Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


حیاتِ نو اور مسرور ہونا!

REVIVAL AND REJOICING!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
ہفتہ کے دِن کی شام، 23 ستمبر، 2017
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Saturday Evening, September 23, 2017

’’کیا تُو ہمیں پھر سے تازہ دم نہ کرے گا، تاکہ تیرے لوگ تجھ میں مسرور ہوں؟‘‘ (زبُور 85:6).

اِس زبور کی پہلی تین آیات ماضی میں اسرائیل پر خُداوند کے رحم کو ظاہر کرتی ہیں۔ لیکن آیات 4 اور 5 اُن کے موجودہ گناہ کے لیے اُن پر خُداوند کی ناراضگی کو ظاہر کرتی ہیں۔ آیات چھ اور سات اُن کو تازہ دِم کرنے کے لیے خُدا کے رحم کے لیے اُن کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہیں۔ عبرانی لفظ ’’ریوائیوrevive‘‘ کے لیے مطلب ’’تقویت دیناto quicken، پھر سے زندہ کرنا‘‘ ہوتا ہے۔

’’کیا تُو ہمیں پھر سے تازہ دم نہ کرے گا، تاکہ تیرے لوگ تجھ میں مسرور ہوں؟‘‘ (زبُور 85:6).

ہمیں ’’خُدا میں مسرور‘‘ ہو سکنے سے پہلے ’’دوبارہ زندہ‘‘ کیا جانا ہوتا ہے۔

آج ہمارے گرجا گھروں کو ’’خُدا میں مسرور ہونے‘‘ کا کیا مطلب ہوتا ہے اِس کے بارے میں کوئی اندازہ ہی نہیں ہے! خُدا میں مسرور ہونا اب ہمارے گرجا گھروں میں دُکھ کے ساتھ غائب ہوتا جا رہا ہے۔ آج ہمارے پاس صرف سردمہری اور بیابانی ہے۔ ہمارے بپٹسٹ گرجا گھر اتنے ہی سرد ہو چکے ہیں جتنی کہ برف ہوتی ہے۔ میری بیوی اور میں گذشتہ ہفتے چھٹیوں پر تھے۔ اِتوار کے روز ہم ایک بنیادی بپٹسٹ گرجا گھر میں گئے۔ وہ انتہائی رسمی سا اور سرد تھا – بائبل کا مطالعہ کرنے والا ایک گرجا گھر، جو جان میک آرتھر John MacArthur سے شدت سے متاثر تھا۔ واعظ کی غور طلب باتوں کو’’بہترین‘‘ لوگوں نے تحریر کیا۔ لیکن زیادہ تر لوگ یا تو نیند میں اونگھ رہے تھے یا اِدھر اُدھر گرجا گھر میں تاک جھانک کر رہے تھے اور مبلغ کی جانب کم ہی توجہ دے رہے تھے جب وہ بے لگام ہو کر مسلسل یونانی الفاظ کی وضاحت تو کر رہا تھا لیکن اُن کا لوگوں پر اِطلاق نہں کر رہا تھا۔ اور لوگوں کو ایسے ہی ہوتا رہنا بہت اچھا لگتا ہے۔ میں نے سوچا اگر مجھے اُس تلاوت کا اِطلاق کرنے کے لیے دو منٹ ہی مل جاتے تو ہر کسی کی حیرانگی سے آنکھیں کُھلی کی کُھلی رہ جاتیں – اور تب وہ میرے ساتھ ناراض ہو جاتے! ہمارے زیادہ تر بپٹسٹ گرجا گھروں میں لوگ اونگھنے کے لیے آتے ہیں۔ کوئی بھی بات جو اُن کی توجہ اپنی جانب کھینچ لے اُنہیں پریشان کر دیتی ہے۔ بے جان، بوڑھے بپٹسٹ جیتی جاگتی تبلیغ میں غلطیاں تلاش کیا کرتے تھے۔ اُنہوں نے کہا، ’’اُس نے پڑھانا چھوڑ کر تبلیغ کرنا شروع کر دی تھی‘‘ – جیسا کہ ایک پادری صاحب کے لیے ’’منادی کرنا‘‘ ہولناک بات ہوتی ہے! میرے پادری صاحب ڈاکٹر لِن Dr. Lin کے چینی گرجا گھر کو چُھوڑ چکنے کے بعد، لوگ مذید اور منادی نہیں چاہتے تھے۔ اب وہ گرجا گھر ایک لاش کی مانند مُردہ ہے! یہ اب زیادہ تر گرجا گھروں کی صورتحال ہے! تازہ دِم ہونا یا احیاء پانا یا حیاتِ نو کا مِلنا آج زیادہ تر گرجا گھروں میں ہونے والی کسی بھی بات سے یکسر مختلف ہوتا ہے! اِس لیے زبور نویس خُدا کے سامنے چیخ اُٹھا،

’’کیا تُو ہمیں پھر سے تازہ دم نہ کرے گا، تاکہ تیرے لوگ تجھ میں مسرور ہوں؟‘‘ (زبُور 85:6).

خُدا کے بھیجے ہوئے چار حیاتِ نو میں موجود ہونا میرے لیے منفرد رعایت رہی ہے۔ انتہائی کم مبلغین نے کبھی شاید ایک دیکھا ہو! لیکن خُدا کے رحم سے میں اب تک چار دیکھ چکا ہوں، بشمول اِس والے کے، جو کہ ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے۔ جی نہیں، یہ کسی بھی طور ختم نہیں ہوا ہے! ہماری تلاوت کو تفصیل سے دیکھیں۔

I۔ پہلی بات، حیاتِ نو یا تازہ دِم ہونا خُدا کا ایک خود مختار تحفہ ہے۔

’’کیا تُو ہمیں پھر سے تازہ دم نہ کرے گا…؟‘‘ (زبُور 85:6).

ہم چالیس سالوں سے بھی زیادہ عرصے سے حیات نو کی تیاری کے لیے کوشش کرتے رہے۔ میں حیات نو کی وضاحت کروں گا۔ میں حیاتِ نو کے لیے منادی کروں گا۔ لیکن ہر مرتبہ جب میں نے حیاتِ نو پر زور دیا لوگوں نے بغاوت کی۔ لوگوں نے اِس قدر سخت منادی کرنے کے لیے میرے خلاف باتیں کیں۔ لوگوں نے پیٹھ پیچھے میری بُرائیاں کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے گروہ بنا لیے، اور ہمارے درمیان جو سنجیدہ مسیح تھے اُن کے خلاف باتیں کیں۔ یہ اِس قدر بدتر ہو چکا تھا کہ میں اصل میں حیات نو کا تزکرہ کرنے سے بھی خوفزدہ ہو گیا۔ لیکن میں نے شریعت اور خوشخبری پر منادی کو جاری رکھا، اور آہستہ آہستہ وہ جنہیں سنجیدہ مسیحیت نہیں چاہیے تھی چھوڑ کر چلے گئے۔ آخر کار ہمارے گرجا گھر میں اُن میں سے صرف مٹھی بھر باغی لوگ ہی رہ گئے۔

ہفتے کی رات کو، 27 اگست، 2016 میں نے سنجیدہ لوگوں کو اشعیا 64:1۔3 میں سے یاد کی ہوئی آیات کو دُہرانے کے لیے کہا،

’’کاش کہ تُو آسمان کو چاک کر دے اور نیچے اُتر آئے، اور پہاڑ تیرے حضُور میں لرزنے لگیں! جس طرح آگ سوکھی ٹہنیوں کو جلا دیتی ہے اور پانی میں اُبال لاتی ہے، اُسی طرح تُو نیچے آکر اپنا نام اپنے دشمنوں میں مشہور کر اور تیری حضوری میں قوموں پر کپکپی طاری ہو جائے! کیونکہ جب تُو نے ایسے بھیانک کام کیے جن کی ہمیں توقع نہ تھی، تب تُو نیچے اُتر آیا اور پہاڑ تیرے سامنے تھر تھرا اُٹھے‘‘ (اشعیا 64:1۔3).

اچانک میں نے کمرے میں خُداوند کی موجودگی کو محسوس کیا۔ میں نے کہا کہ جب حیاتِ نو نازل ہوتا ہے تو یہ غیرمتوقع طور پر اچانک ہی آتا ہے۔ اُس رات حیاتِ نو کا ایک ’’لمس‘‘ شروع ہوا تھا۔ اِتوار کے روز 28 اگست کو پاک روح عبادت میں موجود تھا۔ جان کیگن John Cagan نے پہلے سے تیاری کیے بغیر ہی تبلیغ کی، وہ چبوترے پر آگے اور پیچھے چل رہے تھے۔ بے شمار لوگ دعا مانگنے کے لیے سامنے آئے جب جان نے منادی کی۔

سوموار کے روز، 5 ستمبر کو، ہماری مزدوروں کے دِن پر بائبل کانفرنس کے اختتام پر، ہم نے چین میں حیاتِ نو پر ایک ویڈیو دیکھی۔ لوگ روتے اور گاتے ہوئے گناہ کی اعتراف کر رہے تھے۔ ہم یہ پہلے بھی دیکھ چکے تھے، لیکن اِس مرتبہ خُدا موجود تھا اور ہم میں سے بے شمار لوگوں پر فلم نے گہرا تاثر چھوڑ تھا۔ شام کے اختتام پر وہاں سنجیدہ دعائیں اور گیت گائے گئے تھے۔

بُدھ کے روز، 7 ستمبر کو، میرے گھر پر رات دیر گئے تک کے لیے دعائیہ اجلاس منعقد ہوا۔ ہمارے گرجا گھر میں سے آٹھ رہنماؤں نے ہمارے لیے ویسے ہی جیسے وہ چین میں حیاتِ نو بھیج چکا ہے خُدا سے چند ایک گھنٹوں تک کے لیے دعائیں مانگیں۔

جمعرات کی شام، 8 ستمبر کو، میں نے ’’دِل میں پرانی غلطیوں کو دُہرانے والے کی شفایابیHealing the Backslider in Heart‘‘ پر بات کی۔ میں لوگوں کو بُلانے کے لیے دعوت دینے سے خوفزدہ تھا کیونکہ جان کیگن نے کہا تھا کہ کوئی بھی ردعمل کا اِظہار نہیں کرے گا۔ میں نے کرسٹین گیویعن Christine Nguyen اور شرلے لی Shirley Lee سے دعا مانگنے کے لیے کہا۔ ہمارے مناد کیو ڈُونگ لی Kyu Dong Lee سزایابی کے تحت آ گئے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ مسز چعین Mrs. Chan اور مسز کیگن گناہ کا اعتراف کرنے کے لیے سامنے آئیں۔ ہمیں حیاتِ نو کا ایک اور ’’لمس‘‘ مل چکا تھا – چالیس سالوں سے بھی زیادہ عرصے میں پہلی مرتبہ۔ وہ اِجلاس 7:00 بجے شام کو شروع ہوا اور رات 11:00 بجے ختم ہوا۔ میں نے کہا حیاتِ نو میں وہ وقت ساکن ہو گیا ہے، جیسا کہ وہ کہیں زیادہ کم وقت تھا۔

جمعہ کے روز، 9 ستمبر کو، خُدا موجود نہیں تھا۔ خود مسز لی بہتر طور سے دعا نہ مانگ پائیں۔ ہمارے گرجا گھر میں لوگوں نے فرض کر لیا خُدا موجود نہیں ہوگا، جیسا کہ وہ گذشتہ رات میں تھا۔

ہفتہ کے روز، 10 ستمبر کو، بے شمار لوگوں نے دِن کے دوران روزہ رکھا اور دعائیں مانگیں، لیکن خُدا موجود نہیں تھا۔ میں نے ہمارے لوگوں کو خبردار کیا کہ خُدا خود مختار ہے، اور واپس نہیں آئے گا اگر وہ توبہ کرنے اور اعتراف کرنے میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ میں نے ہوسیع میں سے خبردار کیا کہ خُداوند ہمارے درمیان میں سے جا چکا ہے یہ سیکھانے کے لیے کہ اُس کے بغیر میں کچھ بھی روحانی نہیں کر سکتے۔

چند ایک منٹوں کے بعد خُدا اِجلاس میں واپس آ چکا تھا۔ بیعیانگ ژینگ Baiyang Zhang نے گواہی دی کہ وہ اپنے بدھ مت سے تعلق رکھنے والے والدین کی مرضی کے خلاف اِجلاس میں آئی تھی جو چاہتے تھے کہ وہ اُن کے ساتھ وسط خزاں کے چینی میلے میں رُکے۔ منح وو Minh Vu نے گواہی دی کیسے وہ اپنے والدین کی ناراضگی کے خلاف گرجا گھر میں آیا تھا۔ بے شمار لوگ سامنے آئے، لیکن اُن میں سے زیادہ تر لوگ اہمیت نہ دینے والوں میں سے تھے، جو گمراہ دوستوں اور دوسرے گناہوں کو چھوڑ نہیں سکتے تھے۔ ڈاکٹر کیگن نے غور کیا کہ وہ جنہوں نے نجات پائی تھی یا تروتازہ ہوئے تھے اُنہوں نے گناہ کو چھوڑ دیا اور یہاں تک کہ اپنی نجات پانے سے پہلے ہی خُدا کے لیے ڈٹے رہے۔ لیکن وہ جنہوں نے قیمت نہیں چکائی اُنہیں خُداوند کی طرف سے کچھ بھی نہیں مِلا۔

اَتوار کے روز، 11 ستمبر، صبح میں نوح سُونگ Noah Song نے منادی کی اور شام کو جان کیگن نے منادی کی۔ بے شمار لوگ سامنے آئے، لیکن کسی نے بھی نجات نہیں پائی کیونکہ وہ بھول چکے تھے کہ گذشتہ رات کو ڈاکٹر کیگن نے سنجیدہ ہونے اور گناہ کو چھوڑنے کے بارے میں کیا کہا تھا۔

بُدھ کے روز، 14 ستمبر کو، میں نے توبہ اور گناہ کے اعتراف کی ضرورت پر بات کی۔ بے شمار لوگ گناہ کا اعتراف کرنے کے لیے چبوترے تک آئے۔ میں نے یہ کہتے ہوئے عبادت کا اختتام کیا کہ یہ اِجلاس (خصوصی طور پر جو جمعرات، 8 ستمبر کو ہوا تھا) ہمارے گرجا گھر میں ہونے والی تمام عبادتوں میں سے سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہمارے گرجا گھر میں 40 سالوں سے بھی زیادہ کے عرصے کے دوران خُداوند کبھی بھی اِس طرح سے نازل نہیں ہوا تھا۔

یہ اِجلاس جو گذشتہ گرمیوں میں اور ابتدائی خزاں میں ہوئے واضح طور پر ظاہر کرتے تھے کہ خُدا حیاتِ نو میں خود مختیار ہے۔ یہ خُدا ہے جو حیاتِ نو کو شروع کرتا ہے۔ یہ خُدا ہے جو حیاتِ نو کو جاری رکھتا ہے۔ وہ اِجلاسوں میں سے خود کو لے جاتا ہے اگر لوگ گہری دعاؤں اور تیاریوں کے بغیر ہی آ جائیں۔ تنہا خُدا وہ ہے جو حیاتِ نو بخشتا ہے۔ لیکن وہ یہ صرف سنجیدہ لوگوں کو ہی بخشتا ہے!

’’کیا تُو ہمیں پھر سے تازہ دم نہ کرے گا…؟‘‘ (زبُور 85:6).

’’جیتے جاگتے خُداوند کی روح۔‘‘ کھڑے ہو جائیں اور اِس کو گائیں۔

جیتے جاگتے خُداوند کی روح، نیچے آ، ہم دعا مانگتے ہیں۔
جیتے جاگتے خُداوند کی روح، نیچے آ، ہم دعا مانگتے ہیں۔
مجھے پگھلا، مجھے ڈھال، مجھے توڑ، مجھے موڑ۔
جیتے جاگتے خُداوند کی روح، نیچے آ، ہم دعا مانگتے ہیں۔
   (جیتے جاگتے خُداوند کی روح Spirit of the Living God‘‘ شاعر ڈینیئل آئیورسن Daniel Iverson، 1899۔1977؛
      ڈاکٹر ہائیمرز نے ترمیم کی)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

II۔ دوسری بات، حیاتِ نو صرف اور صرف خُدا کے لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔

’’کیا تُو ہمیں پھر سے تازہ دم نہ کرے گا…؟‘‘ (زبُور 85:6).

وہ ’’ہمیںus‘‘ غیر چُنیدہ لوگوں کی جانب اشارہ نہیں کرتا۔ یہ صرف مسیحیوں کے بارے میں بات کرتا ہے اور غیرچُنیدہ کا انتخاب کرتا ہے۔ وہ جو چُنے ہوئے لوگوں کے درمیان میں نہیں ہوتے سوچیں گے کہ اُنہیں دعا میں سنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، یہ واعظ میں فرمانبرداری دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ شاید سارے اِجلاسوں میں آ سکتے ہیں، لیکن محض آ جانے کی وجہ سے اُن کی کسی بھی طرح سے مدد نہیں کی جا سکتی۔ وہ آنسوؤں کے ساتھ اپنے گناہوں کا اعتراف نہیں کریں گے۔ وہ نجات نہیں پائیں گے۔ وہ تروتازہ یا نئی زندگی نہیں پائیں گے۔ وہ اِجلاسوں کے خوشگوار ماحول سے لطف اندوز ہونگے، لیکن وہ توبہ میں نہیں ’’جُھکیں‘‘ گے۔

ایوان رابرٹس Evan Roberts نے کہا، ’’ہمیں تمام بُرے جذبات سے گرجا گھر کو پاک کر دینا چاہیے – تمام کینہ، بُغض، تعصب، اور غلط فہمیاں۔ اُس وقت تک دعا میں مت جُھکیں جب تک آپ کی [گرجا گھر میں دوسرے کے خلاف] تمام رنجشوں کا [اعتراف] نہ ہو جائے اور معاف نہ ہو جائیں: لیکن اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ معاف نہیں کر سکتے، تو زمین تک جُھک جائیں، اور معافی دینے والی روح کے لیے مانگیں۔ تب آپ اُسے پا لیں گے‘‘ (برائین ایڈورڈز Brian Edwards: حیاتِ نو: خُدا کے ساتھ لبریز لوگ Revival: A People Saturated with God، ایونجیلیکل پریس Evangelical Press، 2004، صفحہ113)۔

حیاتِ نو ہمیشہ پاکیزگی کا حیاتِ نو ہوتا ہے۔ اور یہ گناہ کی سزایابی سے شروع ہوتا ہے… دُکھوں اور سزایابی کے آنسوؤں کے بغیر حیاتِ نو نامی کوئی بات نہیں ہوتی‘‘ (برائین ایڈورڈز Brian Edwards، ibid.، صفحہ 115)۔

’’لیکن اگر ہم اپنے گناہوں کا اقرار کریں تو وہ جو سچا اور عادل ہے، ہمارے گناہ معاف کر کے ہمیں ساری ناراستی سے پاک کر دے گا۔ اگر ہم کہیں کہ ہم نے گناہ نہیں کیا تُو اُسے جھوٹا ٹھہراتے ہیں اور اُس کا کلام ہم میں نہیں ہے‘‘ (1۔ یوحنا 1:9، 10).

ایک خاتون نجات پائے بغیر بھی بیس سالوں تک آتی رہی۔ کیوں؟ کیونکہ وہ دوسرے لوگوں پر لگاتی ہے اورخود اپنے گناہوں کا اعتراف نہیں کرتی! ’’اے خُدا تو مجھے جانچ Search Me, O God۔‘‘ یہ 10 نمبر پر ہے۔ کھڑے ہو جائیں اور اِسے گائیں۔

’’اَے خدا! تُو مجھے جانچ اور میرے دل کو پہچان:
مجھے آزما اور میرے مضطرب خیالات کو جان لے:
اور میرے دل کو پہچان؛
مجھے آزما اور میرے مضطرب خیالات کو جان لے؛
اور دیکھ، مجھ میں کوئی بُری روش تو نہیں،
اور مجھے ابدی راہ میں لے چل۔‘‘
   (زبور 139:23، 24).

گناہ کا اعتراف کرنا حیاتِ نو کے لیے ایک چابی ہے۔ آپ کو خود اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔ اِس کو دوبارہ گائیں۔ آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

’’جو اپنے گناہ چھپاتا ہے، کامیاب نہیں ہوتا، لیکن جو اقرار کرکے اُن کو ترک کرتا ہے، اُس پر رحم کیا جائے گا‘‘ (امثال 28:13).

آنسوؤں کے ساتھ گناہ کا اعتراف کرنا حیاتِ نو کے لیے ایک چابی ہے۔ جیسا کہ برائین ایڈورڈز نے کہا، ’’دُکھوں اور سزایابی کے آنسوؤں کے بغیر حیاتِ نو نامی کوئی بات نہیں ہوتی‘‘ (ibid.، صفحہ 115)۔

III۔ تیسری بات، حیاتِ نو خوشی کو جنم دیتا ہے۔

’’کیا تُو ہمیں پھر سے تازہ دم نہ کرے گا، تاکہ تیرے لوگ تجھ میں مسرور ہوں؟‘‘ (زبُور 85:6).

ہم 16 ستمبر، 2017 میں ایک سال اور آگے کی جانب چھلانگ مار رہے ہیں۔ ہفتہ کے روز، 16 ستمبر کو، ڈاکٹر کیگن نے ’’ڈاکٹر اور مسز ہائیمرز کے دُکھوں نے اِس گرجا گھر کو جنم دیا The Suffering of Dr. and Mrs. Hymers Produced This Church‘‘ پر تبلیغ کی۔ واعظ کی اختتام پر میں منبر پر کھڑا ہوا اور اب تک ملنے والی حیاتِ نو کی برکات کو دوبارہ شمار کیا۔ میں نے اُنہیں جنہوں نے حیاتِ نو کے دوران نجات پائی تھی سامنے کھڑے ہونے کے لیے کہا۔ وہاں پر تقریباً اُمید کی بھرپوری کے ساتھ 20 لوگ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے تھے – ایک سال میں سب سے زیادہ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے والے لوگوں کی تعداد! میں نے اُن تمام کو بھی جنہوں نے نئی زندگی پائی تھی آنے اور اُن کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے کہا، اور دوسروں کو جنہیں حیاتِ نو میں مدد ملی تھی۔ اب تک گرجا گھر کی ایک تہائی تعداد حیات نومیں خُدا کی برکات کی گواہی دینے کے لیے آئی۔ یہ بہت بڑی خوشی منانے کا وقت تھا!

مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور 17 نمبر گائیں، ’’میرے سارے تخّیل کو پورا کرFill All My Vision۔‘‘

میرے سارے تخّیل کو پورا کر، نجات دہندہ، میں دعا مانگتا ہوں،
   آج مجھے صرف یسوع کو دیکھ لینے دے؛
حالانکہ وادی میں سے تو میری رہنمائی کرتا ہے،
   تیرا کھبی نہ مدھم ہونے والا جلال میرا احاطہ کرتا ہے۔
میرے سارے تخّیل کو پورا کر، الٰہی نجات دہندہ،
   جب تک تیرے جلال سے میری روح جگمگا نہ جائے۔
میرے سارے تخّیل کو پورا کر، کہ سب دیکھ پائیں
   تیرا پاک عکس مجھ میں منعکس ہوتا ہے۔

میرے سارے تخّیل کو پورا کر، ہر خواہش
   اپنے جلال کے لیے رکھ لے؛ میری روح راضی ہے
تیری کاملیت کے ساتھ، تیری پاک محبت سے
   آسمانِ بالا سے نور کے ساتھ میری راہگزر کو بھر دیتی ہے
میرے سارے تخّیل کو پورا کر، الٰہی نجات دہندہ،
   جب تک تیرے جلال سے میری روح جگمگا نہ جائے۔
میرے سارے تخّیل کو پورا کر، کہ سب دیکھ پائیں
   تیرا پاک عکس مجھ میں منعکس ہوتا ہے۔

میرے سارے تخّیل کو پورا کر، گناہ کے نتیجہ کو ناکام کر دے
   باطن میں جگمگاتی چمک کو چھاؤں دے۔
مجھے صرف تیرا بابرکت چہرہ دیکھ لینے دے۔
   تیرے لامحدود فضل پر میری روح کو لبریز ہو لینے دے۔
میرے سارے تخّیل کو پورا کر، الٰہی نجات دہندہ،
   جب تک تیرے جلال سے میری روح جگمگا نہ جائے۔
میرے سارے تخّیل کو پورا کر، کہ سب دیکھ پائیں
   تیرا پاک عکس مجھ میں منعکس ہوتا ہے۔
(’’میرے سارے تخّیل کو پورا کرFill All My Vision‘‘ شاعر ایوس برجیسن کرسچنسن Avis Burgeson Christiansen، 1895۔1985)۔

اب 19 نمبر گائیں، ’’محبت یہاں ہےHere is Love۔‘‘

محبت یہاں ہے، سمندر کی طرح وسیع، سیلاب کی مانند رحمدلانہ محبت،
   جب زندگی کے شہزادے نے، ہمارا فِدیہ، ہمارے لیے اپنے قیمتی خون کو بہایا۔
کون اُس کی محبت کو یاد نہیں کرے گا؟ کون اُس کی ستائش کو گانے سے رُک سکتا ہے؟
   اُس کو کبھی بھی بُھلایا نہیں جا سکتا، جنت کے دائمی دِنوں میں۔

محبت کے پہاڑ پر، گہرے اور چوڑے چشمے اُبل پڑے؛
   خُدا کے رحم کے سیلابی پھاٹکوں میں سے ایک بہت بڑا اور شفیق جوار بھاٹا بہا۔
فصل اور محبت، بہت بڑے دریاؤں کی مانند، بالا سے مسلسل بہتے رہے۔
   اور جنت کے امن اور کام انصاف نے محبت میں مجرم دُنیا کو چوما۔

مجھے اپنی پوری محبت کو قبول کر لینے دے، تیری محبت، ہمیشہ میری تمام دِنوں میں؛
   مجھے صرف تیری بادشاہت کو ڈھونڈنے دے اور میری زندگی کو تیری ستائش ہو لینے دے؛
تنہا تو ہی میرا جلال ہوگا، دُنیا میں کچھ اور مَیں نہیں دیکھتا۔
   تو نے مجھے پاک صاف اور مُتبرک کیا، تو نے خود مجھے آزاد کروایا۔

تیری سچائی میں تو ہی میری رہنمائی کرتا ہے اپنے روح کے ذریعہ اپنے کلام کے ذریعے؛
   اور تیرے فضل سےمیری ضرورت پوری ہوتی ہے، جب میں میرے خُداوند تجھ میں بھروسہ کرتا ہوں۔
تیری لبریزی سے جو تو اُنڈیلتا ہے اپنی شدید محبت اور قوت مجھ پر،
   بغیر ناپے، بھرپور اور لامحدود، میرے دِل کو تیری جانب کھینچتی ہے۔
(’’محبت یہاں ہے، سمندر کی طرح وسیع Here is Love, Vast as the Ocean‘‘ شاعر ولیم ریس William Rees، 1802۔1883)۔

اب گائیں ’’اِس کا آگے بڑھائیں Pass It On،‘‘ یہ نمبر18 ہے۔ کل اپنے ساتھ کسی نہ کسی کو لیکر کر آئیں!

جلانے کے لیے صرف ایک چنگاری کی ضرورت پڑتی ہے،
اور جلد ہی وہ جو اُس کے اِردگِرد ہیں اُس کی حدت سے گرمائش پا سکتے ہیں،
ایسا ہی خُدا کی محبت کے ساتھ ہوتا ہے، ایک مرتبہ آپ اِس کا تجربہ کر لیں،
آپ اُس کی محبت کو ہر کسی میں پھیلائیں گے، آپ اِس کو آگے پھیلانا چاہیں گے۔
بہار کیسا شاندار وقت ہے، جب سارے درخت کونپلیں نکال رہے ہوتے ہیں،
پرندے چہچہانا شروع کرتے ہیں، پھول اپنے کھلنے کو شروع کرتے ہیں،
ایسا ہی خُدا کی محبت کے ساتھ ہوتا ہے، ایک مرتبہ آپ اِس کا تجربہ کر لیں،
آپ اُس کو گانا چاہیں گے، یہ چشمے کی مانند تازہ ہوتا ہے۔ آپ اِس کو آگے پھیلانا چاہیں گے۔

میرے دوست، میں آپ کے لیے خواہش کرتا ہوں، یہ خوشی جو میں نے پائی ہے،
آپ اُس [خُداوند] پر انحصار کر سکتے ہیں، اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا آپ کہاں بندش میں ہیں،
میں پہاڑوں کی چوٹیوں سے اِس کو پکاروں گا، میں چاہتا ہوں میری دُنیا جان جائے،
مسیح کی محبت میرے پاس چلی آئی ہے، میں اِس کو آگے پھیلانا چاہتا ہوں۔
    (’’اِس کو آگے پھیلائیں Pass It On‘‘ شاعر کرٹ قیصر Kurt Kaiser، 1969؛ پادری صاحب نے ترمیم کی)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ ہم کل کی رات ہمیں اور زیادہ اور گواہیاں اور کُھلم کُھلا اعتراف ملیں۔ کوئی کل رات کو گواہی دینے کے لیے یا اعتراف کرنے کے لیے تیاری کرے گا؟ مہربانی سے سبز بینچ کی طرف چلے جائیں۔ کل کی رات اِس کو اصل میں کرنا بھول مت جائیے گا۔

اِس بات کو مذاق مت سمجھیے گا کہ خُداوند کل موجود ہوگا۔ آپ کو گرجا گھر آنے سے پہلے شدید دعا کرنا چاہیے۔ پھر آپ کو صبح میں عبادت سے پہلے اور شام میں دوبارہ عبادت سے پہلے شدید دعا کرنی چاہیے۔ کل ہر عبادت سے پہلے یہاں مقدس مقام پر جان کیگن دعا میں رہنمائی کریں گے۔ مہمانوں کے ساتھ گفتگو مت کیجیے گا۔ دونوں عبادتوں سے پہلے اُنہیں دعاؤں کو سُن لینے دیجیے گا۔ لیکن گاڑیوں میں دعا مت مانگیے گا جب آپ کل مہمانوں کو پہلی مرتبہ لا رہے ہوں۔ جب وہ آپ کے ساتھ مقدس مقام میں آ جائیں صرف تب دعا مانگیے گا۔ دوبارہ 19 نمبر، ’’محبت یہاں ہے‘‘ گائیں۔ کھڑے ہو جائیں اور اِسے گائیں!

محبت یہاں ہے، سمندر کی طرح وسیع، سیلاب کی مانند رحمدلانہ محبت،
   جب زندگی کے شہزادے نے، ہمارا فِدیہ، ہمارے لیے اپنے قیمتی خون کو بہایا۔
کون اُس کی محبت کو یاد نہیں کرے گا؟ کون اُس کی ستائش کو گانے سے رُک سکتا ہے؟
   اُس کو کبھی بھی بُھلایا نہیں جا سکتا، جنت کے دائمی دِنوں میں۔

محبت کے پہاڑ پر، گہرے اور چوڑے چشمے اُبل پڑے؛
   خُدا کے رحم کے سیلابی پھاٹکوں میں سے ایک بہت بڑا اور شفیق جوار بھاٹا بہا۔
فصل اور محبت، بہت بڑے دریاؤں کی مانند، بالا سے مسلسل بہتے رہے۔
   اور جنت کے امن اور کام انصاف نے محبت میں مجرم دُنیا کو چوما۔

مجھے اپنی پوری محبت کو قبول کر لینے دے، تیری محبت، ہمیشہ میری تمام دِنوں میں؛
   مجھے صرف تیری بادشاہت کو ڈھونڈنے دے اور میری زندگی کو تیری ستائش ہو لینے دے؛
تنہا تو ہی میرا جلال ہوگا، دُنیا میں کچھ اور مَیں نہیں دیکھتا۔
   تو نے مجھے پاک صاف اور مُتبرک کیا، تو نے خود مجھے آزاد کروایا۔

تیری سچائی میں تو ہی میری رہنمائی کرتا ہے اپنے روح کے ذریعہ اپنے کلام کے ذریعے؛
   اور تیرے فضل سےمیری ضرورت پوری ہوتی ہے، جب میں میرے خُداوند تجھ میں بھروسہ کرتا ہوں۔
تیری لبریزی سے جو تو اُنڈیلتا ہے اپنی شدید محبت اور قوت مجھ پر،
   بغیر ناپے، بھرپور اور لامحدود، میرے دِل کو تیری جانب کھینچتی ہے۔
(’’محبت یہاں ہے، سمندر کی طرح وسیع Here is Love, Vast as the Ocean‘‘ شاعر ولیم ریس William Rees، 1802۔1883)۔

ڈاکٹر کیگن مہربانی سے آئیں اور اختتامی دعا اور ہلکے پُھلکے کھانے کے لیے فضل مانگنے میں رہنمائی کریں۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کنکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا:
     ’’ہائے، میں کس قدر یسوع سے محبت کرتا ہوں، Oh, How I Love Jesus‘‘ (شاعر فریڈریک وائٹ فیلڈ، 1829۔1904)۔

لُبِ لُباب

حیاتِ نو اور مسرور ہونا!

REVIVAL AND REJOICING!

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’کیا تُو ہمیں پھر سے تازہ دم نہ کرے گا، تاکہ تیرے لوگ تجھ میں مسرور ہوں؟‘‘ (زبُور 85:6).

I.    پہلی بات، حیاتِ نو یا تازہ دم ہونا خُدا کا ایک خود مختار تحفہ ہے،
 زبور 85:6الف؛ اشعیا 64:1۔3۔

II.   دوسری بات، حیاتِ نو صرف اور صرف خُد کے لوگوں کے لیے ہوتا ہے، زبور 85:6ب؛ 1۔ یوحنا 1:9،10؛ زبور 139:23، 24؛ امثال 28:13۔

III.  تیسری بات، حیاتِ نو خوشی کو جنم دیتا ہے، زبور 85:6ج.