Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

بیج بونے والے کی تمثیل

THE PARABLE OF THE SOWER
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خداوند کے دِن کی شام، 8 نومبر، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Evening, November 8, 2015

اب میں اِس واعظ کی جس طرح سے میں عام طور پر منادی کرتا ہوں اُس سے مختلف انداز میں تبلیغ کرنے جا رہا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنی بائبل مرقس4 باب کے لیے کھولیں۔ میں آپ کو بیج بونے والے کی تمثیل کی وضاحت کرنے جا رہا ہوں۔ یہ متی، مرقس اور لوقا میں پائی جاتی ہے۔ لیکن آج رات ہم اِس کا مرقس میں سے مطالعہ کرنے جا رہے ہیں۔ تمثیل ایک کہانی ہے جو یسوع نے روحانی سچائی کو سادہ بنانے اور مثال دینے کے لیے بتائی۔

اِس تمثیل کی سچائی کیا ہے؟ وہ یہ ہے – لوگوں کی ایک بہت بڑی اکثریت جو خوشخبری کو سُنتی ہے نجات نہیں پائے گی! بڑی حد تک، لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد جو سُنتے ہیں کہ نجات کیسے پائی جائے نجات نہیں پائیں گے۔ وہ جہنم میں جائیں گے! ہجوم جہنم میں جائیں گے۔ صرف ایک چھوٹی تعداد نجات پائے گی۔ یہ بات آج بے شمار لوگوں کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں یقین نہیں کرتا خُدا کسی کو جہنم میں بھیجے گا۔‘‘ تب آپ کہتے ہیں، ’’لیکن بائبل کا خُدا لوگوں کو جہنم میں بھیجتا ہے۔‘‘ وہ کہتے ہیں، ’’میں اُس خُدا میں یقین نہیں کرتا۔ میرا خُدا ایسا کبھی بھی نہیں کرے گا۔‘‘ اُن کا مطلب ہوتا ہے کہ جو خُدا اُںہوں نے خود اپنے ذہنوں میں بنایا ہوا ہوتا ہے ایسا نہیں کرتا۔ مگر ہم اُس خُدا کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں جو آپ خود اپنے ذہن میں بناتے ہیں۔ وہ ’’بارہ قدم Twelve Step‘‘ جس کے بارے میں لوگ باتیں کرتے ہیں ’’خُدا جیسا تم اُسے سمجھتے ہو۔‘‘ لیکن میں اُس جھوٹے خُدا کے بارے میں بھی بات نہیں کر رہا ہوں۔ وہ خُدا جو آپ اپنے ذہنوں میں ’’تراشتے‘‘ ہیں ایک جھوٹا خُدا ہے۔ وہ خُدا ’’جیسا آپ اُسے سمجھتے ہیں‘‘ ایک جھوٹا خُدا ہوتا ہے۔ میں اُس خُدا کے بارے میں بات کر رہا ہوں جیسا آپ اُسے نہیں سمجھ پاتے! یہ وہ خُدا ہے جس نے خود کو مکمل طور پر بائبل میں آشکارہ کیا۔ وہ بائبل کا خُدا ہے! اور کوئی دوسرا ہے ہی نہیں! میں اُس جھوٹے خُدا کے بارے میں بات نہیں کر رہا جس کا آپ یقین کرتے ہیں۔ میں ایک حقیقی خُدا کے بارے میں بات کر رہا ہوں – جو ہم پر بائبل میں ظاہر کیا گیا ہے۔ آپ کا جھوٹا خُدا لوگوں کو جہنم میں نہیں بھیجتا۔ مگر حقیقی خُدا بھیجتا ہے۔ متی7:13 میں خُداوند یسوع مسیح نے کہا کہ بے شمار لوگ جہنم میں ’’ہلاکت کے لیے‘‘ جائیں گے۔ اُس سے اگلی آیت میں خُداوند یسوع مسیح نے کہا وہ جو نجات پائیں تعداد میں ’’تھوڑے‘‘ ہیں – انتہائی چند ایک بِلاشُبہ۔ اور اِس تمثیل کا اہم ترین نکتہ یہ ہی ہے۔

یہ ایک سادہ سی کہانی ہے جو یسوع مسیح نے بتائی۔ اُس نے کہا کہ ایک کسان بیج بونے کے لیے باہر گیا۔ جب وہ بیج پھیلا رہا تھا، اُن میں سے کچھ سڑک کے کنارے پر گِرے۔ چڑیوں نےآ کر جلد ہی اُسے چُگ لیا۔ بیجوں میں سے کچھ اور پتھریلی جگہوں پر گِرا جہاں مٹی گہری نہ تھی۔ بیج پُھوٹ تو جلد گیا، لیکن جب سورج نکلا تو جل گیا اور جڑ نہ پکڑنے کے باعث سوکھ کر مر گیا۔ کچھ بیج کانٹوں اور جھاڑیوں میں گِرا۔ جھاڑیوں نے پھیل کر اُسے دبا لیا اور وہ پھل نہ لایا۔ سب سے آخر میں، کچھ بیج اچھی زمین پر گِرا، یہ اُگا اور بڑھ کر اچھی فصل لایا۔ یہ تمثیل ہے۔ یہ ایک سادہ سی چھوٹی سی کہانی ہے – مگ یہ ہمیں ایک انتہائی اہم سچائی ظاہر کرتی ہے – انتہائی چند ایک لوگ جو خوشخبری کو سُنتے ہیں بچائیں جائیں گے!

تمثیل میں چار اقسام کی مٹی چار قسم کے لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے جو خوشخبری کو سُنتے ہیں۔ بیج خُداوند کا کلام ہے، جو بائبل ہے، یسوع مسیح کے ذریعے سے نجات کے بارے میں پیغام۔ ہر وہ شخص جو اِس گرجہ گھر میں آتا ہے خوشخبری کو سُنتا ہے۔ اِس کے بارے میں وہ کیا کرتے ہیں تمثیل میں موجود چار اقسام کی مٹی کے ذریعے سے ظاہر کیے گئے ہیں۔

I۔ پہلی بات، وہ جو خوشخبری کو سُنتے ہیں اور فوراً ہی اُس کو بھول جاتے ہیں، گمشدہ یا گمراہ لوگ ہیں۔

مرقس4:15 پر نظر ڈالیں،

’’اور کچھ لوگ جنہیں کلام سنایا جاتا ہے راہ کے کنارے والے ہیں۔ جونہی کلام کا بیچ بویا جاتا ہے، شیطان آتا ہے اور اُن کے دل سے وہ کلام نکال لے جاتا ہے‘‘ (مرقس 4:15).

یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے گرجہ گھر میں ایک یا دو مربتہ آتے ہیں۔ وہ خُدا کا کلام سُنتے ہیں جو نجات کا پیغام ہے۔ مگر پرندے آتے ہیں اور اُسے چُگ لیتے ہیں‘‘ (مرقس4:4)۔ وہ پرندے جنہوں نے بیج کھایا شیطان اور اُس کے آسیبوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ ’’شیطان فوراً آتا ہے اور اُس کلام کو جو اُن کے دِلوں میں بیجا گیا تھا لے جاتا ہے۔‘‘ (مرقس4:15)۔

ہم اُنہیں بتاتے ہیں کہ مسیح اُن کے گناہوں کی ادائیگی کے لیے صلیب پر مرا تھا۔ شیطان اُنہوں بتاتا ہے، ’’تمہارا کوئی گناہ نہیں ہے۔ تم ایک نیک انسان ہو۔‘‘ یوں اُس ابلیس کے ذریعے سے جو اُن کے ذہنوں میں کام کرتا ہے کلام جلدی سے نکال لیا جاتا ہے۔ ہم کہتے ہیں، ’’مسیح آپ کو دائمی زندگی بخشنے کے لیے مُردوں میں سے جی اُٹھا۔‘‘ ابلیس کہتا ہے، ’’اُس پر یقین مت کرو! یہ ایک جادوئی کہانی ہے، پریوں کی کہانی۔‘‘ یوں اُس ابلیس کے ذریعے سے جو اُن کے ذہنوں میں کام کرتا ہے کلام جلدی سے نکال لیا جاتا ہے۔ یسوع نے کہا کہ ابلیس ’’ایک جھوٹا ہے‘‘ (یوحنا8:44)۔ وہ آپ کو نجات پانے اور خوشخبری پر یقین رکھنے سے باز رکھنے کے لیے آپ سے جھوٹ بولتا ہے۔ وہ آپ کو اپنے غلام کی حیثیت سے رکھنا چاہتا ہے!

ہم ہر اِتوار کو بے شمار گمراہ لوگوں کو خوشخبری سُننے کے لیے لاتے ہیں۔ اُن میں سے زیادہ تر تو کبھی بھی واپس نہیں آتے۔ ہم اُنہیں نجات کا پیغام دیتے ہیں۔ ہم اُنہیں دوپہر کا کھانا (یا رات کا کھانا) اور ایک شاندار سالگرہ کی دعوت پیش کرتے ہیں۔ ہم گرجہ گھر آنے کو سہل بناتے ہیں۔ مگر اُن میں سے زیادہ تر کسی ایک بات کو بھی جس کی میں منادی کرتا ہوں یاد نہیں رکھتے۔ کیوں؟ کیونکہ ’’شیطان فوراً آتا ہے اور اُس کلام کو جو اُن کے دِلوں میں بیجا گیا تھا لے جاتا ہے،‘‘ یہ ہے وجہ ہے! باز لوگ منادی کا اُن پر کوئی بھی اثر ہوئے بغیر کئی مرتبہ آتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ہر مرتبہ وہ ابلیس کی مانتے ہیں اور وہ اُن کے دِلوں میں سے کلام نکال لے جاتا ہے۔ ہم یہاں تک کہ اُنہیں حرف بہ حرف واعظ کا مسودہ گھر لے جانے اور پڑھنے کے لیے فراہم کرتے ہیں۔ کیا وہ واقعی میں اُس کو پڑھتے ہیں اور اُس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچتے ہیں؟ جی نہیں، وہ ایسا نہیں کرتے۔ میں جانتا ہوں کے اُن میں سے زیادہ تر تو جب گھر پہنچتے ہیں تو مسودے کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں۔ میں یہ بات جانتا ہوں۔ لیکن ہم ایسا کرتے رہنا جاری رکھتے ہیں۔ ہم ایسا کرتے رہنا جاری کیوں رکھتے ہیں؟ کیونکہ یسوع نے کہا، ’’راستوں اور کھیتوں کی باڑھوں کی طرف نکل جا اور لوگوں کو مجبور کر کہ وہ آئیں‘‘ (لوقا14:23)۔ کیونکہ خُداوند نے ہمیں بتایا،

’’اور تُو میرا کلام اُن کو سُنانا خواہ وہ سُنیں یا نہ سُنیں کیونکہ وہ سرکش ہو چُکے ہیں‘‘ (حزقی ایل 2:7).

جوں جوں ہم ’’آخری ایام‘‘ کی گہرائی میں جا رہے ہیں لوگ تدریجی طور پر خُدا کے خلاف باغی ہوتے جا رہے ہیں۔ اِس طرح ابلیس اور اُس کے آسیب لوگوں کے دِلوں اور ذہنوں میں سے خُدا کے کلام کو اُکھاڑ پھینکنے کے زیادہ سے زیادہ اہل ہوتے جا رہے ہیں۔ چالیس سال پہلے آپ باہر ایک بورڈ آویزاں کر سکتے تھے جس پر لکھا ہوتا، ’’یہاں پر شام 7:00 بجے بائبل کا مطالعہ ہوتا ہے۔‘‘ محض اُس طرح کے آویزاں بورڈ کو پڑھنے ہی سے، اُن میں سے بے شمار، نوجوان لوگ آ پاتے۔ یقینی طور پر وہ آتے۔ مگر وہ چاہے جتنے بھی بُرے تھے، وہ آج کے نوجوان لوگوں سے کہیں درجے بہتر تھے! آج زیادہ تر نوجوان لوگوں کے اِس قدر سخت دِل ہیں کہ ایک بہت بڑی ہتھوڑی کے ساتھ بھی اُن تک نہیں پہنچ پائیں گے! اِس کے باوجود ہم جُتے ہوئے ہیں، ’’چاہے وہ سُنیں یا چاہے وہ [نہ] سُن پائیں‘‘ – کیونکہ خُدا نے ہمیں اِس کرنے کے لیے کہا ہے! اور بعض ایک دفعہ ہم کسی نہ کسی کو ڈھونڈ لیتے ہیں جو چُنیدہ لوگوں میں سے ہوتا ہے، جو خوشخبری کو سُنتا ہے اور نجات پا لیتا ہے۔ لیکن یہ بات اب زیادہ سے زیادہ نایاب ہوتی جا رہی ہے جوں جوں یہ زمانہ خاتمہ کے قریب ہوتا جا رہا ہے اور اِس موجودہ زمانے کا اختتام ہوتا جا رہا ہے۔ میں قائل ہو چکا ہوں، کم از کم یہاں امریکہ میں، کہ خُداوند ہمارے لوگوں پر ’’گمراہی کا ایسا اثر ڈالے گا کہ وہ جھوٹ کو سچ تسلیم کرنے لگیں گے‘‘ (2تسالونیکیوں2:11)۔ اِس کے باوجود ہم یہ بات بھی جانتے ہیں کہ خدا، پُرکشش فضل کے وسیلے سے، اِن شیطانی اور آسیبی دِنوں میں بھی، چُنیدہ لوگوں کو کھینچے گا! ہم بہت بڑے بڑے ہجوموں کی تلاش نہیں کر رہے ہیں۔ ہم یہاں وہاں اُن چند ایک لوگوں کو ڈھونڈ رہے ہیں جنہیں خُدا نے نجات پانے کے لیے چُنا ہوا ہے۔ کیونکہ یسوع نے کہا، ’’تم نے مجھے نہیں چُنا بلکہ میں نے تمہیں چُنا ہے‘‘ (یوحنا15:16)۔ خُدا اُن لوگوں کو جنہیں اُس نے خود مختیار فضل کے وسیلے چُنا ہے اندر لے آئے گا! ھیلیلویاہ! لیکن وہ جنہیں خُدا نے نہیں چُنا ’’فوراً شیطان کو [آنے] دیں گے اور اُن کے دِلوں جو کلام بیجا گیا تھا اُسے [لے جانے] دیں گے‘‘ (مرقس4:15)۔ آپ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ خُدا کے چُنیدہ لوگوں میں سے ایک ہیں – یا کیا آپ شیطان کو آپ کے دِل میں سے خُدا کے کلام کو اُکھاڑ پھینکنے دیں گے – اور اپنے گناہ میں زندگی بسر کرنے اور مرنے کے لیے چلے جائیں گے؟ کیونکہ یسوع نے کہا، ’’بُلائے ہوئے تو بہت ہیں مگر چُنے ہوئے کم ہیں‘‘ (متی22:14)۔

II۔ دوسری بات، وہ جو خوشخبری کو سُنتے ہیں اور خوشی کے ساتھ اِس کو قبول کرتے ہیں، مگر جب آزمائش میں پڑتے ہیں تو برگشتہ اور گمراہ ہو جاتے ہیں۔

مرقس4:16۔17 پر نظر ڈالیں۔

’’اور اِسی طرح بعض لوگ اُس پتھریلی زمین کی طرح ہیں جس پر بیج گرتا ہے۔ وہ خدا کے کلام کو سُنتے ہی قبول کر لیتے ہیں۔ مگر وہ کلام اُن میں جڑ نہیں پکڑنے پاتا۔ چنانچہ وہ کچھ دِنوں تک ہی قائم رہتے ہیں اور جب اُن پر اِس کلام کی وجہ سے مصیبت یا ایذا برپا ہوتی ہے تو وہ فوراً گر جاتے ہیں‘‘ (مرقس 4:16۔17).

یہ پتھریلی زمین والے لوگ پہلے گروپ کے اُلٹ ہیں۔ وہ خوشخبری کومُسرت اور خوشی کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔ اور گرجہ گھر آتے ہیں اور اِس سے محبت کرتے ہیں۔ وہ اُسی وقت شوق و ذوق کے ساتھ حمدوثنا کے گیت گاتے ہیں۔ وہ دعائیہ اجلاس میں آتے ہیں۔ وہ انجیل بشارت کا پرچار کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ یہ بات بہت شاندار ہوتی ہے! وہ اِس کو چاہتے ہیں! وہ واعظوں کے مسودے گھر لے کر جاتے ہیں اور اُنہیں غور سے پڑھتے ہیں۔

لیکن کچھ نہ کچھ غائب ہوتا ہے۔ وہ ’’جڑ نہیں پکڑتے‘‘ ہیں۔ اُنہوں نے مسیح میں جڑ نہیں پکڑی ہوتی، وہ ’’اُس میں جڑ نہیں پکڑے ہوئے ہوتے‘‘ (کُلسیوں2:7)۔ اور ’’اور وہ کچھ وقت کے لیے ہی مضبوط ہوتے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر جے ۔ ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee نے کہا، وہ واقعی میں پُرجوش ہو جاتے ہیں، لیکن مسیح کے ساتھ اُن کا تعلق حقیقی نہیں ہوتا۔ یہ محض ایک جذباتی اُٹھان ہوتی ہے‘‘(بائبل میں سے Thru the Bible، متی13:20، 21 پر غور طلب بات) ۔

کچھ عرصے کے بعد اُنہیں پتا چلتا ہے کہ اِس کے سبب سے گرجہ گھر میں ہونے سے اُنہیں پریشانی ہوتی ہے۔ کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے اور گرجہ گھر میں آنے جیسی بات محسوس نہیں کرتے۔ جب گرجہ گھر میں ہونے کی وجہ سے کوئی مصیبت یا ایذا برپا ہوتی ہے تو ’’فورا! خلاف ورزی کرتے ہیں۔‘‘ اِس کا مطلب ہوتا ہے، واقعی میں، ’’وہ گِر جاتے [برگشتہ ہو جاتے] ہیں‘‘ (دیکھیں نئی امریکن بائبل NIV)۔ یہ اکثر کرسمس اور نئے سال کی ’’چھٹیوں‘‘ کے دوران ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہم اُن سے چاہتے ہیں کہ وہ کرسمس کی ضیافت میں، کرسمس کی شام عبادت میں، اور سال کے آخری دِن کی شام کو نئے سال کی رات کی عبادت میں آئیں۔ وہ آنے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ لیکن پھر کچھ نہ کچھ ہو جاتا ہے، وہ بے اعتقادوں کے ساتھ کسی دوسری دعوت میں مدعو کیے جاتے ہیں، یا کچھ نہ کچھ اور رونما ہو جاتا ہے۔ وہ دُنیا کی باتوں میں آ جاتے ہیں¬ – اور پُھر سے وہ اُڑ جاتے ہیں، چلے جاتے ہیں، پہلی مرتبہ ذرا تھوڑی سی ’’تکلیف‘‘ یا پریشانی ہوتی ہے۔ کیا آپ ’’برگشتہ‘‘ ہو جائیں گے جب آپ کی ’’چھٹیوں‘‘ کے ذریعے سے آزمائش ہوگی؟ کیا آپ گمراہ دوستوں کے ساتھ ایک دُنیاوی دعوت میں چلے جائیں گے؟ ہر سال ہم چند ایک لوگوں کو جن کی مسیح میں کوئی حقیقی جڑ نہیں ہوتی دیکھتے ہیں، جو چھٹیوں میں جلدی سے برگشتہ ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹر ڈیوڈ ایف۔ ویلز Dr. David F. Wells ایک معروف مذھبی سُدھار کے عالم الہٰیات ہیں۔ اُنہوں نے کہا، ’’اِن [لوگوں] کا خود عظمی، جس کی ضرورت ہوتی ہے، اُس کی قیمت چکانے کا کوئی اِرادہ نہیں ہوتا اگر پیغام پر حقیقت میں ایمان لانا پڑے… یہ [نام نہاد کہلانے والے] ’مذھب تبدیل کرنے والے لوگ‘ اِس طرح سے اپنی زندگی کو پلٹتا ہوا دیکھنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ یہاں، آج امریکہ میں اِس طرح کے واضح طور پر بے شمار لوگ ہیں‘‘ (ڈیوڈ ایف۔ ویلز، پی ایچ۔ ڈی۔ David F. Wells, Ph.D.، پروٹسٹنٹ ہونے کے لیے حوصلہ The Courage to be Protestant، عئیرڈ مین اشاعتی کمپنی Eerdmans Publishing Company، 2008، صفحہ 89)۔

ڈاکٹر جے ورنن میگی اِن لوگوں کو ’’الکا سیلٹزر مسیحی Alka-Seltzer Christians [الکا سیلٹزر انگریزی زبان میں، گیس ہونے کی وجہ سے بُلبلوں والے پانی، جیسے سوڈا واٹر ہوتا ہے کو] کہتے ہیں۔ اُن میں بہت زیادہ بُلبلے بنتے ہیں… اُن کا مسیح کے ساتھ کوئی حقیقی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ محض ایک جذباتی اُٹھان ہوتی ہے۔ وہ پھریلی زمین والے لوگ ہوتے ہیں‘‘ (ibid.)۔

III۔ تیسری بات، وہ جو خوشخبری کو سُنتے ہیں مگر اِس دُنیا کی فکریں، دولت کا فریب اور دوسری چیزوں کے لالچ میں گمراہ یا گمشدہ ہو جاتے ہیں۔

مرقس4:18، 19 پر نظر ڈالیں،

’’جھاڑیوں میں گرنے والے بیج سے مُراد وہ لوگ ہیں جو کلام کو سُنتے تو ہیں لیکن اِس دنیا کی فکریں، دولت کا فریب اور دوسری چیزوں کا لالچ آڑے آکر اِس کلام کو دبا دیتا ہے اور وہ بے پھل رہ جاتا ہے‘‘ (مرقس 4:18،19).

ڈاکٹر میگی نے کہا، ’’ابلیس سڑک کے کنارے والے لوگوں کو ہتھیا لیتا ہے، اور جمسانی نیت پتھریلی زمین والے لوگوں کو ٹھکانے لگا دیتی ہے مگر سُننے والوں کے اِس قسم کے لوگوں کے لیے کلام کو دُںیا دبا ڈالتی ہے۔ دُنیا کی فکریں اپنی جگہ بنا لیتی ہیں… میں دیکھ چکا ہوں کہ بہت زیادہ بے شمار لوگوں نے دُنیا کی فکروں کو خُدا کے کلام پر قبضہ جمانے دیا ہے‘‘ (ibid.)۔

ہم اِس بات کو بارہا ہوتے ہوئے دیکھ چکے ہیں۔ کچھ نوجوان گرجہ گھر آتے ہیں اور مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ پھر، کچھ عرصہ کے بعد، وہ گریجوایشن کر لیتے ہیں اور پیسے کمانا شروع کر دیتے ہیں۔ اُن کے بچہ ہوتا ہے۔ وہ دوسری چیزوں کا لالچ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اِس بات کو نمایاں کرنے کے لیے میں نئی امریکن بائبل NIV کو حوالہ دوں گا۔ یہ کہتی ہے وہ، ’’کلام سُنتے ہیں، مگر اِس زندگی کی فکریں، دولت کا فریب اور دوسری چیزوں کا لالچ آڑے آ کر اِس کلام کو دبا دیتا ہے۔‘‘

تقریباً بیس سال پہلے بے شمار زیادہ لوگوں نے ہمارے گرجہ گھر کو چھوڑ دیا۔ اُولیواس نامی ایک شخص نے ہمیں چھوڑا اور ایک متبادل گرجہ گھر شروع کر دیا۔ اُس نے ہمارے لوگوں سے کہا کہ میں بہت زیادہ سخت ہوں۔ اُنہیں اِتوار کی شام کی عبادت میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اُںہیں صرف صبح کی عبادت کی ضرورت ہے جس کے بعد پیٹ بھر کر کھانا ہوتا ہے۔ اُنہیں گمراہ لوگوں کو گرجہ گھر میں لانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اُنہیں تو صرف خود ہی گرجہ گھر جانے کی ضرورت ہوگی – اور وہ بھی جب اُنہیں سہولت محسوس ہو۔ یہ شاندار تھا! وہ اِس سخت بوڑھے مبلغ سے آزاد ہو چکے تھے! لیکن بہت ہی جلد اُن میں سے بہت سوں نے اُس گرجہ گھر کو چھوڑ دیا۔ اُن کے آدمیوں میں سے ایک نے مسٹر پرودھوم Mr. Prudhomme کو بتایا، ’’یہ گرجہ گھر تو محض ایک راہ کا اِسٹیشن ہے، دُنیا کے جانب واپس جانے کا راستہ۔‘‘ یہ تھا جو ’’اُولیوس گرجہ گھر کی تقسیم‘‘ میں ہوا تھا۔ کیا یہ دوبارہ ہوگا؟ جی ہاں، یہ ہوگا – اگر اِس دُنیا کی فکریں، دولت کے فریب اور دوسری چیزوں کا لالچ آپ کی زندگی میں کلام کو دبا ڈالے! جی ہاں، یہ پتھریلی زمین والے گرجہ گھر کے لوگوں کے ساتھ رونما ہوگا! جی ہاں، یہ ہوگا!

اب ڈاکٹر جے۔ ورنن میگی کو دوبارہ سُنیں،

یہ تین اقسام کی مٹی تین طرح کی ایمانداروں کو ظاہر نہیں کرتی – وہ بالکل بھی ایماندار نہیں ہیں! اُنہوں نے کلام تو سُنا تھا اور صرف اُس کو قبول کرنے کا صرف اقرار کیا تھا… دوسروں لفظوں میں اُنہوں نے نجات نہیں پائی تھی… صرف ایک چوتھائی نے صرف سچے طور پر نجات پائی تھی۔ سچی بات کہوں، تو خود میری اپنی مذھبی خدمت میں، مَیں نے اُس کے مقابلے میں شرح فیصد اِس سے بھی کم پائی تھی (میگی McGee، ibid.، صفحات73، 75)۔

وہ چلے جائیں گے اور آپ کو بتائیں گے کہ اُنہوں نے نجات پا لی ہے۔ لیکن وہ بالکل بھی نجات یافتہ لوگ نہیں ہیں! میں مکمل طور پر ڈاکٹر میگی کے ساتھ متفق ہوں۔ اُنہوں نے اُن گمراہ لوگوں کے بارے میں کہا، انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے لوگوں میں سے ’’میں اُنہیں مغربی کیلیفورنیا کی قسم کے لوگوں میں گردانتا ہوں‘‘ (ibid.، صفحہ 73)۔ ڈاکٹر ڈیوڈ ایف۔ ویلز Dr. David F. Wells نے کہا، ’’وہ ’غیر مُضر مسیحیت‘ کی [مثالیں] نقال ہیں جن کے بارے میں انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے بے شمار گرجہ گھر باتیں بنا رہے ہیں… دس میں سے ایک سے بھی کم کو بائبلی اصطلاح میں مسیح کے شاگرد ہونے کا کیا مطلب ہوتا ہے کے بارے میں دُھندلا سا بھی اندازہ نہیں ہوتا‘‘ (ویلز Wells، ibid.، صفحہ 91)۔ اِس کے لیے بھائیو، آمین!

IV۔ چوتھی بات، وہ جو خوشخبری کو سُنتے ہیں، اِسے قبول کرتے ہیں، اور پھل لاتے ہیں، وہ لوگ ہیں جو نجات پاتے ہیں۔

آیت 20 پر نظر ڈالیں،

’’اور یہ وہ لوگ ہیں جو اُس اچھی زمین کی طرح ہیں جہاں بیج گِرتا ہے، وہ کلام کو سُنتے ہیں، قبول کرتے ہیں اور پھل لاتے ہیں، بعض تیس گُنا، بعض ساٹھ گُنا اور بعض سَو گُنا‘‘ (مرقس 4:20).

یہ کون لوگ ہیں؟ آپ کو کچھ نام پیش کرنا غالباً سادہ سی بات ہوگی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی آپ کو پیروی کرنی چاہیے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے طرز پر آپ کو اپنی زندگی بسر کرنی چاہیے۔ یہ لوگ ڈاکٹر اور مسز کیگن، ڈاکٹر مسز چعین اور مسٹر گریفتھ، مسٹر اور مسز سُنگ، مسٹر اینڈ مسز مینسیا، مسز سالازار (خصوصی طور پر وہ!)، مسٹر اور مسز سینڈرز، مسٹر اور مسز اُولیویز، مسٹر اور مسز پرودھوم، مسٹر اور مسز لِی، مسز ہائیمرز، مسٹر زبالاگا، سرجیو میلو، ایمی زبالاگا، لارا ایسکوبار، جان سیموئیل کیگن جیسے لوگ ہیں – یہ اُن جیسےلوگ ہیں! میں اُن میں سے صرف چند ایک کے ہی نام لے سکتا ہوں! اُن کی مثال کی پیروی کریں اور آپ غلطی نہیں کریں گے! آمین! ھیلیلویاہ! یسوع کے نام کی ستائش ہو!

یہ مسیح پر بھروسہ کرنے سے شروع ہوتا ہے۔ یہ مسیح میں بھروسہ کرنے سے بڑھتا ہے۔ یہ مسیح پر بھروسہ کرنے کے وسیلے سے شاگردی میں رواں ہوتا ہے۔ جیسا کہ ایک پرانا گیت اِس کو لکھتا ہے، ’’چاہے کچھ بھی ہو اُسی میں بھروسہ کرنا، یسوع میں بھروسہ کرنا، یہ ہی سب کچھ ہے! Trusting Him whate’er befall, Trusting Jesus, that is all!‘‘ پہلے تین گروپوں میں سے کسی نے کبھی بھی مسیح میں بھروسہ نہیں کیا! اُںہوں نے خود پر بھروسہ کرنا جاری رکھا تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے ’’جانے دیا‘‘ اور ہمارا گرجہ گھر چھوڑ دیا۔ اُنہوں نے یسوع پر بھروسہ نہیں کیا۔ اُںہوں نے خود اپنی سوچوں اور اپنے احساسات پر بھروسہ کیا۔ خود پر بھروسہ کرنے سے باز آئیں – اور مسیح پر بھروسہ کرنا شروع کریں۔ اُس یسوع پر ابھی بھروسہ کریں، اور وہ اپنے قیمتی خون کے ساتھ آپ کے تمام گناہ پاک صاف کر دے گا! اُس یسوع پر ابھی بھروسہ کریں اور آپ فوراً دائمی زندگی پا لیں گے! آمین! ھیلیلویاہ! یسوع کے نام کی ستائش ہو! ڈاکٹر چعین، مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی کریں۔

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا چاہیں گے۔ جب آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو آپ اُنہیں ضرور بتائیں کہ آپ کس مُلک سے لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای میل کو جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل لکھیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں اُس کا نام شامل کریں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: لوقا8:11۔15 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا
: ’’اگر میں نے دُںیا پا لیIf I Gained the World ‘‘ (شاعر آنہ اولینڈر Anna Olander، 1861۔1939)۔

لُبِ لُباب

بیج بونے والے کی تمثیل

THE PARABLE OF THE SOWER

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

I.       پہلی بات، وہ جو خوشخبری کو سُنتے ہیں اور فوراً ہی اُس کو بھول جاتے ہیں، گمشدہ یا گمراہ لوگ ہیں، مرقس4:15، 4؛ یوحنا8:44؛ لوقا14:23؛ حزقی ایل2:7؛
2 تسالونیکیوں2:11؛ یوحنا15:16؛ متی22:14 ۔

II.      دوسری بات، وہ جو خوشخبری کو سُنتے ہیں اور خوشی کے ساتھ اِس کو قبول کرتے ہیں، مگر جب آزمائش میں پڑتے ہیں تو برگشتہ اور گمراہ ہو جاتے ہیں، مرقس4:16، 17؛ کُلسیوں2:7 .

III.     تیسری بات، وہ جو خوشخبری کو سُنتے ہیں مگر اِس دُنیا کی فکریں، دولت کا فریب اور دوسری چیزوں کے لالچ میں گمراہ یا گمشدہ ہو جاتے ہیں،
مرقس 4:18، 19 .

IV.    چوتھی بات، وہ جو خوشخبری کو سُنتے ہیں، اِسے قبول کرتے ہیں، اور پھل لاتے ہیں، وہ لوگ ہیں جو نجات پاتے ہیں، مرقس4:20 .