Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


مسیح کا بُلاوا

CHRIST’S INVITATION
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

خداوند کے دن کی صبح تبلیغ کیا گیا ایک واعظ ، 22 جنوری، 2006
لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں
A sermon preached on Lord’s Day Morning, January 22, 2006
at the Baptist Tabernacle of Los Angeles

’’اَے محنت کشو اور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگو! میرے پاس آؤ۔ میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی 11:‏28).

اِس آیت سے بے شمار واعظوں کی منادی کی جا چکی ہے۔ لیکن ہم اِس کو اکثر کبھی بھی نہیں سُن پاتے۔ وہ درد سے بھرپور سزایابی جس کی مسیح بات کرتا ہے بے شمار دِلوں میں محسوس کی جاتی ہے۔ مسیح اُن کو جو پریشان ہیں آرام کے لیے اپنے پاس بُلاتا ہے۔ وہ اُن تمام کو جو اُس کے پاس آتے ہیں قبول کرتا ہے۔

’’اَے محنت کشو اور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگو! میرے پاس آؤ۔ میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی 11:‏28).

میں چاہتا ہوں کہ آپ چار سوالات کے بارے میں سوچیں جن کا اِس آیت میں جواب دیا گیا ہے۔

I۔ پہلا سوال، وہ کون ہے؟

مسیح کہتا ہے، ’’میرے پاس آؤ۔‘‘ لیکن وہ ہے کون؟ آج کی صبح یہاں پر ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے گرجہ گھر کے لیے بالکل نئے ہیں، پھر بھی، اُنہوں نے اِس قدر کم منادی سُنی ہے کہ وہ ابھی تک اتنے آگاہ نہیں ہیں کہ وہ [یسوع] کون ہے جس نے کہا،

’’اَے محنت کشو اور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگو! میرے پاس آؤ۔ میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی 11:‏28).

یہ شخص کون ہے جو آپ کو اپنے پاس آنے کے لیے کہتا ہے؟ آئیے یہ کہنے سے شروع کرتے ہیں جو وہ نہیں ہے۔ مسیح بہت بڑا اخلاقی اُستاد نہیں ہے۔ وہ بہت بڑا فلسفی نہیں ہے۔ سی۔ ایس۔ لوئیس C. S. Lewis نے کہا،

وہ ایک بات ہے جو آپ کو نہیں کرنی چاہیے۔ ایک شخص جو محض ایک آدمی تھا اور اُس قسم کی باتیں کہیں جو یسوع نے کی تھیں ایک بہت بڑا اخلاقی اُستاد نہیں ہوگا۔ وہ یا تو ایک دیوانہ ہوگا – اُس سطح کے ایک آدمی کے ساتھ جو کہتا ہے کہ وہ ایک اُبلا ہوا انڈہ ہے – یا پھر وہ جہنم کا ایک شیطان ہو گا۔ آپ کو اپنی پسند چُننی ہو گی۔ یا تو یہ آدمی تھا، اور ہے، خُدا کا بیٹا: ورنہ پھر ایک پاگل آدمی یا کچھ بدتر۔ آپ اُس کو ایک احمق سمجھ کر بند کر سکتے ہیں، آپ اُس پر تھوک سکتے ہیں اور ایک بدروح کی حیثیت سے مار سکتے ہیں؛ یا آپ اُس کے قدموں پر گِر سکتے ہیں اور اُس کو خُداوند اور خُدا کہہ سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں اُس کے ایک عظیم انسانی اُستاد ہونے کے بارے میں کسی بے معنی حقارت آمیز بات کو نہیں کرنا چاہیے۔ اُس نے ہمیں یہ کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ اُس کا یہ اِرادہ تھا بھی نہیں (سی۔ ایس۔ لوئیس، پی ایچ۔ ڈی۔ C. S. Lewis, Ph.D.، محض مسیحیتMere Christianity، ہارپر کولینزHarper Collins، 2001، صفحہ52)۔

مسیح تھا، اور ہے، انسانی جسم میں خُدا۔ یہی ہے جو بائبل واضح طور پر ایک سرے سے لیکر دوسرے تک تعلیم دیتی ہے۔ سی۔ ایس۔ لوئیس نے کہا،

اب یہ مجھے صاف دکھائی دیتا ہے کہ وہ نا ہی تو دیوانہ تھا نا ہی ایک آسیب تھا؛ اور نتیجتاً، چاہے یہ کتنا ہی عجیب اور ہیبتناک یا شاید جس کا اِمکان نہ ہو، مجھے اِس نظریے کو ماننا پڑے گا کہ وہ تھا اور ہے خُدا۔ اور اب… وہ کرنے کیا آیا تھا؟… جتنی جلدی آپ نئے عہد نامے میں دیکھیں… آپ پائیں گے کہ وہ مسلسل اِس بارے میں باتیں کر رہے ہیں… اُس کی موت اور اُس کا دوبارہ واپس زندہ ہونا۔ یہ واضح ہے کہ مسیحی سوچتے ہیں کہ کہانی کا مرکزی نکتہ اِسی میں پنہاں ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ وہ اہم بات جو وہ زمین پر کرنے کے لیے آیا تھا اذیت برداشت کرنا اور قربان کیے جانا (ibid.، صفحہ53)۔

دوبارہ سی۔ ایس۔ لوئیس نے کہا،

ہمیں بتایا جاتا ہے کہ مسیح ہمارے لیے قربان ہوا، کہ اُس کی موت ہمارے گناہوں کو دھو ڈالتی [ہے]، اور کہ اُس کے مرنے کی وجہ سے اُس [یسوع] نے خود موت کو معذور کر دیا… یہ ہے مسیحیت۔ یہ ہے جس پر یقین کیا جانا چاہیے (ibid.، صفحہ 55)۔

مسیح ہی خُدا کا اِکلوتا بیٹا ہے۔ وہ خُدا بیٹا ہے، تثلیث کی دوسری ہستی۔ اگرچہ یہ ناقابلِ یقین دکھائی دیتا ہے، بائبل کہتی ہے کہ وہ آسمان سے نیچے اذیت سہنے، خون بہانے اور تصلیب برداشت کرنے، صلیب پر کیلوں سے جڑے جانے کے لیے آیا۔ اور وہ اُس ہولناک اذیت سے آپ کی خطاؤں کی ادائیگی کے لیے گزرا۔ صلیب پر، اُس نے آپ کے گناہ کی مکمل ادائیگی کی۔ جب آپ اُس کے پاس ایمان کے وسیلہ سے آتے ہیں تو آپ مکمل معافی پاتے ہیں، کاتھولک جملے کو استعمال کرنے کے لیے، لیکن اِس کو بائبلی معنی دینے کے لیے۔ یہ ایک کاہن یا ایک مبلغ نہیں ہوتا ہے جو آپ کی معافی کا اعلان کرتا ہے۔ یہ خُدا بیٹا یسوع مسیح ہے جو ایسا کرتا ہے۔ اگر آپ اُس کے پاس آتے ہیں تو صلیب پر مسیح کی موت آپ کو ہمیشہ کے لیے گناہ کی سزا سے آزاد کر دیتی ہے، کیونکہ

’’چنانچہ جو مسیح یسوع میں ہیں اب اُن پر سزا کا حکم نہیں …‘‘ (رومیوں8:1).

یسوع، خُدا بیٹا، آپ کو سزا دینے کے لیے نہیں آیا تھا۔ وہ آپ کو گناہ سے نجات دلانے کے لیے آیا تھا۔ وہ صلیب پر آپ کے گناہ کی قیمت چکانے کے لیے قربان ہوا تھا۔ وہ آپ کو گناہ اور جرم سے سدا آزاد، ہمیشہ کی زندگی دینے کے لیے مُردوں میں سے جسمانی طور پر جی اُٹھا! یہی ہے یہ ہستی جس نے کہا،

’’اَے محنت کشو اور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگو! میرے پاس آؤ۔ میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی 11:‏28).

II۔ دوسرا سوال، وہ کس کو بُلاتا ہے؟

کیوں، وہ بُلاتا ہے،

’’ اَے محنت کشو اور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگو، میرے پاس آؤ.‘‘

وہ جو محنت کش ہیں، اور محسوس کرتے ہیں کہ وہ خُدا کی شریعت میں اُس کے تقاضوں کو مطمئن کرنے کے لیے کبھی بھی اِتنا کچھ نہیں کر سکتے۔ وہ جو اپنے دِلوں سے کہتے ہیں، ’’میں کبھی بھی اِتنا اچھا نہیں ہو سکتا!‘‘ یہ وہی انتہائی لوگ ہیں جنہیں یسوع بُلاتا ہے اور جس سے وہ آرام کا وعدہ کرتا ہے – اگر وہ صرف اُس کے پاس آئیں۔ وہ وہی ہیں جنہیں یسوع اپنے پاس بُلاتا ہے تاکہ وہ اُنہیں آرام دے سکے۔

آپ میں سے کچھ لوگ ایک کے بعد دوسری رات اِن اِجلاسوں میں آتے رہے ہیں، لیکن آپ کو اپنی جان میں کوئی سکون نہیں ملتا ہے۔ آپ کہتے ہیں، ’’مجھے کافی سزایابی نہیں ہوئی۔‘‘ لیکن میں پُریقین نہیں ہوں کہ آیا آپ دُرست ہیں۔ اتنی سزایابی ہی کی ضرورت ہوتی ہے کہ محسوس کیا جائے کہ آپ محنت کر رہے ہیں اور بوجھ سے دبے ہوئے ہیں۔ اگر آپ کچھ حد تک محنت کشی نہیں کر رہے تھے، تو پھر آپ ایک کے بعد دوسری رات کو دو یا زیادہ گھنٹوں کے لیے یہاں کیوں آتے رہے؟ اگر آپ پہلے ہی سے بوجھ تلے دبے ہوئے نہیں ہیں، تو پھر کیوں آپ کو اِس قدر ڈر ہے؟ آپ کیوں اِس قدر زیادہ اپنے گناہوں کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ کیوں آپ کا انتہائی چہرہ اِس قدر پریشان اور بےتاب لگتا ہے؟ آپ کیوں پریشان ہیں کہ آپ شاید جہنم میں جائیں گے؟ آپ کیوں اپنی تباہ حال اندرونی فطرت، آپ کی پیدائشی عداوت اور غلیظ سوچوں کے بارے میں فکرمند ہیں؟ کیوں یہ تمام باتیں آپ کو پریشان کرتی ہیں اور آپ کو ذہنی دباؤ اور بے بسی میں مبتلا کر دیتی ہیں جب اِجلاس ختم ہوتے ہیں – اگر آپ محنت کشی میں اور بوجھ تلے دبے ہوئے نہیں ہیں؟ محنت کرتے ہیں اُن کتابچوں اور واعظوں کو پڑھنے کے ذریعے سے جو میں آپ کو دے چکا ہوں۔ جہنم پر، آپ کی روح کے اخلاقی زوال اور آپ کے گناہ کے اعمال پر دو دو گھنٹے واعظ سُننے کی محنت کی وجہ سے۔ آپ پہلے ہی بہت بڑی محنت سے گزر چکے ہیں اور آپ پہلے ہی سے اُن گناہوں کے بے شمار زیادہ احساسات کے ساتھ جو آپ سے سرزد ہو چکے ہیں دبے ہوئے ہیں۔ اِس سب کچھ کے ساتھ، میں کہتا ہوں، آپ کو اُس ایک کی حیثیت سے معیار پر پورا اُترنے کے لیے کافی ہونا چاہیے جس کو یسوع یہ کہتے ہیں بُلاتا ہے،

’’اَے محنت کشو اور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگو، میرے پاس آؤ …‘‘ (متی 11:‏28).

آپ کافی محنت کر چکے ہیں۔ آپ گناہ کے بھاری بوجھ تلے اِس سے انتہائی دیر تک دبے ہوئے رہ چکے ہیں۔ یا میں غلطی پر ہوں – اور آپ کو دوبارہ ایک کے بعد دوسری رات اِس حالت میں گھسیٹتے رہنے کی ضرورت ہے؟ آپ اور زیادہ پسینہ بہانے اور اپنی جان کے لیے پریشان رہنے کے لیے کیا اُمید کرتے ہیں؟ کیا آپ اور زیادہ محنت کرنے کے ذریعے سے اپنی نجات کمانے کے لیے اُمید کرتے ہیں؟ کیا آپ جرم کے ساتھ مذید اور زیادہ بھاری بوجھ تلے دبنے کے ذریعے سے اپنی نجات کو پانے کی اُمید کرتے ہیں؟ میں کہتا ہوں کہ خود شیطان نے آپ کو چکمہ دیا ہے اگر آپ اُس افسردہ، مایوس کُن خیال کا سوچتے ہیں! میں کہتا ہوں کہ آپ پہلے ہی سے کافی ذہنی اذیت کا تجربہ کر چکے ہیں – اور صرف ایک بات کی آپ کوسکون اور امن پانے کے لیے کرنے کی ضرورت ہے۔

’’اَے محنت کشو اور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگو، میرے پاس آؤ۔ اور میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی 11:‏28).

یسوع کے پاس ابھی آئیں، اور آپ کی محنت کشی ختم ہو جائے گی۔ آپ شریعت کی سزا دینے والی تبلیغ کے تلے بیٹھنے سے آزاد ہو جائیں گے۔ آپ ایک مناد یا پادری صاحب کے ساتھ بات کرنے کے لیے ایک طویل مدت تک تفتیشی کمرے میں بیٹھنے سے آزاد ہو جائیں گے۔ آپ جرم اور گناہ اور جہنم کی دھمکی سے آزاد ہو جائیں گے۔ آخر کار آزاد! آخر کار آزاد! خُدائے قادر کا شکر ہو، میں آخر کار آزاد ہوں – آپ کے دِل کی مسرت سے بھرپور پکار ہو گی اگر آپ صرف یسوع کی فرمانبرداری کریں جب وہ کہتا ہے،

’’اَے محنت کشو اور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگو، میرے پاس آؤ۔ اور میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی 11:‏28).

III۔ تیسرا سوال، وہ کیوں آپ کو بُلاتا ہے؟

وہ آپ کو اِس لیے نہیں بُلاتا کیونکہ اُس کو آپ کی ضرورت ہے۔ مسیح کا کام گرجہ گھر میں جاری رہے گا چاہے آپ اُس کے پاس آئیں یا نہ آئیں۔ اُس کو آپ کی ضرورت نہیں پڑتی، حالانکہ آپ کو یقینی طور پر اُس کی مدد، معافی اور اُس آزادی کی جس کی وہ آپ کو پیشکش کرتا ہے ضرورت ہوتی ہے۔

دوبارہ، وہ آپ کو اُس کے پاس آنے کے لیے اِس لیے نہیں بُلاتا ہے کیونکہ آپ قابلِ قدر ہیں یا آپ نیک ہیں، یا کیونکہ آپ ایک ’’اچھا اِمکان‘‘ رکھتے ہیں۔ جی نہیں! جی نہیں! وہ آپ کو متضاد وجہ سے بُلاتا ہے – کیونکہ آپ ایک بے بس گنہگار ہیں اور کیونکہ وہ آپ سے محبت کرتا ہے۔ بائبل کہتی ہے،

’’مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا‘‘ (1۔ تیموتاؤس 1:‏15).

کیا آپ ایک گنہگار ہیں؟ تب آپ اُن میں سے ایک ہیں جنہیں بچانے کے لیے وہ آیا۔ آپ کی انتہائی گنہگاری آپ کو نجات کے لیے ایک اُمیدوار کی حیثیت سے معیار پر پورا اُتارتی ہے۔ اِس لیے، یسوع آپ سے کہتا ہے،

’’اَے محنت کشو اور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگو، میرے پاس آؤ۔ اور میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی 11:‏28).

آپ کو وہ آرام مہیا کروانے کے لیے یسوع نے اِتنا کچھ کیا۔ جب گتسمنی کے باغ میں آپ کے گناہ اُس پر لادے گئے، اُس کا دم گُھٹا اور دعا میں آپ کے لیے وہ سسکا، جب خونی پسینہ اُس کے اذیت برداشت کرتے ہوئے بدن کے مساموں میں سے بہا۔ جب سپاہی آئے اور اُس کو گھسیٹ کر لے گئے، اور کوڑوں کے ساتھ مار مار کر اُس کو ادھ موا کر دیا، اُس نے درد کو برداشت کیا تاکہ آپ گناہ سے شفا یاب ہو جائیں اور اِس آگاہی میں اپنی جان کے لیے آرام پائیں کہ آپ کے بجائے اُس پر خُدا کا قہر نازل ہوا تھا۔ جب اُنہوں نے اُس کو صلیب پر کیلوں سے جڑا اور وہاں پر ننگا اور خون میں تربتر لٹکایا، اُس نے ایسا اِس لیے کیا کہ آپ اپنے جرم سے آرام پائیں اور اپنے تھکے ہوئے ذہن کے لیے سکون پائیں، یہاں تک کہ وہ سکون جو فہم یا سمجھ بوجھ مہیا کرتا ہے، جو وہ آج آپ کو بخشنا چاہتا ہے۔ جی ہاں، یسوع نے اِسی قدر زیادہ کیا، اور اِسی قدر زیادہ اذیت برداشت کی کہ اُس آرام کو آپ کے لیے مہیا کر پائے جس کے بارے میں اُس نے بات کی تھی، تاکہ وہ بے خوفی سے کہے،

’’اَے محنت کشو اور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگو، میرے پاس آؤ۔ اور میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی 11:‏28).

IV۔ چوتھا سوال، آپ کو اِس بُلاوے کے بارے میں کیا کرنا چاہیے؟

یہ آپ کے لیے ایک انتہائی سنجیدہ بُلاوا ہے۔ اِس لیے آپ کو اِس پر انتہائی شدید توجہ دینی چاہیے۔ یہ ایک انتہائی سادہ سی بُلاہٹ ہے، یہاں تک کہ آج یہاں پر نیا نیا آیا ہوا شخص بھی، یا گرجہ گھر کا سب سے زیادہ سخت دِل شخص بھی اِس کو سمجھ سکتا ہے – یہ اِسی قدر انتہائی سادہ ہے۔ یہ آپ کے لیے بجا طور پر قابلِ قبول ہے۔ آپ کو ایک محنت کش اور بھاری بوجھ تلے دبے ہوئے کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ آپ کو اِس قدر مکمل طور سے بیان کرتا ہے کہ جو پیشکش وہ یسوع پیش کرتا آپ ہی کے لیے ہونی چاہیے!

جیسا کہ پیوریٹن تھامس بروکس Thomas Brooks اِس کو تحریر کرتے ہیں،

’’آؤ،‘‘ مسیح کہتا ہے، ’’اور میں تمہیں آرام بخشوں گا۔‘‘ میں تمہیں آرام دکھاؤں گا نہیں، نا ہی [محض] آپ کو آرام [کے بارے میں] بتاؤں گا، بلکہ آپ کو آرام بخشوں گا۔ میں مخلص ہوں اور جھوٹ نہیں بول سکتا۔ میں آپ کو آرام بخشوں گا… آؤ، مسیح نے کہا، یعنی کہ، مجھ میں یقین کرو، اور میں تمہیں آرام بخشوں گا: میں تمہیں خُدا کے ساتھ امن بخشوں گا، اور ضمیر کا سکون بخشوں گا… میں آپ کو وہ آرام بخشوں گا جو دُنیا آپ کو پیش نہیں کر سکتی، اور جو دُنیا آپ سے چھین نہیں سکتی اگر ایک مرتبہ وہ آپ پا لیتے ہیں۔

اوہ، کیا آپ آج کی صبح یسوع کی سُنیں گے اور جو وہ کہتا ہے کریں گے؟

’’اَے محنت کشو اور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگو، میرے پاس آؤ۔ اور میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی 11:‏28).

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا چاہیں گے۔ جب آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو آپ اُنہیں ضرور بتائیں کہ آپ کس مُلک سے لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای میل کو جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل لکھیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں اُس کا نام شامل کریں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352‏-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے دُعّا ڈاکٹر کرھیٹن ایل چعین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: متی 11:‏20۔30 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’میرے پاس آؤCome Unto Me‘‘
(شاعر چارلس پی۔ جونز Charles P. Jones‏، 1865۔1949)۔

لُبِ لُباب

مسیح کا بُلاوا

CHRIST’S INVITATION

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’اَے محنت کشو اور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگو! میرے پاس آؤ۔ میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی 11:‏28).

I.   پہلا سوال، وہ کون ہے؟ متی11:‏28الف؛ رومیوں8:‏1 .

II.  دوسرا سوال، وہ کس کو بُلاتا ہے؟ متی11:‏28ب.

III. تیسرا سوال، وہ آپ کو کیوں بُلاتا ہے؟ متی11:‏28 ج؛ 1تیموتاؤس1:‏15 .

IV. چوتھا سوال، آپ کو اِس بلاوے کے بارے میں کیا کرنا چاہیے؟
متی11:‏28 .