Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


کیا آپ مسیح کے پاس آ چکے ہیں؟

HAVE YOU COME TO CHRIST?
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 9 نومبر، 2003
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, November 9, 2003

’’پھر بھی تم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے انکار کرتے ہو‘‘
(یوحنا5:40)۔

مسیح کے زمانے میں مذہبی رہنماؤں نے پرانے عہد نامے کے پاک کلام کا احتیاط کے ساتھ مطالعہ کیا تھا۔ لیکن وہ اِس حقیقت کو فراموش کر بیٹھے کہ پاک کلام نے مسیح کے بارے میں بات کی تھی – اور یوں، وہ مسیح کے پاس نہیں آئے، اور اُس کے ذریعے سے نجات نہیں پائی۔ اُن کے درمیان ایک کہاوت عام تھی، ’’وہ جس کے پاس شریعت کے الفاظ ہیں دائمی زندگی پا چکے ہیں‘‘ (میتھیو ھنری Mathew Henry، یوحنا5:39)۔ لیکن یسوع نے کہا پاک کلام اُس [یسوع] کے بارے میں گواہی دیتا ہے،

’’تم پاک کلام کا بڑا گہرا مطالعہ کرتے ہو؛ کیونکہ تم سمجھتے ہو اُس [پاک کلام] میں تمہیں ہمیشہ کی زندگی ملے گی: یہی پاک کلام میرے حق میں گواہی دیتا ہے۔ پھر بھی تم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے انکار کرتے ہو‘‘ (یوحنا5:39۔40)۔

وہ کلام پاک کے الفاظ پر بھروسہ کر رہے تھے، لیکن وہ اُس مسیح پر بھروسہ نہیں کر رہے تھے جس کے بارے میں اُن پاک صحائف میں بات کی گئی تھی۔ ڈاکٹر والوورد Dr. Walvoord نے کہا، ’’اِس ہی طرح سے بے شمار لوگ سوچتے ہیں کہ بائبل کا مطالعہ کر لینا ہی سب کچھ پا لینے کے مترادف ہیں‘‘ (والوورد اینڈ زُک Walvoord and Zuck، بائبل نالج پر تبصرہ The Bible Knowledge Commentary، وِکٹر کُتبVictor Books، 1984، جلد دوئم، صفحہ 292)۔

وہ بائبل کے پاس آئے، اور بائبل کے الفاظ پر بھروسہ کیا – لیکن وہ مسیح کے پاس نہیں آئے اور اُس پر بھروسہ نہیں کیا۔

’’پھر بھی تم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے انکار کرتے ہو‘‘ (یوحنا5:40)۔

برگشتہ نسلِ انسانی میں مسیح کے پاس جانے کے بجائے کسی اور ڈگر پر چل پڑنے کا ایک ہولناک رُجحان ہے، مسیح کے مقابلے میں کسی دوسری چیز پر بھروسہ کرنا۔

’’ جسے دیکھ کر ہم مُنہ موڑ لیتے تھے‘‘ (اشعیا 53:3).

’’گّلے نے مجھ سے نفرت کی‘‘ (زکریاہ 11:8).

’’لیکن وہ چِلائے کہ اُسے یہاں سے دُور کر دے، دور کر دے‘‘(یوحنا 19:15).

اِس طریقے سے تمام نسلِ انسانی مسیح کے ساتھ برتاؤ کرتی ہے۔ خُدا کے فضل کے علاوہ، ایک طرح سے یا دوسری طرح سے، یہ بات تمام نسلِ انسانی کے بارے میں کہی جا سکتی ہے،

’’پھر بھی تم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے انکار کرتے ہو‘‘ (یوحنا5:40)۔

خُدا کے فضل کے بغیر، کوئی بھی انسان مسیح کے پاس نہیں جا سکتا۔ یسوع نے کہا،

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا 6:44).

کیا آج کی شام خُدا آپ کو کھینچ رہا ہے؟ کیا آپ کو ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ آپ کو مسیح کی ضرورت ہے؟ کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ اُس کے بغیر گم ہوچکے ہیں؟ اگر آپ ایسا محسوس کرتے ہیں تو خُداوند آپ کو مسیح بخود کے جھوٹے تصورات سے پرے کھینچ رہا ہے۔ جو میں کہہ رہا ہوں اُس کو دھیان سے سُنیں، اور مسیح کے پاس آئیں۔ اب تک، آپ مسیح کے پاس نہیں آئے۔ اب تک، مسیح نے آپ سے کہا ہوتا،

’’پھر بھی تم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے انکار کرتے ہو‘‘ (یوحنا5:40)۔

I۔ پہلی بات، مسیح کے پاس آنے کے بجائے لوگ کیا کرتے ہیں۔

پینتیکوست مشن یا کرشماتی مشن والا پس منظر رکھنے والے اکثر سوچتے ہیں کہ نجات تجربات اور احساسات کے ذریعے سے آتی ہے۔ اکثر ’’پاک روح‘‘ خُدا اور انسان کے درمیان ثالثی کی حیثیت سے مسیح کی جگہ لے لیتا ہے (حوالہ دیکھیں 1 تیموتاؤس2:5)۔ یسوع کو، حقیقت میں، ’’پاک روح‘‘ کی جگہ اکثر تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

’’پھر بھی تم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے انکار کرتے ہو‘‘ (یوحنا5:40)۔

رومن کاتھولک پس منظر رکھنے والے لوگ مسیح کو توبہ کے اعمال – ندامت، اعتراف، اور اچھے کاموں کے ساتھ بدلنے کا رُجحان رکھتے ہیں۔ وہ ایک ایک کر کے اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے کے ذریعے سے یا روز بروز مسیح کی پیروی کرنے کے ذریعے سے نجات پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ انسانی اعمال مسیح کی جگہ لے لیتے ہیں۔

’’پھر بھی تم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے انکار کرتے ہو‘‘ (یوحنا5:40)۔

وہ لوگ جن کا پس منظر دُنیا کے دوسرے مذاہب میں سے ہوتا ہے، جیسے کہ بدھ اِزم، ہندو اِزم، یہودیت وغیرہ یقین رکھتے ہیں کہ نجات مسیح پر انحصار نہیں کرتی۔ وہ شاید مسیح کو ’’ایک عظیم نبی‘‘ کی حیثیت سے زبانی کلامی قبول کریں لیکن وہ یقین نہیں کرتے کہ تنہا مسیح ہی اُن کو نجات دے سکتا ہے۔ وہ عمومی طور پر نجات پانے کے لیے ’’ایک اچھی زندگی‘‘ بسر کرنے پر انحصار کرتے ہیں۔

’’پھر بھی تم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے انکار کرتے ہو‘‘ (یوحنا5:40)۔

ایونجیلیکلز اور بپٹسٹس بھی مسیح کے بجائے کسی اور بات میں بھروسہ کرنے کا رُجحان رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice نے کہا،

گرجا گھروں کے لاکھوں اراکین مسیح میں ایمان لائے بغیر غیرتبدیل شُدہ لوگ ہوتے ہیں، غیراِصلاح یافتہ گمراہ گنہگار، خُدا کے قہر کے تلے زندگی بسر کرتے ہوئے لوگ ہوتے ہیں۔ آج جہنم میں لاتعداد لاکھوں… آرتھوڈکس بپٹسٹس…جو [جہنم] میں جا چکے ہیں، کبھی بھی سچے طور پر نجات نہیں پا سکے تھے۔ [اُںہوں] نے راہ کو کھو دیا تھا، جُھوٹی اُمید پر ٹک گئے تھے اور اب عذاب میں ہیں (ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice، مذہبی لیکن گمراہ Religious But Lost، خُدا کی تلوار Sword of the Lord، 1939، صفحہ 8)۔

ڈاکٹر رائس نے پھر کہا،

بائبل میں اِس بات کو بے شمار مرتبہ لایا گیا ہے، یہ بات واضح ہے کہ کسی بھی شخص کے دھوکہ کھانے اور جھوٹی اُمید کا رُجحان رکھنے کا ایک حقیقی خطرہ ہوتا ہے، صرف آخر میں یہ پتا چلتا ہے کہ وہ دائمی طور پر گمراہ ہو چکا ہے (ibid.)۔

بپٹسٹس اور ایونجیلیکلز اکثر مسیح کے بجائے ’’گنہگار کی دعا‘‘ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں نے اُس [یسوع] سے مجھے نجات دینے کے لیے کہا ہے۔ کیا یہ کافی نہیں ہے؟‘‘ جی نہیں، یہ کافی نہیں ہے! آپ کو نجات پانے کے لیے مسیح کے پاس آنا چاہیے! آپ کو خود کی دعاؤں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے! آپ کو خُدا کے بیٹے پر بھروسہ کرنا چاہیے! مسیح نہیں کہتا کہ اُس سے کہیں۔ اُس نے اُس کے پاس آنے کے لیے کہا۔ مسیح نے کہا،

’’اَے محنت کشو اور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگو، میرے پاس آؤ، اور میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی 11:28).

آپ اُس [یسوع] کے پاس آنے کے بجائے اُس کو کہنے کے ذریعے سے دھوکہ کھاتے رہے ہیں!

دوسرے لوگ مسیح کے پاس آنے کے بجائے جو بائبل کہتی ہے اُس میں یقین کرنے کے ذریعے سے دھوکہ کھاتے رہے ہیں۔ وہ بائبل میں ’’نجات کے منصوبے‘‘ کو جانتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ مسیح اُن کے گناہوں کے لیے قربان ہو گیا۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ مُردوں میں سے زندہ ہو چکا ہے۔ وہ بائبل کی اُن حقیقتوں میں یقین رکھتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی یسوع بخود کے پاس نہیں آئے۔ جیسا کہ ڈاکٹر ولوورود Dr. Walvoord نے کہا، ’’اِس ہی طرح سے بے شمار لوگ سوچتے ہیں کہ بائبل کا مطالعہ کر لینا ہی سب کچھ پا لینے کے مترادف ہے۔‘‘

آپ اُن فریسیوں سے مختلف کیسے ہیں؟ یسوع نے اُن سے کہا،

’’تم پاک کلام کا بڑا گہرا مطالعہ کرتے ہو؛ کیونکہ تم سمجھتے ہو اُس [پاک کلام] میں تمہیں ہمیشہ کی زندگی ملے گی: یہی پاک کلام میرے حق میں گواہی دیتا ہے۔ پھر بھی تم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے انکار کرتے ہو‘‘ (یوحنا5:39۔40)۔

یہ، پھر، وہ کچھ باتیں ہیں جو لوگ مسیح کے پاس آنے کے بجائے کرتے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ آپ یہی غلطی کر چکے ہوں؟

II۔ دوسری بات، کیوں مسیح کے پاس آنے کے بجائے دوسری راہیں آپ کو نجات نہیں دے پائیں گی۔

جب آپ خُداوند کے تحت کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، آخری عدالت کے موقع پر، تو یسوع آپ سے کہے گا،

’’اے بدکاروں، میں تم سے کبھی واقف نہ تھا، میرے سامنے سے دور ہو جاؤ‘‘ (متی7:23)۔

وہ کیوں آپ کو اُس سے دور ہو جانے اور جہنم کی آگ میں جانے کے لیے کہے گا؟ کیونکہ وہ ’’آپ سے کبھی واقف ہی نہیں تھا۔‘‘ وہ وجہ کہ وہ آپ سے کبھی واقف ہی نہ تھا یہ ہے کیونکہ آپ کبھی بھی اُس کے پاس گئے ہی نہیں! یہ اتنی ہی سادہ سی بات ہے جتنی یہ ہے!

آپ نے دعا کے الفاظ کہنے یا بائبل میں سے کسی بات پر یقین کرنے کے وسیلے سے نجات پانے کی کوشش کی ہوئی ہے۔ لیکن وہ باتیں کسی کو بھی نجات نہیں دِلاتیں۔ بائبل کہتی ہے،

’’تب اُنہوں نے اُس سے پُوچھا کہ خدا کے کام انجام دینے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ یسوع نے جواب دیا، خدا کا کام یہ ہے کہ جسے اُس نے بھیجا ہے اُس پر ایمان لاؤ‘‘ (یوحنا 6:28۔29).

وہ واحد ’’عمل‘‘ جو قابلِ قبول ہے وہ یسوع پر ایمان رکھنا ہے! ’’یسوع پر ایمان رکھنا‘‘ ’’یسوع کے پاس آنا‘‘ کو کہنے کا ایک دوسرا طریقہ ہے۔ ’’یسوع پر ایمان رکھنا‘‘ اور ’’یسوع کے پاس آنا‘‘ ایک ہی بات کو کہنے کے دو مختلف طریقے ہیں۔ یسوع نے کہا،

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے، اُسے کھینچ نہ لائے اور میں اُسے آخری دِن پھر سے زندہ کر دُوں گا۔ نبیوں کے صحیفوں میں لکھا ہے کہ خدا اُنہیں علم بخشے گا۔ جو کوئی باپ کی سُنتا ہے اور اُس سے سیکھتا ہے وہ میرے پاس آتا ہے۔ باپ کو کسی نے نہیں دیکھا سِوائے اُس کے جو خدا کی طرف سے ہے۔ صرف اُسی نے باپ کو دیکھا ہے۔ میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ جو کوئی ایمان لاتا ہے، ہمیشہ کی زندگی اُس کی ہے‘‘ (یوحنا 6:44۔47).

اِس حوالے میں، ہم دیکھتے ہیں، یسوع کے پاس آنے اور یسوع میں ایمان رکھنا ایک ہی بات کو کہنے کے محض دو مختلف طریقے ہیں۔ اب، میرا سوال آپ سے یہ ہے – کیا آپ مسیح کے پاس آ چکے ہیں؟ کیا آپ اُس یسوع پر بھروسہ کر چکے ہیں؟

کچھ بھی نہیں ما سوائے یسوع کے پاس آنا نجات پانے کا نتیجہ ہوگا – کیونکہ ماسوائے یسوع کے کوئی بھی اور آپ کو نجات نہیں دے سکتا! کوئی بھی نہیں مگر یسوع آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پر قربان ہوا تھا۔ کوئی بھی نہیں لیکن یسوع آپ کو زندگی بخشنے کے لیے مُردوں میں سے جسمانی طور پر زندہ ہو گیا تھا۔

’’نجات کسی اور کے وسیلہ سے نہیں ہے ، کیونکہ آسمان کے نیچے لوگوں کو کوئی دُوسرا نام نہیں دیا گیا ہے جس کے وسیلہ سے ہم نجات پا سکیں‘‘ (اعمال 4:12).

آپ کو یسوع کے پاس آنا چاہیے ورنہ آپ نجات نہیں پائیں گے۔ باقی دوسرے تمام طریقے، اور تمام دوسری راہیں، جہنم کی جانب رہنمائی کرتی ہیں۔ لیکن ابھی تک آپ اُس یسوع کے پاس نہیں آئے، کیا آ چکے ہیں؟ آپ اُس بات میں یقین رکھتے ہیں جو بائبل اُس یسوع کے بارے میں کہتی ہے۔ آپ نے تو یہاں تک اُس یسوع سے آپ کو نجات دلانے کے لیے بھی کہا۔ لیکن آپ ابھی تک اُس کے پاس آئے نہیں ہیں – کیا آپ آ چکے ہیں؟

’’پھر بھی تم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے انکار کرتے ہو‘‘ (یوحنا5:40)۔

III۔ تیسری بات، کیا جانا جائے کہ آیا آپ مسیح کے پاس آ چکے ہیں یا نہیں۔

آپ شاید کہیں، ’’میں نہیں جانتا آیا میں مسیح کے پاس آ چکا ہوں یا نہیں۔ میں کیسے بتا سکتا ہوں؟‘‘ یہ بتانے کی راہ 2 کرنتھیوں13:5 میں پیش کی جا چکی ہے۔ پولوس رسول نے کہا،

’’اپنے آپ کو جانچتے رہو کہ تمہارا ایمان مضبوط ہے یا نہیں؛ اپنا اِمتحان کرتے رہو…‘‘ (2۔ کرنتھیوں 13:5).

اِس آیت سے تعلق رکھتے ہوئے، سپرجئین Spurgeon نے کہا،

خود کی جانچ کرو کیونکہ اگر تم سے غلطی ہو گئی تو تم، ماسوائے سوائے اِس دُنیا میں، اِس کا کبھی بھی اِزالہ نہیں کر پاؤ گے… میں اپنی جان کو جہنم میں جھونکا جانا سہہ نہیں سکتا۔ یہ کس قدر خوفناک نصیب ہے جس کو آپ اور میں بھگتا رہے ہیں، اگر ہم خود کا معائنہ نہیں کرتے! یہ ہمیشہ تک رہنے والا نصیب ہے؛ یہ جنت یا جہنم کا نصیب ہے، خُدا کی دائمی حمایت کا یا اُس کی ہمیشہ تک پڑنے والی لعنت کا۔ کیا خوب رسول نے بات کہی، ’’خود کا معائنہ کرو‘‘ (سی۔ ایچ۔ سپرجئین C. H. Spurgeon، ’’خود کی جانچ پڑتال Examine Yourselves،‘‘ پارک سٹریٹ کی نئی واعظ گاہ The New Park Street Pulpit، پِلگِرم اشاعت خانے Pilgrim Publications، دوبارہ اشاعت1981، جلد چہارم، صفحہ429)۔

2 کرنتھیوں13:5 پر ڈاکٹر جے۔ ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee نے یہ رائے پیش کی،

پولوس کہتا ہے کہ ہمیں خود کی جانچ کرنی چاہیے کہ آیا ہم ایمان میں ہیں کہ نہیں۔ ہمیں اِس معاملے کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے (جے۔ ورنن میگی J. Vernon McGee، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن Thomas Nelson، 1983، جلد پنجم، صفحہ 145)۔

آساحل نیٹیلٹن Asahel Nettleton، دوسری عظیم بیداری کے اہم ایونیجلیسٹ نے کہا،

[خود کی جانچ پڑتال کے] اس کاروبار میں، ہر فرد کو خود پر لگی سزا میں بیٹھنا ہوتا ہے۔ اپنی جان کے ساتھ ایمانداری کے ساتھ نمٹیں۔ کچھ نہ ہونے کے مقابلے میں جھوٹی اُمید بدترین ہوتی ہے۔ ایک یادگاری لمحہٗ فکریہ میں ایک غلطی بھیانک ہوتی ہے۔ اُس بنیاد کی ٹھوک بجا کر جانچ کریں جس پر آپ کی جنت کی اُمیدیں قائم ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کو اپنی غلط کا پتا انتہائی تاخیر سے چلے (آساحل نیٹلیٹن Asahel Nettleton، دوسری عظیم بیداری میں سے واعظ Sermons From the Second Great Awakening، انٹرنیشنل آؤٹ ریِچ International Outreach، دوبارہ اشاعت 1995، صفحات323، 333)

۔

پاس ماضی میں جائیں اور اپنی نجات کے لمحے کو سوچیں۔ کیا آپ مسیح کے پاس آئے؟ یا آپ نے کوئی اور کام کیا؟ جیسا کہ ڈاکٹر نیٹیلٹن نے کہا، ’’اُس بنیاد کی ٹھوک بجا کر جانچ کریں جس پر آپ کی جنت کی اُمیدیں قائم ہیں۔‘‘ کیا آپ واقعی میں مسیح کے پاس آئے تھے؟ کیا مسیح، بذات خود آپ کی اُمیدوں کی بنیاد ہے؟ اگر آپ ماضی میں اُس وقت مسیح کے پاس واقعی میں نہیں آئے تھے، تو آپ کو آج کی رات آ جانا چاہیے، یسوع نے کہا،

’’جو کوئی میرے پاس آئے گا میں اُسے اپنے سے جدا نہ ہونے دُوں گا‘‘ (یوحنا6:37).

یسوع نے کہا،

’’اَے محنت کشو اور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگو، میرے پاس آؤ، اور میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی 11:28).

میری اُمید کسی کم بات پر تعمیر نہیں ہے ماسوائے یسوع کے خون اور راستبازی کے۔
میں میٹھے ترین جھانسے پر بھروسہ کرنے کی جرأت نہیں کروں گا، بلکہ کُلی طور پر یسوع کے نام پر جھکوں گا۔
مسیح پر، جو ٹھوس چٹان ہے، میں کھڑا ہوں؛ باقی کی تمام زمین دلدلی ریت ہے،
باقی کی تمام زمین دلدلی ریت ہے۔
   (’’ٹھوس چٹان The Solid Rock،‘‘ شاعر ایڈورڈ موٹ Edward Mote، 1797۔1874)۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک کی تلاوت ڈاکٹر کرھیٹن ایل۔ چعین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: یوحنا5:39۔47 .
واعظ سے پہلے تنہا گیت مسٹر کینکیڈ بینجیمن گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گیا تھا:
’’ٹھوس چٹان The Solid Rock،‘‘ (شاعر ایڈورڈ موٹ Edward Mote، 1797۔1874)۔

لُبِ لُباب

کیا آپ مسیح کے پاس آ چکے ہیں؟

HAVE YOU COME TO CHRIST?

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

“Ye will not come to me, that ye might have life” (John 5:40).
’’پھر بھی تم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے انکار کرتے ہو‘‘ (یوحنا5:40)۔

(یوحنا 5:39؛ اشعیا 53:3؛ زکریاہ 11:8؛ یوحنا 19:15؛ 6:44)

I.   پہلی بات، مسیح کے پاس آنے کے بجائے لوگ کیا کرتے ہیں، 1۔ تیموتاؤس2:5؛
متی 11:28۔

II.  دوسری بات، کیوں مسیح کے پاس آنے کے بجائے دوسری راہیں آپ کو نجات نہیں دے پائیں گی،متی 7:23؛ یوحنا 6:28۔29، 44۔47؛ اعمال 4:12۔

III. تیسری بات، کیسے جانا جائے کہ آیا آپ مسیح کے پاس آ چکے ہیں یا نہیں،
2۔ کرنتھیوں 13:5؛ یوحنا 6:37۔