Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


ناقابلِ تبدیل مسیح – کرسمس کا ایک واعظ

THE UNCHANGEABLE CHRIST – A CHRISTMAS SERMON
(Urdu)

ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونئیر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خداوند کے دِن کی صبح، 9 دسمبر، 2007
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Morning, December 9, 2007

’’یسوع مسیح کل، اور آج بلکہ ابد تک یکساں ہے‘‘
(عبرانیوں13: 8).

یہ اندھیری رات میں تھا کہ خداوند کا فرشتہ چرواہوں پر ظاہر ہوا اور مسیح کی پیدائش کا اعلان کیا۔ آج دنیا پھر سے تاریک ہے۔ یہ تاریکی میں اس دنیا کے پس منظر کے خلاف ہے کہ کرسمس کا پیغام معنی رکھتا ہے۔

ڈاکٹر کارل ایف ایچ ہنری Dr. Carl F. H. Henry بیسویں صدی کے ایک مشہور انجیلی عالم الٰہیات تھے۔ اپنی زندگی کے آخر میں ڈاکٹر ہنری نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ایک عظیم تہذیب کی سحر Twilight of a Great Civilization ہے۔ اس کے چند اقتباسات یہ ہیں۔ ڈاکٹر ہنری نے کہا،

ہماری نسل خدا کی سچائی سے بھٹک گئی ہے… اس نقصان کی قیمت اسے بت پرستی کو تیزی سے دوبارہ جڑ پکڑنے میں چکانا پڑ رہی ہے… وحشی آ رہے ہیں۔ ایک پوری نسل پروان چڑھ رہی ہے جس کو تخلیق نو [نئے جنم] کے بارے میں کوئی شعور نہیں ہے … وحشی ایک زوال پذیر تہذیب کی دھول کو ہلا رہے ہیں اور پہلے ہی ایک معذور کلیسیا کے سائے میں نظر بچا کر دبے پاؤں گھس رہے ہیں (کارل ایف ایچ ہنری، پی ایچ ڈی Carl F. H. Henry, Ph.D.,، ایک عظیم تہذیب کی سحر Twilight of a Great Civilization، کراس وے بکسCrossway Books، 1988، صفحات 15-17)۔

سپریم کورٹ میں ان کی متنازع تلخ نامزدگی کے ایک دہائی بعد، جج رابرٹ بورک Robert Bork نے کہا،

ہماری ثقافت تقریباً ہر شعبے میں زوال کا شکار ہے، مقبول موسیقی سے لے کر مذھب تک (آج کی مسیحیتChristianity Today، 19مئی، 1997، صفحہ30)

اُنہوں نے کہا کہ ہم بنتےجا رہے ہیں

…ایک سفاکانہ اور افراتفری کا کلچر…زیادہ سے زیادہ بیمار کرنے والی پستی میں ڈوب رہا ہے (رابرٹ ایچ بورک Robert H. Bork، گومورہ کی طرف بے ھنگم جھکنا: دورِ حاضرہ کی لبرل ازم اور امریکی زوال، ہارپر کولنز HarperCollins، 1996، صفحہ 140)۔

بلی گراہم نے کہا، ’’ہم ایک ایسا معاشرہ ہیں جو خود تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے‘‘ (لاس اینجلس ٹائمز Los Angeles Times، 3مئی، 1996، صفحہ A-10)۔ یسوع نے کہا،

’’تم لڑائیوں کی خبریں اور افواہیں سُنو گے… کیونکہ قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھایاں کریں گی۔ جگہ جگہ قحط پڑیں گے اور زلزلے آئیں گے۔ مصیبتوں کا آغاز انہی باتوں سے ہو گا… بہت سے جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیں گے۔ بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث کئی لوگوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی‘‘ (متی24: 6۔12).

مسیح کی وہ پیشن گوئی ہمارے زمانے میں پوری ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ہر روز ہم گلوبل وارمنگ، دہشت گردی، جنگ، اسقاط حمل جیسا قتل عام یا ہولوکاسٹ، قحط اور نئی بیماریوں کی تباہ کاریوں کی سنگین پیشن گوئیاں سنتے ہیں۔ ہم اپنے چاروں طرف تبدیلی اور زوال دیکھتے ہیں۔ اور ہم پوچھ سکتے ہیں، ’’کیا کوئی چیز مستقل ہے؟ کیا کوئی ایسی چیز ہے جو سڑتی اور ٹوٹتی یا مرجھاتی نہیں؟‘‘ بائبل کہتی ہے کہ ایسی چیز ہے جو کبھی نہیں بدلتی۔

’’یسوع مسیح کل، اور آج بلکہ ابد تک یکساں ہے‘‘ (عبرانیوں13: 8).

I۔ پہلی بات، مسیح وہی گزرا ہوا کل تھا۔

بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ وہ

’’بنائے عالم سے ذبح کیا ہوا برّہ ہے‘‘ (مکاشفہ13: 8).

اُس آیت کے بارے میں ڈاکٹر گِل نے کہا،

[مسیح] کو پہلے ہی سے مسح کیا تھا، بنائے عالم سے پہلے، اپنے لوگوں کو اپنے خون کے وسیلہ سے مخلصی دلانے کے لیے پہلے ہی سے مقرر کیا گیا تھا (جان گل، ڈی ڈی، نئے عہد نامہ کی ایک تفسیر An Exposition of the New Testament ، دی بیپٹسٹ سٹینڈرڈ بیئرر، 1989 دوبارہ اشاعت، جلد III، صفحہ 793) .

’’اُس نے ہمیں نجات دی ہے اور پاک زندگی کے لیے بُلایا ہے۔ یہ ہمارے اعمال کے سبب سے نہیں تھا بلکہ اُس کے اپنے خاص مقصد اور فضل کے سبب سے تھا اور یہ فضل ہم پر مسیح یسوع میں ازل ہی سے ہو گیا تھا‘‘ (2 تیموتاؤس1: 9)۔

بائبل سکھاتی ہے کہ مسیح ابدی بیٹا ہے، اِکلوتا جو بنایا نہیں گیا، مقدس تثلیث کی دوسری ہستی ہے۔ ہم پولوس رسول کے ساتھ کہہ سکتے ہیں، کہ خدا

’’یسوع مسیح کے وسیلے سے تمام دُنیا تخلیق کی‘‘ (افسیوں3: 9).

’’اُسی کے وسیلہ سے خدا نے سب کچھ خلق کیا ہے، چاہے وہ چیزیں آسمان کی ہوں یا زمین کی، دیکھی ہوں یا اندیکھی، تخت ہوں یا ریاستیں، حکومتیں ہوں یا اختیارات۔ اِس سب کو خدا نے مسیح کے ذریعہ اور اُسی کی خاطر پیدا کیا۔ وہ سب چیزوں میں سب سے پہلے ہے اور اُسی میں سب چیزیں قائم رہتی ہیں‘‘ (کلسیوں1: 16۔17)۔

اور یوحنا رسول کے ساتھ مل کر ہم کہہ سکتے ہیں،

’’ابتدا میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام ہی خدا تھا۔ کلام شروع میں خدا کے ساتھ تھا۔ سب چیزیں اُسی کے وسیلہ سے پیدا کی گئی اور کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اُس کے بغیر وجود میں آئی ہو‘‘ (یوحنا1: 1۔3)۔

’’یسوع مسیح کل، اور آج بلکہ ابد تک یکساں ہے‘‘ (عبرانیوں13: 8).

اور یہ ’’کل‘‘ تھا، ماضی کے زمانے میں، کہ مسیح آسمان سے زمین پر رہنے کے لیے نیچے آیا تھا۔

’’لیکن جب وقت پورا ہو گیا تو خدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا جو عورت سے پیدا ہوا اور شریعت کے ماتحت پیدا ہوا‘‘ (گلِتیوں4: 4)۔

کرسمس کے بارے میں یہی ہے – خدا بیٹے کا مجسم ہونا! وہ آسمان سے نیچے آیا، انسانی جسم میں ملبوس ہوا تھا، اور ہمارے درمیان رہا! بنی نوع انسان کے گناہ اس پر گتسمنی کے باغ میں لاد دیے گئے تھے،

’’اور وہ درد و کرب میں مبتلا ہو کر اور بھی دلسوزی سے دعا کرنے لگا اور اُس کا پسینہ خون کی بوندوں کی مانند زمین پر ٹپکنے لگا‘‘ (لوقا22: 44)۔

اُنہوں نے اُسے گرفتار کر کے کوڑوں سے مارا۔ اُنہوں نے اُسے صلیب پر کیلوں سے جڑا، جہاں وہ ’’صحیفوں کے مطابق ہمارے گناہوں کے لیے‘‘ مر گیا (1 کرنتھیوں15: 3)۔ لیکن ’’وہ صحیفوں کے مطابق تیسرے دن دوبارہ جی اُٹھا‘‘ (1 کرنتھیوں15: 4)۔ جب وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا تو اُس نے کہا،

’’میرے ہاتھ اور پاؤں دیکھو، یہ میں خود ہی ہوں۔ مجھے چھو کر دیکھو کیونکہ روح کی ہڈیاں ہی ہوتی ہیں اور نہ گوشت جیسا کہ تم مجھ میں دیکھ رہے ہو‘‘ (لوقا24: 39)۔

’’جب وہ اُنہیں برکت دے رہا تھا تو اُن سے جدا ہو گیا اور آسمان پر اُٹھا لیا گیا‘‘ (لوقا24: 51)۔

یہ سب ماضی میں ہوا۔ لیکن ہماری تلاوت مذید اور بتاتی ہے، جو ہمیں اگلے نقطہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

II۔ دوسری بات، آج بھی مسیح وہی ہے۔

’’یسوع مسیح کل، اور آج ۔۔۔ تک یکساں ہے‘‘ (عبرانیوں13: 8).

اشعیا نبی نے کہا کہ خدا

’’اُس کی عمر دراز ہوگی‘‘ (اشعیا53: 10)۔

اُس آیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے عظیم سپرجئین نے کہا،

’’وہ اُس کی عمر کو دراز کرے گا۔‘‘ ہاں، اس کے نام کو برکت ہو، جب وہ مر گیا تو اس نے اپنی زندگی ختم نہیں کی۔ اسے زیادہ دیر قبر میں قید نہیں رکھا جا سکتا تھا۔ تیسری صبح ہوئی، اور فاتح، اٹھ کھڑا ہوا… موت کے لوہے کے پٹّے پھاڑ دیے، اور جیل خانہ سے باہر نکلا، مذید اور قربان کے لیے نہیں۔ اُس نے اپنے چالیس دن انتظار کیا، اور پھر مقدس گیت کی آوازوں کے ساتھ، اُس نے ”اسیری کی پُرتوجہ رہنمائی کی اور عالم بالا میں اُٹھا لیا گیا۔ ’’اس میں وہ مر گیا وہ ایک بار گناہ کے لیے مرا۔ لیکن اس میں وہ جیتا ہے وہ خدا کے لئے جیتا ہے،‘‘ مزید مرنے کے لئے نہیں.

اب وہ اپنے باپ کے پہلو میں بیٹھتا ہے،
   اور وہاں فاتحانہ حکمرانی کرتا ہے،

موت اور جہنم پر فاتح (سی۔ ایچ۔ سپرجئین C. H. Spurgeon، ’’مسیح کی موت The Death of Christ،‘‘ نئی پارک سٹریٹ کا منبر The New Park Street Pulpit، پلگریم پبلیکیشنز Pilgrim Publications، دوبارہ اشاعت1981، جلد سوئم، صفحہ 72)۔

’’یسوع مسیح کل، اور آج ۔۔۔ تک یکساں ہے‘‘ (عبرانیوں13: 8).

خُدا اُس کی عمر کو دراز کر چکا ہے، اور مسیح آج بھی اتنا ہی زندہ اور حقیقی ہے جیسا کہ وہ ماضی میں تھا – جب وہ صلیب پر مر گیا اور جسمانی طور پر مردوں میں سے جی اُٹھا۔ رسول اپنی ابتدائی منادی میں لوگوں کو یہ بتائے بغیر شاید ہی کبھی ایک واعظ کی بھی تبلیغ کر پائے ’’وہ زندہ ہے! وہ زندہ ہے! وہ زندہ ہے!‘‘ مثال کے طور پر، پینتیکوست کے دن، پطرس نے ’’اپنی آواز بلند کی‘‘ (اعمال2: 14) اور کہا،

’’اُسی یسوع کو خدا نے زندہ کیا جس کے ہم گواہ ہیں۔ وہ خدا باپ کے داہنے ہاتھ کی طرف سربُلند ہوا… یہ اُسی روح کا نزول ہے جسے تم دیکھتے اور سُنتے ہو‘‘ (اعمال2: 32۔33)۔

اور وہاں اُوپر آسمان میں خدا باپ کے داہنے ہاتھ پر، وہ جی اُٹھا مسیح،

’’[ہماری] شفاعت کرنے کے لیے ہمیشہ زندہ ہے‘‘ (عبرانیوں7: 25)۔

کوئی آپ کے لیے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کے لیے دعا کر رہا ہے۔ آپ میں سے بہت سے مسیحی مائیں اور باپ ہیں جو روزانہ آپ کی نجات کے لیے دعا کر رہے ہیں۔ لیکن آج صبح یہاں کچھ غریب نوجوان ہیں جو اپنے سروں کو جھکا سکتے ہیں اور پوچھ سکتے ہیں، ’’کیا میرے بچا لیے جانے کے لیے دعا کرنے والا کوئی نہیں ہے؟‘‘ کیوں، ہاں، ضرور ہے! دعا کا سب سے بڑا آدمی جو کبھی پیدا ہوا ہے وہ آپ کے لیے دعا کر رہا ہے! اور اس کا نام یسوع ناصری ہے۔ وہ ہمیشہ جنت میں آپ کی نجات کے لیے دعا کرنے کے لیے زندہ رہتا ہے! یسوع آپ کے لیے دعا کر رہا ہے! اور جلد ہی اس کی دعائیں قبول ہوں گی۔ جلد ہی آپ سزایابی کے تحت آ جائیں گے، اپنے لیے اس کی ضرورت کو دیکھیں گے، اور اس کے منتظر بازوؤں میں جلدی سے چلے آئیں گے، کیونکہ وہ

’’[ہماری] شفاعت کرنے کے لیے ہمیشہ زندہ ہے‘‘ (عبرانیوں7: 25)۔

یہ وہی یسوع ہے جو آپ کی روح کی نجات کے لیے دعا کرتا ہے، انتہائی وہی یسوع، جو یروشلم کی سڑکوں پر چلتا تھا، اور آپ کے گناہوں کے لیے صلیب پر مرا۔ وہی یسوع آپ کے لیے دعا کرتا رہے گا جب تک کہ آپ تبدیل نہیں ہو جاتے۔ اور مجھے یقین ہے کہ آپ کے لیے اس کی دعا کا اتنا ہی خوش کن جواب ملے گا، جیسا کہ ہماری دعاؤں نے ہمارے گرجہ گھر میں ایک لڑکی کے لیے کیا تھا جو چند ہفتے پہلے موت کے دہانے پر پہنچی تھی۔ اُس نے اُس کو جسمانی موت سے زندہ کیا، اور وہ آپ کو ’’قصوروں اور گناہوں میں‘‘ موت سے زندہ کرے گا (افسیوں2: 1)، کیونکہ

’’[ہماری] شفاعت کرنے کے لیے ہمیشہ زندہ ہے‘‘ (عبرانیوں7: 25)۔

وہ ہے،

’’یسوع مسیح کل، اور آج ۔۔۔ تک یکساں ہے‘‘ (عبرانیوں13: 8).

وہ آج بھی ویسا ہی ہے جیسا کبھی تھا۔ اور مجھے یقین ہے کہ آپ کے لیے اس کی دعائیں جلد ہی قبول ہوں گی۔ تب ہم سب کتنے خوش ہوں گے، جب آپ اُس کی طرف رجوع کریں گے جو آپ سے محبت کرتا ہے، اور نجات پائیں گے – اُس کی دعاؤں کے جواب میں! لیکن ہماری تلاوت میں ایک اور خیال بھی ہے، جو ہمیں اس واعظ کے آخری نقطہ تک لے جاتا ہے۔

III۔ تیسری بات، مسیح ہمیشہ تک ایسا ہی رہے گا۔

مہربانی سے کھڑے ہوں اور ہماری تلاوت عبرانیوں13: 8 آیت کو باآوازِ بُلند پڑھیں۔ اِس کو اُونچا اور اچھی طرح پڑھیں، آخری تین الفاظ پر زور دیتے ہوئے۔

’’یسوع مسیح کل، اور آج بلکہ ابد تک یکساں ہے‘‘ (عبرانیوں13: 8).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

حالانکہ میں یقین رکھتا ہوں کہ ’’فیصلہ سازیت‘‘ کی نجات پر بلی گراھم Billy Graham غلط ہیں، میں پورے دِل کے ساتھ اُس کے ساتھ متفق ہوتا ہوں جب اُنہوں نے کہا،

بائبل سکھاتی ہے کہ کل مسیح بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خداوند ہوگا۔ خدا کے دور میں ایک عرصہ ہے جب مسیح اس دنیا میں واپس آئے گا۔ بائبل یہ اعلان کرنے میں واضح ہے کہ مسیح… واپس آئے گا۔ خدا دنیا کو [نہیں] بھولا ہے، اور ایک سلگتی ہوئی تہذیب کے جلتے ہوئے انگارے سے، خدا ایک [مملکت] کو تشکیل دے گا جس میں مسیح بادشاہ ہوگا… اس طرح مسیح نے آخر کار اس زمین پر حکومت کرنے کے لیے اپنی صحیح جگہ حاصل کر لی ہوگی۔ (بلی گراھم، ڈی ڈی Billy Graham, D.D.,، ’’بادشاہ پیدا ہوا ہےThe King is Born،‘‘ فیصلہDecision میگزین، دسمبر 2007، صفحہ 5)۔

جب وہ دن آئے گا تو یسوع آسمان سے واپس آئے گا، اور اس کے لباس پر ایک نام لکھا ہو گا جس پر لکھا ہو گا، ’’بادشاہوں کا بادشاہ، اور خداوندوں کا خدا‘‘ (مکاشفہ19: 16)۔ کتنا شاندار دن ہوگا جب،

’’دُنیا کی بادشاہی ہمارے خداوند اور اُس کے مسیح کی ہو چکی ہے اور وہ ہمیشہ تک بادشاہی کرتا رہے گا‘‘ (مکاشفہ11: 15)۔

تب ہماری تلاوت کا مکمل مطلب ساری نسل انسانی کے دیکھنے کے لیے سادہ ہو جائے گا،

’’یسوع مسیح کل، اور آج بلکہ ابد تک یکساں ہے‘‘ (عبرانیوں13: 8).

جیسا کہ مسٹر گریفتھ نے ایک لمحہ پہلے گایا،

وہ دوبارہ آ رہا ہے، وہ دوبارہ آ رہا ہے،
بالکل وہی یسوع، جِسے لوگوں نے رد کیا؛
وہ دوبارہ آ رہا ہے، وہ دوبارہ آ رہا ہے،
عظیم جلال اور قوت کے ساتھ، وہ دوبارہ آ رہا ہے!
    (’’وہ دوبارہ آ رہا ہے He is Coming Again، شاعر میبل جانسٹن کیمپ Mabel Johnston Camp، 1871۔1937).

’’یسوع مسیح کل، اور آج بلکہ ابد تک یکساں ہے‘‘ (عبرانیوں13: 8).

اور ایک اور بات۔ ناقابل تبدیل مسیح آج صبح آپ کے لیے دستیاب ہے۔ اس کے پاس آؤ۔ اُس پر بھروسہ کریں، اور وہ خُدا کے ریکارڈ سے ہر اُس گناہ کو مٹا دے گا جو آپ نے کبھی کیا ہے، یا کبھی کیا ہو گا! اور وہ آپ کی جان کو ہمیشہ اور ہمیشہ کے لیے، ابدیت کے لیے محفوظ رکھے گا۔ آپ جلد ہی یسوع کے پاس آئیں! اس کے نام میں۔ آمین


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

لُبِ لُباب

ناقابلِ تبدیل مسیح – کرسمس کا ایک واعظ

THE UNCHANGEABLE CHRIST – A CHRISTMAS SERMON

ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونئیر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’یسوع مسیح کل، اور آج بلکہ ابد تک یکساں ہے‘‘
(عبرانیوں13: ).

(متی24: 6۔12)

I.   پہلی بات، مسیح وہی گزرا ہوا کل تھا، مکاشفہ13: 8؛
IIتیموتاؤس1: 9؛ افسیوں3: 9؛ کُلسیوں1: 16۔17؛
یوحنا1: 1۔3؛ گلِتیوں4: 4؛ لوقا22: 44؛ Iکرنتھیوں15: 3، 4؛
لوقا24: 39، 51 .

II.  دوسری بات، آج بھی مسیح وہی ہے، اشعیا53: 10؛ اعمال2: 14، 32۔33؛
عبرانیوں7: 25؛ افسیوں2: 1 .

III. تیسری بات، مسیح ابد تک وہی رہے گا، مکاشفہ19: 16؛ 11: 15 .