Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

نوح کا زمانہ – حصّہ دوئم

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 13)
THE DAYS OF NOAH – PART II
(SERMON #13 ON THE BOOK OF GENESIS)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

خُدا کی شام تبلیغ کیا گیا ایک واعظ، 12 اگست، 2007
لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

مسیح نے اپنے شاگردوں کو بتایا کہ وہ اُس کی آمد ثانی اور اِس زمانے کے خاتمے کے بارے میں عمومی وقت بتا پائیں گے۔ اُس نے اُنہیں بے شمار علامتیں پیش کیں۔ لیکن سب سے زیادہ اہم علامت ہماری تلاوت میں پیش کی گئی تھی:

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

مسیح نے شاگردوں کو بتایا کہ آخری ایام میں سیلاب سے پہلے حالات کا دہرایا جانا ہوگا۔ اُس نے کہا، جب تم دُںیا میں وہی حالات دیکھوں جو نوح کے زمانے میں تھے تو تب تم جان جاؤ گے کہ زمانے کا خاتمہ اور میری آمد ثانی انتہائی قریب آ رہی ہیں۔

گذشتہ مرتبہ میں نے ہمارے زمانے اور نوح کے زمانے کے درمیان تین مماثلتوں پر بات کی تھی۔ میں نے ظاہر کیا کہ اُس وقت تھا


1. اِرتداد – اور کہ ہمارے پاس ویسا ہی اِرتداد آج آ چکا ہے۔

2. بڑھتی ہوئی مسافت – اور کہ آج ہمارے پاس مسافت میں اضافہ ہو چکا ہے۔

3. بے شمار لوگ ناقابل معافی گناہ کا اِرتکاب کر رہے ہیں – اور کہ آج بے شمار لوگ ناقابل معافی گناہ کا اِرتکاب کر رہے ہیں۔


اب، میں چاہوں گا کہ آپ تین مذید اور نکات کے بارے میں سوچیں جن میں نوح کا زمانہ ہمارے زمانے کی مانند ہے۔


(1) ایک سے زائد شادیاں۔

(2) وسیع پیمانے پر شیطانی بُرائی یا بدکاری۔

(3) تسلسل کے ساتھ بُری سُوچوں کی روایت۔

I۔ پہلی بات، نوح کے زمانے میں ایک سے زائد شادیاں ہوتی تھیں۔

ہماری تلاوت کے بعد والی آیت کہتی ہے:

’’کیونکہ طوفان سے پہلے کے دِنوں میں لوگ کھاتے پیتے اور شادی بیاہ کرتے کراتے تھے۔ نُوح کے کشتی میں داخل ہونے کے دِن تک یہ سب کچھ ہوتا رہا‘‘ (متی 24:38).

میتھیو ھنری نشاندہی کرتے ہیں کہ،

وہ اِس میں [کھانے، پینے، شادیاں کرنے اور کرانے میں] احساس کی نعمتوں کو حاصل کرنے میں غیر معمولی اور جامع، اور دُنیا کے فوائد؛ وہ مکمل طور سے اِن باتوں میں آ چکے تھے (میتھیو ھنری کا تبصرہ Mathew Henry’s Commentary، متی 24:38 پر غور طلب بات)۔

اب میرے ساتھ پیدائش چار باب آیت اُنیس کھولیں:

’’اور لمک نے دو عورتوں سے بیاہ کیا، اُن میں سے ایک کا نام عَدہ اور دوسری کا ضِلہ تھا‘‘ (پیدائش 4:19).

نوح کے زمانے میں شادی پر زور، جس کے بارے میں یسوع نے بات کی، اِس قدر بڑھ چکا تھا کہ لوگوں نے ایک سے زیادہ بیویوں سے بیاہ رچانے شروع کر دیے تھے۔ تاریخ میں لمک انتہائی پہلا آدمی تھا جس نے خُدا کی شریعت کو توڑا اور ایک دوسری بیوی سے شادی کی۔

یسوع نے پیدائش2:24 کا حوالہ دیا جب اُس نے فریسیوں سے بات کی:

’’کیا تُم نے نہیں پڑھا کہ ابتدا میں خالق نے اُنہیں مرد اور عورت بنایا اور کہا، اس سبب سے مرد اپنے والدین سے جدا ہوکر اپنی بیوی کے ساتھ رہے گا اور وہ دونوں ایک تن ہوں گے؟ لہٰذا وہ دو نہیں بلکہ ایک تن ہیں۔ اِس لیے جسے خدا نے جوڑا ہے اُسے اِنسان جدا نہ کرے‘‘ (متی 19:4۔6).

’’جو کوئی اپنی بیوی کو اُس کی بدکاری کے سِوا کسی اور سبب سے چھوڑ دیتا ہے اور کسی دوسری سے شادی کر لیتا ہے، زِنا کرتا ہے اور جو کوئی اُس چھوڑی ہُوئی سے شادی کرتا ہے وہ بھی زِنا کرتا ہے‘‘ (متی 19:9).

جب میں ایک بچہ تھا تو طلاق کے بارے میں تقریباً سُننے میں ہی نہیں آتا تھا۔ یہ انتہائی غیرمعمولی تھا۔ اُس زمانے میں یہ ایک بہت زیادہ شرم کی بات تھی، ایک بدنامی یا رسوائی تھی۔ لیکن طلاق اِس قدر بڑھ چکی ہے کہ مذید اور کوئی بھی اِس پر غور کرتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ دراصل، بے شمار نوجوان لوگ تو یہاں تک کہ آج شادی کرنا گوارا ہی نہیں کرتے۔ وہ بس ایک ساتھ ہوتے ہیں اور اکٹھے زندگی بسر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

آپ کو سمجھ جانا چاہیے کہ یہ سب کا سب ایک طرح کا دھرایا جانا ہے جو ماضی میں نوح کے زمانے میں ہوا تھا۔ امریکہ نوجوان لوگوں کی ایک مکمل نسل کے ساتھ بھرتا جا رہا ہے جنہوں نے کبھی بھی ایک خوشگوار گھر کی مسرت کو جانا ہی نہیں ہے۔ جرم، منشیات کا استعمال، شراب نوشی، جنسی گمراہی، اسقاطِ حمل، اور بے شمار دوسرے معاشرتی مسئلوں کے اضافے کے پیچھے گھرانوں کا ٹوٹنا سب سے بڑا واحد عنصر ہے۔ ہماری ثقافت کو توڑنے کے لیے کسی دوسرے عنصر نے اِس سے زیادہ اہم کردار ادا نہیں کیا۔ ڈاکٹر ایم۔ آر۔ ڈیحان Dr. M. R. DeHaan نے کہا،

سیلاب سے پہلے کے زمانے کے بعد کی تاریخ میں پہلے کبھی بھی اِس قدر عام طور پر یہ حالت موجود نہیں تھی، اور یہ بلاشک و شُبہ یہی ہے کہ جس کا حوالہ خُداوند نے دیا تھا جب اُس نے کہا، ’’جیسا کے سیلاب سے پہلے کے دِنوں میں ہوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت بھی ہو گا‘‘ (ایم۔ آر۔ ڈیحان، ایم۔ ڈی۔ نوح کا زمانہ The Days of Noah، ژونڈروان Zondervan، 1971، صفحہ44)۔

II۔ دوسری بات، وسیع پیمانے پر شیطانی بُرائی یا بدکاری رونما ہو رہی تھی۔

میرے ساتھ پیدائش، چھے باب، آیت ایک کھولیں:

’’جب رُوئے زمین پر آدمیوں کی تعداد بڑھنے لگی اور اُن کے بیٹیاں پیدا ہُوئیں تو خدا کے بیٹوں نے دیکھا کہ آدمیوں کی بیٹیاں خوبصورت ہیں اور اُنہوں نے جن جن کو چُنا اُن سے بیاہ کرلیا۔ تب خداوند نے کہا، میری روح انسان کے ساتھ ہمیشہ مزاحمت نہ کرتی رہے گی کیونکہ وہ فانی ہے۔ اُس کی عمر ایک سوبیس برس کی ہوگی۔ اُن دِنوں میں زمین پر بڑے قدآور اور مضبوط لوگ موجود تھے بلکہ بعد میں بھی تھے جب خدا کے بیٹے اِنسانوں کی بیٹیوں کے پاس گئے اور اُن سے اولاد پیدا ہوئی۔ یہ قدیم زمانہ کے سورما اور بڑے نامور لوگ تھے‘‘ (پیدائش 6:1۔4).

اِس حوالے کی عام وضاحت یہ ہے کہ خُدا کے بیٹے سیت کی خُدائی نسل تھی، اور اِنسانوں کی بیٹیاں قائین کی نسل تھیں۔ پیدائش 6:4 پر غور طلب بات میں یہ نظریہ سیکوفیلڈ بائبل پیش کرتی ہے۔ لیکن ڈاکٹر ایم۔ آر۔ ڈیحان چار وجوہات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ نظریہ دُرست نہیں ہے (ibid.، صفحہ 141)۔ یہاں پر اُن میں سے دو ہیں:

(1) کیا سیت کی تمام نسل ہی مردانہ تھی اور قائین کی تمام نسل عورتیں تھیں؟ کیا سیت کی تمام نسل ایماندار تھے اور قائین کی تمام نسل بے اعتقادے تھے؟

(2) ہم دیو یا جنات کی پیدائش والی بات کی وضاحت کیسے پیش کریں جو بہت بڑی قدوقامت اور غیرمعمولی ذہانت کے لوگ تھے، اور بے اعتقادوں اور ایمانداروں کے مِلاپ کا نتیجہ تھے؟… جب ایک مسیحی ایک غیرنجات یافتہ ہستی سے شادی کرتا ہے تو اُن کے بچے دوسروں کے بچوں سے کوئی مختلف نہیں ہوتے (جسمانی، جذباتی اور ذہنی طور پر)۔ کسی کا ایمان کوئی جسمانی اثر کسی کی اولاد پر نہیں ڈالتا۔ تب پھر ہم اِس حقیقت کی وضاحت کیسے کریں کہ پیدائش 6 باب میں اِس مِلاپ سے پیدا ہونے والی اولادیں وہ غیر معمولی انسان تھے جو دیو یا جنات کہلائے؟


[ڈاکٹر ڈیحان نے کہا، ’’تنہا یہ ہی حقائق اُس عام طور پر مانے جانے والے بیان کو کافی حد تک ناقابل مدافعت بنا ڈالتے ہیں۔ اِس لیے ہم اِس بات پر قائم ہیں کہ یہ گناہ… اِنسان کے بچوں اور گمراہ فرشتوں [آسیبوں] کے درمیان فوق الفطرت ملاپ سے تھا، نتیجتاً اُن غیرمعمولی جسامت والے انسانوں کی پیدائش تھی جو دیو یا جنات کہلائے…‘‘ (ibid.، صفحات142)۔ ]

ایوب کی کتاب میں، پہلے بات میں ہمیں پتا چلتا ہے ’’خُدا کے بیٹے‘‘ کون تھے:

’’اب ایک دِن خدا کے بیٹے آئے تاکہ خداوند کے روبرو حاضر ہوں اور شیطان بھی اُن کے ساتھ آیا‘‘ (ایوب 1:6).

پھر ایوب کی کتاب میں، باب دو، پہلی آیت میں ہم یہی بات پڑھتے ہیں:

’’دوبارہ ایک اور دِن خدا کے بیٹے آئے تاکہ خداوند کے روبرو پیش ہوں اور شیطان بھی اُن کے ساتھ آیا تاکہ وہ بھی خداوند کے سامنے پیش ہو‘‘ (ایوب 2:1).

اِن آیات میں فرشتوں کو ’’خُدا کے بیٹے‘‘ کہا گیا اور شیطان اُن کے ساتھ آیا تھا۔ اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ شیطان اور تمام کے تمام گمراہ فرشتے خُدا کے وسیلے سے تخلیق کیے گئے تھے، گناہ کرنے سے پہلے، وہ اُس کی مخلوق تھے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ایوب کی کتاب میں اِن آیات میں شیطان اور گمراہ فرشتوں کو ’’خُدا کے بیٹے‘‘ کہا گیا ہے

اب پیدائش6:4 پر نظر ڈالیں۔ لفظ ’’دیو یا جنات giants‘‘ کا جو ترجمہ کیا گیا ہے وہ عبرانی لفظ ’’نیفہیلیم nephilim‘‘ سے لیا گیا ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے ’’گمراہ ہونے والے۔‘‘ اُن کا نام ایک اور نشاندہی ہے کہ یہاں پر گمراہ فرشتوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر میریل ایف۔ اونگر Dr. Merrill F. Unger، جو ڈلاس میں علم الہٰیات کی سیمنری میں پرانے عہد نامے کے مرحوم پروفیسر تھے، اُںہوں نے بھی یہ ہی نکتۂ نظر اپنایا۔ اُنہوں نے کہا:

اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ اُس وقت ہوا تھا جب فرشتہ صفت لوگ کو مِلاپ انسانی بیٹیوں کے ساتھ ہوا تھا کہ زمین پر نیفہیلیمnephilim نمودار ہوئے… قدرتی دائرے میں فرشتے انسانی سمجھ سے باہر ایک طریقے سے مردانگی والے فرض کیے جا سکتے ہیں اور انسانی نسل کی عورتوں کے ساتھ مرد اور عورت کا باہمی جنسی تعلق کر سکتے تھے۔ ملکوتی [نظر نہ آنے والی] طاقتوں کا ادب اِس طرح کے فوق البشر مظہروں سے بھر پڑا ہے جو پُراسرار قوتوں پر یقین کرنے والی تعلیم [جادویت] کی عام لاقانونیت کی مثال پیش کرتا ہے… (میریل ایف۔ اُونگر، پی ایچ۔ ڈی۔ Merrill F. Unger, Ph. D.، پرانے عہد نامے پر اُونگر کا تبصرہ Unger’s Commentary on the Old Testament، موڈی پریس Moody Press، 1981، جلد اوّل، صفحہ 37)۔

بائبل ہمیں ’’جن فرشتوں نے اپنے اعلیٰ مرتبہ کا خیال نہ کیا بلکہ اپنے مقررہ مقام کو چھوڑ دیا‘‘ اُن کے بارے میں بتاتی ہے (یہوداہ6)۔ اگلی ہی آیت میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہ ’’بدفعلی‘‘ کرنے لگے تھے۔ یہ چیز اِس بات کو واضح کر دیتی ہے کہ ڈاکٹر اُونگر کی جانچ دُرست راہ پر ہے۔ ذاتی طور پر میں یقین کرتا ہوں کہ شیطانی صفت رکھنے والے لوگ زیادہ تر ویسے ہی ہوتے ہیں جن کا حوالہ پیدائش6:1۔4 میں پیش کیا گیا ہے۔ یسوع نے کہا:

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

یہ بات دیکھنے کے لیے کہ شیطان وہی دہرا رہا ہے جو اُس نے نوح کے زمانے میں کیا تھا کسی روحانی جن کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ابلیس لوگوں کو بدچلنی میں، جادویت اور جنسی بدسلوکی میں گھسیٹ رہا ہے۔ یہ چیز بے شمار لوگوں کو آج آسیب زدہ بننے میں گھسیٹ رہی ہے۔ عُریاں فلمیں، جادوئی اور غیراخلاقی جنسی سرگرمیوں کے ذریعے سے آسیب لوگوں کی زندگیوں پر قابو پاتے جا رہے ہیں، بالکل جیسے اُنہوں نے نوح کے زمانے میں کیا تھا۔

III۔ تیسری بات، نوح کے زمانے میں بُری سوچوں کی روایت تسلسل کے ساتھ تھی۔

مہربانی سے پیدائش چھے باب،آیت پانچ کھولیں:

’’اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی ہے اور اُس کے دل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں‘‘ (پیدائش 6:5).

ڈاکٹر اُونگر کہتے ہیں:

جو پہلے سے ہی بیان کی جا چکی ہوتی ہے اُسی کے ذریعے سے انسان کی بدکاری کی گہرائی کو ظاہر کیا جاتا ہے – قدرت کے کُرّہ پر بُرائی کی فوق الفطرت دُنیا کے ذریعے سے حملہ… پُراسرار قوتوں کا مذھب [جادویت]… شیطان اور آسیبی قوتوں نے پہلے سوچنے کے عمل پر قابو پایا اور پھر دقیانوسی لوگوں کے کردار پر مسلط ہو گئے‘‘ (اُونگر Unger، op. cit.، صفحہ37)۔

بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ شیطان اور آسیبی قوتوں نے سوچ کو قابو میں کیا تھا اور پھر آج لوگوں کے کردار پر مسلط ہیں۔ دراصل، بائبل تعلیم دیتی ہے کہ ہر غیرنجات یافتہ شخص آسیبی طور پر متاثر ہوتا ہے۔ شیطان کو ’’وہ روح جو اب تک لوگوں میں تاثیر کرتی ہے‘‘ کہا گیا ہے (افسیوں2:2)۔ اگر خُدا آپ کا ساتھ چھوڑ دے تو آپ بالکل اُن لوگوں کی مانند ہو جائیں گے جو سیلاب سے پہلے تھے۔ اگر خُدا آپ کو آپ کی مرضی کرنے دے، ’’تو [آپ کے] دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل [رہیں گے]‘‘ (حوالہ دیکھیں پیدائش6:5)۔

شیطان پہلے ہی آپ کے ذہن کو اندھا کر چکا ہے تاکہ آپ انجیل کا یقین نہ کریں اور صرف مسیح ہی پر بھروسہ نہ کریں۔

’’اگر ہماری خُوشخبری ابھی بھی پوشیدہ ہے تو صرف ہلاک ہونے والوں کے لیے پوشیدہ ہے۔ چونکہ اِس جہاں کے خدا نے اُن بے اعتقادوں کی عقل کو اندھا کر دیا ہے…‘‘ (2۔ کرنتھیوں 4:3۔4).

خوشخبری کے بارے میں آپ کی تردید انتہائی وثوق کے ساتھ کچھ نہ کچھ آسیبی ہے۔ آپ ایک کھوئی ہوئی حالت میں رہتے ہیں کیونکہ آپ ایک پُتلی بن چکے ہیں – جس کی ڈوریاں شیطان کھینچ رہا ہے۔ جلد ہی شیطان آپ کو ایک کھلونے کی حیثیت سے استعمال کرتے کرتے تنگ آ جائے گا، اور پھر وہ آپ کو ایک طرف پھینک دے گا جیسے ایک بچہ پرانی کھیلنے کی چیز کو دور پھینک دیتا ہے۔ جب شیطان دھاگے کھینچتے کینچھتے تنگ آ جائے گا، تو آپ مذید اور اُس کی پُتلی نہیں رہیں گے۔ آپ کو پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا – ہمیشہ کی اذیت میں جلتے رہنے کے لیے۔

میں کہتا ہوں کہ آپ ایک احمق ہیں جو شیطان کی پُتلی کی حیثیت سے زندگی جاری رکھتے ہیں۔ اپنے دِل پر نظر ڈالیں – جو تکبر اور گناہ سے بھرا پڑا ہے۔ اپنے ذہن پر نظر ڈالیں – تاریکی اور بُری سوچوں سے بھرا ہوا۔ اپنی زندگی پر نظر ڈالیں – یہ خُدا کے بغیر کہیں بھی نہیں جا رہی ہے۔ اپنے مستقبل پر نظر ڈالیں – مسیح کے بغیر یہ بے اُمید ہے۔

میں آپ سے اپنے دِل اور زندگی کا معائنہ کرنے اور خود کو بچانے کے تمام اُمید کو چھوڑ دینے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ اور پھر میں آپ سے اپنے گناہ سے منہ موڑنے اور خدا کے بیٹے یسوع مسیح کی جانب آنے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ وہ آسمان میں زندہ ہے۔ مسیح کی جانب رخ کریں اور وہ اپنے خون کے ساتھ آپ کے گناہوں کو دھو ڈالے گے – اور وہ آپ کو آسیبوں کی فوقیت سے آزادی دلائے گا۔ مسیح آپ کو بچانے اور نجات دلانے کے لیے آیا ہے۔ ابھی مکمل طور پر اُس کی جانب مُڑیں اور اُس پر یقین کریں! تب آپ گا پائیں گے،

حیرت انگیز فضل! کس قدر میٹھی وہ آواز،
   جس نے مجھ جیسے تباہ حال کو بچایا!
میں جو کبھی کھو گیا تھا، لیکن اب مل گیا ہوں،
   اندھا تھا لیکن اب دیکھتا ہوں۔
(’’حیرت انگیز فضلAmazing Grace ‘‘ شاعر جان نیوٹن John Newton ، 1725۔1807).

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا چاہیں گے۔ جب آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو آپ اُنہیں ضرور بتائیں کہ آپ کس مُلک سے لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای میل کو جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل لکھیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں اُس کا نام شامل کریں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تلاوت ڈاکٹر کرھیٹن ایل۔ چعین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: پیدائش4:16۔21؛ 6:1۔5 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
نے گایا تھا: (’’حیرت انگیز فضلAmazing Grace ‘‘ شاعر جان نیوٹن John Newton ، 1725۔1807).

لُبِ لُباب

نوح کا زمانہ – حصّہ دوئم

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 13)
THE DAYS OF NOAH – PART II
(SERMON #13 ON THE BOOK OF GENESIS)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

I.    پہلی بات، نوح کے زمانے میں ایک سے زیادہ شادیاں ہوتی تھیں،
متی24:28؛ پیدائش4:19؛ متی19:4۔6؛ متی19:9 .

II.   دوسری بات، وسیع پیمانے پر شیطانی بُرائی یا بدکاری رونما ہوتی جا رہی تھی،
پیدائش6:1۔4؛ ایوب1:6؛ ایوب2:1؛ یہوداہ6۔7 .

III.  تیسری بات، نوح کے زمانے میں بُری سوچوں کی روایت تسلسل کے ساتھ تھی،
پیدائش6:5؛ افسیوں2:2؛ 2کرنتھیوں4:3۔4 .