Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

پہلی تخلیق اور نئی تخلیق

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 6)
THE FIRST CREATION AND THE NEW CREATION
(SERMON #6 ON THE BOOK OF GENESIS)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 22 جولائی، 2007
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, July 22, 2007

’’اور خداوند خدا نے زمین کی مِٹی سے اِنسان کو بنایا اور اُس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پُھونکا اور آدم ذی رُوح ہو گیا‘‘ (پیدائش 2:7).

انسان جس وقت اُس کی تخلیق کی گئی پُرامن تھا۔ اُس نے تخیلق کیے جانے کو نہیں چُنا تھا، یا اپنی تخلیق سے تعلق رکھتے ہوئے کسی قسم کا فیصلہ لیا تھا۔ یوں، پہلے انسان کی تخلیق مونرجیسٹیکلی monergistically تھی – جس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ تنہا خُدا کے عمل کے وسیلے سے بنایا گیا تھا اور اُس میں زندگی لائی گئی تھی، خود انسان کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت کے بغیر۔

یہ نئے جنم کی ایک تصویر یا تشبیہہ ہے، یہ بھی مونرجیسٹک ہے۔ لغت مونرجیسٹک کی یوں وضاحت کرتی ہے،

وہ عقیدہ کہ احیاء [نیا جنم] تنہا پاک روح کا عمل ہے، اور کہ انسانی مرضی… اِعانت اور تعاون کے لیے نااہل ہے (بیسویں صدی کی نئی ویبسٹر مکمل لُغت، دوسرا ایڈیشن، کولِنز+ ورلڈ، Webster’s New Twentieth Century Dictionary Unabridged، Second Edition، Collins+World، 1978، صفحہ 1160)۔

پہلے انسان کی تخلیق مونرجیسٹک تھی؛ یعنی کہ، تنہا خُدا کے عمل ہی سے انسان کی تخلیق کی گئی تھی۔ وہ ایک تشبیہہ تھی۔ اُس کی شبیہہ انسان کی نئی تخلیق ہے، جب وہ دوبارہ جنم لیتا ہے، وہ بھی تنہا خُدا ہی کے عمل کے وسیلے سے ہے!

’’کیونکہ ہم خدا کی کاریگری ہیں اور ہمیں مسیح یسوع میں نیک کام کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے‘‘ (افسیوں 2:10).

’’اِس لیے اگر کوئی مسیح میں ہے تو وہ نیا مخلوق [’’تخلیق creation‘‘ سیکوفیلڈ کی مرکزی غور طلب بات] ہے۔ پُرانی چیزیں جاتی رہیں۔ دیکھو! وہ نئی ہو گئیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں 5:17).

ڈاکٹر رائیری Dr. Ryrie نے اُس آیت سے تعلق رکھتے ہوئے کہا،

’’ایک نیا مخلوق،‘‘ ادبی [ادبی طور سے] ’’ایک نیا مخلوق۔‘‘ پرانی چیزیں جاتی رہیں (ایرویسٹ زمانہ aorist tense [ماضی میں گزرا ہوا فعل کا ایسا زمانہ جو عمل کو بغیر اُس کی تکمیل یا تسلسل کے ظاہر کرے] اُس فیصلہ کُن تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جو نجات لاتی ہے)؛ ’’دیکھو، تمام چیزیں نئی ہو گئیں‘‘ (فعل کامل کا زمانہ جو مسیح میں نئے جنم کے دائمی نتائج کی نشاندہی کرتا ہے)۔ خُدا کا فضل ناصرف انصاف کرتا ہے بلکہ ’’ایک نیا مخلوق‘‘ بھی بناتا ہے جو زندگی کی تبدیل ہوئی طرز کا نتیجہ ہوتا ہے (چارلس سی رائیری، پی ایچ۔ ڈی۔ Chalres C. Ryrie, Ph.D.، رائیری کا مطالعۂ بائبل The Ryrie Study Bible، موڈی پریسMoody Press ، 1978، 2کرنتھیوں 5:17 پر غور طلب بات)۔

یوں، نئے جنم کی وہ ’’نئی تخلیق‘‘ پہلی تخلیق کی شبیہہ (کا پورا کیا جانا) ہے، جو گمراہ انسان کو اُس کے گمراہی میں جانے سے پہلے اُس کی اصلی حالت میں بحال کرتی ہے۔ یہ ظاہر کرتی ہے کہ ’’فیصلہ سازیت،‘‘ جیسا ہم اِسے آج جانتے ہیں، جھوٹی ہے۔ باغِ عدن میں، انسان نے جو اُس پہلی تخلیق میں کیا تھا اُس کے مقابلے میں تبدیلی کی نئی تخلیق میں کوئی بھی اِعانت نہیں کرتا ہے۔ ڈاکٹر گِیسلر Dr. Geisler نے نشاندہی کی کہ یہ حالت مارٹن لوتھر، جان کیلوِن، جاناتھن ایڈورڈز اور تمام مذھبی سُدھار والوں کی تھی (نارمن گیسلر، پی ایچ۔ ڈی۔ Norman Geisler, Ph.D.، سلسلہ بہ سلسلہ علم الہٰیات Systematic Theology، بیت عنیاہ ہاؤس Bethany House، 2004، جلد سوئم، صفحہ192)۔ حالانکہ خود ڈاکٹر گیسلر اُس تعلیم کی پیروی نہیں کرتے، اُنہوں نے ہمارے بپٹسٹ آباؤاِجداد کو بخوبی شُمولیت کروائی، جیسے کہ جان بنعین، جان گِل اور سی۔ ایچ۔ سپرجیئین، جنہوں نے بھی یقین کیا کہ انسان مونرجِیسٹیکلی دوبارہ جنم لیتا ہے، تنہا خُدا کے فضل کے وسیلےسے، بغیر انسانی اِعانت کے۔ مسیح میں ایمان لانے کی مونرجِیسٹک تبدیلی اُن عظیم بپٹسٹ مشنری بانیوں کے ذریعے سے بھی منعقد ہوئی تھی، جیسے کہ ولیم کیری، اور ایڈونیرام جڈسن۔ پیدائش2:7 میں انسان کی تخلیق کے واقعہ سے تعلق رکھتے ہوئے، لوتھر نے کہا،

اُن تمام معاملات میں جن کا تعلق خُدا سے ہے اور جو ہماری سمجھ سے بالا ہیں، انسان کے پاس کوئی آزاد مرضی نہیں ہوتی، بلکہ کمہار کے ہاتھوں میں مٹی کی مانند ہوتا ہے، جو کہ کچھ بھی نہیں کرتی، جبکہ کمہار ہی سب کچھ کرتا ہے۔ ہم بیشک خود کو نہیں چُنتے ہیں، بلکہ ہم چُنے ہوئے ہوتے ہیں، خُدا کے وسیلے سے تیارشُدہ اور تجدید کیے ہوئے [دوبارہ جنم لیے ہوئے] (مارٹن لوتھر، ٹی ایچ۔ ڈی۔ Martin Luther, Th.D.، پیدائش پر لوتھر کا تبصرہLuther’s Commentary on Genesis ، ژونڈروان اشاعتی گھر Zondervan Publishing House، دوبارہ اشاعت 1958، جلد اوّل، صفحہ 44)۔

یہ مونرگیزم monergism ہے، جو عظیم مذھبی سُدھار والے کے ذریعے سے سادہ بنائی گئی، اور وہ دُرست تھے۔

’’وہ نہ تو خون سے، نہ جسمانی خواہش سے اور نہ اِنسان کے اپنے اِرادہ سے بلکہ خدا سے پیدا ہُوئے‘‘ (یوحنا 1:13).

’’اور خداوند خدا نے زمین کی مِٹی سے اِنسان کو بنایا اور اُس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پُھونکا اور آدم ذی رُوح ہو گیا‘‘ (پیدائش 2:7).

خُدا کے فضل کی کیسی ایک تصویر، جو پہلے انسان کو بنا رہا ہے، اور گمراہ انسان کے احیاء میں وہ نئی تخلیق کرتا ہے، وہ نیا جنم۔ بالکل جیسے تنہا خُدا کے فضل کے وسیلے سے پہلا انسان بنایا گیا تھا اور اُس میں زندگی پھونکی گئی تھی، یوں گمراہ انسان کی تجدید نو ہوتی ہے، اُس نئے جنم میں، کُلی طور پر مسیح میں خُدا کے فضل کے وسیلے سے۔

حیرت انگیز فضل! کس قدر میٹھی وہ آواز،
   جس نے مجھ جیسے تباہ حال کو بچایا!
میں جو کبھی کھو گیا تھا، لیکن اب مل گیا ہوں،
   اندھا تھا لیکن اب دیکھتا ہوں۔
(’’حیرت انگیز فضلAmazing Grace ‘‘ شاعر جان نیوٹن John Newton ، 1725۔1807).

ستاروں کو اپنی جگہ پر رکھنے کے لیے ایک معجزہ ہوا تھا،
   خلا میں دُنیا کو لٹکانے کے لیے ایک معجزہ ہوا تھا؛
لیکن جب اُس نے میری جان کو بچایا، پاک صاف کیا اور مجھے مکمل کیا،
   تو پیار اور فضل کا ایک معجزہ ہوا تھا!
(’’ایک معجزہ ہوا تھا It Took a Miracle‘‘ شاعر جان ڈبلیو۔ پیٹرسن
      John W. Peterson، 1948)۔

’’اور خداوند خدا نے زمین کی مِٹی سے اِنسان کو بنایا اور اُس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پُھونکا اور آدم ذی رُوح ہو گیا‘‘ (پیدائش 2:7).

مجھے غلط مت سمجھیں۔ میں یقین نہیں کرتا کہ انسان کی تخلیق کا پیدائش کا واقعہ ایک دُنیاوی قِصّہ ہے۔ بالکل بھی نہیں۔ میں یقین کرتا ہوں کہ پیدائش2:7 خُدا کا پہلے انسان کو زمین کی مٹی سے بنانے اور اُس کے نتھنوں میں زندگی کی سانس پھونکنے کی واقعی میں ایک حقیقی وضاحت ہے۔ یہ پہلے انسان کے بنائے جانے کی واقعی میں حقیقی وضاحت ہے۔

یہ ایک دُنیاوی قِصّے اور ایک تشبیہہ کے درمیان فرق کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک دُنیاوی قِصہ من گھڑت کہانی ہوتی ہے جو ایک اخلاقی نقطہ نظر بتانے کے لیے استعمال ہوتی ہے – جیسا کہ ایسوپسز کی کہانیاں Aesop’s fables – جو کہ دُنیاوی قصے ہیں۔ لیکن ایک بائبلی تشبیہہ پرانے عہد نامے میں واقعی میں ایک سچائی ہوتی ہے جو قبل از وقت ہی نئے عہد نامے کی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔ پیدائش کے پہلے سارےابواب ہی میں بے شمار تشبیہات ہیں، جو نئے عہد نامے میں اپنی تکمیل پاتی ہیں۔ سیکوفیلڈ کا مطالعہ بائبل The Scofield Study Bible تشبیہہtype کی یہ دُرست تعریف پیش کرتی ہے: ایک تشبیہہ کسی سچائی کے الہٰی مقصد کی عکاسی ہوتی ہے… تشبیہات بہت زیادہ مرتبہ پینٹاٹیوک Pentateuch [پرانے عہد نامے کی پہلی پانچ کتابوں] میں رونما ہوئی ہیں، جبکہ دوسری جگہوں پر، نہایت کم پائی جاتی ہیں۔ شبیہہ یا تشبیہہ کا پورا ہونا عام طور پر نئے عہد نامے میں پایا جاتا ہے‘‘ (سیکوفیلڈ مطالعۂ بائبل The Scofield Study Bible، 1917 ایڈیشن، صفحہ4)۔

یوں، ہم یقین کرتے ہیں کہ پہلے انسان، آدم، کی اصل میں تخلیق کی وضاحت ایک تشبیہہ ہے، ’’ایک الہٰی مقصد کی عکاسی‘‘ ہے، انسان کی نئی تخلیق کے بارے میں جب وہ دوبارہ جنم لیتا ہے (یوحنا3:3، 7)۔

پہلے انسان کی تخلیق ہوئی تھی۔ اُس نے اِرتقاء نہیں کیا تھا۔ وہ ایک تشبیہہ ہے۔ لہٰذا، تشبیہہ کی تکمیلیت میں، ایک انسان نئی تخلیق کے ذریعے سے دوبارہ جنم لیتا ہے۔ وہ ایک مسیحی میں ’’اِرتقاء‘‘ نہیں ہوتا ہے۔ وہ اِس لیے مسیحی نہیں ہوتا ہے کیونکہ اُس کے والدین مسیحی تھے۔ وہ تعلیم اور سیکھنے کے عمل کے ذریعے سے آہستہ آہستہ مسیحی نہیں ہوتا۔ وہ خُدا کے براہ راست عمل کے ویسلے سے، فوراً مسیحی بن جاتا ہے۔

’’اور خداوند خدا نے زمین کی مِٹی سے اِنسان کو بنایا اور اُس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پُھونکا اور آدم ذی رُوح ہو گیا‘‘ (پیدائش 2:7).

ڈاکٹر ھنری ایم مورسDr. Henry M. Morris نے کہا،

     خُدا نے ’’زمین کی مٹی‘‘ کو انسان کا بدن بنانے کے لیے استعمال کیا، ایک شاندار جملہ جو اُس سوچ کا اِظہار کرتا ہے کہ وہ چھوٹے ترین ذرات جن سے زمین بنی ہوئی ہے (دورِ حاضرہ کی علمی اصطلاح میں، وہ بنیادی کیمیائی اجزاء: نائٹروجن، آکسیجن، کیلیشیم وغیرہ) انسانی بدن کے بنیادی جسمانی اجزاء بھی ہیں۔ [اِس بات کی] دورِ حاضرہ کی سائنس تصدیق کر چکی ہے۔
     پھر خُدا نے ’’اُس کے نتھنوں میں زندگی کی سانس پھونکی‘‘… انسان کا بدن مکمل طور سے بن چکا تھا، جو نتھنوں، گُردوں، اور سانس لینے کے تمام آلات سے لیس ہونے کے ساتھ ساتھ ہڈیوں اور عضوعات اور دوسری لازمی جُزیات پر مشتمل تھا، مگر بے جان تھا۔ اِس کو توانائی ملنی چاہیے تھی۔ سانس لینے کی تکنیک کو متحرک ہونا چاہیے تھا، دِل کو دھڑکنا اور خون کو گردش کرنا شروع کر دینا چاہیے اور تمام میٹابولِک metabolic فرائض کو اُن کی کاروائیاں شروع کر دینی چاہیے۔
     مگر زندگی صرف زندگی سے ہی آتی ہے، اور جیتا جاگتا خُدا صرف خود موجود ہونے سے ہے، اِس لیے [زندگی کو] بالاآخر اُسی سے آنا چاہیے۔ خصوصی طور پر انسانی زندگی کے منفرد تعلق کا الہٰی تعلق سے ناتا جوڑنے کے لیے، یہ کلام [پیدائش2:7] ہمیں بتاتا ہے کہ خود خُدا نے براہ راست زندگی مہیا کی اور اُسے انسان میں پھونکا۔
     وہ ’’زندگی کی سانس‘‘… ’’سانسbreath‘‘ وہی لفظ ہے (عبرانی ruach) جیسے ’’روح spirit‘‘… یہ صرف انسان کے لیے تھا کہ خُدا نے براہ راست (بجائے اِس کے کہ فاصلے سے، جیسا کہ یہ ہے اُس کے وسیلے سے کہے گئے الفاظ کے ذریعے سے) ’’زندگی کی سانس‘‘ اُس میں ’’پھونکی۔‘‘
     اِس موقع پر،انسان ’’ایک زندہ جان‘‘ بن جاتا ہے… جس کو اپنے متحرک ہونے کے لیے خُدا کی براہ راست توانائی درکار تھی (ھنری ایم۔ مورس، پی ایچ۔ ڈی۔ Henry M. Morris, Ph.D.، پیدائش کا اندراجThe Genesis Record، بیکر کُتب گھر Baker Book House، 1986 ایڈیشن، صفحات85۔86)۔

’’اور خداوند خدا نے زمین کی مِٹی سے اِنسان کو بنایا اور اُس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پُھونکا اور آدم ذی رُوح ہو گیا‘‘ (پیدائش 2:7).

یہ ہی لفظ بہ لفظ انسان کی تخلیق کی وضاحت ہے جس سے تشبیہہ آتی ہے۔ شبیہہ جو ہے وہ ایک نئی تخلیق ہے (افسیوں2:10؛ 2کرنتھیوں5:17)۔ ڈاکٹر مورس نے کہا،

زندگی صرف زندگی سے ہی آ سکتی ہے، اور زندہ خُدا ہی واحد خود اپنا وجود رکھنے والی ہستی ہے، اِس لیے [زندگی کو] بالاآخر اُسی سے آنا چاہیے… خُدا نے خود براہ راست زندگی ڈالی تھی… انسان میں (ibid.)۔

نئے جنم کے بارے میں پیدائش2:7 کی کیسی ایک تصویر!

’’[خُدا] نے ہمیں جب کہ ہم اپنے قصوروں کے باعث مُردہ تھے مسیح کے ساتھ زندہ کیا۔ (فضل سے ہم نجات پاتے ہیں؛) اُسی کے فضل سے تمہیں نجات ملی ہے۔ کیونکہ تمہیں ایمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجات ملی ہے اور یہ تمہاری کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ خدا کی بخشش ہے۔ اور نہ ہی یہ تمہارے اعمال کا پھل ہے کہ کوئی فخر کر سکے۔ کیونکہ ہم خدا کی کاریگری ہیں اور ہمیں مسیح یسوع میں پیدا کیا گیا ہے نیک کام کرنے کے لیے جنہیں خدا نے پہلے ہی سے ہمارے کرنے کے لیے تیار کر رکھا تھا‘‘ (افسیوں 2:5، 8۔10).

’’جب ہم گناہوں میں مُردہ تھے،‘‘ خُدا نے ہمیں مسیح کے ساتھ زندہ کیا [زندہ بنایا] (فضل سے ہم نجات پاتے ہیں)… مسیح یسوع میں تخلیق ہو کر‘‘!ْ

’’اور خداوند خدا نے زمین کی مِٹی سے اِنسان کو بنایا اور اُس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پُھونکا اور آدم ذی رُوح ہو گیا‘‘ (پیدائش 2:7).

میتھیو ھنریMathew Henry نے کہا،

جب ہمارے خُداوند یسوع نے اندھے آدمی کی آنکھوں کو مٹی سے مسح کیا تو شاید اُس نے آشنا کیا کہ یہ وہ ہی تھا جس نے سب سے پہلے مٹی سے انسان کو بنایا؛ اور جب اُس نے اپنے شاگردوں پر سانس پھونکی، یہ کہتے ہوئے، تم پر پاک روح نازل ہو، تو اُس نے آشنا کیا کہ یہ وہ ہی تھا جس نے پہلی مرتبہ انسان کے نتھنوں میں زندگی کی سانس پھونکی تھی۔ وہ جس نے جان کو بنایا وہ ہی تنہا اِس کو نیا کرنے کے قابل ہے (متیھیو ھنری کا تمام بائبل پر تبصرہ Mathew Henry’s Commentary on the Whole Bible، ھینڈرِکسن پبلیشرز Hendrickson Publishers، دوبارہ اشاعت 1996، جلد اوّل، صفحہ12؛ پیدائش2:7 پر غور طلب بات)۔

وہ جس نے جان کو بنایا وہ ہی تنہا اِس کو نیا کرنے کے قابل ہے! یہ ہے جو یسوع کا مطلب تھا جب اُس نے کہا،

’’بشر سے تو بشر ہی پیدا ہوتا ہے مگر جو رُوح سے پیدا ہوا ہے وہ رُوح ہے۔ حیران نہ ہو کہ میں نے تجھ سے کہا کہ تُم سب کو نئے سرے سے پیدا ہونا لازمی ہے‘‘ (یوحنا 3:6۔7).

یہ احیاء ہے۔ وہ نیا جنم ہے۔ کوئی بھی خُدا کی بادشاہت کو نہیں دیکھ سکتا، اُس میں داخل ہونا تو دور کی بات ہے، جب تک کہ وہ دوبارہ جنم نہیں لیتا۔ سپرجیئن نے کہا،

’’تمہیں دوبارہ جنم لینا چاہیے۔‘‘ [وہ] نیا جنم سب سے زیادہ واضح اور مکمل بدل ڈالنے والی قابل فہم بات ہے۔ یہ ہے، درحقیقت، ایک تبدیلی کے مقابلے میں کچھ زیادہ، یہ ایک تخلیق ہے… یہ نہیں ہے ’’تمہیں دُھلا ہوا ہونا چاہیے، تمہیں پہلے سے بہتر ہو جانا چاہیے، تمہیں بُلند ہو جانا چاہیے؛‘‘ لیکن ’’تمہیں پیدا ہونا چاہیے‘‘ … ایک نئی زندگی نازل ہونی چاہیے، اور اِس کی جگہ پر کچھ بھی موجودہ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کافی نہیں (سی۔ ایچ۔ سپرجیئن C. H. Spurgeon، ’’ہر انسان کی ضرورت Every Man’s Necessity،‘‘ میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ سے The Metropolitan Tabernalce Pulpit، پلگِرم اشاعت خانے Pilgrim Publications، دوبارہ اشاعت1972، جلد پچیسویں، صفحہ 50)۔

کوئی شاید کہے، ’’لیکن میں کیسے دوبارہ جنم لے سکتا ہوں؟‘‘ ہم جواب دیتے ہیں کہ یہ تنہا مسیح میں خُدا کا عمل ہوتا ہے۔ ’’لیکن،‘‘ آپ کہتے ہیں، ’’میرا اِس میں کیا کردار ہوتا ہے؟ مجھے کیا کرنا ہوتا ہے؟‘‘ ہم جواب دیتے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہےجو اپنی مدد کرنے کے لیے کر یا سیکھ سکتے ہوں۔ آپ کو شکست خوردہ ہو جانا چاہیے اور محسوس کرنا چاہیے کہ آپ خود اپنی مدد کرنے کے لیے بےبس ہیں۔ جب آپ کی اپنی قوت ختم ہو جاتی ہے تو خُدا کی قوت آ جائے گی۔ تب آپ مسیح کے پاس نہایت سادگی کے ساتھ آ جائیں گے۔ تب آپ خود اپنے آپ کو دیکھنا اور خود کے خیالات کا معائنہ کرنا چھوڑ دیں گے – اور اِس کے بجائے یسوع کے پاس آ جائیں گے۔ پھر، صلیب پر اُس کی متبدلیاتی قربانی پاک خُدا کو تسلی دے گی۔ پھر، اُس کا خون آپ کے گناہوں کو پاک صاف کرے گا۔ پھر، مُردوں میں سے اُس کا جی اُٹھنا آپ کو زندگی بخشے گا۔ تب آپ نئے سرے سے جنم لیں گے۔ یہ سب کچھ مسیح میں خُدا کے فضل اور قوت کے وسیلے سے ہو گا، کیونکہ، جیسا کہ میتھیو ھنری نے کہا، ’’وہ جس نے جان کو بنایا وہ ہی تنہا اِس کو نیا کرنے کے قابل ہے۔‘‘

حیرت انگیز فضل! کس قدر میٹھی وہ آواز،
   جس نے مجھ جیسے تباہ حال کو بچایا!
میں جو کبھی کھو گیا تھا، لیکن اب مل گیا ہوں،
   اندھا تھا لیکن اب دیکھتا ہوں۔
(’’حیرت انگیز فضلAmazing Grace ‘‘ شاعر جان نیوٹن John Newton ، 1725۔1807).

ستاروں کو اپنی جگہ پر رکھنے کے لیے ایک معجزہ ہوا تھا،
   خلا میں دُنیا کو لٹکانے کے لیے ایک معجزہ ہوا تھا؛
لیکن جب اُس نے میری جان کو بچایا، پاک صاف کیا اور مجھے مکمل کیا،
   تو پیار اور فضل کا ایک معجزہ ہوا تھا!
(’’ایک معجزہ ہوا تھا It Took a Miracle‘‘ شاعر جان ڈبلیو۔ پیٹرسن John W. Peterson
، 1948)۔

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا چاہیں گے۔ جب آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو آپ اُنہیں ضرور بتائیں کہ آپ کس مُلک سے لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای میل کو جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل لکھیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں اُس کا نام شامل کریں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تلاوت ڈاکٹر کرھیٹن ایل۔ چعینDr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: یوحنا3:1۔7 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’ایک معجزہ ہوا تھا It Took a Miracle‘‘ (شاعر جان ڈبلیو۔ پیٹرسن John W. Peterson، 1948)۔