Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

خوشخبری کا اوّلین پرچار

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 29)
THE PROTEVANGELIUM
(SERMON #29 ON THE BOOK OF GENESIS)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

خُدا کے دِن کی شام، 21اکتوبر، 2007 کو دیا گیا ایک واعظ
لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں
A sermon preached on Lord’s Day Evening, October 21, 2007
at the Baptist Tabernacle of Los Angeles

’’اور خداوند خدا نے سانپ سے کہا چونکہ تو نے یہ کیا ہے، اس لیے چوپایوں میں اور تمام دشتی جانوروں میں ملعون ٹھہرا! اپنے پیٹ کے بل رینگے گا اور اپنی عمر بھر خاک چاٹے گا۔ اور میں تیرے اور عورت کے درمیان، اور تیری نسل اور اس کی نسل کے درمیان، عداوت ڈالوں گا وہ تیرا سر کُچلے گا اور تو اُس کی ایڑی پر کاٹے گا‘‘ (پیدائش 3:14۔15).

آدم اور حوّا کے گناہ کر چکنے کےبعد خُداوند خُدا باغ عدن میں نیچے آیا۔ اُس نے اُن کا یہ پوچھتے ہوئے سامنا کیا،

’’کیا تو نے اُس درخت کا پھل کھایا ہے جسے کھانے سے میں نے تجھے منع کیا تھا؟ (پیدائش 3:11).

آدم نے اپنی بیوی کو وہ منع کیا ہوا پھل اُسے پیش کرنے کے لیے موردِ اِلزام ٹھہرایا۔ مگر حوّا زیادہ ہی صاف گو تھی اور کہا،

’’سانپ نے مجھے بہکایا اور میں نے کھایا‘‘ (پیدائش 3:13).

اِس کے باوجود اُن میں سے کسی نے بھی اپنے گناہ کے لیے معافی نہیں مانگی۔ ڈاکٹر ھنری ایم۔ مورس Dr. Henry M. Morris نے کہا،

حالانکہ اُنہیں دُکھ تھا کہ وہ پکڑے جا چکے تھے… یہاں پر کسی سچی ندامت کی کوئی نشاندہی نہیں ہے، مگر اِس کے بجائے خود کا انصاف کرنے کے لیے محض ایک کوشش ہے۔ اِس کے مطابق، خُداوند خدا کے لیے ماسوائے سزا جاری کرنے کے عمل کے اور کوئی چارہ نہیں تھا (ھنری ایم۔ مورس، پی۔ایچ۔ ڈی Henry M. Morris, Ph.D.، پیدائش کا ریکارڈ The Genesis Record، بیکر کُتب گھر Baker Book House، 1896 ایڈیشن، صفحہ117)۔

یوں، خُداوند خُدا نے لعنتوں کے ایک سلسلے کا اعلان کیا، جس میں شامل تھا – سانپ پر لعنت، بچے کو جنم دینے پر لعنت، آدم اور اُس کی آل اولاد پر لعنت، اور خود تخلیق پر لعنت۔ آج رات کی ہماری تلاوت کا تعلق اِن لعنتوں میں سے پہلی کے ساتھ ہے – سانپ پر لعنت۔ آیت 14 میں ہم سانپ پر لعنت کو دیکھتے ہیں۔ آیت 15 میں ہم شیطان اور خُدا کے درمیان کشمکش، اور شیطان پر مسیح کی فتح کو دیکھتے ہیں

I۔ اوّل، لعنت شیطان پر نازل ہوئی تھی۔

چودویں آیت پر نظر ڈالیں۔

’’تب خداوند خدا نے سانپ سے کہا چونکہ تو نے یہ کیا ہے، اس لیے چوپایوں میں اور تمام دشتی جانوروں میں ملعون ٹھہرا! تو اپنے پیٹ کے بل رینگے گا اور اپنی عمر بھر خاک چاٹے گا‘‘ (پیدائش 3:14).

مہربانی سے اوپر دیکھیے۔

جب آدم نے گناہ کیا تو وہ روحانی طور پر مر گیا تھا جسمانی موت اُس کے بدن میں شروع ہو گئی تھی۔ ڈاکٹر مورس نے کہا

چونکہ آدم کو زمین پر حکومت کرنے کے لیے مقرر کیا گیا تھا، اور چونکہ آدم مرنے کا آغاز کر چکا تھا، تو اُس کی حکمرانی نے بھی ’’مرنا‘‘ شروع کر دیا تھا۔ اُس وقت سے، ’’ہم جانتے ہیں کہ ساری خلقت آج تک کراہتی ہے گویا کہ وہ دردِ زہ میں مبتلا ہے‘‘ (رومیوں8:22)۔ پولوس رسول کی جانب سے اِس حالت کو ’’بدکاری کی اسیری‘‘ کہا گیا ہے... کیونکہ تخلیق کو فنا کی غلامی کے ماتحت کر دیا گیا تھا…‘‘ (رومیوں8:20، 21) (ibid.، صفحہ117)۔

لعنت پہلے شیطان پر، پھر حوّا پر، پھر آدم اور اُس کی آل اولاد پر نازل ہوئی تھی؛ ’’شیطان کے لیے یہ حتمی اور ناقابل تنسیخ تھی۔ اُس نے نا صرف خُدا کے خلاف آسمان میں بغاوت کی تھی، بلکہ اب اُس نے اپنی بغاوت کے ساتھ نسل انسانی کو بھی عفونت دار کر دیا تھا‘‘ (ibid.)۔

سانپ ’’تمام چوپایوں میں اور تمام دشتی جانوروں میں معلون ٹھہرایا‘‘ گیا تھا (پیدائش3:14)۔ خُدا نے سانپ کو انسان کے لیے ایک یاد دہانی کے طور پر معلون ٹھہرایا تھا کہ یہ مخلوق وہ آلہ تھی جس کے ذریعے سے شیطان نے انسان کو آزمائش میں مبتلا کیا اور اُس کی برگشتگی کا سبب بنا، اور شیطان کی حتمی تباہی کی یاد دہانی کے طور پر معلون ٹھہرایا تھا۔ ڈاکٹر مورس نے کہا، پہلے اُس کی چاہے کیسی ہے خوبصورتی اور اُس کی کیسی ہی وضع رہی ہو، اب سے یہ اپنے پیٹ کے بل رینگے گا اور سب کے لیے خوف اور تنفّر کا موجب ہوگا‘‘ (ibid.، صفحات117۔118)۔ ڈاکٹر ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل Dr. W. A. Criswell نے کہا، ’’خُداوند خُدا نے شیطان کو سزا دی کیونکہ اِس مخلوق نے خود کو آزمائش میں مبتلا کرنے والے کے لیے مہیا کیا تھا جس نے پہلے دو انسانوں کی برگشتگی کی بنیاد رکھی تھی۔ خُداوند خُدا نے سانپ کو فوراً ہی سزا کے سپرد نہیں کر دیا تھا بلکہ ایک نہایت ہی کم تر اور حقیر مخلوق کے طور پر ایک طویل جدوجہد کے بعد سزا کا موجب ٹھہرایا تھا‘‘ (ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل، پی ایچ۔ ڈی W. A. Criswell, Ph. D.، کرسویل کا مطالعہ بائبل The Criswell Study Bible، تھامس نیلسن Thomas Nelson، 1979، پیدائش 3:14 پر ایک غور طلب بات)۔ ڈاکٹر رائیری Dr. Ryrie نے کہا، ’’جانوروں کی تمام کی تمام سلطنت انسان کی برگشتگی سے متاثر ہوئی تھی (حوالہ دیکھیں یرمیاہ12:4؛ رومیوں8:20)، مگر سانپ کو انتہائی جسامت اور حرکات کو بدل دیا گیا اور وہ دِل شکستہ ہو گیا‘‘ (چارلس سی۔ رائیری، پی ایچ۔ ڈی Charles C. Ryrie, Ph. D.، رائیری کا مطالعہ بائبل The Ryrie Study Bible، موڈی پریس Moody Press، 1978، پیدائش3:14 پر ایک غور طلب بات)۔

II۔ دوئم، لعنت شیطان پر نازل ہوئی تھی۔

مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور پیدائش 3:15 باآواز بُلند پڑھیں۔

’’اور میں تیرے اور عورت کے درمیان، اور تیری نسل اور اس کی نسل کے درمیان، عداوت ڈالوں گا وہ تیرا سر کُچلے گی اور تو اُس کی ایڑی پر کاٹے گا‘‘ (پیدائش 3:15).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ اِس آیت کو ’’خوشخبری کا اوّلین پرچار protevangelium‘‘ کہا جاتا رہا ہے – خوشخبری کا پہلا تزکرہ۔ ڈاکٹر ایم۔ آر۔ ڈیحان Dr. M. R. DeHaan نے کہا،

ہم آپ کو یاد دِلا دیں کہ یہ ایک صاف اور واضح پیشن گوئی اور مسیح اُس نجات دہندہ کی تصویر ہے (ایم۔ آر۔ ڈیحان، ایم۔ ڈی۔ M. R. DeHaan, M. D.، پیدائش میں مسیح کی شبیہات Portraits of Christ in Genesis، ژونڈروان اشاعتی گھر Zondervan Publishing House، 1966، صفحہ 62)۔

یہاں پر اِس اہم آیت میں سے کچھ نقاط ہیں۔

1. اوّل، یہ شیطان، خُداوند خُدا کے دشمن کے لیے بولی گئی تھی۔ یہ شیطان پر ایک اِشتہار کی خدمت سرانجام دیتا ہے کہ وہ بالاآخر عورت کی ’’نسل‘‘ سے شکست کھائے گا۔

2. دوئم، یہ ظاہر کرتا ہے کہ آنے والے زمانوں میں شیطان کی ’’نسل‘‘ اور عورت کی ’’نسل‘‘ کبھی نہ ختم ہونے والی کشمکش میں مبتلا رہیں گے: ’’میں تیرے اور عورت کے درمیان، تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالوں گا۔‘‘ ڈاکٹر میگی Dr. McGee نے کہا،

سب سے زیادہ نمایاں سوچ وہ حتمی فتح نہیں ہے جو آئے گی [’’عورت کی نسل‘‘ سے] بلکہ طویل مسلسل جدوجہد ہے... یہ آیت اُس حقیقت کو آشکارہ کرتی ہے کہ نیکی اور بدی کے مابین ایک طویل جدوجہد ہونی ہے... یوحنا... اِس کشمکش کو تزکرہ 1یوحنا3:10 میں کرتا ہے: ’’اِسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ کون خُدا کے فرزند ہیں اور کون ابلیس کے۔ جو کوئی راستبازی کے کام نہیں کرتا وہ خُدا سے نہیں، اور وہ جو اپنے بھائی سے محبت نہیں رکھتا وہ بھی خُدا سے نہیں۔‘‘ یوں ہم اپنے سامنے یہ حقیقت لا چکے ہیں کہ یہاں پر ایک کشمکش ہے، یہیں جدوجہد ہے، اور یہیں پر اِس دُنیا میں دو نسلیں ہیں (جے۔ ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th. D.، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن Thomas Nelson، 1981، جلد اوّل، صفحہ 26)۔

ہر وہ شخص جو مسیحی بننے کے بارے میں سوچ رہا ہے اُسے اِس بات کا احساس ضرور ہونا چاہیے کہ اُس کو کشمکش میں کسی نہ کسی طرف ہونا ہی ہے۔ یا تو اُس کو شیطان کی ’’نسل‘‘ کی طرف ہونا ہے یا پھر اُس کو عورت کی ’’نسل‘‘ کی طرف ہونا ہے، جو کہ مسیح ہے۔ درمیانی راہ کوئی نہیں ہے۔ آپ اِس طویل جنگ میں یا تو مسیح کی طرف ہیں، یا آپ شیطان کی طرف ہیں۔ کوئی بھی غیر جانبدار نہیں ہے۔ خود سے ایمانداری کے ساتھ پوچھیں، آج کی رات آپ اِس جاری رہنے والی جدوجہد میں کونسی طرف ہیں اُن کی طرف جو شیطان کی پیروی کرتے ہیں یا اُن کی طرف جو مسیح کے پیروکار ہیں۔ آپ کونسی طرف ہیں؟

3. سوئم، غور کریں کہ مسیح ’’عورت کی نسل‘‘ ہے۔ تیری نسل [شیطان کی نسل] اور عورت کی نسل کے درمیان۔‘‘ بائبل میں یہ واحد جگہ ہے جہاں پر ایک عورت کو ’’نسل‘‘ رکھنے کے لیے کہا گیا ہے۔ یہ مسیح کی کنواری سے پیدائش کی پہلی پیشن گوئی ہے، جس کو ’’عورت کی نسل‘‘ کہا گیا ہے۔ اشعیا نے اِس کی پیشن گوئی بعد میں کی تھی جب اُس نے لکھا، ’’دیکھو، ایک کنواری [عبرانی صحائف میں ’’عُلماء almah‘‘ ہمیشہ کنواریوں کے بارے میں بات کرتے ہیں، اور متی 1:23 میں اور لوقا1:27 میں الہٰام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’کنواری‘‘ ہی اُس کا مطلب ہے]... ایک کنواری حاملہ ہوگی، اُس کے ہاں بیٹا پیدا ہوگا، اور وہ اُس کا نام عمانوائیل رکھے گی‘‘ (اشعیا7:14) – ’’خُداوند خُدا ہمارے ساتھ ہو‘‘ – مسیح کی ایک تفصیل، وہ خُدائے انسان، جو انسانی جسم میں آیا۔ ’’خُدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا جو عورت سے پیدا ہوا‘‘ (گلِتیوں4:4)۔ مسیح ’’مسیح عورت کی نسل‘‘ ہے۔ تمام کے تمام بڑے بڑے تبصرہ نگار اِس بات پر متفق ہیں۔

4. چہارم، جیسا کہ عورت کی ’’نسل‘‘ مسیح میں اختتام پزیر ہوتی ہے، ویسے ہی سانپ کی ’’نسل‘‘ دشمن مسیح Antichrist میں اپنے اختتام پر پہنچتی ہے۔ پیدائش3:15 میں اختتام پزیر ہونے کی جدوجہد کی پیشن گوئی دشمن مسیح [دجال] اور مسیح کے بیچ میں وقوع پزیر ہوگی۔ مسیح کی آمد ثانی پر مسیح کے دشمن [دجال] کو آگ کی جھیل میں جھونک دیا جائے گا (مکاشفہ 19:20)۔ شیطان، جو کہ مسیح کے دشمن [دجال] کے اندر رہتا ہے (جیسا کہ وہ سانپ میں رہا) اُس کو بادشاہت کے زمانے کے آغاز پر ہی آگ کی جھیل میں جھونک دیا جائے گا (مکاشفہ 20:2۔3)۔

5. پنجم، پیدائش3:15 میں جدوجہد کے آغاز کے درمیان اور اِس کی اختتام پر مکاشفہ 20 میں، کشمکش شیطان کی حمایت میں ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ غور کریں کہ آیت میں دو ’’ٹھیس پہنچانے والی باتیں ہیں۔ 1599 کی جینیوا بائبل سانپ کے لیے خدا کے کلام کا ترجمہ بطور ’’وہ تیرے سر کو کُچلے گا، اور تو اُس کی ایڑی پر کاٹے گا‘‘ (جینیوا بائبل The Geneva Bible، 1599، ٹول لیگی Tolle Lege، دوبارہ اشاعت 2006، پیدائش3:15)۔ سانپ کی نسل عورت کی نسل کی ایڑی پر کاٹے گی۔ مگر مسیح، جو کہ عورت کی ’’نسل‘‘ ہے، آخر میں شیطان کے سر کو ’’کچلے‘‘ گا۔ ڈاکٹر ڈیحان نے کہا،

اِن میں سے ایک تاریخ ہے – جب نجات دہندہ پہلی مرتبہ آیا تو وہ دشمن کے لیے ایک فتح دیکھائی دی، کیونکہ نجات دہندہ کو صلیب پر چڑھا دیا گیا تھا۔ یہاں پر اُس کی ایڑی پر کاٹا گیا تھا، جو کہ ہمارے نجات دہندہ کی موت اور مصائب کی علامت تھا جو ’ہماری خطاؤں کے سبب سے گھائل کیا گیا اور ہماری بداعمالی کے باعث کُچلا گیا‘ (اشعیا53:5)۔ پیدائش3:15 کی پیشن گوئی ... کا یہ حصہ تاریخ ہے۔ یہ تقریباً دو ہزار سال پہلے رونما ہو چکا ہے، مگر یہ صرف مسیح کی ایڑی تھی جس پر کاٹا گیا تھا۔ سانپ کے سر کا جو دوسرا ’کاٹا‘ جانا [یا ’کچلا‘‘ جانا – جینیوا بائبل] اب بھی مستقبل ہے... نجات دہندہ کی ایڑی پر اُس کی پہلی آمد پرکاٹا گیا تھا، مگر شیطان کا سر [مسیح کی] کُچلا جائے گا مسیح کی آمد ثانی پر۔ صرف یہ ہی پیدائش3:15 آیت کی پیشن گوئی کی ممکنہ تاویل ہے... [مسیح کی] ایڑی پر کاٹا جانا کوئی [حتمی طور پر] مہلک نہیں تھا، مگر [شیطان کے] سر کا کُچلا جانا [یا کاٹا جانا] جان لیوا ہے... یہ رونما ہوگا جب [مسیح] زمین پر واپس آئے گا، ذاتی طور پر اور اختیار کے ساتھ، اور جب ’وہ اژدھا، وہ بوڑھا سانپ، جو کہ ابلیس ہے اور شیطان ہے ایک ہزار سالوں تک کے لیے باندھا جائے گا اور اتھاہ گہرائیوں میں جھونک دیا جائے گا‘‘ (ڈیحانDeHaan، ibid.، صفحات 64۔65)۔

ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice نے کہا،

اب خُدا نے ہمیشہ کے لیے اُس معلون سانپ کو علامت ٹھہرایا یہ بتانے کے لیے کہ گناہ کے سبب سے زمین خون ایک لعنت کے تحت ہے، اور ہمیں یاد دلانے کے لیے کہ خود شیطان، پرانا سردار سانپ اور اژدھا، ایک دِن اتھاہ گہرائیوں والے گڑھے میں ڈال دیے جائیں گے! سانپ تمام نسل انسانی کے دیکھنے کے لیے گناہ کی اور گناہ پر خدا کے انصاف کی ایک علامت بن جاتا ہے (جان آر۔ رائس، ڈی۔ ڈی۔ John R. Rice, D.D.، ابتداء میں In the Beginning، خداوند کی تلوار پبلیشرز Sword of the Lord Publishers، 1975، صفحہ 138)۔

’’اور میں تیرے اور عورت کے درمیان، اور تیری نسل اور اس کی نسل کے درمیان، عداوت ڈالوں گا وہ تیرا سر کُچلے گا اور تو اُس کی ایڑی پر کاٹے گا‘‘ (پیدائش 3:15).

اب، میں اِطلاق کے تین نقاط پیش کروں گا۔ ہم تلاوت سے تین اہم باتیں سیکھتے ہیں:

1. اوّل، یہاں پرآپ کی روح کے لیے ایک جدوجہد ہے۔

’’اور میں تیرے اور عورت کے درمیان، اور تیری نسل اور اس کی نسل کے درمیان عداوت ڈالوں گا…‘‘ (پیدائش 3:15الف).

دُنیا اب بہت بڑے پیمانے پر شیطان کی حکومت کے تحت ہے۔ اُس کو موجودہ زمانے میں ’’اِس جہاں کا خدا‘‘ کہا گیا ہے (2۔ کرنتھیوں4:4)۔ اُس کی حکومت کے تحت، یہ دُنیا مسیح کے خلاف ہے۔ یہاں آپ کے باطن میں ایک جدوجہد ہے، آیا آپ شیطان کی ’’نسل‘‘ کا حصہ ہونگے یا مسیح کی ’’نسل‘‘ کا۔ آپ کو ایک یا دوسرے کا ہونا چاہیے۔ اِن کے بیچ میں کوئی راہ نہیں ہے۔ خُداوند خُدا کہتا ہے، ’’اُن میں سے نکل کر الگ رہو... تب میں تمہیں قبول کروں گا، اور میں تمہارا باپ ہوں گا‘‘ (2۔ کرنتھیوں6:17۔18)۔ آپ کی روح میں ایک اندرونی جدوجہد جاری رہتی ہے۔ کیا آپ اِس جہاں کے ساتھ چلتے رہیں گے – یا کیا آپ مسیح کے لیے اِس جہاں سے باہر آئیں گے؟ اِسے ایک یا دوسرا ہونا چاہیے، کیونکہ یہاں پر ’’تیری نسل اور اُس کی [یسوع] نسل‘‘ کے درمیان ایک متواتر جنگ ہے (پیدائش3:15 الف)۔

2. دوئم، گناہ کا انصاف کیا جائے گا۔

’’وہ تیرا سر کُچلے گا‘‘ (پیدائش3:15ب)، جینیوا بائبل The Geneva Bible, 1599)۔

خُدا نا صرف سانپ کا سر کاٹے اور کُچلے، وہ آپ کا سر بھی کچل ڈالے گا اگر آپ گناہ میں جاری رہتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ خُدا آپ کی زندگی اور دِل کا ہر گناہ دیکھتا ہے۔ ’’کیونکہ خُدا ہر ایک فعل کو ہر ایک پوشیدہ بات سمیت، خواہ وہ اچھی ہو یا بُری، عدالت میں لائے گا‘‘ (واعظ 12:14)۔ آخری عدالت میں آپ کا انصاف خُدا کی کتابوں میں ’’اُن اعمال کے مطابق کیا جائے گا جو اُن کتابوں میں درج تھے‘‘ (مکاشفہ20:12)۔ اگر آپ کے گناہوں کو مسیح کے خون سے پاک صاف اور ڈھانپا نہیں گیا ہے تو آپ کو ’’آگ کی جھیل میں جھونک دیا‘‘ جائے گا (مکاشفہ20:15)۔

3. سوئم، نجات صرف مسیح کے ذریعے سے آتی ہے، جو عورت کی حتمی ’’نسل‘‘ ہے۔ مسیح ایک کنواری سے پیدا ہوا تھا، لٰہذا اُس کی طبعیت میں آدم کے گناہ کی کوئی آلودگی نہیں تھی۔ شیطان نے مسیح کو بہت مرتبہ مصلوب ہونے سے روکنے کے لیے قتل کرنے کی کوشش کی۔ شیطانی طور پر متاثر ہوئے ہیرودیس بادشاہ نے اُس کو جب وہ بچہ تھا تو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ فریسیوں نے اُس کو پہاڑ سے دھکا دے کر قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ کچھ کہتے ہیں کہ گتسمنی کے باغ میں شیطان نے اُس کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، اور اِس میں شاید کچھ نہ کچھ سچائی ہو، کیونکہ یہ کئی رُخ رکھنے والا ایک گہرا سوال ہے۔ شیطان سے متاثر ہوئے لوگوں نے اُس کو صلیب پر کیلوں سے جڑا، یہ سوچتے ہوئے کہ اِس طرح سے وہ عورت کی ’’نسل‘‘ کو تباہ کر دیں گے۔ مگر اُنہوں نے دوسرا رُخ نہیں دیکھا تھا، کہ خُدا نے تو اُس [یسوع] پر پہلے یہ ہی حکم نافذ کیا ہوا تھا کہ یوں ہمارے گناہوں کی ادائیگی کے لیے مرنا ہے۔

’’جب وہ خدا کے مقررہ انتظام اور علم سابق کے مطابق پکڑوایا گیا تو تُم نے اُسے غیر یہودیوں کے ہاتھوں صلیب پر ٹنگوا کر مار ڈالا۔ لیکن خدا نے اُسے موت کے شکنجہ سے چھُڑا کر زندہ کردیا کیونکہ یہ ناممکن تھا کہ وہ موت کے قبضہ میں رہتا‘‘ (اعمال 2:23۔24).

خُدا کے انصاف سے بچنے کے لیے صرف ایک ہی راہ ہے۔ خُدا کی ’’کتابوں‘‘ میں آپ کے گناہوں کو ڈھانپنے اور پاک صاف کرنے کے لیے صرف ایک ہی راہ ہے۔ اور وہ ایک راہ مسیح کے خون کے ذریعے سے ہے، جو عورت کی ’’نسل‘‘ ہے، جو صلیب پر آپ کو آپ کے گناہ کے لیے فیصلے سے بچانے کے لیے مرا۔

جان بریڈفورڈ John Bradford (1510۔1555) ایڈورڈ ششم بادشاہ King Edward VI کا پروٹسٹنٹ پادری تھا۔ وہ انگلستان میں سب سے زیادہ اہم پیورٹن مبلغین میں سے ایک بنا تھا۔ پھر پروٹسٹنٹ بادشاہ ایڈورڈ مر گیا اور کاتھولک ملکہ ’’خونی مریم Bloody Mary‘‘ تخت نشین ہوئی۔ اُس نے ٹاور آف لندن میں جان بریڈفورڈ کو تنہا مسیح کے ذریعے سے صرف فضل کے وسیلے سے نجات کی تبلیغ کرنے پر اٹھارہ مہینوں کے لیے قید کر دیا۔ جب اُس پر اُس کے پروٹسٹنٹ اعتقادوں کے لیے ایک بدعتی کے طور پر حتمی کوشش کی گئی تو ملکہ میری Mary نے اُس کو کھمبے سے بندھوا کر آہستہ آہستہ جلا کر – زندہ بھون کر مارنے کا حکم دیا! پیدائش3:15 پرلکھتے ہوئے، جان ٹریپ John Trapp(1601۔1669) نے کہا، ’میں اُس مقدس شہید [جان بریڈفورڈ] کے اُس یادگار قول سے نتیجہ اخذ کرتا ہوں – اگر ہمیں سانپ کے زہر کا احساس ہوتا، تو ہم اپنے کپتان [مسیح] میں خوشی مناتے، جس نے اُس کے سر کو کُچلا تھا‘۔‘‘ (جان ٹریپ John Trapp، نئے اور پرانے عہد نامے پر ایک تبصرہ A Commentary on the Old and New Testament، ٹرانسکی اشاعت خانے Transki Publications، دوبارہ اشاعت 1997، جلد اوّل، صفحہ 20)۔

میں اپنے تمام دِل کے ساتھ آپ سے مسیح کو قبول کرنے اور اُس کے خون کے وسیلے سے گناہ سے پاک صاف ہو جانے کی تمنا رکھتا ہوں! زمانوں کے جان بریڈفورڈ اور مقدس شُہدا کے ساتھ شامل ہوں! مسیح کو قبول کریں اور یسوع کے خون کے وسیلے سے جو تمام گناہ سے پاک صاف کرتا ہے خُدا کے قہر اور انصاف سے نجات پائیں!

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت ڈاکٹر کرھیٹن ایل چیعن Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: پیدائش3:8۔15.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’جی ہاں، میں جانتا ہوں! Yes, I Know!‘‘ (شاعرہ آنہ ڈبلیو۔ واٹرمین Anna W. Waterman، 1920)۔

لُبِ لُباب

خوشخبری کا اوّلین پرچار

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 29)
THE PROTEVANGELIUM
(SERMON #29 ON THE BOOK OF GENESIS)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’اور خداوند خدا نے سانپ سے کہا چونکہ تو نے یہ کیا ہے، اس لیے چوپایوں میں اور تمام دشتی جانوروں میں ملعون ٹھہرا! اپنے پیٹ کے بل رینگے گا اور اپنی عمر بھر خاک چاٹے گا۔ اور میں تیرے اور عورت کے درمیان، اور تیری نسل اور اس کی نسل کے درمیان، عداوت ڈالوں گا وہ تیرا سر کُچلے گا اور تو اُس کی ایڑی پر کاٹے گا‘‘ (پیدائش 3:14۔15).

(پیدائش 3: 11، 13)

I.   اوّل، لعنت سانپ پر نازل ہوئی تھی، پیدائش 3:14؛ رومیوں8:22، 20، 21 .

II. دوئم، لعنت شیطان پر نازل ہوئی تھی، پیدائش3:15؛ 1۔ یوحنا3:10؛ اشعیا7:14؛ گلِتیوں4:4؛ مکاشفہ19:20؛ 20:2۔3؛ اشعیا53:5؛ 2۔ کرنتھیوں4:4؛ 6:17۔18؛ واعظ12:14؛
مکاشفہ20:12، 15؛ اعمال2:23۔24 .