Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

زمانوں کی بہت بڑی تقسیم –
فضل بمقابلہ اعمال

THE GREAT DIVISION OF THE AGES –
GRACE VS. WORKS
(Urdu)

ڈاکٹر سی۔ ایل۔ کیگن کی جانب سے
by Dr. C. L. Cagan

A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Saturday Evening, October 24, 2015
لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
ہفتے کی شام، 24 اکتوبر، 2015

’’اگر خُدا نے اُنہیں اپنے فضل کی بِنا پر چُنا تو صاف ظاہر ہے اُن کے اعمال کی بِنا پر نہیں چُنا۔ ورنہ اُس کا فضل، فضل نہ رہتا‘‘ (رومیوں11:6)۔

دُنیا بھر کے تمام مذاہب صرف دو الفاظ سے تقسیم ہوتے ہیں: فضل اور اعمال۔ بائبل کہتی ہے کہ فضل اور اعمال متضاد ہیں۔ اگر یہ، یہ ہے تو پھر یہ وہ نہیں ہو سکتا۔ ہماری تلاوت کہتی ہے، ’’اگر خُدا نے اُنہیں اپنے فضل کی بِنا پر چُنا تو صاف ظاہر ہے اُن کے اعمال کی بِنا پر نہیں چُنا۔‘‘ اعمال کے وسیلے سے نجات، فضل کے وسیلے والی نجات نہیں ہو سکتی۔ فضل کے وسیلے سے نجات، اعمال کے وسیلے والی نجات نہیں ہو سکتی۔ دونوں ایک ساتھ نہیں ہو سکتیں۔ یہ یا تو پہلی ہے یا دوسری!

اعمال کے وسیلے سے نجات پانا کیا ہے؟ اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ اگر آپ کافی اعمال کرتے ہیں – اگر آپ نیک کام کرتے ہیں، تو آپ خُدا کو مطمئن کر سکتے ہیں۔ کسی نہ کسی طرح نیک ہونے کے وسیلے سے آپ آسمان میں جا سکتے ہیں۔ آپ یہ بات ہر وقت سُنتے ہیں۔ ’’میں کافی نیک ہوں۔‘‘ ’’میں کوئی بُرا انسان نہیں ہوں۔‘‘ ’’میں زیادہ تر لوگوں کے مقابلے میں بہتر ہوں۔‘‘ ’’میں ایک اچھا انسان ہونے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘‘ وہ سب کچھ اعمال کے وسیلے سے نجات پانے کی غلطی ہے۔

فضل کے وسیلے سے نجات پانا کیا ہے؟ اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ نیک ہونے کی وجہ سے آسمان میں نہیں جا سکتے، کیونکہ آپ نیک نہیں ہوتے۔ آپ باطن میں گناہ سے بھرپور ہوتے ہیں۔ آپ کی گناہ والی فطرت ہوتی ہے۔ آپ کبھی بھی خُدا کی حضوری میں پاک صاف نہیں ہو سکتے۔ آپ نیک بننے کی کوشش کے ذریعے سے کبھی بھی آسمان میں نہیں پہنچ سکتے۔ آپ کو فضل کے وسیلے سے نجات پانی چاہیے۔ ’’فضل‘‘ کا مطلب خُدا کی وہ محبت، وہ حمایت، وہ رحم ہوتا ہے – جس کے آپ مستحق نہیں ہوتے۔ آپ اِس کو حاصل نہیں کر سکتے۔ فضل ایک تحفہ ہے۔ وہ تحفہ کیا ہے؟ ’’خُدا کا تحفہ ہمارے خُداوند یسوع مسیح کے ذریعے سے دائمی زندگی ہے‘‘ (رومیوں6:23)۔

فضل اور اعمال متضاد ہوتے ہیں۔ اُن کے درمیان ایک تقسیم ہوتی ہے۔ میں اس کو ’’زمانوں کی ایک بہت بڑی تقسیم‘‘ کہتا ہوں۔ آج کی رات ہم تین طریقوں سے اُس تقسیم پر نظر ڈالنے جا رہے ہیں۔

I۔ پہلی تقسیم، تقسیم کا عقیدیاتی پہلو۔

دُنیا میں چھ ہزار مذاھب ہیں۔ تمام میں سے صرف ایک اعمال کے وسیلے سے نجات پانے کی تعلیم دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ جنت میں اپنے اعمال کے ذریعے سے جا سکتے ہیں۔ اعمال کی گزرگاہ ایک دشوار راستہ ہے۔ خُدا کا اُس کے فضل کے لیے شکر ہو! ہندو اعمال میں یقین رکھتے ہیں – پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک کے بے شمار اعمال۔ آپ کو ہندو خُداؤں کی پرستش کرنی پڑتی ہے اور صرف سبزیوں ہی کو کھانا ہوتا ہے، اور دعائیں گُنگنانی ہوتی ہیں اور مسلسل غوروفکرکرنا ہوتا ہے۔ وہ دوسرے جنم میں یقین رکھتے ہیں، کہ آپ کسی دوسرے جنم میں کوئی دوسرا جسم اختیار کر کے واپس اِس دُنیا میں آتے ہیں۔ اگر آپ مذہبی نہیں رہے ہیں تو آپ ایک کم رُتبے کی ہستی یا ایک جانور کی حیثیت سے واپس آتے ہیں۔ اگر آپ ڈھیر سارے اعمال کرتے ہیں تو آپ ایک اعلٰی رُتبے کی ہستی کی حیثیت سے واپس اِس دُنیا میں آتے ہیں۔ سب سے اعلٰی ترین چیز جو آپ ہو سکتے ہیں وہ ایک گائے ہے! آپ کو کڑوروں سال تک کے لیے اعمال کرنے پڑتے ہیں، اور آخر میں آپ کا انعام یہ ہوتا ہے کہ آپ ہستیٔ وجود سے باہر ہو جاتے ہیں۔ بُدھ مت کے لوگ تقریباً ایسے ہی ہیں۔ مگر دوسرا جنم ایک جھوٹ ہے جو شیطان نے لوگوں کو نجات پانے سےدور رکھنے کے لیے ایجاد کیا ہے۔ بائبل کہتی ہے، ’’انسان کا ایک بار مرنا اور اُس کے بعد عدالت کا ہونا مقرر ہے‘‘ (عبرانیوں9:27)۔ آپ کو اِس زندگی میں نجات پانے کے لیے مسیح میں بھروسہ کرنا ہوتا ہے، ورنہ ہمیشہ کے لیے انتہائی تاخیر ہو جائے گی۔

کاتھولک کلیسیا اعمال کے وسیلے سے نجات کی تعلیم دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ ایک بچہ ہی کے طور پر بپتسمہ لے لیتے ہیں تو یہ آدم کے گناہ کو دھو ڈالتا ہے۔ پھر اپنی تمام زندگی کے لیے آپ کو نجات پانے کے لیے شدید محنت کرنی پڑتی ہے۔ آپ ایک کاہن کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ آپ کے اعتراف کر چکنے کے بعد آپ عبادت کے لیے جاتے ہیں۔ آپ دعا مانگتے ہیں۔ آپ پیسے دیتے ہیں۔ آپ روزہ رکھتے ہیں۔ اگر آپ واقعی میں نیک بننا چاہتے ہیں تو آپ کو شادی نہیں کرانی چاہیے۔ لڑکیاں راہبات اور لڑکے کاہن بن جاتے ہیں۔ پھر بھی، آپ کے مرنےکے بعد، آپ ایک جگہ پر جاتے ہیں جس کو پورگیٹوری [وقتی عذاب کی جگہ]Purgatory کہتے ہیں اور آپ آسمان میں جا سکنے سے پہلے ایک ملین سال تک وہاں پر جلتے ہیں۔ اعمال کی راہ ایک ہولناک راستہ ہے۔ خُدا کا اُس کے فضل کے لیے شکر ہو!

دُنیا میں صرف ایک ہی مذہب ہے جو فضل کے وسیلے سے نجات کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ بائبل کی مسیحیت ہے۔ بائبل کہتی ہے، ’’راستبازی کے اعمال کے وسیلے سے نہیں جو ہم کر چکے ہیں، بلکہ اُس کے رحم کے مطابق وہ ہمیں نجات دیتا ہے… جو اُس نے ہم پر ہمارے نجات دہندہ یسوع مسیح کے ذریعے سے بڑی کثرت سے نازل کیا ہے۔ کہ فضل کے وسیلے سے راستباز ٹھہرائے جانے پر، اُس کے فضل کی بدولت راستباز گنے جائیں اور ہمیشہ کی زندگی کے وارث ہوں جس کی ہم اُمید کرتے ہیں‘‘ (طیطُس3:5۔7)۔ بائبل کہتی ہے، ’’ہماری تمام راستبازی غلیظ چیتھڑوں کی مانند ہے‘‘ (اشعیا64:6)۔ خُدا کی نظروں میں آپ کے نیک کام گندے کپڑوں کی مانند ہیں۔

مگر خُدا آپ سے محبت کرتا ہے حالانکہ آپ ایک گندے گنہگار ہیں۔ بائبل کہتی ہے، ’’خُدا ہمارے لیے اپنی محبت یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح نےھماری خاطر اپنی جان قربان کر دی‘‘ (رومیوں5:8)۔ یسوع آپ کے گناہ کی ادائیگی کرنے کے لیے صلیب پر مرا تھا۔ اُس نے آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کرنے کے لیے اپنا خون بہایا۔ بائبل کہتی ہے، ’’پس جب ہم نے مسیح کے خون بہانے کے باعث راستباز ٹھہرائے جانے کی توفیق پائی تو ہمیں اور بھی زیادہ یقین ہے کہ ہم اُس کے وسیلہ سے غضبِ الہٰی سے ضرور بچیں گے‘‘ (رومیوں5:9)۔ اگر آپ یسوع پر بھروسہ کرتے ہیں تو آپ خُدا کے سامنے پاک صاف ہوتے ہیں، اپنی نیک اعمالی کی وجہ سے نہیں بلکہ مسیح کے خون کی وجہ سے۔ نجات خُدا کے خود اپنے بیٹے کے تحفے کے وسیلے سے آتی ہے۔ ’’کیونکہ خُدا نے اِس جہاں سے اِس قدر محبت کی کہ اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹا بخش دیا کہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے‘‘ (یوحنا3:16)۔ نجات صرف فضل ہی کے وسیلے سے ہوتی ہے۔ ہمارے پاس پیش کرنے کے لیے کوئی نیکی نہیں ہوتی۔ آئیے ہمیشہ کے لیے ہمارا بھروسہ اور ہمارا دعویٰ اور ہمارا فخر مسیح کا خون ہی ہونا چاہیے اور اِس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ – اُس کےبیٹے یسوع مسیح کا خون ہمیں تمام گناہ سے پاک صاف کرتا ہے‘‘ (1یوحنا1:7)۔

II۔ دوسری تقسیم، تقسیم کا تاریخی پہلو۔

پہلی صدی میں، مسیحی کلیسیائیں قوت کی بھرپوری کے ساتھ بڑھیں تھی۔ پہلا عظیم حیاتِ نو عید پاشکا پر تھا، جب ایک ہی دِن میں تین ہزار لوگ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے تھے۔ جلد ہی خوشخبری کی منادی ساری رومی دُنیا میں کی گئی۔ عظیم مقامی کلیسیائیں قائم ہوئی تھیں۔ خوشخبری کو انڈیا اور افریقہ میں لے جایا گیا۔ ابتدائی مسیحیوں ہی نے ’’خُداوند کا پیغام پھیلایا‘‘ (1تھسلُنیکیوں1:8)۔ اُن کا پیغام کیا تھا؟ اُنہوں نے منادی کی کہ ’’پاک کلام کے مطابق مسیح ہمارے گناہوں کے لیے مرا‘‘ (1کرنتھیوں15:3)۔ پولوس رسول نے کہا، ’’میں نے فیصلہ کیا ہوا تھا کہ جب تک تمہارے درمیان رہوں گا مسیح یعنی مسیح مصلوب کی منادی کے سوا کسی اور بات پر زور نہ دوں گا‘‘ (1کرنتھیوں2:2)۔ پولوس نے لکھا، ’’اُس نے تمہیں مسیح کے ساتھ [زندہ کیا]، تمہارے قصوروں اور گناہوں کی وجہ سے تمہارا حال مُردوں کا سا تھا‘‘ (افسیوں2:1)۔ دوبارہ، پولوس نے لکھا، ’’خُدا، بہت ہی محبت کرنے والا اور رحم کرنے میں غنی ہے۔ اُس نے ہمیں جب ہم اپنے قُصوروں کے باعث مُردہ تھے، مسیح کے ساتھ [زندہ کیا]، (فضل کے وسیلے سے تم نجات پاتے ہو)‘‘ (افسیوں2:4۔5)۔ یہاں کوئی اعمال نہیں ہیں! گمراہ اور مُردہ گنہگاروں کے لیے مسیح میں صرف خُدا کا فضل! جی ہاں، ’’سب نے گناہ کیا ہے‘‘ (رومیوں3:23)۔ لیکن اگر آپ یسوع میں بھروسہ کرتے ہیں، تو آپ ’’اُس فضل کے سبب اُس مخلصی کے وسیلہ سے جو یسوع مسیح میں ہے مفت راستباز ٹھہرائے جاتے ہیں۔ خُدا نے یسوع کو مقرر کیا کہ وہ اپنا خون بہائے اور انسان کے گناہ کا کفارہ بن جائے‘‘ (رومیوں3:24۔25)۔ یہاں کوئی اعمال نہیں ہیں! یسوع مسیح کے خون کے وسیلے سے خُدا کا صرف فضل!

نیا عہدنامہ اِس بات کو واضح کر دیتا ہے کہ نجات فضل کے وسیلے سے ہے اعمال کے وسیلے سے نہیں ہے۔ بائبل کہتی ہے، ’’جو شخص اپنے کام پر نہیں بلکہ بے دینوں کو راستباز ٹھہرانے والے اُس [مسیح] پر ایمان [بھروسہ] رکھتا ہے اُس کا ایمان اُس کے لیے راستبازی گِنا جاتا ہے‘‘ (رومیوں4:5)۔ فلپی دروغہ نے پولوس اور سیلاس سے پوچھا، ’’صاحبو، میں کیا کروں کہ نجات پا سکوں؟‘‘ (اعمال16:30)۔ کیا اُنہوں نے اُس کو ایک بہتر انسان بننے کے لیے کہا تھا؟ کیا اُنہوں نے اُس کو اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے کے لیے کہا تھا؟ جی نہیں، اُنہوں نے کہا، ’’خُداوند یسوع مسیح پر ایمان لا تو تُو اور تیرا سارا خاندان نجات پائے گا‘‘ اعمال16:31)۔ یہاں کوئی اعمال نہیں ہیں! مسیح میں بھروسہ کرو اور کچھ بھی نہیں ہے۔ مسیح، صرف مسیح، مسیح کے سوا کچھ بھی نہیں!

گزرتی ہوئی صدیوں کے ساتھ ساتھ، کلیسیاؤں میں اعمال کے وسیلے سے نجات پانا گُھستا چلا آیا تھا۔ پولوس رسول نے اِس بارے میں خبردار کیا تھا ’’اُن جھوٹے مسیحی بھائیوں کی طرف سے جو چوری چُھپے ہم لوگوں میں گُھس آئے تھے تاکہ جاسوسی کر کے اُس آزادی کو دریافت کریں جو مسیح یسوع کے ذریعہ ہمیں حاصل ہوئی تھی اور ہمیں پھر سے یہودی رسم و رواج کا غلام بنا دیں‘‘ (گلِتیوں2:4)۔ تب بھی، لوگ کلیسیاؤں میں اعمال کے پیغام کے ساتھ گُھسے چلے آئے تھے۔

اعمال کی پہلی غلطی تھی کہ پانی سے بپتسمہ گناہ کو دھو ڈالتا ہے۔ چوتھی اور پانچویں صدی میں، کڑوروں لوگوں کو اُن کے گناہ ’’دھو ڈالنے‘‘ کے لیے بپتسمہ دیا گیا۔ کچھ نے اُس وقت تک انتظار کیا جب تک کہ وہ مر نہیں رہے تھے تاکہ وہ اپنے سارے گناہ پہلے کر لیں اور پھر ’’دھوئے‘‘ جائیں۔ چھٹی صدی سے سولہویں صدی تک کے دور میں، لوگ اپنے بچوں کو بپتسمہ دلواتے تھے تاکہ اگر وہ مر جائیں تو وہ جنت میں جائیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کاتھولک کلیسیا بچوں کو بپتسمہ دیتی ہے۔ یہاں تک کہ آج لوگ ہیں جو کہتے ہیں، ’’میں نے نجات پائی تھی جب مجھے بپتسمہ ملا تھا۔ میرے تمام گناہ دُھل گئے تھے۔‘‘ کیسا ایک جھوٹ! صرف ’’اُس کے بیٹے یسوع مسیح کا خون ہمیں تمام گناہ سے پاک صاف کرتا ہے‘‘ (1یوحنا1:7)۔

چھٹی صدی سے سولہویں صدی تک کے دور میں اعمال کے وسیلے سے نجات کے جھوٹے عقائد گہرے ترین ہوتے چلے گئے۔ کاتھولک کلیسیا نے لوگوں کو تعلیم دی کہ لوگ اعترافوں، دعاؤں، نیک بننے، روزے رکھنے، مقدس مقامات کی زیارت کرنے، اور پیسے دینے کے عمل کے وسیلے سے جنت میں جاتے ہیں۔ پوپ صاحبان اور بشپ صاحبان باقی دوسری تمام چیزوں سے بالا تر پیسے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ پانچ سو سال پہلے اُنہوں نے کہا اگر تم پیسے دو گے تو وہ تمہارے گناہوں کی ادائیگی کر دیں گے اور یہاں تک کہ تمہارے مُردہ رشتے داروں کے گناہوں کی بھی۔ جان ٹیٹزل John Tetzel نے کہا، ’’جتنی جلدی سکّہ صندوق میں کھنکھنائے گا اُتنی ہی جلدی پورگیٹوری [وقتی عذاب کی جگہ]Purgatory سے روح روانہ ہو جائے گی۔‘‘

لیکن خُدا نے مارٹن لوتھر Martin Luther (1483۔1546) نامی ایک شخص کو نجات دلائی۔ لوتھر نے اعمال کے وسیلے سے نجات پانے کے سخت کوشش کی تھی۔ وہ ایک راہب بنا۔ وہ ایک کاہن بنا۔ اُس نے کئی کئی دِنوں تک روزے رکھے اور دعائیں مانگی۔ اُس نے روم کی زیارت کی۔ مگر اُس میں سے کسی نے بھی اُس کو خُدا کے ساتھ سکون فراہم نہیں کیا۔ بالاآخر خُدا نے اُس کو بائبل میں دکھایا کہ اُس کو سادہ ایمان کے ساتھ صرف مسیح میں بھروسہ کرنا ہے۔ لوتھر کی زندگی کو رومیوں1:17 سے واضح کیا گیا تھا، ’’راستباز ایمان کے وسیلہ سے جیتا رہے گا۔‘‘

لوتھر ٹیٹزل اور پوپ کے – اور اعمال کے ذریعے نجات کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا۔ یوں وہ عظیم حیاتِ نو جو پروٹسٹنٹ مذھبی سُدھار کہلاتا ہے شروع ہوا۔ مذہبی سُدھار کا پیغام سادہ تھا: Sola Scriptura, sola gratia, sola fide – تنہا بائبل، تنہا فضل، تنہا [مسیح میں] ایمان۔ پرانے ایمان میں واپسی! پرانی خوشخبری میں واپسی! اُس مذھبی سُدھار حیاتِ نو نے دُنیا کو بدل دیا۔ لاتعداد ہزاروں لوگ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے تھے۔ ہم اُس کو آج بھی یاد کرتے ہیں۔ کل ہم مذھبی سُدھار کے اِتوار کو منائیں گے، جو پروٹسٹنٹ مذھبی سُدھار کی 498ویں سالگرہ ہے۔

صدیوں تک پروٹسٹنٹ کلیسیا میں فضل کے وسیلے سے نجات کے سچی خوشخبری کی منادی کی گئی تھی۔ خُدا نے بے شمار حیاتِ نو بھیجے۔ مگر انیسویں صدی میں شیطان کلیسیاؤں میں اعمال کے وسیلے سے نجات پانے کو گُھسا لایا۔ چارلس فنیCharles Finney (1792۔1875) نے منادی کی کہ صلیب پر مسیح کی موت اور خون اہمیت نہیں رکھتے۔ اہم بات یہ تھی کہ اُس گنہگار کو اپنی مرضی اور فیصلے کے ذریعے سے خود کو نیک بنانا تھا۔ وہ اعمال کے ذریعے سے نجات ہے۔ فنّی کا سب سے اہم ترین واعظ ’’گنہگار خود اپنے دِلوں کو بدلنے کے لیے پابند ہیںSinners Bound to Change Their Own Hearts‘‘ کہلایا تھا۔ اُس میں مسیح کہاں پر ہے؟ اُس میں خُدا کا فضل کہاں پر ہے؟ یہ سب اعمال ہیں۔ کسی نہ کسی طور ایک گنہگار کو خود اپنے ہی دِل کو بدلنا ہوتا ہے۔ کیسے ایک گمراہ، مُردہ گنہگار وہ کر سکتا ہے؟

فنّی نے ایک فیصلے کے وسیلے سے نجات کی منادی کی تھی۔ اِس کو ’’فیصلہ سازیتdecisionism‘‘ کہتے ہیں۔ یہ اعمال کے ذریعے سے نجات ہے۔ اُس وقت سے لیکر، فیصلہ سازیت نے بے شمار گرجہ گھروں کو تباہ کیا اور کڑوروں جھوٹے نجات یافتہ لوگوں کو بنایا۔ آج لوگ کہتے ہیں، ’’میں نجات پا چکا ہوں کیونکہ میں نے گنہگاروں کی دعا مانگی۔‘‘ ’’میں نے اپنے ہاتھوں کو بُلند کیا۔‘‘ میں گرجہ گھر میں سامنے آیا۔‘‘ ’’میں نے اپنی زندگی کو وقف کر دیا۔‘‘ یہ انسانی فیصلے ہیں۔ مسیح کا فضل کہاں پر ہے؟ مسیح کا خون کہاں پر ہے؟ یہ اعمال کے ذریعے سے نجات ہے۔

آج ڈاکٹر جان میک آرتھر Dr. John MacArthur اور پال واشرPaul Washer کہتے ہیں، ’’اگر آپ گنہگاروں کی ایک دعا پڑھ چکے ہیں لیکن آپ زندگی گناہ کی گہرائی میں بسر کر رہے ہیں تو آپ گمراہ ہیں۔‘‘ وہ بات سچی ہے۔ مگر وہ لوگوں کو کیا کرنے کے لیے کہتے ہیں – مسیح کے پاس جانے اور اُس کے خون میں پاک صاف ہونے کے لیے؟ جی نہیں، وہ لوگوں کو کہتے ہیں کہ اپنے گناہوں کو کرنا روک دیں اور مسیح کو اپنی زندگی کا خُداوند بنا لیں۔ وہ لوگوں سے مسیح کی پیروی ایک شاگرد کی حیثیت سے کرنے کے لیے کہتے ہیں اور گھنٹوں بائبل کا مطالعہ کرنے کے لیے کہتے ہیں۔ وہ بات کسی کو بھی نہیں نجات دلائے گی! وہ شریعت کی منادی کرتے ہیں، خوشخبری کی نہیں۔ وہ اعمال کے ذریعے سے نجات کی منادی کرتے ہیں۔ لیکن ’’انسان شریعت کے اعمال کے ذریعے سے راستباز نہیں ٹھہرایا جاتا‘‘ (گلِتیوں2:16)۔

آج فیصلہ سازیت کے ذریعے سے اعمال کے وسیلے سے نجات ساری مغربی دُنیا میں پائی جاتی ہے۔ اِس نے کڑوروں جھوٹے نجات یافتہ لوگوں کو بنایا ہے۔ یہاں لاس اینجلز میں، ہم لوگوں کی ایک کلیسیا تعمیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو یسوع مسیح پر بھروسہ کرنے کے ذریعے سے سچے طور پر مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے ہیں۔ اور یہ بات ہمیں واعظ کے آخری نکتے پر لے آتی ہے۔

III۔ تیسری تقسیم، تقسیم کا ذاتی پہلو۔

ایک طرف – فضل کے وسیلے سے نجات پانا۔ دوسری طرف – اعمال کے ذریعے نجات پانا۔ آپ کہاں پر کھڑے ہیں؟ آپ کسی طرف ہیں؟ اِس کمرے میں یہاں ایسے لوگ ہیں جو فضل کے وسیلے سے نجات پا چکے ہیں۔ وہ مسیح پر بھروسہ کر چکے ہیں اور اپنے گناہوں کو اُس کے خون میں دھو چکے ہیں۔

اِس بات میں آپ کہاں پر ہیں؟ یہاں پر لوگ ہیں جو اعمال کے ذریعے سے نجات پانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ ایک شخص نے کہا، ’’مسیح میری مدد میری زندگی کے ساتھ کرتا ہے۔ وہ میری ایک بہتر انسان بننے کے لیے مدد کر رہا ہے۔‘‘ وہ اعمال کے ذریعے سے نجات پانا ہے۔ وہ کیسے آپ کے گناہوں کو دھو سکتی ہے؟ آپ ایک گمراہ، مُردہ، مجرم گنہگار ہیں۔ کیسے خُدا کے سامنے ایک بہتر زندگی آپ کے گناہ دھو سکتی ہے اور آپ کو پاک صاف کر سکتی ہے؟ یہ نہیں کر سکتی۔

دوسرے آپ خود کا تجزیہ آپ ہی کر رہے ہیں، خود اپنے ہی خیالات اور احساسات کا مطالعہ کر رہے ہیں – اعمال کے ذریعے سے نجات! آپ ایک گمراہ، مُردہ، مجرم گنہگار ہیں۔ آپ کے خیالات اور احساسات آپ کے گناہوں کو دھو نہیں سکتے اور آپ کو خُدا کی نظر میں دُرست نہیں کر سکتے۔ لیکن آپ خود سے پرے دیکھنے اور مسیح بخود پر بھروسہ کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ آپ گمراہ ہی رہتے ہیں۔

کچھ لوگ نجات کیسے حاصل کرنی چاہیے سیکھنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ وہ حقائق اور عقائد کو سیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ ہمارے گرجہ گھر کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ وہ باتوں کو ’’دیکھنا‘‘ چاہتے ہیں۔ لیکن سیکھنا ایک انسانی عمل ہے۔ آپ ایک گمراہ، مُردہ، مجرم گنہگار ہیں۔ کیسے سیکھنا آپ کے گناہوں کو دھو سکتا اور خُدا کی حضوری میں پاک صاف بنا سکتا ہے؟

اپنے دِل میں آپ خود کے بارے میں ایک گمراہ، مُردہ، مجرم گنہگار کی حیثیت سے نہیں سوچتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آپ خود کا تجزیہ کرتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آپ چیزوں کو سیکھنے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اِسی عرصے میں آپ گمراہ، مُردہ اور مجرم ہیں۔ ہائے، میں خواہش کرتا ہوں کہ آپ وہ دیکھ پائیں۔ کاش خُّدا آپ کو گناہ کی سزایابی عطا کرے۔ کاش خُدا آپ کو آپ کی بےبسی دکھائے۔ کاش خُدا آپ کو آپ کی واحد اُمید کی حیثیت سے مسیح بخود کو دکھائے اور آپ کو اُس کی جانب کھینچے۔

آپ ایک گمراہ، مُردہ اور مجرم گنہگار ہیں۔ آپ اعمال کے وسیلے سے نجات نہیں پا سکتے! آپ اِس کی سالوں تک کوشش کر سکتے ہیں اور پھر بھی گمراہ ہی رہیں گے۔ کوئی شخص ’’شریعت کے اعمال کے سبب سے راستباز نہیں ٹھہرایا جاتا‘‘ ہے (گلِتیوں2:16)۔ آپ ’’خود کے لیے نجات نہیں پا سکتے۔‘‘ آپ گمراہ ہیں۔ آپ مُردہ ہیں۔ آپ مجرم ہیں۔ آپ خود کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ آپ ’’خود کو نجات دلانے کے لیے‘‘ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ آپ کو فضل کے وسیلے سے ہی نجات پانی چاہیے – جو خود آپ کی ذات سے باہر کا ایک تحفہ ہے – ورنہ آپ کبھی بھی سرے سے نجات پائیں گے ہی نہیں۔

اپنے ذات سے پرے ہو کر دیکھیں۔ وہاں پر ماسوائے گناہ کے اور کچھ بھی نہیں۔ مسیح کی جانب نظر ڈالیں! وہ آپ کے گناہ کی ادائیگی کے لیے صلیب پر مرا تھا۔ اُس نے آپ کو گناہ سے پاک صاف کرنے کے لیے اپنا خون پیش کیا تھا، تاکہ خُدا اِس [گناہ] کو دیکھ نہ پائے۔ مسیح میں بھروسہ کریں اور ’’اُس کے خون کے وسیلے سے راستباز ٹھہرائے‘‘ جائیں (رومیوں5:9)۔ یسوع پر نظر ڈالیں! اُس پر بھروسہ کریں! اُس کے خون کے وسیلے سے راستباز ٹھہرائے جائیں! آمین۔

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا چاہیں گے۔ جب آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو آپ اُنہیں ضرور بتائیں کہ آپ کس مُلک سے لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای میل کو جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل لکھیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں اُس کا نام شامل کریں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

لُبِ لُباب

زمانوں کی بہت بڑی تقسیم –
فضل بمقابلہ اعمال

THE GREAT DIVISION OF THE AGES –
GRACE VS. WORKS

ڈاکٹر سی۔ ایل۔ کیگن کی جانب سے
by Dr. C. L. Cagan

’’اگر خُدا نے اُنہیں اپنے فضل کی بِنا پر چُنا تو صاف ظاہر ہے اُن کے اعمال کی بِنا پر نہیں چُنا۔ ورنہ اُس کا فضل، فضل نہ رہتا‘‘ (رومیوں11:6)۔

(رومیوں 6:23).

I.    پہلی تقسیم، تقسیم کا عقیدیاتی پہلو، عبرانیوں 9:27؛ طِطس 3:5۔7؛
گلتیوں 2:16؛ اشعیا 64:6؛ رومیوں 5:8،9؛ یوحنا 3:16؛ 1۔ یوحنا 1:7۔

II.   ۔ دوسری تقسیم، تقسیم کا تاریخی پہلو، 1۔ تھسلنیکیوں 1:8؛
1۔ کرنتھیوں 15:3؛ 2:2؛ افسیوں 2:1، 4۔5؛ رومیوں 3:23، 24۔25؛
رومیوں 4:5؛ اعمال 16:30، 31؛ گلتیوں 2:4؛ 1۔ یوحنا 1:7؛
رومیوں 1:17؛ گلتیوں 2:16۔

III. تیسری تقسیم، تقسیم کا ذاتی پہلو، گلِتیوں2:16؛ رومیوں5:9 .