اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔
واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔
جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔
صلیب کی مُنادیTHE PREACHING OF THE CROSS ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے ’’ہلاک ہونے والوں کے لیے تو صلیب کا پیغام بیوقوفی ہے لیکن ہم نجات پانے والوں کے لیے خدا کی قدرت ہے‘‘ (I کرنتھیوں 1: 18)۔ |
میں انتالیس سال سے مذہبی تبلیغی خدمت میں ہوں۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ ایک پادری کو سب سے مشکل کام کیا کرنا ہوتا ہے تو میں جواب دوں گا، بغیر کسی ہچکچاہٹ کے، کہ یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اتوار کی صبح کیا تبلیغ کرنی ہے۔
’’یہ اتنا مشکل کیوں ہے؟‘‘ آپ پوچھ سکتے ہیں. میں آپ کو بتاتا ہوں کیوں. میں جانتا ہوں کہ اتوار کی صبح ہمارے گرجہ گھر میں بہت سے لوگ ہوں گے جو حقیقی مسیحی نہیں ہیں۔ کچھ بدھ مت کے پس منظر سے ہوں گے۔ دوسرے ایک کیتھولک یا نئے انجیلی بشارت کے پس منظر سے ہوں گے، برائے نام مسیحی، صرف نام کے مسیحی۔ کچھ کا کوئی حقیقی مذہبی پس منظر نہیں ہوگا۔ دوسرے ہمارے اپنے گرجہ گھر میں غیر نجات یافتہ لوگ ہوں گے، جو بائبل کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں، لیکن انہوں نے کبھی نئے جنم کا تجربہ نہیں کیا ہے۔ ان سب میں ایک چیز مشترک ہوگی۔ وہ صحیح معنوں میں یسوع مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہوئے ہوں گے۔
اب، اتوار کی صبح مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔ مجھے صرف ایک گھنٹہ یا اس سے کم وقت دیا جاتا ہے۔ اس مختصر گھنٹے میں، مجھے کچھ کہنا چاہیے جو مذہب کے بارے میں آپ کے خیال میں ہر چیز کو بدل دے، اور حقیقی مسیحیت کو سچا دکھائی دے، محض صرف ایک سچ ہی نہیں، بلکہ وہ سچائی – وہی واحد سچائی۔ مجھے آپ کو اس سے اتفاق کرنے اور آپ کے سوچنے کے پورے طریقے کو بدلنے کے لیے، اور آپ کو اپنے جھوٹے خیالات کو ترک کرنے، گناہ کی سزایابی کے تحت آنے، اور اپنی پوری زندگی کو یسوع مسیح کے حوالے کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ ایک بڑا کام ہے! اور مجھے ایسا کرنے کے لیے صرف ایک گھنٹہ دیا گیا ہے! میں جس کی تبلیغ کرنے جا رہا ہوں، شاید انجیل کے ایک سادہ سے واعظ سے زیادہ کچھ نہیں لگتا، لیکن اس میں بہت زیادہ سوچ اور دعا کی گئی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کہتا ہوں کہ اتوار کی صبح کے لیے تلاوت اور واعظ کے مضمون کا انتخاب کرنا سب سے مشکل کام ہے جو میں ہر ہفتے کرتا ہوں۔
مثال کے طور پر اس واعظ کو لے لیجئے۔ میں نے گذشتہ اتوار کی رات اس کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ میں نے سوموار اور منگل اور بدھ اور جمعرات کو سارا دن اس کے بارے میں سوچا۔ جمعرات کی رات تک مجھے ابھی تک اندازہ نہیں تھا کہ اس صبح کیا بات کرنی ہے۔ میں گذشتہ جمعرات کی آدھی رات تک کچھ بے چین ہو گیا تھا۔ میں جانتا تھا کہ مجھے ایک مکمل واعظ لکھنا ہے اور اسے اپنے مناد، ڈاکٹر کیگن تک پہنچانا ہے، اس لیے اسے ٹائپ کیا جا سکتا ہے تاکہ اسے ہماری ویب سائٹ کے لیے فارمیٹ کیا جا سکے، اور پھر اسے مترجمین تک پہنچایا جائے، انٹرنیٹ پر دوسری زبانوں میں پیش کیا جائے۔ اور ابھی آدھی رات تھی، اور میں نہیں جانتا تھا کہ کون سی تلاوت کو استعمال کرنا ہے، یا اتوار کی صبح کیا کہنا ہے جو آپ کو حقیقی مسیحی بننے میں مدد دے گا۔
آخر کار، بہت سی تلاوتوں پر غور کرنے کے بعد، میں نے خدا سے دعا کی کہ وہ میری مدد کرے، اور ایسا لگتا ہے کہ اس نے میری توجہ کلام پاک کی اس بہت ہی مانوس تلاوت کی طرف موڑ دی ہے۔ اب میں دعا کر رہا ہوں کہ جو چند الفاظ میں اس [تلاوت میں] سے کہتا ہوں وہ آپ کی مدد کریں گے۔ کم از کم میں دعا کرتا ہوں کہ آج جب آپ گھر جائیں گے تو آپ کو میں نے جو کچھ کہا تھا وہ آپ کو تھوڑا سا یاد ہو گا، کہ، کم از کم، میں جو خیالات لاتا ہوں وہ آپ کو ہمارے خُداوند یسوع مسیح کے بارے میں سوچنے پر مجبور کریں گے، اور اس نے آپ کی ابدی روح کی نجات کے لیے کیا کیا ہے۔ یہاں، پھر، I کرنتھیوں 1: 18 میں، میری منتخب کردہ تلاوت ہے۔ آئیے کھڑے ہو کر اسے بلند آواز سے پڑھیں۔
’’ہلاک ہونے والوں کے لیے تو صلیب کا پیغام بیوقوفی ہے لیکن ہم نجات پانے والوں کے لیے خدا کی قدرت ہے‘‘ (I کرنتھیوں 1: 18)۔
تلاوت تین اہم نکات میں تقسیم ہوتی ہے: (1) خود صلیب کی تبلیغ؛ (2) ہلاک ہونے والوں کے لیے صلیب کے پیغام کے بارے میں بیوقوفی؛ اور (3) اس کی قدرت ان لوگوں کے لیے جو نجات پا گئے ہیں۔
I۔ پہلی بات، خود صلیب کی منادی۔
پولوس رسول کا ان الفاظ ’’صلیب کی منادی‘‘ سے کیا مطلب ہے، ؟ اصطلاح، ’’صلیب کی منادی‘‘ میں ایک بنیادی موضوع ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان الفاظ میں صرف ایک ہی سچائی بیان کی گئی ہے۔ وہ اور واحد سچی خوشخبری کا حوالہ دیتے ہیں۔ یہاں صرف ایک ہی خوشخبری ہے، جس طرح صرف ایک خدا ہے۔ اور صرف ایک نجات دہندہ ہے – یسوع مسیح۔ ہم مابعد جدیدیت [جس زمانے کے بعد دورِ حاضرہ ہے یعنی مابعد جدیدیت 20ویں صدی کے آخر کی ایک فکری، فنکارانہ اور ثقافتی تحریک ہے جو بڑے پیمانے پر معروضی سچائی، وجہ اور آفاقی ترقی پر شک کرتی ہے] کے اس تصور کو تسلیم نہیں کرتے کہ ’’صلیب کی منادی‘‘ میرے لیے تو درست ہو سکتی ہے لیکن آپ کے لیے نہیں۔ پوسٹ ماڈرنسٹ کہہ سکتا ہے، ’’یہ آپ کی سچائی ہے، یہ آپ کے لیے سچ ہے، لیکن یہ میری سچائی نہیں ہے۔‘‘ میں کہتا ہوں کہ یہ مابعد جدیدیت کی دوہری بات ہے۔ جب بائبل صلیب کے بارے میں بات کرتی ہے، تو یہ ایک معروضی سچائی کی بات کرتی ہے – ایک ایسی سچائی جس سے آپ میں سے ہر ایک کو نمٹنا چاہیے۔ ایک ایسا سچ جو سچ رہتا ہے چاہے آپ اس پر یقین کریں یا نہ کریں۔ کیونکہ خُدا نے بائبل میں اس کے بارے میں کہا، یہ سچ ہے چاہے آپ کے خیال میں یہ سچ ہے یا نہیں۔ یہ ایک معروضی سچائی ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ سچ ہے چاہے آپ کا ذہن اس کی اہمیت کو نہ سمجھے۔
اس کے بعد، ’’صلیب کی منادی‘‘ نا صرف اِس بات کی بنیاد پر ہے کہ بائبل کیا کہتی ہے بلکہ تاریخی حقائق پر بھی ہے – یہ حقیقت کہ یسوع مسیح نے آپ کے گناہ کے لیے شدید دکھ اٹھائے، کہ وہ گتسمنی کے باغ میں بڑی اذیت اور تکلیف سے گزرا، جب آپ کے گناہ اس کے اپنے جسم میں رکھے گئے تھے۔ وہ خوفناک اذیت سے گزرا جب انہوں نے پیلاطس کی عدالت میں اسے آدھ موئی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پھر اسے کلوری کے پہاڑ پر جانے کے لیے مجبور کیا گیا، جہاں انہوں نے اس کے ہاتھوں اور پیروں میں کیلیں ٹھوکیں، جہاں انہوں نے صلیب پر اُس یسوع کو لٹکا کر اُٹھایا، اور اسے وہیں لٹکا کر، بہتے ہوئے خون اور آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے مرتا ہوا چھوڑ دیا تھا، تاکہ آپ کو نجات دلائی جا سکے، نہ صرف آپ کے گناہ کی معافی، بلکہ اس یسوع کی موت کے ذریعے سے انصاف کیا گیا، یعنی کہ ایمان کے ایک سادہ سے عمل کے وسیلے سے گناہ کے بغیر شمار کیا گیا۔
’’صلیب کی منادی‘‘ وہ منادی ہے جو آپ کو دکھاتی ہے کہ آپ ہیں
’’اپنے گناہوں میں مُردہ‘‘ (کُلسیوں 2: 13)،
اور یہ کہ آپ کی جگہ مسیح کی صرف متبادلیاتی موت، آپ کے گناہوں کی تلافی کر سکتی ہے، آپ کے گناہوں کو منسوخ کر سکتی ہے، اور مسیح کے مردوں میں سے جی اٹھنے کے ذریعے آپ کو نئی زندگی دے سکتی ہے۔
’’صلیب کی منادی‘‘ ظاہر کرتی ہے کہ آپ نے نیک اعمال یا کبھی کبھار گرجا گھر آ جانے کے وسیلے سے نجات کو حاصل نہیں کیا ہے۔ نہیں! نہیں! صلیب کی منادی سچائی کو ظاہر کرتی ہے کہ آپ جو بھی اچھا کام کرتے ہیں اس کا آپ کی نجات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ’’صلیب کی منادی‘‘ آپ کے تمام نام نہاد ’’اچھے یا نیک‘‘ کاموں کو ختم کر دیتی ہے – اور کہتی ہے کہ صرف وہ واحد بات جو آپ کو نجات دلا سکتی ہے وہ ہے جو یسوع نے اس صلیب پر آپ کے گناہ کا مکمل کفارہ ادا کرنے کے لیے متبادل کی حیثیت میں کیا تھا – ایک آدمی، مسیح (خدا ہستی) آپ کے گناہوں کی ادائیگی کے لیے مر رہا ہے، آپ کے کیے ہوئے اچھے کاموں میں یا ’’آپ نے جو فیصلے کیے‘‘ اُن میں کوئی اضافہ کیے بغیر۔
مجھے ایک منٹ کے لیے بھی شک نہیں ہے کہ آپ نے کچھ اچھے اعمال کیے ہیں۔ میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ اچھے یا نیک اعمال آپ کو نجات نہیں دلائیں گے! نجات یسوع کی موت کے ذریعے آتی ہے، خُدا کے اکلوتے بیٹے، تثلیث کی دوسری ہستی، جس نے آپ کے گناہوں کو اپنے اوپر لاد لیا اور اُن کی قیمت اُس وقت ادا کی جب وہ صلیب پر کیلوں سے جڑا تھا۔ پولوس رسول نے یہ سب کچھ واضح کر دیا جب اس نے کہا،
’’لیکن خدا نے ہمارے لیے اپنی محبت یوں ظاہر کی کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح نے ہماری خاطر جان قربان کر دی۔ پس جب ہم نے مسیح کے خون بہانے کے باعث راستباز ٹھہرائے جانے کی توفیق پائی تو ہمیں اور بھی زیادہ یقین ہے کہ ہم اُس کے وسیلے سے غضبِ الہٰی سے ضرور بچیں گے‘‘ (رومیوں 5: 8۔9)۔
خدا نے آپ سے اس وقت محبت کی جبکہ آپ ابھی تک گنہگار تھے۔ مسیح آپ کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے مر گیا جبکہ آپ ابھی تک گنہگار تھے۔ اور آپ اُس کے خون کے ذریعے راستباز ٹھہر سکتے ہیں، حالانکہ آپ ایک گنہگار ہیں۔
خُداوند یسوع، اِس بات کے لیے میں نہایت عاجزی سے اِلتجا کرتا ہوں،
میں تیرے مصلوب قدموں میں اے بابرکت خُداوند انتظار کرتا ہوں؛
میری پاکیزگی کے لیے ایمان کے وسیلے سے میں تیرے بہتے ہوئے خون کو دیکھتا ہوں،
مجھے ابھی دھو ڈال اور میں برف سے بھی زیادہ سفید ہو جاؤں گا۔
برف سے بھی زیادہ سفید، جی ہاں، برف سے بھی زیادہ سفید؛
مجھے ابھی دھو ڈال اور میں برف سے بھی زیادہ سفید ہو جاؤں گا۔
(’’برف سے زیادہ سفید Whiter Than Snow‘‘ شاعر جیمس نکلسن James Nicholson، 1828۔1896)۔
میں تیری خوش آمدیدی آواز کو سُنتا ہوں،
جو مجھے خُداوندا تیری جانب بُلاتی ہے
کیونکہ تیرے قیمتی خون میں پاک صاف ہونے کے لیے
جو کلوری پر بہا تھا۔
خُداوندا! میں آ رہا ہوں، میں ابھی تیرے پاس آ رہا ہوں!
مجھے دُھو ڈال، مجھے خون میں پاک صاف کر ڈال
جو کلوری پر بہا تھا۔
(’’اے خُداوند میں آ رہا ہوں I Am Coming, Lord، شاعر لوئیس ہارٹسو Lewis Hartsough ، 1828۔1919)۔
یہی تو صلیب کی منادی ہے!
’’ہلاک ہونے والوں کے لیے تو صلیب کا پیغام بیوقوفی ہے لیکن ہم نجات پانے والوں کے لیے خدا کی قدرت ہے‘‘ (I کرنتھیوں 1: 18)۔
لیکن ہماری تلاوت میں سوچنے کی ایک بات اور بھی ہے۔
II۔ دوسری بات، اُن کے لیے جو ہلاک ہو گئے صلیب کی منادی کے بارے میں بیوقوفی۔
مہربانی سے اِن الفاظ کو بُلند آواز سے پڑھیں،
’’ہلاک ہونے والوں کے لیے تو صلیب کا پیغام بیوقوفی ہے۔‘‘
اُن الفاظ کو اُونچا اور واضح پڑھیں۔
’’ہلاک ہونے والوں کے لیے تو صلیب کا پیغام بیوقوفی ہے …‘‘ (I کرنتھیوں 1: 18)۔
لفظ ’’بے وقوفی‘‘ کا مطلب ہے ’’احمقانہ گفتگو،‘‘ ’’بکواس۔‘‘ منادی کو سننا جو کہتی ہے کہ آپ کو مسیح کی موت کے وسیلے سے گناہ سے نجات دلائی جانی چاہیے، غیر تبدیل شدہ [مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہ ہوئے ہوئے] ذہن کے لیے صرف ’’احمقانہ گفتگو‘‘ ہے۔
جو لوگ ہلاک ہو رہے ہیں اُنہیں اپنے گناہ کی قیمت ادا کرنے کے لیے مسیح کی متبدلیاتی موت کی منادی کی کوئی اہمیت نہیں دیکھائی دیتی۔ وہ اس کو احمقانہ سمجھتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس میں کوئی اہمیت نہیں دیکھتے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں روح القدس آتا ہے۔ یسوع نے کہا،
’’جب وہ آ جائے گا … تو وہ دُنیا کو مجرم قرار دے گا‘‘ (یوحنا 16: 8)۔
روح القدس کو ایک شخص کو ملامت کرنی چاہیے، اسے گناہ پر قائل کرنا چاہیے، ورنہ وہ صلیب پر مسیح کی موت کی اہمیت کو نہیں دیکھے گا۔ کسی شخص کے روح القدس سے گناہ کا قائل ہو جانے سے پہلے، وہ صلیب پر منادی کرنے کو حماقت سمجھے گا۔ یونانی لفظ جس کا ترجمہ ’’حماقت‘‘ کیا گیا ہے وہ اصل لفظ ’’موروس moros‘‘ سے نکلتا ہے، جس سے ہمارا انگریزی لفظ ’’مورونmoron‘‘ آیا ہے۔ صلیب کی منادی ایک بیوقوف، احمق شخص کی بات کی طرح لگتی ہے، جب تک کہ آپ اپنے دل میں، خُدا کی روح کے ذریعے سے قائل نہ ہو جائیں، کہ آپ ایک کھوئے ہوئے گنہگار ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آپ حقیقی مسیحی بننا ’’سیکھ‘‘ نہیں سکتے۔ نجات انسانی حکمت سیکھنے سے نہیں آتی۔ پولوس رسول نے یہ بات اکیسویں آیت میں واضح کی، جب اس نے کہا،
’’دُنیا والے خدا کی حکمت کے مطابق اپنی دانش سے خدا کو نہ جان سکے‘‘ (I کرنتھیوں 1: 21)۔
نجات کسی بھی قسم کی انسانی حکمت سیکھنے سے نہیں آتی۔ دل میں ایک نور ہونا چاہیے، جو آپ کو دکھائے کہ آپ ایک ناامید گنہگار ہیں۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، وہ تبلیغ جو آپ کو بتاتی ہے کہ آپ کے مسئلے کا واحد حل مسیح کی مصلوبیت ہے، ایسا لگتا ہے جیسے کسی بیوقوف کی بیکار گفتگو۔ جب تک آپ باطنی طور پر محسوس نہ کریں کہ آپ کا مسئلہ گناہ ہے، آپ صلیب پر مسیح کی موت کی اہمیت کو کبھی نہیں دیکھ پائیں گے۔ بائبل کہتی ہے،
’’مسیح ہمارے گناہوں کے لیے قربان ہو گیا‘‘ (I کرنتھیوں 15: 3)۔
وہ ہماری جگہ پر قربان ہو گیا، ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے۔ بائبل کہتی ہے،
’’یسوع مسیح اُس کے بیٹے کا خون ہمیں ہر گناہ سے پاک کرتا ہے‘‘ (I یوحنا 1: 7)۔
لیکن یہ آپ کو صرف ایک دلچسپ نظریہ کی طرح لگے گا، اور باقیوں کے لیے ایک احمقانہ گفتگو، جب تک کہ آپ کی آنکھیں خُدا کی روح سے نہ کھلیں کہ یہ دیکھنے کے لیے کہ گناہ کی لعنت سے نجات پانے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ تبھی جب آپ کو اپنی بے بسی کی گنہگار حالت کا یقین ہو جائے گا تو آپ اپنے دل سے گا سکیں گے،
کیونکہ میرے پاس کچھ اچھا نہیں
تیرے فضل کے لیے دعویٰ کرنے کو
میں اپنے لبادے کو دھو کر سفید کر لوں گا
کلوری کے برّے کے خون میں۔
یسوع نے اِس تمام کی قیمت چکائی، اُسی کا میں مکمل مقروض ہوں؛
گناہ نے ایک سُرخ مائل دھبہ چھوڑا تھا،
اُس نے اُسے برف کی مانند سفید دھو ڈالا ہے۔
(’’یسوع نے اِس تمام کی قیمت چکائی Jesus Paid It All‘‘ شاعرہ ایلوینہ ایم۔ ھال Elvina M. Hall، 1820۔1889)۔
جو ہمیں آخری نکتہ پر لے آتا ہے۔
III۔ تیسری بات، وہ لوگ جو نجات پا گئے ہیں اُن کے لیے صلیب کی مُنادی کی قدرت۔
براہِ کرم آخری شق پر پوری توجہ دیتے ہوئے کھڑے ہو کر تلاوت کو ایک بار اور بلند آواز سے پڑھیں۔
’’ہلاک ہونے والوں کے لیے تو صلیب کا پیغام بیوقوفی ہے لیکن ہم نجات پانے والوں کے لیے خدا کی قدرت ہے‘‘ (I کرنتھیوں 1: 18)۔
آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔
میرے، اُس لفظ ’’بچا لیا گیا یا نجات دلائی گئی‘‘ کو دُنیا کے لوگ کسی طرح ناپسند کرتے ہیں! ’’آپ مسیحی لوگ سمجھتے ہو کہ آپ نجات پا گئے،‘‘ وہ طنزیہ انداز میں کہتے ہیں۔ ٹھیک ہے، لفظ ’’نجات پائی‘‘ بالکل بائبلی ہے۔ یہ ہماری تلاوت میں موجود ہے،
’’… لیکن ہم نجات پانے والوں کے لیے خدا کی قدرت ہے‘‘ (I کرنتھیوں 1: 18)۔
جی ہاں، ہم ’’بچائے گئے یا نجات دلائے گئے‘‘ ہیں! پھر بھی ہم اپنی کسی نیکی سے نجات نہیں پاتے۔ اوہ، نہیں! یسوع نے صلیب پر ہمارے لیے کیا کیا اس سے ہم نجات پا گئے ہیں! سپرجیئن نے کہا،
ہم اس وقت تک مایوسی میں مرنے کے لیے تیار تھے جب تک کہ ہم نے… صلیب کی طرف نہیں دیکھا، اور پھر بادل واضح چمک کے حوالے ہو گئے۔ خون بہاتے ہوئے نجات دہندہ کے ایک نظارے نے … ہمیں دوبارہ انسان بنا دیا، اور ہم نے مردوں میں سے اپنا سر اٹھایا ہے… صلیب کے کلام میں ایک انسان کو بنانے کی طاقت ہے … کچھ انتہائی زیادہ عظیم بات جس کا اس نے کبھی خواب بھی نہیں سوچا تھا… وہ طاقت جس کے ساتھ اس نے ہمیں مسیح یسوع میں نئے لوگ بنایا… مردہ روحوں کو ان کی روحانی قبروں سے زندہ کرنا (سی ایچ سپرجئین C. H. Spurgeon، ’’صلیب کا کلام The Word of the Cross،‘‘ میٹروپولیٹن کی عبادت گاہ کی واعظ گاہ The Metropolitan Tabernacle Pulpit، پلگِرم پبلیکیشنز Pilgrim Publications، دوبارہ اشاعت 1973، جلد ستائس، صفحات 435۔436)۔
جب آپ یسوع کے پاس ایمان کے ساتھ آتے ہیں تو آپ اپنی جگہ پر اُس کی موت کے وسیلے سے نجات پاتے ہیں – اپنے گناہوں سے! آپ اُس کے جسمانی طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے ذریعے نجات پاتے ہیں – جو آپ کو ابدی زندگی دیتی ہے! جب آپ ایمان کے ساتھ یسوع کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں تو وہ آپ کو نجات دلاتا یا بچاتا ہے! پھر آپ گا سکتے ہیں،
نجات پا لی! نجات پا لی! میرے سارے گناہ معاف ہو گئے،
میرا قصور سب ختم ہو گیا!
نجات پا لی! نجات پا لی! میں خون کے وسیلے سے نجات پا چکا ہوں
مصلوب کیے گئے [مسیح] کی وجہ سے!
(’’مصلوب کیے گئے شخص کے وسیلے سے نجات پا چکا ہوں Saved by the Blood of the Crucified One، ایس جے ہینڈرسن S. J. Henderson، 19ویں صدی) ۔
جب آپ نجات پاتے ہیں، آپ دیکھیں گے کہ مسیح دنیا کی کسی بھی بات سے زیادہ اہم ہے۔ چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے لاکھوں لوگوں نے اس عظیم سچائی کو دیکھا ہے۔ وہ شدید ظلم و ستم کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں گرجا گھروں میں شمولیت اِختیار کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، پادری رچرڈ ورمبرینڈ نے ویت نامی زبان کی ایک کتاب درج ذیل بات بتائی:
دسیوں ہزار مسیحی … [کمیونسٹ] ویت نام میں نام نہاد دوبارہ تعلیم یا تربیت دینے والے کیمپوں میں وقت گزار چکے ہیں۔ بہت سے لوگ اب بھی موجود ہیں۔ ان کیمپوں میں [کوڑوں سے] پیٹنے کا ماہر ٹوکاؤ [نامی بندہ] تھا۔ وہ 2,000 قیدیوں کو کوڑے مارنے پر فخر کرتا، جن میں سے 500 مر گئے۔
تقریباً پچاس قیدی جیل کے صحن میں جمع تھے۔ ان میں سے ایک ٹران ٹائین تائی کو تیس کوڑوں کی سزا سنائی گئی ہے۔ اپنی کوٹھڑی سے [اُسے] برہنہ لایا گیا، اسے زمین کی طرف اپنا چہرہ کر کے پھیل کر لیٹنا چاہیے۔
وہ اپنے کوڑے سے کرتب دکھاتا تھا۔ وہ اپنے شکار کے گوشت کی مزاحمت کو سرھانے کے لیے اُس کے چوتڑوں کو چھویا کرتا اور اُسی نسبت سے کتنے زور سے [کوڑا ] مارنا ہے فاصلہ ناپا کرتا۔ اُسے جان سے مارنے کی اجازت نہیں تھی۔
[صحن میں کھڑے ہوئے] قیدیوں کو جو کچھ رونما ہو رہا ہوتا تھا اُسے نظریں جما کر دیکھنے کا حکم تھا۔ چہرہ پھیر لینے سے ممانعت تھی۔ پانچواں کوڑا کھا چکنے کے بعد، تائی، مذید اُسے برداشت نہ کرتے ہوئے چیخ اُٹھا (افسوس، افسوس، میرے خدا)۔
پیٹے جانے میں مداخلت ہوتی ہے۔ قیدخانے کا منتظم کہتا ہے، ’’جسمانی سزا کے دوران چیخنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ پہلے پانچ کوڑے شمار نہیں کیے جائیں گے۔ دوبارہ سے شروع کرو۔‘‘
گنتی دوبارہ شروع ہوتی ہے۔ ایک، دو، تین … بیس، پچیس… تائی مذید اور چیخیں نہیں مارتا … وہ بے ہوش ہو چکا ہے۔
… (تیس)۔ ’’اُٹھو!‘‘ افسر حکم دیتا ہے۔ وہ قیدی حرکت نہیں کرتا ہے [وہ مر چکا ہے] (رچرڈ ورمبرانڈ Richard Wurmbrand، جہاں پر مسیح کو اب بھی اذیت دی جاتی ہے Where Christ is Still Tortured، مارشلز پیپر بیکس Marshalls Paperbacks، تعارف)۔
آج کیوں جنوب مشرقی ایشیا اور چین میں بہت سے لوگ مسیح کے لیے خود کو اذیت اور مارے جانے کی اجازت دیتے ہیں؟ یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے دیکھا ہے کہ مسیح دنیا کی ہر چیز سے زیادہ اہم ہے۔ آپ بھی مسیح کے پاس آئیں، اور معافی اور ابدی زندگی کا تجربہ کریں جو وہ پیش کرتا ہے۔ یہ انمول تحفے ہیں جو مسیح کی طرف سے آتے ہیں!
آئیے کھڑے ہو کر آپ کے گیت کے ورق پر آخری گیت گائیں۔ اسے سوچ سمجھ کر اور احساس کے ساتھ گائیں۔
میں تیری خوش آمدیدی آواز کو سُنتا ہوں،
جو مجھے خُداوندا تیری جانب بُلاتی ہے
کیونکہ تیرے قیمتی خون میں پاک صاف ہونے کے لیے
جو کلوری پر بہا تھا۔
خُداوندا! میں آ رہا ہوں، میں ابھی تیرے پاس آ رہا ہوں!
مجھے دُھو ڈال، مجھے خون میں پاک صاف کر ڈال
جو کلوری پر بہا تھا۔
(’’اے خُداوند میں آ رہا ہوں I Am Coming, Lord، شاعر لوئیس ہارٹسو Lewis Hartsough ، 1828۔1919)۔
اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔
(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ
www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔
یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
|
لُبِ لُباب صلیب کی مُنادی THE PREACHING OF THE CROSS ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے ’’ہلاک ہونے والوں کے لیے تو صلیب کا پیغام بیوقوفی ہے لیکن ہم نجات پانے والوں کے لیے خدا کی قدرت ہے‘‘ (I کرنتھیوں 1: 18)۔
I. پہلی بات، خود صلیب کی مُنادی، I کرنتھیوں 1: 18الف؛ II. دوسری بات، اُن کے لیے جو ہلاک ہو گئے صلیب کی منادی کے بارے میں بیوقوفی، I کرنتھیوں 1: 18ب؛ یوحنا 16: 8؛ I کرنتھیوں 1:21؛ 15:3؛ I یوحنا 1: 7۔ III. تیسری بات، وہ لوگ جو نجات پا گئے ہیں اُن کے لیے صلیب کی مُنادی کی قدرت، I کرنتھیوں 1: 18ج۔ |