیل ہوئے [یعنی انہوں نے مسیحی عقیدے کو ذاتی طور پر اپنایا]۔ انہوں نے 19 سال کی عمر سے پہلے ہی تبلیغ کا آغاز کر دیا تھا۔ تقریباً 8 ماہ تک انہوں نے نیویارک شہر کے ایک چھوٹے سے گرجا گھر میں تبلیغ کی۔ اس کے بعد انہیں بطور ٹیوٹر ییل (Yale) بلایا گیا اور وہ وہاں دو سال تک مقیم رہے۔ 1724 میں انہیں نارتھ فیلڈ، میساشوسٹس کے ’فرسٹ کانگریگیشنل چرچ‘ میں بلایا گیا اور وہاں مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے اپنے دادا ڈاکٹر سولومن اسٹوڈارڈ کے ساتھ بطور معاون پادری خدمات انجام دیں۔ دو سال بعد ان کے دادا کا انتقال ہو گیا اور ایڈورڈز وہاں کے پاسٹر بن گئے۔
1734-1744 کی پہلی عظیم بیداری اُن کے گرجا گھر میں، اور کچھ پڑوسی گرجا گھروں میں، زیادہ تر اُن کی تبلیغ کے تحت شروع ہوئی۔ اُن کے واعظوں کا اُن کے سامعین پر زبردست اثر تھا اور یہاں تک کہ عظیم مبشر جارج وائٹ فیلڈ کے خیالات کو بھی متاثر کیا، جِنہوں نے پہلی عظیم بیداری میں ایڈورڈز کے ساتھ تھوڑی دیر تک کام کیا۔ یہاں تک کہ اپنے ابتدائی تبلیغ کے دنوں سے ہی ایڈورڈز اپنی گہری سوچ اور آتش تبلیغ کے لیے جانے جاتے تھے۔ اُن کی آواز حکم دینے والی نہیں تھی اور گفتگو میں اُن کے تاثرات کم ہوتے تھے۔ لیکن اُن کے بہت سے واعظ زبردست تھے (مندرجہ بالا پیراگراف ایلگین ایس موئیرElgin S. Moyer کی کتاب، کون کلیسیا کی تاریخ میں کون تھا Who Was Who in Church History، کیٹس پبلیشنگ کارپوریشن Keats Publishing, Inc، 1974 ایڈیشن، صفحہ 129 سے اخذ کیے گئے تھے)۔
ایڈورڈز کی وعظ و تبلیغ کے زیرِ اثر، 1734-1735 کے دوران نارتھمپٹن میں ان کی کلیسیا اور آس پاس کے کئی گرجا گھروں میں ایک زبردست مذہبی بیداری کا مشاہدہ کیا گیا۔ 1739 میں، ایک بار پھر ایڈورڈز کی تبلیغ ہی کے نتیجے میں، ایک اور زیادہ وسیع پیمانے پر بیداری کا عمل شروع ہوا جسے پہلی عظیم بیداری First Great Awakening کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس عرصے کے دوران ایڈورڈز کی ملاقات جارج وائٹ فیلڈ سے ہوئی، جنہوں نے انگلستان میں ایڈورڈز کی تحریروں کی تشہیر کی۔ جان ویزلی نے بھی، کسی حد تک، ان کی تحریروں کو فروغ دیا۔ ان کی کتابیں اور خطبات ہی وہ بنیاد تھے جن سے اٹھارویں صدی کے وسط میں اس عظیم الشان مذہبی بیداری کا آغاز ہوا۔ انہوں نے نہ صرف پہلی عظیم بیداری کو فروغ دیا، بلکہ حقیقی معنوں میں وہ اُس خُدائی وسیلے کا درجہ رکھتے تھے جسے خدا نے تمام بیداریوں میں سب سے عظیم بیداری کی لہر کو برپا کرنے کے لیے استعمال کیا (مذکورہ بالا پیراگراف کون مسیحی تاریخ میں کون تھا Who’s Who in Christian History سے ماخوذ ہیں، جس کتاب کے ایڈیٹرز جے ڈی ڈگلس اور ڈونلڈ مچل تھے، ٹائنڈیل ہاؤس پبلشرز، 1992، صفحہ 224 سے ماخوذ ہے)۔
آج رات میں آپ کے سامنے جوناتھن ایڈورڈز کے واعظ ’’کہ شریر لوگ شیطان کی اولاد ہیں That Wicked Men are the Children of the Devil‘‘ پر ولیم سی نکولز کے تبصروں کا ایک مختصر خلاصہ پیش کر رہا ہوں۔ براہِ کرم جوناتھن ایڈورڈز کے اس واعظ پر کیے گئے ان تبصروں کو سماعت فرمائیں۔
’’تم اپنے باپ ابلیس کے ہو، اور اپنے باپ کی مرضی پر چلنا چاہتے ہو‘‘ (یوحنا 8: 44)۔
یوحنا کے 8 ویں باب میں، یسوع مذہبی یہودیوں کے ساتھ بات کر رہا ہے جنہوں نے، آیت 31 کے مطابق، ’’اس پر یقین کیا تھا۔‘‘ یہ کوئی عام بے اعتقادے کافر نہیں تھے۔ انہوں نے ابراہیم کو اپنا باپ قرار دیا اور یقین رکھتے تھے کہ وہ اس کی پیروی کر رہے ہیں۔ یسوع، تاہم، انہیں مطلع کرتا ہے کہ وہ نہ صرف گناہ کے غلام تھے بلکہ یہ بھی کہ ان کا باپ درحقیقت ابراہیم نہیں تھا بلکہ شیطان تھا (یوحنا 8: 44)، ’’تم اپنے باپ ابلیس کے ہو۔‘‘
شیطان کا نام اصل میں لوسیفر تھا۔ اس نے خدا کے اختیار کے خلاف بغاوت کی اور خدا کی حکومت کو ختم کرنے کی کوشش کی، اور خود کو خدا کے طور پر قائم کیا۔ اشعیا نبی خود سربلندی کی اپنی قابل فخر خواہش کو بیان کرتا ہے،
’’اے صبح کے ستارے، فجر کے بیٹے، تو کیسے آسمان سے گِرا! تو جو کسی زمانے میں قوموں کو زیر کرتا تھا، خود بھی زمین پر پٹکا گیا! تو اپنے دِل میں کہتا تھا، میں آسمان پر چڑھ جاؤں گا اور اپنا تخت خدا کے ستاروں سے بھی اونچا کروں گا۔ میں جماعت کے پہاڑ پر تخت نشین ہوں گا، اُس مقدس پہاڑ کی بالائی چوٹیوں پر۔ میں بادلوں کے سروں سے بھی اونچا چڑھ جاؤں گا، میں خدا تعالیٰ کی مانند بنوں گا‘‘ (اشعیا 14: 12۔14)۔
لوسیفر خدا اور اس کے اختیار کی فرمانبرداری اور تابعداری میں زندگی گزارنے پر راضی نہیں تھا۔ وہ خود کو ”خدا کی مانند“ بنانا چاہتا تھا۔
یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ شیطان نے آدم اور حوا کو اسی طرح آزمایا۔ شیطان نے حوا کو بتایا کہ اگر اس نے نیکی اور بدی کے علم کے درخت کا پھل کھایا تو وہ خدا کی طرح ہو جائے گی۔
’’کیونکہ خدا جانتا ہے کہ جس دِن تم اِسے کھاؤ گے تمہاری آنکھیں کُھل جائیں گی اور تم خدا کی مانند نیکی اور بدی کے جاننے والے بن جاؤ گے‘‘ (پیدائش 3: 5)۔
دوسرے لفظوں میں، آپ کو یہ بتانے کے لیے خدا کی ضرورت نہیں رہے گی کہ کیا کرنا ہے۔ آپ خود کفیل اور آزاد ہو سکتے ہیں۔ آپ خود طے کر سکتے ہیں کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا۔ آپ اپنے خود کے خدا بن سکتے ہیں۔ ’’خداؤں‘‘ جیسا بننے کی خواہش میں، جب آدم اور حوا نے خدا کے اختیار کو رد کیا تو وہ درحقیقت حیوانوں جیسے بن گئے۔ وہ مکمل طور پر بگڑ گئے اور اخلاقی پستی کا شکار ہو گئے۔ ان کے دل کا ہر ارادہ خود غرضانہ ہو گیا۔ وہ خود پسندی اور صرف اپنے لیے جینے، اپنے خود غرضانہ مقاصد حاصل کرنے اور اپنی خود غرضانہ خواہشات کو پورا کرنے کی تمنا سے بھر گئے۔ اس طرح گناہ کر کے وہ خود ابلیس کی مانند بن گئے۔ آدم کی تمام اولاد کو اِخلاقی پستی والی یہ بگڑی ہوئی فطرت ورثے میں ملی، جو ’’ذات‘‘ کو ہی مرکزِ نگاہ بناتی ہے۔ یہ بات ہر انسان کے بارے میں سچ ہے۔
ایڈورڈز کے ایک اور واعظ کا عنوان ہے، ”انسان کی فطرت اس قدر بگڑ چکی ہے کہ وہ ایک انتہائی شریر اور نقصان دہ مخلوق بن گیا ہے۔“ اس واعظ میں ایڈورڈز نے کہا: ”فطری طور پر انسان کے پاس اپنے اعمال میں رہنمائی کے لیے… ’ذات سے محبت‘ کے سوا کوئی اور اصول نہیں ہوتا … اسے خدا کے جلال یا دوسروں کی بھلائی کا ذرا بھی مخلصانہ خیال نہیں ہوتا۔ وہ اپنے فائدے، اپنی ترقی اور اپنی خواہشات کی تسکین ہی کے درپے رہتا ہے، قطع نظر اس کے کہ اس کا دوسروں کی بھلائی پر کیا اثر پڑتا ہے۔“
’’تم اپنے باپ ابلیس کے ہو، اور اپنے باپ کی مرضی پر چلنا چاہتے ہو‘‘ (یوحنا 8: 44)۔
شیطان کائنات کی کسی بھی دوسری ہستی کی نسبت خود سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ انسان اس کی تقلید اور پیروی کریں؛ یعنی وہ خود کو خدا کے مقام پر فائز کریں اور صرف اپنی ذات کو خوش کرنے کے لیے زندگی گزاریں۔
جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے، آدم اس وقت گمراہ ہوا جب اس نے خدا جیسا بننے کی کوشش کی، جب اس نے خدا سے آزادی اور خود کفالت حاصل کرنے اور خود اپنا خدا بننے کی خواہش کی۔ اپنی ہر سرگرمی میں، فطری انسان اپنی شہوانی اور نفسانی خواہشات کی تسکین کے ذریعے لذت کا متلاشی رہتا ہے، یا پھر اپنے متکبرانہ نفس کی تسکین کے ذریعے طاقت، عزت اور شہرت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایڈورڈز نے کہا، ”وہ شیطان کے مانند ہیں کیونکہ وہ بھی اسی قسم کی شہوتوں اور گناہوں کے زیرِ اثر ہوتے ہیں جن میں شیطان مبتلا ہے۔ ان کی فطرت بھی ویسی ہی شریر ہے۔ شیطان اور ایمان سے محروم انسان فطرت کے اعتبار سے یکساں ہیں۔ ان میں خدا کے خلاف وہی دشمنی، وہی تکبر اور وہی بغض پایا جاتا ہے۔ ایمان سے محروم انسان شیطانی فطرت کے حامل ہوتے ہیں... انسان اور شیطان، دونوں میں گناہ کا سرچشمہ خود پرستی ہی ہے۔“
لیکن ایمان سے محروم لوگ اپنے بارے میں یہ تسلیم نہیں کرنا چاہتے۔ مسیح کے ایمان سے محروم لوگ بالکل اسی طرح [اپنے آپ میں] غصے میں ہو جاتے ہیں جیسا کہ یہودی یسوع کے دنوں میں تھے جب انہیں اس نے بتایا تھا،
’’تم اپنے باپ ابلیس کے ہو، اور اپنے باپ کی مرضی پر چلنا چاہتے ہو‘‘ (یوحنا 8: 44)۔
مسیح میں ایمان سے محروم لوگ کہتے ہیں کہ یہ بات ان پر صادق نہیں آتی، حالانکہ یہ سچ ہے۔ وہ اپنے بارے میں بہت اونچا خیال رکھتے ہیں۔ ایڈورڈز نے کہا، ”آپ خود کو بہت سے اچھے کام کرنے والا سمجھتے ہیں۔ آپ بائبل پڑھتے اور دعا کرتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ آپ نے بہت سے نیک کام کیے ہیں۔ اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے کیے گئے نیک کاموں کی خدا کے ہاں قدر ہونی چاہیے، مگر خدا آپ کے بارے میں ویسا نہیں سوچتا جیسا آپ خود کے بارے میں سوچتے ہیں۔ خدا جانتا ہے کہ آپ چاہے کتنے ہی اچھے کام کیوں نہ کر لیں، اب بھی شیطان ہی آپ کا باپ ہے؛ اور آپ اسی کی اولاد ہیں۔ کیونکہ اپنی تمام تر ظاہری نیکی کے باوجود، آپ کے اندر سانپ کا زہر موجود ہے۔ آپ زہریلے سانپوں کی نسل سے ہیں، اگرچہ آپ خود میں یہ بات نہیں دیکھ پاتے۔ پھر بھی آپ کا دل درحقیقت شیطان، یعنی اس پرانے سانپ، کی زہریلی فطرت جیسا ہے۔“ یوں، ایمان نہ لانے والوں کے دل اور شیطان کا دل آپس میں بہت مشابہت رکھتے ہیں۔
’’تم اپنے باپ ابلیس کے ہو، اور اپنے باپ کی مرضی پر چلنا چاہتے ہو‘‘ (یوحنا 8: 44)۔
ایڈورڈز اس عقیدے کو لوگوں کو ان کے ’’اپنے دلوں کی بدکاری‘‘ کا احساس دلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ ’’چونکہ تم شیطان کی اولاد ہو، اس لیے خدا تمہیں بھی اسی قدر ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے جس قدر وہ شیطان کو دیکھتا ہے۔ خدا شیطان کی تمام اولاد کو شدید غضب کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ خدا بدکاروں سے ہر روز ناراض رہتا ہے؛ یعنی جب تم سو رہے ہوتے ہو یا جاگ رہے ہوتے ہو، بیٹھتے ہو یا کھڑے ہوتے ہو، تب بھی وہ تم سے ناراض ہوتا ہے۔ خدا کا غضب ہر وقت تمہارے خلاف بھڑکتا رہتا ہے۔‘‘ خدا ایمان نہ لانے والوں پر زور دیتا ہے کہ وہ …’’یہ دیکھیں اور تسلیم کریں کہ خدا کا تمہیں بدستور حقارت کی نظر سے دیکھنا اور تمہاری اصل حالت اور تمہارے کیے گئے تمام برے کاموں کی پاداش میں تمہیں ہلاکت [یا جہنم] کے سپرد کرنا عین انصاف اور عدل پر مبنی ہوگا، کیونکہ جب خدا شیطان اور اس کی اولاد یعنی تم لوگوں کو ہلاکت کے سپرد کرتا ہے تو وہ نہ تو ناانصافی کا مرتکب ہوتا ہے اور نہ ہی غلطی کرتا ہے۔‘‘
لیکن آج کل وہ لوگ جنہوں نے توبہ نہیں کی، درحقیقت یہ نہیں دیکھتے اور نہ ہی تسلیم کرتے ہیں کہ خدا کا انہیں ہلاکت کے لیے ٹھہرانا درست اور عین انصاف ہے۔ کوئی بھی شخص اس بات پر اس وقت تک یقین نہیں کرے گا جب تک کہ وہ انسانوں کے دلوں اور فطرت کی بدی کے باعث خدا کی روح کے ذریعے عاجز اور شکستہ نہ ہو جائے۔
بائبل کہتی ہے،
”خدا شریروں سے ہر روز ناراض رہتا ہے“ (زبور 7: 11)۔
جب آج اس قسم کی کوئی آیت سکھائی جاتی ہے تو اس سے وہ لوگ ناراض ہو سکتے ہیں جنہوں نے ابھی تک ایمان قبول نہیں کیا یا جن کا ایمان محض ظاہری اور جھوٹا ہے۔ لیکن اگر ہم وہ تعلیم نہیں دیتے جو بائبل سکھاتی ہے، تو ہم درحقیقت بھٹکے ہوئے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہوتے ہیں۔
’’تم اپنے باپ ابلیس کے ہو، اور اپنے باپ کی مرضی پر چلنا چاہتے ہو‘‘ (یوحنا 8: 44)۔
ہم لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں جب ہم ان سے یہ کہنے کے لیے کہتے ہیں، ’’ہمارا باپ جو آسمان پر ہے‘‘ [’’عشائے ربانی‘‘ کی دعا میں] جب کہ خدا ان کا باپ ہی نہیں ہے۔ ان کا حقیقی باپ شیطان ہے،
’’تم اپنے باپ ابلیس کے ہو، اور اپنے باپ کی مرضی پر چلنا چاہتے ہو‘‘ (یوحنا 8: 44)۔
ایڈورڈز نے کہا، ”اگر تم واقعی شیطان کی اولاد ہو، تو خدا تمہیں بھی اسی طرح ہلاک کر دے گا جیسے تمہارے باپ یعنی ابلیس کو ہلاک کیا جائے گا۔ تم جہنم میں اسی کے ساتھ ہو گے۔ تم شیطان کے ساتھ اسی ابدی آگ میں رہو گے، اور تم پر اسی طرح نفرت کی نگاہ ڈالی جائے گی جیسی خدا اور پاک فرشتے ابدالآباد تک ڈالتے رہیں گے۔“ جوناتھن ایڈورڈز کے اس سلسلے کا اگلا وعظ آپ کو بتائے گا کہ جہنم کے عذاب دراصل کیسے ہوں گے۔*
*یہ تحریر جوناتھن ایڈورڈز کے واعظ ’’کہ شریر لوگ شیطان کی اولاد ہیں That Wicked Men are the Children of the Devil‘‘ پر ولیم سی نکولس کے تبصروں کا خلاصہ ہے؛ یہ مواد مسٹر نکولس کی 2006 میں شائع ہونے والی کتاب جنہم کے عذاب: جاناتھن ایڈورڈز دائمی لعنت پر The Torments of Hell: Jonathan Edwards on Eternal Damnation سے لیا گیا ہے۔
اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔
(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ
www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔
یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔