Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 42 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


کوڑھیوں سے ایک سبق

A LESSON FROM THE LEPERS
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
ہفتے کی شام، 17 جنوری، 2004
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Saturday Evening, January 17, 2004

’’ہم مرنے تک یہاں کیوں بیٹھے رہیں؟‘‘ (2۔ سلاطین 7:3).

شاہِ اِرام (مُلک شام) نے اپنی فوجیں سامریہ کے خلاف بھیجیں اور دارلحکومت کا محاصرہ کر لیا۔ شہر کے محاصرے میں آ چکنے کے ساتھ، لوگ باہر نکل کر خوراک نہیں لا سکتے تھے۔ ایک ہولناک قحط نے شہر کو گرفت میں جکڑ لیا۔ خوراک کی اِس قدر شدید قلت پڑ گئی کہ ایک گدھے کا سر چاندی کے اَسّی سِکوں میں بکنے لگا۔ گوبر دانوں کا ایک چوتھائی پیمانہ چاندی کے پانچ سِکوں میں بکنے لگا۔ اِس مایوس کُن حالت میں لوگ فاقے کاٹ رہے تھے۔ انہوں نے دراصل آدم خوری کی جانب رُخ کیا تھا۔

شہر کی دیوار کے باہر چار کوڑھی بیٹھے تھے۔ اپنے کوڑھ کی وجہ سے اُنہیں شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ وہ شہر کی فصیل کے اندر لوگوں کے مقابلے میں ایک بدترین صورتحال سے دوچار تھے۔ اِس چاروں کوڑھیوں کی کہانی ہمیں 2سلاطین7:3۔10۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ

’’ہر صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے وہ تعلیم دینے، تنبیہ کرنے، سُدھارنے اور راستبازی میں تربیت دینے کے لیے مفید ہے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 3:16).

چونکہ ’’ہر صحیفہ خُدا کے الہٰام سے ہے اور مفید ہے،‘‘ میں یقین کرتا ہوں کہ چار کوڑھیوں کی یہ کہانی آج ہماری ہدایت کے لیے پیش کی گئی تھی۔ میرے خیال میں یہاں کم از کم پانچ اسباق ہیں جو آپ اِن لوگوں سے سیکھ سکتے ہیں جو آپ کی مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے میں مدد کر سکتے ہیں۔

I۔ پہلی بات، وہ کوڑھ زدہ تھے۔

2 سلاطین 7:3 پر نظر ڈالیں،

’’اور شہر کے پھاٹک سے اندر جانے کے مقام پر چار کوڑھی تھے…‘‘ (2۔سلاطین 7:3).

بائبل میں کوڑھ کے بارے میں اکثر گناہ کی ایک شبیہہ یا عکاسی کی حیثیت سے بات کی گئی ہے۔ احبار 13:1 پر سیکوفیلڈ کی غور طلب بات کہتی ہے،

کوڑھ کے بارے میں گناہ کی حیثیت سے بات کی جاتی ہے (1) خون میں؛ (2) قابلِ کراہت طریقوں پر سِرعام آ جانا؛ (3) انسانی ذریعوں سے ناقابلِ علاج (سیکوفیلڈ مطالعہ بائبل Scofield Study Bible، احبار13:1 پر غور طلب بات)۔

بائبل کہتی ہے،

’’وہ آدمی کسی جِلد کی بیماری میں مبتلا ہے اور ناپاک ہے۔ کاہن کو چاہیے کہ وہ اُس شخص کو سر کے داغ کی وجہ سے ناپاک قرار دے‘‘ (احبار 13:44).

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

ہمارے واعظ اب آپ کے سیل فون پر دستیاب ہیں۔
WWW.SERMONSFORTHEWORLD.COM پر جائیں
لفظ ’’ایپ APP‘‘ کے ساتھ سبز بٹن پرکلِک کریں۔
اُن ہدایات پر عمل کریں جو سامنے آئیں۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

کوڑھ انسان کی مکمل طور پرمسخ شُدہ حالت کی جو گناہ سے تباہ ہو چکی ہے تصویر پیش کرتا ہے۔ اشعیا نے کہا،

’’آہ، اَے گنہگار قوم… تمہارا پُورا سَر زخمی ہے، تمہارا سارا دل مریض ہو چُکا ہے۔ پاؤں کے تلوے سے سر کی چوٹی تک کوئی حِصّہ بھی سالم نہیں ہے۔ صرف زخم اور چوٹیں اور سڑے ہُوئے گھاؤ ہیں…‘‘ (اشعیا 1:4۔6).

یہ انسان کی گناہ سے بھرپور فطرت کی جو ’’گناہ اور قصوروں میں مُردہ‘‘ ہے ایک ہولناک تفصیل ہے (افسیوں2:1)۔

ہمیں بتایا گیا کہ یہ آدمی ’’کوڑھ زدہ‘‘ تھے۔ وہ واقعی میں ایک ہولناک حالت میں تھے۔ یہ بات ہماری ناگوار، گمشدہ حالت کی بات کرتی ہے۔ آپ کے پاس آپ کے باطن ہی میں سزائے موت ہوتی ہے۔ آپ ’’قطعی طور پر ناپاک‘‘ ہیں (احبار 13:44)۔ آپ واقعی میں ایسی ہی نااُمیدی میں گمشدہ ہیں جیسی نااُمیدی میں وہ لوگ تھے۔

II۔ دوسری بات، وہ مر رہے تھے۔

آیت چار میں اُنہوں نے ایک دوسرے سے کیا کہا آئیے اُس پر نظر ڈالیں،

’’اگر ہم کہیں کہ ہم شہر کے اندر جائیں گے تو وہاں قحط ہے اور ہم مر جائیں گے۔ اور اگر ہم یہاں بیٹھے رہیں تو بھی مر جائیں گے…‘‘ (2۔ سلاطین 7:4).

یہ لوگ فاقوں سے مر رہے تھے۔ آپ، بھی مر رہے ہیں۔ آپ کے بدن میں بالکل ابھی ہی سزائے موت کا حکم موجود ہے۔ بائبل کہتی ہے، ’’موت سب انسانوں میں پھیل گئی‘‘ (رومیوں5:12)۔ بائبل کہتی ہے، ’’انسان کا ایک بار مرنا مقرر ہے‘‘ (عبرانیوں9:27)۔ رچرڈ بیکسٹر Richard Baxter نے اکثر کہا کہ وہ ’’مرتے ہوئے لوگوں‘‘ کو منادی کر رہا تھا۔

ہر گزرتا ہوا گھنٹہ آپ کو اپنی موت کے قریب لے جاتا ہے۔ ہر دِن آپ کو چوبیس گھنٹے آپ کی موت کے نزدیک لے جاتا ہے۔ ہر سال آپ کو بارہ مہینے آپ کی موت کے قریب لے جاتا ہے۔ کوئی اِتوار کی دوپہر کو میری گاڑی سے ٹکرا گیا۔ دو گھنٹے بعد ایک دوسری گاڑی تقریباً میری گاڑی سے ٹکرا ہی گئی تھی۔ یہ بات مجھے یاد دلاتی ہے کہ ہر مرتبہ جب میں گاڑی میں بیٹھتا ہوں تو شاید میں اُس گاڑی میں سے کبھی بھی زندہ نہ نکل پاؤں۔ اور ایسا ہی آپ کے ساتھ بھی ہے۔

جی ہاں، یہ چاروں کوڑھی مرتے ہوئے آدمی تھے۔ اور ایسا ہی آج کی رات یہاں پر ہر ایک شخص ہے۔ اِن کوڑھیوں کے بارے میں میتھیو ھنری Mathew Henry نے کہا،

وہ بھوک سے فنا ہونے کے لیے تیار تھے؛ کوئی بھی اُنہیں تسکین دینے کے لیے [شہر کے] پھاٹک سے گزر کے نہیں آیا۔ کیا اُنہیں شہر میں جانا چاہیے، وہاں پانے کے لیے کچھ بھی تو نہیں تھا، اُنہیں سڑکوں پر مر جانا چاہیے؛ کیا اُنہیں ایک ہی جگہ پر بیٹھے رہنا چاہیے، اُنہیں موت کے لیے آرزو کرنی چاہیے… (تمام بائبل پر میتھیو ھنری کا تبصرہ Mathew Henry’s Commentary on the Whole Bible، ھینڈرِکسن پبلیشرز، دوبارہ اشاعت 1996، جلد دوئم، صفحہ 580)۔

موت سے فرار ہونے کے لیے آپ کہاں جا سکتے ہیں؟ اگر آپ گرجا گھر چھوڑ دیتے ہیں، اور باہر دُنیا میں نکلتے ہیں، تو آپ تب بھی مر جائیں گے۔ گرجا گھر کو چھوڑنا اور دُنیا میں نکل جانا آپ کو موت اور سزا سے فرار پانے میں مدد نہیں دے گا۔ اِس کے باوجود، اگر آپ یہیں گرجا گھر ہی میں رہتے ہیں، ایک غیرتبدیل شُدہ حالت میں، آپ تب بھی مریں گے اور سزا کا سامنا کریں گے۔

’’اگر ہم کہیں کہ ہم شہر کے اندر جائیں گے تو وہاں قحط ہے اور ہم مر جائیں گے۔ اور اگر ہم یہاں بیٹھے رہیں تو بھی مر جائیں گے‘‘ (2۔ سلاطین 7:4).

اِن لوگوں نے موت کا سامنا کیا تھا چاہے اِنہیں وہ وہیں ٹھہرتے جہاں پر تھے یا شہر میں چلے جاتے۔ یہ ہی بات آپ کے بارے میں بھی سچی ہے، کیا نہیں ہے؟

III۔ تیسری بات، وہ اجنبی تھے۔

تیسری آیت پر نظر ڈالیں۔

’’اور شہر کے پھاٹک سے اندر جانے کے مقام پر چار کوڑھی تھے…‘‘ (2۔سلاطین 7:3).

مصرف بیٹے کی تمثیل میں اور بڑے بھائی کی تمثیل میں، دونوں بندے اجنبی تھے۔ یہ دونوں ہی بھائی نجات سے باہر تھے۔ بالکل جیسے یہ کوڑھی شہر سے باہر بند کر دیے گئے تھے، ایسے ہی آپ کو بھی نجات سے باہر کر دیا گیا ہے۔

مصرف بیٹے نے ’’ایک دور دراز مُلک کا سفر کیا تھا‘‘ (لوقا15:14)۔ وہ خُدا سے بہت دور سفر کر گیا تھا۔ لیکن اُس کا بڑا بھائی بھی باہر ہی رہا تھا۔ وہ ’’اندر گھر میں جانا نہیں چاہتا تھا… اور اندر نہیں گیا‘‘ (لوقا15:25، 28)۔ حالانکہ وہ مذہبی تھا، وہ نجات میں داخل نہیں ہوا ہو گا۔ وہ مصرف بیٹا اور وہ بڑا بھائی دونوں ہی اجنبی تھے۔ وہ مسیح کے لیے – اندر داخل نہیں ہوئے۔ کیا یہی حالت آپ کی بھی نہیں ہے؟ کیا آپ بھی ’’پھاٹک میں داخل ہونے کی راہ میں‘‘ اتنے ہی گمشدہ نہیں ہیں جتنے کہ وہ کوڑھی تھے؟

IV۔ چوتھی بات، اُنہوں نے غور کیا تھا۔

تیسری آیت پر دوبارہ نظر ڈالیں۔

’’اور شہر کے پھاٹک سے اندر جانے کے مقام پر چار کوڑھی تھے۔ اُنہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ ہم مرنے تک یہاں کیوں بیٹھے رہیں؟‘‘ (2۔ سلاطین 7:3).

’’ہم مرنے تک یہاں کیوں بیٹھے رہیں؟‘‘ وہ اپنے ذہن استعمال کر رہے تھے۔ وہ غور کر رہے تھے۔ خُدا نے کہا،

’’خُداوند فرماتا ہے، اب آؤ ہم مل کر غور کریں: حالانکہ تمہارے گناہ قرمزی ہیں وہ برف کی مانند سفید ہو جائیں گے..‘‘ (اشعیا1:18)۔

وہ یونانی لفظ جس نے ’’غور کرنے reason‘‘ کا ترجمہ کیا اُس کا مطلب ہوتا ہے ’’بحث کرنا، قائل کرنا‘‘ (Strong)۔ دوسرے لفظوں میں، اِس پر سوچیں۔ سوال کے چاروں اطراف پر نظر دوڑائیں جب تک کہ آپ قائل نہ ہو جائیں۔

کیا بالکل ایسا ہی اِن چاروں کوڑھیوں نے نہیں کیا تھا؟ اُنہوں نے سوال کو اپنے ہی ذہنوں میں گھومایا تھا۔ ’’اگر ہم شہر میں جائیں گے تو ہم مر جائیں گے۔ اگر ہم یہیں رُکیں گے تو بھی ہم مر جائیں گے۔‘‘

’’اُنہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ ہم مرنے تک یہاں کیوں بیٹھے رہیں؟‘‘ (2۔ سلاطین 7:3).

یہ وہ آیت تھی جس نے سب سے پہلے میری والدہ کو بیدار کرنا شروع کیا۔ وہ کافی مدت سے گرجا گھر میں ہر اِتوار کو آتی تھی۔ لیکن وہ پھر بھی گمشدہ ہی تھیں۔ پھر ایک اِتوار کو اُنہوں نے مجھے اِس آیت پر ایک واعظ کی منادی کرتے ہوئے سُنا، ’’ہم مرنے تک یہاں کیوں بیٹھے رہیں؟‘‘ چند ایک دِن کے بعد میں اُس سے بات کر رہا تھا اور اُنہوں نے اچانک اِس آیت کا تزکرہ کر دیا۔ حالانکہ وہ کافی عرصے سے گرجا گھر میں آتی رہی تھیں اُنہوں نے کبھی بھی میرے ساتھ میرے کسی بھی واعظ کے بارے میں جسے اُنہوں نے مجھے منادی کرتے ہوئے سُنا تھا بات نہیں کی تھی۔ لیکن اُس دِن اُنہوں نے بالاآخر بات کر ہی دی۔ والدہ نے کہا، وہ کافی سچا تھا جس کی منادی تم نے گذشتہ اِتوار کو کی تھی۔‘‘ میں نے کہا، ’’وہ کیا تھا؟‘‘ اُنہوں نے کہا، ’’تم نے ہمیں جس کے بارے میں بتایا تھا کہ مرنے تک یہیں نہیں بیٹھے رہنا چاہیے۔‘‘ بائبل میں سے کوئی نہ کوئی بات بالاآخر اُن پر اثر کر ہی گئی! تھوڑے ہی عرصے بعد وہ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو چکی تھیں۔ غور کرنے سے اُن کی موت سے نکلنے میں اور مسیح تک پہنچنے میں رہنمائی کی تھی۔

’’ہم مرنے تک یہاں کیوں بیٹھے رہیں؟‘‘ (2۔ سلاطین 7:3).

اور اسی لیے میں آپ میں سے کچھ کو کہتا ہوں کہ جو گرجا گھر میں کافی عرصے سے آتے رہے ہیں، مرنے تک یہاں کیوں بیٹھے رہیں؟ آپ یہاں پر بیٹھے رہ سکتے ہیں جب تک کہ آپ ناقابلِ معافی گناہ کا اِرتکاب نہیں کر لیتے، اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خُدا کی جانب سے گناہ میں مُردہ چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ یا آپ یہاں پر بیٹھے رہیں جب تک کہ آپ جسمانی طور پر مر نہیں جاتے، ایک غیرتبدیل شُدہ حالت میں۔

’’ہم مرنے تک یہاں کیوں بیٹھے رہیں؟‘‘ (2۔ سلاطین 7:3).

V۔ پانچویں بات، وہ اُٹھے کھڑے ہوئے اور وہ حاصل کیا جس کی اُنہیں ضرورت تھی۔

آپ پانچ پرنظر ڈالیں۔

’’اور شام کے دھندلکے میں وہ اُٹھے اور ارامیوں کی لشکرگاہ کی طرف چل دیئے۔ اور جب وہ ارامیوں کی اُس لشکرگاہ کے پاس پہنچے تو وہاں کوئی بھی نہ تھا‘‘ (2۔ سلاطین 7:5).

اِس واعظ میں خُدا کی پروردگاری کی تحریک پر تبصرہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جس نے اِرامی (ملک شام کی) فوج کو ہر چیز پیچھے چھوڑ کر، اپنے خیموں میں سے فرار ہونے پر مجبور کیا تھا۔ اِتنا کہہ دینا ہی کافی ہے کہ خُدا اِس کے پیچھے تھا۔ اب آیت آٹھ پر نظر ڈالیں۔

’’اور وہ آدمی جو کوڑھی تھے اُس لشکرگاہ کی حد پر پہنچ کر ایک خیمہ میں داخل ہوئے۔ وہاں اُنہوں نے کھایا پیا اور چاندی، سونا اور کپڑے اُٹھا لے گئے…‘‘ (2۔ سلاطین 7:8).

اُوپر نظر اُٹھائیں، مہربانی سے۔ اِس آیت میں ایک بہت عظیم مبشراتی سچائی کی عکاسی کی گئی ہے۔ یہ بات کرتی ہے

’’اُس بے حد فضل کو ظاہر کرنے کی جو اُس نے اپنی مہربانی سے مسیح یسوع کے ذریعہ ہم پر کیا تھا‘‘ (افسیوں 2:7).

’’واہ! خدا کی نعمت، اُس کی حکمت اور اُس کا علم بے حد گہرا ہے…‘‘ (رومیوں 11:33).

یہ آدمی اِرامی (ملک شام) کی فوج کے خالی خیموں میں چلے گئے اور سونا چاندی اور مہنگے لباس اُٹھا لے گئے۔ جب آپ جاگتے ہیں تو مسیح کے پاس آتے ہیں – آپ، بھی، وہیں پائیں گے جس کی آپ کو ضرورت ہوتی ہے! خُدا آپ کو ’’اپنے بیحد فضل کی معموری سے لبریز‘‘ کرے گا۔ آپ ’’خُدا کے علم اور حکمت دونوں کی لبریزی کے ساتھ‘‘ بھر دیے جائیں گے۔ آپ نجات پا جائیں گے!

وہ کوڑھ زدہ بندے رہے تھے، فاقوں سے مرتے ہوئے، شہر سے باہر نکالے ہوئے، مرنے کا انتظار کرتے ہوئے۔ اُنہوں نے غور کیا اور اپنی حالت کے بارے میں سوچا۔ اُنہوں نے کہا، ’’ہم مرنے تک یہاں کیوں بیٹھے رہیں؟‘‘ وہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور چلے گئے – اور جس کی اُنہیں ضرورت تھی وہ پایا۔ وہ تمام چیزیں جن کی اُن کے دِلوں کو خواہش تھی پروردگاری طور پر خُدا کے وسیلے سے اُن کے لیے تیار کی جا چکی تھی۔

اب میں آپ سے پوچھتا ہوں، ہم مرنے تک یہاں کیوں بیٹھے رہیں؟ اُٹھ کھڑے ہوں اور یسوع کے پاس آئیں۔ سچ ہے، آپ ایک ناگوار گنہگار ہیں۔ آپ بُری طرح سے اور کافی عرصے سے گناہ کر چکے ہیں۔ آپ کا دِل اِس قدر سخت ہے۔ لیکن مرنے تک یہاں کیوں بیٹھے رہیں؟ کیوں نا، ابھی، اُٹھیں اور نجات دہندہ کے پاس آئیں؟ وہ آپ کو اپنے لہولہان بازوؤں میں تھام لے گا اور آپ کو نجات دے گا، اور آپ کے کسی بھی تصور یا اُمید سے بھی پرے روحانی دولت بخشے گا۔

’’خُداوند فرماتا ہے، اب آؤ ہم مل کر غور کریں: حالانکہ تمہارے گناہ قرمزی ہیں وہ برف کی مانند سفید ہو جائیں گے..‘‘ (اشعیا1:18)۔

جیسا کہ جوزف ہارٹ Joseph Hart نے اِس کو تحریر کیا،

آؤ، اے گنہگارو، غریب اور خستہ حال، کمزور اور زخمی، بیمار اور دُکھی؛
یسوع تمہیں بچانے کے لیے تیار کھڑا ہے، ہمدرردی، محبت اور قوت سے بھرپور؛
وہ لائق ہے، وہ لائق ہے، وہ رضامند ہے، مذید اور شک مت کرو!
وہ لائق ہے، وہ لائق ہے، وہ رضامند ہے، مذید اور شک مت کرو!
   (’’آؤ، اے گنہگاروںCome, Ye Sinners ‘‘ شاعر جوزف ہارٹ Joseph Hart ، 1712۔1768).

لُبِ لُباب

کوڑھیوں سے ایک سبق

A LESSON FROM THE LEPERS

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’ہم مرنے تک یہاں کیوں بیٹھے رہیں؟‘‘ (2۔ سلاطین 7:3).

(2 سلاطین 7:3۔10؛ 2 تیموتاؤس 3:16)

I.   پہلی بات، وہ کوڑھ زدہ تھے، 2 سلاطین 7:3الف؛ احبار 13:1، 44؛
اشعیا1:4۔6؛ افسیوں2:1 .

II.  دوسری بات، وہ مر رہے تھے، 2 سلاطین 7:4؛ رومیوں5:12؛ عبرانیوں9:27 .

III. تیسری بات، وہ اجنبی تھے، 2سلاطین 7:3الف؛ لوقا15:13، 25، 28 .

IV. چوتھی بات، اُنہوں نے غور کیا تھا، اشعیا1:8؛ 2 سلاطین7:3ب۔

V.  پانچویں بات، وہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور جس کی اُنہیں ضرورت تھی وہ پایا، 2سلاطین 7:5، 8؛ رومیوں11:33؛ افسیوں2:7؛ اشعیا1:8 .