Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


مسیح کے جی اُٹھنے کی باطنی گواہی ’’یسوع کی گمشدہ قبر‘‘ کے لیے میرا جواب

THE INWARD WITNESS TO CHRIST’S RESURRECTION
MY ANSWER TO “THE LOST TOMB OF JESUS”
(Urdu)

ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

خداوند کے دِن کی صبح منادی کیا گیا ایک واعظ، 15 اپریل، 2007
لاس اینجلز کی بپتمسہ دینے والی عبادت گاہ میں
A sermon preached on Lord’s Day Morning, April 15, 2007
at the Baptist Tabernacle of Los Angeles

’’جب تم نے بپتسمہ پایا تو مسیح کے ساتھ گویا دفن ہو گئے اور جب تم خدا کی قدرت پر ایمان لائے جس نے مسیح کو مُردوں میں سے زندہ کیا تو تم اُس کے ساتھ زندہ بھی کیے گئے‘‘ (کُلسیوں 2: 12)۔

ہمارے عقیدے کے خلاف تازہ ترین حملہ، ہمیشہ کی طرح، ایسٹر کے موسم کے دوران ہوا ہے۔ یہ حملہ مسیح کی جسمانی طور پر جی اُٹھنے سے انکار کے ذریعے سے مسیحیت کی بنیاد کو کمزور کرنے کی کوشش تھی۔ پچھلے سال یہ ڈاونچی کوڈThe DaVinci Code تھا۔ اس سال یہ یسوع کی گمشدہ قبرThe Lost Tomb of Jesus ہے، جِسے ڈسکوری چینل ٹیلی ویژن نے خصوصی لکھا اور جس کی ہدایت کاری سمچا جیکوبوویسیSimcha Jacobovici نے کی اور جیمز کیمرون نے خرچہ برداشت کیا یعنی پروڈیوس کیا۔

اس ٹی وی اسپیشل نے کہا کہ یسوع کی قبر دریافت کی گئی تھی، جس میں مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کو شمار نہیں کیا گیا تھا اور جان بوجھ کر مسیح کے بارے میں ’’ہم جو کچھ جانتے ہیں اسے تبدیل کر دینے‘‘ کی کوشش کی گئی تھی۔ مزید برآں، اِس اسپیشل پروگرام نے کہا کہ یسوع شادی شدہ تھا، اُس کی باقیات کو اُس کی ’’بیوی‘‘ مریم مگدلینی اور اُن کے بیٹے کے ساتھ دفن کیا گیا تھا۔

’’یسوع کی قبر‘‘ کہلائی جانے والی جگہ ستائیس سال پہلے دریافت ہوئی تھی۔ اس میں یوسف، مریم، یسوع، ماریامین، یہوداہ اور متی کے ناموں کے ساتھ کئی تابوت نما باکس (ہڈیوں کے ڈبے) ملے تھے۔ ’’یسوع‘‘ نامی شخص کا تعلق ’’مریامینی‘‘ نامی عورت سے نہیں تھا۔ فلم فرض کرتی ہے کہ وہ عورت مریم مگدلینی تھی، اور یہی وہ ’’ثبوت‘‘ ہے کہ وہ یسوع مسیح کی بیوی تھی! یہ سراسر قیاس آرائی ہے۔ حتمی حقائق صرف یہ ہیں: یروشلم میں ایک مقبرہ ہے، اس میں ہڈیوں کے نو باکسز تھے جن پر نام کندہ ہیں۔ کم از کم دو افراد کا کوئی خونی تعلق نہیں تھا۔ بس یہی سب کچھ ہے! باقی سب کچھ محض قیاس آرائی ہے – صرف ’’اگر یہ یہ ہو جاتا وغیرہ وغیرہ‘‘ کا بس ایک تسلسل ہے۔ اگر مریامینی مریم میگدلینی ہوتی تو پھر؟ اگر یسوع اور مریم مگدلینی شادی شدہ ہوتے تو؟ اگر ان کا یہوداہ نامی بچہ ہوتا تو؟ آپ کو کچھ سمجھ میں آیا۔ فلم کا مرکزی موضوع اتنا ہی کمزور ہے جتنا کہ آپ ان سستے، شوخ سپر مارکیٹ کے حسیّت پرست رسالوں میں سے کسی ایک میں پڑھتے ہیں۔

پہلی صدی کے یروشلم میں ہڈیوں کے باکسز پر نام بہت مشہور ہوا کرتے تھے۔ اس زمانے میں ’’یوسف‘‘ نام دوسرا سب سے زیادہ مقبول نام تھا۔ ’’یسوع‘‘ نام بھی بہت مشہور تھا۔ مزید برآں، ’’مریم‘‘ نام بھی اس وقت کا خواتین کا سب سے عام نام تھا۔

     ٹورنٹو سٹار نے 26 فروری 2007 کو رپورٹ کیا کہ ’’کینیڈا کے ایک دستاویزی فلم بنانے والے کے دعوے کو نہ صرف یسوع کی تدفین کی جگہ ملی ہے بلکہ اس کے ڈی این اے اور اس کے ایک بیٹا ہونے کے شواہد ملے ہیں جن کو کلیسیا کے رہنماؤں اور ماہرین آثار قدیمہ دونوں کی طرف سے ’خیالی اور بے معنی‘ قرار دے کر مسترد کر دیا گیا ہے۔‘‘

     بار لیعان یونیورسٹی کے پروفیسر عاموس کلونر، جو کہ یروشلم کے ضلع کے ماہر آثار قدیمہ ہیں اور جنہوں نے سرکاری طور پر 1980 میں قبر پر ہونے والے کام کی نگرانی کی تھی اور اُس کے اِجزاء یعنی مشمولات پر تفصیلی نتائج شائع کیے… دعٰووں کو مسترد کر دیا ہے۔ اُنہوں نے یروشلم پوسٹ Jerusalem Post کو یہ بتایا کہ یہ ٹی وی کی فلم کے لیے ایک بہت بڑی کہانی بنتی ہے۔ ’’لیکن یہ ناممکن ہے۔ یہ بکواس ہے۔‘‘
     کلونر … نے کہا … یہ حقیقت کہ اِس قسم کے ظاہراً یادآور ناموں کی اِس طرح اِکٹھے پائے جانے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اُنہوں نے اضافہ کیا کہ ’’یوسف کا بیٹا یسوع‘‘ کے نام کے کتبے گزرے سالوں میں بے شمار دوسرے ہڈیوں کے باکسز پر پائے جا چکے تھے۔
     ’’اِس بات کا کوئی اِمکان نہیں کہ مسیح اور اُس کی رشتہ داروں کا خاندانی مزار یا قبر تھی،‘‘ کلونر نے کہا، ’’وہ اِک گلیلی خاندان تھا جس کا یروشلم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ٹالپیوٹ مقبرہ پہلی صدی سے ہی اِک متوسط خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔‘‘ (یروشلم پوسٹ

…      عاموس کلونر، سائٹ کا معائنہ کرنے والے پہلے ماہر آثارِ قدیمہ نے کہا کہ یہ خیال آثارِ قدیمہ کے معیارات پر قائم رہنے میں ناکام ہے لیکن منافع بخش ٹیلی ویژن بناتا ہے۔
کلونر نے کہا، ’’وہ بس محض اُس کے پیسے حاصل کرنا چاہتے ہیں،‘‘
یروشلم کی یونیورسٹی آف ہولی لینڈ کے بائبل کے اسکالر اِسٹیفن فانStephen Pfann نے جِن کا دستاویزی فلم میں انٹرویو کیا گیا تھا کہا کہ فلم کے مفروضے میں بہت کم جان ہے …
     فانPfann کو اِس بات کا بھی یقین نہیں ہے کہ تابوت پر ’’یسوع‘‘ کا نام صحیح پڑھا گیا تھا۔ اُن کے خیال میں اُس کا نام ’’حنونHanun‘‘ کا زیادہ اِمکان ہے۔ قدیم سامی رسم الخط کو سمجھنا مشکل ہے …
     ماہرین آثار قدیمہ بھی فلمساز کے اس دعوے سے انکار کرتے ہیں کہ جیمز اوسوری – جو کہ اسرائیل میں نوادرات کے ایک مشہور فراڈ کا مرکز رہے ہیں – ہو سکتا ہے کہ اسی غار سے نکلا ہو۔ 2005 میں، اسرائیل نے بدنام زمانہ ہڈیوں کے تابوتوں کے سلسلے میں پانچ مشتبہ افراد پر جعلسازی کا الزام عائد کیا۔
     ’’سمچا کا کسی قسم کا کوئی اعتبار نہیں ہے،‘‘ جو زیاسJoe Zias کہتے ہیں، جو 1972 سے 1997 تک یروشلم کے راک فیلر میوزیم میں بشریات اور آثار قدیمہ کے کیوریٹر تھے اور ذاتی طور پر تالپیوٹ کے ہڈیوں کے تابوتوں کو شمار کرتے تھے۔ ’’وہ بائبل کی دلالی کر رہا ہے… اِس بندے [کیمرون] کو آثار قدیمہ کے بارے میں کیا پتا ہے؟ میں ایک ماہر آثار قدیمہ ہوں، لیکن اگر میں دماغ کی سرجری کے بارے میں کوئی کتاب لکھوں، تو آپ کہیں گے، ’یہ بندہ کون ہے؟‘... اس طرح کے منصوبے آثار قدیمہ کے پیشے کا مذاق اڑاتے ہیں۔‘‘ (ایم ایس این بی سی۔کومMSNBC.com)۔

(درج بالا اقتباسات کو سورڈ آف دی لارڈ The Sword of the Lord، 3 مارچ، 2007، صفحہ 7 میں سے لیا گیا ہے۔)

نئے عہدنامے کی دستاوایزات مسیح کی موت، دفنائے جانے اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بارے میں بہترین تاریخی ثبوت ہیں۔ ڈٓاکٹر ٹیڈ بایئر Dr. Ted Baehr کہتے ہیں،

     "نئے عہد نامے کے مطابق، 500 لوگوں نے ایک موقع پر جی اُٹھے مسیح کو دیکھا اور 3000 لوگوں نے کئی مواقع پر اُسے دیکھا۔ اس کے علاوہ، مقدس پولوس رسول I کرنتھیوں 15 باب میں دلیل دیتے ہیں کہ اگر امیر آدمی کی قبر جہاں انہوں نے مسیح کی لاش رکھی تھی، خالی نہیں تھی اور اگر ان لوگوں نے اس کے بعد یسوع کو زندہ نہیں دیکھا، تو مسیحی ایمان بالکل درست نہیں ہے۔
     ’’جیمز کیمرون اور ڈسکوری چینل کو اس انتہائی قابل اعتراض دریافت سے کہیں زیادہ ثبوت کی ضرورت ہے، اور نئے عہد نامے کی دستاویزات اور 2,000 سال کی مسیحی تعلیمات کو غلط ثابت کرنے کے لیے زیادہ باشعور لوگوں کی ضرورت ہے۔‘‘
     بایئر نے نتیجہ اخذ کیا، ’’یہ حقیقت تو موجود ہے، یسوع مسیح کی قبر خالی تھی، وہ جسمانی طور پر [سینکڑوں] لوگوں پر ظاہر ہوا اور ان کے ساتھ کھانا کھایا اور بات کی، رومی اور یہودی جو اس وقت یسوع اور اس کے پیروکاروں کی مخالفت کرتے تھے، اس کی ہڈیاں تلاش نہیں کر سکے، اور پطرس جیسے بزدل، تھوما جیسے شکی، اور اذیت دینے والا ظالم پولوس جیسا غیر معمولی طور پر بہادر لوگ بن گئے جو بجائے اِس کے کہ اُنہوں نے جی اُٹھنے مسیح کو دیکھا ہے سے اِنکار کرتے درد بھری اذیت سے گزرے اور موت کو قبول کیا‘‘ (مووی گائیڈ Movieguide، مارچ 2007، صفحہ 39)۔

اَس واعظ میں میرا مقصد مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے پر مختلف دلائل پیش کرنا نہیں ہے۔ آج کی صبح میں آپ کو مسیح میں ایمان لانے کی تبدیلی کے ذریعے، سادگی سے ذاتی تجربے سے دلیل پیش کروں گا۔ اِس بات پر ہماری تلاوت سے غور کریں۔

’’جب تم نے بپتسمہ پایا تو مسیح کے ساتھ گویا دفن ہو گئے اور جب تم خدا کی قدرت پر ایمان لائے جس نے مسیح کو مُردوں میں سے زندہ کیا تو تم اُس کے ساتھ زندہ بھی کیے گئے‘‘ (کُلسیوں 2: 12)۔

مسیح میں ایمان لانے کی تبدیلی کی یہی ایک تصویر ہے۔ جس بپتسمہ کی یہاں پر بات کی گئی ہے وہ روح کے باطنی بپتسمہ کا حوالہ دیتا ہے، جو کہ مسیح میں ایمان لانے کی تبدیلی کے وقت رونما ہوتا ہے۔ گنہگار یسوع کے پاس ایمان کے وسیلے سے آتا ہے، اور وہ اُس کی موت، دفنائے جانے اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے میں متحد ہو جاتا ہے۔ وہ ہی مسیح میں ایمان لانے کی حقیقی تبدیلی ہوتی ہے ’’خُدا کے عمل کے ایمان کے ذریعے، جس نے اُسے مُردوں میں سے زندہ کیا‘‘!

پانی میں بپتسمہ جو باطنی طور پر مسیح میں ایمان لانے کی تبدیلی کے لمحے پر رونما ہوا ہوتا ہے اُس کی بیرونی تصویر ہوتی ہے۔ پانی میں مکمل ڈوب کر بپتسمہ لینا صحیح شکل ہے، کیونکہ کوئی دوسری شکل مسیح کے ساتھ تبدیل ہونے والے کی موت، تدفین اور جی اٹھنے کی تصویر نہیں دکھاتی ہے۔ جیسا کہ مسیح مر گیا اور ایک قبر میں دفن ہوا، اسی طرح مسیح میں ایمان لا کے تبدیل ہونے والا اپنی پرانے طرز زندگی میں مر جاتا ہے، جو مسیح کے ساتھ دفن ہوتا ہے۔ پھر وہ مسیح میں نئی زندگی کی طرف اٹھتا ہے، جس کی تصویر پانی کے نیچے ڈالے جانے اور پھر پانی سے نکال کر دی گئی ہے۔ اس طرح پانی کا بپتسمہ مسیح میں روح کے بپتسمہ کی تصویر کشی کرتا ہے۔ پھر مسیح کے ساتھ تبدیل ہونے والا جی اٹھتا ہے، ’’خُدا کے عمل کے ایمان کے ذریعے، جس نے اُسے مُردوں میں سے زندہ کیا‘‘ (کلسیوں 2: 12)۔

یہ ہمیں تبدیلی کا حقیقی معنی دکھاتا ہے۔ کوئی بھی کبھی مسیحی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ ایک مسیحی گھر میں پیدا ہو سکتا ہے، اور یہاں تک کہ ایک مسیحی کے طور پر پرورش پا سکتا ہے۔ پھر بھی وہ غیر تبدیل شدہ رہے گا جب تک کہ وہ یسوع کے پاس نہیں آتا، اور ایمان کے ذریعے یسوع کے ساتھ متحد نہیں ہو جاتا۔

مسیحی طور پر تبدیل ہونے کے لیے، ایک شخص کو مسیح کے ساتھ مرنا چاہیے اور پھر دوبارہ جنم لینا چاہیے۔ پولوس رسول نے اسے رومیوں 6: 4 میں بیان کیا،

’’چنانچہ موت میں شامل ہونے کا بپتسمہ لے کر ہم اُس کے ساتھ دفن بھی ہوئے تاکہ جس طرح مسیح اپنے آسمانی باپ کی جلالی قوت کے وسیلہ سے مُردوں میں سے زندہ کیا گیا اُسی طرح ہم بھی نئی زندگی میں قدم بڑھائیں‘‘ (رومیوں 6:4)۔

پس، نئے جنم کا تجربہ کسی ایسی بات کے ذریعے سے جو ہم کرتے ہیں نہیں کیا جا سکتا۔ ڈاکٹر میگی نے بجا طور پر کہا،

’’خُدا کے عمل کے ایمان کے ذریعے، جس نے اُسے مُردوں میں سے زندہ کیا‘‘ – نجات خُدا کے جی اُٹھنے کی طاقت کے وسیلہ سے مکمل ہوتی ہے… ہم زندہ مسیح کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں (جے ورنن میگیJ. Vernon McGee، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن، 1983، صفحہ 350)۔

جب آپ… خُداوند یسوع مسیح میں بھروسہ کرتے ہیں، تو روح القدس آپ کو مسیح کے جسم میں بپتسمہ دیتا ہے۔ یہ اس بپتسمہ کے ذریعہ ہے کہ ہم مسیح کے ساتھ پہچانے جاتے ہیں، اور ہم ’’اُس کے ساتھ جی اُٹھے‘‘ بھی ہیں – زندہ مسیح میں شامل ہوئے (گذشتہ بات کے تسلسل میں ibid.)۔

یہی وجہ ہے کہ ’’سامنے آنا‘‘ یا ’’گنہگار کی دعا‘‘ کہنا یا کوئی اور چیز جو ایک انسان سیکھ سکتا ہے یا کر سکتا ہے اس سے معمولی سی بھی بھلائی نہیں ہوتی۔ نجات کا ’’فیصلہ کرنے والا‘‘ مکمل نظریہ ایک دوسرے سے الگ ہو کر اُدھڑ رہا ہے – کیونکہ فیصلہ سازی جھوٹی ہے، بائبل کے لیے درست نہیں۔ ڈاکٹر میگی نے کہا، ’’نجات خُدا کے جی اُٹھنے کی طاقت کے وسیلہ سے مکمل ہوتی ہے۔‘‘ یہ انسانی فیصلوں یا خداوند کے وعدوں سے پوری نہیں ہوتی۔

’’تم اُس کے ساتھ خدا کے عمل کے ایمان کے ذریعے جی اُٹھے ہو، جس نے اُسے مُردوں میں سے زندہ کیا‘‘ (کلسیوں 2: 12)۔

یہ بات نجات کو آپ کے ہاتھوں سے مکمل طور پر چھین لیتی ہے اور اسے مکمل طور پر خُدا کے ہاتھ میں سونپ دیتی ہے، ’’جس نے اُسے مُردوں میں سے زندہ کیا۔‘‘

کیا آپ حیران ہیں کہ کیا یہ سچ ہے؟ آیت تیرہ کو دیکھیں، اور آپ کو بھی یہی خیال نظر آئے گا۔ آئیے تیرہویں آیت کو بلند آواز سے پڑھیں۔

’’تم تو نامختون تھے اور اپنے گناہوں کے باعث مُردہ تھے لیکن تمہیں بھی خدا نے مسیح کے ساتھ زندہ کیا۔ اُس نے ہمارے سارے قصور معاف کر دئیے‘‘ (کُلسیوں 2: 13)۔

تیرھویں آیت میں دو الفاظ ’’مُردہ‘‘ اور ’’زندہ کیا‘‘ پر غور کریں۔ اِس سے پہلے کہ آپ مسیح کے پاس آئیں، آپ مُردہ ہوتے ہیں، ’’اپنے گناہوں میں مُردہ۔‘‘ یہ بالکل وہی بات ہے جو رسول نے افسیوں 2: 1 میں اور 2: 5 میں کہی۔

’’گناہوں اور قصوروں میں مُردہ‘‘ (افسیوں 2: 1)۔

’’گناہوں میں مُردہ‘‘ (افسیوں 2: 5)۔

یہ ہر شخص کی دوبارہ پیدا ہونے سے پہلے کی روحانی حالت ہے۔ یہاں کلسیوں 2: 13 میں، رسول وہی الفاظ کہتا ہے جو ہم افسیوں میں پڑھتے ہیں، ’’اپنے گناہوں میں مردہ‘‘۔ ایک شخص اس حالت میں زندہ اور مرے گا، گناہوں میں مردہ، جب تک کہ خدا مداخلت نہ کرے۔

لیکن یہ بالکل وہی ہے جو خدا کرتا ہے – وہ مداخلت کرتا ہے۔ لہٰذا، تیرہویں آیت میں دوسرا لفظ ہے ’’زندہ کیا‘‘ – زندگی میں لایا کیا گیا! لیکن نوٹ کریں کہ یہ کہتا ہے، ’’اس کے ساتھ زندہ کیا گیا‘‘ – یسوع کے ساتھ۔ خُدا کی وہی طاقت جس نے مسیح کو ’’زندہ‘‘ کیا، جب وہ قبر میں مر گیا تھا، ایک شخص کو ’’زندہ‘‘ کرتی ہے جب وہ دوبارہ پیدا ہوتا ہے۔ یہی بات پولوس رسول نے افسیوں 2: 4-5 میں کہی ہے،

’’لیکن خدا نے … یہاں تک کہ جب ہم گناہوں میں مُردہ تھے، اُس نے ہمیں مسیح کے ساتھ زندہ کیا‘‘ (افسیوں 2: 4۔5)۔

’’زندہ کیا گیا‘‘ – جو کہ ’’زندگی میں لایا گیا‘‘، روحانی موت کی حالت سے زندہ کیا گیا،

’’خدا کے ایمان کے عمل کے ذریعے، جس نے اُسے مُردوں میں سے زندہ کیا‘‘ (کلسیوں 2: 12)۔

’’اور اپنے گناہوں کے باعث مُردہ تھے … مسیح کے ساتھ زندہ کیا‘‘ (کُلسیوں 2: 13)۔

ڈاکٹر جان گِل نے کہا،

وہ [جو مسیح میں ایمان نہ لائے ہوئے لوگ تھے] خُدا سے الگ ہو گئے تھے، جیسے موت کے وقت جسم روح سے [جدا ہو جاتا ہے، اور اسی طرح خُدا کی زندگی سے الگ ہو گئے تھے، اور اسی طرح [روحانی طور پر] مردہ ہونا لازمی ہے… اور، مردہ آدمیوں ہی کی طرح، اپنی [حالت] سے بے حس [بے ہوش] تھے… روحانی باتوں میں بے بس تھے، روحانی زندگی کے زیادہ محتاج [ضرورت مند] تھے … اور اپنے آپ میں دائمی موت کے مستحق تھے [جہنم میں] (جان گل، ڈی ڈیJohn Gill, D.D.، نئے عہد نامہ کی تاویل An Exposition of the New Testament، دی بیپٹسٹ سٹینڈرڈ بیئرر، 1989 دوبارہ اشاعت، جلد 9، صفحہ 189)۔

اس روحانی طور پر مردہ حالت میں، گمراہ یا کھوئے ہوئے لوگ اپنی خوفناک حالت میں، خُدا سے اُن کی بیگانگی اور مسیح میں خُدا کی زندگی سے بے خبر ہیں۔ لیکن خدا کی زندہ کر دینے والی قدرت،

’’جس نے اُسے [یسوع کو] مُردوں میں سے زندہ کیا … روحانی طور پر مُردہ لوگوں کو زندہ کیا جائے [ممکن بناتا ہے] بالکل اِسی طرح جیسے یسوع کو قبر میں زندہ کیا گیا تھا خدا کے ایمان کے عمل کے ذریعے جس نے اُسے مُردوں میں سے زندہ کیا‘‘ (کُلسیوں 2: 12)۔

جب آپ نئے سرے سے پیدا ہوتے ہیں، تو آپ کو زندہ کیا جاتا ہے، جیسا کہ چارلس ویزلی نے اپنے حمدوثنا کے عظیم گیت میں کہا، ’’اور کیا یہ ہو سکتا ہے؟‘‘ اُس نے نئے جنم کے ذریعے زندہ کیے جانے، زندگی میں لیے جانے کی بات کی۔ حمدوثنا کے اس گیت کا چوتھا بند بالکل ظاہر کرتا ہے کہ اس زندہ کیے جانے سے ہمارا کیا مطلب ہے جو ایک کھوئے یا گمراہ ہوئے بندے کو مسیح یسوع میں دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ نوٹ کریں کہ ویزلی نے حمدوثنا کے اِس گیت کے چوتھے بند میں کیا لکھا ہے۔ ’’زندہ کیے جانے‘‘ یعنی دوبارہ پیدا ہونے کی یہ اس کی اپنی گواہی ہے۔

طویل مدت تک میری قید روح پڑی رہی
   گناہ اور فطرت کی تاریکی میں زبردست بندھی ہوئی۔
تیری آنکھ سے ایک تیز لپک پھیلی،
   میں جاگ اُٹھا، قید خانہ نور سے جگمگا اُٹھا۔
میری زنجیریں ٹوٹ گئیں، میرا دِل آزاد تھا،
   میں جاگ اُٹھا، آگے بڑھا، اور تیری پیروی کی۔
حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے،
   کہ تجھے، اے میرے خُداوند، میرے لیے مرنا پڑا۔
(’’اور یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ And Can It Be? ‘‘ شاعر چارلس ویزلی Charles Wesley، 1707۔1788).

حمدوثنا کے اِس گیت کے چوتھے بند میں، چارلس ویزلی نے نئے جنم کی تصویری عکاسی پیش کی ہے۔ طویل عرصے تک اس کی قید کی ہوئی روح ایک سیاہ تہ خانے میں پڑی تھی، جو فطرت کی طرف سے گناہ میں مردہ ہونے کی تصویر تھی۔ لیکن پھر ایک (خدا کی طرف سے روشنی کی) تیز کرن اس کی عرصہ دراز سے مردہ روح کو چھید گئی۔ وہ بیدار ہوا، ابھی تک گناہ اور تاریکی کے قید خانے میں تھا، جب اچانک تہ خانے ’’نور سے جگمگا‘‘ اُٹھا۔ وہ ایمان کے وسیلہ سے یسوع کے پاس آیا، اور اس طرح اس نے کہا، ’’میری زنجیریں ٹوٹ گئیں، میرا دل آزاد تھا؛ میں (اُس جگہ پر جہاں پر وہ تھا، گناہ کے غار میں) جاگ اُٹھا۔‘‘ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ اس کی زنجیریں گر گئیں اور اس کا دل آزاد ہو گیا تھا۔ وہ دوبارہ پیدا ہوا – مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوا تھا، اور وہ جاگ اُٹھا تھا، آگے بڑھا اور مسیح کی پیروی کی۔ ’’میری زنجیریں ٹوٹ گئیں، میرا دل آزاد تھا، میں جاگ اُٹھا، آگے بڑھا اور تیرے پیچھے ہو لیا۔‘‘

لیکن نوٹ کریں کہ نئے جنم کا یہ شاندار تجربہ اس کے ساتھ تیز رفتاری سے شروع ہوا (ایک قیدی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا، اپنی ہی گناہ کی فطرت کا ایک حقیقی قیدی)۔ یہ تبھی تھا جب مسیح کا نور اس کی روح تک پہنچا، کہ چارلس ویزلی دلیری سے کہہ سکے، ’’میں جی اُٹھا (نجات پایا ہوا ایک بندہ)، آگے بڑھا‘‘ (غار سے باہر نکلا) – خُدا کی زندہ کر دینے والی قدرت کے وسیلہ سے – جس نے اُسے آخرکار ایک حقیقی زندہ مسیحی بنا دیا! وہ اس سطر کو یہ کہتے ہوئے ختم کرتا ہے، ’’میں جی اٹھا، آگے بڑھا [گناہ اور روحانی موت کے تہ خانے سے باہر نکلا] – میں جی اُٹھا، آگے بڑھا، اور تیری [مسیح کی] پیروی کی۔

یہ ایک ایسے آدمی کا خوبصورت اور سچا اظہار ہے جو گناہوں میں مردہ تھا نئے جنم کے ذریعے زندہ کیا جا رہا تھا، جس کے بارے میں یسوع نے بتایا جب اُس نے کہا،

’’تمہیں نئے سرے سے جنم لینا چاہیے‘‘ (یوحنا 3: 7)۔

چارلس ویزلی نے اس حمد کو، اس کے آخری بند میں، یہ کہہ کر ختم کیا کہ وہ مسیح میں خُدا کی طرف سے زندہ کیا گیا، زندگی کے لیے لایا گیا۔

اس میں زندہ، میرا زندہ سرتاج،
اور الہٰی راستبازی کا لباس پہنے ہوئے،

چارلس ویزلی اب کہہ پائے گا کہ اُس نے نئے سرے سے جنم لیا تھا،

’’اور تم … اپنے گناہوں کے باعث مُردہ تھے لیکن تمہیں بھی خدا نے مسیح کے ساتھ زندہ کیا۔ اُس نے ہمارے سارے قصور معاف کر دئیے‘‘ (کُلسیوں 2: 13)۔

اُس نے نئے سرے سے جنم لیا تھا،

’’خدا کے ایمان کے عمل کے ذریعے جس نے اُسے مُردوں میں سے زندہ کیا‘‘ (کُلسیوں 2: 12)۔

چارلس ویزلی، اور اس کے بھائی جان ویزلی، مسیح میں ایمان لا کر اپنے تبدیل ہونے سے پہلے ہی ’’فطرت کی رات‘‘ کی تاریکی میں مر چکے تھے۔ لیکن ان دونوں بھائیوں کے پاس اندھیرے کے درمیان روشنی آئی۔ پھر وہ خُدا کے وسیلہ سے زندہ ہو گئے، یسوع کے ساتھ اُس کی موت، تدفین اور جی اُٹھنے میں شامل ہو گئے – اور وہ دونوں بھائی اب نئے سرے سے پیدا ہوئے تھے، اور وہ اپنے دلوں میں خُدا کی روح کی گواہی سے یہ جانتے تھے۔ بعد میں یہ دونوں بندے پرانے زمانے کے میتھوڈسٹ چرچ کے بانی بن گئے، جو کہ ایک سو سال سے زیادہ عرصے تک پوری دنیا میں ایک طاقتور انجیلی بشارت کی قوت ہے۔

دونوں ویزلی کے نئے سرے سے جنم لینے سے چند سال پہلے، وہ اپنے والد، سیموئیل ویزلی سے ملنے گئے، جو ایک معمر مذہبی خادم تھے، جس وقت وہ بستر مرگ پر پڑے تھے۔ دوسرے لوگوں کے سونے کے کمرے سے نکل جانے کے بعد جہاں وہ مر رہے تھے، ریورنڈ سیموئل ویزلی نے جان ویزلی کا بازو پکڑا اور اسے اپنے چہرے کے قریب کھینچ لیا۔ تب ہی اُنہوں نے اپنے بیٹے جان ویزلی سے وہ مشہور الفاظ سرگوشی میں کہے۔ اس نے کہا، بیٹا یہ باطنی گواہی ہے، باطنی گواہی، یہ مسیحیت کا ثبوت، مضبوط ترین ثبوت ہے۔

جان ویزلی کو سمجھ نہیں آیا کہ اس وقت ان کے والد کا کیا مطلب تھا۔ چنانچہ، تقریباً تین سال تک، جان ویزلی نے جدوجہد کی، ایک کے بعد ایک فیصلہ کرنے کی کوشش کی، اپنے کاموں اور نیک اعمال، وعدوں، دعاؤں اور فیصلوں سے نجات حاصل کرنے کی پوری کوشش کی۔ پھر بھی جس شام جان ویزلی مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے، ایسا لگتا ہے کہ اُن کے والد کے آخری الفاظ پوری قوت کے ساتھ اس کے ذہن میں واپس آئے تھے، کیونکہ ایک چھوٹے سے بائبل اسٹڈی گروپ میں، جہاں لوتھر کا رومیوں کے لیے مُراسلے کا دیباچہ پڑھا گیا، اُںہوں نے کہا، ’’میں نے اپنا دل عجیب طرح سے گرم محسوس کیا۔ میں نے محسوس کیا کہ میں نجات کے لیے صرف تنہا مسیح پر، مسیح پر بھروسہ کرتا ہوں۔‘‘ یہ خدا کے روح کی باطنی گواہی تھی جس نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ دوبارہ پیدا ہوا ہے۔

اب، میں اس سوچ کے ساتھ ختم کرتا ہوں: میں آپ کو مسیح کے جسمانی جی اُٹھنے کے لیے بہت سے معذرت خواہ دلائل دے سکتا ہوں، لیکن وہ سب ایسے دلائل ہوں گے جو صرف دماغ کو متاثر کرتے ہیں، دل کو نہیں۔ اس سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، کیونکہ بائبل کہتی ہے،

’’دل سے بندہ راستبازی پر یقین رکھتا ہے‘‘ (رومیوں 10: 10)۔

آپ کئی سالوں تک اس بات کا یقین کیے بغیر، باطن کی گہرائی تک جا سکتے ہیں، کہ مسیح مردوں میں سے جی اُٹھا ہے۔ آپ شاید سوچیں کہ کیا ہڈیوں کے اِس جھوٹے تابوت میں شاید یسوع کی ہڈیاں موجود تھیں۔

میں ذاتی طور پر تقریباً سات سال تک یہ یقین کرنے کی کوشش کرتا رہا کہ یسوع مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ لیکن میں پھر بھی شک اور بے یقینی سے بھرا ہوا تھا۔ پھر ایک صبح، 28 ستمبر، 1961 کو، مسیح کا نور میری تاریک روح میں داخل ہوا۔ اچانک خدا نے جی اٹھے مسیح کو میرے لیے حقیقی بنایا۔ اور میں نے اس لمحے میں مسیح پر بھروسہ کیا۔

’’خدا کی قدرت پر ایمان کے وسیلہ سے جس نے اُسے مُردوں میں سے زندہ کیا … [اور مجھے] زندہ کیا [زندگی کی طرف لایا گیا] [مسیح] کے ساتھ‘‘ (کُلسیوں 2: 12۔13)۔

جان اور چارلس ویزلی، اور ان کے کالج کے ہم جماعت جارج وائٹ فیلڈ کی طرح، میں بھی دوبارہ پیدا ہوا، اپنی طاقت یا ’’فیصلوں‘‘ سے نہیں، بلکہ

’’خدا کی قدرت پر ایمان کے وسیلہ سے جس نے اُسے مُردوں میں سے زندہ کیا … [مسیح] کے ساتھ زندہ کیا‘‘ (کُلسیوں 2: 12۔13)۔

جب آپ مسیح کے پاس آئیں گے، آپ بھی نئے سرے سے جنم لیں گے، ’’خدا کی قدرت کے وسیلہ سے، جس نے اُسے مُردوں میں سے زندہ کیا۔‘‘ تب آپ کو اس سچائی کا پورا پتہ چل جائے گا جو مرتے ہوئے سیموئیل ویزلی نے اپنے بیٹے جان کو کہی تھی۔ ’’باطنی گواہ، بیٹا۔ باطنی گواہ۔ یہ مسیحیت کا ثبوت، مضبوط ترین ثبوت ہے۔‘‘

جب آپ نئے سرے سے پیدا ہوتے ہیں، ’’مسیح کے ساتھ زندہ کیے جاتے ہیں‘‘، آپ خدا کے نئے سرے سے جنم لیے ہوئے بچے ہوں گے۔ اور جب آپ اس طرح دوبارہ پیدا ہوتے ہیں، ’’خُدا کی قدرت کے ایمان کے ذریعے، جس نے اُسے مُردوں میں سے زندہ کیا،‘‘ کوئی ہالی ووڈ فلم یا کالج میں مسیحی مخالف پروفیسر آپ کو الجھانے کے قابل نہیں ہو گا۔ آپ یسوع پر ان کے حملوں سے بالکل محفوظ رہیں گے، کیونکہ، ’’یہ باطنی گواہ ہے بیٹا۔ باطنی گواہی ہمارے مذہب کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔‘‘ چارلس ویزلی نے اپنے والد کے خیال کو اپنے حمدوثنا کے گیت کے چوتھے بند میں قید کیا، ’’اٹھ میری روح، اُٹھ!‘‘

اُس کی روح خون کو جوابدہ ہے،
   اور مجھے بتاتی ہے میں خدا سے پیدا ہوا ہوں۔
اور مجھے بتاتی ہے میں خدا سے پیدا ہوا ہوں۔
   (’’اُٹھ! میری روح، اُٹھ! Arise! My Soul, Arise!‘‘ شاعر چارلس ویزلی Charles Wesley، 1707۔1788)۔

یسوع کے پاس آئیں۔ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس پر بھروسہ کریں۔ اُس کے قیمتی خون سے اپنے گناہوں سے پاک صاف ہو جائیں! آپ آ سکتے ہیں، کیونکہ خدا آپ کو کھینچ لے گا۔ آئیں اور ’’مسیح کے ساتھ زندہ کیے جائیں۔‘‘ تب آپ پولوس رسول کے ساتھ کہہ سکیں گے،

’’روح خود ہماری روح کے ساتھ گواہی دیتی ہے کہ ہم خُدا کے فرزند ہیں‘‘ (رومیوں 8: 16)۔

تب آپ اپنی روح میں جان لیں گے کہ یسوع جسمانی طور پر قبر سے جی اُٹھا تھا۔ اور کوئی بھی آپ کو کبھی بھی قائل نہیں کر سکے گا کہ ایسا نہیں ہے! آمین!

آئیے کھڑے ہو کر آپ کے گانوں کے صفحات پر سے حمدوثنا کا گیت نمبر سات گاتے ہیں، ’’اور کیا یہ ہو سکتا ہے؟‘‘ شاعر چارلس ویزلی۔

کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ مجھے پانا چاہیے
   نجات دہندہ کے خون میں ایک منافع؟
وہ میرے لیے مرا، کون اُس کے دُکھ کا سبب بنا؟
   میرے لیے، کس نے اُس کو موت کے تعاقب میں ڈالا؟
حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے،
   کہ تجھے، اے میرے خُداوند، میرے لیے مرنا پڑا؟
حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے،
   کہ تجھے، اے میرے خُداوند، میرے لیے مرنا پڑا؟

یہ سب سے بڑا اسرار ہے! کہ لافانی مر جاتا ہے!
   کون اُس کے حیرت انگیز مقصد کی تحقیق کر سکتا ہے؟
بیکار میں پہلوٹھی فرشتانہ ہستی کوشش کرتی ہے
   کہ الہٰی محبت کی گہرائیوں کو جانچ سکے!
یہ ہی سارا رحم ہے! زمین کو اِس کی ستائش کر لینے دے،
   فرشتانہ ذہنوں کو مذید اور تفتیش نہ کرنے دے۔
حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے،
   کہ تجھے، اے میرے خُداوند، میرے لیے مرنا پڑا؟

اُس نے اپنے باپ کا تخت عالم بالا ہی میں چھوڑ دیا،
   اُس کا فضل اِس قدر آزاد، اِس قدر لا محدود؛
ماسوائے محبت کے خود کو تمام کے لیے خالی کر دیا،
   اور آدم کی بےبس نسل کے لیے خون بہایا؛
یہ تمام رحم، اِس قدر شدید اور مفت میں،
   کیونکہ اے میرے خُداوند، اِس نے مجھے ڈھونڈ لیا!
حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے،
   کہ تجھے، اے میرے خُداوند، میرے لیے مرنا پڑا۔

طویل مدت تک میری قید روح پڑی رہی
   گناہ اور فطرت کی تاریکی میں زبردست بندھی ہوئی۔
تیری آنکھ سے ایک تیز لپک پھیلی،
   میں جاگ اُٹھا، قید خانہ نور سے جگمگا اُٹھا۔
میری زنجیریں ٹوٹ گئیں، میرا دِل آزاد تھا،
   میں اُٹھا، آگے بڑھا، اور تیری پیروی کی۔
حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے،
   کہ تجھے، اے میرے خُداوند، میرے لیے مرنا پڑا۔

اب کسی مذمت سے مجھے ڈر نہیں لگتا ہے۔
یسوع، اور اُس میں سب کچھ ، میرا ہے۔
اس میں زندہ، میرا زندہ سرتاج،
اور الہٰی راستبازی کا لباس پہنے ہوئے،
میں دلیری سے ابدی تخت کے قریب پہنچتا ہوں،
اور تاج کا دعویٰ کروں، خود میرے اپنے مسیح کے ذریعے۔
حیرت انگیز محبت! یہ کیسے ہو سکتا ہے،
کہ تُو، میرے خُدا، میرے لیے مرے؟
    (’’اور یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ And Can It Be? ‘‘ شاعر چارلس ویزلی Charles Wesley، 1707۔1788).


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔