Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


ایک جنگجو مسیحی ہونے کی جرأت کریں!

DARE TO BE A FIGHTING CHRISTIAN!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 10 دسمبر، 2017
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, December 10, 2017

حال ہی میں مَیں نے ورلڈ میگزین میں ایک دلچسپ آرٹیکل پڑھا۔ وہ ایک چینی طالب علم کے بارے میں تھا جو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ایک ایونجیلیکل بن گیا، اور کس طرح سے اُن میں سے زیادہ تر گھریلو گرجا گھروں میں سما سکتے ہیں جب وہ واپس چین میں جاتے ہیں۔ ایک لڑکی جو ایک ایونجیلیکل بنی اور واپس چین گئی اُس نے اُن مسائل کو واضح کیا جو اُنہیں درپیش ہیں۔ اُس نے کہا، ’’میں ایک گھریلو گرجا گھر کو دیکھنے کے لیے گئی۔ لیکن اُن کے ساتھ اپنے تجربوں کو بانٹنا میرے لیے واقعی میں مشکل تھا۔ وہ بس تعلق ہی نہیں رکھتے تھے۔ میں نے اِس قدر تنہا اور مغلوب پایا۔‘‘ اُس آرٹیکل نے کہا اُس لڑکی کا تجربہ مِثالی تھا۔ بے شمار نوجوان جو امریکہ میں ایونجیلیکلز بنتے ہیں اُس بات کے لیے تیار نہیں ہوتے جو وہ وہاں گھریلو گرجا گھروں میں پاتے ہیں – خاندانی دباؤ، کام کے شیڈول، اور انقلابی طور پر گرجا گھر والی ایک تہذیب۔ ’’دو سالوں کے بعد تقریباً 80 فیصد طالب علم جو ایونجیلیکلز بنتے ہیں مذید اور گرجا گھر میں حاضر نہیں ہوتے‘‘ (ورلڈ میگزین World Magazine، 30 ستمبر، 2017، صفحہ48)۔ اُن کی توقعات کُچل گئیں جب اُنہوں نے چین کے گرجا گھروں میں قدم رکھے – کچھ تو بغیر ائیر کنڈیشنڈ کے یا گرجا گھر کی عمارت کے ہی بغیر – جہاں پر کوئی بھی اُن کی ضرورتوں کی پرواہ نہیں کرتا۔‘‘

اِسی عرصے کے دوران چین میں موجود پادری صاحبان نے پایا کہ واپس آنے والے یہ نوجوان لوگ گرجا گھر کے اختیار کو چیلنج کرتے اور اِس کی شکایت کرتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ چین کے گھریلو گرجا گھروں کو بھی ریاست ہائے متحدہ کے گرجا گھروں کی مانند جہاں وہ جایا کرتے تھے ہونا چاہیے۔

مجھے یہ بہت دلچسپ لگا تھا کیونکہ ہمارے گرجا گھر میں ہم چینی گھریلو گرجا گھروں کے بارے میں انتہائی اعلیٰ خیالات رکھتے ہیں۔ اِن چینی مسیحیوں نے اشتراکیت پسندوں کے ذریعے سے کئی سالوں تک ایذارسانیوں کو برداشت کیا تھا۔ اِس کے علاوہ اِن چینی گھریلو گرجا گھروں میں سے بے شمار کے درمیان حقیقی حیاتِ نو ہے۔ ہمارے گرجا گھر میں ہمیں یہ یوں لگے گا کہ جیسے امریکہ کے گرجا گھروں والے بچوں کو گھریلو گرجا گھروں میں سنجیدہ ذہنیت اور حیاتِ نو والی ذہنیت کے چینی بچوں کے ساتھ ہونے سے محبت ہونی چاہیے! لیکن جی نہیں، امریکی طرز کے ایونجیلیکلز، گھریلو گرجا گھروں میں شدید روحانی چینی بچوں کے ساتھ ’’بس باہمی تعلق نہیں پیدا کر سکتے!‘‘ دو سالوں کے بعد امریکہ سے تعلق رکھنے والے ایونجیلیکلز میں سے تقریباً 80 فیصد گرجا گھر میں مذید اور حاضر ہی نہیں ہوتے!‘‘

کیوں؟ ائیر کنڈیشنڈ نہیں ہوتے! بیچارے بچے! گرجا گھر کی عمارت اچھی نہیں ہوتی! بیچارے، بیچارے بچے! کوئی بھی اُن کی ضرورتوں کا خیال نہیں کرتا! ہائے میں مر جاؤں! ہائے رے! بیچارے بچے! ہم چاہتے ہیں ہمیں ہر ایک چیز پیش کی جائے – جیسے ریاست ہائے متحدہ میں ایونجیلیکلز کو پیش کی جاتی ہے! ہم شکایت کرتے ہیں! ہم گرجا گھر کے رہنماؤں کے اختیار کو چیلنج کرتے ہیں – بالکل جیسے امریکہ سے تعلق رکھنے والے بگڑے ہوئے ایونجیلیکلز کرتے ہیں! ہم بالکل بھی سنجیدہ دعائیہ اِجلاسوں میں دلچسپی نہیں رکھتے! اُنہیں کیوں اِس قدر زیادہ دعا مانگنی پڑتی ہے – اور اِس قدر بُلند آواز میں! اُنہیں کیوں اِس قدر زور سے اور اِس قدر بُلند آواز میں منادی کرنی پڑتی ہے؟ وہ کیوں نہیں ہمیں پیارا سا تھوڑا سا بائبل کا مطالعہ نہیں پیش کر دیتے جیسے وہ امریکہ میں کرتے ہیں؟

اِن امریکہ میں تربیت پائے ہوئے چینی ایونجیلیکلز کے ساتھ کیا گڑبڑ ہے؟ ورلڈ میگزین نے کہا یہ ہے اُن امریکہ میں تربیت پائے ایونجیلیکز کے ساتھ وہ گڑبڑ جو واپس چین چلے جاتے ہیں – اُن میں سے 10 میں سے 8 واضح طور پر خوشخبری کو بیان نہیں کر سکتے! 10 میں سے 8 خوشخبری کو جانتے ہی نہیں! وہ امریکہ میں ایونجیلیکل گرجا گھروں میں مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے ہی نہیں ہوتے! یہ ہے وہ اہم بات جو اِن امریکہ میں تربیت پائے ایونجیلیکلز کے ساتھ غلط ہے۔ اُن میں سے 10 میں سے 8 صاف طور پر حقیقی مسیحی ہوتے ہی نہیں! تو تعجب کی کوئی بات نہیں اُنہیں چینی گھریلو گرجا گھروں میں حقیقی مسیحی پسند نہیں آتے! دوسری بات، خُدا کے ساتھ اُن کا ذاتی تعلق ہی نہیں ہوتا، صرف دوسرے گرجا گھر کے ممبران کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر گرجا گھر جانے کی واحد وجہ دوستی رہی ہو، تو آپ زیادہ دیر تک ٹک نہیں سکتے! اگر آپ کی یسوع مسیح کے ساتھ حقیقی رشتہ داری یا تعلق داری نہیں ہے، تو آپ جلد یا بدیر گرجا گھر کو چھوڑ جائیں گے! تیسری بات، اُنہیں گرجا گھر میں خُدا کی خدمت یا عبادت کرنے کی تعلیم نہیں دی گئی ہوتی۔ دوسرے لوگوں کی کبھی بھی خدمت کیے بغیر اور اُنہیں مسیح کے لیے جیتے بغیر ہی وہ چاہتے ہیں کہ اُن کی پرواہ کی جائے!

یہ سب کچھ جو ظاہر کرتا ہے وہ بدحال ناکامی ہے، وہ لگ بھگ مکمل ناکامی، امریکہ میں تربیت پانے والے اُن ایونجیلیکلز کی، جو نوجوان لوگوں کو سچے طور پر مسیح میں ایمان دلا کر تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور مسیح کے لیے کام کرنے سے محبت کرنا چاہتے ہیں! ہم یہ بات پہلے ہی سے جانتے ہیں، کیا نہیں جانتے؟ امریکہ میں تربیت پائے وہ ایونجیلیکلز کہتے ہیں، ’’میں دولت مند ہوں اور مالدار بن گیا ہوں اور مجھے کسی چیز کی حاجت نہیں؛ اور یہ نہیں جانتا کہ تو بدبخت بیچارہ، غریب اندھا اور ننگا ہے… اِس لیے چونکہ تو نہ گرم ہے نہ سرد بلکہ نیم گرم ہے اِس لیے تجھے میں اپنے مُنہ سے نکال پھینکوں گا‘‘ (مکاشفہ3:17، 16)۔ مسیح اِن مغرور، امریکہ میں تربیت پائے طالب علموں سے کہتا ہے، ’’میں تمہیں اپنے مُنہ سے اُگل دوں گا!‘‘ (واقعی میں)۔ اور یہ بات ہمیں دانی ایل کی کتاب میں اُن چار نوجوان لوگوں کے پاس لے جاتی ہے۔ دانی ایل، شدرک، میشک اور عبدنجو گھر سے 1,500 میل دور تھے۔ یہ نوجوان لوگ صرف نوبالغ ہی تھے، گھر سے بہت دور، ایک کافر بابلی شہر میں۔ کیا وہ واپس آنے والے اُن نئے کمزور ایونجیلیکلز کی مانند ہوں؟

یہ چار نوجوان لوگ ہی واحد عبرانی لڑکے نہیں تھے جنہیں وہاں پر اسیری میں رکھا گیا تھا۔ مہربانی سے دانی ایل 1:3 کھولیں۔ یہ سیکوفیلڈ مطالعہ بائبل کے صفحہ 898 پر ہے۔ مہربانی سے کھڑے ہو جائیں جب میں اِس آیت کو پڑھوں۔

’’اور بادشاہ نے اپنے دربار کے عُہدہ داروں کے صدر اشپیناز کو حکم دیا کہ وہ چند اسرائیلیوں [وہاں پر بے شمار اور دوسروں] کو لے آئے جو شاہی نسل کے اور شُرفا میں سے ہوں‘‘ (دانی ایل 1:3)۔

اب 6 آیت پر نظر ڈالیں۔

’’اِن میں سے چند بنی یہوداہ میں سے تھے جیسے دانی ایل، حننیاہ، میشاایل، عزریاہ‘‘ (دانی ایل1:6)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ وہ آیات ظاہر کرتی ہیں کہ وہاں پر اسرائیل کے اور دوسرے نوجوان لوگ بھی تھے جنہیں وہاں پر قیدیوں کی حیثیت سے رکھا گیا تھا۔ لیکن یہ نوجوان بہترین میں سے بہترین تھے۔ اُنہوں تین سالوں تک مجوسی بننے کے لیے تربیت دی جانے والی تھی اور پھر اُنہیں بابل کے بادشاہ نبوکدنضر کے لیے مُشیر بننا تھا۔ دانی ایل اُن میں سے تھا اور دوسرے تین شدرک، میشک اور عبدنجو تھے۔ وہ سارے کے سارے شاندار نوجوان لوگ تھے، جو شعور میں، سائنس میں اور زبانوں میں بہت آگے تھے۔

لیکن اُن چار لڑکوں کے بارے میں کچھ اور بات بھی تھی جو مختلف تھی۔ وہ بادشاہ کی خوراک نہیں کھانا چاہتے تھے اور اُس کی شراب نہیں پینا چاہتے تھے۔ اُنہوں نے خوراک اور شراب سے تعلق رکھتے ہوئے موسیٰ کی شریعت کو برقرار رکھنے کے لیے درخواست کی تھی۔ اُن کو قتل کر دیا گیا ہوتا۔ وہ اس کافرانہ عدالت میں خُدا کے لیے ایک مشکل کام میں ڈٹے ہوئے تھے۔ آیت 8 پر نظر ڈالیں۔ یہ کہتی ہے، ’’دانی ایل نے دِل میں یہ طے کر لیا کہ وہ اپنے آپ کو شاہی گوشت [طعام] اور شاہی مے سے ناپاک نہیں کرے گا۔‘‘ باقی تینوں نے بھی یہی کام کیا۔ اُنہوں نے خُدا کی خاطر ایک مشکل کام کو اپنایا۔ دیکھا آپ نے، یہ صرف بادشاہ کے ملازمین ہی نہیں تھے جو اُن کی تربیت کر رہے تھے۔ خُداوند خود اُن کی تربیت اپنے لیے کھڑے ہونے اور اُس سے شرمندہ نہ ہونے کے لیے کر رہا تھا۔ کیا آپ اپنے سر کو جھکاتے ہیں اور خُدا کا شکریہ ادا کرتے ہیں ہر مرتبہ جب آپ کھانا کھاتے ہیں؟ کیا آپ ایسا کرنا جاری رکھتے ہیں یہاں تک کہ اُس وقت بھی جب آپ اُن لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جو مسیحی نہیں ہوتے؟ کیا آپ ویسا کرنا جاری رکھتے ہیں جب آپ ایک ریستورنٹ میں ہجوم میں ہوتے ہیں؟ کیا آپ کرسمس کی شام کھانے کی دعوت کے موقع پر گرجا گھر میں ہوں گے؟ یا کیا آپ ایک گناہ کی جگہ پر ہونے کے لیے کرسمس کی شام کو گرجا گھر میں غیرحاضر ہو جائیں گے؟ کیا آپ نئے سال کی شام کو ہمارے ساتھ گرجا گھر میں ہوں گے؟ یا کیا آپ کافروں کی ایک دعوت میں ہوں گے؟ جیسا اُن لڑکوں نے کیا ویسا قدم اُٹھانے کے لیے جرأت اور ایمان کی ضرورت پڑتی ہے! میں نے گیت میں ایک لفظ کی ترمیم کی ہے۔

دانی ایل جیسا ہونے کی جرأت کریں،
   تنہا ڈٹے رہنے کی جرأت کریں!
ایک مضبوط مقصد رکھنے کی جرأت کریں!
   اِس کو مشہور کرنے کی جرأت کریں!

کھڑے ہو جائیں اور اِس کو گائیں!

دانی ایل جیسا ہونے کی جرأت کریں،
   تنہا ڈٹے رہنے کی جرأت کریں!
ایک مضبوط مقصد رکھنے کی جرأت کریں!
   اِس کو مشہور کرنے کی جرأت کریں!

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

وہ چاروں لڑکے امریکہ میں تربیت پائے ہوئے اُن چینی بچوں کی مانند نہیں تھے جو چین میں اچھے اچھے گرجا گھر چاہتے تھے نرم دِل والے اور مفاہمت کرنے والے جیسے امریکی ایونجیلیکلز ہوتے ہیں۔ جی نہیں! جی نہیں! اُن لڑکوں نے خُدا کی فرمانبرداری کرتے رہنا جاری رکھا تھا چاہے کسی کو وہ اچھی لگتی یا نہ لگتی! یہ ہے بچوں کی وہ قسم جس کی خُدا عزت کرتا ہے! اُس نے اُن کی عزت کی اور وہ آپ کی بھی عزت کرے گا اگر اُن لڑکوں کی مانند سنجیدہ ہو جاتے ہیں!

اب اِن لڑکوں کو ایک اور اِمتحان دیا جاتا ہے۔ اُنہوں نے ناپاک خوراک کو نا کھانے کے ذریعے سے پہلے امتحان کو تو پاس کر لیا۔ لہٰذا خُداوند اب اُنہیں ایک دوسرے اِمتحان میں ڈالتا ہے – وہ دعا کے لیے اِمتحان ہے۔ بادشاہ کو ایک خواب آیا تھا اور وہ جاننا چاہتا تھا اُس کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ لیکن اُس نے اپنے مجوسیوں کو نہیں بتایا تھا کہ خواب کیا تھا۔ اُس کا تقاضا تھا کہ وہ پہلے اُسے بتائیں خواب کیا تھا اِس سے پہلے کہ وہ واضح کریں اِس کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کر پائے تو اُن کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا۔ بادشاہ نے کہا، ’’مجھے خواب بتاؤ اور اُس کی تاویل بتاؤ‘‘ (2:6)۔ مجوسیوں نے کہا کہ کوئی بھی انسان وہ نہیں کر سکتا وہ [بادشاہ] پوچھ رہا ہے۔ اِس بات نے بادشاہ کو ناراض کر دیا اور اُس نے فرمان جاری کر دیا کہ بابل میں تمام مجوسیوں کو قتل کر دیا جائے۔ بادشاہ کا فرمان جاری ہو گیا اور وہ دانی ایل اور اُس کے تین دوستوں کو دوسرے مجوسیوں کے ساتھ قتل کرنے کے لیے تلاش میں نکل پڑے۔ دانی بادشاہ کے پاس گیا اور تھوڑی اور مُہلت مانگی کہ وہ جواب پیش کر دے گا۔ دانی ایل نے کیا کِیا؟ وہ گیا اور اپنے تینوں دوستوں شدرک، میشک اور عبدنجو کو پکڑا۔ اور اِن چار لوگوں نے ایک دعائیہ اِجلاس کیا۔ وہ مجھے جان، جیک، نوح اور ہارون کی یاد دلاتے ہیں، وہ چار نوجوان لوگ جو دعا کے لیے میرے ساتھ شامل ہوتے ہیں۔ اُنہوں نے آسمان کے خُدا سے رحم کی بھیک طلب کی۔ اُنہوں نے خُداوند سے اُس خفیہ خواب کو بتانے کے لیے دعا مانگی۔ دانی ایل2:19 پر نظر ڈالیں، ’’تب ایک رات کو دانی کو رویا میں یہ ظاہر کیا گیا۔ تب دانی ایل نے آسمانی خُداوند کی تمجید کی۔‘‘ دانی ایل 2:23 پر نظر ڈالیں۔ دانی ایل نے کہا، ’’اے میرے بزرگوں کے خُدا میں تیرا شکر بجا لاتا ہوں اور تیری تمجید کرتا ہوں، تو نے مجھے حکمت اور قدرت بخشی، اور ہم نے تجھ سے جو طلب کیا تو نے مجھ پر ظاہر کیا: کیونکہ تو نے ہم پر بادشاہ کا معاملہ ظاہر کر دیا۔‘‘ دیکھیں۔ بادشاہ نے کہا، ’’کیا تم مجھے خواب بتانے کے قابل ہو اور اِس کا کیا مطلب ہوتا ہے وہ بتانے کے قابل ہو؟‘‘ دانی ایل نے کہا، ’’وہ راز جس کا تو نے تقاضا کیا اُسے مجوسی پیش نہ کر پائے۔ ’لیکن آسمان میں ایک خُدا ہے جو رازوں کو افشا کر دیتا ہے‘… یہ ہے وہ خواب جو تو نے دیکھا تھا اور یہ اُس کی تعبیر ہے۔‘‘ پھر دانی اور اُس کے تینوں دوستوں نے بادشاہ کو اُس کا خُفیہ خواب بتایا اور اُس کا مطلب بتایا۔ اب آیت 47 پر نظر ڈالیں، ’’بادشاہ نے دانی ایل سے کہا، یقیناً تیرا خدا تمام معبودوں کا خدا ہے اور بادشاہوں کا خداوند ہے اور بھیدوں کا آشکارا کرنے والا ہے کیونکہ تُو یہ بھید کھول سکا۔‘‘ اب اوپر نظر ڈالیں۔ تب بادشاہ نے دانی ایل کو ایک بڑا شخص بنا دیا، اور اُس کو بابُل کے صوبے پر حکمران بنا دیا، اور بابُل میں تمام مجوسیوں کا اُس کو انچارج بنا دیا۔ شدرک، میشک اور عبدنجو کو بھی اعلیٰ عُہدوں پر فائز کیا گیا، لیکن اِس نوجوان شخص دانی ایل کو بابُل کی ساری سلطنت کا وزیرِ اعلیٰ مقرر کیا گیا!

لڑکوں نے اُس پہلے امتحان کو پاس کر لیا تھا جو خُدا نے اُنہیں بادشاہ کے طعام اور شراب کے ساتھ ناپاک ہونے سے انکار کرنے کے لیے دیا تھا۔ اُنہوں نے خُدا کو پہلے درجے پر رکھا تھا اور اِس امتحان کو نمایاں کامیابی کے ساتھ پاس کیا تھا!

اب لڑکوں نے دوسرے اِمتحان کو پاس کر لیا تھا۔ وہ اکٹھے ملے تھے اور بادشاہ کے خواب کو ظاہر کرنے کے لیے خُدا سے دعا مانگی تھی۔ اُںہوں نے خُدا پر دعا میں انحصار کیا تھا اور دوسرے امتحان کو بھی نمایاں کامیابی کے ساتھ پاس کر لیا تھا!

یہ بات آپ پر ظاہر کرنے کے لیے میں نے وقت لیا کیونکہ یہ انتہائی اہم ہے۔ ہم کبھی کبھار سوچتے ہیں کہ آپ ایک مسیحی کی حیثیت سے بہت بڑی قوت میں چھلانگ لگا سکتے ہیں۔ لیکن آپ خُداوند کے ساتھ بہت بڑی قوت میں ’’چھلانگ‘‘ نہیں لگا سکتے۔ آپ اِس میں پرورش پاتے ہیں۔ آپ نجات پاتے ہیں اور پھر آپ نشوونما پاتے ہیں! یسوع نے کہا،

’’جو بہت تھوڑے میں دیانتداری کا مظاہرہ کرتا ہے وہ بہت زیادہ میں بھی دیانتدار رہتا ہے‘‘ (لوقا16:10)۔

اگر آپ چھوٹی سی بات میں دیانتدار ہوتے ہیں جیسے کرسمس کی شام اور نئے سال کی شام کو گرجا گھر میں ہونا، پھر بعد میں، آپ بڑی بڑی باتوں میں بھی دیانتدار ہوں گے!

یہ لڑکے جو وہ کھاتے تھے اُس میں دیانتدار رہے۔ اُنہوں نے اُس اِمتحان کو پاس کیا۔ وہ دعا میں بھی دیانتدار رہے۔ اُنہوں نے اُس اِمتحان کو بھی پاس کیا۔

بعد میں اُنہیں اِس سے بھی بڑے اِمتحان سے گزرنا پڑا۔ کیا اُنہوں نے سجدہ کیا ہوتا اور بادشاہ کے سنہرے بُت کی پرستش کی ہوتی، یا سجدہ نہ کرنے پر کیا اُنہوں نے دہکتی ہوئی بھٹی میں زندہ جلائے جانے کا خطرہ مول لیا ہوتا؟ اُںہوں نے چھوٹے اِمتحانات کو پاس کیا تھا۔ لہٰذا بعد میں وہ جرأت کے ساتھ کہہ پائے،

’’اگر ہمیں دہکتی ہوئی بھٹی میں پھینک دیا گیا تو جس خُدا کی ہم عبادت کرتے ہیں وہ ہمیں اِس سے بچانے کی قدرت رکھتا ہے اور اے بادشاہ وہ ہمیں تیرے ہاتھ سے چُھڑائے گا‘‘ (دانی ایل 3:17)۔

اُنہوں نے چھوٹے چھوٹے اِمتحانوں کو پاس کرنے سے سیکھ لیا تھا کہ خدا اُنہیں دہکتی ہوئی بھٹی کے بہت بڑے اِمتحان سے بھی چھٹکارہ دلائے گا!

اِس کے علاوہ سنجیدہ دعا کے وسیلے سے وہ بادشاہ کی جانب سے قتل کیے جانے سے بچائے گئے تھے۔ بعد میں، جب بادشاہ نے دانی ایل کو دھاڑتے ہوئے شیروں کے غار میں پھینکنے کے لیے دھمکایا تو دانی ایل شیروں کے مُنہ کو بند کرنے کے لیے خُدا کی جانب سے ایک فرشتے کے بھیجے جانے کے وسیلے سے محفوظ رہا تھا! یسوع اُس دہکتی ہوئی بھٹی میں موجود تھا اور اُس نے اُنہیں بچایا۔ یسوع وہ فرشتہ تھا۔ یسوع شیروں کے غار میں تھا جب دانی ایل کو وہاں پھینکا گیا تھا۔ اُس کے پاس ابلیس کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے ایمان تھا۔ بائبل کہتی ہے، ’’اپنے خُدا سے ملنے کے لیے تیار رہ۔‘‘ اگر آپ تیار نہیں ہوتے، تو آپ شیطان کے چنگل میں پھنس جائیں گے اور خُداوند کا انکار کریں گے!

آپ کو کھڑے رہنے کے قابل ہونے کے لیے اور شمار کیے جانے کے لیے ابھی تربیت حاصل کرنی چاہیے۔ ایسا ہی دانی ایل نے کیا۔ ایسا ہی آپ کو کرنا چاہیے، اگر آپ آگ سے بچنے کی اُمید رکھتے ہیں!

اِس ہی لیے آپ کو ابھی سے تربیت حاصل کرنی چاہیے! بعد میں نہیں، بلکہ ابھی! آپ اچانک ہی ایمان کی ایک بہت بڑی ہستی نہیں بن جاتے! جی نہیں! اِس کے لیے مشق کی ضرروت پڑتی ہے! سُنیے ڈاکٹر چعین نے میری بیوی مسز ہائیمرز نے کیا کہا۔ ڈاکٹر چعین نے کہا، ’’مسز ہائیمرز وہ عظیم مسیحی جو وہ ہیں ایک ہی رات میں نہیں بن گئیں۔ اُنہوں نے خُدا کے لیے دیانتدارانہ خدمت کے بے شمار سالوں کے ذریعے سے پُختگی پائی۔ ایک نوجوان خاتون کی حیثیت سے اُنہوں نے گرجا گھر کی مذہبی خدمت کے لیے اپنی زندگی کو حوالے کر دیا اور اپنا سب کچھ پیچھے چھوڑ دیا۔ اِس ہی وجہ سے خُدا نے اُنہیں شدید طور پر استعمال کیا۔‘‘ اُنہوں نے 16 برس کی عمر سے شروع کیا تھا گرجا گھر کے لیے اپنی بہترین خدمات پیش کیں۔ اب، کئی سالوں کے بعد، وہ ایمان کا ایک دیو ہیں۔ اگر آپ ابھی سنجیدہ اور وفادار نہیں ہیں، اُن چھوٹی چھوٹی ذمہ داریوں کے ساتھ جو آپ کی ہیں، تو آپ یکدم مستقبل میں بشروں کو جیتنے والی ایک بہت بڑی ہستی نہیں بن پائیں گے اور دعائیہ جنگجو نہیں بن پائیں گے۔

دانی ایل اور اُس کے تینوں دوستوں کے لیے کوئی مختصر راہیں نہیں ہیں – اور آپ کے لیے کوئی مختصر راہیں نہیں ہیں۔ مسیح میں سنجیدگی اور جوش وخروش کے ساتھ داخل ہونے کی کوشش ابھی سے شروع کریں۔ اگر آپ آغاز ہی میں سست ہوتے ہیں تو آپ کبھی بھی بعد میں ایک عظیم مسیحی نہیں بنیں گے۔ اپنی تمام تر قوت کے ساتھ ابھی مسیح میں داخل ہونے کے لیے جدوجہد کریں۔ کسی نے کہا ہے، ’’دُرست آغاز آدھا کام ہو جانا ہوتا ہے۔‘‘ مسز ہائیمرز نے اُس انتہائی پہلی مرتبہ میں جب اُنہوں نے مجھے خوشخبری کی منادی کرتے ہوئے سُنا گناہ سے مُنہ موڑ لیا اور یسوع پر بھروسہ کیا! ایسا ہی ڈاکٹر جوڈتھ کیگن نے کیا۔ ایسا ہی ڈٓاکٹر کرھیٹن چعین نے کیا۔ ایسا ہی مسز ملیسا سنیڈرز نے کیا۔ ایسا ہی مسٹر بینجیمن گریفتھ نے کیا۔ تعجب کی کوئی بات نہیں کہ وہ اب مضبوط مسیحی ہیں! ایک خاتون نے مجھ پر شدید تعجب کے ساتھ نظر ڈالی کہ اُنہوں نے اِس قدر تیزی سے نجات پائی۔ وہ خود یہاں پر کئی سالوں تک گمراہ یا برگشتگی ہی میں رہی ہیں۔ ’’کیسے وہ اِس قدر جلدی سے کر لیتے ہیں؟ اُنہوں نے پوچھا۔ وہ سنجیدہ تھے اور آپ سنجیدہ نہیں تھیں۔ اِس طرح سے! اگر آپ اِدھر اُدھر بیوقوفیاں کرتے رہیں اور شروع ہی میں بادشاہت میں داخل ہونے کے لیے سخت کوشش نہ کریں، تو آپ ہمیشہ ہی ایک کمزور نئے ایونجیلیکل ہی رہیں گے، اُن چینی بچوں کی مانند جو لچلچے، کمزور، نئے ایوینجلیکل گرجا گھروں میں جانے کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں۔ بائبل کہتی ہے، ’’مسیح یسوع کے اچھے سپاہی کی طرح دُکھ سہنے میں میرا شریک ہو‘‘ (2تیموتاؤس2:3)۔ دانی ایل کی مانند ہونے کی جرأت کریں! اِسے گائیں!

دانی ایل جیسا ہونے کی جرأت کریں،
   تنہا ڈٹے رہنے کی جرأت کریں!
ایک مضبوط مقصد رکھنے کی جرأت کریں!
   اِس کو مشہور کرنے کی جرأت کریں!

یقیناً مجھے لڑنا چاہیے، اگر مجھے حکومت کرنی ہے؛
   خُداوندا! میرے حوصلے کو بڑھا،
میں سختیوں کو جھیلوں گا، درد کو برداشت کروں گا،
   تیرے کلام کے سہارے کے ذریعے سے۔
(’’کیا میں صلیب کا ایک سپاہی ہوں؟Am I a Soldier of the Cross?‘‘ شاعر ڈاکٹر آئزک واٹز Dr. Isaac Watts، 1674۔1748)۔

’’ایمان کی اچھی کُشتی لڑ، ہمیشہ کی زندگی پر قبضہ کر لے!‘‘ (1۔ تیموتاؤس 6:12).

نئے سُست ایونجیلیکلز کبھی بھی گرجا گھر کے اچھے رُکن نہیں بن پاتے! وہ بس یقین نہیں کرتے کہ اُن کی نئی کمزور ایونجیلیکل اِزم غلط ہے! یہ ہی وجہ ہے کہ نئے ایونجیلیکلز شاذونادر ہی نجات پاتے ہیں۔ اور وہ پہلی مرتبہ خوشخبری کو سُننے سے نجات کبھی بھی نہیں پاتے ہیں۔ آپ کو اُن کے ساتھ سالوں تک لڑنا پڑے گا اِس سے پہلے کہ وہ اِس بات کا اقرار کریں کہ اُن کا مذہب غلط ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ کبھی بھی گرجا گھر کے اچھے رُکن نہیں بن پاتے! کبھی بھی نہیں! کبھی بھی نہیں! کبھی بھی نہیں! اگر آپ مسیح کے لیے اپنی راہ پر لڑنے کے لیے سُست ہیں، تو آپ کبھی بھی مسیحی زندگی میں کسی بھی قابلِ قدر شے کے لیے لڑنے کے قابل نہیں ہونگے! کیا میں اعمال کے ذریعے سے نجات کے بارے میں بات کر رہا ہوں؟ جی نہیں، میں نہیں کر رہا ہوں۔ میں فضل کے وسیلے سے نجات کے بارے میں بات کر رہا ہوں، وہ فضل جو آپ کو آپ کے تمام خوفوں اور شکوک سے پرے لڑنے کے لیے کھینچتا ہے۔ میں اُس ایمان کی بات کر رہا ہوں جومسیح کی خاطر اپنی راہ کے لیے لڑتا ہے، اور پھر مسیح کے گرجا گھر کی بھلائی کے لیے لڑتے رہنا جاری رکھتا ہے۔ ڈاکٹر آر۔ اے۔ ٹورے کا ’’چاہتے ہیں، جنگجو مسیحی! Wanted, Fighting Christians!‘‘ – کے عنوان سے ایک واعظ تھا۔ شروع سے ہی ویسے ایک ہو جائیں! اگر آپ ایک مسیحی بننے کے بارے میں سُست ہیں – تو آپ اپنی ساری زندگی سُست ہی رہیں گے! ’’چاہتے ہیں، جنگجو مسیحی! Wanted, Fighting Christians!‘‘ یہ ہے واحد وہ قسم جو یہاں ہمارے پاس بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں ہے۔ اگر آپ کو سُست مسیحی چاہئیں تو دوسرے گرجا گھر میں چلے جائیں! بے شمار نئے کمزور ایونجیلیکل گرجا گھر ہیں! ایک میں چلے جائیں! ایک میں چلے جائیں! باہر نکلیں اور ایک میں چلے جائیں!

لیکن ٹھہریں! میری بات ابھی پوری نہیں ہوئی! میں واقعی میں نہیں چاہتا کہ آپ چلے جائیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ ٹھہریں اور نجات پائیں! اب مجھے انتہائی احتیاط کے ساتھ سُنیں۔ اگر آپ نجات پائے ہوئے نہیں ہیں تو واعظ کا یہ سب سے زیادہ اہم حصّہ ہے۔ جو میں آپ سے ابھی کہہ رہا ہوں اُس پر توجہ مرکوز کریں۔ اِس کو ایسے غور سے سُنیں جیسے آپ نے پہلے کبھی بھی نہ سُنا ہو!

بادشاہ نے اُن تینوں لڑکوں کو اُس دہکتی ہوئی بھٹی میں پھینک دیا تھا۔ وہ تمام اُمیدوں سے پرے تھے۔ کیا اِس ہی طرح سے آپ ابھی محسوس نہیں کرتے؟ آپ ایک مایوس کُن حالت میں ہیں۔ آپ خود کو نجات نہیں دِلا سکتے۔ درحقیقت، آپ نجات پانے کی تمام اُمیدوں کو چھوڑ چکے ہیں۔ ’’میں ڈاکٹر چعین یا مسٹر گریفتھ یا جوڈی کیگن یا مسز ہائیمرز کی مانند نہیں ہو سکتا۔‘‘ آپ نااُمید محسوس کرتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ جہنم مں جلنے کے لیے جا رہے ہیں اور آپ خود کو بچانے کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتے! لیکن ٹھہریں! جب بادشاہ نے اُس دہکتی ہوئی بھٹی میں دیکھا تھا تو اُس نے صرف تین لڑکوں کو ہی نہیں دیکھا تھا۔ اُس نے بھٹی میں چار لوگوں کو دیکھا تھا، جو ’’آگ کے بیچ میں ٹہل رہے ہیں اور اُنہیں کچھ بھی ضرر نہیں پہنچا؛ اور چوتھا معبودوں کے بیٹے کی مانند نظر آ رہا تھا‘‘ (دانی ایل3:25)۔ سپرجیئن دُرست تھے۔ آگ میں چوتھا شخص یسوع تھا – خُدا کا قبل ازیں متجسم بیٹا۔ یسوع وہاں پر آگ میں اُن کے ساتھ تھا۔ یسوع وہاں پر اُن لڑکوں کو شعلوں سے بچانے کے لیے موجود تھا! بائبل کہتی ہے کہ اُنہیں جلانے کے لیے ’’آگ میں کوئی طاقت نہ‘‘ تھی (دانی ایل۔3:27)۔ یسوع اُن کے ساتھ تھا اور یسوع نے اُنہیں آگ سے اور جہنم سے نجات دلائی تھی۔

میرے پیارے دوست، یسوع آپ کو بھی نجات دلائے گا۔ اُس کی آپ سے شدید چاہت ہے۔ وہ آپ سے محبت کرتا ہے۔ آپ کا ایمان چاہے کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، یسوع تمام قوت سے بھرپور ہے۔ اور یسوع آپ کی حمایت میں ہے! بائبل ایسا کہتی ہے! بائبل کہتی ہے، ’’مسیح یسوع جہاں میں گنہگاروں کو نجات دلانے کے لیے آیا‘‘ (1تیموتاؤس1:15)۔

مجھے پرواہ نہیں آپ اِس وقت کس قدر نااُمید محسوس کرتے ہیں۔ درحقیقت، جتنا نااُمید آپ محسوس کرتے ہیں اُتنا ہی بہتر ہے! کیوں؟ کیونکہ اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ شاید تیار ہوں کہ یسوع نجات دینے کے سارے کام کو کر لے۔ آپ خود کو نجات نہیں دلا سکتے۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ نہیں دلا سکتے۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ اتنے اچھے نہیں ہو سکتے یا اتنے طاقتور نہیں ہو سکتے۔ ٹھیک ہے! اب اپنی بھٹی میں چوتھا آدمی یسوع کو ہی لینے دیجیے۔ اُسے [یسوع کو] آپ کو بچا لینے دیجیے۔

آپ کہتے ہیں، ’’میرے پاس کافی ایمان نہیں ہے۔‘‘ میں جانتا ہوں۔ لیکن یسوع آپ کو کسی نہ کسی طور نجات دے گا۔ یسوع نے مجھے نجات دلائی جب میں نجات پانے کی تمام اُمید کو کھو چکا تھا۔ وہ میرے پاس آیا تھا اور مجھے خوف اور شک کے بھٹی میں سے نجات دلائی تھی۔ یسوع صلیب پر آپ کو نجات دینے کے لیے قربان ہو گیا۔ یسوع مُردوں میں سے آپ کو نجات دینے کے لیے جی اُٹھا تھا۔ یسوع آج رات یہاں پر آپ کی خاطر ہے۔ وہ آپ کے پاس نیچے آپ کی خوف اور شک کی بھٹی میں نازل ہو جائے گا۔ وہ آپ کو سکون اور اُمید بخشے گا۔ میں جانتا ہوں کہ آپ اِس پر یقین نہیں کرتے۔ لیکن اُس تک پہنچیں اور وہ یہاں آپ کے لیے موجود ہے۔ خود پر نظر مت ڈالیں۔ اُس کی جانب نظر اُٹھائیں۔ اُس پر صرف تھوڑے سے ایمان کے ساتھ بھروسہ کریں، تقریباً بالکل ہی نہیں۔ اِس میں زیادہ کی ضرورت ہی نہیں پڑتی! بس تھوڑا سا بھروسہ۔ وہ یہاں بھٹی میں آپ کے ساتھ ہے۔ اُس پر بس تھوڑا سا بھروسہ کریں اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ آپ کو یہاں تک کہ اِس پر یقین کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ بس میرا یقین کر لیں۔ میں جانتا ہوں کہ وہ آپ کو نجات دے گا۔ آئیے میرے ایمان کو آپ کی مدد کر لینے دیجیے۔ آئیے آپ کو یسوع پر بھروسہ کرنے کے لیے مجھے مدد کر لینے دیجیے اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ ’’ڈاکٹر ہائیمرز یقین رکھتے ہیں کہ یسوع مجھے نجات دلائے گا، اِس لیے میں پادری صاحب پر بھروسہ کروں اور یسوع پر بھی بھروسہ کروں گا!‘‘ ’’صرف اُسی [یسوع] پر بھروسہ کریں، صرف اُسی پر بھروسہ کریں، صرف اُسی پرابھی بھروسہ کریں۔ وہ آپ کو نجات دلائے گا، وہ آپ کو نجات دلائے، وہ آپ کو ابھی نجات دلائے گا۔‘‘ ’’لیکن،‘‘ آپ کہتے ہیں، ’’اُس [یسوع] نے مجھے پہلے نجات نہیں دلائی تھی۔‘‘ یہ شاید اِس ہی طرح سے دکھائی دے، لیکن وہ آپ کو اب نجات دلائے گا۔

گناہ سے کُچلے ہوئے ہر بشر، آؤ، خُداوند کے ساتھ وہاں رحم ہے،
اور وہ یقینی طور سے تمہیں سکون دے گا اُس کے کلام میں بھروسہ کرنے کے وسیلے سے۔
صرف اُسی پر بھروسہ کریں، صرف اُسی پر بھروسہ کریں، صرف اُسی پر ابھی بھروسہ کریں۔
وہ آپ کو بچائے گا، وہ آپ کو بچائے گا، وہ ابھی آپ کو بچائے گا۔
   (’’صرف اُسی پر بھروسہ کریں Only Trust Him‘‘ شاعر جان ایچ. سٹاکٹن
      John H. Stockton، 1813۔1877).

اپنے کمزور نئے ایونجیلیکل مذہب سے مُنہ موڑیں۔ اِس سے ابھی مُنہ موڑیں! اور یسوع پر بھروسہ کریں اور اُس کے وسیلے سے گناہ سے نجات پائیں – اُس خون کے وسیلے سے جو اُس نے صلیب پر آپ کی خاطر بہایا!


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’دانی ایل ہونے کی جرأت کریںDare to be a Daniel‘‘
(شاعر فلّپ پی۔ بِلس Philip P. Bliss، 1838۔1876؛ ڈاکٹر ہائیمرز کی جانب سے ترمیم کی گئی)۔