Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


خواہ ہر آدمی جھوٹا نکلے، خُدا سچا ہی ٹھہرے گا

LET GOD BE TRUE, BUT EVERY MAN A LIAR
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونئیر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 19 مارچ، 2006
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, March 19, 2006

’’بعض بے وفا نکلے تو کیا ہُوا؟ کیا اُن کی بے وفائی خدا کی وفا داری کو باطل کر سکتی ہے؟ ہرگز نہیں، خواہ ہر آدمی جھوٹا نکلے، خدا سچا ہی ٹھہرے گا…‘‘ (رومیوں 3:3۔4).

آپ میں سے بے شمار نوجوان دُنیاوی کالجوں میں مختلف موضوعات کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ آپ یقینی طور پر جانتے ہیں کہ آپ کے پروفیسروں میں سے کوئی نہیں تو کم از کم چند ایک تو سچے مسیحی ہیں۔ آپ کو یہ بھی دیکھ لینا چاہیے کہ آپ کے ہم جماعتوں میں سے چند ایک خالص ایماندار ہیں۔ دِن بہ دِن آپ ایسے کالج یا ہائی سکول میں جاتے ہیں جو آپ کے مسیحی ایمان کو برداشت کرتا ہے – لیکن محض چند ایک ہی اِس کو مشکلوں سے برداشت کر پاتے ہیں۔ اگر جماعت کی بحث میں آپ نہایت شدت کے ساتھ مسیحیت کے نکات پر دباؤ دیتے ہیں، تو اُستاد شاید تھوڑا سا پسپا ہو جائے، اور کچھ اِس طرح کی بات کرے، ’’یہ آپ کے دیکھنے کا طریقہ ہے۔ یہ آپ کی سچائی ہے۔‘‘ یا وہ شاید کہیں، ’’یہ اِس کو دیکھنے کا ایک اور طریقہ ہے، لیکن ایک فلسفیاتی عقائد والے معاشرے میں، دوسرے نکتۂ نظر ہیں۔ اُن تمام کی اِقدار ہوتی ہیں۔ جو آپ کے لیے سچ ہے شاید وہ اُن کے لیے نہ ہو۔‘‘

اُس نکتہ نظر کا بڑا نام ہے، لیکن یہ نام سیکھنے کے قابل ہے۔ اِس کو ’’پوسٹ ماڈرن اِزم [18ویں صدی کے دوران عمومی فلسفیانہ نقطۂ نظر سے براہ راست انکار]‘‘ کہتے ہیں۔ وہ تصور یہ ہے – ’’ماڈرن یعنی دورِ حاضرہ‘‘ کے زمانے میں لوگوں کے تصورات اور اعتقادات غیرلچکدار ہیں۔ لیکن ہم دورِ حاضرہ کے زمانے میں مذید اور نہیں رہتے۔ ہم اُس سے پرے ہٹ چکے ہیں۔ ہم اب ’’پوسٹ ماڈرن دُنیا میں رہتے ہیں اور آج، اگر آپ ’’وقت کے ساتھ آگاہ‘‘ رہنا چاہتے ہیں، تو آپ کو متفق ہونا پڑتا ہے کہ سچائی کی جانب بے شمار راہیں ہیں، اور وہ تمام کی تمام یکساں مستند ہیں۔ لیکن ہماری تلاوت اُس جھوٹے تصور کی پولوس رسول کے انتہائی شدید لفظوں میں دھجیاں اُڑا دیتی ہے،

’’خواہ ہر آدمی جھوٹا نکلے، خدا سچا ہی ٹھہرے گا‘‘ (رومیوں 3:4).

بالکل جیسے پولوس رسول کے زمانے میں یہ تھا، آج بے شمار لوگ ایمان نہیں لاتے۔ کیا یہ بات خُدا کی حقیقت اور اُس کے ساتھ وفادار رہنے کی خصوصیت کو غلط ثابت کرتی ہے؟ بالکل بھی نہیں۔ آئیے رسول کی وجوہات پر نظر ڈالیں۔

I۔ پہلی بات، کیا ہو اگر کچھ لوگ یقین نہ کریں؟

ہمیشہ کچھ نہ کچھ ایسے لوگ رہے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے۔ درحقیقت، ساری تاریخ میں زیادہ تر لوگوں نے یقین ہی نہیں کیا۔ سیلاب کے زمانے میں صرف آٹھ لوگ ہی بچ پائے تھے۔ باقی دوسرے تمام بے اعتقادی میں مارے گئے۔ دو کے سوا باقی تمام لوگ جنہوں نے مصر سے باہر آنے میں موسیٰ کی پیروی کی تھی بے اعتقادی میں بیابان میں مر گئے تھے۔ صرف یوشع اور کالب وعدے کی سرزمین میں داخل ہوئے تھے۔ ایلیاہ کے زمانے میں صرف سات ہزار لوگوں نے، اسرائیل کی تمام قوم میں سے یقین کیا تھا اور جھوٹے خُدا بعال کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے تھے۔ جب پولوس رسول نے یہ بات رومیوں کی کتاب میں لکھی، تو اسرائیل کی قوم میں سے صرف ایک چھوٹی سے قوم نے یسوع میں یقین کیا تھا – صرف چند ایک ہزار یا تھوڑے زیادہ۔ دوسروں نے مسیح کو مسترد کیا۔ جہاں کہیں پولوس گیا اُنہوں نے اُس کو قتل کرنے کی کوشش کی۔

جب مسیح منادی کر رہا تھا ’’کچھ ایمان نہیں لائے۔‘‘ سب سے زیادہ فقہیوں اور فرسیوں نے اُس [یسوع] میں یقین نہیں کیا تھا۔ وہ کسی اور کے مقابلے میں بائبل کو بہتر طور پر جانتے تھے، اور اِس کے باوجود اُنہوں نے یقین نہیں کیا کہ وہ مسیحا تھا۔ اُنہوں نے اُس کو مسترد کیا تھا حالانکہ وہ لوگوں کی مذہبی رہنما تھے۔ اب کیا یہ اُس سے کوئی مختلف ہے؟ بے شمار لوگ گرجا گھر کے رُکن ہوتے ہیں لیکن نجات دینے والے مسیح کو نہیں جانتے۔ یہاں تک کہ مبلغین کے درمیان کچھ ایسے ہیں جو اپنی جانوں کے بارے میں نجات دینے کے لیے مسیح میں یقین نہیں لاتے۔ اِس کے باوجود اِس بات سے ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے۔ خود مسیح نے ہمیں بتایا یہ ایسا ہی ہوگا

۔

’’اُس دِن کئی مجھ سے کہیں گے، اَے خداوند، اَے خداوند، کیا ہم نے تیرے نام سے نبوت نہیں کی؟… اور اُس وقت میں اُن سے صاف صاف کہہ دُوں گا کہ میں تُم سے کبھی واقف نہ تھا۔ اَے بدکارو، میرے سامنے سے دُور ہو جاؤ‘‘ (متی 7:22۔23).

ہمیشہ سے کچھ ایسے لوگ رہے ہیں، یہاں تک کہ اُن کے درمیان بھی جو پیشن گوئی کرتے ہیں، جو نجات پائے ہونے میں یقین نہیں کرتے۔

حتٰی کہ اُن قوموں کے درمیان جن کے پاس ایک طویل مدت تک خوشخبری رہی ’’کچھ نے یقین نہیں [کیا]۔ میں نے آج کی مسیحیت Christianity Today (مارچ 2006) میں ایک آرٹیکل پڑھا جس میں لکھا تھا، ’’ریاست ہائے متحدہ کے علاوہ جنوبی کوریا کسی دوسرے مُلک کے مقابلے میں سب سے زیادہ مشنریوں کو بھیجتا ہے۔ اور زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا کہ وہ اوّل نمبر پر ہوگا۔‘‘ ریاست ہائے متحدہ اور کینیڈا دنوں کو ملا کر اُن کے پاس 112,000 مشنری ہیں۔ مگر جنوبی کوریا کے نسبتاً چھوٹے سے مُلک کے پاس 103,000 مشنری ہیں۔ پانچ سالوں کے اندر اندر جنوبی کوریا، ریاست ہائے متحدہ سے اُن مشنریوں کی تعداد میں جنہیں وہ باہر بھیجتے ہیں بڑھ جائے گا۔ جنوبی کوریا ہر سال 1,100 نئے مشنریوں کو باہر بھیجتا ہے (ibid.، صفحہ30)۔ ’’اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ تنہا کوریا ہی ہر سال اتنے نئے مشنریوں کو باہر بھیجتا ہے جتنے مشنریوں کو مغربی کے سارے مُلک مِل کر بھیجتے ہیں‘‘ (ibid.)۔ ’’کوریا اپنے مشنریوں کا 34 فیصد ناقابلِ رسائی لوگوں تک بھیجتا ہے؛ جبکہ بین الااقوامی اوسط 10 فیصد کے لگ بھگ ہے‘‘ (ibid.)۔ بے شمار کوریائی مشنری چین، منگولیا، سائبیریا، مختلف افریقائی قوموں اور دوسری دشوار گزار جگہوں پر ہیں۔

مسیحیت کا تیز رفتاری سے بڑھنے کا عمل صرف کوریا ہی میں رونما نہیں ہو رہا ہے۔ حال ہی میں دی لاس اینجلز ٹائمز Los Angeles Times نے ’’ویت نامی مذہبی حیاتِ نوVietnam’s Religious Revival‘‘ کے عنوان سے ایک آرٹیکل شائع کیا (6 مارچ، 2006، صفحہ B10)۔ ہم سب چین میں سینکڑوں ہزاروں لوگوں کے مسیحی ہونے کے بارے میں سن چکے ہیں۔ تیسری دُنیا واقعی میں مسیحیت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی رفتار کا تجربہ کر رہی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسیحیت کا اِنحصار صرف امریکہ پر ہی نہیں ہے۔ یہ امریکیوں کے بغیر بھی کافی بہتر ہو جائے گی۔

اِس کے باوجود، یہاں مغربی دُنیا میں، یہاں امریکہ میں، ’’کیا ہو اگر کچھ لوگ یقین نہیں کرتے؟‘‘ اگر یہاں پر اُن لوگوں کی تعداد جو غیرنجات یافتہ ہیں اِس قدر زیادہ نہیں ہوتی، تو ہم اب جیسے ہیں اُس سے کہیں بہتر حالت میں ہوتے – امریکہ میں، اور مغربی میں۔ آئیے ہم وہ تمام کچھ کر گزریں جو لوگوں کو مسیح کے پاس لانے کے لیے کر سکتے ہیں، جہاں ہم رہتے ہیں، لاس اینجلز میں۔ آ مسیح کی فرمانبرداری کر اور

’’راستوں اور کھیتوں کی باڑوں کی طرف نکل جا اور لوگوں کو مجبور کر کہ وہ آئیں تاکہ میرا گھر بھر جائے‘‘ (لوقا 14:23).

II۔ دوسری بات، اگر کچھ یقین نہیں کرتے، تو کیا یہ بات خدا کے وفادار بنانے کو ناکام بناتی ہے؟

’’بعض بے وفا نکلے تو کیا ہُوا؟ کیا اُن کی بے وفائی خدا کی وفاداری کو باطل کر سکتی ہے؟‘‘ (رومیوں 3:3).

کیا اُن لوگوں کی بے وفائی جن کو ہم جانتے ہیں خُدا کی وفاداری کو بےقدرا کر دیتی ہے؟ کیا اُن کے ایمان کی کمی ظاہر کرتی ہے کہ خُدا بے وفا اور بے بس ہے؟ کیا خُدا اسرائیل کے ساتھ اپنے وعدے کو برقرار رکھنے میں ناکام رہا کیونکہ اُن میں سے کچھ نے مسیح میں یقین کرنے سے انکار کر دیا تھا؟ اِس کا جواب ’’نہیں‘‘ ہے! ذرا اخبار پر نظر ڈالیں۔ خُدا اسرائیل کے ساتھ اپنے وعدے کو نبھاتا رہا ہے حالانکہ اُن میں سے زیادہ تر نے یسوع میں یقین نہیں کیا تھا! آپ کی خیال میں 1948 میں اسرائیل کے قوم کیوں بن گئی تھی؟ کیونکہ خُدا نے اِس کا وعدہ کیا تھا!

’’خداوند دُوسری مرتبہ اپنا ہاتھ بڑھائے گا اور اپنی اُمت میں سے بچے ہُوئے لوگوں کو واپس لے آئے گا‘‘ (اشعیا 11:11).

پہلی مرتبہ، خُدا اُنہیں بابل کے اسیری میں سے واپس لایا تھا۔ ’’دوسری مرتبہ‘‘ اب ہے۔ خُدا اپنے وعدے کو نبھا رہا ہے۔ وہ ’’دوسری مرتبہ‘‘ اُنہیں واپس لا رہا ہے – بالکل جیسے اُس نے کہا تھا وہ کرے گا! اور

’’اُس کے بعد بنی اِسرائیل لَوٹ آئیں گے‘‘ (ہوسیع 3:5).

’’بعض بے وفا نکلے تو کیا ہُوا؟ کیا اُن کی بے وفائی خدا کی وفا داری کو باطل کر سکتی ہے؟‘‘ (رومیوں 3:3).

کیا اسرائیل کی بے وفائی کی وجہ سے خُدا کے وعدے غیرمؤثر ہو جاتے ہیں؟ جی نہیں وہ نہیں ہوتے! اپنے وعدوں کو قائم رکھنے کے لیے خُدا کی وفاداری کا اِنحصار، انسان کیا یقین کرتا ہے یا نہیں کرتا اِس پر نہیں ہوتا۔ خُدا اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے چاہے انسان اُس پر یقین کرے یا نہ کرے!

ڈاکٹر جے۔ ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee نے کہا،

اُن کے بے وفائی کے باوجود [اسرائیل] قوم کے مستقبل کے لیے اُس [خُدا] کے تمام وعدے اُس کے جلال کے لیے پورے کیے جائیں گے (جے۔ ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن Thomas Nelson، 1983، جلد چہارم، صفحہ 661)۔

اور یہ یکساں طور پر سچ ہے کہ اِس دُنیا کے لیے خُدا کے تمام وعدے پورے کیے جائیں گے – چاہے سکول میں یا کام کی جگہ پر آپ کسی کو بھی جانتے ہوں جو اُس میں یقین کرتا ہو یا نہ کرتا ہو۔ خُدا کے وفاداری اُن کے اعتقاد پر منحصر نہیں کرتی۔ چاہے وہ اِس کا یقین کریں یا نہ کریں، یسوع مسیح دوبارہ آ رہا ہے!

’’کیونکہ جیسے بجلی مشرق سے چمک کر مغرب تک دکھائی دیتی ہے ویسے ہی ابنِ آدم کا آنا ہوگا‘‘ (متی 24:27)،

چاہے وہ یقین کریں یا نہ کریں!

’’کیونکہ خداوند خُود بڑی للکار اور مُقّرب فرشتہ کی آواز اور خدا کے نرسنگے کے پھونکے جانے کے ساتھ آسمان سے اُترے گا اور وہ سب جو مسیح میں مرچُکے ہیں، زندہ ہو جائیں گے‘‘ (1۔ تھسلنیکیوں 4:16)،

چاہے وہ یقین کریں یا نہ کریں! اور یسوع نے کہا،

’’اگر میں جا کر تمہارے لیے جگہ تیار کروں تو واپس آکر تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤں گا‘‘ (یوحنا 14:3)،

چاہے وہ یقین کریں یا نہ کریں! اور

’’یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اُٹھایا گیا ہے، اِسی طرح پھر آئے گا جس طرح تُم لوگوں نے اُسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے‘‘ (اعمال 1:11)،

چاہے وہ یقین کریں یا نہ کریں!

اور ہم اُسے دیکھیں گے! ہم اُسے دیکھیں گے!
آمنے سامنے، ہمارے خُداوند اور نجات دہندہ کو!
   (’’ہم اُسے دیکھیں گےWe Shall Behold Him‘‘ شاعر ڈوتی ریمبو Dottie Rambo، 1934 - )۔

چاہے وہ یقین کریں یا نہ کریں!

’’وہ میرے مُقدس پہاڑ پر کہیں بھی نہ تو کسی کو ضرر پہنچائیں گے اور نہ ہلاک کریں گے، کیونکہ زمین خداوند کے عرفان سے ایسی معمور ہوگی جیسے سمندر پانی سے بھرا ہے‘‘ (اشعیا 11:9)،

چاہے وہ یقین کریں یا نہ کریں!

’’کیونکہ تُو نے ذبح ہو کر اپنے خُون سے ہر قبیلہ، ہر زبان، ہر اُمّت اور ہر قوم سے لوگوں کو خدا کے واسطے خرید لیا۔ اور اُنہیں ہمارے خدا کے لیے ایک بادشاہی اور کاہن بنا دیا اور وہ زمین پر حکمرانی کریں گے‘‘ (مکاشفہ5:9۔10)،

چاہے وہ یقین کریں یا نہ کریں!

اور ہم اُسے دیکھیں گے! ہم اُسے دیکھیں گے!
آمنے سامنے، ہمارے خُداوند اور نجات دہندہ کو!

اگر کچھ لوگ یقین نہیں کرتے، تو کیا یہ بات خُدا کی وفاداری کو بے اثر بناتی ہے؟ کیا یہ ثابت کرتی ہے کہ خُدا کی وفاداری ایک ناکامی ہے؟ جی نہیں یہ نہیں کرتی! یہ صرف ثابت کرتی ہے کہ انسان ایک جھوٹا ہے!

III۔ تیسری بات، انسان کی بے وفائی ثابت کرتی ہے کہ خدا وفادار ہے اور انسان جھوٹا ہے۔

یہ ہے جو انسان کی بے اعتقادی ثابت کرتی ہے۔ یہ ثابت کرتی ہے کہ تمام لوگ جھوٹے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ مسیح میں یقین نہیں کرتے۔ وہ جھوٹے ہیں۔

’’بعض بے وفا نکلے تو کیا ہُوا؟ کیا اُن کی بے وفائی خدا کی وفاداری کو باطل کر سکتی ہے؟ ہر گز نہیں، خواہ ہر آدمی جھوٹا نکلے، خدا سچا ہی ٹھہرے گا…‘‘ (رومیوں 3:3۔4).

آئیے مجھے اِس کو یوں کہہ لینے دیجیے – خُداوند کا ریکارڈ کہتا ہے،

’’جو بیٹے پر ایمان لاتا ہے وہ ہمیشہ کی زندگی پاتا ہے‘‘ (یوحنا 3:36).

لیکن آپ اپنے دِل میں اِس پریقین نہیں رکھتے۔ آپ کا دِل کہتا ہے کہ خدا ایک جھوٹا ہے۔ یسوع کہتا ہے،

’’میرے پاس آؤ… اور میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی 11:28).

لیکن آپ اپنے دِل میں اِس پر یقین نہیں کرتے۔ آپ کا دِل کہتا ہے کہ خُدا ایک جھوٹا ہے۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ آپ ایک جھوٹے ہیں!

’’جس نے خدا پر یقین نہیں رکھا اُس نے خدا کو جھوٹا ٹھہرایا کیونکہ وہ اُس گواہی پر ایمان نہیں لایا جو خدا نے اپنے بیٹے کے حق میں دی ہے‘‘ (1۔ یوحنا 5:10).

آپ شاید سوچ سکتے ہیں کہ خُدا ایک جھوٹا ہے، لیکن اصل میں یہ تو آپ ہیں جو جھوٹے ہیں،

’’خواہ ہر آدمی جھوٹا نکلے خدا سچا ہی ٹھہرے گا‘‘ (رومیوں 3:4).

ہر ایک شخص؟ جی ہاں، ہر ایک شخص۔ یہ ہی ہے جس کی تعلیم پولوس رسول اِس باب میں دے رہا ہے۔ تمام انسان اپنا وعدہ توڑ چکے ہیں اور ضرورت پڑنے پر جھوٹ بول چکے ہیں۔ یہ ایک عالمگیری سچائی ہے۔ تمام لوگ جھوٹے ہیں کیونکہ تمام لوگ گنہگار ہیں۔ یہ ہی ہے جس کی تعلیم رسول اِس باب میں دے رہا ہے۔

’’کوئی راستباز نہیں، ایک بھی نہیں‘‘ (رومیوں 3:10).

’’اُن کی زبان سے دغابازی کی باتیں نکلتی ہیں‘‘ (رومیوں 3:13).

ہر انسان جھوٹ بولتا ہے کیونکہ ہر کوئی اپنی فطری حالت میں ایک جھوٹا ہے۔ گناہ میں پیدا ہوا، ہر انسان فطرتاً گنہگار ہوتا ہے۔ اپنے قدرتی طور پر اخلاقی زوال میں گِرے ہوئے دِل سے، انسان بائبل کے بارے میں جھوٹ بولتا ہے۔ وہ خُدا کی قدرت کے بارے میں جھوٹ بولتا ہے۔ وہ یہاں تک کہ خود سے بھی خود اپنے باطن کی حالت کے بارے میں جھوٹ بولتا ہے۔

آئیے مجھے آپ سے ایک سوال پوچھ لینے دیجیے۔ کیا آپ کے ذہن میں کبھی ایسے خیالات آئے جو آپ نہیں چاہیں گے کہ دوسرے کو اُن کے بارے میں پتا چلے؟ اِس کے بارے میں سوچیں۔ کیا وہ خیالات ظاہر نہیں کرتے کہ کہیں نہ کہیں آپ کے دِل میں گڑبڑ ہے؟ کیا وہ خیالات آپ کے دِل کی آلودگی کو آشکارہ نہیں کرتے؟ اور کیا یہ بات سچ نہیں ہے کہ آپ کوئی نہ کوئی بہانہ تراش کر جواب دیتے ہیں اگر آپ سے اُن خیالات کے بارے میں پوچھا جاتا ہے؟ آپ کسی نہ کسی قسم کا بہانہ پیش کرتے ہیں، یا کسی نہ کسی طرح بات گول کر جاتے ہیں، کیا آپ نہیں کرتے؟

اور یہیں یہ بات آپ میں ملتی ہے۔ آپ ایک جھوٹے ہیں، فطرتاً ایک گنہگار۔ اور بائبل کہتی ہے، خصوصی طور پر،

’’سب جھوٹوں کی جگہ آگ اور گندھک سے جلنے والی جھیل میں ہوگی‘‘ (مکاشفہ 21:8).

چونکہ آپ فطرتاً ایک جھوٹے ہوتے ہیں، یہی ہے جہاں آپ جا رہے ہیں۔

’’خواہ ہر آدمی جھوٹا نکلے خدا سچا ہی ٹھہرے گا‘‘ (رومیوں 3:4).

اور کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ آپ کو اپنے لیے یسوع کی ضرورت کے بارے میں خود سے جھوٹ بولنا چھوڑنا پڑے گا؟ ماسوائے یسوع کے کوئی بھی نہیں آپ جیسے گنہگار کو پاک صاف نہیں کر سکتا اور نجات نہیں دلا سکتا۔ صرف مسیح کے پاس آپ کے گناہوں کو معاف کرنے اور آپ کو اپنی راستبازی کا لبادہ پہنانے کی قوت اور اِختیار حاصل ہے۔ آپ کو اپنے گناہوں کا پاک صاف کرنے کے لیے مسیح کی خون کی ضرورت ہے۔ آپ کو جے اُٹھے مسیح کی خُدا کی شکل میں منسوب کی گئی راستبازی آپ کو پیش کرنے کی ضرورت ہے!

کیا خُدا اُن کے لیے خوشخبری کو بدل ڈالے گا جو اِس پر یقین نہیں کرتے؟

’’ہرگز نہیں: خواہ ہر آدمی جھوٹا نکلے خدا سچا ہی ٹھہرے گا…‘‘ (رومیوں3:4).

خُدا آپ کے بے اعتقادی کے مطابق خوشخبری کو تبدیل نہیں کرے گا۔ جی نہیں – یہ آپ ہیں (خُدا نہیں) جس کو اپنے ذہن کو تبدیل کرنا چاہیے۔ یہ ہے جو لفظ ’’توبہrepentance‘‘ کا مطلب ہوتا ہے۔ خُدا کی راہ سچی ہے۔ آپ کی راہ سچی نہیں ہے۔ اِس لیے یہ خُدا نہیں ہے جس کو اپنے ذہن کو بدلنا چاہیے۔ یہ آپ ہیں جس کو اپنا ذہن بدلنا چاہیے۔ اپنے ذہن کو تبدیل کریں اور خُدا کی راہ سے مسیح کے پاس آئیں۔

’’خواہ ہر آدمی جھوٹا نکلے خدا سچا ہی ٹھہرے گا‘‘ (رومیوں 3:4).


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک کی تلاوت ڈاکٹر کرھیٹن ایل۔ چعین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: رومیوں 3:3۔18 .
واعظ سے پہلے گیتوں کا مجموعہ مسٹر بینجیمن کنکیڈ گریفتھ Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا۔

لُبِ لُباب

خواہ ہر آدمی جھوٹا نکلے، خُدا سچا ہی ٹھہرے گا

LET GOD BE TRUE, BUT EVERY MAN A LIAR

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونئیر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’بعض بے وفا نکلے تو کیا ہُوا؟ کیا اُن کی بے وفائی خدا کی وفا داری کو باطل کر سکتی ہے؟ ہرگز نہیں، خواہ ہر آدمی جھوٹا نکلے، خدا سچا ہی ٹھہرے گا…‘‘ (رومیوں 3:3۔4).

I.    پہلی بات، کیا ہو اگر کچھ لوگ یقین نہ کریں؟ رومیوں 3:3الف؛ متی 7:22۔23؛
لوقا 14:23۔

II.  دوسری بات، اگر کچھ یقین نہیں کرتے، تو کیا یہ بات خدا کے وفادار بنانے کو ناکام بناتی
ہے؟ رومیوں 3:3ب؛ اشعیا 11:11؛ ہوسیع 3:5؛
متی 24:27؛ 1۔ تھسلنیکیوں 4:16؛ یوحنا 14:3؛ اعمال 1:11؛
اشعیا 11:9؛ مکاشفہ 5:9۔10۔

III. تیسری بات، انسان کی بے وفائی ثابت کرتی ہے کہ خدا وفادار ہے اور انسان جھوٹا ہے،
رومیوں 3:4؛ یوحنا 3:36؛ متی 11:28؛ 1۔ یوحنا 5:10؛
رومیوں 3:10، 13؛ مکاشفہ 21:8۔