اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔
واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔
جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔
سیلاب سے پہلے انسانی زندگی اِس قدر لمبی کیوں تھی؟بائبل اور سائنس # 4 ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے |
مہربانی سے اپنی بائبل پیدائش 5: 5 کے لیے کھولیں۔
’’اور آدم پورے نو سو تیس برس تک زندہ رہا اور پھر وہ مر گیا‘‘ (پیدائش 5: 5)۔
اب پیدائش 5: 27 ویں آیت کو کھولیں۔
’’متوسلح کی کُل عمر نو سو اُنہتّر برس کی ہوئی اور تب وہ مر گیا‘‘ (پیدائش 5: 27)۔
آدم 930 سال زندہ رہا اور متوسلح 969 سال۔ ڈاکٹر۔ ہنری ایم۔ مورس، انسٹی ٹیوٹ فار کریئیشن ریسرچ کے صدر، کہتے ہیں،
قدیم دور کے انسانوں [وہ جو سیلاب سے پہلے کے دنوں میں رہتے تھے] کی اوسط عمر 900 سے زیادہ تھی (عین مطابق کہا جائے تو 912 سال، جس میں حنوک بھی شامل ہے)، جو اِس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ماحولیات حالات ہماری عمر سے بہت زیادہ بہتر تھے (ھنری ایم مورس، پی ایچ۔ ڈی۔Hernry M. Morris, Ph.D.، دفاع کرنے والوں کا مطالعۂ بائبل The Defender’s Study Bible، ورلڈ پبلیشنگ World Publishing، 1995، صفحہ 18)۔
لوگ اتنی لمبی لمبی عمروں تک زندہ رہتے تھے یہ بات کیسے ممکن ہے؟ ڈاکٹر نارمن گیسلر Dr. Norman Geisler ہمیں بتاتے ہیں کہ بائبل کے ازاد خیال عالمین نے مختلف جوابات پیش کیے ہیں۔
کُچھ لوگوں نے تجویز پیش کی ہے کہ یہ ’’سال‘‘ تو صرف میہنے تھے، جو کہ 900 سال کو گھٹا کر 80 سال کی عام عمر تک لے جائیں گے۔ تاہم، یہ بات دو وجوہات کی بِنا پر [ممکن] نہیں ہے۔ پہلی بات، عبرانی کے پرانے عہد نامے میں لفظ ’’سال‘‘ کا مطلب ’’مہینہ‘‘ لینے کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ دوسری بات، چونکہ محلل کی اولاد پیدا ہوئی تھی جب وہ صرف 65 برس کا تھا (پیدائش 5: 15)، اور قینان 70 برس کا تھا جب اُس کے ہاں اولاد پیدا ہوئی تھی (پیدائش 5: 12)، اِسکا مطلب ہو گا کہ وہ چھ سال سے کم عمر کے تھے [جب اُن کے ہاں اولاد ہوئی – اگر آپ ایک سال کے بدلے میں ایک مہینہ لیتے ہیں] – جو کہ بیالوجیکلی ممکن نہیں ہے۔
دوسرے لوگوں کا کہنا ہے یا تجویز ہے کہ یہ نام [انفرادی افراد کے بجائے] خاندانی نسل یا قبیلوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تاہم، یہ متعدد وجوہات کی بناء پر معنی نہیں رکھتا ہے۔ سب سے پہلے، کچھ نام (مثلاً آدم، سیتھ، حنوک، نوح) یقینی طور پر ایسے افراد ہیں جن کی زندگیوں کو تلاوت میں بیان کیا گیا ہے (پیدائش 1-9)۔ دوسری بات، خاندانی نسل مختلف ناموں سے خاندانی نسل کو ’’پیدا‘‘ نہیں کرتی ہیں۔ تیسری بات، نہ ہی خاندانی نسل ’’مرتی ہے‘‘، جیسا کہ ان میں سے ہر ایک نے کیا تھا (حوالہ دیکھیں 5: 5، 8، 11، وغیرہ)۔ چوتھی بات، ’’بیٹے اور بیٹیاں‘‘ ہونے کا حوالہ (5: 4) قبیلے کے نظریہ پر پورا نہیں اترتا (نارمن ایل گیسلر، پی ایچ ڈیNorman L. Geisler, Ph.D.، اور تھامس ہوThomas Howe، جب ناقدین پوچھتے ہیںWhen Critics Ask، بیکر کُتب گھر Baker Books، 1992، صفحہ 30۔40)۔
پیدائش 5: 4 کو دیکھیں، اس حقیقت کی ایک مثال کے لیے بجائے کسی ’’قبیلے‘‘ کے آدم نے خود بیٹے اور بیٹیاں پیدا کیں۔
’’اور آدم کی عمر اُس کے ہاں سیت کے پیدائش کے بعد آدم آٹھ سو برس جیتا رہا اور اُس کے ہاں بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں‘‘ (پیدائش 5: 4)۔
سب سے پہلے، نسل انسانی کے آغاز میں کوئی جینیاتی خامیاں نہیں تھیں۔ خُدا نے جینیاتی طور پر آدم کو کامل تخلیق کیا (پیدائش 1: 27)۔ جینیاتی نقائص برگشتہ ہونے کے نتیجے میں پیدا ہوئے اور صرف آہستہ آہستہ طویل عرصے تک واقع ہوئے… (گیسلرGeisler، گذشتہ بات کے تسلسل میں ibid.، صفحہ 39)۔
ڈاکٹر جان میک آرتھر، اگرچہ مسیح کے خون کے بارے میں غلط ہے، لیکن آدم کی نو سو تیس سال کی زندگی پر ایک مفید تبصرہ پیش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر میک آرتھر نے کہا،
یہ واقعی میں سال ہیں جو زندگی کی غیر معمولی طوالت کی نشاندہی کرتے ہیں جو کہ سیلاب سے پہلے کے ماحول کی طرف سے فراہم کیے گئے ہیں جو زمین کے پانی کی چھت کے نیچے ہونے کی وجہ سے ہیں، [پانی کی یہ تہہ] سورج کی بالائی بنفشی شعاعوں کو چھان ڈالتی ہے اور بہت زیادہ اعتدال پسند اور صحت مندانہ حالات پیدا کرتی ہے۔ پیدائش 1: 7؛ 2: 6 پر غور طلب بات دیکھیں۔ خدا نے آدم کو بتایا کہ اگر اس نے درخت کا پھل کھایا تو وہ ضرور مر جائے گا (2: 17)۔ اس میں فوراً روحانی موت اور پھر بعد میں جسمانی موت شامل تھی (ڈاکٹر جان میک آرتھرDr. John MacArthur، میک آرتھر مطالعہ بائبل The MacArthur Study Bible، ورلڈ پبلشنگWorld Publishing، 1997، صفحہ 23)۔
اپنی بائبل کو پیدائش 1: 7 ویں آیت پر کھولیں۔ مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور اِس آیت کو با آوازِ بُلند پڑھیں۔
’’اور خدا نے فضا کو قائم کیا، اور فضا کے نیچے کے پانیوں کو فضا کے اوپر کے پانیوں سے جُدا کر دیا اور ایسا ہی ہوا‘‘ (پیدائش 1: 7)۔
آپ بیٹھ سکتے ہیں۔ عبرانی لفظ جس کا ترجمہ ’’بہشت\فضا firmament‘‘ ہے اس کا مطلب ’’وسعت‘‘ ہوتا ہے۔ اس سے مراد زمین کے گرد فضا ہے۔ پیدائش 1: 7 ہمیں بتاتی ہے کہ آسمان کے نیچے پانی تھا، جھیلوں اور دریاؤں اور سمندروں میں – لیکن آسمان کے اوپر بھی پانی تھا، زمین کی فضا کی ’’وسعت‘‘ سے اوپر۔ وہ پانی آسمان کے اوپر زمین کے گرد ایک لفافہ یا چھتری بناتا ہے۔ یہ پانی زمین کے اوپر اور چاروں طرف تھا – اور یہ سیلاب کے وقت تڑا تر برس کر گرا تھا۔ ڈاکٹر ہنری ایم مورس کہتے ہیں،
فضا کے اوپر کے پانی کو بظاہر بخارات کی حالت میں تبدیل کر دیا گیا تھا تاکہ بھاری مواد سے الگ ہو کر فضا میں معلق رہے یا برقرار رہے، جہاں یہ زمین کے مستقبل کے باشندوں کے لیے حرارت کی روک تھام والے کمبل کا سا کام کر سکے۔
اس طرح کی بخارات کی چھتری بلاشبہ ایک انتہائی مؤثر ’’گرین ہاؤس اثر‘‘ فراہم کرتی، جو پوری زمین کے لیے بار بار ہونے والی بہار جیسی آب و ہوا یا موسم کو یقینی بناتی ہے۔ پانی کے بخارات دونوں زمین کو خلا سے آنے والی نقصان دہ شعاعوں سے بچاتے ہیں اور آنے والی شمسی حرارت کو بھی برقرار رکھتے اور پھیلاتے ہیں۔ بخارات کی یہ چھتری اس طرح بے شمار یا وافر جانوروں اور پودوں کی زندگی اور انسانی زندگی میں لمبی عمر اور راحت کے لیے ایک مثالی ماحول فراہم کرے گی … بارش کی عدم موجودگی (پیدائش 2: 5) اور قوس قزح (پیدائش 9: 13) کی نہ صرف وضاحت کی گئی ہے بلکہ اس کی ضرورت بخارات کی چھتری کے ذریعے ہے، نہ کہ موجودہ ماحول کی طرح (ھنری ایم مورس، پی ایچ۔ ڈی۔Hernry M. Morris, Ph.D.، دفاع کرنے والوں کا مطالعۂ بائبل The Defender’s Study Bible، ورلڈ پبلیشنگ World Publishing، 1995، صفحہ 4۔5)۔
فضا کے اوپر کا پانی سیلاب کے وقت زمین پر برستا ہوا آیا۔
تو، اس کا سیلاب سے پہلے انسان کی لمبی عمر سے کیا تعلق ہے؟ ایک بات کے لیے، زمین کے گرد پانی کے بخارات کا لفافہ زیادہ تر تابکاری کو چھانتا ہے۔ ڈاکٹر جان سی وھٹکومبDr. John C. Whitcomb اور ڈاکٹر ھنری ایم مورس نے چھتری کی بارش کے بعد عمر میں کمی کی نشاندہی کی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ معقول ہے۔
… شعاعوں کے جسمانی اور جینیاتی اثرات کے بارے میں جو کچھ جانا جاتا ہے اس کے پیش نظر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سیلاب کے بعد سے صدیوں کے دوران، خاص طور پر انسان میں ان اثرات کے جمع ہونے کے نتیجے میں بتدریج بگاڑ اور عمر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ خاص طور پر اس کا اثر سیلاب کے فوراً بعد صدیوں میں ہوا ہوگا… سیلاب سے پہلے، اس لیے ہر چیز جسمانی صحت اور لمبی عمر کے لیے سازگار تھی۔ مساوی درجہ حرارت، ماحولیاتی شعاعوں سے آزادی، اور بخارات کی چھتری سے منسوب دیگر عوامل سب نے اثر میں حصہ ڈالا… سیلاب کے بعد، چھتری [چلی گئی]، اس کے حفاظتی اثرات… ہٹا دیے گئے، اور پھر عام صحت اور لمبی عمر میں ایک طویل زوال شروع ہوا… اس کمی کا زیادہ تر حصہ… بلاشبہ زمین کی سطح پر تابکاری کے بہت زیادہ بڑھتے ہوئے واقعات سے منسوب کیا جا سکتا ہے… غالباً سیلاب کے دوران اور اس کے فوراً بعد یہ اضافہ بہت تیز تھا (جان سی وھٹکومبJohn C. Whitcomb، ٹی ایچ۔ ڈی، اور ھنری ایم مورسHenry M. Morris، پی ایچ ڈی۔، پیدائش کا سیلاب The Genesis Flood، پریسبائٹیرئین اور ریفارمڈ پبلشنگ کمپنی Presbyterian and Reformed Publishing، 1993 دوبارہ اشاعت، صفحہ 404)۔
ڈاکٹر مورس اور ڈاکٹر وھٹکومب یہ بھی کہتے ہیں کہ خوراک اور ایک ہی نسل سے متعلق ملاپ کے عمل میں تبدیلیاں، نیز بڑھتی ہوئی تابکاری، سیلاب کے بعد لمبی عمر میں کمی کی ممکنہ وجوہات ہیں (گذشتہ بات کے تسلسل میں ibid.، حاشیے کی غور طلب بات 1)۔
رالف او منکاسٹر Ralph O. Muncaster کہتے ہیں،
لوگوں کی لمبی عمر تھی – 969 سال تک – سیلاب کے آنے کے زمانے تک… بائبل کے دعوے کا مطالعہ کرنے والے سائنسدانوں نے ممکنہ وضاحتیں دریافت کر لی ہیں، جن میں سے ایک ویلا سپرنووا کا دھماکہ ہے، جس نے سیلاب کے وقت خلا سے زمین پر تابکاری میں ڈرامائی طور پر اضافہ کیا تھا (رالف او منکاسٹرRalph O. Muncaster، کیا آثارِ قدیمہ پرانے عہد نامے کو ثابت کرتے ہیں؟ Can Archaeology Prove the Old Testament?، ہارویسٹ ہاؤس پبلیشرز Harvest House Publishers، 2000، صفحہ 25)۔
اور ڈاکٹر گلیسن ایل آرچر Dr. Gleason L. Archer نے کہا،
… سیلاب کے خوفناک فیصلے کے بعد، انسان کی متوقع عمر رفتہ رفتہ کم ہوتی گئی۔ موسیٰ کے وقت تک ستر سال کی زندگی کو معمول سمجھا جاتا تھا (گلیسن ایل آرچر، پی ایچ ڈی، بائبل کی دشواریوں کا انسائیکلوپیڈیا Encyclopedia of Bible Difficulties، زونڈروان پبلشنگ ہاؤسZondervan Publishing House، 1982، صفحہ 77)۔
اب پیدائش 5: 27 ویں آیت پر دوبارہ نظر ڈالیں۔
’’اور متوسلح کی کُل عمر نو سو اُنہتّر برس کی ہوئی اور تب وہ مر گیا‘‘ (پیدائش 5: 27)۔
متوسلح کو تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک زندہ رہنے والا انسان ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ سیلاب سے پہلے اوسط عمر 912 سال تھی۔ اب دیکھیں سیلاب کے بعد عمریں کتنی جلدی کم ہو جاتی ہیں۔ پیدائش 11: 10۔11 آیت کو کھولیں۔
’’سِم کا شجرۂ نسب یہ ہے: طوفان کے دو برس بعد جب سِم سو برس کا تھا تو اُس کے ہاں ارفکسد پیدا ہوا۔ اور ارفکسد کی پیدائش کے بعد سِم مذید پانچ سو برس جیتا رہا اور اُس کے یہاں بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں‘‘ (پیدائش 11: 10۔11)۔
سِم صرف 600 سال زندہ رہا۔ اب آیات 18 اور 19 پر نظر ڈالیں۔
’’اور جب فلج تیس برس کا ہوا تو اُس کے یہاں رعو پیدا ہوا اور رعو کی پیدائش کے بعد فلج مذید دو سو نو برس زندہ رہا اور اُس کے یہاں بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں‘‘ (پیدائش 11: 18۔19)۔
یوں، فلج صرف 239 برس تک زندہ رہا۔ پیدائش 25: 7 آیت کو کھولیں۔ آئیے کھڑے ہوں اور اِس با آوازِ بُلند پڑھیں۔
’’ابراہام کی کُل عمر ایک سو پچتہر برس کی ہوئی‘‘ (پیدائش25: 7)۔
یوں، ابراہام 175 برس تک زندہ رہا۔ پیدائش 47: 28 آیت کو کھولیں۔ آئیے اِسے باآوازِ بُلند پڑھیں۔
’’اور یعقوب مُلک مصر میں سترہ سال اور زندہ رہا اور اُس کی کُل عمر ایک سو سینتالیس سال تھی‘‘ (پیدائش 47: 28)۔
اب پیدائش 50: 22 آیت کھولیں۔ یہاں پر ہم دیکھتے ہیں کہ یوسف صرف 110 برس تک زندہ رہا۔ مہربانی سے اُس آیت کو با آوازِ بُلند پڑھیں۔
’’یوسف اپنے باپ کے تمام خاندان کے ساتھ مصر میں رہا اور وہ ایک سو دس برس تک جیتا رہا‘‘ (پیدائش 50: 22)۔
آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ سِم 600 سال زندہ رہا۔ پلج 239 سال زندہ رہا۔ ابراہیم 175 سال زندہ رہا۔ یوسف 110 سال زندہ رہا۔
اب ہم اس دور کے قریب پہنچ رہے ہیں جس میں انسان آج کی عمر میں جی رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے، لاس اینجلس ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ دنیا کے دوسرے معمر ترین شخص کا انتقال 114 سال کی عمر میں ہوا۔ "شارلٹ بینکنر… بچپن میں جرمنی سے امریکہ آنے والی خاتون نے کہا کہ اس نے 1920 کے بعد سے ہر عام انتخابات میں ووٹ ڈالا ہے… بعد میں اُس نے بتایا کہ اس کی زندگی کی سنسنیوں میں سے ایک، صدر روز ویلٹ تھیوڈور کو سلام کرنا تھا … ’’اُنہوں نے اپنی ٹوپی کو ہاتھ سے پکڑ کا تھوڑا سا جھکایا اور ہم سب کو ھیلو کہا۔ وہ بہت اچھے انسان اور اچھے صدر تھے‘‘، بینکنر نے کہا (لاس اینجلس ٹائمز، مئی 18، 2004، صفحہ B-11)۔ یورٹو ریکو کی رامونا ٹرینیڈاڈ اسلیسیاس-جارڈن نامی خاتون، شارلٹ بینکنر سے دو ماہ بڑی ہیں۔ کچھ سال پہلے، فرانس کے شہر آرلس میں ایک عورت 122 سال کی عمر تک زندہ رہی۔ اس نے بچپن میں فنکارو مصور ونسنٹ وان گوگ کو پنسلیں بیچی تھیں۔ یہ اس عمر کے بارے میں ہے جس تک موسیٰ زندہ رہا تھا۔ استثنا 34: 7 کو کھولیں۔
’’موسیٰ اپنی وفات کے وقت ایک سو بیس سال کا تھا پھر بھی نہ تو اُس کی آنکھیں کمزور ہوئیں اور نہ اُس کی طبعی قوت کم ہوئی‘‘ (اِستثنا 34: 7)۔
لیکن بادشاہ داؤد کے زمانے تک اوسط شخص تقریباً 70 سال کی عمر تک زندہ رہا۔ II سموئیل 5: 4 کو کھولیں۔
’’جب داؤد بادشاہ بنا تو وہ تیس سال کا تھا اور اُس نے چالیس سال حکمرانی کی‘‘ (II سموئیل 5: 4)۔
اگرچہ داؤد صرف 70 سال کا تھا، بائبل کہتی ہے، ’’بادشاہ بہت بوڑھا تھا‘‘ (I سلاطین 1: 15)۔ ڈاکٹر آرچر نے کہا، ’’ایسا لگتا ہے کہ نسلِ انسانی کی جسمانی تندرستی اور قوتِ برداشت پر گناہ کے لعنتی اثرات کا بتدریج کام ہو رہا تھا، یہاں تک کہ برگشتگی یا زوال کے بہت عرصے بعد بھی‘‘ (گلیسن آرچر، گذشتہ بات کے تسلسل میں ibid.)۔
براہِ کرم ہمارے کلام پاک کی تلاوت پر نظر ڈالیں، زبور 90: 10 میں۔
’’ہماری عمر کی معیاد ستر برس ہے اور اگر ہم میں قوت ہو تو اَسّی برس؛ لیکن یہ عرصہ محض مشقت اور رنج و غم میں بیت جاتا ہے، کیوں کہ یہ دِن جلد بیت جاتے ہیں اور ہم اُڑ جاتے ہیں‘‘ (زبور 90: 10)۔
آپ صرف اپنے ستر یا اسی کی دہائی میں رہنے والے ہیں – بہترین طور پر! آپ میں سے بہت سے لوگ اس سے بہت جلد پہلے مر جائیں گے۔ اس لیے ہمیں ابدیت کے لیے تیاری کرنے کی ضرورت ہے – اور ابدیت کے لیے جینا چاہیے!
’’ہمیں صحیح طور سے اپنے دِن گننا سِکھا، تا کہ ہمارے دِل کو دانائی حاصل ہو‘‘ (زبور 90: 12)۔
ہمارے پاس نجات پانے اور مسیح کے لیے جینے کے لیے صرف ایک مختصر وقت ہے۔
اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔
(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ
www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔
یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔