اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔
واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔
جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔
اِرتداد کے دور میں سچی منادیTRUE PREACHING IN A TIME OF APOSTASY ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے ’’ایک آدمی اور بھی ہے، میکایاہ بِن اِملہ، جس کے وسیلہ سے ہم خداوند سے پوچھ سکتے ہیں لیکن میں اُس سے نفرت کرتا ہوں کیونکہ وہ میرے بارے میں کبھی کسی اچھی بات کی نبوت نہیں کرتا بلکہ ہمیشہ بُری بات کی پیشگوئی کرتا ہے۔ یہوسفط نے جواب دیا کہ بادشاہ کو ایسا نہیں کہنا چاہیے‘‘ (I سلاطین 22: 8)۔ |
میں آپ کو اس کہانی کی تفصیلات نہیں بتانے جا رہا ہوں۔ ہم کہانی میں اس قدر پھنس سکتے ہیں کہ ہم اس پیغام کو کھو دیں گے جو ہمارے لیے ہے۔ میں یہ کہوں گا – یہ ایک اہم پیغام ہونا چاہیے۔ اسے II تواریخ، باب 18 میں تقریباً لفظ بہ لفظ دہرایا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ نئے عہد نامے میں چار انجیلوں (متی، مرقس، لوقا اور یوحنا) کی طرح ہے۔ اناجیل میں سے ہر ایک ہمیں ایک ہی بنیادی کہانی بتاتی ہے، اِدھر اُدھر کی کچھ اضافی چیزوں کے ساتھ۔ ہمیں وہ کہانی چار بار سنائی گئی کیونکہ خدا چاہتا تھا کہ ہم اسے چار بار سنیں۔ اور ہمیں یہ کہانی دو بار، بائبل کی دو مختلف کتابوں میں، اسی وجہ سے سنائی گئی ہے۔ خدا نے سوچا کہ ہمارے لیے اسے دو بار پڑھنا کافی ضروری ہے۔ اور بالکل وہی ہے جو میں ہر سال کرتا ہوں۔ جیسا کہ میں ہر سال بائبل پڑھتا ہوں، مجھے دو بار اس آدمی، میکایاہ بِن اِملہ کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
اور وہ کافی اہم آدمی تھا۔ اگرچہ ہم نے اس لمحے سے پہلے اس کی زندگی کے بارے میں کچھ نہیں پڑھا، اور اس کے بعد بھی کچھ نہیں، اس لمحے سے جب اُس نے بادشاہ کے سامنے منادی کرنے کے لیے قدم رکھا سے لیکر اس لمحے تک جب تک کہ اسے جیل میں نہیں ڈال دیا گیا، ہم فطری طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ایک مبلغ کی موجودگی میں رہے ہیں۔ اور مبلغین اہم آدمی ہیں، بہت سے طریقوں سے تمام آدمیوں میں سب سے اہم ہیں – کیونکہ اِن مبلغین کے ذریعے ہی خدا لوگوں کے ضمیروں سے بات کرتا ہے۔ پولوس رسول نے اسے دو سوالات کی شکل میں پیش کیا:
’’ایک مبلغ کے بغیر وہ کیسے سُنیں گے؟ اور وہ کیسے منادی کریں گے جب تک وہ بھیجے نہ جائیں؟‘‘ (رومیوں 10: 14۔15)۔
یقینی طور پر میکایاہ کو بھیجا گیا تھا اور بالکل اِتنے ہی یقینی طور پر، اگر وہ نہ بھیجا جاتا تو وہ خدا کا پیغام نہ سنتے۔ یہ خدا ہی تھا جس نے اسے بھیجا تھا۔ اور انہوں نے اس خدا کی بُلاہٹ والے، خدا کے بھیجے ہوئے مبلغ کے منہ سے سچائی سنی۔ اسرائیل کے بادشاہ نے کہا،
’’ایک آدمی اور بھی ہے، میکایاہ بِن اِملہ، جس کے وسیلہ سے ہم خداوند سے پوچھ سکتے ہیں …‘‘ (I سلاطین 22: 8)۔
I۔ پہلی بات، ہماری تلاوت ایسی منادی کرنے والوں کی کمی کے بارے میں بتاتی ہے۔
’’ایک آدمی اور بھی ہے …‘‘ کیوں، کیا آپ کو وہ تمام دوسرے لوگ نہیں ملے؟ بادشاہ نے
’’صرف چار سو آدمیوں کو اِکٹھا کیا تھا‘‘ (I سلاطین 22: 6)۔
چار سو کی کیوں نہ سُنی جائے؟ کیا وہ کافی اچھے نہیں ہیں؟ کیا وہ آپ کو اچھی طرح سے نہیں سکھا سکتے؟ لیکن یہ مبلغین محض مزدور تھے۔ وہ تبلیغ کر رہے تھے کیونکہ انہیں ایسا کرنے کے لیے ادائیگی کی گئی تھی۔ میکایاہ کسی اور ہی شے کا نام تھا۔ اسے ایسا کرنے کی ادائیگی نہیں کی گئی۔ اس نے منادی کی کیونکہ خدا نے اسے ایسا کرنے کے لیے بلایا تھا۔ اس نے الہٰی دعوت کے احساس سے تبلیغ کی۔ میکایاہ اور دیگر 400 مبلغین کے درمیان یہی فرق تھا۔ ان 400 آدمیوں کے واعظ کے بعد، یہوسفط نے کہا،
’’کیا یہاں خداوند کا کوئی نبی نہیں جس سے ہم پوچھ سکیں؟‘‘ (I سلاطین 22: 7)۔
اعلیٰ درجے کے تبصرہ نگار میتھیو ھنری Matthew Henry نے کہا،
اتحاد ہمیشہ ایک سچی کلیسیا اور ایک سچی منادی کا نشان نہیں ہوتا ہے۔ یہاں 400 آدمی تھے جنہوں نے ایک دماغ اور ایک منہ سے پیشن گوئی کی، اور پھر بھی سب غلطی پر تھے۔ یہوسفط اس قسم کی تبلیغ کا مزہ نہیں لے سکتا۔ وہ ایسا کرنے کا عادی ہی نہیں تھا۔ جھوٹے نبی سچ کی اتنی نقل نہیں کر سکتے کہ جس نے روحانی حواس کا استعمال کیا تھا وہ غلط فہمی کو جان سکتا تھا، اور اس لیے اس نے اس کے علاوہ خداوند کے ایک نبی کے لیے دریافت کیا (تمام بائبل پر میتھیو ہنری کا تبصرہ Matthew Henry’s Commentary on the Whole Bible، جلد دوئم، ہینڈرکسن پبلشرHenderickson Publishers، 1996 دوبارہ اشاعت، صفحہ 545)۔
’’کیا یہاں خداوند کا کوئی نبی نہیں جس سے ہم پوچھ سکیں؟‘‘ (I سلاطین 22: 7)۔
ہماری تلاوت ہمیں ایسے لوگوں کی کمی کے بارے میں بتاتی ہے۔ اسرائیل کے بادشاہ نے کہا،
’’ایک آدمی اور بھی ہے، میکایاہ بِن اِملہ، جس کے وسیلہ سے ہم خداوند سے پوچھ سکتے ہیں …‘‘ (I سلاطین 22: 8)۔
ابھی تک ایک بندہ ہے جسے منادی کے لیے بلایا گیا ہے۔ ابھی تک ایک شخص ایسا ہے جو مجبور کر ڈالنے والی خدا کی بُلاہٹ کے تحت ایسا کرتا ہے۔ ابھی تک ایک آدمی ہے جو پیسے یا عزت کے لیے ایسا نہیں کرتا۔ ابھی ایک آدمی ہے جو
’’کلام کی منادی کرے گا؛ موقع کی مناسبت سے فوری کرے گا؛ جب موقع نہیں ہے تب بھی کرے گا؛ تنبیہ کرے گا، ملامت کرے گا، سارے تحمل اور عقیدے کے ساتھ جوش بڑھائے گا۔ کیونکہ ایسا وقت آ رہا ہے کہ لوگ صحیح تعلیم کو برداشت نہیں کریں گے بلکہ اپنی خواہشوں کے مطابق بہت سے اُستاد بنا لیں گے تاکہ وہ وہی کچھ بتائیں جو اُن کے کانوں کو بھلا معلوم ہو۔ وہ سچائی کی طرف سے کان بند کر لیں گے اور کہانیوں کی طرف توجہ دینے لگیں گے۔ مگر تو ہر حالت میں ہوشیار رہ، دُکھ اُٹھا، مبشر کا کام انجام دے اور اپنی خدمت کو پورا کر‘‘ (II تیمتھیس 4: 2۔5)۔
مسیح کے ظہور کے وقت تمام اساتذہ میں سے، اسرائیل میں صرف ایک یوحنا بپتسمہ دینے والا تھا۔ یونان میں مارس ہل پر تمام اساتذہ میں سے صرف ایک ہی رسول پولوس تھا۔ پندرہویں صدی میں بوہیمیا کے تمام پادریوں میں سے صرف ایک جان ہس John Huss تھا۔ چودھویں صدی میں انگلستان کے تمام پادریوں میں سے صرف ایک جان وائکلفJohn Wycliffe تھا۔ سولہویں صدی میں جرمنی کے تمام بشپ، پادریوں اور راہبوں میں سے صرف ایک لوتھرLuther تھا۔ اٹھارویں صدی میں لندن کے تمام صاف ستھرے اور مناسب پادریوں میں سے صرف ایک جارج وائٹ فیلڈGeorge Whitefield تھا، جو خدا کی روح سے اتنا متحرک تھا کہ اگرچہ ہر گرجہ گھر کے دروازے اس کے خلاف بند کر دیے گئے تھے، لیکن وہ خدا کی طرف سے مجبور تھا کہ وہ کھیتوں میں مسیح یسوع کی ناقابلِ تلاش دولت کی تبلیغ کرے!
یوحنا بپتسمہ دینے والا کہاں ہے؟ پولوس رسول کہاں ہے؟ ہس جیسا آدمی کہاں ہے جو خدا کی طرف سے اس طرح تبلیغ کرنے پر مجبور ہوں جیسے رومی کلیسیا کے شعلے اس کے جسم کو جلا کر راکھ کر دیتے ہیں؟ وائکلف کہاں ہے؟ لوتھر کہاں ہے؟ عظیم وائٹ فیلڈ کہاں ہے جب ہمیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے؟
اور اگر آپ ایک نوجوان ہیں جو مذہبی خدمت کی بُلاہٹ پر غور کر رہے ہیں، تو ان آدمیوں کو، اور میکایاہ نبی کو، اپنی مثال بنائیں - بعل کے چار سو پجاریوں کو نہیں، بوہیمیا کے پجاریوں کو نہیں، جرمنی کے بشپوں اور راہبوں کو نہیں، لندن کے صاف ستھرے پادریوں کو نہیں، نہ کہ روکھے پیکھے غیرمحبتی ’’بائبل کے اُستادوں‘‘ کو اور ہمارے اِرتداد کے دور کے ’’بائبل کی تفسیریں لکھنے والوں‘‘ کو اپنی مثال مت بنائیں۔ ان کے پیچھے مت چلیں نوجوانوں۔ میکایاہ بن املہ، جان بپٹسٹ، پولوس رسول، جان ہس، وائکلف، لوتھر، اور جارج وائٹ فیلڈ جیسے آدمیوں کی آپ پیروی کریں اور ان کی تقلید کرتے رہیں۔ اُنہیں اپنی مثال بن لینے دیں کہ ایک مبلغ کو کیسا ہونا چاہیے!
’’ایک آدمی اور بھی ہے … جس کے وسیلہ سے ہم خداوند سے پوچھ سکتے ہیں …‘‘ (I سلاطین 22: 8)۔
خود کو وہ شخص بن لینے دیجیے!
اور اگر آج کی صبح آپ یہاں پر ہیں اور مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہوئے ہیں، تو یہوسفط جیسا احساس لائیں۔ اُن لوگوں کے پیچھے مت بھاگیں جو بائبل کو بغیر پسینہ بہائے، بغیر جذبات کے اور خدا سے کسی بُلاہٹ کے بغیر پڑھاتے ہیں۔ اُس بندے کو ڈھونڈیں جو آپ کی جان کی نجات کی خاطر تکلیف سہتا ہے، جو آپ کو وہ خوشخبری جو آپ کو نجات دلا سکتی ہے سُنانے کے خوفناک فرض سے بوجھل ہے۔ اور اُس بندے کی سُنیں جو آپ کو خدا کا کلام سمجھاتا ہے، وہ واحد بندہ جسے آپ کو خدا کا کلام پہنچانے کے لیے منتخب کیا گیا ہے، ایک ایسا آدمی جو
’’اپنے مخالفوں کو حلیمی سے سمجھائے۔ ممکن ہے کہ خدا اُنہیں توبہ کی توفیق دے اور وہ حق کو پہچانیں، ہوش میں آئیں اور شیطان کے پھندے سے چھوٹ کر خدا کی مرضی کے تابع ہو جائیں‘‘ (II تیمتھیس 2: 25)۔
ایسے مبلغ کی قدر کریں۔ اس کی باتوں پر قائم رہیں۔ اُس کے وسیلے سے مسیح یسوع کی طرف رہنمائی پائیں۔ اُس کے وسیلے سے سچائی اور نجات کی راہ میں ہدایت پائیں۔ خدا آپ کی ایسا کرنے میں مدد کرے۔ کیونکہ ہمارے زمانے میں زمین پر ایسے مبلغین کی کمی ہے۔
’’اور اسرائیل کے بادشاہ نے یہوسفط سے کہا، ایک آدمی اور بھی ہے، میکایاہ بِن اِملہ، جس کے وسیلہ سے ہم خداوند سے پوچھ سکتے ہیں لیکن میں اُس سے نفرت کرتا ہوں …‘‘ (I سلاطین 22: 8)۔
II۔ دوسری بات، ہماری تلاوت اس نفرت کے بارے میں بتاتی ہے جو بے اعتقاد دنیا ایسے مبلغین یعنی منادی کرنے والوں سے کرے گی۔
’’ایک آدمی اور بھی ہے … جس کے وسیلہ سے ہم خداوند سے پوچھ سکتے ہیں لیکن میں اُس سے نفرت کرتا ہوں …‘‘ (I سلاطین 22: 8)۔
میکایاہ بن املہ کے خلاف یہ الفاظ صدیوں سے کیسے چلے آ رہے ہیں! ’’ایک آدمی ہے… لیکن میں اس سے نفرت کرتا ہوں۔‘‘ اگر آپ خدا کے بُلائے ہوئے مبلغ ہیں تو آپ بے اعتقادی دنیا کی نفرت سے نہیں بچ سکتے۔ میں اپنے وقت میں خوشخبری کی سچائی کا اعلان کرنے پر دنیاوی لوگوں کی طرف سے نفرت کے ایک چھوٹے سے ڈنک کو تھوڑا سا جانتا ہوں۔ لیکن اس میں سے صرف تھوڑا سا۔ میں میکایاہ بن املہ کی طرح قید نہیں ہوا ہوں۔ یوحنا بپتسمہ دینے والے کی طرح سر قلم نہیں کروایا، پولوس رسول کی طرح شہید نہیں ہوا؛ ہس کی طرح کھمبے سے باندھ کر جلایا نہیں گیا یا لوتھر کی طرح خارج نہیں کیا گیا، جارج وائٹ فیلڈ کی طرح مجھے اپنے ہی گرجا گھر میں سے بے دخل نہیں کیا گیا۔ رچرڈ بیکسٹر کی طرح ٹاور آف لندن میں بند نہیں کیا گیا؛ بے مثال سپرجیئن کی طرح ارتداد سے متاثر بپٹسٹ یونین کی طرف سے مذمت نہیں کی گئی؛ انڈونیشیا میں کچھ وفادار مبلغین کی طرح ستایا اور مارا نہیں گیا۔ چین میں کچھ وفادار مبلغین کی طرح قید نہیں کیا گیا۔ لیکن مجھ سے نفرت کی گئی ہے۔ ہاں، مَیں اُس طنزیہ تمسخر سے تھوڑا سا واقف ہوں جو میکایاہ نبی پر اُس دن اُڑایا گیا تھا جب اسرائیل کے بادشاہ نے کہا،
’’ایک آدمی اور بھی ہے، میکایاہ بِن اِملہ، جس کے وسیلہ سے ہم خداوند سے پوچھ سکتے ہیں لیکن میں اُس سے نفرت کرتا ہوں …‘‘ (I سلاطین 22: 8)۔
لیکن جو چھوٹے حملے میں نے برداشت کیے ہیں وہ اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں جن میں سے ہمارا خداوند [یسوع] گزرا ہے۔ اس کی طرف سے کہا گیا،
’’اگر دنیا تم سے نفرت کرتی ہے تو تم جانتے ہو کہ تم سے نفرت کرنے سے پہلے اس نے مجھ سے نفرت کی‘‘ (یوحنا 15: 18)۔
’’انہوں نے بلا وجہ مجھ سے نفرت کی‘‘ (یوحنا 15: 25)۔
ہمارے خُداوند یسوع مسیح کو خدا کا بُلایا ہوا مبلغ بندہ ہونے کی وجہ سے اتنی نفرت سہنی پڑی کہ اُنہوں نے اُسے گرفتار کر لیا، اُسے اَدھموا ہونے تک کوڑے مارے، اور اُس کے خون آلود جسم کو صلیب پر کیلوں سے جڑ دیا۔
’’تم بھی اِسی قسم کے چال چلن کے لیے بُلائے گئے ہو کیونکہ مسیح نے تمہاری خاطر دُکھ اُٹھا کر ایک مثال قائم کر دی تاکہ تم اُس کے نقشِ قدم پر چل سکو۔ اُس نے نہ تو کبھی گناہ کیا نہ اُس کے مُنہ سے کوئی مکر کی بات نکلی … وہ خود اپنے ہی بدن پر ہمارے گناہوں کا بوجھ لیے ہوئے صلیب پر چڑھ گیا تاکہ ہم گناہوں کے اعتبار سے مُردہ ہو جائیں مگر راستبازی کے اعتبار سے زندہ ہو جائیں۔ اُسی کے کوڑے کھانے سے تم نے شفا پائی‘‘ (I پطرس 2: 21۔24)۔
اور یہ مجھے لگتا ہے کہ میکایاہ ایک تشبیہ ہے، یقیناً ایک مثال ہے، ہمارے خداوند یسوع کی اُس کے دُکھوں میں۔ آیت 24 پر غور کریں۔ آئیے کھڑے ہو کر اسے بلند آواز سے پڑھیں۔
’’تب صدقیا بن کنعانہ نے آگے بڑھ کر میکایاہ کے مُنہ پر تھپڑ مارا اور پوچھا کہ خداوند کے روح جب میرے پاس سے تجھ سے کلام کرنے گئی تو وہ کس راستے سے گئی تھی؟‘‘ (I سلاطین 22: 24)۔
ہمیں فوری طور پر اپنے خداوند یسوع مسیح کی یاد دلائی جاتی ہے:
’’اُس کے بعد اُنہوں نے اُس کے مُنہ پر تھوکا اور اُسے مکّے مارے، اور بعض نے طمانچے مار کر کہا، اے مسیح اگر تو نبی ہے تو بتا کس نے تجھے مارا؟‘‘ (متی 26: 67۔68)۔
وہ نوجوان جو منادی یا مذہبی خدمت کے لیے بُلاہٹ محسوس کرتے ہیں ان کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ وہ ایک خاص طبقے کے لوگوں کی طرف سے ناپسندیدہ کیے جائیں اور اُں سے نفرت کی جائے گی۔ اس سے بچنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ مسیح نے کہا،
’’اگر دُنیا تم سے دشمنی رکھتی ہے تو یاد رکھو اُس نے پہلے مجھے سے بھی دشمنی رکھی ہے … لیکن اب تم دُنیا کے نہیں ہو کیونکہ میں نے تمہیں چُن کر دُنیا سے الگ کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ دُنیا تم سے دشمنی رکھتی ہے‘‘ (یوحنا 15: 18۔19)۔
آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔
صرف مبلغین پر ہی نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں یہ کسی بھی سچے مسیحی پر لاگو ہوتا ہے۔ آپ جتنے زیادہ خدا پرست ہوں گے، اور جتنا زیادہ آپ مسیح کے لیے ڈٹ کر قائم رہیں گے، اتنا ہی زیادہ امکان ہے کہ آپ کو دنیا کی طرف سے ملامت کی جائے گی۔ کیا آپ کو کبھی مسیحی ہونے کی وجہ سے پریشانی ہوئی ہے؟ سنجیدگی سے – اس کے بارے میں سوچیں۔ کیا مسیحیت نے کبھی آپ کو ایک غیر آرام دہ صورتحال میں ڈالا ہے؟ میں کہوں گا، اگر ایسا نہیں ہے، تو آپ کو اپنے آپ کو اچھی طرح سے دیکھنا چاہیے۔ کچھ گڑبڑ ہے۔ مسیح نے کہا،
’’اگر تم دُنیا کے ہوتے تو دُنیا تمہیں اپنوں کی طرح عزیز رکھتی لیکن اب تم دُنیا کے نہیں ہو کیونکہ میں نے تمہیں چُن کر دُنیا سے الگ کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ دُنیا تم سے دشمنی رکھتی ہے‘‘ (یوحنا 15: 19)۔
اب، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر کوئی آپ سے نفرت کرے گا۔ ایک آخری بار تلاوت کو دیکھیں، I سلاطین 22: 8۔ آئیے کھڑے ہو کر اسے بلند آواز سے پڑھیں
’’اور اسرائیل کے بادشاہ نے یہوسفط سے کہا، ایک آدمی اور بھی ہے، میکایاہ بِن اِملہ، جس کے وسیلہ سے ہم خداوند سے پوچھ سکتے ہیں لیکن میں اُس سے نفرت کرتا ہوں کیونکہ وہ میرے بارے میں کبھی کسی اچھی بات کی نبوت نہیں کرتا بلکہ ہمیشہ بُری بات کی پیشگوئی کرتا ہے۔ اور یہوسفط نے جواب دیا کہ بادشاہ کو ایسا نہیں کہنا چاہیے‘‘ (I سلاطین 22: 8)۔
آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔
اسرائیل کا بادشاہ نبی سے نفرت کرتا تھا کیونکہ اس نے اس [بادشاہ] کے بارے میں اچھی اور خوشگوار باتیں نہیں کہی تھیں۔ لیکن یہوسفط جیسا سمجھدار آدمی اپنے بارے میں سچ سننا چاہتا ہے۔ وہ جنوب سے تھا۔ اس نے اچھی، ٹھوس تبلیغ سنی تھی۔ وہ خوش ہوا جب مبلغ نے اسے اپنی گنہگار، کھوئی ہوئی یا برگشتہ حالت کے بارے میں سچ بتایا۔
کیا آپ اپنے بارے میں چند خوشگوار باتیں سننے کے لیے گرجہ گھر آتے ہیں – یا کیا آپ اپنی کھوئی ہوئی حالت اور آپ کو بچانے کے لیے مسیح کی ضرورت کے بارے میں سچائی سننے کے لیے آتے ہیں؟ غور کریں کہ یہوسفط اسرائیل کے بادشاہ سے متفق نہیں تھا۔ اس نے کہا، ’’بادشاہ کو ایسا نہیں کہنا چاہیے،‘‘ آپ کو ایسا نہیں کہنا چاہیے۔ اور بِلاشبہ، اُسے ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔ میتھیو ہنری نے یہ تبصرہ کیا:
نوٹ کریں، وہ گناہ کی بدنصیبی میں بری طرح سخت دِل ہیں، اور تباہی کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جو خدا کے خادموں سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ وہ ان کے ساتھ صاف طور پر پیش آتے ہیں اور انہیں گناہ کی وجہ سے ان کے مصائب اور خطرے سے وفاداری کے ساتھ خبردار کرتے ہیں، اور وہ اُنہیں دشمنوں میں شمار کرتے ہیں جو انہیں سچ کہتے ہیں (گذشتہ بات کے تسلسل میں ibid.)۔
خدا کی بُلاہٹ والے مبلغ بندے اور ایک تحریکی مقرر کے درمیان فرق اس حوالے سے بالکل واضح کیا گیا ہے۔ ایک تحریکی مقرر، جیسے ٹونی رابنز، جو لوگوں کو بتاتا ہے کہ ان کے اندر بہتر کرنے کی طاقت ہے۔ تحریکی مقرر انہیں بتاتا ہے کہ اگر وہ مثبت سوچتے ہیں اور مثبت انداز میں کام کرتے ہیں تو وہ کامیاب ہو سکتے ہیں۔ یہ اس باب میں بعل کے 400 نبیوں کی طرح ہے۔ بعل کے تمام نبی تحریکی مقرر تھے! وہ کہنے لگے
’’رامات جلعاد پر حملہ کر اور فتح پا کیونکہ خداوند اُسے بادشاہ کے قبضہ میں کر دے گا‘‘ (I سلاطین 22: 12)۔
وہ ’’کامیابیوں یا خوشحالیوں‘‘ کے مقرر تھے! وہ تحریکی مقرر تھے! لیکن، آپ نے دیکھا، ایک مبلغ اُن جیسا نہیں ہوتا ہے۔ ایک مبلغ آپ کو یہ نہیں کہتا، ’’آپ یہ کر سکتے ہیں۔‘‘ ایک مبلغ آپ سے کہتا ہے، ’’آپ یہ نہیں کر سکتے۔‘‘ ایک مبلغ آپ کو بتاتا ہے کہ آپ بدکار اور گنہگار ہیں، اور بے بس اور کھوئے ہوئے ہیں – ان تحریکی یا خوشحالی مقررروں میں سے کسی ایک کے بھی بالکل برعکس جو آپ ٹیلی ویژن پر سنتے ہیں۔ لیکن سچے مبلغ کے پاس منفی پیغام ہے، اور بہت سے لوگ اسے سننا نہیں چاہتے۔ وہ اسرائیل کے بادشاہ کی مانند ہیں، جس نے کہا،
’’میں اُس سے نفرت کرتا ہوں کیونکہ وہ میرے بارے میں کبھی کسی اچھی بات کی نبوت نہیں کرتا‘‘ (I سلاطین 22: 8)۔
منادی کرنے والا سچا بندہ شریعت کی پیروی کرتا ہے! وہ آپ کو بتاتا ہے کہ آپ گنہگار ہیں۔ وہ آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کے پاس بے اعتقادی کا ایک بدکار دِل ہے۔ وہ ’’اچھی پیشن گوئی‘‘ نہیں کرتا۔ وہ آپ کو بتاتا ہے کہ آپ ایک گنہگار ہیں جس کے نصیب میں جہنم ہے، اور یہ کہ مسیح کے خون کے سوا کچھ بھی آپ کو نہیں بچا سکتا!
میری دعا ہے کہ آپ اس واعظ کو سنیں گے۔ میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ آپ تباہ شدہ گنہگار ہیں۔ اس سے انکار نہ کریں۔ اپنے اندر جھانک کر دیکھیں کہ یہ سچ ہے۔ اپنے آپ کے دل کو خود کو مجرم ٹھہرا لینے دیں اور خدا آپ کو بعد میں مجرم نہیں ٹھہرائے گا۔ مسیح کے پاس اُس کے قیمتی خون میں پاکیزگی کے لیے آئیں اور آپ کو آنے والے غضب سے بچایا جائے گا، کیونکہ، اگر آپ اُس کے پاس آتے ہیں،
’’اُس کے بیٹے یسوع مسیح کا خون ہمیں تمام گناہوں سے پاک صاف کرتا ہے‘‘ (I یوحنا 1: 7)۔
توبہ کریں۔ اپنے ذہن کو بدلیں۔ مسیح کے پاس آئیں اور وہ آپ کو تمام گناہوں سے پاک صاف کر دے گا۔
I سلاطین 22ویں باب میں اس واقعے کے بارے میں افسوسناک بات یہ ہے کہ اسرائیل کے بادشاہ نے مبلغ کی بات نہیں سنی۔ وہ اپنے طریقے سے اس جنگ میں آگے بڑھا جس کے خلاف مبلغ نے اسے خبردار کیا تھا۔
’’اور کسی نے یوں ہی اپنی کمان کھینچی اور ایک تیر چلایا جو شاہِ اسرائیل کو اُس کے زرہ بکتر کے جوڑوں کے درمیان جا لگا … پس بادشاہ مر گیا اور اُسے سامریہ لے جایا گیا اور اُنہوں نے بادشاہ کو سامریہ میں دفن کیا‘‘ (I سلاطین 22: 34، 37)۔
’’اور عذاب میں مبتلا ہو کر جہنم میں وہ اپنی آنکھیں اوپر اُٹھائے گا‘‘ (لوقا 16: 23)۔
ہائے، میں دعا کرتا ہوں کہ آپ اس واعظ کو سنیں گے، اور اپنا ذہن بدلیں گے، اور ایمان کے ساتھ مسیح کے پاس آئیں گے۔ یسوع کے سوا کوئی بھی آپ کے گناہ کو پاک صاف نہیں کر سکتا اور آپ کو خدا کی نظر میں معافی اور کفارہ نہیں دلا سکتا۔ ابھی یسوع کے پاس آئیں – یا، اسرائیل کے بادشاہ کی طرح، آپ کی زندگی زمین پر ختم ہو جائے گی اور آپ کی روح قادرِ مطلق خُدا آپ کے منصف کے سامنے نجات کے بغیر کھڑی ہوگی۔
اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔
(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ
www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔
یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
|
لُبِ لُباب اِرتداد کے دور میں سچی منادی TRUE PREACHING IN A TIME OF APOSTASY ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے ’’ایک آدمی اور بھی ہے، میکایاہ بِن اِملہ، جس کے وسیلہ سے ہم خداوند سے پوچھ سکتے ہیں لیکن میں اُس سے نفرت کرتا ہوں کیونکہ وہ میرے بارے میں کبھی کسی اچھی بات کی نبوت نہیں کرتا بلکہ ہمیشہ بُری بات کی پیشگوئی کرتا ہے۔ یہوسفط نے جواب دیا کہ بادشاہ کو ایسا نہیں کہنا چاہیے‘‘ (I سلاطین 22: 8)۔ (رومیوں 10: 14۔15) I ۔ سب سے پہلے، ہماری تلاوت ایسی منادی کرنے والوں کی کمی کے بارے میں بتاتی ہے، I سلاطین 22: 6، 7؛ II تیمتھیس 4: 2-5؛ 2: 25۔
II۔ دوسری بات، ہماری تلاوت اس نفرت کے بارے میں بتاتی ہے جو بے اعتقاد دنیا ایسے مبلغین یعنی منادی کرنے والوں سے کرے گی، یوحنا 15: 18، 25؛ I پطرس 2: 21-24؛ |