Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


ڈاکٹر اور مسز ہائیمرز کے دُکھوں نے
اِس گرجا گھر کو جنم دیا

THE SUFFERING OF DR. AND MRS. HYMERS
PRODUCED THIS CHURCH
(Urdu)

ایک پیغام جسے مناد کیو ڈونگ لی اور
ڈاکٹر کرسٹوفر ایل۔ کیگن نےتحریر کیا
اور ڈاکٹر کیگن نے منادی کی
لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں
ہفتے کی شام، 16 ستمبر، 2017
A message written by Deacon Kyu Dong Lee
and Dr. Christopher L. Cagan
and preached by Dr. Cagan
at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Saturday Evening, September 16, 2017

’’جو بزرگ [پادری صاحبان] کلیسیا کا اچھا انتظام کرتے ہیں خاص کر وہ جو کلام سُناتے ہیں اور تعلیم دیتے ہیں، دُگنی عزت کے مستحق ہیں‘‘
(1۔تیموتاؤس 5:17).

ہمارے پادری صاحب، ڈاکٹر ہائیمرز، ایک بزرگ ہیں – ایک پادری صاحب – جو ہمارے گرجا گھر کی بخوبی رہنمائی کرتے ہیں۔ وہ خُدا کے کلام میں سے ایمان کی بھرپوری کے ساتھ خوشخبری کی منادی کرتے ہیں۔ وہ اپنی قوت اور اپنا وقت ہمارے لیے قربان کرتے ہیں – گمراہ لوگوں کو یسوع کے پاس لے جانے کے لیے اور مسیحیوں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے۔ آپ میں سے ہر کوئی جانتا ہے یہ بات سچی ہے! آج میں آپ کے لیے ایک ای میل پڑھنے جا رہا ہوں جسے ہمارے مُناد کیو ڈُونگ لی Kyu Dong Lee نے ڈاکٹر ہائیمرز کو بھیجا، جس کے ساتھ چند ایک اضافی پیراگراف میری جانب لکھے ہوئے ہیں۔ مسٹر لی نے کہا،

پیارے پادری صاحب:

آپ میرے روحانی باپ ہیں اور رہیں گے۔ جیسا کہ ہمارا آسمانی باپ آپ کی تمام قربانی کو جانتا ہے۔ یہاں اُن بے شمار دُکھوں اور فتوحات میں سے کچھ ہیں جو میرے ذہن میں واضح طور پر موجود رہتی ہیں۔

آپ لوگوں کے بارے میں پرواہ کرتے ہیں اور بے حد محبت کرتے ہیں، بے شمار مرتبہ خود اپنے آپ کو خطرے سے دوچار کر کے۔ میں یہاں پر نہ ہوتا اگر آپ نے مذہبی خدمت کے لیے خُدا کی بُلاہٹ کی فرمانبرداری نہ کی ہوتی۔ بے شمار پادری صاحبان کافی عرصہ پہلے ہی چھوڑ چکے ہوتے، اور لاس اینجلز کے مرکزی علاقے میں خُدا کے بُھلائے ہوئے کافروں کو مسیح میں ایمان لا کر تبدیل کرنے کی کوششوں کے لیے آپ پر ہنسے ہوتے۔ اُن کی نظروں میں، یہ لوگ نجات دلانے کے قابل نہیں ہیں۔ وہ خود اُن کے اپنے خودغرضانہ اور لاڈلے لوگوں کے تہذیبی گروہ کی ’’کلیسائی خدمت‘‘ کو ترجیح دیتے ہیں۔ میں یہ بات بِنا شک کے کہہ سکتا ہوں۔ چُھٹیوں اور کاروباری دوروں کے دوران بے شمار گرجا گھروں میں حاضری دے چکنے کے بعد، میں نے کبھی بھی ایسا پادری صاحب اور مذہبی جماعت نہیں دیکھی جو سچے طور پر بشروں کی پرواہ کرتی ہو۔

[ڈاکٹر کیگن نے یہ اضافہ کیا]، ’’چھٹیوں میں، کاروباری دور پر، اور مشنری دوروں پر میں بے شمار گرجا گھروں میں جا چکا ہوں۔ اُن گرجا گھروں میں سے ایک بھی نئے عہد نامے کے معیار کے اِس قدر قریب نہیں تھا جتنا کہ ہمارا ہے۔ پادری صاحبان میں سے ایک بھی نئے عہد نامے کے معیار کے اِتنا قریب نہیں تھے جتنے قریب ڈاکٹر ہائیمرز ہیں، منادی میں نہیں، بائبل اور علم الہٰیات کی سمجھ میں نہیں، دعاؤں میں نہیں، بشروں کے لیے جوش میں نہیں، اور خود کی قربانی دے کر کرنے والے کاموں میں نہیں۔ مجھے کہیں پر بھی کسی بھی پادری صاحب کی ایسی بیوی کبھی بھی نہیں ملیں جو نئے عہد نامے کے معیار کے اِس قدر قریب ہوں جتنی کہ مسز ہائیمرز ہیں۔ زیادہ تر پادری صاحبان کی بیویاں مشکل ہی سے اپنے گرجا گھروں میں کوئی کام کرتی ہوں۔ کچھ تو بالکل بھی کچھ نہیں کرتیں۔ بے شمار تو اپنے شوہروں کو بھی روکتی ہیں۔ لیکن مسز ہائیمرز نہیں! وہ مسیح کے لیے خود کو حوالے کر دیتی ہیں۔ آپ میں سے بے شمار یہاں پر نہ ہوتے اگر یہ اُن کے سبب سے نہ ہوتا۔ مسز ہائیمرز، شکریہ!‘‘

[مسٹر لی جاری رہتے ہیں]، ’’مبلغین میں سے ایک بھی نہیں کہہ سکتا اُنہوں نے اتنی ہی کوشش کی تھی جتنی کہ آپ نے کی تھی۔ مثال کے طور پر، مجھے یاد ہے آپ نے ایک نوجوان لڑکی کے لیے کیا کِیا تھا۔ کوئی بھی مذہبی خادم جسے میں جانتا ہوں وہ نہ کرتا جو آپ نے اُس لڑکی کی مدد کرنے کے لیے کیا۔ وہ اِس بات کے لیے بالکل بھی شکرگزار نہیں ہے۔ ناشکرے گنہگار وہ انتہائی لوگ ہیں جن کی آپ مذہبی خدمت کرتے ہیں اور جن کی آپ پرواہ کرتے ہیں۔ لیکن کچھ، جیسے کہ جان کیگن، خُدا کے رحم کے نگینوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں!‘‘

[ڈاکٹر کیگن نے کہا]، ’’میں اُمید کرتا ہوں وہ جو مستقبل میں اِس گرجا گھر کی رہنمائی کریں گے اُن میں ڈاکٹر ہائیمرز کی محبت اور صبر میں سے کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا۔ ڈاکٹر اور مسز ہائیمرز اب محسوس کرتے ہیں کہ چونکہ ہمارا گرجا گھر ایک بہتر جگہ ہے اِس لیے اُنہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انتہائی چند لوگ اُنہیں بُلاتے ہیں اور انتہائی چند لوگ اِس حقیقت کے بارے میں پرواہ کرتے ہیں کہ ہم ایک دوسری نسل کی جانب جا سکتے ہیں، جس کے لیے ہم اُن کے مقروض ہیں۔ یہ ڈاکٹر ہائیمرز تھے، ہم نہیں تھے، جنہوں نے اگلی نسل میں دلچسپی لی، تاکہ گرجا گھر جاری رہ پائے۔ یہ ڈاکٹر ہائیمرز تھے، ہم نہیں تھے، جنہوں نے ہمیں حیاتِ نو اور شفایابی کے لیے بُلایا۔

ناشکراپن ہمارے گرجا گھر کا سب سے بڑا گناہ ہے۔ ہم خُدا سے برکات پاتے ہیں اور اُن سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لیکن ہم اُن لوگوں کے بارے میں بھول جاتے ہیں جو وہ برکات ہمارے لیے لائے تھے۔ بائبل کہتی ہے، ’خُدا بے انصاف نہیں جو تمہارے کام اور اُس محبت کو بھول جائے جو تم نے اُس کی خاطر اُس کے لوگوں کی خدمت کرنے سے ظاہر کی اور اب بھی کر رہے ہو‘ (عبرانیوں6:10)۔ بھائیوں اور بہنوں، خُدا بھولتا نہیں ہے – اور آئیے ہمیں بھی نہیں بھولنا چاہیے!‘‘

[مسٹر لی نے کہا،] ’’آپ نے ہمارے گرجا گھر کے لیے سرمایہ کاری کی اور واقعی میں خود کو صرف کر دیا۔ خُدا کے فضل سے ہزاروں گھنٹے دعا میں، مذہبی خدمت میں اور منادی میں لگانے کے سرمایے کے صلے میں کچھ اچھے لوگوں نے جنم لیا۔ یقینی طور پر، ایک کاروباری منصوبے کی حیثیت سے اِس کو ناکامی سمجھا جائے گا۔ خُدا کے منصوبے کی حیثیت سے، یہ ایک مکمل کامیابی ہے! میں پُریقین ہوں اُس دِن یسوع ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک اچھا اور وفادار خادم کہے گا۔ آپ کی وفاداری کو خدا کے ذریعے سے گنہگاروں کو توبہ کرنے کے لیے اور نجات پانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ یاد رکھیں، میں اُن میں سے ایک ہوں اور میں اِس کے لیے شکرگزار رہوں گا – ہمیشہ تک۔ میں پُریقین ہوں کہ وہ [یسوع] خوشی ہے اور آسمان میں شادمانی ہوتی ہے!‘‘ [ڈاکٹر کیگن نے کہا]، میں ایک کے بعد دوسرے شخص کو دیکھ چکا ہوں جس کے بارے میں ہم نے سوچا کہ کبھی بھی نجات نہیں پائے گا، ڈاکٹر ہائیمرز کی مشاورت اور تبلیغ کے وسیلے سے مسیح میں ایمان لا کر کبھی بھی تبدیل نہیں ہو گا۔ ڈاکٹر ہائیمرز نے تو یہاں تک کہ کسی حد تک کہلائی جانے والی اُن کی ’’چُھٹیوں‘‘ کے دوران بے شمار گھنٹے ہمارے گرجا گھر کو مضبوط کرنے کے لیے کام کیا! آپ کی مدد کرنے اور ہمارے گرجا گھر کو بہتر بنانے کے لیے کام کرنے سے اُنہیں کوئی بھی بات نہیں روک سکتی!‘‘

[مسٹر لی نے کہا]، ’’ایک انسان کی حیثیت سے، آپ اپنی مشقت کے لیے زیادہ کی توقع کرتے ہیں، اور ہم نے، مسیحی ہونے کے ناطے ایسی ہی توقع کی تھی۔ اور اِس کے باوجود، یہ ایک اِسرار ہے کہ ہمیں لاکھوں میں سے صرف چند ایک مسیحی میں ایمان لا کر ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ بدکار لوگوں کی مذہبی خدمت اور انجیلی بشارت کرنے کی اجازت دینے کے لیے خُدا کا فضل اِس قدر شدید، طویل اور صابر ہوگا۔ لیکن حتٰی کہ ’’اُن اُنتالیس‘‘ [وہ لوگ جنہوں نے ہمارے گرجا گھر کی عمارت کے لیے ادائیگی کی] کے چلے جانے کے بعد، کیا ہم مسیحیوں کے پاس کوئی انتخاب کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے؟ میرا نہیں خیال ہمارے پاس ہے۔ خُوشخبری کو پھیلانے کے لیے مسیح کے حکم کی خاطر اُنہیں قربانیوں سے تعلق رکھتی ہوئی اپنی زندگیاں گزارنے کے لیے ڈاکٹر ہائیمرز کی مانند ہونے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ڈاکٹر ہائیمرز وہ جیتا جاگتا ثبوت ہیں کہ مسیح کی خاطر خود کو ختم [خرچ، صرف] کر دینا ہی قیمت چکتا کر دیتا ہے۔‘‘

[ڈاکٹر کیگن نے کہا]، ’’حالانکہ، ڈاکٹر ہائیمرز (جب سے کینسر کی زد میں آئے اُس) کے بعد والے واعظوں کے مقابلے میں میرے بیٹے کے واعظ زیادہ قوت بخش ہیں اور مضبوط بھڑکیلی آواز کا زیادہ استمعال کرتے ہیں، ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم سب کے سب، جن میں جانJohn بھی شامل ہے، اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی تبلیغ کے وسیلے سے ہی مسیح کے لیے جیتا گیا تھا، اور جن کو ڈاکٹر اور مسز ہائیمز نے سینچا تھا۔ وہ شاید اب اِس قدر قوت سے بھرپور نہ ہوں، لیکن اُنہوں نے اِس گرجا گھر کو بنایا جو یہ آج ہے۔ آپ اِس کمرے میں – اِردگرد دیکھیں – آپ ڈاکٹر ہائیمرز کی مسیح کے لیے قربانی کا زندہ ثبوت ہیں! ڈاکٹر ہائیمرز شاید اب بوڑھے ہو چکے ہیں اور کینسر کی وجہ سے کمزور بھی ایسے موقع پر ڈاکٹر ہائیمرز کی جگہ اگر کوئی اور پادری صاحب ہوتے تو کب کے ریٹائر ہو چکے ہوتے، لیکن آپ سب کے سب اُن کے مقروض ہیں اُن کے کام کو جاری اور زیادہ جاری رکھنے کے لیے۔‘‘

[مسٹر لی نے کہا]، ’’اِس جنگ کی ہلاکتوں کا شمار انتہائی زیادہ ہے۔ خُدا کے فضل سے، ڈاکٹر ہائیمرز، آپ نے گرجا گھر کی ساری لڑائیوں، دُکھوں، تکلیفوں اور تقسیموں کو سہہ لیا۔ شیطان نے آپ کی مذہبی خدمات کو نقصان پہنچانے کی بہترین کوشش کی تھی، لیکن ہمارے نجات دہندہ نے آپ کو اِس سب میں سلامت رکھا۔ حملوں کی شدت کے بجائے اُس یسوع نے فتح بخشی۔ مثال کے طور پر، مجھے یاد ہے 80ویں دہائی کے آخر میں جب منتظمین کے ایک اِجلاس کے دوران ایک رہنما آپ پر گرج پڑے تھے۔ میں نے سوچا تھا اُسے نکال باہر کیا جائے گا اور میں بھونچکا رہ گیا آپ اُس روئیے کو برداشت کرنے کے قابل تھے۔ میں نے بعد میں اُسے بُلایا اور معافی مانگنے کے لیے اُسے قائل کرنے کی کوشش کی تھی۔ میں حیران رہ گیا تھا کہ آپ کے پاس اِس قسم کی بغاوت کے ساتھ چلتے رہنے کا صبر تھا۔ منتظمین کی اُس لڑائی کی ہلاکتیں اِس قدر زیادہ تھیں کہ دوسروں نے بھی اُس رہنما کی پیروی کی اور اُنہوں نے بھی آپ کے خلاف بغاوت کی۔ میرا نہیں خیال کوئی بھی پادری اِس قدر بڑے حملے کو سہہ پاتا! آپ نے سہہ کر دکھایا۔ آپ نے اُس رہنما کو اِس قدر غلیظ حملے کے باوجود بھی گرجا گھر میں رہنے کی اِجازت دی۔ اُس جنگ کی زد میں آنیوالے لوگوں میں مسز ہائیمرز بھی شامل ہیں۔ اگر اُنہوں نے ایشیائی لڑکیوں کی دیکھ بھال کرنے میں اِس قدر زیادہ وقت نہ صرف کیا ہوتا جو کہ اب یہاں پر ہیں، تو کیا وہ اِس قدر بیمار ہوتیں؟ میرا نہیں خیال کہ وہ ہوتیں۔ وہ ایک صحت مند اور مضبوط خاتون ہوتی۔ لیکن چونکہ شیطان اور اُس کے چیلوں کے ذریعے سے مصیبتیں اور تکلیفیں تسلسل کے ساتھ آتی رہیں، تو آپ کے خاندان نے بہت زیادہ برداشت کیا۔ یہ بھی ایک اِسرار ہے کہ تمام جسمانی اور ذہنی مصیبتوں کے ختم ہو چکنے کے بعد بھی، آپ کا خاندان اب بھی یہیں پر موجود خُدا کی خدمت کر رہا ہے! اُن تمام تکالیف کا ایک مقصد تھا اور وہ بھی جنگ کا حصہ تھیں۔‘‘

[ڈاکٹر کیگن نے کہا]، ڈاکٹر اور مسز ہائیمرز نے راہ تیار کی تھی۔ تمام کے تمام ’’اُنتالیس‘‘ لوگوں نے مصیبتیں سہیں، بشمول میرے خاندان کے۔ لیکن ڈاکٹر اور مسز ہائیمرز نے راہنمائی کی، گرجا گھر کو ایسا تعمیر کرنے میں تکلیفیں سہیں جیسا یہ آج ہے۔ اُن کی تکلیفوں اور مثالوں کی وجہ سے، اُنہوں نے ہم سب کے لیے راہ تیار کی، اور گرجا گھر کو اُن ہولناک ادوار میں سے نکال کر وہ گرجا گھر دیا جو آج ہمارے پاس ہے۔‘‘

[مسٹر لی نے کہا]، ’’آپ کی مذہبی خدمت نے اِس دُنیا کی احمقانہ باتوں میں اِستعداد دیکھا۔ انٹرنیٹ آدمی کا آلہ ہے اور خُدا کی نظر میں، میں پُریقین ہوں، ایک احمقانہ بات ہے۔ لیکن کیا آپ کو وہ دِن یاد ہے جب آپ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ اگر گرجا گھر کے لیے ایک ویب سائٹ کو قائم کیا جائے؟ مجھے ابھی تک یاد ہے۔ ہر کسی نے تالیاں بجائی تھیں، بشمول اُن لوگوں کے جو ہمارے ساتھ یہاں نہیں ہیں۔ میں نے توقع بھی نہیں کی تھی کہ وہ ویب سائٹ خُدا کے ذریعے سے ایک برکت کی حیثیت سے استعمال کی جائے گی، یہاں تک کہ دوسرے ممالک میں بھی بشروں کو نجات دلانے کے لیے! میں نے کبھی بھی توقع نہیں کی تھی کہ وہ ویب سائٹ ساری دُنیا میں اِس قدر زیادہ تھیں پادری صاحبان اور مشنریوں کے لیے اتنی زیادہ خوشی، مسرت اور تسکین لائے گی۔ آخر کو، اُس ویب سائٹ کی تکمیلیت یہ ہے – وہ خوشخبری۔ میں انتہائی خوش ہوں کہ آپ نے وہ دیکھا جو دوسروں کو نظر نہیں آ پایا۔‘‘

[ڈاکٹر کیگن نے کہا،] ’’ڈاکٹر ہائیمرز بصیرت رکھنے والے ایک انسان ہیں۔ وہ محض اپنی نوکری کر کے گھر نہیں چلے جاتے۔ وہ ہمیشہ مسیح کی خوشخبری کو پھیلانے کے لیے نئی راہوں کی تلاش میں لگے رہتے ہیں – ناصرف ہمارے گرجا گھر میں لوگوں کو نجات دلانے کے لیے، بلکہ ساری دُنیا میں لوگوں کی نجات کے لیے اور ہر قوم میں پادری صاحبان کی مدد کرنے کے لیے جُتےرہتے ہیں، جہاں وہ اُن واعظوں کو پڑھتے اور اُن کی تبلیغ کو 36 زبانوں میں کرتے ہیں! خُدایا ڈاکٹر ہائیمرز کے لیے تیرا شکر ہو!‘‘

[مسٹر لی نے کہا]، آپ نے ’’فیصلہ سازیت‘‘ کی بدعت کو روکنے کی کوشش کی۔ ایک مرتبہ آپ نے مسئلہ دیکھا، آپ نے ہر کسی کو خبردار کرنے کی کوشش کی۔ آپ نے اِس کے بارے میں محض کبھی کبھار ہی بات نہیں کی۔ آپ نے واعظوں اور کتابوں میں شدید تر اصطلاحات میں اِس کے خلاف اعلان کیا اور کچھ نے آپ کی بات کو تسلیم کیا۔ میں جانتا ہوں یہ بدعت اِس قدر آسانی سے ختم نہیں ہوگی، کیونکہ اِس کو بنانے کے لیے دو سو سال لگے ہوئے ہیں۔ بڑی بدعتیں جلدی سے ختم نہیں ہو جاتیں۔ لیکن آپ نے بِنا ہچکچاہت کے قدم آگے بڑھا دیے۔ آپ نے ایک تحریک کا آغاز کیا اور میں اُمید کر رہا ہوں اور دعا مانگ رہا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ پادری صاحبان اِس کو دیکھ پائیں گے اور اِس پر عمل کریں گے۔ چند ایک سچائی کو دیکھتے ہیں، اور میں دعا مانگتا ہوں کہ پاک روح مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے مذہبی خادمین کے ذہنوں اور دِلوں میں باقی کام کرے۔ میں خوش ہوں کہ آپ نے ’’فیصلہ سازیت‘‘ کو دریافت کیا اور اِس کا بھانڈا پھوڑا اور میں پُر یقین ہوں کہ آپ کی مشقتوں کو خُدا جانتا ہے۔ آپ کی لڑائی کو عزت بخشنے کے لیے خدا کا جلال ہو!‘‘

[ڈاکٹر کیگن نے کہا]، ’’تقریباً کوئی بھی آج ’فیصلہ سازیت‘ کے خطرے کو نہیں دیکھتا۔ تقریباً ہر کوئی اِس سے دھوکہ کھا جاتا ہے۔ یہی گذشتہ دو سو سالوں کی ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ لیکن ڈاکٹر ہائیمرز نے اِس کو دیکھ لیا اور اِس کا جواب دیا اور اِس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے! وہ مارٹن لوتھر کی مانند ہیں، جنہوں نے مسیح میں بھروسے کے ذریعے فضل کے وسیلے سے نجات کو دیکھا اور اُس کے لیے لڑے۔ آپ میں سے بے شمار لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ ہمارے پادری صاحب مسیح میں ایمان لا کر حقیقی طور پر تبدیل ہونے کی جنگ میں کس قدر اہم ہے!‘‘

[مسٹر لی نے کہا]، ’’آپ نے حیاتِ نو پر زور دیا۔ وہ حقیقت کہ آپ نے یہ کیا اِس کے لیے ہم سب کو آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ وہ حیاتِ نو جو ہم پا چکے ہیں وہ ہے جو خُدا ہمیں دینا چاہتا ہے، اور جی ہاں، اُس نے مجھے ایک شاندار اور اچھی سے بیوی بخشی جو دعا مانگ سکتی ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے یا مختصر مدت کے لیے نہیں ہے۔ وہ حیاتِ نو کی وجہ سے ہم تمام کے لیے نتیجے کے طور پر ایک نعمت بن چکی ہیں! اُن بے شمار نوجوان لوگوں کا جو مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو چکے ہیں ذکر نہ کرنا! میں گُنگ ہو جاؤں گا۔ کس نے سوچا ہوگا اِس قدر زیادہ نوجوان لوگ چند ایک مہینوں میں نجات پا جائیں گے؟ میں اُن ’’اُنتالیس لوگوں‘‘ میں سے بے شمار کو جانتا ہوں جنہوں نے یقین نہیں کیا کہ گذشتہ سال حیاتِ نو پر زور دینے سے پہلے اِس قدر زیادہ لوگ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو جائیں گے۔ اُن کے لیے، وہ صرف بچے تھے جو گرجا گھر میں آ رہے تھے۔ لیکن جب خُدا گذشتہ سال نازل ہوا، اُس نے اُن بھائیوں اور بہنوں کے دِلوں میں تحریک مچانی شروع کر دی جنہوں نے اُن کے لیے دعائیں مانگی تھیں، اور اب بے شمار مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو چکے ہیں۔ اُس [یسوع] نے مجھے شفا بخشی اور بے شمار اُن لوگوں کو شفا بخشی جو جلن، حسد اور نفرت میں جی رہے تھے۔ خُدا نے اپنے مقدس لوگوں کی دعاؤں کا جواب دیا کیوں کہ آپ حیاتِ نو میں اُس [خُدا] کی موجودگی چاہتے تھے! خُدا آپ کے ذریعے سے کیا کر چکا ہے یہ بات ناقابلِ یقین ہے! خُدا اب بھی کافروں کو بچاتا ہے! یہ خُدا کا کام ہے اور یہ ہماری نظروں میں انتہائی شاندار بات ہے! کیا ہم کبھی بھی اپنے گرجا گھر میں پوری طرح سے بھرپور اور جاندار حیاتِ نو پائیں گے؟ میں دعا مانگتا ہوں کہ وہ ایسا کریں اور کہ آپ اُسے پانے اور اُس کی موجودگی کو پانے کے لے ہمیں مجبور کرنا جاری رکھیں گے۔‘‘

[ڈاکٹر کیگن نے کہا،] ’’ہمارے پاس حیاتِ نو لانے کے لیے ڈاکٹر ہائیمرز کو خدا نے استعمال کیا! وہ ایک کے بعد دوسری رات اِس کے لیے دعا مانگتے تھے۔ اُنھوں نے اپنے واعظوں کو تیار کرنے میں سخت محنت کی۔ وہ ایک کے بعد دوسری رات آتے اور منادی کرتے رہے حالانکہ وہ 76 برس کی عمر کے ہیں اور کینسر سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز نے چند ایک ہفتوں میں تقریباً تیس مرتبہ تبلیغ کی۔ کوئی دوسرا پادری ہوتا تو قدم پیچھے ہٹا لیتا اور صرف اتوار کو ہی بات کرتا۔ لیکن وہ حیاتِ نو نہیں لا پاتا! ڈاکٹر ہائیمرز مسیحیت کے کام کو سنجیدگی سے لیتے ہیں! اُنہوں نے ایک کے بعد دوسری رات خود کو لانے کے لیے مجبور کیا، اور جب وہ آئے، تو اُنہوں نے اپنی منادی کو گنہگاروں کو نجات دلانے کے لیے اور مسیحیوں کو ایک نئی زندگی بخشنے کے لیے دل سے کیا۔ اور یہ اُن کی روحانی بصیرت اور رہنمائی تھی کہ جو ہمارے گرجا گھر کو اُس حیاتِ نو تک لائی جو ہمیں ملا ہے۔ میں ڈاکٹر ہائیمرز کے لیے خدا کا شکر ادا کرتا ہوں!‘‘

[مسٹر لی نے کہا]، ’’اِس کے علاوہ یہاں دوسرے بے شمار کارنامے ہیں کہ کیسے خدا نے آپ کو استعمال کیا، لیکن یہ کہنے کے لیے کافی ہے کہ ساری تاریخ میں رضامند خادمین کے ساتھ پڑھنے میں وہ کامیابی حاصل کرنے کے قابل ہے، اُن کے بارے میں محض سننے سے ہی میں بابرکت ہو جاتا ہوں۔ میں پُریقین ہوں کہ آسمان میں، دوسروں کے ساتھ ساتھ جان سُنگ John Sung، ڈیوڈ لیونگسٹن David Livingstone اور ہڈسن ٹیلر Hudson Taylor اِس بات کی گواہی دے رہے ہیں جو لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں رونما ہو رہا ہے۔ میں جانتا ہوں ڈاکٹر سُنگ کے پاس مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے بے شمار لوگ تھے، اور لیونگسٹن کے پاس شاید ایک ہی تھا، لیکن وہ دونوں ہی خوشخبری کے نمائندے تھے۔ آپ ہی کی مانند، وہ آخر تک اپنی بلاہٹ میں وفادار رہے تھے۔

جوں جوں زندگی کے جھانسے اور صبر و مشقت آتے اور جاتے ہیں، میں ہمیشہ یسوع کے ساتھ کپتان کے طور پر بے مثال وفاداری کے ساتھ جنگ میں جانے کے لیے آپ کے ثابت قدم طریقوں کو دیکھ سکتا ہوں، میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اُس نے آپ کو آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ دیا!

خدا آپ کو لبریزی کے ساتھ برکت دے!
مسیح میں، کیو ڈونگ لی۔‘‘

[ڈاکٹر کیگن نے کہا]، ’’ہم نہیں جانتے اور ہم نہیں سراھتے جو ہمارے پاس ہے۔ مجھے وضاحت کر لینے دیجئے۔ نوجوان لوگوں کو سمجھ نہیں آتا کہ والدین اُن کے لیے کتنا کچھ کر چکے ہوتے ہیں۔ اُن کے والدین وفاداری کے ساتھ اکٹھے زندگی بسر کرتے ہیں – یہ بات آج اکثر دیکھنے میں نہیں ملتی۔ اُن کے والدین ایک پائیدار زندگی بسر کرتے ہیں – یہ بات آج اکثر دیکھنے میں نہیں ملتی۔ اُن کے والدین اُن کی بخوبی پرورش کرتے ہیں – یہ بات آج کل زیادہ دیکھنے میں نہیں ملتی۔ اُن کے والدین اُن کی تعلیم اور اُن کی گاڑیوں کے لیے ادائیگی کرتے ہیں – بے شمار نوجوان لوگوں نے اُن کے لیے ایسا نہیں کیا۔ لیکن وہ سب کچھ پس منظر میں ہے۔ نوجوان لوگوں کو احساس نہیں ہوتا کیسے اُن کے والدین اُن کے لیے قربانیاں دے چُکے ہیں۔ اُنہیں جو کچھ دیا جا چُکا ہے اُن کے لیے خصوصی نہیں ہے۔ یہ پس منظر کا شور ہے۔ یہ محض ’وہاں‘ ہے۔

اور اہم گرجا گھر کو اِسی طرح سے نبھاتے ہیں۔ جو میں دیکھ چُکا ہوں اُس کے مقابلے میں ہمارا گرجا گھر کسی دوسرے سے بہتر ہے – لیکن آپ میں سے بے شمار لوگ اس کی قدر نہیں کرتے۔ یہ محض ’وہاں‘ ہے۔ خوشخبری کی منادی کی جاتی ہے اور مسیح کے لیے لوگ جیتے جاتے ہیں – لیکن آپ اِس کی قدر نہیں کرتے۔ یہ محض ’وہاں‘ ہے۔ ہمارے پادری صاحب ایک شاندار انسان ہیں، اپنی منادی میں، اپنے علم میں، اپنی روحانی بصیرت کی گہرائی میں – لیکن آپ اُن کی قدر نہیں کرتے۔ وہ محض ’وہاں‘ ہیں۔ مسز ہائیمرز لوگوں کو گرجا گھر میں لانے کے لیے دن اور رات کام کرتی ہیں – لیکن آپ اُن کی تعریف نہیں کرتے۔ وہ محض ’وہاں‘ ہیں۔

ہمارے گرجا گھر میں آپ کو اِس بات کا ذرا بھی احساس نہیں ہوتا۔ آپ احسان فراموش ہیں۔ آپ وہ لے لیتے ہیں جو دیا جاتا ہے لیکن آپ ڈاکٹر ہائیمرز کے اُس بات کے لیے جو وہ ہمیں بخش چُکے ہیں، ہماری حیاتِ نو میں رہنمائی کرنے کے لیے شکرگزار نہیں ہوتے – اور حتٰی کہ سب سے پہلے کہا جائے تو حیاتِ نو کے بارے میں سوچنے پر اُن کے شکر گزار نہیں ہوتے! لیکن خدا ڈاکٹر اور مسز ہائیمرز سے کہتا ہے، ’خداوند میں تمہاری محنت بے فائدہ نہیں ہے‘ (1۔ کرنتھیوں 15:58). اور خدا اُن سے کہتا ہے، ’جو نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سُنا، نہ کسی کے خیال میں آیا اُسے خدا نے اُن کے لیے تیار کیا ہے جو اُس سے محبت رکھتے ہیں‘ (1۔ کرنتھیوں 2:9). اور میں ڈاکٹر اور مسز ہائیمرز سے کہتا ہوں، مُناد کیو ڈونگ لی کے لفظوں میں، خدا آپ کو لبریزی کے ساتھ برکت دے! آمین۔‘‘


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بیجیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
نے گایا تھا: ’’تیرے قریب Close to Thee‘‘ (شاعر فینی جے۔ کراسبی، 1820۔1915).