Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


دُعّا میں ترتیب اور دلیل – حصّہ دوئم

ORDER AND ARGUMENT IN PRAYER – PART II
(Urdu)

مسٹر جان سیموئیل کیگن کی جانب سے
by Mr. John Samuel Cagan

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
ہفتے کی شام، 3 ستمبر، 2016
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Saturday Evening, September 3, 2016

’’کاش کہ میں جانتا کہ وہ مجھے کہاں مل سکتا ہے! کاش کہ میں اُس کے مسکن تک جا سکتا! میں اپنا حال اُس کے سامنے بیان کرتا اور اپنے مُنہ سے دلائل پیش کرتا‘‘ (ایوب 23:3۔4).

ہم بحث کر رہے ہیں کیسے منظم اور مدلّل دعائیں کیں جائیں۔ ایسا کرنے کے لیے، یہ اہم ہے کہ آپ کے ذہن میں بائبل کی کہانیاں اور آیات ہوں۔ مشابہت اور مطابقت کے ساتھ بحث کرنا نقطۂ نظر کو مضبوط بنانے کے لیے طاقتورترین راہ ہے۔ مشابہت و مطابقت دو چیزوں کے مابین ساخت کے لحاظ سے یکسانیت کا موازنہ ہوتا ہے۔ جب آپ کسی بہت بڑی اور معجزانہ بات کے لیے دعا مانگتے ہیں، تو کسی ایسی بات کا حوالہ دیں جو خُدا نے بائبل میں کی ہو اور جو بہت بڑی اور معجزاتی ہو۔ اگر آپ کسی ایسی بات کے لیے دعا مانگ رہے ہیں جو اپنی جانب کم توجہ کھینچتی ہے، تو کسی ایسی بات کا حوالہ دیں جو روشنی ڈالے کہ خُدا کس قدر تفصیل پر مبنی اور مخصوص ہوتا ہے۔ یہ تمام کا تمام صرف اِس لیے معنی خیز ہوتا ہے کیونکہ وہ دعا کا جواب دیتا ہے۔ بائبل میں ایسے بے شمار واقعات ہیں جہاں پر اُس نے منظم، وجوہاتی اور دلیل پر مبنی دعا کا جواب دیا ہے۔ بائبل میں ایسے بے شمار لوگوں کی مثالیں ہیں جنہوں نے خُدا کے ساتھ بحث کی۔

I۔ پہلی، منظم دعا کے لیے خُدا کا ردعمل۔

موسیٰ نے بیابان میں اسرائیل کے لیے دعا مانگی تھی۔ لوگوں نے خُدا سے مُنہ موڑ لیا تھا اور سونے کے ایک بچھڑے کی پوجا شروع کر دی تھی۔ خُدا نے اُنہیں تباہ کرنے کے لیے دھمکی دی تھی۔ موسیٰ نے لوگوں کے لیے دعا مانگی۔ بائبل کہتی ہے،

’’مُوسیٰ نے خداوند اپنے خدا سے رحم کی درخواست کرتے ہُوئے کہا کہ اَے خداوند! تیرا غضب اپنے لوگوں کے خلاف کیوں بھڑکے جنہیں تُو عظیم قُوت اور زور آور بازو سے مِصر سے نکال لایا؟ مِصریوں کو یہ کہنے کا موقع کیوں ملے کہ عبرانیوں کا خدا اُنہیں بُرے ارادہ سے نکال لے گیا تاکہ اُنہیں پہاڑوں میں مار ڈالے، روئے زمین پر سے مٹا ڈالے؟ لہٰذا اپنے شدید قہر سے باز رہ اور اپنے لوگوں پر آفت نازل نہ کر‘‘ (خروج 32:11۔12).

موسیٰ خُدا سے کہہ رہا تھا، ’’اے خُداوند، لوگ تیرے بارے میں کیا کہیں گے؟ وہ تیرے عظیم نام کے بارے میں کیا سوچیں گے اگر تو اِن لوگوں کو تباہ کر دیتا ہے؟‘‘ پھر موسیٰ نے خُدا کو اُس کا وعدہ یاد دلایا:

’’اپنے بندوں، ابرہام، اِضحاق اور یعقوب کو یاد کر جن سے تُو نے اپنی ہی قسم کھا کر کہا تھا کہ میں تمہاری نسل کو آسمان کے تاروں کی مانند بڑھاؤں گا اور یہ سارا ملک جس کا میں نے اُن سے وعدہ کیا تمہاری نسل کو دوں گا اور وہ ہمیشہ کے لیے اِس کے وارث ہوں گے‘‘ (خروج 32:13).

موسیٰ نے خُدا کو اُس کا وعدہ یاد دلایا جو اُس نے ابراہام، اضحاق اور یعقوب (اسرائیل) کے ساتھ کیا تھا، کہ وہ اُن کی نسل کو بڑھائے گا اور اُنہیں کنعان کی سرزمین عطا کرے گا۔ ’’اگر تو اِن لوگوں کو ابھی تباہ کر دے گا تو تیرا وعدہ پورا نہیں ہوگا۔‘‘ خُدا نے موسیٰ کی دعا کا جواب دیا۔ بائبل کہتی ہے، ’’تب خُداوند اپنے قہروغضب سے باز آیا [اِس بارے میں اپنا اِرادہ بدل لیا] اور اُس نے اپنے لوگوں پر وہ آفت نازل نہ کی جس کی اُس نے دھمکی دی تھی‘‘ (خروج32:14)۔ خُدا نے اپنا اِرادہ بدل لیا تھا۔ اُس نے لوگوں کو تباہ نہیں کیا۔ خُدا نے موسیٰ کی دعا کا جواب دیا تھا۔

خُدا کے لوگوں کے دُکھوں کا حوالہ دینا ایک بحث میں شامل ہو سکتا ہے۔ ہم سب انسان ہیں۔ جب ہولناک باتیں ہوتی ہیں، تو ہم اُن باتوں کا تجربہ درد اور تکلیف کے ذریعے سے کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ یسوع بھی رویا تھا، جب لعزر مرا تھا۔ اگر آپ کے پاس کوئی چاہنے والا آتا ہے، اور اُس درد کے بارے میں بتاتا ہے جس میں وہ تھے، اور اِس کو مدد کرنے کے لیے ایک درخواست کی حیثیت سے پیش کرتا ہے، تو یہ قائل کرنے کے لیے قوت سے بھرپور ایک ذریعہ ہوگا۔ خُدا ہمیں اُس سے کہیں زیادہ پیار کرتا ہے جو ہم کبھی بھی کسی دوسرے شخص کو کر سکتے ہیں۔ اپنے دِل کے غموں کو، اپنے دوست کے دِل کے غموں کو اور خُدا کے لوگوں کے غموں کو اپنے دلائل میں سامنے لائیں۔

یروشلم کے تباہ ہو چکنے کے بعد یرمیاہ نے دعا مانگی تھی، ’’اے خُداوند، جو کچھ ہم پرگزرا ہے اُسے یاد کر؛ نظر کر اور ہماری رسوائی کو دیکھ‘‘ (نوحہ5:1) یروشلم کے تباہ ہو چکنے کے بعد، زبور نویس نے کہا،

’’اَے خدا! قومیں تیری میراث میں گھُس آئی ہیں، اُنہوں نے تیری مُقدس ہیکل کو ناپاک کیا ہے، اُنہوں نے یروشلیم کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ اُنہوں نے تیرے خادموں کی لاشوں کو ہوا کے پرندوں کی، اور تیرے مُقدّسوں کے گوشت کو زمین کے درندوں کی خوراک بنا دیا ہے۔ اُنہوں نے یروشلیم کے چاروں طرف اُن کا خون پانی کی طرح بہایا ہے، اور اُنہیں دفن کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ ہم اپنے ہمسایوں کے لیے ملامت کا، اور اپنے آس پاس کے لوگوں کے لیے مذاق اور تمسخر کا باعث بن گئے‘‘ (زبور 79:1۔4).

اُس نے خُدا کو اُس کی یہودی لوگوں کی تکلیفوں کے بارے میں بتایا۔ پھر اُس نے خُدا سے خود اُس کی اپنی ساکھ، خود اُس کے اپنے نام کا دفاع کرنے کے لیے دعا مانگی۔ اُس نے خُدا سے کہا، ’’اے ہمارے مُنجی خُدا! اپنے نام کے جلال کی خاطر ہماری مدد کر؛ اپنے نام کی خاطر ہمیں نجات دے اور ہمارے گناہ بخش دے‘‘ (زبور79:9)۔ پھر اُس نے دعا مانگی، ’’غیرقومیں یہ کیوں کہیں کہ اُن کا خُدا کہاں ہے؟‘‘ (زبور79:10)۔ اُس نے گمراہ لوگوں کے درمیان خُود اُس [خُدا] کے اپنے نام اور عزت کا دفاع کرنے کے لیے دعا مانگی تھی۔

میں دعا مانگنے کے لیے کھڑا ہونے سے پہلے، میں اُس بارے میں سوچنے کی کوشش کرتا ہوں جو خُدا بائبل میں کر چکا ہے اور جو ہماری موجودہ حالت پر لاگو ہو سکتا ہے۔ بائبل کا حوالہ دینا خُدا کے سامنے واقعے کا تعارف ہوتا ہے۔ یہ اہم ہے کہ آپ اپنی بائبل کا مطالعہ کریں اور جب آپ اِس کو پڑھ رہے ہوں تو اِس پر توجہ دیں۔ اکثر، چاہے اگر آپ ایک آیت کو لفظ بہ لفظ یاد نہیں رکھ سکتے، تو بھی آپ کو ایک تصور یاد رہ جائے گا جو آپ کو بائبل میں سے ملا تھا، اور آپ اُس آئیڈیے کو اپنی دلیل میں استعمال کر سکتے ہیں۔ اِس کے لیے شاید کچھ سوچ بچار اور تخلیقی صلاحیت درکار ہو، لیکن یہی تو ہوتا ہے جس کی کسی شخص کے ساتھ بحث کرنے کے لیے اکثر ضرورت پڑتی ہے، خصوصی طور پر خُدا کے ساتھ۔ وہ اب بھی وہی خُدا ہے جو تب تھا۔ داؤد نے دعا مانگی تھی، ’’مجھ سے روپوش نہ ہو، تو میرا مددگار رہا ہے؛ اے میرے مُنجی خُدا، مجھے مسترد نہ کر اور نہ ہی مجھے ترک کر‘‘ (زبور27:9)

موسیٰ نے دعا مانگی تھی، ’’تو [ہمیں] عظیم قوت اور زورآور بازو سے مصر سے نکال لایا‘‘ (خروج32:11)۔ وہ کہہ رہا تھا، ’’اے خُداوند خُدا، تو ہمیں مصر کی سرزمین سے باہر نکال لایا۔ تو ہمیں باہر محض اِس لیے نہیں نکال لایا کہ بیابان میں ہمیں مرنے کے لیے چھوڑ دے!‘‘ خُدا نے دوسروں کے لیے کیا کِیا؟ بائبل کے زمانے میں؟ تاریخ میں؟ ہمارے گرجہ گھر میں؟ آپ کے لیے؟ اِس بارے میں سوچیں کیسے یہ دلائل جو کچھ خُدا نے ماضی میں کیا اُس کے لیے ایک اپیل یا الِتجا ہیں۔

اے خُدواند خُدا، تو نے 18ویں صدی میں ویزلی Wesley اور وائٹ فیلڈ Whitefield کے لیے حیاتِ نو بھیجا تھا۔
تو نے اپنے روح کو لوئیس کے جزیروں Isle of Lewis اور چین میں بھیجا تھا۔ تو اپنے روح کو یہاں بھی بھیجنے کے قابل ہے!
تو نے میری روح کو نجات بخشی۔ تو نے یہاں پر دوسروں کی جانوں کو نجات بخشی۔ اِس شخص کو بھی نجات دے!
تو نے ہمارے گرجہ گھر کو ایک ہولناک تقسیم سے بچایا۔ تو ہمیں اُس میں سے صرف مرنے کے لیے نکال کر نہیں لایا۔ اِس لیے، اے خُداوند خُدا، ہمارے گرجہ گھر کو جینے کا مؤجب بنا!
تو نے ہمارے لیے بہت بڑے عظیم کام کیے ہیں جیسے (مثالیں)۔ تو نے ہماری دعاؤں کے جواب دیے۔ تو نے دوسروں کی دعاؤں کے جواب دیے (اپنی دعاؤں کے نام لیں یا دوسرے لوگوں کی دعاؤں کے بارے میں کہیں)۔ اِس لیے اِس دعا کا جواب دے!

ہمیشہ اُن تکلیفوں،اُس موت، اُس خون، یسوع مسیح کی اُس شفاعتی دعا کے بارے میں بات کریں۔ مسیح ہمیں اُس کے نام میں دعا مانگنے کے لیے مدعو کرتا ہے۔ یسوع ہماری راستبازی ہے۔ وہ ہی خُدا باپ کے لیے واحد راہ ہے۔ یسوع نے کہا، ’’میرے وسیلہ کے بغیر کوئی باپ کے پاس نہیں جا سکٓتا‘‘ (یوحنا14:6)۔ یسوع نے شاگردوں سے کہا، ’’اگر تم میرا نام لے کر مجھ سے کچھ بھی کرنے کی درخواست کرو گے تو میں کروں گا‘‘ (یوحنا14:14)۔ آپ کی خود اپنی کوئی راستبازی نہیں ہے۔ خود اپنے آپ میں آپ صرف ایک گنہگار ہیں اور آپ اُس کے علاوہ کبھی بھی کچھ اور نہیں ہو پائیں گے۔ لیکن اگر آپ یسوع پر بھروسہ کر چکے ہیں، تو خُدا آپ پر آپ کے گناہوں کی معافی کے ساتھ نظر ڈالتا ہے، جو یسوع کے خون کے وسیلے سے دھوئے گئے۔ اور آپ مسیح کی راستبازی کو پاتے ہیں۔ اِس طرح سے آپ یسوع کے نام میں خُدا سے دعا مانگ سکتے ہیں اور خُدا آپ کی ایسے ہی سُنے گا جیسے کہ آپ گنہگار نہیں ہیں – درحقیقت، بالکل جیسے آپ یسوع ہی ہوں۔ بائبل کہتی ہے،

’’پس جب ہمارا ایک عظیم سردار کاہن ہے … خدا کا بیٹا یسوع تو آؤ ہم اپنے ایمان پر قائم رہیں۔ … ہم خدا کے فضل کے تخت کے پاس دلیری سے چلیں تاکہ وہ ہم پر رحم کرے اور ہم اُس فضل کو حاصل کریں جو ضرورت کے وقت ہمارے کام آئے‘‘ (عبرانیوں 4:14،16).

بائبل کہتی ہے، ’’اِس لیے بھائیوں، ہمیں یسوع کے خون کے وسیلے سے اُس نئی اور زندہ راہ سے پاک ترین مکان میں داخل ہونے کی ہمت ہے‘‘ (عبرانیوں10:19)۔ خُدا کے سامنے کھڑا ہونے کے لیے ہمارا خود اپنے آپ میں کوئی حق نہیں بنتا، مگر یسوع میں اور اُس کے خون کے وسیلے سے ہم براہ راست اُس [خُداوند] کی حضوری میں داخل ہونے کی ہمت کر سکتے ہیں۔

مسیح خود ہمارے لیے دعا مانگ رہا ہے۔ بائبل کہتی ہے، ’’وہ اُن کی [ہماری] شفاعت کرنے [دعا مانگنے] کے لیے ہمیشہ زندہ ہے‘‘ (عبرانیوں7:25)۔

یاد رکھیں کہ خُداوند ایک ہستی ہے نا کہ ایک مشین یا ایک قوت۔ خُداوند دعا کا جواب دیتا ہے، بِلاشُبہ آپ کو مستقل مزاج ہونا چاہیے اور مانگتے رہنا چاہیے – کبھی کبھار کئی کئی سالوں تک۔ ڈاکٹر ہائیمرز نے اپنی ماں کے لیے اُن کی نجات پانے سے پہلے کئی سالوں تک دعا مانگی تھی۔ میری مونسن Marie Monson، جو چین کے لیے ایک مشنری تھے، اُنہوں نے حیات نو کے آنے سے پہلے اِس کے لیے بیس سالوں تک دعا مانگی تھی۔ بے شمار مرتبہ لوگوں نے تیس یا چالیس سالوں تک حیات نو کے آنے سے پہلے دعائیں مانگی تھیں۔

اپنے شاگردوں کو دعا کیسے مانگنی چاہیے سیکھانے میں، یسوع نے ضرورت مند دوست کی تمثیل پیش کی۔ اُس نے کہا، ’’حالانکہ وہ نہیں اُٹھے گا اور اُس کو نہیں دے گا، اگرچہ وہ اُس کا دوست ہے، پھر بھی اُس کے بار بار اصرار کرنے [ثابت قدمی، ہمت نہ ہارنے] کی وجہ سے وہ اُٹھے گا اور جتنی روٹیوں کی اُسے ضرورت ہے اُس کو دے گا‘‘ (لوقا11:8)۔ آپ کو دعا مانگتے رہنا چاہیے جب تک کہ جواب نہیں مل جاتا۔

یسوع نے کہا، ’’مانگو تو تمہیں دیا جائے گا؛ ڈھونڈو تو تم پاؤ گے، اور کھٹکھٹاؤ تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا‘‘ (متی7:7)۔ یونانی میں مطلب ہوتا ہے ’’مانگتے رہنا جاری رکھو،‘‘ ’’ڈھونڈتے رہنا جاری رکھو،‘‘ ’’کھٹکھٹاتے رہنا جاری رکھو۔‘‘ اِس میں شاید وقت لگے اِس سے پہلے کہ آپ کو جواب ملے۔ یسوع نے کہا، ’’کیا خُداوند اپنے چُنے ہوئے لوگوں کا انصاف کرنے میں دیر کرے گا جو دِن رات اُس سے فریاد کرتے ہیں، اگرچہ وہ اُن کی بات ملتوی کرتا ہے‘‘ (لوقا18:7)۔ کیوں کبھی کبھار اِس میں جواب ملنے سے پہلے زیادہ وقت لگتا ہے؟ کیونکہ خُداوند ایک ہستی ہے ناکہ ایک قوت۔ اگر خُدا کوئی مشین یا قوت ہوتا، تو آپ صرف ایک مرتبہ دعا مانگتے اور جواب مل جاتا۔ مگر خُداوند ایک ہستی ہے۔ کبھی کبھار جواب دینے سے پہلے، خُداوند زیادہ عرصہ انتظار کرتا ہے۔

چونکہ خُداوند ایک ہستی ہے، کوئی قوت نہیں ہے، کبھی کبھار جواب ’’نہیں‘‘ ہوتا ہے۔ دعا کوئی جادو نہیں ہوتی ہے۔ یہ خُدا [سے کھیلواڑ کرنا یا اُس] کی طاقت کا ناجائز فائدہ اُٹھانا نہیں ہوتا۔ دعا خُداوند کو عمل کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ دعا خُداوند سے عمل کرنے کی گزارش کرتی ہے۔ خُداوند قوت نہیں ہے۔ وہ ایک ہستی ہے۔ چونکہ وہ ایک محبت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا خُدا ہے، وہ دعا کا جواب دیتا ہے؛ ایک قوت کی حیثیت سے خود کار طریقے سے نہیں، بلکہ ایک ہستی کی حیثیت سے جو دوسرے شخص کو جواب دیتی ہے۔

آپ ہمیشہ وہ نہیں پائیں گے جس کے لیے آپ دعا مانگتے ہیں۔ خداوند ایک ہستی ہے۔ وہ شاید ’’نہیں‘‘ کہتا ہے۔ ایک نوجوان لڑکی کی حیثیت سے، ایمی کارمیخائل Amy Carmichael نامی مشنری نے خُدا سے اُس کی آنکھوں کی رنگت بدلنے کے لیے کہا۔ ایسا نہ ہوا، اور اُس نے تعجب کیا کہ کیوں جب تک کہ خُدا نے بتا نہیں دیا کہ جواب ’’نہیں‘‘ تھا بالکل جیسے جواب ’’ہاں‘‘ ہوتا ہے۔

II۔ دوسری، منظم دعا خُدا کے وعدے کا داعویٰ کرتی ہے۔

خُداوند سچا ہے۔ خداوند ایماندار ہے۔ خُداوند اپنے وعدوں کو نبھاتا ہے۔ تمام کی تمام بائبل سچی ہے۔ کوئی بھی بات جو خُداوند بائبل میں کہتا ہے دعا میں حق کی حیثیت سے داعوے کے طور پر کہی جا سکتی ہے۔ یسوع نے کہا، ’’تیرا کلام حق ہے‘‘ (یوحنا17:17)۔ اُس نے کہا، ’’پاک کلام غلط نہیں ہو سکتا‘‘ (یوحنا10:35)۔

خُداوند کے الفاظ کا داعویٰ اِس طریقے سے کریں:

’’تُو نے کہا‘‘ (پیدائش 32:12). ’’جیسا تُو نے کہا ویسا ہی کرنا‘‘ (2۔ سموئیل 7:25).

ڈاکٹر ہائیمرز کی پسندیدہ زبور، زبور 27 ہے۔ جب وہ دو سال کے تھے تو اُن کے والد چھوڑ کر چلے گئے۔ جب وہ بارہ برس کی عمر کے ہوئے تو وہ اپنی والدہ کے ساتھ نہیں رہ سکتے تھے، اور کئی سالوں تک اُنہیں اُن رشتے داروں کے ساتھ رہنا پڑا جو اُن کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ اُنہوں نے زبور27:10 میں سکون پایا، ’’خواہ میرے ماں باپ مجھے ترک کر دیں تو بھی خُداوند مجھے قبول فرمائے گا۔‘‘

یسوع نے کہا، ’’تم میں سے ایسا کون ہے کہ اگر اُس کا بیٹا روٹی مانگے تو وہ اُسے پتھر دے گا۔ یا اگر مچھلی مانگے تو اُسے سانپ دے؟ اگر تم بُرے ہونے کے باوجود اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دینا جانتے ہو تو تمہارا آسمانی باپ اُنہیں جو اُس سے مانگتے ہیں، تم سے بڑھ کر اچھی چیزیں کیوں نہ دے گا؟‘‘ (متی7:9۔11)۔ میرے والد صاحب، ڈاکٹر کیگنDr. Cagan، اِن آیات کا کئی مرتبہ داعویٰ کر چکے ہیں۔ اُنہوں نے کہا، ’’خُداوندا، اگر میرا بیٹا مچھلی مانگے گا تو میں اُسے سانپ تو نہیں دوں گا۔ اگر وہ مجھ سے روٹی مانگے گا تو میں اُس کو پتھر تو نہیں دوں گا۔ اور خُداوندا، تو بھی مجھ سے اُس ہی طرح سے برتاؤ نہیں کرے گا۔ خُداوندا، میں دعا مانگتا ہوں، مجھے وہ دے جس کی مجھے ضرورت ہے۔‘‘ اور خُدا نے دیا۔

میرے والد صاحب نے خُدا کے کلام کا داعویٰ اچھی باتوں کو مانگنے کے لیے کیا – جس کی اُنہیں ضرورت تھی۔ آپ خُدا کے کلام کا داعویٰ جس کی آپ کو ضرورت ہے اُس کو مانگنے کے لیے کر سکتے ہیں۔ اور آپ خُدا کے کلام کا داعویٰ اُس کی مدد مانگنے کے لیے اور اُس کی حضوری مانگنے کے لیے کر سکتے ہیں – کہ خُداوند پاک روح کو بھیجے۔ مسیح نے کہا، ’’جب تم بُرے ہو کر بھی اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دینا جانتے ہو تو کیا آسمانی باپ اُنہیں پاک روح افراط سے عطا نہ فرمائے گا جو اُس سے مانگتے ہیں؟‘‘ (لوقا11:13)۔

مسیح نے اُس کے نام میں اُس کے ذریعے سے مانگی جانے والی دعا کا وعدہ کیا تھا۔ یسوع نے کہا، ’’اگر تم میرا نام لے کر مجھ سے کچھ بھی کرنے کی درخواست کرو گے تو میں ضرور کروں گا‘‘ (یوحنا14:14)۔ جب آپ دعا مانگیں تو اُس وعدے کا داعویٰ کریں۔

یسوع نے خصوصی طور پر گرجہ گھر میں دعائیہ اِجلاسوں میں یا چھوٹے گرہوں میں جو دعا مانگنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں، لوگوں کے گروہوں کے وسیلے سے کی جانے والی دعا کو سُننے کا وعدہ کیا تھا۔ مسیح نے کہا، ’’اگر تم میں سے دو شخص اِتفاق کر کے جو کچھ چاہیں کہ ہو جائے وہ میرے آسمانی باپ کی طرف سے اُن کے لیے ہو جائے گا‘‘ (متی18:19)۔ دوبارہ، یسوع نے کہا، ’’جہاں دو یا تین میرے نام پر اکٹھے ہوتے ہیں وہاں میں اُن کے درمیان موجود ہوتا ہوں‘‘ (متی18:20)۔ اُس وعدے کا داعویٰ کریں جب آپ دعا مانگیں۔

خُدا نے ہماری ضرورتوں کو پورا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ بائبل کہتی ہے، ’’میرا خُدا یسوع مسیح کے ذریعہ اپنے جلال کی دولت سے تمہاری تمام ضرورتیں پوری کر دے گا‘‘ (فلپیوں4:19)۔ اِس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ خُداوند آپ کو امیر کر دے گا اگر آپ روپے مانگیں۔ اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ خُداوند آپ کی تمام ضرورتوں کو پورا کرے گا۔ اور وہ کرے گا! خُداوند کے کلام میں سے اُس وعدے کا داعویٰ کریں جب آپ دعا مانگیں!

خُدا نے آپ کو وہ کرنے کے لیے جو آپ کو کرنا چاہیے تقویت بخشنے کا وعدہ کیا تھا۔ بائبل کہتی ہے، ’’جو خُداوند سے اُمید رکھتے ہیں [’خُداوند سے اُمید رکھنے‘ سے مراد دعا مانگنا ہے!] وہ ازسرِ نو تقویت پائیں گے۔ وہ عقابوں کی مانند پروں پر اُڑیں گے؛ وہ دوڑیں گے لیکن تھکنے نہ پائیں گے، چلیں گے اور نقاہت محسوس نہ کریں گے‘‘ (اشعیا40:31)۔ اُس وعدے کا داعویٰ کریں جب آپ دعا مانگیں!

خُدا نے آپ کو سُننے کا وعدہ کیا ہے اگر آپ اُسے پکاریں جب آپ مصیبت میں ہوں۔ خُداوند نے کہا، ’’مصیبت کے دِن مجھے پکار: میں تجھے چُھڑاؤں گا اور تُو میری تمجید کرے گا‘‘ (زبور50:15)۔ اُس وعدے کا داعویٰ کریں۔ خُدا سے کہیں جو اُس نے اپنے کلام میں کہا۔ پھر اُسے پکاریں۔ ’’خُداوندا، میں مصیبت میں ہوں۔ مہربانی سے میری مدد فرما۔‘‘

خُدا نے آپ کو سُننے کو وعدہ کیا ہے یہاں تک کہ اگر آپ باتوں کے لیے بھی دعا مانگیں – جیسا کہ حیاتِ نو – جو آپ نے کبھی بھی نہیں دیکھا۔ خُداوند نے کہا، ’’مجھے پکار اور میں تجھے جواب دوں گا اور تجھے نہایت غیر معمولی اور پوشیدہ باتیں بتاؤں گا جنہیں تو نہیں جانتا‘‘ (یرمیاہ33:3)۔ اُس وعدے کا داعویٰ کریں جب آپ حیاتِ نو کے لیے دعا مانگیں۔

اُن باتوں کے لیے جو ناممکن دکھائی دیتی ہیں دعا مانگنے کے لیے خوفزدہ نہ ہوں۔ مسیح نے کہا، ’’خُدا کے لیے سب کچھ ممکن ہے‘‘ (مرقس10:27)۔ یرمیاہ نے خُداوند سے کہا، ’’تیرے لیے کوئی کام دشوار نہیں‘‘ (یرمیاہ32:17)۔

آپ اُن باتوں کے لیے دعا مانگ سکتے ہیں جن پر آپ یقین نہیں کرتے کہ ہو جائیں گی، یا ہو سکتی ہیں۔ ایک شخص نے مسیح کو بتایا کہ کیسے اُس کا بیٹا ایک آسیب کی وجہ سے ستایا گیا تھا۔ مسیح نے اُس سے کہا، ’’ہو سکنے کی کیا بات ہے، جو شخص اعتقاد رکھتا ہے اُس کے لیے سب کچھ ہو سکتا ہے‘‘ (مرقس9:23)۔ اُس شخص نے کہا، ’’میں اعتقاد رکھتا ہوں، تو میرے اعتقاد کو اور بھی پُختہ کر دے‘‘ (مرقس9:24)۔ مسیح نے اُس لڑکے کو بدروح سے چُھٹکارا دلایا حالانکہ اُس کا باپ یقین نہیں رکھتا تھا کہ یہ ہو جائے گا۔ خُداوند آپ کو دعا مانگنے کے لیے حوصلہ دیتا ہے یہاں تک کہ اگر آپ کا ایمان کمزور بھی ہو، یہاں تک کہ اگر آپ یقین نہ کرتے ہوں کہ آپ کو جواب ملے گا۔

ڈاکٹر ہائیمرز نے ’’بے اعتقادی اور حیاتِ نو – ایک نئی بصیرتUnbelief and Revival – a New Insight‘‘ نامی ایک واعظ کی منادی کی تھی۔ اُنہوں نے ظاہر کیا کیسے آپ باتوں کے لیے دعا مانگ سکتے ہیں، جیسے کہ حیاتِ نو کا معجزہ، اگرچہ کہ آپ نے اِس کو کبھی بھی نہیں دیکھا۔ خُداوند نے بائبل میں کہا، ’’میں پیاسی زمین پر پانی اُنڈیلوں گا اور خشک زمین پر ندیاں جاری کروں گا؛ میں اپنی روح تیری نسل پر اور اپنی برکت تیری اولاد پر نازل کروں گا‘‘ (اشعیا44:3)۔ لوئیس کی جزیروں Isle of Lewis پر ایک شخص نے دعا میں اُس وعدے کا داعویٰ کیا تھا۔ اور خُدا نے وہاں پر ایک بہت عظیم حیاتِ نو بھیجا تھا۔

بائبل میں بہت سے، بے شمار وعدے ہیں۔ خدا اپنے کلام کی عزت رکھے گا۔ دعا میں اُس کے کلام کا داعویٰ کریں۔ اُس کے وعدوں کا داعویٰ کریں! خُدا آپ کی دعا کے منظم دلائل کو سُنے گا۔ آمین۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

لُبِ لُباب

دُعّا میں ترتیب اور دلیل – حصّہ دوئم

ORDER AND ARGUMENT IN PRAYER – PART II

مسٹر جان سیموئیل کیگن کی جانب سے
by Mr. John Samuel Cagan

’’کاش کہ میں جانتا کہ وہ مجھے کہاں مل سکتا ہے! کاش کہ میں اُس کے مسکن تک جا سکتا! میں اپنا حال اُس کے سامنے بیان کرتا اور اپنے مُنہ سے دلائل پیش کرتا‘‘ (ایوب 23:3۔4).

I. پہلی، منظم دعا کے لیے خُداوند کا ردعمل، خروج32:11۔12، 13، 14؛
نوحہ5:1؛ زبور79:1۔4، 9، 10؛ زبور27:9؛ یوحنا14:6، 14؛
عبرانیوں4:14، 16؛ 10:19؛ 7:25؛ لوقا11:8؛ متی7:7؛ لوقا18:7 .

II. دوسری، منظم دعا خُدا کے وعدوں کا داعویِ کرتی ہے، یوحنا17:17؛
یوحنا10:35؛ پیدائش 32:12؛ 2۔ سموئیل 7:25؛ زبور 27:10؛
متی 7:9۔11؛ لوقا 11:13؛ یوحنا 14:14؛ متی 18:19،20؛
فلپیوں 4:19؛ اشعیا 40:31؛ زبُور 50:15؛ یرمیاہ 33:3؛
مرقس 10:27؛ یرمیاہ 32:17؛ مرقس 9:23، 24؛ اشعیا 44:3۔