Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


باپ کا کھینچاؤ

THE DRAWING OF THE FATHER
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 10 جُون، 2007
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, June 10, 2007

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا6:44)۔

یسوع کے پاس جانا وہ واحد بات ہے جو نجات پانے کے لیے ایک گنہگار کو کرنا چاہیے۔ اُس اصطلاح ’’یسوع کے پاس جانا‘‘ کا مطلب ہوتا ہے کسی کا خود کی اپنی راستبازی کو چھوڑنا اور یسوع کی جانب رُخ کرنا، اُس کی موت کو ہمارے کفارے کی حیثیت سے قبول کرنا اور اُس کی راستبازی کے لبادے میں ہونا۔

’’فیصلہ سازDecisionists‘‘ یسوع کے پاس جانے کے بارے میں ایک انتہائی عام بات کی حیثیت سے سوچتے ہیں۔ لیکن وہ غلط ہیں۔ وہ اِس تلاوت کے بارے میں سوچنے سے پرھیز کرتے ہیں کیونکہ یہ واضح طور پر اُس کی غلطی کو ظاہر کرتی ہے۔

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا6:44)۔

کسی کے لیے بھی یسوع کے پاس جانا ناممکن ہوتا ہے جب تک کہ خُدا باپ اُس کو نجات دہندہ کی جانب کھینچ نہ لائے۔

یہ آیت ہمارے زمانے میں لوگوں کے لیے نہایت جارحانہ ہے۔ وہ ہماری تہذیب سے سیکھ چکے ہیں کہ اُن کے پاس چُناؤ کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ وہ اِس کے بارے میں ایک بنیادی انسانی حق کی حیثیت سے سوچتے ہیں۔ پس، حتّٰی کہ ایک بے بس بچے کا قتل ایک عورت کا ’’چُننے کا حق‘‘ کہلاتا ہے۔ لیکن بائبل تعلیم نہیں دیتی کہ انسانوں کے پاس چُننے کی وہ آزادی ہے۔ نجات کے معاملے میں، مسیح نے کہا ہمارے پاس بالکل بھی چُننے کی اہلیت نہیں ہوتی! یہ ہی وجہ ہے کہ مسیح کے الفاظ دورِ حاضرہ کے ذہن کے لیے اِس قدر غصہ دلانے والے ہو جاتے ہیں،

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا6:44)۔

گمراہ گنہگار یہ سُننا ناپسند کرتا ہے کہ اُس کے پاس ’’چُناؤ کا کوئی حق‘‘ نہیں ہوتا۔ اُس کو یہ سُننے سے نفرت ہوتی ہے کہ وہ قطعی طور پر بے بس ہوتا ہے اور گمشدہ ہوتا ہے جب تک کہ خُدا مداخلت نہیں کرتا اور اُس کو نجات دہندہ کی جانب کھینچ نہیں لاتا۔ وہ مسیح کے الفاط سے پریشان ہو جاتا ہے،

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا6:44)۔

جب ہم اُس غصہ دلانے والی تلاوت کے بارے میں سوچیں گے، تو ہم انسان کی نااہلیت، انسان کی غلطیوں اور خُدا کے کھینچے جانے کو دیکھیں گے۔

I۔ پہلی بات، اِنسان کی نااہلیت۔

تلاوت کہتی ہے،

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا6:44)۔

ایک انسان کے پاس خُدا کے کھینچ کر لائے جانے کے بغیر مسیح کے پاس جانا کیوں ناممکن ہے؟ اِس کا جواب سادہ سا ہے۔ اِنسان مکمل طور پر اخلاقی زوال میں مبتلا ہے۔ اخلاقی زوال میں مکمل طور پر مبتلا ہونا انسانی فطرت کی عالمگیری بدشکلی، انسانی دِل کی پیدائشی گناہ کی بھرپوری کی جانب نشاندہی کرتا ہے۔ ہر انسان اِخلاقی زوال کی حالت میں پیدا ہوتا ہے۔ داؤد نبی نے کہا،

’’میں اپنی پیدائش ہی سے گنہگار تھا، اور اُس وقت سے گنہگار ہُوں جب میں اپنی ماں کے رحم میں پڑا‘‘ (زبور 51:5).

بائبل تعلیم دیتی ہے کہ ہر بچہ پیدائش ہی سے گنہگار ہوتا ہے۔ بچے معصوم پیدا نہیں ہوتے۔ وہ خُدا کے خلاف گناہ سے بھرپور اور باغی پیدا ہوتے ہیں۔ ہر نسل ایک مکمل طور پر اخلاقی زوال میں مبتلا فطرت وراثت میں پاتی ہے۔ کوئی بھی مُبّرا نہیں ہوتا۔

ہمارے پہلے والدین نے خُدا کے خلاف گناہ کیا۔ اُس کا گناہ، اُس کی تمام نسل پر، ہر ایک انسان پر عالمگیری اِخلاقی زوال لائی۔ بائبل کہتی ہے،

’’پس جیسے ایک آدمی کے ذریعہ گناہ دنیا میں داخل ہُوا اور گناہ کے سبب سے مَوت آئی ویسے ہی مَوت سب اِنسانوں میں پھیل گئی …‘‘ (رومیوں5:12).

یوں، ہر انسان روحانی طور پر مُردہ ہوتا ہے۔ بائبل کہتی ہے،

’’ہم اپنے قصوروں کے باعث مُردہ تھے‘‘ (افسیوں 2:5).

اِس کے علاوہ، تمام انسان ایک ایسی فطرت کے تحت پیدا ہوتے ہیں جو خُدا کے خلاف بغاوت رکھتی ہے۔ بائبل کہتی ہے،

’’جسمانی نیت خدا کی مخالفت کرتی ہے …‘‘ (رومیوں 8:7الف).

غیرنجات یافتہ انسان کا ذہن خُدا کی جانب مخالفت رکھتا ہے۔ انسانی دِل خُدا کے خلاف ہوتا ہے اور بدلنے کا اہل نہیں ہوتا،

’’… وہ نہ تو خدا کی شریعت کے تابع ہے نہ ہو سکتا ہے‘‘ (رومیوں 8:7ب).

غیرنجات یافتہ شخص تھوڑا مسیح کا دشمن ہوتا ہے، خُدا اور اُس کے بیٹے یسوع کی جانب مکمل طور پر مخالفانہ – اور خود کو تبدیل کرنے کے نااہل ہوتا ہے۔

اِس کے علاوہ، تمام کے تمام انسان اپنی فطری حالت میں خوشخبری کی سچائی کو قبول کرنے کے لیے نااہل ہوتے ہیں، بائبل کہتی ہے،

’’جس میں خدا کا پاک رُوح نہیں وہ خدا کی باتیں قبول نہیں کرتا … نہ ہی اُنہیں سمجھ سکتا ہے کیونکہ وہ صرف پاک رُوح کے ذریعہ سمجھی جا سکتی ہیں‘‘ (1۔ کرنتھیوں 2:14).

پس، بائبل تعلیم دیتی ہے کہ آپ قدرتاً ایک گنہگار پیدا ہوتے ہیں۔ بائبل تعلیم دیتی ہے کہ آپ روحانی طور پر مُردہ ہوتے ہیں۔ بائبل تعلیم دیتی ہے کہ آپ کا انتہائی ذہن خُدا کے خلاف ہوتا ہے اور خود کو بدلنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ بائبل تعلیم دیتی ہے کہ آپ نجات قبول کرنے کے اہل نہیں ہوتے یا یہاں تک کہ آپ اپنی موجودہ حالت میں نجات کو سمجھنے کے بھی قابل نہیں ہوتے۔ یہ ہے جو گمراہ یا گمشدہ ہونے کا مطلب ہوتا ہے! وہ آپ کی تباہ حال اور مسخ فطرت سے تعلق رکھتے ہوئے بائبل کے سادہ سے حقائق ہیں۔ یہ بائبل کے حقائق اِس دُرست بیان میں رقم کیے گئے تھے، جو ویسٹ منسٹر کے اعتراف Westminster Confession میں پیش کیے گئے،

انسانی اپنی برگشتگی کے باعث گناہ کی حالت میں، کسی بھی روحانی نیکی کے لیے جس کا نتیجہ نجات ہوتا ہے کُلی طور پر مرضی کرنے کی تمام اہلیت کو کھو چکا ہوتا ہے؛ اِس لیے ایک قدرتی انسان کی حیثیت سے، اُس نیکی سے قطعی طور پر مخالف ہو چکنے پر، اور گناہ میں مُردہ ہونے پر، خود اپنی قوت کے بل پر خود کو بدلنے کا اہل نہیں ہوتا ہے، یا یہ خود کو اُس کے لیے تیار کرنے کے قابل نہیں ہوتا ہے (ویسٹ منسٹر کا اعتراف، Westminster Confession IX.3)۔

وہ ہمارے بپٹسٹ اور پروٹسٹنٹ آباؤاِجداد کی ’’فیصلہ سازیتdecisionism‘‘ سے پہلے کی بائبلی حالت تھی، تمام کی تمام مگر سچی تباہ کردہ انجیلی بشارت۔ جیسا کہ ہمارے بپٹسٹ خاندان کے بانی سپرجیئن Spurgeon اِس کو تحریر کرتے ہیں،

برگشتگی کے ذریعے سے اور خود ہمارے اپنے گناہ کے ذریعے سے،انسان کی فطرت اِس قدر زیادہ بدچلن بن چکی ہے اور اخلاقی زوال میں مبتلا اور مسخ ہو چکی ہے کہ اُس کے لیے یہ اب ناممکن ہو چکا ہے خُدا کے کھینچے جانے کے بغیر مسیح کے پاس جا سکے… ’’اب،‘‘ کوئی کہتا ہے، ’’میں یقین کرتا ہوں لوگ نجات پا سکتے ہیں اگر اُن کی مرضی ہو۔‘‘ میرے پیارے محترم، یہ سوال سرے سے ہے ہی نہیں۔ سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے، کیا لوگ قدرتی طور پر مرضی کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں…؟ ہم اِعلان کرتے ہیں، کلام پاک کے اِختیار پر، کہ انسان کی مرضی اِس قدر شدید طور سے فتنہ انگیزی پر قائم ہے، اِس قدر مسخ شُدہ ہے اور بدی… کی جانب اِسقدر راغب ہے، اور نیکی… کے لیے اِس قدر شاکی ہے، پاک روح کے اثر… کی طاقت کی بھرپوری اور فوق الفطرتی کے بغیر، کوئی بھی انسان کبھی بھی مسیح کے پاس نہیں جا سکتا [آ سکتا] (سی۔ ایچ۔ سپرجیئن C. H. Spurgeon، پارک سٹریٹ کی نئی واعظ گاہ The New Park Street Pulpit، پِلگِرم اشاعت خانے Pilgrim Publications، دوبارہ اشاعت1981، جلد چہارم، صفحات138۔139)۔

اِس ہی لیے یسوع نے کہا،

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا6:44)۔

پس ہم، پہلے، دیکھتے ہیں، انسان کی یسوع کے پاس جانے کے لیے پیدائشی طور پر قدرتی نااہلیت۔

II۔ دوسری بات، انسان کی غلطیاں۔

انسان اپنے موروثی اخلاقی زوال میں نجات دہندہ کے پاس آنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ یسوع نے کہا،

’’پھر بھی تُم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے اِنکار کرتے ہو‘‘ (یوحنا 5:40).

یہاں پر توجہ طلب بات لکھ لیں، اور احتیاط سے متوجہ ہوں۔ مسیح کے پاس جانے کے بجائے، اخلاقی زوال میں مبتلا انسانی ذہن ہمیشہ کچھ نہ کچھ اور کر ڈالتا ہے۔ وہ ایک دعا کہیں گے، اور اپنی دعا پر انحصار کریں گے، بجائے اِس کے کہ مسیح کے پاس جائیں۔ وہ بائبل کی ایک آیت پر یقین کریں گے، اور اُس آیت کے اعتقاد پر انحصار کریں گے، بجائے اِس کے کہ مسیح کے پاس جائیں۔ وہ ’’اپنے تئیں پوری کوشش کرتے‘‘ ہیں، بجائے اِس کے کہ مسیح کے پاس جائیں۔ وہ مسیح کو اپنی زندگیوں کا خُداوند بنانے کی کوشش کریں گے، بجائے اِس کے کہ سادگی کے ساتھ اُس کے پاس جائیں۔ اُنہیں ایک ’’اچھا احساس‘‘ ملے گا اور وہ اُس پر انحصار کریں گے، بجائے اِس کے کہ مسیح کے پاس جائیں۔ یہ تمام کی تمام غلطیاں قطعی طور پر مُہلک ہوتی ہیں! اِن غلیطوں میں سے کوئی بھی کسی ایک شخص کو بھی سزا اور جہنم سے نہیں بچا پائے گی۔

یسوع کے پاس جانا دُنیا میں آسان ترین سے بات کی مانند دکھائی دیتی ہے۔ پھر بھی باپ کے کھینچے جانے کے بغیر، کوئی ایک بھی ہستی اصل میں یسوع بخود کے پاس نہیں جا سکتی۔ جیسا کہ نجات دہندہ نے کہا،

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا6:44)۔

اپنی اخلاقی زوال میں گھری ہوئی حالت میں آپ کو یسوع کی قدر نظر نہیں آئے گی۔ وہ آپ کو آپ کی موجودہ حالت میں اہم دکھائی نہیں دے گا۔ گمشدہ نسل انسانی کے بارے میں بات کرتے ہوئے، نبی نے مسیح کے بارے میں کہا،

’’ہم لوگ اُسے دیکھ کر مُنہ موڑ لیتے ہیں … اور ہم نے اُس کی کچھ قدر نہ جانی‘‘ (اشعیا 53:3).

اپنی مسخ شُدہ [اخلاقی زوال میں مبتلا] حالت میں آپ کو صلیب پر یسوع کی موت میں کوئی حقیقی قدر نظر نہیں آئے گی۔ حالانکہ آپ ہزاروں مرتبہ سُن چکے ہوتے ہیں کہ وہ آپ کی جگہ پر قربان ہو گیا تھا، آپ کے گناہ کی ادائیگی کرنے کے لیے، خُوشخبری کی اُس عظیم سچائی کا آپ کے تاریک ہوئے ذہن کو کوئی فوری معنی نہیں ملے گا۔ حالانکہ آپ ہزاروں مرتبہ سُن چکے ہوں گے کہ وہ آپ کو زندگی بخشنے کے لیے مُردوں میں سے زندہ ہو گیا تھا، خوشخبری کی اُس عظیم سچائی کا آپ کو آپ کی موجودہ حالت میں کوئی حقیقی معنی نہیں ملے گا۔ حالانکہ آپ ہزاروں مرتبہ سُن چکے ہیں،

’’خداوند یسوع پر ایمان لا تو تُو اور تیرا سارا خاندان نجات پائے گا‘‘ (اعمال 16:31).

آپ کچھ نہ کچھ اور کریں گے، آپ یسوع سے اپنا مُنہ موڑ لیں گے، آپ اُس کی قدر نہیں کریں گے، آپ اُس کے پاس نہیں آئیں گے۔ کیونکہ جیسا اُس نے کہا،

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا6:44)۔

انسان کی غلطیاں ہمیشہ اُس کی کچھ نہ کچھ انسانی جدوجہد کو بروئے کار لانے کے لیے رہنمائی کرتی ہیں بجائے اِس کے کہ اُس کو یسوع مسیح بخود کے پاس لائیں – جب تک کہ خُدا اُس کو نجات دہندہ کی جانب کھینچ نہ لائے۔

III۔ تیسری بات، خُدا کا کھینچنا۔

آئیے کھڑے ہوں اور تلاوت کو باآوازِ بُلند پڑھیں، دوسرے جملے پر احتیاط کے ساتھ توجہ دیں۔

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا6:44)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

’’جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے۔‘‘ وہ واحد شخص جو اصل میں یسوع کے پاس پہنچتا ہے وہ ہوتا ہے جس کو باپ کے وسیلے سے اُس یسوع کی جانب کھینچا جاتا ہے۔ اِس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ سپرجیئن نے اِس کو اِس طرح سے واضح کیا:

مجھے یاد ہے ایک مرتبہ ایک ایسے شخص سے ملنا جس نے مجھ سے کہا تھا، ’’محترم، آپ منادی کرتے ہیں کہ مسیح لوگوں کو اُن کے سروں کے بالوں سے پکڑ لیتا ہے اور اُنہیں اپنی جانب کھینچتا ہے۔‘‘ میں نے اُس سے پوچھا کہ آیا وہ مجھے اُس تاریخ کی نشاندہی کر سکتا ہے جس میں مَیں نے اُس غیرمعمولی عقیدے کی منادی کی تھی… مگر، وہ نہ کر سکا۔ مگر میں نے کہا، مسیح لوگوں کو اُن کے سروں کے بالوں سے پکڑ کر اپنی جانب نہیں کھینچتا، میں یقین کرتا ہوں کہ وہ اُنہیں دِل کے ذریعے سے کھینچتا ہے… اِس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ باپ کے کھینچنے میں کسی بھی قسم کی زور زبردستی نہیں ہوتی؛ مسیح نے کبھی بھی کسی شخص کو اُس کی مرضی کے خلاف اپنے پاس آنے کے لیے [مجبور] نہیں کیا۔ اگر ایک شخص نجات پانے کے لیے رضامند نہیں ہے، مسیح اُس کو اُس کی مرضی کے بغیر نہیں بچاتا۔ تب، پھر، پاک روح اُس کو کیسے کھینچتا ہے؟ کیوں، اُس کی اپنی مرضی کے وسیلے سے مجبورکراتا ہے… جیسا کہ رالف ایرسکائین اِس کو پیراڈوکسیکلی تحریر کرتے ہیں، وہ شخص نجات پاتا ہے ’’اپنی مرضی کے خلاف مکمل رضامندی کے ساتھ‘‘ یعنی کے اپنی پرانی مرضی کے خلاف وہ نجات پا جائے گا۔ لیکن وہ مکمل رضامندی کے ساتھ نجات پاتا ہے، کیونکہ وہ خُدا کی قدرت والے دِن میں اپنی مرضی کے لیے تیار کیا جاتا ہے (سپرجیئن Spurgeon، ibid.، صفحہ 142)۔

کبھی بھی مت سوچیں کہ آپ یسوع کے خون کے گناہ کو پاک صاف کر ڈالنے والے غسل میں جائیں گے جب کہ آپ نجات دہندہ سے دور بھاگنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں اور ٹانگیں مار رہے ہیں!

اب، شاید کوئی نہ کوئی پوچھ سکتا ہے، ’’کیا میں یسوع میں کھینچا جا چکا ہوں؟‘‘ اگر آپ اپنے گناہ کو محسوس کرتے ہیں تو شاید آپ کھینچے جا چکے ہیں۔ اگر آپ خود اپنے دِل کی گناہ کی بھرپوری سے آگاہ ہو جاتے ہیں، تو شاید آپ کھینچے جا چکے ہیں۔ اگر آپ خُدا کی کتابوں میں درج اپنے گناہوں کے بارے میں فکرمند ہیں تو شاید آپ کھینچے جا چکے ہیں۔ اگر آپ اپنے گناہوں کو پاک صاف کرنے کے لیے یسوع کے خون کی ضرورت کو دیکھتے ہیں تو شاید آپ کھینچے جا چکے ہیں۔

لیکن آپ کیسے جان پائیں گے کہ آیا آپ کھینچے جا چکے ہیں؟ کیوں، وہ کافی آسان ہے! آپ جان جائیں گے کہ آپ کھینچے جا چکے ہیں اگر آپ یسوع کے پاس آتے ہیں! نجات دہندہ نے کہا،

’’جو کوئی میرے پاس آئے گا میں اُسے اپنے سے جدا نہ ہونے دُوں گا‘‘ (یوحنا 6:37).

گذشتہ شب میں نے آپ پر ظاہر کیا تھا کیسے بائبل کے زمانے میں لوگ یسوع کے پاس جلدی جلدی اور آسانی سے آئے۔ زکائی، محصول لینے والا درخت پر سے نیچے اُترا اور یسوع کے پاس آیا۔ اندھا برتمائی نجات دہندہ کو دیکھ نہیں سکتا تھا، لیکن اُس نے سڑک کے پار راہ میں محسوس کیا، یسوع کے پاس آیا، اور نجات پائی تھی۔ ایک گنہگار عورت میز کے نیچے سے رینگ کر آئی تھی اور یسوع کے پیروں کو چوما تھا۔ جس لمحے وہ نجات دہندہ کے پاس آئی، اُس نے اُس عورت سے کہا، ’’تیرے گناہ معاف ہوئے‘‘ (لوقا7:48)۔ اِن لوگوں کے لیے یسوع کے پاس آنا آسان تھا کیونکہ خُدا اُنہیں اُس یسوع کی جانب کھینچتا تھا۔

فریسی، ہیرودیس، پیلاطُوس، یہوداہ اور بے شمار دوسرے لوگ اُس یسوع کے پاس نہیں آئے تھے، کیونکہ خُدا نے اُنہیں نجات دہندہ کی جانب نہیں کھینچا تھا۔ وہ وہیں بالکل اُن کے بیچ میں تھا، لیکن اُنہوں نے اُس پر بھروسہ نہیں کیا تھا۔ وہ اُس کے پاس ایمان کے وسیلے سے نہیں آئے تھے۔ لیکن یہ اُن کے لیے آسان تھا جنہیں خُدا نے اُس یسوع کی پاس کھینچا تھا۔ زکائی، اندھا برتمائی اور گنہگار عورت یسوع کے پاس جلدی سے اور آسانی سے آئے کیونکہ خُدا نے اُنہیں نجات دہندہ کی جانب کھینچا تھا۔

اگر خُدا آپ کو کھینچ رہا ہے تو آپ کے لیے یسوع کے پاس آنا بالکل اُتنا ہی آسان اور سادہ ہو گا جتنا بائبل کے زمانے میں اُس لوگوں کے لیے تھا۔ تب یسوع کے پاس آئیں! براہ راست اُس یسوع کے پاس آئیں، جو آسمان میں خُدا کے داہنے ہاتھ پر بیٹھا ہوا ہے۔ ایمان کے وسیلے سے اُس کے پاس سیدھے آئیں۔ آئیں اور اُسی میں سکون پائیں۔ آئیں اور اُس پر بھروسہ کریں۔ سیدھے اُس کے پاس آئیں اور وہ خود اپنے خون کے ساتھ آپ کے گناہوں کو دھو ڈالے گا۔ وہ آپ کو خود اپنی راستبازی کا لبادہ اُڑھا دے گا۔ یسوع کسی بھی شخص کو جو اُس کے پاس آتا ہے نجات دے گا۔

’’اور جو کوئی میرے پاس آئے گا میں اُسے اپنے سے جدا نہ ہونے دُوں گا‘‘ (یوحنا 6:37).

مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور اپنے گیتوں کے ورق میں سے حمدوثنا کا گیت نمبر تین گائیں۔ جب آپ گائیں تو لفظوں کے بارے میں سوچیں۔

اپنی غلامی، دُکھوں اور اندھیروں سے باہر،
   یسوع، میں آتا ہوں، یسوع، میں آتا ہوں؛
تیرے نور، شادمانی اور آزادی میں داخلے کے لیے،
   یسوع، میں تیرے پاس آنے کے لیے آتا ہوں؛
میری بیماری سے نکل کر، تیری تندرستی میں،
   میری چاہت سے نکل کر اور تیرے خزانوں میں،
میرے گناہ سے باہر اور خود تیری ذات میں،
   یسوع، میں تیرے پاس آنے کے لیے آتا ہوں۔

اپنی بے انتہا شرمناک ہار اور نقصان سے نکل کر،
   یسوع، میں آتا ہوں، یسوع، میں آتا ہوں؛
تیری صلیب کی پُرجلال فتح میں آنے کے لیے،
   یسوع میں تیرے پاس آنے کے لیے آتا ہوں۔
زمینی دُکھوں میں سے نکل کر تیری شفا یابی میں آنے کے لیے،
   زندگی کے طوفانوں سے نکل کر اور تیرے سکون میں آنے کے لیے،
پُر مسرت خوشی کے گیت گانے کے لیے پریشانی سے نکل کر،
   یسوع میں تیرے پاس آنے کے لیے آتا ہوں۔

تکبرانہ غرور اور بے چینی سے نکل کر،
   یسوع، میں آتا ہوں، یسوع، میں آتا ہوں؛
تیری مقدس خواہش کو پورا کرنے کے لیے،
   یسوع، میں تیرے پاس آنے کے لیے آتا ہوں۔
تیرے پیار میں پنپنے کے لیے اپنی خود کی ذات سے نکل کر،
   مایوسی سے نکل کر عالمِ بالا میں بے خودی میں آنے کے لیے،
فاختہ کی مانند پر پھیلائے نظریں اوپر اُٹھائے،
   یسوع میں تیرے پاس آنے کے لیے آتا ہوں۔

قبر کی ہولناکی اور خوف سے نکل کر،
   یسوع، میں آتا ہوں، یسوع، میں آتاہوں؛
تیرے گھر کے نور اور خوشی میں آنے کے لیے،
   یسوع، میں تیرے پاس آنے کے لیے آتا ہوں۔
انجانے کھنڈرات کی گہرائیوں سے نکل کر،
   تیری محفوظ پناہ گاہ کی چھت تلے آنے کے لیے،
ہمیشہ کے لیے تیرے پُر جلال چہرے کو دیکھنے کے لیے،
   یسوع، میں تیرے پاس آنے کے لیے آتا ہوں۔
(’’یسوع، میں آتا ہوں Jesus, I Come‘‘ شاعر ولیم ٹی. سلیپر William T. Sleeper، 1819۔1904).


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک میں سے تلاوت ڈاکٹر کرھیٹن ایل۔ چعین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: یوحنا 6:35۔47 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
نے گایا تھا: ’’ہائے، کیسا ایک چشمہ Oh, What a Fountain‘‘ (شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائسDr. John R. Rice، 1895۔1980)۔

لُبِ لُباب

باپ کا کھینچاؤ

THE DRAWING OF THE FATHER

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا6:44)۔

I.    پہلی بات، اِنسان کی نااہلیت، یوحنا 6:44الف؛ زبُور 51:5؛ رومیوں 5:12؛
افسیوں 2:5؛ رومیوں 8:7؛ 1۔ کرنتھیوں 2:14۔

II.   دوسری بات، انسان کی غلطیاں، یوحنا 5:40؛ اشعیا 53:3؛ اعمال 16:31۔

III.  تیسری بات، خُدا کا کھینچنا، یوحنا 6:44ب، 37؛ لوقا 7:48۔