Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


تلِیتا قُومی – مُردوں میں سے زندہ ہو جا

TALITHA CUMI – ARISE FROM THE DEAD!
(Urdu)

ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغ کیا گیا ایک واعظ
خداوند کے دِن کی شام، 21 ستمبر، 2003
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Morning, September 21, 2003

’’اُس نے بچی کا ہاتھ پکڑ کر اُسے کہا، تلیتھا قُومی؛ جس کا ترجمہ کیا جاتا ہے، اے بچی میں تجھ سے کہتا ہوں اُٹھ۔ بچی ایکدم اُٹھی اور چلنے پھرنے لگی؛ کیونکہ وہ بارہ سال کی تھی۔ یہ دیکھ کر وہ حیرت زدہ رہ گئے‘‘ (مرقس 5: 41۔42)۔

اگر آپ نے خودمختیار بپتسمہ دینے والوں کی تاریخ پڑھی ہے تو آپ جانتے ہیں کہ 1930 اور 1940 کی دہائیوں میں ہمارے درمیان خدا کی تحریک تھی۔ جیسا کہ تمام بیداریوں کے ساتھ، خدا کی یہ تحریک نوجوانوں کے درمیان مرکوز تھی۔ جے فرینک نورس میں جو بھی خامیاں تھیں، کوئی بھی ان پر یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ وہ نوجوانوں کی پرواہ نہیں کرتے۔ وہ واقعی میں نوجوانوں سے گھرے ہوتے تھے – تقریباً ہر وقت۔ یہ بات جاننا حیرانی کی بات نہیں ہو گی کہ وہ نوجوانوں کے کیمپ میں منادی کرتے ہوئے مر گئے! سیکڑوں نوجوانوں کو تربیت دی گئی اور ڈاکٹر نورس نے گرجا گھر شروع کرنے کے لیے بھیجا۔ ان میں سے کچھ نے بعد میں شکایت کی کہ اُنہوں نے ان کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کیا۔ لیکن یہ میرے لیے واضح ہے کہ وہ اس کے برابر نہیں تھے – کیونکہ نورس کے برابر کا کوئی نہیں تھا! کاش آج ہمارے پاس اس جیسے دو یا تین بندے ہوتے! وہ ہمارے زمانے کے زیادہ تر مبلغین سے کئی درجے بہترین تھے۔

ان مبلغین میں سے کچھ ’’چھوٹی داڑھیوں کے ساتھ (وہ دراصل ’’وین ڈائکس‘‘ ہیں – آپ اُن کے بارے میں چھان بین کر سکتے ہیں!)، گرجا گھر میں رقص کرتے، بے ھنگم موسیقی بجاتے اور ریپ میوزک گاتے، وہ بے شمار نوجوانوں کو کٹر مسیحی بنانے کے اہل نہیں ہیں۔ لیکن جے فرینک نورس نے واقعی میں نوجوانوں میں سے کٹّر مسیحی بنائے – سینکڑوں کی تعداد میں – پرانے زمانے کی ولولہ انگیز اور شعلہ فشاں تبلیغ کے ساتھ – اور کچھ اور باتوں کے ساتھ!

نوجوان لوگ تاریخ کے ہر حیاتِ نو کا مرکز رہے ہیں۔ جوناتھن ایڈورڈز نے اپنے نوجوانوں کو دو عمر کے گروپوں میں تقسیم کیا – وہ جو کہ 16 سال اور اس سے کم عمر کے تھے، اور وہ جو 16 سال سے 26 سال کی عمر تک کے تھے۔ اُنہوں نے اپنا تقریباً سارا وقت اور کوشش ان دو گروپوں پر صرف کی۔ نتیجہ؟ پہلی عظیم بیداری – جس نے خدا کی خاطر پوری زمین کو ہلا کر رکھ دیا، اور ہماری قوم کے کردار کو بدل دیا۔

جارج وائٹ فیلڈ کی عمر صرف 24 سال تھی جب اُنہوں نے انگریزی بولنے والی ساری دنیا کو توجہ دینے کا حکم دیا، اور لاکھوں لوگوں کو تبلیغ کی۔ سی ایچ سپرجئین C. H. Spurgeon صرف 19 سال کے تھے جب وہ اس گرجا گھر کے پادری بنے جو اس زمانے کی دنیا کا سب سے بڑا بپٹسٹ گرجا گھر بن گیا ہوتا۔ دوسری عظیم بیداری کا آغاز اسکول کے بچوں میں دعا اور نوجوان بالغوں کے درمیان دعا کرنے کے ساتھ ہوا۔

جب گرجا گھر تیس سال سے زیادہ عمر کے لوگوں سے بھر جاتے ہیں تو وہ مر جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی انجیلی بشارت کی تمام )کچھ حصہ نہیں) کوششوں کو ہائی اسکول اور کالج کی عمر کے نوجوانوں پر لگاتے ہیں۔ آپ امریکہ میں سب سے اہم لوگ ہیں! ہمارے جیسے بوڑھے لوگ بہت جلد (اِس دُںیا کے) منظر سے گزرنا شروع کر دیں گے (مرتے جائیں گے) – اور تب ہی آپ کی باری (ذمہ داری) ہوگی۔ اس لیے ہم آپ کو اپنے گرجہ گھر میں چاہتے ہیں! ہم آپ کو چاہتے ہیں! تنہا کیوں رہا جائے؟ گھر میں چلے آئیں – گرجہ گھر میں!

نیا عہد نامہ ہمیں بتاتا ہے کہ مسیح نے اپنا زیادہ تر وقت نوجوانوں کے ساتھ گزارا۔ مسیح مسلسل بچوں اور نوجوان بالغوں سے گھرا ہوا رہتا تھا۔ یہ بزرگ لوگ تھے، کاہن اور فریسی، جنہوں نے اُسے ردّ کیا، اور اُس سے نفرت کی، اور اُس کو مصلوب کروانے کے لیے چِلائے۔ لیکن نوجوان لوگ اُس کو سننے کے لیے اِکٹھے ہو گئے۔ اُس نے اُن میں ولولہ پیدا کیا، اور اُنہیں للکارا، اور اُنہیں ایک تخّیل دیا۔ اس نے انہیں زندگی اور موت کے معنی سکھائے! اُس نے اُنہیں مستقبل کی اُمید دی! اس نے انہیں جینے کی وجہ دی!

انہی نوجوانوں میں سے ایک لڑکی تھی جس کے بارے میں ہمارئ تلاوت میں بات کی گئی ہے۔ وہ بیمار تھی۔ انہوں نے اسے بستر پر ڈال دیا۔ مسیح کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی وہ مر چکی تھی۔ جب لڑکی کا باپ آخرکار مسیح کے ساتھ پہنچا تو لوگوں نے اُس سے کہا،

’’تیری بیٹی مر چکی ہے اب اُستاد کو تکلیف دینے سے کیا فائدہ؟‘‘ (مرقس 5: 35)۔

لیکن مسیح اندر چلا گیا جہاں اُس کا مُردہ جسم پڑا ہوا تھا،

’’اُس نے بچی کا ہاتھ پکڑ کر اُسے کہا، تلیتا قُومی؛ جس کا ترجمہ کیا جاتا ہے، اے بچی میں تجھ سے کہتا ہوں اُٹھ۔ بچی ایکدم اُٹھی اور چلنے پھرنے لگی؛ کیونکہ وہ بارہ سال کی تھی۔ یہ دیکھ کر وہ حیرت زدہ رہ گئے‘‘ (مرقس 5: 41۔42)۔

ڈاکٹر جان گلDr. John Gill ہمیں بتاتے ہیں کہ ’’تلیتھا قُومی‘‘ کا مطلب ہے ’’اے بچی، اٹھو‘‘ یا ہم کہہ سکتے ہیں، ’’لڑکی، اٹھو!‘‘ ڈاکٹر گِل کہتے ہیں کہ ’’تلی TALI کا مطلب لڑکا ہے اور تلیتھاTALITHA کا مطلب ایک لڑکی ہوتا ہے‘‘ اور اس لیے یسوع نے اس مردہ لڑکی سے کہا، ’’تلیتھا قُومی‘‘ – ’’اے لڑکی، اٹھو!‘‘ یہ وہی ہے جو وہ آپ سے کہتا ہے – ’’اے لڑکی، اٹھ! اے لڑکے، اٹھ!‘‘ مرقس 5 میں یہ بیان آج کے نوجوانوں کو تین اہم سبق سکھانے کے لیے دیا گیا ہے۔

I۔ پہلی بات، یہ آیات ہم پر ظاہر کرتی ہیں کہ مسیح نوجوانوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔

اُس نے اپنے معمول سے بڑھ کر اضافی تکلیف اور پریشانی کا سامنا کیا، اور دوسری تمام مذہبی باتوں اور منادی کو روک دیا، تاکہ اس آدمی کے پیچھے پیچھے اس کی مرتی ہوئی بیٹی کے پلنگ کے پاس پہنچ جائے۔ اس سے پہلے مرقس 5 باب میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہجوم میں سے اُس پر لوگ گرتے پڑ رہے تھے (حوالہ دیکھیں مرقس 5: 31)۔ لیکن یسوع اس لڑکی کے پلنگ پر اکیلے جانے کے لیے بھیڑ سے الگ ہو گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح نوجوانوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔ وہ آج صبح آپ کے بارے میں فکر مند ہے۔

ہم کالجوں اور دوسری جگہوں پر باہر گئے جہاں نوجوان لوگ جمع ہوتے ہیں، اور آپ کو [انجیل کی] خوشخبری سنانے کے لیے گرجہ گھر آنے کی دعوت دی۔ اور آپ میں سے بہت سے لوگ آج صبح آئے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ آپ نے ایسا کیا! آپ ہمارے معزز مہمان ہیں! آنے کا شکریہ!

نوجوان لوگ مسیح کی منادی کے بالکل مرکز میں تھے۔ تمام شاگرد، سوائے پطرس کے، بیس سال کے تھے، اور یوحنا رسول صرف نوعمر تھے جب اُس نے پہلی بار تبلیغ شروع کی۔ اور مجھے لگتا ہے کہ ہمیں نوجوانوں تک پہنچنے پر وہی زور دینا چاہیے جو یسوع نے کیا تھا۔

افسوس کی بات ہے کہ بہت سے گرجا گھر نوجوانوں پر زیادہ اصرار نہیں کرتے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ’’انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے گھروں میں پرورش پانے والے 88 % بچے 18 سال کی عمر میں گرجا گھر چھوڑ دیتے ہیں، کبھی واپس نہیں آتے‘‘؟ (آگاپے پریس Agape Press، 13 جون 2002، دُنیا میں کیا! What in the World! میں رپورٹ کیا گیا، باب جونز یونیورسٹی کی ایک نیوز سروس، جلد 32، نمبر 2)۔ ڈیل سٹی، اوکلاہوما کے فرسٹ سدرن بیپٹسٹ گرجا گھر کے پادری ٹام ایلیف نے 19 جون 2003 کو سدرن بیپٹسٹ کنونشن میں یہی اعداد و شمار پیش کیے تھے۔ ایلیف نے کہا، ’’انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والوں میں سے، 88 فیصد بچے 18 سال کی عمر میں ایمان چھوڑ دیتے ہیں‘‘ (بپتسمہ دینے والا پیغام رساں Baptist Messenger، 020620 شمارہ، صفحہ 2)۔ میرے خیال میں یہ ایک اہم وجہ ہے کہ گزشتہ 50 سالوں میں انجیلی بشارت نے آبادی کا 2% سے بھی کم حصہ حاصل کیا ہے۔ ہم صرف خود اپنے ہی نوجوانوں کو مسیح میں ایمان دِلا کر تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں، دوسرے کئی نوجوانوں سے انتہائی کم! لیونارڈ ریون ہل نے کہا،

حیات نو ’’بائبل‘‘ والے چند گرجا گھروں میں ایک ہفتے میں مر جائے گا، کیوں کہ [جو لوگ بیدار ہیں اُن کی دیکھ بھال کرنے کے لیے] وہ [لوگ] کہاں ہیں؟ [ہم میں سے کتنے] ہیں جو کسی بشر کو اندھیروں میں سے نکال کر نور کی طرف لے جا سکتے ہیں؟ ان گرجا گھروں میں…. روحانی جنم لینا اتنا ہی معقول ہوگا جتنا کہ ایک نوزائیدہ بچے کو ایک برف جیسی یخ بستہ نیند میں سُلانا ہوتا ہے (لیونارڈ ریون ہلLeonard Ravenhill، کیوں حیات نو سُستی کا شکار ہیں Why Revival Tarries، بیت عنیاہ ہاؤسBethany House، 1959 کا معیاری 1988 والا ایڈیشن، صفحہ 132)۔

ہمارے گرجا گھروں نے بہت سی تدابیر اور وقتی چالوں کو آزمایا ہے، لیکن کسی نہ کسی طرح وہ سب ناکام ہو گئے ہیں۔ کچھ مبلغین تو وین ڈائک کی داڑھیاں بھی بڑھا رہے ہیں جنہیں وہ بے وقوفی سے ’’بکریوں جیسی‘‘ (بالکل مختلف داڑھی) کہتے ہیں۔ لیکن انہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ داڑھی صرف بڑے بچے ہی اُگا سکتے ہیں۔ ہائی اسکول اور کالج کی عمر کے نوجوان یہ داڑھیاں نہیں رکھتے! لہٰذا مبلغین جو اس طرح کی چالوں کا استعمال کرتے ہیں وہ ہمیشہ راہ سے ہٹ کر ہوتے ہیں – ہر چیز میں تقریباً 10 سال بہت دیر ہو چکی ہے۔

ہم یہاں اپنے گرجہ گھر میں کوئی تدابیر یا چالیں استعمال نہیں کرتے ہیں۔ میں ہارن رم والی عینک اور ایک سیاہ سوٹ پہنتا ہوں۔ میں ایک پرانی سکوفیلڈ کنگ جیمز بائبل سے تبلیغ کرتا ہوں۔ ہم پرانے گیت گاتے ہیں۔ ہم سراسر باہر آتے ہیں اور آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ کو کیا سننے کی ضرورت ہے! یسوع مسیح آپ میں دلچسپی رکھتا ہے۔ وہ آپ کی روح کو قیامت اور جہنم سے بچا سکتا ہے، اور آپ کو جینے کے لائق زندگی دے سکتا ہے! یہی وجہ ہے کہ ہم کہتے ہیں، ’’تنہا کیوں رہا جائے؟ گھرچلے آئیں – گرجہ گھر میں! کیوں کھویا ہوا رہا جائے؟ گھر چلے آئیں – یسوع مسیح کے پاس!‘‘

اس گرجا گھر کو اپنا دوسرا گھر بنائیں! جب بھی دروازہ کھلا ہو تو یہاں گرجہ گھر میں رہیں! مسیح کے پاس آئیں – اور اُس کے خون کے ذریعے اپنے گناہوں سے پاک صاف ہو جائیں! ایسا کریں! ایسا کریں! ایسا کریں!

II۔ دوسری بات، یہ آیات ہمیں ظاہر کرتی ہیں کہ مسیح نوجوانوں کو مردوں میں سے زندہ کر سکتا ہے۔

جب یسوع اُس لڑکی کے سونے کے کمرے میں گیا تاکہ اُسے مُردوں میں سے زندہ کرے، تو ’’وہ [لوگ] اُس کو طعنہ دینے کے لیے ہنسے‘‘ (مرقس 5: 40)۔ آج بھی ایسے لوگ ہیں جو ایسا کریں گے۔ وہ ہنسیں گے اور مذاق کریں گے، اور اس بات کا مذاق اڑائیں گے، اگر آپ انہیں بتائیں گے کہ آپ گرجہ گھر آ رہے ہیں اور ایک حقیقی مسیحی بننے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ آپ کے غیر مسیحی دوست آپ پر ہنسیں گے۔ آپ کے غیر نجات یافتہ والدین آپ کو اس گرجہ گھر سے دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ وہ آپ کو ان کے پرانے، مردہ گرجہ گھر میں واپس لے جانے کی کوشش کریں گے، جہاں نہ زندگی ہے اور نہ ہی خوش کن مسیحی نوجوان۔ وہ آپ کو بتا سکتے ہیں کہ آپ بدھ مت سے ہیں یا کیتھولک ہیں – اور آپ کو بپٹسٹ گرجا گھر میں نہیں آنا چاہیے۔ انہیں ہنسنے دیں۔ انہیں آپ کا مذاق اڑانے دیں۔ لیکن اِس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ ان کی بات نہیں سنیں گے! اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ یہاں ہر اتوار کو ہمارے ساتھ ہوں گے، چاہے وہ کچھ بھی کہیں۔ صرف مسیح ہی آپ کو مردوں میں سے زندہ کر سکتا ہے۔

ہائے، میں جانتا ہوں، یہ سب اب آپ کے لیے دھندلا اور غیر واضح لگتا ہے۔ آپ کی الجھن کی وجہ کافی واضح ہے۔ آپ ابھی تک نجات یافتہ نہیں ہوئے ہیں۔ آپ اب بھی ہیں

’’… مسیح کے بغیر، اسرائیل کی قوم میں تم شمار نہیں کیے جاتے تھے، اُن عہدناموں سے خارج تھے جن کا وعدہ خدا کی طرف سے کیا گیا تھا، تم اِس دُنیا میں خدا کے بغیر نااُمیدی کی حالت میں زندگی گزارتے تھے‘‘ (افسیوں 2: 12)۔

آپ ابھی بھی ’’گناہوں اور قصوروں میں مُردہ ہیں‘‘ (افسیوں 2: 1)۔

لیکن یسوع آپ کو روحانی موت سے زندہ کر سکتا ہے۔ اُس نے کہا،

’’وہ وقت آرہا ہے اور ابھی ہے جب مردے خدا کے بیٹے کی آواز سنیں گے اور جو سنیں گے وہ زندہ ہوں گے‘‘ (یوحنا 5: 25)۔

اگر آپ اس گرجہ گھر میں آتے رہتے ہیں، اور خوشخبری سنتے رہتے ہیں، تو مسیح کا نور جلد ہی آپ کے مردہ دل میں داخل ہو جائے گا۔ آپ کی آنکھوں پر سے پردہ گر جائے گا، اور آپ کو بینائی ملے گی، جیسا کہ پولوس نے کیا تھا (حوالہ دیکھیں، اعمال 9: 18)۔ آپ جلد ہی – یسوع کے پاس آنے سے، سب کچھ واضح طور پر دیکھیں گے، اور دوبارہ جنم لیں گے۔ یسوع آپ کو روحانی موت سے زندہ کرے گا – اور آپ اُس کے ذریعے بچائے جائیں گے! جیسا کہ چارلس ویزلی نے کہا،

میری زنجیریں کھل گئی تھیں، میرا دِل آزاد تھا، میں اُٹھا، آگے بڑھا،اور اُس کی پیروی کی!
حیرت انگیز پیار! یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تو، میرے خداوند، میری خاطر قربان ہو گیا؟
   (’’اور یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ And Can It Be? ‘‘ شاعر چارلس ویزلی Charles Wesley، 1707۔1788).

خوشخبری سننے کے لیے آتے رہیں۔ کھوئے ہوئے دوستوں، یا گمشدہ رشتہ داروں کو آپ کو روکنے نہ دیں! آسیب اور شیطان کو آپ کو دور نہ کھینچنے دیں! اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کتنے ہی عجیب احساسات اور خیالات رکھتے ہیں، ہر اتوار کو خوشخبری سننے کے لیے آتے رہیں! جلد ہی آپ اپنے ضدی طریقے ترک کر دیں گے، اور ایک چھوٹے بچے کی طرح یسوع کے پاس آئیں گے – اور وہ آپ کو روحانی موت سے اٹھائے گا – اور آپ کی روح کو نجات دلائے گا! جلد ہی آپ اندریاس رسول کے ساتھ کہیں گے،

’’ہم نے مسیحا کو پایا، جس کی تشریح کی جا رہی ہے، مسیح‘‘ (یوحنا 1: 41)۔

تب تم گاؤ گے اور پکارو گے، ’’میں نے مسیحا کو پا لیا ہے! مجھے مسیح مل گیا ہے! میں مردوں میں سے زندہ ہوا ہوں!‘‘ ’’تلیتھا قُومی… میں تجھ سے کہتا ہوں، اُٹھ۔ اور فوراً وہ [نوجوان لڑکی] اُٹھی اور چل دی‘‘ (مرقس 5: 41-42)۔

III۔ تیسری بات، یہ آیات ہم پر ظاہر کرتی ہیں کہ مسیح آپ کو ابدی زندگی دے سکتا ہے۔

مسیح نے اس لڑکی کو مردوں میں سے زندہ کیا تاکہ آپ کو یہ دکھایا جائے کہ وہ آپ کو زندہ کر سکتا ہے اور آپ کو ہمیشہ کی زندگی دے سکتا ہے۔ یسوع نے کہا،

’’جو بیٹے پر ایمان لاتا ہے اُس کے پاس ہمیشہ کی زندگی ہے‘‘ (یوحنا 3: 36)۔

یسوع نے کہا،

’’یہ اُس کی مرضی ہے جس نے مجھے بھیجا ہے کہ ہر ایک جو بیٹے کو دیکھے اور اُس پر ایمان لائے ہمیشہ کی زندگی پائے‘‘ (یوحنا 6: 40)۔

یسوع نے کہا،

’’قیامت اور زندگی میں ہوں: وہ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے، اگرچہ وہ مردہ تھا، پھر بھی وہ زندہ رہے گا: اور جو کوئی زندہ ہے اور مجھ پر ایمان رکھتا ہے وہ کبھی نہیں مرے گا‘‘ (یوحنا 11: 25-26)۔

اُن آیات کے بارے میں پولوس رسول نے کہا

’’اس پر ابدی زندگی کے لیے یقین رکھو‘‘ (I۔ تیمتھیس 1: 16)۔

اور یسوع نے پوری بائبل میں سب سے مشہور آیت پیش کی،

’’کیونکہ خُدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے‘‘ (یوحنا 3: 16)۔

مسیح نے اس مردہ لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر کہا،

’’اُس نے بچی کا ہاتھ پکڑ کر اُسے کہا، تلیتا قُومی … اے بچی میں تجھ سے کہتا ہوں اُٹھ۔ بچی ایکدم اُٹھی اور چلنے پھرنے لگی؛ کیونکہ وہ بارہ سال کی تھی۔ یہ دیکھ کر وہ حیرت زدہ رہ گئے‘‘ (مرقس 5: 41۔42)۔

جب یسوع نے کہا، ’’تلیتھا قُومی‘‘ وہ لڑکی مُردوں میں سے زندہ ہو گئی۔ اور یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ مسیح آپ کو زندگی بخش سکتا ہے – یہاں تک کہ ابدی زندگی۔ یسوع نے کہا،

’’میں انہیں ہمیشہ کی زندگی دیتا ہوں اور وہ کبھی ہلاک نہیں ہوں گے‘‘ (یوحنا 10: 28)۔

جب یسوع آپ کو زندہ کرنے کے لیے بلاتا ہے، تو آپ اس کے پاس آ سکتے ہیں اور نجات پا سکتے ہیں۔ مسیح آپ کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پر مرا۔ اس نے اپنا خون بہایا تاکہ آپ کے گناہوں کو صاف کیا جا سکے۔ اس کا خون تازہ ہے اور ابھی آپ کے گناہوں کو پاک کرنے کے لیے دستیاب ہے! پھر مسیح جسمانی طور پر مردوں میں سے جی اُٹھا۔ وہ واپس تیسرے آسمان پر چڑھ گیا۔ وہ اب وہاں بیٹھا ہے – خدا کے داہنے ہاتھ پر، آسمانوں میں۔

جب آپ مسیح کی طرف دیکھتے ہیں، اور اپنے پورے دل سے اس پر بھروسہ کرتے ہیں، تو وہ آپ کو روحانی موت سے زندہ کرتا ہے، اور آپ کو گناہ کی سزا سے نجات دلاتا ہے۔ یسوع نے کہا،

’’جو مجھ پر ایمان لاتا ہے، اگرچہ وہ مردہ تھا، پھر بھی زندہ رہے گا‘‘ (یوحنا 11: 25)۔

مسیح کے پاس آئیں۔ اپنے پورے دل سے اُس پر بھروسہ کریں، اور وہ آپ سے کہتا ہے، ’’تلیتھا قُومی! مُردوں میں سے جی اُٹھو!‘‘


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

لُبِ لُباب

تلِیتا قُومی – مُردوں میں سے زندہ ہو جا

TALITHA CUMI – ARISE FROM THE DEAD!

ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’اُس نے بچی کا ہاتھ پکڑ کر اُسے کہا، تلیتا قُومی؛ جس کا ترجمہ کیا جاتا ہے، اے بچی میں تجھ سے کہتا ہوں اُٹھ۔ بچی ایکدم اُٹھی اور چلنے پھرنے لگی؛ کیونکہ وہ بارہ سال کی تھی۔ یہ دیکھ کر وہ حیرت زدہ رہ گئے‘‘ (مرقس 5: 41۔42)۔

(مرقس 5: 35)

I۔   پہلی بات، مسیح نوجوانوں میں دلچسپی رکھتا ہے، مرقس 5: 31۔

II۔  دوسری بات، مسیح نوجوانوں کو مردوں میں سے زندہ کر سکتا ہے، مرقس 5: 40؛
افسیوں 2: 12، 1; یوحنا 5: 25؛ اعمال 9: 18؛ یوحنا 1: 41۔

III۔ تیسری بات، مسیح آپ کو ابدی زندگی دے سکتا ہے، یوحنا 3: 36؛ 6: 40; 11: 25-26؛
1۔تیمتھیس 1: 16؛ یوحنا 3: 16؛ 10: 28۔