Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


نجات صرف غیرمطمئن لوگوں کے لیے ہوتی ہے

DELIVERANCE IS ONLY FOR THE DISSATISFIED
(Urdu)

ڈاکٹر ہائیمرز کی جانب سے تحریر کیا گیا ایک واعظ
اور جس کی منادی مسٹر جان سیموئیل کیگن نے کی
لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں
خُداوند کے دِن کی صبح، 14 مئی، 2017
A sermon written by Dr. R. L. Hymers, Jr.
and preached by Mr. John Samuel Cagan
at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, May 14, 2017

’’بیماروں کو طبیب کی ضرورت ہوتی ہے، تندرستوں کو نہیں۔ میں راستبازوں کو نہیں بلکہ گنہگاروں کو توبہ کرنے کے لیے بلانے آیا ہُوں‘‘ (لوقا 5:31۔32).

یسوع وہاں سے نکلا اور لاوی نامی ایک محصول لینے والے کو دیکھا۔ یہ متی کا دوسرا نام تھا۔ یسوع نے متی کو اُس کی پیروی کرنے کے لیے بُلایا،

’’اور وہ اُٹھا اور سب کچھ چھوڑ کر اُس کے پیچھے ہو لیا‘‘ (لوقا 5:28).

متی ایک محصول لینے والا تھا، روم کے لیے ٹیکس جمع کرتا تھا۔ یہودی محصول لینے والوں سے نفرت کرتے تھے کیونکہ اُنہیں روم کی جانب سے یہودیوں سے شریعت کے مطابق محصول لینے سے کہیں گُنا زیادہ محصول لینے کی اجازت تھی۔ وہ اُس میں سے جو پیسہ وہ جمع کرتے تھے کچھ حصہ حکومت کو دیتے اور باقی اپنے لیے بچا رکھتے تھے۔ پس، زیادہ تر محصول لینے والے انتہائی امیر ہوتے تھے اور دوسرے یہودی اُن سے نفرت کرتے تھے۔ یہودی لوگوں کی جانب سے اُنہیں غلیظ گنہگاروں میں شمار کیا جاتا تھا۔

جب متی نے یسوع کی پیروی کی، ’’اُس نے سب کچھ چھوڑ دیا،‘‘ یعنی کہ اُس نے محصول جمع کرنے کا انتہائی نفع بخش کاروبار چھوڑا، ’’اور اُس [یسوع] کی پیروی کی۔‘‘

پھر متی نے اپنے گھر میں ایک ضیافت دی۔ اُس کے کھانے کی دعوت میں دوسرے محصول لینے والوں کا ایک بہت بڑا ہجوم اور ہر قسم کے گنہگار آئے۔ وہ بدترین قسم کے لوگ تھے۔ شاعر زینو Zeno نے کہا، ’’تمام محصول لینے والے سب کے سب وہی لُٹیرے تھے۔‘‘ اِن محصول لینے والوں کے ساتھ، یا اُن کے دوستوں کے ساتھ، جن کو فریسی ’’گنہگار‘‘ کہتے تھے، فریسوں کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

جب دعوت میں اِن محصول لینے والوں کے بہت بڑے ہجوم اور گنہگاروں نے گھر کو بھر دیا، تو فریسی شکایتیں کرتے اور بُڑبُڑاتے ہوئے آئے۔ اُنہوں نے شاگردوں سے کہا،

’’تُم محصول لینے والوں اور گنہگاروں کے ساتھ کیوں کھاتے پیتے ہو؟‘‘ (لوقا 5:30).

یسوع اُس دعوت میں سے باہر نکلا اور فریسیوں کو جواب دیا،

’’بیماروں کو طبیب کی ضرورت ہوتی ہے، تندرستوں کو نہیں۔ میں راستبازوں کو نہیں بلکہ گنہگاروں کو توبہ کرنے کے لیے بلانے آیا ہُوں‘‘ (لوقا 5:31۔32).

یسوع نے فریسیوں کو اُن گنہگاروں کو اِس ضیافت میں مدعو کرنے کے لیے بُلانے کی وجہ پیش کی۔ اُس نے کہا کہ وہ جو اچھی صحت رکھتے ہیں اُنہیں طبیب کی ضرورت نہیں پڑتی۔ صرف وہی جن کو بیماریاں ہوتی ہیں اُنہیں ضرورت پڑتی ہے۔ خود اُن کی اپنی رائے میں، شریعت کے عالم اور فریسی گناہ کی بیماری سے آزاد تھے۔ چونکہ شریعت کے عالم اور فریسی شریعت کے اصولوں کو قائم رکھتے تھے، اِس لیے وہ خود کو بیمار اور گناہ کی حالت میں نہیں سمجھتے تھے۔ فریسی اُن دِنوں کے کٹر یہودی ہوتے تھے۔ شریعت کے عالم وہ ہوتے تھے جو بائبل کی نقول تیار کرتے تھے اور بائبل کی تعلیم دیتے تھے۔ اُن کا نہیں خیال تھا کہ اُنہیں عظیم طبیب یسوع کی ضرورت تھی۔ وہ

’’اپنے آپ کو تو راستباز سمجھتے تھے لیکن دوسروں کو ناچیز جانتے تھے‘‘ (لوقا 18:9).

اور یسوع کا جواب اُن مغرور، خود مطمئن فریسیوں کے لیے ایک ملامت یا سرزش تھا،

’’بیماروں کو طبیب کی ضرورت ہوتی ہے، تندرستوں [جو ٹھیک ہیں] کو نہیں۔ میں راستبازوں کو نہیں بلکہ گنہگاروں کو توبہ کرنے کے لیے بلانے آیا ہُوں‘‘ (لوقا 5:31۔32).

اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ تندرست ہیں، تو آپ کو یسوع کی کوئی ضرورت نظر نہیں آئے گی۔ اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ تباہ ہو چکے ہیں اور گناہ کی حالت میں مر رہے ہیں، تو یسوع آپ کے لیے اہم ہو جائے گا، اور آپ اپنی جان کو شفا دینے کے لیے اور گناہ اور اُس کے نتائج سے خود کو نجات دلانے کے لیے اُس یسوع کی تلاش کریں گے۔ یہ ناگزیر ہے کہ آپ کو اپنے گناہ کا احساس ہوتا ہے، اپنی نااُمیدی یا مایوسی کا احساس ہوتا ہے، اپنی نااہلی کا احساس ہوتا ہے – یا آپ اپنے لیے مسیح کی ضرورت کو محسوس نہیں کریں گے۔

’’بیماروں کو طبیب کی ضرورت ہوتی ہے، تندرستوں کو نہیں‘‘ (لوقا5:31۔32).

I۔ پہلی بات، وہ جو اپنی طرز زندگی کے ساتھ مطمئن ہوتے ہیں یسوع کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

آپ غور کریں گے، جوں جوں آپ اناجیل پڑھتے جائیں گے کہ یسوع اکثر گنہگاروں کے ساتھ کھاتا پیتا تھا۔ گنہگار خود اپنی طرز زندگی سے مطمئن نہیں تھے۔ گنہگار محسوس کرتے تھے کہ اُن کی زندگی کے بارے میں کچھ نہ کچھ ہولناک طور پر غلط تھا۔ اِس بات سے کچھ نہ کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ یہ گمراہ لوگ یسوع کی جانب کھینچے چلے آتے تھے کیونکہ وہ یسوع اُن کے ساتھ دوستانہ طور پر رہتا تھا۔ اور ان میں سے بے شمار نے نجات پائی تھی۔

وہ اپنی طرز زندگی سے اِس قدر غیرمطمئن تھے کہ اُنہوں نے مسیح کی جانب رُخ کیا۔ متی محصول لینے والے نے کیا، جیسا کہ ہم لوقا کے پانچویں باب میں دیکھتے ہیں۔ زکائی محصول لینے والے نے کیا جیسا کہ ہم لوقا کی انیسویں باب میں دیکھتے ہیں۔ اور یسوع نے اُس سے کہا،

’’اَے زکائی جلدی سے نیچے اُتر آ کیونکہ آج میں تیرے گھر میں مہمان بن کر آنے والا ہُوں۔ پس وہ فوراً نیچے اُتر آیا اور یسوع کو خوشی خوشی اپنے گھر لے گیا۔ یہ دیکھ کر سارے لوگ بڑبڑانے لگے کہ یہ ایک گنہگار کا مہمان جا بنا ہے۔ زکائی نے کھڑے ہو کر خداوند سے کہا، دیکھ! میں اپنا آدھا مال غریبوں کو دیتا ہُوں اور اگر میں نے دھوکے سے کسی کا کچھ لیا ہے تو اُس کا چَو گُنا واپس کرتا ہُوں۔ یسوع نے اُس سے کہا، آج اِس گھر میں نجات آئی ہے کیونکہ یہ بھی ابرہام کا بیٹا ہے۔ اور اِبنِ آدم گم شُدہ کو ڈھونڈنے اور بچانے آیا ہے‘‘ (لوقا 19:5۔10).

اُن مغرور شریعت کے عالمینوں اور فریسیوں کو مسیح کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی؛ وہ خُود اپنی زندگی سے مطمئن تھے۔ لیکن محصول لینے والے اور گنہگار اُس یسوع کے پاس آئے اور نجات پائی۔

’’بیماروں کو طبیب کی ضرورت ہوتی ہے، تندرستوں کو نہیں‘‘ (لوقا5:31۔32).

وہ جو اپنی طرز زندگی سے مطمئن ہوتے ہیں اُنہیں یسوع کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن وہ جو اپنی طرز زندگی سے بیزاری محسوس کرتے ہیں اُس یسوع کے پاس آئیں گے اور نجات پائیں گے۔

آپ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ میں تجربے سے جانتا ہوں کہ آپ میں سے کئی لوگوں کے بارے میں یہ بات سچی ہے۔ اگر آپ اپنی زندگی سے جیسی کہ وہ ہے مطمئن ہیں تو آپ اپنے لیے یسوع کی کوئی ضرورت نہیں دیکھ پائیں گے اور آپ نجات نہیں پا سکیں گے۔ اگر آپ اپنی زندگی سے جیسی وہ ہے خوش ہیں تو آپ اپنے لیے مسیح کے آنے اور کسی بھی بات کو تبدیل کرنے کی کسی بھی ضرورت کو نہیں دیکھ پائیں گے

’’بیماروں کو طبیب کی ضرورت ہوتی ہے، تندرستوں کو نہیں‘‘ (متی 9:12).

II۔ دوسری بات، وہ جو خود اپنی بے دینی سے مطمئن ہیں یسوع کے لیے کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ہمارے شہر پر نظر ڈالیں۔ اِس میں لوگوں کے بارے میں سوچیں۔ کیا اُن میں سے انتہائی بے شمار لوگ خُدا کے بارے میں سنجیدگی سے سوچتے ہیں؟ آپ جانتے ہیں وہ نہیں سوچتے۔ بائبل کہتی ہے،

’’کوئی خدا کا طالب نہیں‘‘ (رومیوں 3:11).

جب تک پاک روح کے عمل سے خُدا کا فضل آپ کے پاس نہیں آتا، آپ کبھی بھی مسیح میں خُدا کو نہیں ڈھونڈیں گے۔ آپ زندگی بسر کرنے کے لیے مطمئن ہونگے اور خُدا کے بغیر ہی، ایک بے دین حالت میں مر جائیں گے۔

لیکن اگر خُدا کا فضل آپ کے دِل میں کام کرنا شروع کرتا ہے تو آپ اپنی زندگی سے جیسی کہ وہ ہے غیرمطمئن ہو جائیں گے۔ آپ ہر ایک بات کو مختلف طرح سے دیکھنا شروع کر دیں گے۔ آپ شاید لوگوں کے ہجوم میں ہونگے اور سوچنا شروع کر دیں گے، ’’یہ لوگ کس چیز کے لیے زندگی گزار رہے ہیں؟ یہ خُدا کے بارے میں فکرمند کیوں نہیں ہیں؟‘‘ آپ خود اپنی زندگی کے بارے میں اور اپنی آنے والی موت کے بارے میں سوچنا شروع کر دیں گے۔ خود آپ کا اپنا مذہب انتہائی معمولی سا، سرسری سا دکھائی دینا شروع ہو جائے گا اور بالکل بھی معاون ومددگار نہیں لگے گا۔ دوسرے لوگ چاہے جو مرضی بہانے بنائیں، یہ بہانے آپ کو مذید اور مناسب دکھائی نہیں دیں گے۔ اور آپ محسوس کرنا شروع کر دیں گے کہ صرف کھانے، سونے، مطالعہ کرنے اور کھیلنے کے مقابلے میں زندگی میں مذید کچھ اور بھی ہونا چاہیے۔

جب خُدا کا فضل آپ کی زندگی میں عمل کرنا شروع کرتا ہے تو آپ کو خود اپنی بے دینی کا احساس ہو جائے گا۔ آپ محسوس کرنا شروع کر دیں گے

’’خدا کی دی ہُوئی زندگی میں اُن [آپ ] کا کوئی حِصہ نہیں‘‘ (افسیوں 4:18).

آپ محسوس کرنا شروع کر دیں گے کہ خُدا آپ کے لیے ایک اجنبی ہے، اور کہ آپ اُس خُدا [یسوع] کے بغیر ایک ہولناک حالت میں ہیں،

’’تُم اِس دُنیا میں خدا کے بغیر نااُمیدی کی حالت میں زندگی گزارتے تھے‘‘ (افسیوں 2:12).

اور اِس لیے میں آپ سے کہتا ہوں، کی آپ اپنی زندگی سے جیسی کہ وہ ہے مکمل طور پر مطمئن ہیں اگر آپ ہیں، تو پھر کم ہی اُمید ہے کہ آپ مسیح کے پاس آئیں گے۔ آپ جیسے ہیں ویسے ہی زندگی بسر کرتے رہیں گے – ایک ذاتی انداز میں خُدا کو جانے بغیر مرنے اور زندگی گزارنے کے لیے مطمئن۔

’’بیماروں کو طبیب کی ضرورت ہوتی ہے، تندرستوں کو نہیں‘‘ (لوقا5:31۔32).

اگر آپ ایک بے دین زندگی سے مطمئن ہیں تو آپ کو یسوع کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔

یہاں ایک رُجحان ہے، خصوصی طور پر نوجوان لوگوں میں، یہ سوچنا کہ مذہب میں حد سے زیادہ دلچسپی لینا کمزوری کی ایک علامت ہوتا ہے۔ وہ جو سچے مسیحی نہیں ہوتے یہ سوچنے کا رُجحان رکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو خُدا میں شدید دلچسپی رکھتے ہیں تھوڑے عجیب ہوتے ہیں، کچھ کچھ نرالے، بالکل عام نہیں ہوتے۔

اِس کی عموماً بات نہیں کی جاتی۔ لوگ عمومی طور پر نہیں کہتے، ’’وہ شخص ایک قسم کا عجیب ہے۔ وہ جاتا ہے اور خود اپنے آپ ہی دعا مانگتا ہے۔‘‘ وہ یہ بات ایک اصول کے طور پر نہیں کہتے۔ لیکن وہ یہ سوچتے ہیں۔ اور آپ کے غیرمسیحی دوست یہ سوچتے ہیں۔ وہ اِس قسم کی باتیں کہیں گے، ’’اِس قدر مذہبی مت بنو۔ ایک جنونی مت بنو‘‘ – اس قسم ہی کی باتیں۔ یہی وجہ کہ یہ اس قدر عام ہے اس لیے ہے کیونکہ انسان گناہ کی حالت میں ہیں۔

’’اِس لیے کہ جسمانی نیت [خُدا کی جانب مخالفانہ] خدا کی مخالفت کرتی ہے‘‘ (رومیوں 8:7).

اپنی غیرنجات یافتہ حالت میں، تمام نسل انسانی

’’طبعی طور پر دُوسرے اِنسانوں کی طرح خدا کے غضب کے ماتحت تھے‘‘ (افسیوں 2:3).

یہی وجہ ہے کہ غیرنجات یافتہ دوست اور رشتہ دار وہ تمام کچھ کریں گے جو آپ کو خُدا کی تلاش کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہونے سے روکنے کے لیے قائل کر پائے۔ وہ شاید آپ کو کسی دوسرے گرجا گھر میں لے جانے کی کوشش کریں، یا ’’اپنے‘‘ گرجا گھر کے بارے میں سوچیں – کوئی بھی بات جو آپ کو اِس گرجا گھر آنے سے روک پائے! کیوں؟ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ’’اُن کا‘‘ گرجا گھر سرد ہے، اور کہ وہاں پر خُدا نہیں ہے۔ اُن کا اصل مقصد آپ کو خُدا سے دور رکھنا ہوتا ہے،

’’اِس لیے کہ جسمانی نیت خدا کی مخالفت کرتی ہے‘‘ (رومیوں 8:7).

اپنی غیراِصلاحی حالت میں، نسل انسانی خُدا کی جانب باغی ہوتی ہے۔ جب خُدا آپ کو بُلانا شروع کرتا ہے، تو آپ کے کھوئے ہوئے گمراہ دوست اور رشتہ دار آپ کو خُدا سے دور رکھنے کے لیے آپ کو واپس کھینچنے کی کوشش کریں گے۔ والدین اور دوست آپ کے ساتھ شاید وہی بات کریں۔

لیکن یسوع نے کہا،

’’میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ وقت آ رہا ہے بلکہ آچُکا ہے جب مُردے خدا کے بیٹے کی آواز سُنیں گے اور اُسے سُن کر زندہ رہیں گے‘‘ (یوحنا 5:25).

حالانکہ افسیوں2:1، 5 کے مطابق آپ روحانی طور پر مُردہ ہوتے ہیں، خُدا کا بیٹا آپ کو بُلانا شروع کرتا ہے۔ اپنی مُردہ حالت میں، آپ ’’خُدا کے بیٹے کی آواز کو سُنتے ہیں۔‘‘ جو وہ رونما ہوتا ہے تو آپ اپنی زندگی کو یسوع خُدا کے بیٹے کے بغیر مذید اور گزارنے کے لیے مطمئن نہیں ہوں گے۔ آپ مذید کچھ اور زیادہ چاہیں گے۔ آپ تب یسوع مسیح کی تلاش کریں گے۔ لیکن جب تک آپ ایک غیربیدار اور مُردہ حالت میں ہوتے ہیں، آپ مسیح کے بغیر زندگی بسر کرنے اور مرنے کے لیے مطمئن رہیں گے۔ صرف جب پاک روح آپ کو دکھاتا ہے کہ آپ کے باطن میں کچھ نہ کچھ غلط ہے – کہ آپ کا دِل بے دین ہے – صرف جب آپ اپنی زندگی میں اِس نقص کو دیکھتے ہیں تب آپ یسوع میں دلچسپی لینی شروع کر دیں گے۔

’’بیماروں کو طبیب کی ضرورت ہوتی ہے، تندرستوں کو نہیں‘‘ (لوقا5:31۔32).

III۔ تیسری بات، جو خود اپنے دِل کی بُرائی کے ساتھ مطمئن ہوتے ہیں یسوع کی کسی ضرورت کو محسوس نہیں کرتے۔

خُدا عام طور پر پہلے ہمارے جذبات سے بات کرتا ہے۔ جب پاک روح اپنا قائل کر ڈالنے والا عمل کرتا ہے، تو آپ کو گناہ سے بھرپور محسوس کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

غور کریں کس قدر اکثر بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ لوگ جذباتی طور پرآمادہ ہو گئے تھے جب وہ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے تھے۔ وہ عورت جس نے یسوع کے پیروں کو چوما تھا جذباتی طور پر ترغیب میں تھی۔

’’ایک بدچلن عورت جو اُسی شہر کی تھی، جو ایک گنہگار تھی، جب اُسے پتا چلا کہ یسوع اُس فرِیسی کے گھر میں کھانا کھانے بیٹھا ہے، سنگِ مرمر کے عِطر دان میں عِطر لائی۔ اور اُس نے یسوع کے پاؤں کے پاس پیچھے کھڑی ہو کر رونا شروع کر دیا اور وہ اپنے آنسوؤں سے اُس کے پاؤں بھگونے لگی اور اپنے سر کے بالوں سے اُنہیں پونچھ کر بار بار اُنہیں چُومنے لگی اور عِطر سے اُن کا مسح کرنے لگی‘‘ (لوقا 7:37۔38).

جلد ہی وہ یسوع کے پاس چلی آئی اور نجات پائی۔

پینتیکوست کے روز، وہ جنہوں نے پطرس کا واعظ سُنا

’’یہ باتیں سُن کر اُن کے دلوں پر چوٹ لگی‘‘ (اعمال 2:37).

اِس کا واقعی میں مطلب ہوتا ہے کہ اُن کے ’’دِل پر چوٹ‘‘ لگی تھی۔ یہ جذبات کے بارے میں بات کرتی ہے۔ فلّپی کے شہر میں وہ قید خانے کا نگران

’’تھرتھراتا ہوا آیا‘‘ (اعمال16:29).

پولوس رسول نے کہا،

’’ہائے! میں کیسا بدبخت آدمی ہُوں! اِس مَوت کے بدن سے مجھے کون چھُڑائے گا؟‘‘ (رومیوں 7:24).

بائبل میں یہ معاملات ظاہر کرتے ہیں کہ خُدا عموماً ایک شخص کے جذبات کو تحریک دیتا ہے تاکہ وہ اپنے دِل میں بُرائی کے ساتھ غیرمطمئن ہو جائے۔ مسیح میں ایمان لانے کی تمام سچی تبدیلیوں میں وہ عام بات، وہ بات جو مسیح میں ایمان لانے کی تمام کی تمام حقیقی تبدیلیوں میں ایک جیسی ہے، یہ ہے – لوگ باطنی طور پر خود سے غیرمطمئن ہو جاتے ہیں۔ وہ خُدا اپنے دِلوں میں جھانکتے ہیں اور وہ وہاں پر گناہ کو دیکھتے ہیں۔ وہ اُس کو ناپسند کرنا شروع کر دیتے ہیں جو وہ خُود میں دیکھتے ہیں۔ وہ خود اپنے ہی دِلوں کو نامنظور کرتے ہیں! وہ جو وہ ہوتے ہیں اُس سے ناخوش ہو جاتے ہیں۔

محصول لینے والوں اور گنہگاروں کا یسوع کے پاس اِس قدر آمادگی کے ساتھ آنے کے پیچھے ایک اِنسانی عنصر تھا – جبکہ شریعت کے عالم اور فریسی اُس یسوع سے علیحدہ ہی رہے تھے۔

’’بیماروں کو طبیب کی ضرورت ہوتی ہے، تندرستوں کو نہیں‘‘ (لوقا5:31۔32).

آج کی صبح آپ سے سوال یہ ہے: کیا آپ غیرمطمئن ہیں؟ کیا آپ اپنی طرز زندگی سے ناخوش ہیں؟ کیا آپ خُدا کے بغیر زندگی گزارنے سے اُکتا چکے ہیں؟ کیا آپ خود اپنے دِل سے ناخوش ہیں؟ کیا آپ اپنے گناہوں کی سزایابی کو محسوس کرتے ہیں؟ اگر اِن باتوں سے تعلق رکھتے ہوئے آپ میں کسی بھی درجے کی ناخوشی اور گناہ کی سزایابی ہوتی ہے، تو پھر آپ شاید اُس عظیم طبیب یسوع کے پاس آنے کے لیے تیار ہیں۔ آخر کار، مسیح ہی واحد تنہا ہستی ہے جو آپ کو گناہ سے نجات دلا سکتی ہے۔ وہی واحد ہستی ہے جو آپ کے گناہ کی ادائیگی کے لیے قربان ہو گیا۔ آپ کو زندگی بخشنے کے لیے وہی واحد ہستی ہے جو مُردوں میں سے جسمانی طور پر زندہ ہوا۔ وہی واحد ہستی ہے جو آسمان میں خُدا باپ کے داہنے ہاتھ پر بیٹھا ہوا آپ کے لیے دعائیں مانگ رہا ہے۔ کیا آپ اُس کے پاس جانے کے لیے تیار ہیں؟ کیا آپ اُس کے خون کے وسیلے سے اپنے گناہ سے دُھل کر پاک صاف ہونے کے لیے تیار ہیں؟

’’بیماروں کو طبیب کی ضرورت ہوتی ہے، تندرستوں کو نہیں‘‘ (لوقا5:31۔32).

اگر آپ مسیح میں نجات پانے کے بارے میں ہمارے ساتھ بات کرنا چاہیں تو مہربانی سے آئیں اور پہلی دو قطاروں میں بیٹھ جائیں جب کہ باقی لوگ دعوت کے لیے اوپر جائیں گے۔ ڈاکٹر ہائیمرز، مہربانی سے آئیں اور اِس عبادت کا اِختتام کریں۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک میں تلاوت مسٹر نوح سُونگ Mr. Noah Song نے کی تھی: لوقا5:27۔35۔
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کنکیڈ گریفیتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’میں حیرت زدہ ہوں I Am Amazed‘‘ (شاعر اے۔ ایچ۔ عیکلے A. H. Ackley، 1887۔1960).

لُبِ لُباب

نجات صرف غیرمطمئن لوگوں کے لیے ہوتی ہے

DELIVERANCE IS ONLY FOR THE DISSATISFIED

ڈاکٹر ہائیمرز کی جانب سے تحریر کیا گیا ایک واعظ
اور جس کی منادی مسٹر جان سیموئیل کیگن نے کی
A sermon written by Dr. R. L. Hymers, Jr.
and preached by Mr. John Samuel Cagan

’’بیماروں کو طبیب کی ضرورت ہوتی ہے، تندرستوں کو نہیں۔ میں راستبازوں کو نہیں بلکہ گنہگاروں کو توبہ کرنے کے لیے بلانے آیا ہُوں‘‘ (لوقا 5:31۔32).

(لوقا 5:28، 30؛ 18:9)

I.    پہلی بات، وہ جو اپنی طرز زندگی کے ساتھ مطمئن ہوتے ہیں یسوع کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے، لوقا 19:5۔10؛ متی 9:12۔

II.   دوسری بات، وہ جو خود اپنی بے دینی سے مطمئن ہیں یسوع کے لیے کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے، رومیوں 3:11؛ افسیوں 4:18؛ 2:12؛
رومیوں 8:7؛ افسیوں 2:3؛ یوحنا 5:25۔

III.  تیسری بات، جو خود اپنے دِل کی بُرائی کے ساتھ مطمئن ہوتے ہیں یسوع کی کسی ضرورت کو محسوس نہیں کرتے، لوقا 7:37۔38؛ اعمال 2:37؛ 16:29؛
رومیوں 7:24۔