Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

نوح کے دِن – حصّہ چہارم

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 17)
THE DAYS OF NOAH – PART VI
(SERMON #17 ON THE BOOK OF GENESIS)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
ہفتے کی شام، 25 اگست، 2007
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Saturday Evening, August 25, 2007

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

ایک مرتبہ پھر مجھے کہنا چاہیے کہ وہ زمانہ جس میں ہم اب زندگی بسر کر رہے ہیں اُس کی نوح کے دِنوں کے ساتھ بے شمار مماثلتیں ہیں۔ ہم اِن مشابہتوں کو اُن واعظوں میں دیکھ چکے ہیں جن کی میں اِس موضوع پر تبلیغ دے چکا ہوں:


(1) یہ اِرتداد کا ایک زمانہ تھا جب بے شمار لوگ غیرنجات یافتہ تھے۔

(2) یہ وسعی مسافت کا دور تھا جب لوگ ایک ہی جگہ پر ٹِک کر نہیں رہتے تھے۔

(3) یہ وہ زمانہ تھا جب لوگوں کے ہجوموں کے ہجوم ناقابلِ معافی گناہ کا اِرتکاب کیا کرتے تھے۔

(4) یہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کا زمانہ تھا۔

(5) یہ وہ زمانہ تھا جب ابلیس کا قبصہ ایک بڑے پیمانے پر ہوا کرتا تھا۔

(6) یہ وہ دور تھا جب بدی کی سوچ کا دُنیا پر راج تھا۔

(7) یہ جسمانی نیت کی موسیقی کے تسلط کا زمانہ تھا۔

(8) یہ شدید شورش و تشدد کا زمانہ تھا۔

(9) یہ وہ زمانہ تھا جب سخت تبلیغ کو مسترد کر دیا جاتا تھا۔


مگر آج کی رات میں چاہتا ہوں کہ ہم ایک اور مشابہت کو دیکھیں۔ نوح کا دور شدید روحانی دھوکے کا دور تھا۔ یسوع نے کہا:

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

اورمسیح نے شاگردوں کو بتایا کہ ہمارا دور، اِس زمانے کے خاتمے کے قریب، شدید روحانی دھوکے سے بھرپور ایک دور ہوگا۔

متی24:3 میں، شاگردوں نے پوچھا، ’’تیری آمد اور دُنیا [زمانے] کے آخر ہونے کی علامت کیا ہے؟‘‘ (متی24:3)۔ اُنہیں خاتمے کی ایک ’’علامت‘‘ چاہیے تھی۔ یسوع نے اُنہیں بے شمار علامتیں پیش کیں! اُس نے اُنہیں یہ تنبیہہ پیش کرنے سے آغاز کیا:

’’خبردار! کوئی تمہیں گمراہ نہ کردے‘‘ (متی 24:4).

دوبارہ، متی24:24 میں، یسوع نے کہا:

’’کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے بڑے نشان اور عجیب عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو چُنے ہُوئے لوگوں کو بھی گمراہ کردیں۔ دیکھو! میں نے پہلے ہی تمہیں بتا دیا ہے‘‘ (متی 24:24۔25).

یسوع نے اِس بات کو کافی واضح کیا کہ یہ زمانہ شدید دھوکہ بازی اور روحانی فریب کے ساتھ ختم ہوگا۔

کیا نوح کے زمانہ میں ایسا ہی تھا؟ آپ شرط لگا لیں! نوح کا دور روحانی بدمعاشیوں، جعل سازیوں اور فریب دہی سے بھرا پڑا تھا! اور یسوع نے کہا:

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

ہمارے زمانے کی روحانی دھوکے بازیوں اور نوح کے دور کے درمیان بے شمار مشابہتیں ہیں۔

I۔ یہ جعلی حیاتِ نو کا ایک دور تھا۔

پیدائش، چار باب، چھبیسویں آیت کھولیں:

’’اور سیت کے ہاں بھی ایک بیٹا پیدا ہُوا اور اُس نے اُس کا نام انوس رکھا۔ اُس وقت سے لوگ یہوواہ کا نام لے کر دعا کرنے لگے‘‘ (پیدائش 4:26).

بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ انوس نو سَو پانچ برس کی عمر تک زندہ رہا:

’’انُوس کی کُل عمر نَو سَو پانچ برس کی ہُوئی اور تب وہ مرگیا‘‘ (پیدائش 5:11).

اِس کا مطلب ہے کہ نوح تقریباً 90 برس کی عمر کا تھا جب انوس مرا۔ یہ بات اہم کیوں ہے؟ کیونکہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ لوگ کم از کم نوے سالوں سے نوح کے دورِ حیات ہی میں اور غالباً اُس کے کافی عرصہ بعد بھی خُداوند کا نام لے کر دعا کر رہے تھے۔ اُس وقت سے لوگ یہوواہ کا نام لے کر دعا کرنے لگے‘‘ (پیدائش4:26) ۔

مگر مذھبی سرگرمی اور ’’خُداوند کا نام لے کر دعا کرنے‘‘ کے باوجود بھی نوح کا زمانہ روحانی فریب دہیوں سے بھرا پڑا تھا۔ ڈاکٹر ایم۔ آر۔ ڈیحان Dr. M. R. DeHaan نے کہا:

یقینی طور پر سیلاب سے پہلے نوح کا زمانہ شدید دھوکے بازی کا دور رہا ہوگا۔ حنوک کی اور نوح کی قوت بخش تبلیغ کے باوجود… دُںیا والوں نے اِن مبلغین کا یقین نہیں کیا ہوگا؛ اور جب سیلاب آیا، تو صرف آٹھ لوگ تھے جو بچائے گئے (ایم۔ آر۔ ڈیحان، ایم۔ ڈی۔، نوح کا زمانہ The Days of Noah، ژونڈروان Zondervan، 1963، صفحہ56)۔

وہ حقائق جو بائبل میں ہم پر ظاہر کیے گئے ہماری اُس اَٹل نتیجے تک رہنمائی کرتے ہیں کہ نسل انسانی حنوک اور نوح کی منادی کے باوجود روحانی طور پر فریب میں مبتلا تھی۔ حالانکہ اُنہوں نے جامع تبلیغ سُنی تھی، اور حالانکہ وہ یہوواہ کا نام لے کر دعا کرنے لگے تھے، وہ ابھی تک فریب میں تھے اور اُس فیصلے کے لیے تیار نہیں تھے جو اُن پر عظیم سیلاب میں آیا تھا۔

پیدائش4:26 ہمیں بتاتی ہے، ’’اُس وقت سے لوگ یہوواہ کا نام لے کر دعا کرنے لگے۔‘‘ مگر کیا وہ فیصلے کے لیے تیار تھے؟ بائبل کا واضح سبق یہ ہے کہ وہ تیار نہیں تھے! مذھبی سرگرمی کی شدت انتہائی زیادہ تھی، مگر لوگوں کی ایک بہت بڑی اکثریت غیرنجات یافتہ ہی رہی تھی! جب ہم پیدائش چار باب سے چھ باب تک کا تاریخی ریکارڈ سنجیدگی سے اور حرف بہ حرف دیکھتے ہیں تو میں دیکھنے میں ناکام رہ جاتا ہوں کہ کیسے ہم کوئی دوسرا نتیجہ نکال سکتے ہیں۔ اور یسوع نے کہا:

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

وہ نتیجہ جس پر ہم پہنچے بے شمار لوگوں کے لیے شدید پریشان کر دینے والا ہے۔ جب کچھ عرصہ پہلے، میں نے ’’براؤنزوائلی بیداری Brownsville Awakening‘‘ (the “laughing revival”) کی ایک چشم دید گواہی تفصیل پیش کی، تو انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے دو نئے لوگ اِس قدر بے چین اور بے قرار ہو گئے کہ وہ میرے واعظ کے درمیان ہی اُٹھ کھڑے ہوئے اور شدید غصے کے عالم میں عبادت سے بھاگ گئے۔ مگر مجھے دہرا دینا چاہیے جو میں نے اُس وقت کہا تھا۔ ٹی بی این TBN ٹیلی ویژن پر ’’براؤنزوائلی بیداری Brownsville Awakening‘‘، the “laughing revival”، وہ ’’شفائیہ healing‘‘ عبادتیں اور انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والوں کی تعلیم میں ہونے والے دوسرے بے شمار واقعات حقیقی حیات نو کی نقل ہیں۔ اِس بارے میں ہینک حینگراف Hank Hanegraaff نے جعلی حیاتِ نو Counterfeit Revival (Word، 1997) نامی ایک کتاب لکھی ہے۔ اُس کتاب کی جلد پر یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں:

مسیحی رہنما جن کا روحانی سلسلہ پھیلا ہوا ہے دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم انسانی تاریخ میں اِس وقت عظیم ترین حیاتِ نو کے وسط میں ہیں۔ بڑی بڑی بیداریوںgreat awakening کو اپنانے کے لیے اُن کی جلدی میں لوگوں کے ہجوموں کے ہجوم اِس کے بجائے ایک بہت بڑے اِرتدادgreat apostasy میں دھوکے سے اُلجھتے جا رہے ہیں… جعلی حیاتِ نوCounterfeit Revival تمام غلط جگہوں پر خُدا کو تلاش کرنے کے خطرے کی تحاریر پیش کرتے ہیں۔ جب جعلی حیات نو کے رہنما سماجی اور نفسیاتی ہیرا پھیری کی حکمت عملی کو لاگو کرتے ہیں تو اُن کی رعایا داخلیت پسندی subjectivism کے خطرناک جالے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کوئی بھی بہت بڑے مشوروں کی طاقت کے لیے مدافعت نہیں رکھتا۔ ایک مرتبہ جب یہ وبائی بیماری ایک تحریک کو آلودہ کر دے، تو یہ کالے کو سفید ظاہر کر سکتی ہے، حقیقتوں کو دُھندلا سکتی ہے اور حماقتوں کے مزار بنا سکتی ہے۔ یہ پوری قوت سے ذہین لوگوں کے ساتھ ساتھ جاہل، امیر اور غریب لوگوں پر بھی یکساں طور سے دھاوا بول دیتی ہے۔ کافرانہ مذاھب اور جعلی مسیحی فرقے ایک طویل عرصے سے اِن کے طرز عمل کو فروغٖ دینے کے لیے ہاتھ کی صفائی اور دماغ کی صفائی سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ آج جعلی حیاتِ نو کے رہنما اُن کے نقش قدم پر چل رہے ہیں (ہینک حینگراف Hank Hanegraaff، جعلی حیاتِ نو Counterfeit Revival، Word، 1997، کتاب کی جلد پر بیان)۔

ہمارا زمانہ بہت بڑے روحانی دھوکے کا دور ہے جسے آپ دِن ہو یا رات، کسی بھی وقت ٹی بی این TBN ٹیلی ویژن پر دیکھ سکتے ہیں اور یہ ساری دُنیا میں گرجہ گھروں میں رونما ہو رہا ہے۔ یسوع نے کہا:

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

’’کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے بڑے نشان اور عجیب عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو چُنے ہُوئے لوگوں کو بھی گمراہ کردیں۔ دیکھو! میں نے پہلے ہی تمہیں بتا دیا ہے‘‘ (متی 24:24۔25).

نوح کا زمانہ جھوٹے حیاتِ نو اور جھوٹی نجات پانے والوں سے مخصوص کیا گیا ہے، جیسا کہ ہم پیدائش4:26 میں دیکھتے ہیں، جب لوگ ’’یہوواہ کا نام لے کر دعا کرنے لگے‘‘ نجات پائے بغیر۔

II۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بے شمار لوگوں کو نجات کی جھوٹی اُمیدیں تھی۔

میں کوئی دوسرا نتیجہ اخذ نہیں کر سکتا جب پیدائش چار سے چھ باب پڑھتا ہوں۔ ڈاکٹر ایم۔ آر۔ ڈیحان نے کہا:

تو پھر سب سے زیادہ دباؤ ڈالنے والی تنبیہہ ہے – دھوکہ مت کھائیں! اور سب سے زیادہ اہمیت کا حامل سوال ہے – ’’کیا آپ خُداوند کی آمد کے لیے تیار ہیں؟‘‘ یاد رکھیں، ’’جیسا نوح کے زمانہ میں تھا،‘‘ وہ جنہوں نے یقین کرنے کو نظر انداز کیا، ہمیشہ کے لیے فنا ہوگئے (ایم۔ آر۔ ڈیحان، ایم۔ڈی۔، نوح کا زمانہ The Days of Noah، ژونڈروانZondervan، 1963، صفحہ57)۔

بائبل کہتی ہے:

’’خدا نے… پُرانے زمانے کے لوگوں کو بھی نہ چھوڑا بلکہ بے دینوں کی زمین پر طوفان بھیج کر صرف راستبازی کی منادی کرنے والے نُوح کو اور سات دیگر اشخاص کو بچا لیا‘‘ (2۔ پطرس 2:4۔5).

نوح کے زمانے کے لوگ یہوواہ کا نام لے کر دعا کرتے تھے (پیدائش4:26)، لیکن تقریباً اُن میں سے سارے گمراہ ہی رہے۔ اُن کی حالت کو مکمل طور سے 2 تیموتاؤس کے تیسرے باب میں بیان کیا گیا ہے:

’’لیکن یاد رہے کہ آخری زمانہ میں بُرے دِن آئیں گے۔ لوگ خُود غرض، زَردوست، شیخی باز، مغرور، بدگو، ماں باپ کے نافرمان، ناشکرے، ناپاک، محبت سے خالی، بے رحم، بدنام کرنے والے، بے ضبط، تُند مزاج، نیکی کے دشمن، دغاباز، بے حیا، گھمنڈی، خدا کی نسبت عیش و عشرت کو زیادہ پسند کرنے والے ہوں گے۔ وہ دینداروں کی سی وضع تو رکھیں گے لیکن زندگی میں دینداری کا کوئی اثر قبول نہیں کریں گے۔ ایسوں سے دور ہی رہنا‘‘ (2۔ تیموتاؤس 3:1، 2، 5).

اور یسوع نے کہا:

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

نوح کا زمانہ وہ دور تھا جب بے شمار لوگ نجات کی جھوٹی اُمیدوں میں پڑے ہوئے تھے۔ ہمارے زمانے میں اُس دور کو بہت زیادہ دہرایا جا رہا ہے۔

اِس انتہائی لمحے میں جب لوگوں کے ہجوموں کے ہجوم یقین کرتے ہیں کہ وہ نجات یافتہ ہیں تو ہمارے زمانے میں بڑھتی ہوئی تاریکی ہم پر نازل ہوتی جا رہی ہے۔ بابئل کہتی ہے:

’’اگر رب الافواج ہمارے لیے کچھ لوگ زندہ نہ چھوڑتا تو ہمارا حال بھی سدوم کی طرح ہو جاتا، اور ہم عمورہ کی مانند ہو جاتے‘‘ (اشعیا 1:9).

ڈاکٹر مونرو Dr. Monroe ’’راہب‘‘ پارکر کو اکثر ’’امریکی انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والوں کا نگران The Dean of American Evangelists‘‘ کہا جاتا تھا۔ ڈاکٹر پارکر نے کہا:

اگر ہم گرجہ گھر کے آدھے اراکین کو بھی نجات دلا پائیں تو ہم ایک عظیم حیاتِ نو کو دیکھ پائیں گے۔ درحقیقت، میرے خیال میں اگر ہم امریکہ میں آدھے ہی مبلغین کو نجات دے پائیں تو ہم ایک بہت ہی بڑا حیاتِ نو دیکھ پائیں گے (مونرو پارکر Monroe Parker، سایوں اور روشنیوں میں سے: میرے پہلے ستتر سال Through Sunshine and Shadows: My first Seventy-Seven Years، سورڈ آف دی لارڈ پبلیشرز Sword of the Lord، 1987، صفحات61۔62)۔

ایڈیٹر ڈیل بُرڈین Dale Burden نے کہا:

کوئی بھی کیسی ہی روحانی پُختگی اور سمجھ بوجھ کے ساتھ، جو آج امریکہ کے مذھبی موسم کو جانتا ہے، وہ یہ بات جانتا ہے کہ گرجہ گھر کے زیادہ تر اراکین نجات یافتہ نہیں ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل Dr. W. A. Criswell، جو ڈلاس میں بہت بڑے پہلی بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر کے مشہور SBC پادری صاحب ہیں اُنہوں نے اپنی تبلیغ کے بعد (میں وہیں پر تھا) چبوترے پر چند ایک پادری صاحبان کو کہا کہ وہ جنت میں اپنے 25 % اراکین کے مل جانے پر حیران ہونگے۔ باب گیرے Bob Gray جو فلوریڈا کے شہر جیکسن ویلےJacksonville کے بڑے ٹرینیٹی بپٹسٹ گرجہ گھر کے دیرینہ پادری صاحب ہیں، اُنہوں نے کئی سال پہلے کہا کہ غالباً جن کو اُنہوں نے بپتسمہ دیا اُن میں سے 75 % بچائے نہیں گئے تھے (ڈیل بُرڈین Dale Burden، روح رواں The Gist،Spring، 1977، صفحہ5)۔

ڈاکٹر بی۔ آر۔ لاکِن Dr. B. R. Lakin کہا کرتے تھے کہ اُن میں سے پچھتر فیصد جو بائبل پر یقین کرنے والے گرجہ گھروں میں جاتے ہیں گمراہ ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر Dr. A. W. Tozer نے کہا، ’’انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے گرجہ گھروں کے درمیان غالبا! دس میں سے ایک شخص بھی نئے جنم کے بارے میں تجرباتی طور سے کچھ نہیں جانتا‘‘ (پیرس رائیڈھیڈ Paris Reidhead، مبشران انجیل کو نجات دلانی Getting Evangelicals Saved، بیت عنیاہ Bethany، 1989، صفحہ46)۔

آپ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ سچے طور پر نجات یافتہ ہیں – یا آپ ایک جھوٹی اُمید سے چمٹے ہوئے ہیں – جیسا کہ نوح کے زمانے میں لوگوں کے ہجوم کے ہجوم وہاں چمٹے ہوئے تھے، جو سیلاب میں ڈوب گئے تھے اور جہنم میں گئے تھے؟ اُن لوگوں کی نجات کے بارے میں جھوٹی اُمیدیں تھیں۔ اُن میں سے بے شمار نے تو یقینی طور پر سوچا تھا وہ بچا لیے جائیں گے کیونکہ اُنہوں نے دعائیں مانگی تھیں، یہوواہ کا نام لے کر دعائیں کی تھیں (حوالہ دیکھیں پیدائش4:26)۔ اِس کے باوجود اُن میں سے ایک بہت بڑی تعداد نے جنہوں نے دعائیں مانگی تھیں فیصلے میں غرق ہو گئے تھے۔ دعا کبھی بھی کسی کو نہیں بچاتی! فریسی نے دعا مانگی تھی، اِس کے باوجود مسیح نے ہمیں بتایا وہ گمراہ تھا۔

کیا آپ سوچتے ہیں کہ آپ نجات یافتہ ہیں کیونکہ آپ ذھنی طور پر خُدا میں یقین رکھتے ہیں؟ بدروحیں ذھنی طور پر یسوع میں یقین رکھتی تھیں – اور ایسا کہتی تھیں – مگر وہ بچائی نہیں گئی تھیں۔ جی نہیں، یسوع اور خُدا کے بارے میں باتوں پر یقین کرنا آپ کو نہیں بچائے گا۔ دعا مانگنا آپ کو نہیں بچائے گا۔ سامنے آنا، اپنے ہاتھ بُلند کرنا، بپتسمہ پانا آپ کو نہیں بچائے گا۔ گرجہ گھر آنا آپ کو نہیں بچائے گا۔ اپنے گناہوں کا اقرار کرنا آپ کو نہیں بچائے۔

ہمارے پاس یقین کرنے کے لیے ہر وجہ ہے کہ نوح کے زمانے میں لوگوں نے وہ تمام باتیں کیں، اِس کے باوجود وہ عظیم سیلاب میں غرق ہو گئے تھے اور جہنم میں گئے تھے۔

’’خدا نے… پُرانے زمانے کے لوگوں کو بھی نہ چھوڑا بلکہ بے دینوں کی زمین پر طوفان بھیج کر صرف راستبازی کی منادی کرنے والے نُوح کو اور سات دیگر اشخاص کو بچا لیا‘‘ (2۔ پطرس 2:4۔5).

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

III۔ مگر، تیسری بات، یہ ایک دور تھا جب کچھ لوگوں نے نجات پائی تھی۔

لوگوں کی ایک چھوٹی تعداد، نوح اور اُس کے خاندان نے نجات پائی تھی۔ ہمیں یہ بات 2پطرس2:5 بتائی گئی ہے، وہ آیت جس کا میں نے ابھی ابھی حوالہ دیا۔ یہ کہتی ہے کہ خُداوند نے ’’نوح کو بچا لیا۔‘‘ جی ہاں، لفظ ’’بچا لیا saved‘‘ اُس آیت میں استعمال ہوا ہے۔ 2پطرس2:5 کے مطابق، نوح نے نجات کا تجربہ کیا تھا۔ عبرانیوں کی کتاب کے گیارھویں باب میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ اُس کی بیوی، اُس کے تین بیٹے اور اُن کی بیویوں نے بھی نجات پائی تھی۔ عبرانیوں، باب گیارہ، آیت سات کہتی ہے،

’’ایمان ہی سے نَوح نے اُن باتوں کے بارے میں جو مُستقبل میں پیش آنے والی تھیں، خدا کی طرف سے ہدایت پائی اور خدا ترسی کے باعث اُس پر عمل کیا اور ایک کشتی بنائی جس میں اُس کا سارا خاندان بچ نکلا …‘‘ (عبرانیوں 11:7).

اِس کا لفظ بہ لفظ مطلب ہوتا ہے ’’اُس کے اہل خانہ کے بچنے والے،‘‘ یا خاندان۔ اُن کی بیوی اور اُس کے اہل خانہ کے ہر ایک فرد کو ’’اُس سیلاب سے [جو آیا تھا] بے دینوں کی دُںیا پر‘‘ بچنے کے لیے سچے طور پر نجات پانی تھی‘‘ (2پطرس2:5)۔

نوح اور اُس کے خاندان کے لیے خُدا کے فیصلے سے بچنے کے لیے واحد راہ سچے طور پر ایمان لا کر تبدیل ہونے کے ذریعے سے تھی۔ اُنہوں نے اصل میں تبدیلی کا تجربہ کیا تھا۔ آپ کے بارے میں کیا خیال ہے؟

وہ کیسے بچا لیے گئے تھے؟ عبرانیوں 11:7 میں، ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہ ’’ایمان کے وسیلے‘‘ سے ہوا تھا۔ آپ کو مکمل طور سے اور کُلی طور پر خُداوند یسوع مسیح پر یقین کرنا چاہیے (حوالہ دیکھیں اعمال16:31)۔ لیکن اِس سے پہلے کہ آپ جان بچائے جانے کے لیے یسوع پر ایمان لائیں، آپ کو گناہ اور بے بسی کے ایک احساس کے تحت آنا چاہیے۔ جو آپ کو مسیح کو چاہنے کے لیے تیار کرتا ہے۔

اب، نوح کے زمانہ میں تقریباً ہر کوئی آپ کو بتا چکا ہوگا کہ اُن کا ایمان تھا۔ آخر کو، وہ یہوواہ کا نام لے لے کر دعا مانگا کرتے تھے، اُنہوں نے دعائیں مانگی تھیں (پیدائش4:26)۔ وہ آپ سے کہیں گے کہ اُن کا ایمان تھا۔ مگر اُن کا مسیح میں حقیقی، جان بچانے والا ایمان نہیں تھا۔ آپ کیسے جانتے ہیں؟ پیدائش، سات باب، آیت ایک کو کھولیں:

’’اور خداوند نے نُوح سے کہا، تُو اپنے پورے خاندان کے ساتھ کشتی میں چلا جا کیونکہ میں نے اِس نسل میں تجھے ہی راستباز پایا ہے‘‘ (پیدائش 7:1).

خُداوند نے کہا، ’’میں نے اِس نسل میں تجھے ہی راستباز پایا۔‘‘ یہ منسوب کی گئی راستبازی ہے۔ نوح کو یسوع میں ایمان کے وسیلے سے خدا نے ایک ’’راستباز کی حیثیت‘‘ سے دیکھا تھا۔ نوح کا قبل ازیں متجسم مسیح میں ایمان تھا۔ چونکہ اُس کا یسوع میں ایمان تھا تو خُدا نے نوح کو راستباز قرار دے دیا تھا۔ رومیوں4:5 کہتی ہے:

’’مگر جو شخص اپنے کام پر نہیں بلکہ بے دینوں کو راستباز ٹھہرانے والے خدا پر ایمان رکھتا ہے، اُس کا ایمان اُس کے لیے راستبازی گنا جاتا ہے‘‘ (رومیوں 4:5).

جب آپ مکمل طور سے یسوع مسیح میں بھروسہ کرتے ہیں، تو خُدا آپ کو ایک راستباز شخص کی حیثیت سے شمار کرتا ہے، جو مسیح کی منسوب کی ہوئی راستبازی کے ذریعے سے ہوتا ہے۔

نوح اِس لیے نہیں بچایا گیا تھا کیونکہ وہ نیک تھا۔ جی نہیں! جی نہیں! خُدا نے کہا تھا،

’’ میں نے اِس نسل میں تجھے ہی راستباز پایا ہے‘‘ (پیدائش 7:1).

خُدا نے اُس کو ایک راستباز کی حیثیت سے دیکھا تھا کیونکہ اُس کا یسوع میں ایمان تھا (حوالہ دیکھیں عبرانیوں11:7)۔ ’’ایمان کے وسیلے سے!‘‘ ’’ایمان کے وسیلے سے!‘‘ ’’ایمان کے وسیلے سے!‘‘ عبرانیوں11:7 ہمیں بتاتی ہے کہ نوح ایمان کے وسیلے سے بچایا گیا تھا! خُدا نے اُس کو ایک راستباز کی حیثیت سے دیکھا تھا کیونکہ اُس کا خُدا کے قبل ازیں متجسم بیٹے میں ایمان تھا۔

اور نوح اور اُس کا خاندان کشتی میں آیا تھا کیونکہ اُن کے ایمان نے اُنہیں خُدا کی فرمانبرداری کرنے کے لیے تحریک دی تھی۔ خُدا نے کہا، ’’تو اپنے پورے خاندان کے ساتھ کشتی میں چلا جا‘‘ (پیدائش7:1)۔ یہ یسوع مسیح میں آنے کی ایک تصویر ہے۔ یسوع نے کہا:

’’میرے پاس آؤ … اور میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی 11:28).

یہ ہی ہے جو میں چاہتا ہوں کہ آپ کریں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ یسوع مسیح میں آئیں بالکل جیسے نوح کشتی میں آیا تھا۔ مسیح صلیب پر آپ کے گناہوں کی ادائیگی کے لیے مرا تھا۔ مسیح نے آپ کے گناہ دھونے کے لیے اپنا خون بہایا تھا۔ مگر مسیح واپس آسمان میں اپنے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد چلا گیا تھا۔ مگر آپ ایسا اُس وقت تک نہیں کر سکتے جب تک کہ آپ گناہ کے ایک گہرے احساس کے ذریعے سے دب نہیں جاتے اور ٹوٹ نہیں جاتے، وہ گناہ جو آپ کو خُدا سے علیحدہ کر دیتا ہے، وہ گناہ جو آپ کی جان کو ہمیشہ کے لیے جہنم میں کوستا رہے گا۔ آپ کو گناہ کے ایک تیز، اذیت دینے والے احساس کو قبول کرنا چاہیے ورنہ آپ مسیح کی کشتی میں داخل نہیں ہو پائیں گے۔

پھر، آپ کو براہ راست مسیح کے پاس آنا چاہیے۔ بالکل جیسے نوح براہ راست کشتی میں آیا تھا، آپ کو براہ راست مسیح میں آنا چاہیے۔ میں دعا مانگتا ہوں کہ آپ ایسا کریں گے۔ جب تک آپ ایسا نہیں کریں گے آپ آنے والے فیصلے میں تباہ کر دیے جائیں گے۔

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا چاہیں گے۔ جب آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو آپ اُنہیں ضرور بتائیں کہ آپ کس مُلک سے لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای میل کو جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل لکھیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں اُس کا نام شامل کریں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تلاوت ڈاکٹر کرھیٹن ایل۔ چعینDr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: پیدائش6:5۔13 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
     ’’کیا ہوتا اگر یہ آج ہوتا؟ What If It Were Today?‘‘ (شاعر لیلیا این۔ مورسLelia N. Morris، 1862۔1929)۔

لُبِ لُباب

نوح کے دِن – حصّہ چہارم

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 17)
THE DAYS OF NOAH – PART VI
(SERMON #17 ON THE BOOK OF GENESIS)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

(متی24:3۔4، 24۔25)

I.    یہ جعلی حیاتِ نو کا ایک دور تھا، پیدائش4:26؛ 5:11 .

II.   یہ وہ زمانہ تھا جب بے شمار لوگوں کو نجات کی جھوٹی اُمیدیں تھیں، 2
پطرس2:4۔5؛ 2تیموتاؤس3:1، 2، 5؛ اشعیا1:9 .

III.  یہ ایک دور تھا جب کچھ لوگوں نے نجات پائی تھی، عبرانیوں11:7؛
2پطرس2:5؛ اعمال16:31؛ پیدائش7:1؛ رومیوں4:5؛ متی11:28 .