Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


مسیح – دُنیا کا نور!

CHRIST – THE LIGHT OF THE WORLD!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 26 فروری، 2006
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, February 26, 2006

’’تب یسوع نے لوگوں سے پھر کلام کیا تو کہا، میں دنیا کا نُور ہُوں، جو کوئی میری پیروی کرتا ہے وہ کبھی اندھیرے میں نہ چلے گا بلکہ زندگی کا نُور پائے گا‘‘ (یوحنا 8:12).

مجھے حال ہی میں سی۔ ایس۔ لوئیسC. S. Lewis کا حوالہ دینے کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ اِس کے باوجود کہ بائبل نے شیطان کا کئی مرتبہ حوالہ دیا! ایتھنز میں مارس کی پہاڑی Mars Hill پر اپنے واعظ میں پولوس رسول نے کافر شعراء ایراٹُسAratus اور کلینتھسCleanthes کا حوالہ دیا، جب اُس نے کہا،

’’کیونکہ ہم اُسی میں جیتے، حرکت کرتے اور موجود ہیں جیسا کہ تمہارے بعض شاعروں نے بھی کہا ہے کہ ہم تو اُس کی نسل بھی ہیں‘‘ (اعمال17: 28).

یہاں تک کہ لوئیس سے سب سے زیادہ نفرت کرنے والے مبلغین کو بھی متفق ہونا چاہیے کہ وہ اِتنا بُرا نہیں تھا جتنا شیطان ہے، نا ہی اِتنا دھوکے باز جتنے کہ قدیم زمانے کے کافر تھے، جن کا حوالہ رسول نے دیا! یہ سچ ہے، وہ ایک بہت اعلیٰ گرجہ گھر کا اینجلیکن تھا اور علم الہٰیات کے کچھ غلط نظریات رکھتا تھا، لیکن وہ مشکل ہی سے لوسیفر یا ایک بے دین کافر تھا! اور اُس نے کچھ بہت اچھے نکات بنائے، وہ والے جن کے ساتھ ہم سب کو مانوس ہونا چاہیے۔

مجھے سپرجیئن جیسے پانچ نکاتی کیلوِنسٹ کا حوالہ دینے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی جب وہ مسیح کی بچانے والی قوت کی عزت کرتا ہے – حالانکہ میں پانچ نکاتی کیلوِنسٹ نہیں ہوں۔ مجھے اِس سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی جب میں جان ویزلی کا حوالہ دیتا ہوں، حالانکہ میں ویزلی کے کچھ آئیڈیوں پر برابری سے اختلاف کرتا ہوں، جیسا کہ کسی کے نجات کھو دینے کی ممکنہ بات۔ ویزلی ایک بہت بڑی تعداد میں نفرت کیا جانے والا مسیحی تھا، کہ جو کچھ اُس نے لکھا اُس میں مَیں بہت سی اچھائیاں پاتا ہوں، اور میں کوئی عُذر پیش نہیں کرتا کسی بھی ایسی بات میں اُس کا حوالہ دینے پر جہاں میں یقین کرتا ہوں کہ وہ کلام پاک کے حوالے سے دُرست تھا، جیسا کہ وہ اکثر تھا۔ ہو سکتا ہے میں نے شاید، چند ایک مواقع پر، پیلاگیانسٹ Pelagianist بدعتی فنی Finney کا حوالہ دیا، حالانکہ میں یقین کرتا ہوں کہ اُن کے ’’فیصلہ سازیت decisionism‘‘ کے عقائد ناقابلِ سماعتی طور پر جہنمی اور تباہ کُن ہیں۔ بھائیوں ہمیں کتاب [کلام پاک] کے ساتھ جُڑے رہنا چاہیے تاکہ ہم اِن لوگوں کو تلخ نظروں سے دیکھ پائیں، اور ’’معقول الفاظ کہیں ناکہ نکمے‘‘ (یرمیاہ15:19)، جیسا کہ پولوس نے کیا تھا جب اُس نے اُن کافر مصنفین کی مخصوص سچائیوں کا حوالہ دیا۔ اِس لیے مجھے سی۔ ایس۔ لوئیس کی ہمارے خُداوند یسوع مسیح کے بارے میں مشہور بیان کا حوالہ دینے کے بارے میں کوئی بےچینی نہیں، کیونکہ یہ نجات دہندہ کی سچائی کے بارے میں ہر طریقے سے بھری پڑی ہے۔ لوئیس نے کہا،

میں یہاں پر کسی کو بھی واقعی میں احمقانہ بات کہنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہوں جو لوگ اکثر اُس [مسیح] کے بارے میں کہتے ہیں: ’’میں یسوع کو ایک عظیم اخلاقی اُستاد کی حیثیت سے ماننے کے لیے تیار ہوں، لیکن میں اُس کے خُدا ہونے کے دعویٰ کو قبول نہیں کرتا ہوں۔‘‘ وہ ایک واحد بات ہے جو آپ کو نہیں کہنی چاہیے۔ ایک آدمی جو محض ایک آدمی تھا اور اُس قسم کی باتیں کیں جو یسوع نے کہیں ایک عظیم اخلاقی اُستاد نہیں ہو سکتا۔ وہ یا تو دیوانہ ہوگا – اُس آدمی کی سطح کا جو کہتا ہے وہ ایک اُبلا ہوا انڈہ ہے – ورنہ پھر وہ جہنم کا ایک شیطان ہو گا۔ آپ کو اپنی پسند چُننی ہو گی۔ یا تو یہ آدمی تھا، اور ہے، خُدا کا بیٹا: ورنہ پھر ایک پاگل آدمی یا کچھ بدتر۔ آپ اُس کو ایک احمق سمجھ کر بند کر سکتے ہیں، آپ اُس پر تھوک سکتے ہیں اور ایک بدروح کی حیثیت سے مار سکتے ہیں؛ یا آپ اُس کے قدموں پر گِر سکتے ہیں اور اُس کو خُداوند اور خُدا کہہ سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں اُس کے ایک عظیم انسانی اُستاد ہونے کے بارے میں کسی بے معنی حقارت آمیز بات کو نہیں کرنا چاہیے۔ اُس نے ہمیں یہ کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ اُس کا یہ اِرادہ تھا بھی نہیں (سی۔ ایس۔ لوئیس، پی ایچ۔ ڈی۔ C. S. Lewis, Ph.D.، محض مسیحیتMere Christianity، ہارپر کولینزHarper Collins، 2001، صفحہ52)۔

میں سی۔ ایس۔ لوئیس کی کہی ہوئی وہ بات کہتا ہوں، حالانکہ وہ واضح طور پر دوسری باتوں میں غلط تھے، وہ مسیح کون ہے کے بارے میں ایک مکمل تاثر پیدا کرنے کے اتنے ہی قریب ہیں جتنا کہ آپ انگریزی زباندانی میں پائیں گے۔ میں اُس بیان میں بالکل بھی کوئی نقص نہیں پاتا ہوں۔ اور ایک شخص جو مسیح یسوع پر اِس قدر وثوق کے ساتھ بات کرتا ہے اِس معاملے میں سُنے جانے کا مستحق ہے، اِس زمانے میں جب اُس کے لٹریچر پر اِس قدر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے، اُس کے نظریات دوسرے معاملات میں چاہے کچھ بھی رہے ہوں۔

کیا مسیح ایک پاگل آدمی یا ایک شیطان تھا جب اُس نے کہا،

’’میں دُنیا کا نور ہوں: جو کوئی میری پیروی کرتا ہے وہ کبھی اندھیرے میں نہ چلے گا بلکہ زندگی کا نور پائے گا‘‘؟

یا کیا مسیح ہمیں اپنے بارے میں خالص سچائی بتاتا ہے؟ اگر اُس نے ہمیں سچ بتایا تھا،تو کرنے کے لیے واحد منطقی بات ہے ’’اُس کے قدموں میں گِر جانا اور اُس کو خُداوند اور خُدا کہنا۔‘‘ لیکن ایک بات جو ہمیں کبھی بھی نہیں کرنی چاہیے وہ اُس کا عظیم اخلاقی اُستاد نہیں کہنا چاہیے۔ ’’اُس نے یہ کرنے کی ہمیں اِجازت نہیں دی ہے۔ اُس کا یہ اِرادہ تھا بھی نہیں۔‘‘

یسوع کے الفاظ کی ایماندارانہ بے باکی کے بارے میں سوچیں،

’’تب یسوع نے لوگوں سے پھر کلام کیا تو کہا، میں دنیا کا نُور ہُوں‘‘ (یوحنا8:12).

جب ہم اِس آیت پر غور کرتے ہیں تو دو اہم خیالات ذہن میں آتے ہیں۔

I۔ پہلی بات، تلاوت ظاہر کرتی ہے وہ کون ہے۔

اُس نے کہا،

’’میں دنیا کا نُور ہُوں…‘‘ (یوحنا 8:12).

کوئی بھی جو بائبل کے ساتھ مانوس ہے فورا! کوہ سینا کے پہلو میں جلتی ہوئی جھاڑی پر موسیٰ کو یاد کرے گا۔

’’مُوسٰی نے خدا سے کہا کہ اگر میں بنی اِسرائیل کے پاس جا کر اُنہیں کہوں کہ تمہارے باپ دادا کے خدا نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے اور وہ مجھ سے پُوچھیں کہ اُس کا نام کیا ہے تو میں اُنہیں کیا بتاؤں؟ خدا نے مُوسٰی سے کہا کہ میں جو ہُوں سو میں ہُوں۔ سو تُو بنی اِسرائیل سے یوں کہنا کہ میں جو ہوں نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے‘‘ (خروج 3:13۔14).

ڈاکٹر گِل نے کہا کہ میں ہوں خُدا کا نام ہے۔ ’’یہ خُدا کے حقیقی ہونے کو، اُس کی خود کی وجودیت کو نمایاں کرتا ہے… جیسا کہ یہ اُس کی دائمیت اور [کبھی نہ تبدیل ہونے] کا اِظہار کرتا ہے… کیونکہ اِس میں تمام زمانے آ جاتے ہیں، ماضی، حال، اور آنے والا؛ اور ایسا ہی ہے، ناصرف میں ہوں جو ہوں حال میں، بلکہ میں ہوں جو میں رہا ہوں، اور میں ہوں جو میں رہوں گا، اور رہوں گا بھی جو میں ہوں… یہ ہے وہ نام… یہوواہJehovah ، جس کا استعمال موسیٰ کرتا ہے‘‘ (جان گِل، ڈی۔ڈی۔ John Gill, D.D.، پرانے عہدنامے کی ایک تفسیر An Exposition of the Old Testament، دی بپٹسٹ سٹینڈرڈ بیئرر The Baptist Standard Bearer، دوبارہ اشاعت1989، جلد اوّل، صفحہ 329)۔

اُس نام میں ہوں کا اِسی لیے ترجمہ یہاوےYahweh کیا گیا، یا جیسا کہ کنگ جیمس بائبل میں یہوواہJehovah ہے۔ پرانے عہد نامے کے صحائف میں یہ خُدا کا اہم نام ہے۔ یہوواہ Jehovah – میں ہوں – خود کے بارے میں وہ نام ہے جو خُدا نے کوہ سینا کے بیابان میں جلتی ہوئی جھاڑی میں موسیٰ پر منکشف کیا تھا۔

جب یسوع نے کہا، ’’میں ہوں دُنیا کا نور،‘‘ وہ اُس حقیقت کا اِظہار کر رہا تھا کہ وہ ہے وہ عظیم میں ہوں، پرانے عہد نامے کے صحائف کا وہ یہوواہ Jehovah۔ میں ہوں [یہوواہ] دُنیا کا نور۔‘‘ یہ مسیح کا انتہائی زورآور لفظ ہے، جو ہمیں بتا رہا ہے کہ وہ ہی خُدا ہے، پاک تثلیث کی دوسری ہستی۔ یہ اُس کی مکمل الوہیت کا ایک واضح اور صاف اِعلان ہے، جیسے خُدا انسانی جسم کے پردے میں تھا۔ ’’میں ہوں [یہوواہ Jehovah]، دُنیا کا نور۔‘‘

بے اعتقادے یہودیوں نے کہا، ’’تو آپ اپنے ہی حق میں گواہی دیتا ہے؛ تیری گواہی جھوٹی ہے‘‘ (یوحنا8:13)۔ یسوع نے وہ کون تھا اُنہیں یہ کہتے ہوئے دفاع کیا، ’’تم مجھے ہی جانتے ہو نہ میرے باپ کو: اگر تم نے مجھے جانا ہوتا تو میرے باپ کو بھی جانتے‘‘ (یوحنا8:19)۔ وہ تھا، اور ہے، اور ہمیشہ رہے گا، ’’میں ہوں – یہوواہJehovah – دُنیا کا نور‘‘ (یوحنا8:12)۔ یسوع انسانی جسم میں خُدا ہے! جیسا کہ چارلس ویزلی نے اِس کو لکھا، اپنے مشہور کرسمس کے حمدوثنا کے گیت میں،

زمانے میں بعد میں اُسے آتا ہوا دیکھو، کنواری کے رحم کی وہ تجسیم ہے: انسانی جسم کے پردے میں وہ قادرِ مطلق دیکھتا ہے، اُس متجسم خُدائی کی ستائش ہو، لوگوں میں رہنے کے لیے انسان بن کر خوش ہوا، یسوع، ہمارا عمانوایل۔ توجہ سے سُنیں، قاصد فرشتے گاتے ہیں، نئے پیدا ہوئے بادشاہ کو جلال ہو۔ (’’ توجہ سے سُنیں، قاصد فرشتے گاتے ہیں Hark, the Herald Angels Sing‘‘ شاعر چارلس ویزلی Charles Wesley، 1707۔1788)۔

’’میں ہوں دُنیا کا نور۔‘‘ ’’انسانی جسم کے پردے میں وہ [یہوواہJehovah] دیکھتا ہے؛ اُس متجسم خُدائی کی ستائش ہو، لوگوں میں رہنے کے لیے انسان بن کرخوش ہوا، یسوع ہمارا عمانوایل۔ [خُدا ہمارے ساتھ ہو۔ یہوواہ ہمارے ساتھ ہو!]۔ آمین!

II۔ دوسری بات، تلاوت ظاہر کرتی ہے وہ کیا کرتا ہے۔

مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور اِس کو دوبارہ پڑھیں، یوحنا8:12 .

’’تب یسوع نے لوگوں سے پھر کلام کیا تو کہا، میں دنیا کا نُور ہُوں، جو کوئی میری پیروی کرتا ہے وہ کبھی اندھیرے میں نہ چلے گا بلکہ زندگی کا نُور پائے گا‘‘ (یوحنا 8:12).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ پرانا عہد نامہ مسیحا کے بارے میں استعاراتی طور پر سورج کی روشنی کے طور پر بات کرتا ہے۔ خُدا نے مُلاکی نبی کے ذریعے سے کہا،

’’لیکن تُم جو میرے نام کی تعظیم کرتے ہو، تمہارے لیے آفتابِ صداقت نکلے گا‘‘ (ملاکی 4:2).

ڈاکٹر گِل Dr. Gill نے کہا، ’’خود یہودی کہتے ہیں، کہ مسیحا کے ناموں میں سے ایک نور ہے؛ اور اُن کے ذریعے سے خود خُدا کہلایا جاتا ہے، دُنیا کا نور‘‘ (جان گِل، ڈی۔ ڈی۔ John Gill, D.D.، نئے عہد نامے کی ایک تفسیرAn Exposition of the New Testament، دی بپٹسٹ سٹینڈرڈ بیئرر The Baptist Standard Bearer، دوبارہ اشاعت 1989، جلد اوّل، صفحہ542)۔ یسوع نے کہا،

’’جس نے مجھے دیکھا ہے اُس نے باپ کو دیکھا ہے‘‘ (یوحنا 14:9).

بائبل کہتی ہے کہ مسیح ہے

’’… جلال کا عکس اور اُس کے جوہر کا عین نقش ہے‘‘ (عبرانیوں 1:3).

مسیح میں خُدا کا جلال اور نور دیکھا جاتا ہے، جس نے کہا،

’’میں دنیا کا نُور ہُوں‘‘ (یوحنا 8:12).

’’دُنیا کا نور۔‘‘ اِس کا مطلب ہوتا ہے ’’کہ وہ نور دُنیا میں آیا ہے‘‘ (یوحنا3:19) مسیح کے وسیلہ سے۔ اِس کا یہ مطلب نہیں ہوتا ہے کہ تمام کی تمام دُنیا نجات پا لے گی، لیکن مسیح میں تمام خُدا کے نور کا سامنا کرتے ہیں۔

مسیح کا نور نسل انسانی کو تقسیم کرتا ہے۔ بائبل کہتی ہے،

’’جو کوئی بُرے کام کرتا ہے وہ نُور سے نفرت کرتا ہے‘‘ (یوحنا 3:20).

’’لیکن جس کی زندگی نیکی کے لیے وقف ہے وہ نُور کے پاس آتا ہے‘‘ (یوحنا 3: 21).

اور آج کی صبح آپ سے یہ میرا سوال ہے – کیا آپ مسیح میں نور کے لیے آئیں گے، یا کیا آپ نور سے نفرت کریں گے، اور مسیح سے منہ موڑ لیں گے؟ اگر آپ مسیح کے پاس آتے ہیں تو آپ خُدا کے نور کو پا لیں گے۔ اگر آپ جیسے ہیں ایسے ہی رہنا جاری رکھیں گے تو آپ ’’بیابان میں چلیں‘‘ گے، اور تاریکی میں زندگی بسر کریں گے، اور تاریکی ہی میں مر جائیں گے، اور دائمیت تاریکی ہی میں گزاریں گے،

’’جن کے لیے تاریکی کا مقام دائمی طور پر مُقرر کر دیا گیا ہے‘‘ (یہوداہ 13).

’’تب یسوع نے لوگوں سے پھر کلام کیا تو کہا، میں دنیا کا نُور ہُوں…‘‘ (یوحنا 8:12).

اُس نے ’’دوبارہ لوگوں سے‘‘ کلام کیا۔ وہ اُن سے پہلے کلام کر چکا تھا۔ وہ اُنہیں کہہ چکا تھا،

’’اگر کوئی پیاسا ہے تو میرے پاس آئے اور پیئے‘‘ (یوحنا 7:37).

اُس نے خود کا موازنہ پانی کے ساتھ کیا تھا، اور اُنہیں اُس میں سے پینے کے لیے بُلایا تھا۔ آپ اِس موضوع پر تبلیغ کرتے ہوئے مجھے گذشتہ اِتوار کو سُن چکے ہیں۔ میں نے کہا تھا، ’’مسیح کے پاس آئیں اور وہ آپ کی پیاس بُجھائے گا اور آپ کی جان کو سکون دے گا۔‘‘ اب وہ آپ سے دوبارہ بات کرتا ہے، جیسے اُس نے اُن لوگوں سے دوبارہ بات کی تھی۔ اِس مرتبہ وہ اپنا موازنہ نور کے ساتھ کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے،

’’میں دنیا کا نُور ہُوں، جو کوئی میری پیروی کرتا ہے وہ کبھی اندھیرے میں نہ چلے گا بلکہ زندگی کا نُور پائے گا‘‘ (یوحنا 8:12).

آپ کا مسیح پر ایمان لا چکنے سے پہلے اُس کی پیروی کرنے کی کوشش کرنا ایک غلطی ہے۔ یہوداہ نے سب کو اُس کی پیروی کرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا – لیکن یہوداہ نے یسوع پر یقین نہیں کیا تھا۔ اپنے دِل کے اندرونی خلاؤں میں، یہوداہ پسپا ہو گیا تھا۔ بیرونی طور پر وہ مسیح کی پیروی کرتا ہوا لگتا ہے، لیکن اندرونی طور سے اُس نے یسوع پر یقین نہیں کیا تھا۔ یہوداہ نے مسیح کو دھوکہ دیا اور ایک گمراہ انسان کی موت مرا – اور ایسا ہی آپ کریں گے اگر آپ مسیح کی پیروی ایمان کے وسیلے سے پہلے اُس کے پاس آئے بغیر کریں گے، اُس میں یقین کرنا مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کا ایک فوری لمحہ ہوتا ہے۔ یوحنا12:46 کو کھولیں، اور کھڑے ہو جائیں جب ہم مسیح کے الفاظ کو باآوازِ بُلند پڑھیں۔

’’میں دُنیا میں نُور بن کر آیا ہُوں تاکہ جو مجھ پر ایمان لائے وہ تاریکی میں نہ ]رہے[‘‘ (یوحنا 12:46).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

پہلے، آپ کو مسیح میں یقین کرنا چاہیے اور مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو جانا چاہیے۔ تب

’’…جو کوئی میری پیروی کرتا ہے وہ کبھی اندھیرے میں نہ چلے گا بلکہ زندگی کا نُور پائے گا‘‘ (یوحنا 8:12).

آج یہاں بے شمار غمزدہ لوگ ہیں جو مسیح میں پہلے یقین لائے بغیر، اُس کے پاس آئے بغیر، اُس کے وسیلہ سے نجات پائے بغیر اُس کی پیروی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جان ویزلی John Wesley نے، جن کے بارے میں ہم آج کی رات سُنیں گے، مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے بغیر مسیح کی پیروی کرنے کی کوشش کی تھی۔ ویزلی ہی کی طرح، آپ کو واپس شروع کی طرف جانا چاہیے۔ اپنے انسانی کاموں اور کوششوں کو اُٹھا کر باہر پھینک دو۔ اقرار کریں کہ آپ گمراہ ہیں۔ پھر مسیح کے پاس آئیں، اُس پر بھروسہ کریں، اور اُس کے خون کے وسیلہ سے دُھل کر پاک صاف ہو جائیں، اُس کی راستبازی کے لبادے میں آ جائیں، اور تب اُس مسیح کی پیروی کرنا شروع کریں!

ساری دُنیا گناہ کی تاریکی میں کھو چکی تھی؛
دُنیا کا نور یسوع ہے؛
دوپہر میں سورج کی چمک کی مانند اُس کا جلال چمکتا ہے،
دُنیا کا نور یسوع ہے۔
نور کے پاس آئیں، یہ آپ کے لیے چمک رہا ہے؛
محبت بھرے انداز میں مجھ پر نور برس چکا ہے؛
میں کبھی اندھا تھا، لیکن اب میں دیکھ سکتا ہوں؛
دُنیا کا نور یسوع ہے۔
   (’’دُنیا کا نور یسوع ہے The Light of the World is Jesus‘‘ شاعر فلپ پی۔ بلِس
      Philip P. Bliss، 1838۔1876)۔

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا چاہیں گے۔ جب آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو آپ اُنہیں ضرور بتائیں کہ آپ کس مُلک سے لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای میل کو جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل لکھیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں اُس کا نام شامل کریں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے دُعّا ڈاکٹر کرھیٹن ایل چعینDr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: یوحنا8:12۔20۔
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’دُنیا کا نور یسوع ہے The Light of the World is Jesus‘‘
(شاعر فلپ پی۔ بلِس Philip P. Bliss، 1838۔1876)۔

لُبِ لُباب

مسیح – دُنیا کا نور!

CHRIST – THE LIGHT OF THE WORLD!

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’تب یسوع نے لوگوں سے پھر کلام کیا تو کہا، میں دنیا کا نُور ہُوں، جو کوئی میری پیروی کرتا ہے وہ کبھی اندھیرے میں نہ چلے گا بلکہ زندگی کا نُور پائے گا‘‘ (یوحنا 8:12).

(اعمال 17:28؛ یرمیاہ 15:19)

I.    تلاوت ظاہر کرتی ہے وہ کون ہے، یوحنا 8:12اے؛ خروج 3:13۔14؛ یوحنا 8:13،19۔

II.   تلاوت ظاہر کرتی ہے وہ کیا کرتا ہے، یوحنا 8:12ب؛ ملاکی 4:2؛
یوحنا 14:9؛ عبرانیوں 1:3؛ یوحنا 3:19، 20، 21؛ یہوداہ 13؛
یوحنا 7:37؛ 12:46۔