Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

حیاتِ نو کے عظیم عقیدے

(حیاتِ نو پر واعظ نمبر20)
THE GREAT DOCTRINES OF REVIVAL
(SERMON NUMBER 20 ON REVIVAL)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 6 ستمبر، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, September 6, 2015

’’عزیزو! جب میں تمہیں اُس نجات کے بارے میں لکھنے کا بے حد مشتاق تھا جس میں ہم سب شریک ہیں تو میں نے یہ خط لکھنا ضروری سمجھا تاکہ تُم مسیحی ایمان کے لیے جو مُقدّسوں کو ایک ہی بار سونپ دیا گیا ہے خُوب جانفشانی کرو۔ بعض بے دین لوگ چوری چھِپے تُم میں آ گھسے ہیں جو ہمارے خدا کے فضل کو اپنی شہوت پرستی کا بہانہ بنائے ہُوئے ہیں اور ہمارے واحد مالک اور خداوند یعنی یسوع مسیح کا انکار کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی سزا کا حکم بہت پہلے ہی سے پاک کلام میں درج کردیا گیا ہے‘‘ (یہوداہ 3،4).

یہوداہ رسول خُداوند یسوع مسیح کا سوتیلا بھائی تھا۔ اُس نے نجات کے بارے میں عمومی طور پر لکھنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن جب اُس نے لکھنا شروع کیا تو پاک روح نے اُس کی ایک دوسرے موضوع میں رہنمائی کی۔ اُس نے سُنا کہ کچھ مخصوص لوگ اُن کی کلیسیا میں جھوٹی تعلیمات لے آئے تھے۔ لہٰذا اُس نے اپنے موضوع کو بدلا اور اُنہیں بتایا کہ اُنہیں ’’مسیحی ایمان کے لیے خوب جانفشانی کرنی‘‘ چاہیے۔ اُس نے اُنہیں بائبل کی سچی تعلیمات کا دفاع کرنے کے لیے کہا۔ اُنہیں شدت کے ساتھ جانفشانی کرنی چاہیے – ایپاگونائی زستھائی epagonizesthai – مسیحیت کی عظیم تعلیمات کا خوب جانفشانی کے ساتھ دفاع کرنا! نہایت شدت کے ساتھ اُس ایمان کا دفاع کرنا چاہیے جو ایک ہی بارمیں اُنہیں سونپا گیا تھا، اُس کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے یا اُس میں اپنی طرف سے اضافہ یا گھاٹا کرنا چاہیے!

کبھی بھی ایسا زمانہ نہیں گزرا جب وہ الفاظ نہایت زیادہ اہم تھے۔ ہم اُس دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں جب امریکہ اور یورپ میں کلیسیائیں مر رہی ہیں۔ 88 فیصد نوجوان لوگ 30 برس کی عمر ہونے سے پہلے ہی گرجہ گھر کو چھوڑ دیتے ہیں۔ پادری صاحبان کو کوئی اندازہ ہی نہیں کہ کیسے دُنیا میں سے نوجوان لوگوں کو مسیح میں ایمان دلا کر تبدیل کیا جائے۔ ڈاکٹر کارل ایف۔ ایچ۔ ھنری Dr. Carl F. H. Henry نے کچھ ایسا کہا جس نے جب میں نے اِسے پہلی مرتبہ پڑھا تو میری سانس روک دی۔

ہماری نسل خدا کی سچائی کو کھو چکی ہے، الہٰی وحی کی حقیقت کو گم کر چکی ہے، خُدا کی مرضی کے بارے میں اطمینان کو گم کر چکی ہے، اُس کی مخلصی کی قوت کو گنوا چکی ہے اور اُس کے کلام کے اختیار کو کھو چکی ہے۔ اِس نقصان کی وجہ سے [ہم] کافریت کے سُبک رفتاری کے ساتھ واپس اپنی حالت میں آ جانے کے لیے ایک بہت بڑی قیمت چکا رہے ہیں… وحشی ایک زوال پزیر تہذیب کی مٹی کو اُڑا رہے ہیں اور پہلے سے ہی ایک نااہل کلیسیا کے سایوں تلے نظریں بچا کر دبے پاؤں گُھس چکے ہیں (کارل، ایف۔ ایچ۔ ھنری، ٹی ایچ۔ ڈی۔، پی ایچ۔ ڈی۔ Carl F. H. Henry, Th.D., Ph.D.، ’’وحشی آ رہے ہیں The Barbarians Are Coming،‘‘ ایک عظیم تہذیب کا زوال: نئی کافریت کی جانب سُبک رفتاری Twilight of a Great Civilization: The Drift Toward Neo-Paganism، کراسوے کُتب Crossway Books، 1988، صفحات15،17)۔

گذشتہ چالیس سالوں کے دوران میں ہر ممکن طور سے ہر اُس بات کے لیے سوچ چکا ہوں جو ایک ایسا گرجہ گھر تخلیق کرنے میں معاون ہو جہاں پر نوجوان لوگوں کو اس کچل ڈالنے والے، مایوس کُن، تنہا کوڑے کے ڈھیر میں جس کو ہم ایک شہر کہتے ہیں اُمید مل پائے۔ ہمارے گرجہ گھر مر رہے ہیں اور وہ زیادہ تر نوجوان لوگوں کی آج مدد نہیں کر سکتے – اور آپ جانتے ہیں کہ میں سچ کہہ رہا ہوں! ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز Dr. Martyn Lloyd-Jones نے ’’اُس ہولناک اِرتداد کے بارے میں جو گذشتہ [150] سالوں سے کلیسیا کی تدریجی طور پر تصویر کشی کر رہا ہے‘‘ بتایا‘‘ (مارٹن لائیڈ جونز، ایم۔ ڈی۔ Martyn Lloyd-Jones, M.d.، حیات نو Revival، کراسوے کُتب Crossway Books، 1987، صفحہ 55)۔

میں آپ سے کہتا ہوں، ’’تنہا کیوں رہا جائے؟ گرجہ گھر کے لیے – گھر چلے آئیں! گمراہ کیوں رہا جائے؟ یسوع مسیح، خُدا کے بیٹے کے لیے – گھر چلے آئیں۔‘‘ لیکن آپ میں سے زیادہ تر مجھے سُن نہیں پائیں گے جب تک کہ خُدا اِس گرجہ گھر میں آگ نہیں لگا دیتا! جی ہاں! پاک روح کے حیات نو کے ساتھ آگ لگانا! یہ ہی ہے جو ہم چاہتے ہیں! یہ ہی ہے جس کی ہمیں شدت کے ساتھ ضرورت ہے! پاک روح کا حیاتِ نو – خُدا کے لیے اِس گرجہ گھر میں آگ لگا دینا!!! اِس بات کو وقوع پزیر کرنے کے لیے، ہمیں بنیاد ڈالنی چاہیے، ہمیں ’’اُس مسیحی ایمان کے لیے جو مقدسین کو ایک ہی بار میں سونپ دیا گیا خوب جانفشانی کرنی چاہیے‘‘ (یہوداہ3)۔ وہ ایمان ہی وہ بنیاد ہو سکتا ہے جس پر ہم شاید حیات نو کا تجربہ کر پائیں گے۔

ڈاکٹر لائیڈ جونز نے حیات نو پر دورہ حاضرہ کی عظیم ترین کتاب تحریر کی۔ اُس میں اُنہوں نے کہا،

کلیسیاؤں کی تاریخ میں کوئی ایسا حیات نو جانا نہیں گیا جو مخصوص ضروری سچائیوں کو نظرانداز کرتا ہو یا اُن کی تردید کرتا ہو۔ میں اِس کو ایک نہایت تعجب خیز اہم نکتے کی حیثیت سے لیتا ہوں۔ آپ نے کبھی بھی نام نہاد کہلائے جانے والے گرجہ گھروں میں حیاتِ نو کے بارے میں نہیں سُنا ہوگا، جو کارڈینل کا انکار کرتے ہوں، اور مسیحی ایمان کی بنیادی شِقوں کا انکار کرتے ہوں۔ مثال کے طور پر، آپ نے کبھی بھی یونیٹیرئینز Unitarians کے درمیان حیاتِ نو کے بارے میں نہیں سُنا ہوگا، اور آپ نے اِس کے بارے میں اِس لیے نہیں سُنا ہوگا کیونکہ اُن میں کبھی ایک بھی حیات نو نہیں آیا۔ یہ تاریخ کی چکرا دینے والی ایک حقیقت ہے (لائیڈ جونز، ibid.، صفحہ35)۔

ڈاکٹر لائیڈ جونز نے کہا، ’’کسی بھی رعایت کے بغیر یہ انہی کُلیدی عقائد کا دوبارہ دریافت ہونا ہے جس نے کہ بالاآخر حیاتِ نو کے لیے رہنمائی کی… لہٰذا میں زور دے رہا ہوں کہ یہاں کچھ سچائیاں ہیں جو حیات نو کے لیے کُلی طور پر نہایت ضروری ہیں۔ اور جب اِن سچائیوں سے انکاری کی جاتی ہے یا اںہیں نظر انداز کیا جاتا ہے یا اِن کی پرواہ نہیں کی جاتی تو پھر ہمارا کوئی حق نہیں بنتا کہ حیاتِ نو کی برکات کی توقع کریں‘‘ (ibid.، صفحات 35، 36، 37)۔ ڈاکٹر لائیڈ جونز نے تب اُن عظیم عقائد کو درج کیا۔

1۔ پہلی بات، اگر ہم حیاتِ نو چاہتے ہیں تو ہمیں جیتے جاگتے خُدا کی حاکمیت کے لیے جانفشانی کرنی چاہیے۔

یہ خُدا ہی ہے جو مسیحیت کی تاریخ میں عمل کرتا ہے۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگوں کے پاس کونسے جھوٹے تصورات ہیں، پولوس رسول کہتا ہے، ’’تو بھی خُدا کی مضبوط بنیاد قائم رہتی ہے‘‘ (2۔ تیموتاؤس2:19)۔ خُدا کی ٹھوس بنیاد مضبوط قائم رہتی ہے، چاہے دُنیا میں کچھ بھی ہوتا رہے – چاہے لوگ بائبل اور مسیحیت کے بارے میں کچھ بھی کہتے رہیں – ’’تو بھی خُدا کی مضبوط بنیاد قائم رہتی ہے۔‘‘

میں بے اعتقادوں کے درمیان پلا بڑھا تھا۔ اُن میں سے کچھ اگنوسٹک agnostic تھے۔ اُن میں سے کچھ دہریے تھے۔ اُن میں سے کچھ ’’نئے زمانے‘‘ کے خیالات کے پیروکار تھے۔ اُن میں سے بعض تو یہاں تک کہ روحانی تھے جو سوچتے تھے کہ وہ مُردوں کے ساتھ باتیں کر سکتے ہیں۔

میرے رشتے داروں میں سے کوئی بھی مسیحی نہیں تھا۔ لیکن میں خُدا کا تجربہ کر چکا تھا۔ اِس لیے میں جانتا تھا کہ بائبل کا خُدا ہی واحد حقیقی خُدا تھا۔ میں یہ بات تب بھی جانتا تھا اور اب بھی جانتا ہوں۔ وہ خُداوند، جو واحد سچا خُدا ہے جو جیتا جاگتا خُدا ہے وہی حاکم اعلیٰ ہے۔ ہم اُس سے دعا مانگ سکتے ہیں اور وہ شاندار کام کر سکتا ہے! اُس جگہ پر کوئی حیاتِ نو نہیں آ سکتا جہاں پر جیتے جاگتے خُدا پر یقین نہیں کیا جاتا۔ ہم کیسے اُس سے دعا مانگ سکتے ہیں اگر وہ جیتا جاگتا خُدا نہیں ہے؟ ہمیں کیوں اُس سے دعا مانگنی چاہیے اگر وہ نیچے نہیں آ سکتا اور حالات کو بدل نہیں سکتا؟

2۔ دوسری بات، اگر ہم حیاتِ نو چاہتے ہیں تو ہمیں بائبل کے لیے جانفشانی کرنی چاہیے۔

بائبل جیتے جاگتے خُدا کا مکاشفہ ہے۔ خُدا نے خود کو انسان پر بائبل کے ذریعہ سے ظاہر کیا۔ کئی مذاھب، فرقے اور فلسفے ہیں۔ ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ کونسا سچا اور کونسا جھوٹا ہے؟ ہر کسی کی اپنی رائے ہوتی ہے۔ اُنہوں نے خُدا کے بارے میں اپنے اپنے تصورات قائم کیے ہوتے ہیں لیکن ایسا کرنے کے لیے اُن کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوتا ہے۔ جب میں نوجوان تھا تو میں اُن کو سُنا کرتا تھا اور مجھے احساس ہوا کہ وہ ایک دوسرے سے تضاد رکھتے تھے۔ وہ ماہرین کی مانند گفتگو کرتے تھے لیکن احمقوں کی مانند عمل کرتے تھے۔ جب میں کافی نوجوان تھا تو مجھے یہ بات سوچنی یاد ہے، ’’اِن لوگوں کو خُدا کے بارے میں کوئی بھی بات معلوم نہیں ہے۔ یہ تو صرف اپنی جاہلت میں شریک کر رہے ہیں۔‘‘ میں نے فیصلہ کیا، حالانکہ اُس وقت میں بچایا بھی نہیں گیا تھا کہ میں بائبل کے کلام پر یقین کروں گا – ناکہ انسانوں کی آراء پر۔ ایک نوجوان شخص کی حیثیت سے میں نے زبور119:130 کو حفظ کر لیا تھا،

’’تیرے کلام کی تشریح نور بخشتی ہے؛ اور سادہ لَوحوں کو سمجھ عطا کرتی ہے‘‘ (زبُور 119:130).

’’تیرے اقوال کا ذائقہ کس قدر شیرین ہے، وہ میرے مُنہ میں شہد سے بھی زیادہ میٹھے لگتے ہیں! تیرے قوانین سے مجھے فہم حاصل ہوتا ہے: اِس لیے میں ہر جھوٹی روش سے نفرت کرتا ہُوں‘‘ (زبُور 119:103،104).

’’ہر صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے وہ تعلیم دینے، تنبیہہ کرنے، سُدھارنے اور راستبازی میں تربیت دینے کے لیے مفید ہے۔ تاکہ خدا کا بندہ اِس لائق بنے کہ ہر نیک کام کرنے کے لیے تیار ہو جائے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 3:16،17).

جب آپ حیاتِ نو کی تاریخ پڑھیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ یہ وہ طریقہ تھا جس سے لوگ یقین کرتے تھے۔ اُن لوگوں کے درمیان تاریخ کے کسی بھی دور میں کبھی بھی حیاتِ نو نہیں آیا جنہوں نے لفظ بہ لفظ بائبل پر یقین کرنے سے انکار کیا۔ وہاں پر کبھی بھی حیاتِ نو نہیں آیا جہاں پر لوگوں نے بائبل کی جگہ پر خود اپنی رائے پیش کر دی ہو۔ کیوں؟ کیونکہ بائبل خُدا کا جیتا جاگتا کلام ہے۔ میں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جنہوں نے صرف اُنہی حصوں کا یقین کیا جن کے ساتھ متفق تھے۔ لیکن وہ اچھے مسیحی نہیں تھے۔ اور اُنہوں نے اپنی دعاؤں کے جواب میں معجزوں کو ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ بائبل پر بے اعتقادی اُن بڑی بڑی وجوہات میں سے سب سے بڑی وجہ ہے کہ ہم آج حیاتِ نو کو نہیں دیکھتے۔

3۔ تیسری بات، اگر ہم حیاتِ نو چاہتے ہیں تو ہمیں گناہ کے ذریعے سے تباہ ہوئے انسان کے لیے، گناہ میں انسان کے لیے جانفشانی کرنی چاہیے۔

وہ تیسرا عظیم عقیدہ جس کی پرواہ نہیں کی جاتی یہ ہے کہ انسان گناہ میں پیدا ہوا ہے، کہ انسان فطرتاً گنہگار ہے، اور خُدا کے قہر کے تحت زندگی بسر کرتا ہے۔ مسیحیت کی تاریخ کا مطالعہ کریں اور آپ دیکھ پائیں گے کہ مُردگی کے تمام دورانیوں میں لوگوں نے یقین نہیں کیا تھا کہ وہ گناہ میں پیدا ہوئے تھے۔ گناہ میں انسان کا مکمل اخلاقی زوال وہ عقیدہ ہے جو حیاتِ نو کے زمانوں میں دوبار منظر عام پر ہمیشہ آتا ہے۔ جب خُدا ایک حیاتِ نو نازل کرتا ہے تو آپ عورتوں اور مردوں کو گناہ کی سزایابی کے تحت کراہتا ہوا، چلاتا ہوا دیکھیں گے۔ اُنہوں نے اُس بات کا تجربہ کیا تھا جو پولوس رسول نے محسوس کی تھی جب اُس نے کہا،

’’کیونکہ میں جانتا ہُوں کہ مجھ میں (یعنی میرے جسم میں) کوئی نیکی بسی ہُوئی نہیں … ہائے! میں کیسا بد بخت آدمی ہُوں!‘‘ (رومیوں 7:18،24).

صرف جب ایک شخص دیکھتا ہے کہ وہ گناہ اور بغاوت سے بھرا ہوا ہے تو وہ خود سے گھن کرنے لگتا ہے۔ خود سے گھن کرنا اُن باتوں میں سے ایک ہے جو ہمارے گرجہ گھروں میں سے کُلی طور پر ناپید ہو چکی ہے۔ آج کسی کے لیے گناہ کی سزایابی کے تحت ہونا انتہائی شدید نایاب ہو چکا ہے۔ ایمان میں ہمارے آباؤاِجداد اِس قدر گہری شدت کے ساتھ گناہ کی سزایابی میں ہوتے تھے کہ وہ سو نہیں پاتے تھے – اور وہ رحم کے لیے چِلاتے تھے۔ ہمارے بپتسمہ دینے والے خاندان کے بانی جان بنعین John Bunyan یسوع کے اُنہیں بچانے سے پہلے، اِسی طرح حالت میں اٹھارہ ماہ تک رہے تھے۔ مگر آپ لوگوں کا کم از کم اُس طرح کا کچھ نہ کچھ تجربہ حاصل کیے بغیر حیات نو نہیں پا سکتے۔ ڈاکٹر لائیڈ جونز نے کہا، ’’اگر تم خود اپنے ہی دِل کے طاعون سے واقف نہیں ہو، اور آدم سے جو فطرت تم نے وراثت میں پائی ہے اُس کی تعفن سے واقف نہیں ہو؛ اگر تم، اِس پاک، راستباز خُدا کی حضوری میں جو اپنی تمام تر وجودیت کے ساتھ گناہ سے نفرت کرتا ہے، اپنی بے بسی کو اور اپنی انتہائی مایوسی کو نہیں دیکھ پاتے، تو تمہارا کوئی حق نہیں بنتا کہ تم حیاتِ نو کے بارے میں باتیں کرو یا اِس کے لیے دعائیں مانگو۔ ہر شے سے بالا تر ہو کر حیاتِ نو جس بات کو آشکارہ کرتا ہے وہ خُدا کی حاکمیت اعلیٰ ہے، انسان کی گناہ میں بے بسی، نااُمیدی اور بدکاری ہے‘‘ (ibid.، صفحہ 42)۔

4۔ چوتھی بات، اگر ہم حیاتِ نو چاہتے ہیں تو ہمیں مسیح کی صلیب پر کفاراتی قربانی – اور اُس کے کفاراتی خون کے لیے جانفشانی کرنی چاہیے۔

یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ آج انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے اور زیادہ تر بپتسمہ دینے والے گرجہ گھروں کے مقابلے میں ایک کاتھولک عبادت میں مسیح کے بارے میں زیادہ بات ہوتی ہے۔ جی ہاں، میں جانتا ہوں کہ عبادت کے بارے میں اُن کا تصور غلط ہے۔ لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ہم بھی غلط ہیں۔ میں کُلی طور پر غلطی پر ہوں جب ہم صلیب پر مسیح کے کفاراتی عمل کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتے ہیں۔ بے شمار انجیل بشارت کا پرچار کرنے والے سوچتے ہیں کہ وہ خدا سے معافی پا سکتے ہیں، مسیح کے بغیر، اور صلیب پر گناہ کے لیے اُس کے کفارے کے بغیر۔

اُن مکار آزاد خیال ھیری ایمرسن فوسڈک Harry Emerson Fosdick اور آسیب زدہ آزاد خیال بشپ جیمس پائیک Bishop James Pike جیسے مبلغین کی مانند جو کنواری سے پیدائش، خون کے کفارے اور مسیح کے مُردوں میں سے جسمانی طور پر جی اُٹھنے پر حملہ کرتے ہیں۔ لیکن آج وہ بہت زیادہ سمجھ سے بالا تر ہیں۔ اب وہ مسیح اور اُس کے اعمال کو اپنے واعظوں میں سے سرے سے ہی نکال چکے ہیں! وہ مسیح بخود پر منادی کرنی چھوڑ چکے ہیں۔ میں یقین کرتا ہوں کہ یہ ہی وجہ ہے رِک وارنRick Warren کے گرجہ گھر میں کالج کی ایک لڑکی جس نے کہا کہ وہ اپنی ساری زندگی وہاں جاتی رہی تھی ایک بھی لفظ نہیں کہہ پائی تھی! اِس کے بارے میں سوچیں – ایک بھی لفظ نہیں – یسوع مسیح کے بارے میں – جب میں نے اُس سے اُس کی گواہی سُننے کے لیے کہا۔ اور وہ ہی صرف واحد نہیں ہے۔ جب بپتسمہ یافتہ یا انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والوں کو اُن کی گواہی دینے کے لیے پوچھا جاتا ہے تو 20 میں سے ایک بھی مسیح کا جلال ظاہر نہیں کر پایا۔ وہ خود کے بارے میں بات کریں گے، وہ کیا سوچتے ہیں، وہ کیا محسوس کرتے ہیں۔ لیکن انتہائی چند ایک – شدید کم – خُداوند یسوع مسیح کے بارے میں ایک یا دو لفظ سے زیادہ کہہ پائیں گے۔ اُنہوں نے واعظوں میں اُس [یسوع] کے بارے میں اتنا زیادہ سُنا ہی نہیں ہوتا، تو پھر آپ کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ یہ بیچارے، گمشدہ یا گمراہ انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے اپنی گواہیوں میں اُس یسوع کے بارے میں کچھ زیادہ کہہ پائیں! ڈاکٹر مائیکل حورٹن Dr. Michael Horton کیلیفورنیا میں ویسٹ منسٹر سیمنری میں سلسلہ بہ سلسلہ علم الہٰیات کی تعلیم دیتے ہیں۔ ڈاکٹر حورٹن کی ثابت قدمی کے ساتھ قائل کر دینے والی مشہور کتاب کا نام مسیح کے بغیر مسیحیت: امریکہ کلیسیا کی متبادل انجیل Christless Christianity: The Alternative Gospel of the American Church ہے (بیکر بُکس Baker Books، 2012 ایڈیشن)۔

اِس ہولناک رُجحان نے خُداوند یسوع مسیح کو خُود اُس کے اپنے گرجہ گھروں میں نکال باہر پھینکا ہے! یہ بات بہت زیادہ حد تک خود ہمارے اپنے خودمختیار بپتسمہ دینے والے گرجہ گھروں میں سچی ہے۔ وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ ہمارے بے شمار بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر اب اِتوار کی رات کو بند ہوتے ہیں۔ اِس لیے پادری صاحب کے پاس اپنے لوگوں میں منادی کرنے کے لیے ہفتے میں تقریباً 30 منٹ ہوتے ہیں۔ لہٰذا وہ اپنا سارا وقت غیرنجات یافتہ گرجہ گھر کے اراکین کو ’’مسیحی زندگی‘‘ کیسے گزرانی چاہیے کی تعلیم دیتے رہتے ہیں، عام طور پر خشک ترین، آیت بہ آیت کہلائے جانے والے ’’تفسیراتی‘‘ واعظوں کے ذریعے سے۔ اور آخر میں وہ محض اُن لوگوں سے جو نجات پانا چاہتے ہیں صرف ہاتھ کھڑا کرنے کے لیے پوچھتے ہیں۔ مسیح کی انجیل، اُس کے خون کے کفارے اور اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بارے میں منادی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ لوگوں کو اب اِس کی ضرورت ہی نہیں۔ اُنہیں صرف اتنا کرنا ہوتا ہے کہ ایک کارڈ کو بھرنا ہوتا ہے، اپنے ہاتھ کھڑے کرنے ہوتے ہیں، چند ایک الفاظ کو جنہیں وہ سمجھتے بھی نہیں بُڑبُڑانا ہوتا ہے (نام نہاد کہلائی جانے والی گنہگاروں کی دعا) اور پھر اُنہیں بپتسمہ دے دیا جاتا ہے۔ یوں ہمارے سینکڑوں ہزاروں بچوں کو گمراہی میں، خُداوند یسوع مسیح کے بارے میں ایک حقیقی انجیلی خوشخبری کا واعظ سُنے بغیر ہی بپتسمہ دے دیا جاتا ہے – اور ہم تعجب کرتے ہیں کہ کیوں 150 سالوں سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا اور کوئی حیاتِ نو نہیں آیا! ہمارے گرجہ گھروں کی ’’مسیح کے بغیر مسیحیت‘‘ میں حیاتِ نو کا ہونا ممکن کیسے ہو سکتا ہے؟یہ وجوہات میں سے ایک ہے جو میں یو ٹیوب اور ہمارے ویب سائٹ پر ہر ہفتے لوگوں کو بتاتا ہوں کہ اُن گرجہ گھروں میں مت جائیں جہاں اِتوار کی شام کی عبادت نہیں ہوتی ہے! جیسا کہ لوط نے اپنی بیوی کو بتایا تھا، ’’چھوڑ دو اور پیچھے مُڑ کر مت دیکھو!‘‘

نوجوان لوگو، آپ کو مسیح کی جانب رُخ کرنا چاہیے، اور خود کو گناہ سے اور خُدا کے قہر سے بچانے کے لیے، اُس قیمتی خون کے وسیلے سے جو اُس نے صلیب پر بہایا پاک صاف ہونا چاہیے! ڈاکٹر لائیڈ جونز نے کہا، ’’حیاتِ نو، باقی تمام باتوں سے بالا تر، خُداوند یسوع مسیح، خُدا کے بیٹے کے جلال کو ظاہر کرتا ہے‘‘ (ibid.، صفحہ 47)۔

اِس کے علاوہ، ڈاکٹر لائیڈ جونز نے کہا، ’’آپ حیاتِ نو کے ہر دور میں پائیں گے، بغیر مستثنٰی کیے، مسیح کے خون پر انتہائی پُرزور اصرار رہا ہے‘‘ (ibid.، صفحہ 48)۔ میرے شریک کار ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan ایک سال سے بھی زیادہ عرصے تک ڈاکٹر جان میک آرتھر Dr. John MacArthur کے گرجہ گھر میں جاتے رہے – ہر اِتوار۔ خود میرے پاس ڈاکٹر میک آرتھر کی ٹیپ پر ریکارڈ کی گئی باتیں ہیں۔ ہم دونوں ہی جانتے ہیں کہ ڈاکٹر میک آرتھر مسیح کے خون کو نیچا دکھاتے ہیں اور اپنی تعلیمات میں بارہا مرتبہ ’’خون‘‘ کو ’’موت‘‘ کے ساتھ تبدیل بھی کر دیتے ہیں۔ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ سادہ سی بات ہے! وہ دورِ حاضرہ کے ایک مبلغ ہیں جو کہ ایک پرانی طرز کے حیاتِ نو میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر لائیڈ جونز دُرست تھے جب اُنہوں نے کہا، ’’مسیحی خوشخبری کی انتہائی رگ، اُس کا مرکز اور دِل یہ ہے: ’خُدا نے یسوع کو مقرر کیا کہ وہ اپنا خون بہائے اور انسان کے گناہ کا کفارہ بن جائے اور اُس پر ایمان لانے والے فائدہ اُٹھائیں‘ (رومیوں3:25)۔ ’ہمیں مسیح کے خون کے وسیلے سے مخلصی یعنی گناہ کی معافی حاصل ہوتی ہے‘ (افسیوں1:7)‘‘ (ibid.، صفحہ 48)۔ دوبارہ، ڈاکٹر لائیڈ جونز نے کہا، ’’میں حیاتِ نو کے لیے کوئی اُمید نہیں دیکھتا جب مرد اور عورتیں صلیب پر خون کا انکار کر رہے ہیں اور اُس بات کی توہین کر رہے ہیں جس پر اُنہیں فخر ہونا چاہیے‘‘ (ibid.، صفحہ49)۔ حیات نو میں، تبلیغ میں، حمدوثنا کے گیتوں میں یسوع کے خون پر ہمیشہ بہت شدید زور دیا جاتا ہے۔ اُن میں سے کچھ کو سُنیں جو کہ عظیم حیاتِ نو کے زمانوں میں لکھے گئے تھے،

افسوس! اور کیا میرے نجات دہندہ نے خون بہایا؟
   اور کیا میرا حاکم اعلٰی مر گیا؟
کیا وہ اُس پاک سر کو نچھاور کر دے گا
   ایک ایسے کیڑے کے لیے جیسا میں ہوں؟
(’’افسوس! اور کیا میرے نجات دہندہ نے خون بہایا؟Alas! And Did My Saviour Bleed? ‘‘ شاعر آئزک واٹز، ڈی۔ڈی۔ Isaac Watts, D.D.، 1674۔1748)۔

وہاں خون سے بھرا ایک چشمہ ہے
   عمانوئیل کی رگوں سے کھینچا گیا؛
اور گنہگار، اُس سیلاب کے نیچے ڈبکی لگاتے ہیں،
   اپنے تمام قصوروں کے دھبے دھولیتے ہیں۔
(’’وہاں ایک چشمہ ہےThere Is a Fountain ‘‘ شاعر ولیم کاؤپر William Cowper ، 1731۔1800)۔

وہ ہمیشہ عالم بالا میں رہتا ہے، میرا ثالثی بن جانے کے لیے؛
   اپنی تمام تر مخلصانہ محبت، اور اپنے قیمتی خون سے التجا کرنے کے لیے،
اُس کے خون نے ہماری تمام نسل کے لیے کفارہ ادا کیا، اور اب فضل کا تخت نچھاور کرتا ہے،
   اور اب فضل کا تخت نچھاور کرتا ہے۔
(’’اُٹھ! میری جان، اُٹھ! Arise! My Soul, Arise!‘‘ شاعر چارلس ویزلی Charles Wesley، 1707۔1788)۔

مسیح کا خون اور صلیب حیاتِ نو کے زمانوں میں ہمیشہ نہایت شدید شہرت کے حامل رہے ہیں – جیسا کہ ڈاکٹر لائیڈ جونز نے کہا۔

5۔ پانچویں بات، اگر ہم حیات نو چاہتے ہیں تو ہمیں پاک روح کے سزایابی اور مسیح میں ایمان لا کر تبدیل کر ڈالنے والے عمل کے لیے جانفشانی کرنی چاہیے۔

پاک روح کا عمل ہی ہے جو دوسرے تمام عقائد پر لاگو ہوتا اور اُنہیں معموری بخشتا ہے۔ روح کیا کرتا ہے؟ وہ معموری کے وسیلے سے خدا کو ہمارے لیے حقیقی بناتا ہے۔ وہ بائبل میں سچائی کو دیکھنے اور اِسے قبول کرنے کے لیے ہماری روحانی آنکھ کو کھولتا ہے۔ وہ ہمیں گناہ کے بارے میں سزایابی میں لاتا ہے، تاکہ ہم ہمیں پاک صاف کرنے کے لیے یسوع کے خون کی ضرورت کو محسوس کر سکیں! ’’جب وہ مدد گار آ جائے گا تو جہاں تک گناہ، راستبازی اور انصاف کا تعلق ہے وہ دُنیا کو مجرم قرار دے گا‘‘ (یوحنا16:8)۔ پھر وہ آپ کو یسوع کی جانب کھینچے گا، جب آپ یسوع کے خون کے وسیلے سے تمام گناہ سے پاک صاف ہو جاتے ہیں تو وہ آپ کو یسوع پر بھروسہ کراتا ہے۔ یسوع نے کہا، ’’وہ میرا جلال ظاہر کرے گا کیونکہ وہ [میری باتیں میری زبانی] سُن کر تم تک پہنچائے گا‘‘ (یوحنا16:14)۔

میرے پیارے دوستو، ہم اپنے گرجہ گھر میں پاک روح کے نزول کے لیے دعائیں مانگ رہے ہیں – کیونکہ ہم اپنے درمیان گمراہ گمشدہ لوگوں کے گناہ کی سزایابی کے تحت آنے اور یسوع کے خون کے وسیلے سے اُس کی جانب کھینچے چلے آنے کی خواہش کرتے ہیں۔ لیکن وہ گناہ کے غلام ہیں اور قید خانے کو توڑ کر باہر نہیں نکل سکتے اور یسوع کے پاس نہیں آ سکتے۔ صرف پاک روح ہی قید خانے کو توڑ سکتا ہے جہاں وہ گناہ میں قید ہیں۔ صرف پاک روح ہی اُنہیں اُن کے اپنے گناہ سے بھرپور دِلوں سے نفرت کر سکتا ہے۔ صرف پاک روح ہی اُنہیں یسوع کے خون کے وسیلے اور اُس کی صلیب کے وسیلے سے نجات کے لیے یسوع کی جانب کھینچ سکتا ہے!

آپ کو ایک حقیقی مسیحی بننے کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لیے یہاں گرجہ گھرمیں واپس آنا چاہیے۔ اِیسا کریں! ایسا کریں! مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور حمد و ثنا کا گیت نمبر3 گائیں، ’’خون میں قوت ہوتی ہے There is Power in the Blood۔‘‘

کیا آپ گناہ کے بوجھ سے آزاد ہونا چاہیں گے؟
   وہاں پر خون میں قوت ہے، خون میں قوت۔
کیا آپ بدی پر فتح پانا چاہیں گے؟
   وہاں پر خون میں شاندار قوت ہے۔
وہاں قوت ہے، قوت، حیرت انگیز کام کرنے والی قوت
   برّے کے خون میں؛
وہاں قوت ہے، قوت، حیرت انگیز کام کرنے والی قوت
   برّے کے قیمتی خون میں۔

کیا آپ اپنے گناہ اور غرور سے پاک صاف ہونا چاہیں گے؟
   وہاں پر خون میں قوت ہے، خون میں قوت۔
پاک صاف ہونے کے لیے کلوری کے مدوجزر میں چلے آئیں؛
   وہاں پر خون میں شاندار قوت ہے۔
وہاں قوت ہے، قوت، حیرت انگیز کام کرنے والی قوت
   برّے کے خون میں؛
وہاں قوت ہے، قوت، حیرت انگیز کام کرنے والی قوت
   برّے کے قیمتی خون میں۔
(’’وہاں خون میں قوت ہے There is Power in the Blood‘‘ شاعر لوئیس ای۔ جونز Lewis E. Jones، 1865۔1936)۔

ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی کریں۔

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو مہربانی سے ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای۔میل بھیجیں اور اُنھیں بتائیں – (یہاں پر کلک کریں) rlhymersjr@sbcglobal.net۔ آپ کسی بھی زبان میں ڈاکٹر ہائیمرز کو خط لکھ سکتے ہیں، مگر اگر آپ سے ہو سکے تو انگریزی میں لکھیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظ www.realconversion.com یا
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے دعا مسٹر ایبل پردھومMr. Abel Prudhomme نے کی تھی.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’تیرے کام نے اے خُداوند پھر سے زندہ کیا Revive Thy Work, O Lord‘‘
(شاعر البرٹ میڈلین Albert Midlane، 1825۔1909)۔

لُبِ لُباب

حیاتِ نو کے عظیم عقیدے

(حیاتِ نو پر واعظ نمبر20)
THE GREAT DOCTRINES OF REVIVAL
(SERMON NUMBER 20 ON REVIVAL)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’عزیزو! جب میں تمہیں اُس نجات کے بارے میں لکھنے کا بے حد مشتاق تھا جس میں ہم سب شریک ہیں تو میں نے یہ خط لکھنا ضروری سمجھا تاکہ تُم مسیحی ایمان کے لیے جو مُقدّسوں کو ایک ہی بار سونپ دیا گیا ہے خُوب جانفشانی کرو۔ بعض بے دین لوگ چوری چھِپے تُم میں آ گھسے ہیں جو ہمارے خدا کے فضل کو اپنی شہوت پرستی کا بہانہ بنائے ہُوئے ہیں اور ہمارے واحد مالک اور خداوند یعنی یسوع مسیح کا انکار کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی سزا کا حکم بہت پہلے ہی سے پاک کلام میں درج کردیا گیا ہے‘‘ (یہوداہ 3،4).

       پہلی بات، اگر ہم حیاتِ نو چاہتے ہیں تو ہمیں جیتے جاگتے خُدا کی حاکمیت کے لیے جانفشانی کرنی چاہیے، 2۔ تیموتاؤس 2:19 .

      دوسری بات، اگر ہم حیاتِ نو چاہتے ہیں تو ہمیں بائبل کے لیے جانفشانی کرنی چاہیے، زبور119:130، 103، 104؛ 2۔ تیموتاؤس 3:16، 17۔

      تیسری بات، اگر ہم حیاتِ نو چاہتے ہیں تو ہمیں گناہ کے ذریعے سے تباہ ہوئے انسان کے لیے، گناہ میں انسان کے لیے جانفشانی کرنی چاہیے، رومیوں7:18، 24 ۔

      چوتھی بات، اگر ہم حیاتِ نو چاہتے ہیں تو ہمیں مسیح کی صلیب پر کفاراتی قربانی – اور اُس کے کفاراتی خون کے لیے جانفشانی کرنی چاہیے، رومیوں3:25؛ افسیوں1:7۔

      پانچویں بات، اگر ہم حیات نو چاہتے ہیں تو ہمیں پاک روح کی سزایابی اور مسیح میں ایمان لا کر تبدیل کر ڈالنے والے عمل کے لیے جانفشانی کرنی چاہیے، یوحنا16:8، 14۔