Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

انسانی نا اہلیت

HUMAN INABILITY
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr

‏3 دسمبر، 2006، خُداوند کے دِن کی صبح، لاس اینجلز کی
بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
A sermon preached on Lord’s Day Morning, December 3, 2006
at the Baptist Tabernacle of Los Angeles

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا 44:6).

میں پانچ صفاتی کیلونسٹ نہیں ہوں۔ وہ کبھی کبھی کہتے ہیں میں رچرڈ بیکسٹر Richard Baxter، مارٹن لوتھر Martin Luther اور جان گڈ وِنJohn Goodwin کے کچھ خیالات میں اُلجھ جاتا ہوں۔ شاید وہ درست ہیں۔ میں تمام باتوں کو کامل طور پر نہیں دیکھتا ہوں، نا ہی میں سوچتا ہوں کہ کوئی مکمل طور پر ایسا کرتا ہے۔ بہتر طور پر،

’’ہمیں آئینہ میں دھُندلا سا دکھائی دیتا ہے‘‘ (1۔ کرنتھیوں 13:12).

کیلون ازم میں جو ’’فضل کے عقائد‘‘ کے طور پر جانے جاتے ہیں اُن کے بارے میں، مَیں مکمل سمجھ رکھنے کا دکھاوا نہیں کرتا ہوں۔ لیکن چونکہ میں اُن کے تمام ’’نکات‘‘ اور عقائد سے منسوب نہیں ہوتا ہوں، اِس لیے میں ہماری تلاوت میں یقین کرتا ہوں، اور میں اِس پر اتنے ہی جوش کے ساتھ یقین کرتا ہوں جتنا کہ ایک کٹر کیلونسٹ کرتا ہے۔ درحقیقت میں یوحنا44:6 میں اِس آیت پراُسی طریقے سے یقین کرتا ہوں جیسے کٹر ترین کیلونسٹ کرتا ہے، کیونکہ میں یقین کرتا ہوں تلاوت کے بارے میں اُن کا نظریہ کلام مقدس کے صفحہ پر سادہ اور واضح ہے، جب یسوع نے کہا،

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا 44:6).

اگر میں چاہوں بھی تو بھی میں اِس کے لیے ’’حیلہ بہانہ‘‘ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ڈھونڈ پاؤں گا، اور اِسی لیے میں یہ آپ کو سی۔ ایچ۔ سپرجیئن C. H. Spurgeon ، مبلغین کے شہزادے سے اخذ کیے گئے ایک پیغام میں پیش کروں گا۔ میں نے واعظ کا عنوان وہی رکھا ہے جو اُنہوں نے رکھا تھا، اور میں آپ کو اُن کے واعظ ’’انسانی نا اہلیتHuman Inability ‘‘ کا لُب لُباب مختصراً، سادہ کیے گئے انداز میں جو کہ جدید سُننے والوں کو زیادہ سمجھ میں آئے پیش کروں گا (حوالہ دی نیو پارک سٹریٹ کی واعظ گاہ The New Park Street Pulpit، پلگرم پبلیکیشنز Pilgrim Publications، دوبارہ اشاعت1981، جلد چہارم، صفحہ137۔144)۔ مسیح نے کہا،

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا 44:6).

’’مسیح کے پاس آنا‘‘ بائبل میں ایک عام سا جملہ ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو اپنی خود راستبازی کو چھوڑتا ہے اور یسوع کے پاس دوڑ کر یسوع کی راستبازی کو اپنی ڈھال کے طور پر پانے، اور اپنی صفائی کے لیے یسوع کے خون کو پانے کے لیے جاتا ہے۔ ’’مسیح کے پاس آنے میں‘‘ توبہ اور یسوع پر ایمان شامل ہے، اور اُن تمام باتوں پر ختم ہوتا ہے جو ایک بشر کی نجات کے ساتھ چلتی ہیں۔ ’’مسیح کے پاس آنا‘‘ گنہگار کے بچائے جانے کے لیے ایک ضروری بات ہے۔ جب ایک شخص مسیح کے پاس نہیں آیا ہوا ہوتا ہے، تو یہ یقینی ہوتا ہے کہ وہ مسیح میں تبدیل نہیں ہوا ہے اور ابھی تک قصوروں اور گناہوں میں مُردہ ہے۔

’’فیصلہ سازیت‘‘ کے اِن تاریک دِنوں میں، مسیح کے پاس اکثر اِس دُنیا میں آسان ترین کام خیال کیا جاتا ہے۔ اور اِس کے باوجود، بہت ساری گواہیوں کو احتیاط کے ساتھ سُننے کے بعد، وہ تیزفہم پاسبان کلیسیا دیکھے گا کہ تقریباً تمام کے تمام مسیح خود کے پاس آنے میں ناکام رہے ہیں اور یوں نشان پانے سے رہ گئے۔ مسیح کے بارے میں باتوں پر یقین کرنا آسان ہے۔ یہ یقین کرنا آسان ہے کہ وہ گناہ سے بچا سکتا ہے، کہ وہ گناہ دھو ڈالتا ہے، اور کہ وہ انسان کو بچا سکتا ہے۔ شیاطین اُن عقائد پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ یقین کرنے کے لیے آسان باتیں ہیں۔ لیکن مسیح خود کے پاس آنے کا عمل کسی بھی انسان کے لیے ناممکن ہے، جب تک کہ وہ باپ کے وسیلے سے مسیح کی جانب کھینچا نہیں جاتا ہے، کیونکہ مسیح نے کہا،

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا 44:6).

اِسی لیے آج کی صبح، میں، انسان کی نااہلیت پر بات کروں گا، پھر، باپ کے کھینچ کر لانے پر بات کروں، اور اِس عقیدے کے اطلاق کے ساتھ اختتام کروں گا۔

I.   اوّل، انسان کی نا اہلیت۔

یہ تلاوت کہتی ہے،

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا 44:6).

جب شاگردوں نے پوچھا، ’’پھر کون نجات پا سکتا ہے؟‘‘ (مرقس26:10)، یسوع نے جواب دیا،

’’یہ انسانوں کے لیے ناممکن ہے‘‘ (مرقس 10:27).

بچائےجانے کے لیے انسانوں کے لیے یہ ناممکن ہے! یہی ہمارے خداوند یسوع مسیح نے مرقس27:10 میں کہا!

کچھ شاید کہتے ہیں کہ میں وہ جسے ’’آسان اعتقادیت‘‘ کہلاتے ہیں اُسکے خلاف منادی کر رہا ہوں۔ وہ شاید سوچ سکتے ہیں کہ میں ’’نجات آقائیت‘‘ پر بات کر رہا ہوں، جس کو کم از کم ایک مصنف نے ’’مشکل سے یقین کرنا‘‘ اپنی ایک کتاب جس کا عنوان یہی تھا میں کہا ہے۔ لیکن میں ’’آسان اعتقادیت‘‘ یا ’’سخت اعتقادیت‘‘ کے بارے میں بات نہیں کر رہا ہوں! میں بات کر رہا ہوں ’’ناممکن اعتقادیت‘‘ کے بارے میں۔ میں مسیح کے پاس آنے کے لیے قدرتی انسان کی ناممکنیت کے بارے میں بات کر رہا ہوں!

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا 44:6).

کیا بات یسوع کے پاس آنے کو انسانی طور پر ناممکن بناتی ہے؟ یہ نااہلیت آتی کہاں سے ہے؟ یہ کسی جسمانی ادھورے پن، نقص یا خامی کی وجہ سے نہیں آتی ہے۔ اگر مسیح کے پاس آنے کا مطلب جسم کو حرکت دینا ہوتا یا پیروں کے ساتھ چلنا ہوتا، تو یقیناً انسان کے پاس مسیح کے پاس آنے کے لیے قابلیت ہوتی۔ ایک آدمی نے کبھی کہا تھا کہ وہ یقین نہیں کرتا کسی میں گرجہ گھر پیدل چل کر جانے کے لیے قوت ہوتی ہے جب تک کہ باپ اُسے کھینچ نہ لائے۔ اب وہ آدمی تو یقینی طور پر بے وقوف تھا، کیونکہ یہ دیکھنا تو انتہائی آسان ہے کہ جب تک انسان اپنی ٹانگیں استعمال کر سکتا ہے، اُس کے لیے گرج گھر کے لیے پیدل چل کر جانا اتنا ہی آسان ہے جتنا اُس کے لیے شراب خانے کے لیے پیدل چل کر جانا ہوتا ہے! اگر مسیح کے پاس آنے کا مطلب ’’گنہگار کی دعا‘‘ کہنا ہوتا ہے، تو اُس کے لیے یہ دعا کہنا اتنا ہی آسان ہے جتنا اُس کے لیے ایک گندہ لفظ کہنا ہے! اِس لیے، یہ بات صاف ہے کہ مسیح کے پاس آنے کے لیے انسان کی نااہلیت جسمانی نہیں ہے۔

نہ ہی یہ نا اہلیت ذہن میں پنہاں ہے۔ میں بائبل کا سچا ہونے پر اتنا ہی یقین کر سکتا ہوں جتنا کہ میں کسی دوسری کتاب کے سچا ہونے پر یقین کر سکتا ہوں۔ مسیح نے کیا کہا اُس پر میں اتنی ہی آسانی سے یقین کر سکتا ہوں جتنی آسانی سے کوئی اور کیا کہتا ہے اُس پر یقین کر سکتا ہوں۔ ذہن کے ساتھ، میں مسیح کے ہونے پر اتنی ہی آسانی سے یقین کر سکتا ہوں جتنا کہ کسی اور کے ہونے پر یقین کر سکتا ہوں۔ وہ خامی، تب پھر، نہ ہی تو جسم میں اور نہ ہی تو ذہن میں ہوتی ہے۔ تب پھر یسوع نے کیوں کہا،

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا 44:6)?

آئیے مجھے آپ کو دکھانے دیجیے کہ اصل میں انسان کی نااہلیت کہاں پر وجود رکھتی ہے۔ یہ اُس کی فطرت میں پنہاں ہے۔ گناہ میں گرنے سے، اور خود ہمارے اپنے گناہ سے، انسان کی انتہائی فطرت اِس قدر برباد، اور مسخ اور بدکار ہو چکی ہے کہ اُس کے لیے مسیح کے پاس آنا ممکن نہیں ہے جب تک کہ باپ اُسے کھینچ نہ لائے!

ایک بھیڑ گوشت نہیں کھا سکتی ہے۔ ایک شیر گھاس نہیں کھا سکتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ یہ بھیڑ کی فطرت کے خلاف ہے کہ وہ گوشت کھائے۔ یہ شیر کی فطرت کے خلاف ہے کہ وہ گھاس کھائے۔ اور یہ انسان کی فطرت کے خلاف ہے کہ وہ مسیح کے پاس آئے! جیسا کہ ڈاکٹر واٹز Dr. Watts نے اِسے قلمبند کیا،

فضل اور جلال کے عظیم خُداوند،
   ہم شرم عاجزی کے ساتھ اپناتے ہیں،
ہماری بدچلن نسل کس قدر گھٹیا ہے،
   اور ہمارے پہلے باپ کا نام۔

آدم ہی سے ہمارا خون آلودہ بہتا ہے،
   وہ زہر ہم ہی پر حکومت کرتا ہے؛
جو نیکی ہے اُسی کے خلاف ہمیں اُکساتا ہے
   اور گناہ کے لیے غلاموں کو تیار کرتا ہے۔

روزانہ ہم خُداوند کے پاک قوانین کو توڑتے ہیں،
   اور پھر اُس کے فضل کو مسترد کرتے ہیں؛
شیطان کے بدصورت مقصد میں مختص ہو کر
   خُدا کے پاک چہرے کے خلاف جاتے ہیں۔

ہم خُدا سے بہت دور جی رہے ہیں،
   اور اِس دوری سے بہت ہی پیار کرتے ہیں؛
ہم جلدی سے خطرناک راستے پر دوڑ جاتے ہیں
   جو گناہ اور جہنم کے لیے رہنمائی کرتا ہے۔

ہم اپنے باپ کا نام اونچا کرتے ہیں،
   جو خود اپنی روح کو بھیجتا ہے
باغی گنہگاروں کو نزدیک لانے کے لیے،
   اور مسیح کو دشمنوں کو دوست بنانے کے لیے۔

اور کیا ایسے باغیوں کو بحال کیا جا سکتا ہے،
   ایسے اندھے پن کو چمکنے دیا جا سکتا ہے؟
اے خُداوند، اپنے بیٹے کو گنہگاروں کو دیکھ لینے دے،
   اور اُس کے الہٰی خون کو محسوس کر لینے دے۔
(’’ہماری غیر نجات یافتہ حالت Our Unconverted State‘‘
شاعر آئزک واٹز، ڈی۔ ڈی۔ Isaac Watts, D. D.،‏ 1674 ۔ 1748؛
گایا گیا بطرز “O Set Ye Open Unto Me” بیل مونٹ Belmont)۔

اُن الفاظ کے بارے میں غور سے سوچیں۔ کیا ڈاکٹر واٹز درست نہیں تھے؟

آدم ہی سے ہمارا خون آلودہ بہتا ہے،
   وہ زہر ہم ہی پر حکومت کرتا ہے؛
جو نیکی ہے اُسی کے خلاف ہمیں اُکساتا ہے
   اور گناہ کے لیے غلاموں کو تیار کرتا ہے۔

اِسی لیے،

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا 44:6).

ہرانسانی دِل گناہ میں گرنے کے ذریعے سے برباد ہو گیا ہے، گناہ کے ذریعے سے موت کے لیے زہریلا ہو گیا ہے، نالائق، نااہل، خُدا کے لیے مُردہ۔ اِسی لیے

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا 44:6).

II.   دوئم، باپ کا کھینچنا

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا 44:6).

باپ کیسے لوگوں کو یسوع کے لیے کھینچتا ہے؟ مسیح یہ جانتے تھے کہ گنہگاروں کو عموماً انجیل کی منادی کے ذریعے سے یسوع کے لیے کھینچا جاتا تھا۔ لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ وہ منادی کرنے میں ایک اہم خصوصیت تھی جو گنہگاروں کو مسیح کے لیے موڑتی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ منادی کو خُدا کی بخشش ہونا چاہیے تھا، تاکہ مبلغ پولوس رسول کے ساتھ کہہ سکے،

’’میرا پیغام اور میری منادی دونوں دانائی کے پُر اثر الفاظ سے خالی تھے لیکن اُن سے پاک رُوح کی قوّت ثابت ہوتی تھی‘‘ (1۔ کرنتھیوں 4:2).

محترم برائن ایڈورڈز Brian Edwards، جو حیات نو پر ایک برطانوی مقتدر ہیں، اُنہوں نے پولوس کی منادی کے بارے میں کہا،

وہ حیات نو کی منادی تھی۔ حیات نو میں، جماعتیں انسان کے انداز یا فصاحت پر گفتگو نہیں کرتیں، در حقیقت وہ تو اُس جُز پر بحث ہی نہیں کرتیں؛ وہ تو عمل کرنے کے لیے متحرک ہوتی ہیں۔ حیات نو کی منادی میں ایک قوت اور اختیار ہوتا ہے جو خُدا کے کلام کو ایک ہتھوڑی کی مانند دِل اور ضمیر پر مارتی ہیں۔ یہی ہے جو بجا طور پر آج ہماری زیادہ تر منادی میں موجود نہیں ہے (محترم برائن ایچ۔ ایڈورڈز Rev. Brain H. Edwards، حیات نو! خُدا سے لبریز لوگ Revival! A People Saturated with God ، بشارتی انجیل کا پریس Evangelical Press، ‏ 1991، صفحہ103)۔

کھوئے ہوئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ جو حیات نو میں ہوتا ہے، وہ ایک یا دو کے ساتھ یہاں وہاں متواتر منادی کی عبادتوں کے دوران ہوتا ہے۔ لیکن، یہ غور کریں،ہر سچے مسیحی میں تبدیلی ایک معجزہ ہے! میں مسیح میں ہر تبدیلی کو ایک معجزہ سمجھتا ہوں، جس کا موازنہ لعزر کا مُردوں میں سے جی اُٹھنے سے کیا جا سکتا ہے! ہم کس قدر دعا کرتے ہیں کہ آج بھی کوئی مسیحی میں تبدیلی ہوگی – کہ خُدا اِن سادہ سے الفاظ کو لے گا، اور ’’روح اور قوت کے اظہار‘‘ کے وسیلے سے اُنہیں گنہگار کے دِل کی عادت اور سمت کو بدلنے کے لیے استعمال کرے گا۔

میں جانتا ہوں کہ میں آپ کے ذہن کونہیں بدل سکتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں آپ کو قائل نہیں کر سکتا ہوں۔ میں آپ کو مسیح میں تبدیل کرنے کے لیے اتنا ہی بے بس ہوں جتنا کہ ایک فالج زدہ پیدل چلنے کے لیے بے بس ہوتا ہے۔ میں اکثر اِس واعظ گاہ میں آنے اور منادی کرنے کے لیے ڈرتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں منادی کر سکتا ہوں۔ میں نے سینکڑوں مرتبہ منادی کی ہے۔ لیکن میں جانتا ہوں، اور میں بخوبی جانتا ہوں، کہ ایسے کوئی الفاظ نہیں ہیں جو میں کہوں کبھی کسی ایک انسان کی مدد کر سکتے ہیں یا بدل سکتے ہیں، یا مسیح میں تبدیل کر سکتے ہیں، ماسوائے خُدا کے کھینچنے کی قوت کے!

اے خُداوند، اب بلاشبہ میں نے پا لیا ہے
    تیری اور واحد تیری قوت ہی،
کوڑھیوں کے داغوں کو بدل سکتی ہے،
اور پتھر دِل کو پگھلا سکتی ہے۔

یسوع نے اِس تمام کی قیمت چکائی،
    اُسی کا میں مکمل مقروض ہوں؛
گناہ نے ایک سُرخ مائل دھبہ چھوڑا تھا،
   اُس نے اُسے برف کی مانند سفید کر دیا ہے۔
(’’یسوع نے اِس تمام کی قیمت چکائی Jesus Paid It All‘‘ شاعر ایلوینہ ایم۔ ھال Elvina M. Hall، ‏ 1820۔1889)۔

خُدا کیسے ایک پتھر کے دِل کو پگھلا دیتا ہے؟ وہ مرضی کی سمت کو بدل دیتا ہے۔ وہ دِل کو یسوع کو چاہنے کے لیے، اُس کی خواہش کرنے کے لیے، اُس کی پیاس کرنے کے لیے بدل ڈالتا ہے۔

مارٹن لوتھر نے کہا، ’’خُدا گنہگار کو بالوں سے جکڑ کر نہیں کھینچتا ہے، بلکہ اُسے دِل سے کھینچتا ہے۔‘‘ کسی پُراسرار آپریشن کے ذریعے سے، خُدا یسوع کے پاس آنے اور اُسے پیار کرنے کے لیے دِل کو بدل ڈالتا ہے، خُدا دِل کو ٹھنڈے مذہب کو مسیح کے ساتھ ایک پیارے، گرم، اور دوستانہ تعلق سے بدل ڈالتا ہے۔

جب میں نوجوان تھا تو میں ایک بوڑھے آدمی کو جانتا تھا جس سے دوسرے تمام بچے ڈرتے تھے، کیونکہ وہ کہتے تھے کہ وہ ایک کمینہ ہے۔ لیکن کسی نہ کسی طرح میں جبلتی طور پر جانتا تھا کہ وہ دراصل میں ایک انتہائی مہربان بوڑھا آدمی تھا۔ میں اُسے بائیولا ہوٹل سے جو لاس اینجلز کے مرکزی حصے میں کُھلے دروازوں کے گرجہ گھر Church of the Open Door کے ساتھ ہے، اپنی گاڑی میں لے لیا کرتا تھا، اور اُسے چینی گرجہ گھر کی دعائیہ عبادت میں جہاں میں جاتا تھا جب میں کالج میں تھا لے جایا کرتا تھا۔ اُس گرجہ گھر میں چینی نوجوان لوگ سوچتے تھے کہ وہ ایک ڈراؤنا اور کمینہ تھا کیونکہ وہ اِس قدر بوڑھا تھا۔ لیکن میں نے پایا کہ وہ واقعی ہی میں ایک مہربان اور معزز بوڑھا آدمی تھا، جو مسیح کے لیے پیار سے بھرا ہوا تھا۔ میں ہمیشہ جب وہ دعا کیا کرتا تھا تو اُس کے ساتھ بیٹھا کرتا تھا۔ وہ ھنگری کے ملک سے تھا اور بھاری انداز میں گفتگو کیا کرتا تھا، لیکن اُس کی دعائیں مسیح کے لیے اِس قدر پیار سے بھری ہوتی تھیں کہ ہر مرتبہ جب وہ دعا کیا کرتا تھا تو مسیح کے لیے اُس کے پیار کو جس کا وہ اظہار کرتا تھا سوچ کر میری آنکھوں میں آنسو بھر جاتے تھے۔

میرے خیال میں یہی طریقہ ہے جس میں ہم مسیح اور خُدا کے ساتھ ہیں۔ اِس سے پہلے کہ ہم مسیح میں تبدیل ہوتے ہیں، ہم اِس قدر زیادہ مسیح اور خُدا کی جانب سردمہر ہوتے ہیں۔ ہم اُن کے بارے میں کسی دور کی ہستی کی مانند سوچتے ہیں، کچھ غضیلی، جس سے خوف کھایا جانا چاہیے اور اِجتناب کرنا چاہیے۔ لیکن جب خُدا ہماری مرضیوں کو بدلتا ہے، ہم دریافت کرتے ہیں، ہماری حیرانگی کے لیے، کہ خُدا اور مسیح ہم اُس کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیار کرتے ہیں جس کو کبھی ہم جانتے تھے کہ وہ اتنا پیارکرتے ہیں، اُس سے کہیں زیادہ جتنا کہ ہم کبھی سوچ سکتے تھے کہ وہ کریں گے!

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا 44:6).

اور جب خُدا ہماری آنکھیں کھولتا ہے، وہ ہمیں یسوع کے لیے کھینچ لیتا ہے

’’اِنسانی شفقت کی رسّیوں، اور محبت کے رشتہ میں‘‘ (ہوسیع 4:11).

جیسا کہ ایک پرانا حمد و ثنا کا گیت اِسے لکھتا ہے،

میں نے ایک دوست ڈھونڈ لیا ہے، اوہ، کیسا ایک دوست!
   اُس نے مجھے پیار کیا [اِس سے پہلے کہ] میں اُسے جانتا؛
اُس نے پیار کی رسیوں سے مجھے کھینچ لیا،
   اور یوں اُس نے مجھے اپنے ساتھ باندھ لیا۔
(میں نے ایک دوست ڈھونڈ لیا ہے I’ve Found a Friend‘‘ شاعر جیمس جی۔ سمال James G. Small، ‏ 1817۔1888)۔

لوتھر نے کہا،

خُدا مرضی سے کھینچتا ہے، گردن سے نہیں۔ مسیح یہاں پر کہتا ہے: صرف وہی میرے پاس آتا ہے، اور صرف وہی ایمان پاتا ہے، جسے باپ میرے پاس کھینچ کر لاتا ہے۔ یہ کھینچنا ایسا نہیں ہے جیسا ایک جلاد [کھینچتا ہے] ایک چور کو [تختۂ دار کے لیے] کھینچتا ہے۔ یہ اِس کے بجائے ایک دوستانہ دعوت اور کھینچنا ہوتا ہے، جیسے ایک [مہربان اور معزز] انسان لوگوں کو اپنی جانب اِس قدر دوستانہ اور خوشگوار ہونے سے کھینچتا ہے کہ [آپ] اُس کے پاس [آنے میں] خوش ہوتے ہیں۔ اِس طرح سے خُدا بھی شفقت کے ساتھ لوگوں کو [مسیح] کے لیے کھینچتا ہے تاکہ وہ مرضی سے اور خوشی سے اُس کے ساتھ اور اُس کے نزدیک [ہونا چاہیں] (مارٹن لوتھر Martin Luther, Th. D.، لوتھر کیا کہتا ہے What Luther Says، کونکورڈیہ پبلشنگ ہاؤس Concordia Publishing House، دوبارہ اشاعت1994، صفحات 346۔347)۔

خُداوند انسانی دِل کے خفیہ حصے میں جاتا ہے، اور ایک پُراسرار عمل کے ذریعے سے، مرضی کو مخالف سمت میں بدل ڈالتا ہے کہ انسان نجات پاجاتا ہے، جیسا کہ رالف ایرسکن Ralph Erskine نے متضاداتی طور پر یہ لکھا، ’’اُس کی مرضی کے خلاف مکمل رضامندی سے،‘‘ یعنی کہ، اُس کی پرانی مرضی کے خلاف، وہ یسوع کے لیے آتا ہے۔ لیکن وہ اپنی پوری رضامندی کے ساتھ نجات پاتا ہے، کیونکہ خُدا کی قوت کے دِن میں اپنی مرضی سے آیا ہے۔ جب خُدا کا روح آپ کے دِل کو یسوع کے پاس آنے کے لیے شفقت سے متاثر کرتا ہے، تو غزل الغزلات کی ایک آیت پوری ہوتی ہے،

’’مجھے اپنے ساتھ لے چلو۔ [اور میں] تیرے پیچھے چل پڑوں گی: [یسوع] بادشاہ کو مجھے اپنی خوابگاہ میں لے آنے دو۔ [میں] تجھ میں شادمان اور مسرور ہوں گی‘‘ (غزل الغزلات 4:1).

مجھے اپنے ساتھ لے چلو اور میں تیرے پیچھے چل پڑوں گا!

انسان کا دِل پریشان ہے، کشمکش اور مایوسی سے بھرپور۔ وہ سوچتا ہے، ’’میں کبھی بھی نجات نہیں پا سکتا ہوں۔ مجھے کچھ بھی نہیں بچا سکتا ہے۔‘‘ پھر یسوع آتا ہے اور رات دِن میں بدل جاتی ہے! انسان اِس قدر مرضی کے ساتھ اُس کی طرف چل پڑتا ہے کہ یوں لگتا ہے جیسا اُس کو بالکل بھی کھینچا ہی نہیں گیا تھا۔ اور وہ یسوع کے پاس انتہائی جلدی سے اور آسانی سے آ جاتا ہے۔

کوئی کہتا ہے، ’’ٹھیک ہے، میں ایک دوسرے میں جاتا رہا ہوں جہاں پر اُنہوں نے مجھے بتایا تھا کہ میں بھی چاہوں نجات پا سکوں گا۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ میں کسی بھی وقت جب نجات پانا چاہوں ایک ’گنہگار کی دعا‘ پڑھوں۔ اِسی لیے میں اِس کو التوا میں ڈالے ہوئے تھا۔ لیکن اب، اے مبلغ، آپ نے یہ اُمید مجھ سے چھین لی ہے۔ میں درد اور خوف سے بھرا ہوا محسوس کرتا ہوں۔‘‘ میں کہتا ہوں، ’’میرے دوست، مجھے یہ سُن کر خوشی ہوئی۔ یہی تو تھا جس کی میں نے اُمید کی تھی کہ ہوگا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ آپ کو یہ باطنی دور اور خوف مذید اور زیادہ ہو، اِس سے کہیں مذید اور زیادہ ہو۔ اور جب آپ کے پاس کسی بھی قسم کی خود کو نجات دلانے کی کوئی بھی اُمید نہیں ہوگی، تو میں یہ اُمید کرنے کی جرأت کروں گا کہ خُدا نے آپ کو نجات دینا شروع کر دیا ہے۔‘‘ جس قدر جلد آپ خود سے کہتے ہیں، ’’اوہ، میں مسیح کے لیے نہیں آ سکتا ہوں۔ خُدایا، مجھے لے چل، میری مدد کر،‘‘ تو میں آپ کے لیے بہت خوش ہو جاؤں گا، کیونکہ وہ جو یسوع کو چاہتا ہے، حالانکہ اُس کے پاس قوت نہیں ہوتی ہے، اُس کے دِل میں خُدا کا فضل پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے، اور خُدا اُس کو نہیں چھوڑے گا جب تک کہ کام ختم نہیں ہو جاتا، اور وہ مسیح میں تبدیل نہیں ہوجاتا۔

آئیے مجھے آپ کو کلام پاک میں سے ایک آیت پیش کرنے دیں جو شاید آپ کی مدد کرے،

’’خداوند ہم پر دُور سے ظاہر ہُوا اور کہا، میں نے تجھ سے ابدی محبّت رکھّی؛ اور تجھ پر اپنی شفقت بنائے رکھی‘‘ (یرمیاہ 3:31).

میں یقین کرتا ہوں کہ آپ مسیح کے پاس آئیں گے کیونکہ خُدا آپ کو کھینچتا رہا ہے، اور کیونکہ وہ آپ کو کھینچ رہا ہے، یہ ثبوت ہے کہ وہ آپ سے پیار کرتا ہے، جیسا کسی دوسرے شخص نے اِس زمین پر کبھی بھی پیار نہیں کیا ہے۔ خُدا کرے آپ یسوع کی صلیب کے پاس ایمان کے وسیلے سے آئیں۔ خُدا کرے آپ اُس کی صلیب کے نیچے دوزانو ہوئیں اور

اِس پانی اور خون کو،
   جو تیرے دریا کے کناروں سے بہتا ہے،
گناہ کی اِس دُہری شفا سے،
   مجھے اِس جرم اور قوت سے پاک صاف کرتا ہے۔
(’’چٹان کے زمانے Rock of Ages‘‘ شاعر اگستس ایم۔ ٹاپلیڈی
Augustus M. Toplady، ‏ 1740۔1778)۔

آئیے کھڑے ہوں اور گیتوں کے ورق میں سے حمد و ثنا کا آخری گیت گائیں۔ اِس کو اپنے تمام دِل اور جان کے ساتھ گائیں!

میں تیری خوش آمدیدی آواز کو سُنتا ہوں،
   جو مجھے خُداوندا تیری جانب بُلاتی ہے
کیونکہ تیرے قیمتی خون میں پاک صاف ہونے کے لیے
   جو کلوری پر بہا تھا۔
خُداوندا! میں آ رہا ہوں، میں ابھی تیرے پاس آ رہا ہوں!
   مجھے دُھو ڈال، مجھے خون میں پاک صاف کر ڈال
جو کلوری پر بہا تھا۔

حالانکہ میں کمزور اور لائق مذمت ہوں،
   تیری قوت مجھے یقین دلاتی ہے؛
تو ہی میرے گھٹیا پن کو مکمل طور پر پاک صاف کرتا ہے،
   جب تک کہ وہ بے داغ اور خالص نہ ہو جائے۔
خُداوندا! میں آ رہا ہوں، میں ابھی تیرے پاس آ رہا ہوں!
   مجھے دُھو ڈال، مجھے خون میں پاک صاف کر ڈال
جو کلوری پر بہا تھا۔

یہ یسوع ہے جو مجھے بُلاتا رہتا ہے
    مکمل ایمان اور پیار کے لیے،
مکمل اُمید، اور صلح اور بھروسے کے لیے،
   زمین اور اوپر آسمان کے لیے۔
خُداوندا! میں آ رہا ہوں، میں ابھی تیرے پاس آ رہا ہوں!
   مجھے دُھو ڈال، مجھے خون میں پاک صاف کر ڈال
جو کلوری پر بہا تھا۔
    (’’اے خُداوند میں آ رہا ہوں I Am Coming, Lord،
شاعر لوئیس ہارٹسو Lewis Hartsough ،‏ 1828۔1919)۔

اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کو ابھی یسوع کے پاس آنا چاہیے، تو میں چاہوں گا کہ آپ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan اور مجھ سے بات کریں۔ مہربانی سے ہمیں اُس چھوٹی سی داخلے کی جگہ پر ملیں جو رفاقتی ہال کی جانب رہنمائی کرتی ہے، جب ہم اکٹھے کھانا کھانے کے لیے اوپر جاتے ہیں۔ اور خُدا کرے کہ ہمارا آسمانی باپ اس واعظ کو، آپ کو یسوع کی طرف کھینچنے، آپ کے تمام گناہوں کو اُس کے قیمتی خون سے پاک صاف ہونے کے لیے استعمال کرے۔ آمین۔



(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے دُعّا ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: یوحنا38:6۔44 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’ہماری غیر نجات یافتہ حالت Our Unconverted State‘‘ (شاعر آئزک واٹز، ڈی۔ ڈی۔ Isaac Watts, D. D.،
1674 ۔ 1748؛ گایا گیا بطرز “O Set Ye Open Unto Me” بیل مونٹ Belmont)۔

لُبِ لُباب

انسانی نا اہلیت

HUMAN INABILITY

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا 44:6).

(I کرنتھیوں12:13)

I.   اوّل، انسان کی نااہلیت، یوحنا44:6؛ مرقس26:10۔27 .

II.  دوئم، خُدا باپ کا کھینچنا، I کرنتھیوں4:2؛
ہوسیع4:11؛ غزل الغزلات4:1؛ یرمیاہ3:31 .