Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 38 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


انسان کی برگشتگی

THE FALL OF MAN
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
ہفتہ کے دِن کی شام، 28 اپریل، 2018
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Saturday Evening, April 28, 2018

پیدائش کی کتاب بائبل کی ’’کیاری‘‘ ہے۔ پیدائش کی سب سے زیادہ دلچسپ خصوصیات میں سے ایک یہ حقیقت ہے کہ یہ دورِ حاضرہ کے بے شمار جھوٹوں کا جواب دیتی ہے۔ سی۔ ایس۔ لوئیس C. S. Lewis نے اپنی زندگی کے اِختتام کے قریب کہا کہ دورِ حاضرہ کے زمانے کا ’’مرکزی جھوٹ‘‘ ڈاروِن کے اِرتقاء کا نظریہ ہے۔

ڈاروِن کے ارتقاء کے نظریے کو پیدائش میں دو طریقوں سے غلط ثابت کیا جاتا ہے۔ پہلا، ہمیں بارہا بتایا گیا ہے کہ جانور اور یہاں تک کہ پودے براہ راست خُدا کے ذریعے سے تخلیق کیے گئے تھے۔ دوسرا، پیدائش ہمیں بتاتی ہے کہ تمام جانور اور پودے صرف ’’اپنی نسل میں سے‘‘ ہی پیدا ہو سکتے ہیں۔ جانور اور پودے صرف اپنی ’’نسل‘‘ ہی میں سے جنم لے سکتے ہیں۔ یہ بات ارتقاء کے نظریے کو غلط ثابت کرتی ہے، جو کہتا ہے کہ افزائشِ نسل دو مختلف ’’قسموں‘‘ کے ملاپ سے ہو سکتی ہے۔ اِرتقاء کی سب سے کمزور ترین دلیلوں میں سے ایک یہ ہے کہ ایک ’’نسل‘‘ کا دوسری نسل کے ساتھ جنسی ملاپ کروایا جا سکتا ہے، کہ ایک ’’نسل‘‘ کا دوسری نسل میں اِرتقاء ہو سکتا ہے۔ اس بات کو ثابت نہیں کیا گیا ہے۔ پس، پیدائش ظاہر کرتی ہے کہ اِرتقاء کے نظریے کے بنیادی مفروضوں میں سے ایک مکمل جھوٹ ہے! ایک کتے کو گھوڑے میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ایک عقاب کبھی بھی ایک چوزے میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔ ایک ’’نسل‘‘ میں سے دوسری نسل کی کوئی بھی جنس پیدا نہیں کی جا سکتی۔ پیدائش ظاہر کرتی ہے کہ ارتقاء کے بنیادی مفروضوں میں سے ایک مفروضہ گندا جھوٹ ہے!

دوسرا، وہ جھوٹ کہ نسل انسانی اپنے ماحول کی پیداوار ہیں اِس کو پیدائش کے ذریعے سے غلط ثابت کیا گیا ہے۔ ہمارے پہلے والدین ایک کامل ماحول میں زندگی بسر کرتے تھے۔ اِس کے باوجود وہ گنہگار بنے۔ اور اُن کا پہلا بیٹا ایک قاتل تھا!

تیسرا، وہ تصور کہ بُرائی کے مسئلے کو سمجھنا ناممکن ہے اِس کو پیدائش کے ذریعے سے غلط ثابت کیا گیا۔ عدن کا باغ بہت زیادہ شیطانی اور آسیبی سرگرمی کا گڑھ تھا۔ شیطان نے سانپ میں گُھس کر گناہ کے لیے حوّا کو آزمائش میں مبتلا کیا تھا۔ چھٹے باب کے ’’دیوقامت اور مضبوط لوگ nephilim‘‘ عام عورتوں کے ساتھ آسیب زدہ آدمیوں کی مباشرت کی پیداوار تھے۔ پس بدی کا مسئلہ دورِ حاضرہ کے اُن لوگوں کے ذریعے سے گھڑا جانے والا ایک جھوٹ ہے جو شیطان اور آسیبوں کی حقیقت کے واقعات کو ماننے میں ناکام رہے۔

چوتھا، دورِ حاضرہ کے علمِ ارضیات کے نظریۂ تسلسل uniformitarianism [عمل پزیر قدرتی عمل جس سے زمین کی تاریخ میں بعض ارضیاتی تبدیلیاں ظہور میں آئیں] کو پیدائش کے ذریعے سے ایک جھوٹ ظاہر کیا گیا ہے۔ زمین ایک عالمگیری سیالب کے لیے بے شمار ثبوت فراہم کرتی ہے۔ نظریہ تسلسل پر یقین رکھنے والے لوگ کہتے ہیں، ’’سب کچھ ویسا ہی چلا آ رہا ہے جیسا کہ دُنیا کے پیدا ہونے کے وقت تھا‘‘ (2پطرس3:4)۔ وہ نوح کے زمانے کے عظیم سیلاب کے بارے میں ’’جان بوجھ کر لاعلم‘‘ رہتے ہیں۔ دورِ حاضرہ کے عمل اِرضیات کے پاس کوئی بھی مستند وضاحت نہیں ہے کہ کیسے گرینڈ کینیئین Grand Canyon جیسی خصوصیات وجود میں آئیں، یا کیسے سمندری مخلوقات کے آثارِ متحجر بُلند ترین پہاڑوں پر نمودار ہوئے۔ یوں پیدائش دورِحاضرہ کے علمِ ارضیات کے پیچھے چھپے جھوٹ کو غلط ثابت کرتی ہے۔

پانچواں، انسان کے اخلاقی زوال کو یقینی طور پر سمجھایا نہیں جا سکتا اور واقعی میں تمام نظریات جھوٹ ثابت ہوئے ہیں، کیونکہ پیدائش گرافیکلی یعنی شکل کے لحاظ سے ظاہر کرتی ہے کیسے انسان اپنی اصلی راستبازی سے گمراہ ہو کر اُس وحشت ناک درندگی پر اُتر آیا جسے ہم دورِ حاضرہ کی دُںیا میں اپنے اِردگرد دیکھتے ہیں، ’’اگرچہ وہ خُدا کے بارے میں جانتے تھے لیکن اُنہوں نے اُس کی تمجید نہ کی جس کے وہ لائق تھا۔ بلکہ اُن کے خیالات فضول ثابت ہوئے، اور اُن کے ناسمجھ دِلوں پر اندھیرا چھا گیا‘‘ (رومیوں1:21)۔ اِس طرح، پیدائش کی کتاب کے ذریعےسے دورِ حاضرہ کی نفسیات کے کئی نظریات کو غلط ثابت کیا جا چکا ہے۔

آج کی شب ہم اِس جھوٹ پر زیادہ تفصیل کے ساتھ توجہ مرکوز کریں گے۔ مہربانی سے پیدائش3:1۔10 کھولیں۔

’’خداوند خدا نے جتنے دشتی جانور بنائے تھے، سانپ اُن سب سے چالاک تھا۔ اُس نے عورت سے کہا، کیا واقعی خدا نے کہا ہے کہ تم باغ کے کسی درخت کا پھل نہ کھانا؟ عورت نے سانپ سے کہا، ہم باغ کے درختوں کا پھل کھا سکتے ہیں، لیکن خدا نے یہ ضرور کہا ہے کہ جو درخت باغ کے بیچ میں ہے اُس کا پھل مت کھانا بلکہ اُسے چھونا تک نہیں ورنہ تم مر جاؤ گے۔ تب سانپ نے عورت سے کہا، تم ہرگز نہیں مرو گے بلکہ خدا جانتا ہے کہ جس دِن تم اُسے کھاؤ گے، تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم خدا کی مانند نیکی اور بدی کے جاننے والے بن جاؤ گے۔ جب عورت نے دیکھا کہ اُس درخت کا پھل کھانے کے لیے اچھا اور دیکھنے میں خوشنما اور حکمت پانے کے لیے خوب معلوم ہوتا ہے تو اُس نے اُس میں سے لے کر کھایا اور اپنے خاوند کو بھی دیا جو اُس کے ساتھ تھا اور اُس نے بھی کھایا۔ تب اُن دونوں کی آنکھیں کھل گئیں اور اُنہیں معلوم ہُوا کہ وہ ننگے ہیں۔ اور اُنہوں نے انجیر کے پتوں کو سی کر اپنے لیے پیش بند بنا لیے۔ تب آدم اور اُس کی بیوی نے خداوند خدا کی آواز سنی جب کہ وہ دِن ڈھلے باغ میں گھوم رہا تھا اور وہ خداوند خدا کے حضور سے باغ کے درختوں میں چھپ گئے۔ لیکن خداوند خدا نے آدم کو پکارا اور پوچھا، تُو کہاں ہے؟ اُس نے جواب دیا، میں نے باغ میں تیری آواز سنی اور میں ڈر گیا کیونکہ میں ننگا تھا، اِس لیے میں چھپ گیا‘‘ (پیدائش 3:1۔10).

آرتھر ڈبلیو پنک Arthur W. Pink ایک برطانوی عالم الہٰیات اور بائبل کے تبصرہ نگار تھے۔ پِنک نے بجا طور پر کہا کہ خُدا کے تمام پاک کلام کے سب سے زیادہ اہم حوالوں میں سے ایک پیدائش کا تیسرا باب ہے۔ پِنک نے کہا،

یہ ’’بائبل کے بیج بونے کے منصوبوں کا حصّہ‘‘ ہے۔ یہاں پر وہ بنیادیں ہیں جن پر ہمارے ایمان کے بے شمار کُلیدی عقیدے قائم ہیں۔ یہاں پر ہم اُن الوہی سچائی کے دریاؤں میں سے بے شمار دریاؤں کے منبع کی جانب واپس سُراغ لگاتے ہیں۔ یہاں انسانی تاریخ کے سٹیج پر کیا جانے والا وہ عظیم ڈرامہ رچایا گیا تھا… یہاں پر ہمیں موجودہ دور کی [اِس انسانی] نسل کی برگشتہ اور تباہ حال صورتحال الہٰی وضاحت ملتی ہے۔ یہاں پر ہم اپنے دشمن ابلیس کی سمجھ سے بالا تر آلات کے بارے میں جانتے ہیں… یہاں پر ہم انسانی فطرت کی خود اپنی اخلاقی شرمندگی کو انسان کے خود اپنی دستگیری کے آلات کے ذریعے سے چھپانے کے عالمگیر رُجحان کو الگ کر پاتے ہیں (آرتھر ڈبلیو۔ پِنک Arthur W. Pink، پیدائش میں انتخابات Gleanings in Genesis، موڈی پریس Moody Press، 1981 ایڈیشن، صفحہ 33)۔

تیسرا باب ہمیں بتاتا ہے کہ کیسے شیطان عدن کے باغ میں ایک گھریلو سانپ میں بس کر داخل ہوا اور اُس کے مُنہ سے باتیں کیں۔ وہاں پر ہم دیکھتے ہیں کہ شیطان نے عورت سے باتیں کی، اُس بات کے لیے شک پیدا کیا جو خُدا نے آدم کو کہی تھی، اُس کلام کو گھوما پھرا کر اور توڑ مروڑ کر بیان کیا جو خُدا نے پیش کیا تھا، اُس کو بتایا ’’تو یقینی طور پر نہیں مرے گی‘‘ اگر تو اُس منع کیے ہوئے درخت کے پھل کو کھائے گی، ’’نیکی و بدی کی پہچان کا درخت۔‘‘

اِس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ اِس وقت تک شیطان پہلے ہی سے دھوکہ بازی کا ماہر بن چکا تھا۔ بائبل مکاشفہ کی کتاب میں بتاتی ہے،

’’اور اُس کی دُم نے آسمان کے ایک تہائی ستارے نوچ کر اُنہیں زمین پر دے پٹکا…‘‘ (مکاشفہ 12:4).

اُس آیت کا معنی واضح طور پر چند ایک آیت کے بعد مکاشفہ12:9 میں سامنے آ جاتا ہے،

’’تب وہ بڑا اژدہا نیچے پھینک دیا گیا یعنی وہی پُرانا سانپ جس کا نام اِبلیس اور شیطان ہے اور جو ساری دُنیا کو گمراہ کرتا ہے، وہ خُود بھی اور اُس کے ساتھ اُس کے فرشتے بھی زمین پر پھینک دیئے گئے‘‘ (مکاشفہ 12:9).

ڈاکٹر ھنری ایم۔ مورس Dr. Henry M. Morris نے کہا،

اُس اژدھے کو یہاں پر عدن کے سانپ کی حیثیت شناخت کیا گیا ہے (پیدائش3:1)… اور اُس ابلیس کی حیثیت سے جس نے یسوع کو آزمایا [بیابان میں] (ھنری ایم۔ مورس، پی ایچ۔ ڈی۔ Henry M. Morris, Ph.D.، دفاع کرنے والوں کا مطالعۂ بائبل The Defender’s Study Bible، ورلڈ پبلیشنگ، 1995، صفحہ 1448؛ مکاشفہ 12:9 پر غور طلب بات)۔

شیطان کو خُدا کے خلاف بغاوت کرنے اور خُدا کے تخت کو پانے کی کوشش کرنے کی وجہ سے آسمان میں سے نکال باہر پھینکا گیا تھا (اشعیا14:12۔15؛ حزقی ایل 28:13۔18)۔ شیطان کو آسمان میں سے نکال کر زمین پر پھینکا گیا تھا، جہاں پر وہ بن گیا

’’ہوا کی علمداری کا حاکم، جس کی روح اب تک نافرمان لوگوں میں تاثیر کرتی ہے‘‘ (افسیوں2:2)۔

لیکن اُن فرشتوں کے بارے میں کیا خیال ہے جنہوں نے خُداوند کے خلاف بغاوت میں شیطان کی پیروی کی تھی؟ مکاشفہ12:9 کہتی ہے،

’’اُس کو زمین پر پھینک دیا گیا، اور اُس کے ساتھ اُس کے فرشتے بھی زمین پر پھینک دیے گئے‘‘ (مکاشفہ12:9)۔

کتنے فرشتوں نے شیطان کے ساتھ مل کر بغاوت کی تھی؟ اُن میں سے کتنوں کو زمین پر ’’اُس کے ساتھ پھینکا‘‘ گیا تھا؟ مکاشفہ 12:4 بتاتی ہے،

’’اُس کی دُم نے آسمان کے ایک تہائی ستارے نوچ کر اُنہیں زمین پر دے پٹکا‘‘ (مکاشفہ12:4)۔

ڈاکٹر مورس نے کہا،

اُن ’آسمان کے ستاروں‘ کو مکاشفہ 12:9 میں شیطان کے فرشتوں کی حیثیت سے شناخت کیا گیا ہے (مورس، ibid.، صفحہ 1447)۔

یوں، ہم یقین رکھتے ہیں کہ آسمان میں ایک تہائی فرشتوں نے شیطان اُن کے رہنما کے ساتھ مل کر بغاوت کی اور زمین پر پھینکے گئے، وہ آسیب بن گئے جن کا یسوع نے اپنی زمینی مذہبی خدمت میں اکثر سامنا کیا۔

شیطان نے اِن فرشتوں کے ساتھ جھوٹ بولا تھا۔ یقینی طور پر اُس نے اُسی قسم کے جھوٹ کا اِستعمال کیا تھا جو اُس نے عدن کے باغ میں آدم اور حوّا کے سامنے پیش کیا تھا، جب اُس نے کہا، ’’تم خُدا کی مانند بن جاؤ گے‘‘ (پیدائش3:5)۔ وہ بِلاشُبہ وہی جھوٹ تھا جس نے اُن فرشتوں کو تباہ کر ڈالا، ’’میرے ساتھ آؤ اور تم بھی خُدا کی مانند بن جاؤ گے۔‘‘ اُنہوں نے ابلیس کے جھوٹ پر یقین کیا، لیکن وہ ’’خُدا کی مانند‘‘ نہ بن پائے۔ اوہ، نہیں! وہ عجیب بھدی بگڑی ہوئی شکل والے سفاک ناپاک آسیب، غصے، شہوت اور انتقام میں زمین پر مٹرگشتی کرنے والے بن گئے!

اور بالکل جیسے شیطان نے فرشتوں کے ساتھ جھوٹ بولا تھا، اُنہیں خُدا کے خلاف گناہ کے لیے آزمانے کے ذریعے سے، ویسا ہی اُس نے دوبارہ کیا جب اُس نے انسان کے ساتھ جھوٹ بولا۔ وہی خیال جس کے ساتھ اُس نے اُن فرشتوں کو بہکایا تھا، جس نے اُنہیں تباہ کر ڈالا، اُس جھوٹے تصور کے جیسا تھا جسے اُس نے عدن کے باغ میں آدم اور حوّا کو آزمانے کے لیے استعمال کیا تھا۔ پیدائش3:4۔5 کو سُنیں،

’’اور سانپ نے عورت سے کہا، تم ہرگز نہیں مرو گی: کیوں کہ خُدا جانتا ہے کہ جس دِن تم اِسے کھاؤ گی، تمہاری آنکھیں کُھل جائیں گی، اور تم خدا کی مانند نیکی اور بدی کی جاننے والی بن جاؤ گی‘‘ (پیدائش3:4۔5)۔

شیطان نے ضرور ایسی ہی دلیل استعمال کی ہو گی، ایک ایسا ہی جھوٹ، جو آسمان کے ایک تہائی فرشتوں کو اُس بہت بڑی فرشتانہ برگشتگی میں اُن کے آسمان میں باوقار رُتبے سے نیچے لے آیا

اور اب وہی جھوٹ اور خدا کے کلام کا وہی توڑنا مروڑنا وہ ہمارے پہلے والدین کے پاس لاتا ہے۔ اور فرشتوں ہی کی مانند، باغ میں ہمارے والدین بھی اُس کے جھوٹ پر یقین کر لیتے ہیں اور اُتنے ہی بدنصیب ہو جاتے ہیں جتنے کہ وہ فرشتے ہو چکے تھے جنہوں نے ’’جھوٹوں کے باپ‘‘ کا یقین کیا تھا، کیوں کہ یہی ہے جو خُداوند یسوع مسیح نے شیطان کو پکارا تھا جب اُس نے فریسیوں سے کہا،

’’تم اپنے باپ یعنی ابلیس کے ہو، اور اپنے باپ کی مرضی پر چلنا چاہتے ہو۔ وہ شروع سے ہی خون کرتا آیا ہے اور کبھی سچائی پر قائم نہیں رہا، کیوں کہ اُس میں نام کو بھی سچائی نہیں۔ جب وہ جھوٹ بولتا ہےتو اپنی ہی سی کہتا ہے: کیوں کہ وہ جھوٹا ہے اور جھوٹ کا باپ ہے‘‘ (یوحنا8:44)۔

اُس آیت میں یسوع ہمیں شیطان کے بارے میں دو اہم باتیں بتاتا ہے : (1) ’’وہ شروع سے ہی خون کرتا آیا ہے‘‘ اور (2) وہ جھوٹا ہے اور جھوٹوں کا باپ ہے۔‘‘

شیطان نے فرشتوں کے ساتھ جھوٹ بولا جب اُس نے اُنہیں اُس کی پیروی کرنے کے لیے آزمایا۔ شیطان نے آدم اور حوّا کے ساتھ جھوٹ بولا جب اُس نے اُنہیں باغ میں اُس ایک درخت کا پھل کھانے کے لیے آزمایا جس کے لیے منع کیا گیا تھا۔

شیطان ’’شروع ہی سے خون کرتا آیا‘‘ تھا۔ اپنے جھوٹ کے ذریعے سے اُس نے اُن فرشتوں ’’کا خون کیا‘‘ جنہوں نے اُس کی پیروی کی، ’’اُس کے فرشتے،‘‘ کیونکہ اُنہیں آسمان سے زمین پر پھینک دیا گیا تھا، جہاں پر وہ جہنم کی آگ میں ایک یقینی بدنصیبی کا انتظار کر رہے ہیں، ’’جو ابلیس اور اُس کے فرشتوں کے لیے تیار‘‘ کی گئی ہے (متی25:41)۔ وہ شروع ہی سے خون کرتا آیا ہے،‘‘ اُس نے ناصرف آسمان کے ایک تہائی فرشتوں کا ’’خون کیا‘‘ بلکہ اُس نے ساری نسل انسانی کا بھی خون اپنے دھوکے اور جھوٹ کے ذریعے سے کیا۔ یسوع نے کہا،

’’وہ شروع ہی سے خون کرتا آیا ہے، اور کبھی سچائی پر قائم نہیں رہا، کیوں کہ اُس میں نام کو بھی سچائی نہیں…‘‘ (یوحنا8:44)۔

شیطان نے ایک تہائی فرشتوں کو اُن کی برگشتگی میں تباہ کر دیا۔ اور شیطان نے تمام نسل انسانی کا ’’خون‘‘ جیتے جاگتے خُدا کا انکار کرنے کے ذریعے سے اِس بہت بڑے گناہ میں جو اُن سے سرزد ہوا پھسانے کے ذریعے سے کیا، اور انسانی برگشتگی کی بدنصیبی کے لیے ابلیس کی پیروی کی، جو پیدائش3:1۔10 کی ہماری افتتاحی تلاوت میں درج ہے۔

جب آدم نے گناہ کیا تو وہ کوئی عام انسان نہیں تھا۔ وہ تمام نوعِ انسانی کا قدرتی سربراہ تھا، اور وفاقی سربراہ بھی تھا۔ جیسے شیطان کی بغاوت نے آسمان کے ایک تہائی فرشتوں کو براہ راست متاثر کیا تھا، ویسے ہی آدم کی بغاوت اور اخلاقی زوال کی گراوٹ میں گناہ کے دوسروں پر بہت بڑے اثرات مرتب ہوئے تھے۔ تمام نسل انسانی آدم میں اُن کے وفاقی سربراہ ہونے کی حیثیت سے برگشتہ ہو گئی۔ بچوں کے لیے ایک پرانی پیوریٹن کتاب نے بجا طور پر کہا، ’’آدم کی برگشتگی میں، ہم تمام نے گناہ کیا۔‘‘ شیطان کے جھوٹ پر یقین کرنے کے ذریعے سے، اور منع کیے ہوئے پھل کو کھانے کے ذریعے سے، آدم نے اپنی تمام آل اولاد پر موت کو لاد دیا – ساری نسل انسانی کے لیے۔ جیسا کہ پولوس رسول اس کو تحریر کرتا ہے،

’’جیسے ایک آدمی [آدم] کے ذریعے گناہ دُنیا میں داخل ہوا اور گناہ کے سبب سے موت آئی؛ ویسے ہی موت سب انسانوں میں پھیل گئی کیونکہ سب نے گناہ کیا‘‘ (رومیوں5:12)۔

آدم کے گناہ کا نسل اِنسانی پر اثر نہایت وسیع ہے۔ برگشتگی سے پہلے، خُدا اور انسان رفاقت میں تھے۔ برگشتگی کے بعد وہ رفاقت ختم ہو گئی۔ وہ خُدا سے علیحدہ ہو گئے۔ برگشتگی کے بعد اُنہوں نے خُداوند سے چُھپنے کی کوششیں کی۔

برگشتگی سے پہلے انسان معصوم اور پاک تھا۔ آدم اور حوّا کی فطرت میں کوئی گناہ نہیں تھا۔ برگشتگی کے بعد وہ گناہ سے بھرپور اور شرمندہ تھے۔ پولوس رسول نے کہا،

’’ایک آدمی کے ذریعے سے گناہ دُنیا میں داخل ہوا‘‘ (رومیوں5:12)۔

اُس آیت نے یہ نہیں کہا کہ ’’گناہ [جمع کے صیغےمیں]‘‘ دُنیا میں داخل ہوئے۔ یہ کہتی ہے ’’گناہ،‘‘ جو واحد ہے۔ آدم ایک بُری مثال قائم کرنے کے ذریعے سے اِس دُنیا میں گناہ لے کر نہیں آیا تھا۔ اُس کا گناہ کا عمل اُس کی انتہائی فطرت میں ایک تبدیلی لے کر آیا تھا۔ اُس کا انتہائی دِل مسخ شُدہ ہو گیا تھا۔

برگشتگی سے پہلے انسان نے زندگی کے درخت میں سے کھایا ہوتا اور ہمیشہ کی زندگی جیتا (پیدائش2:9؛ 3:22)۔ برگشتگی کے بعد بدن کی موت آدم کے گناہ کے لیے کفارے کا حصّہ بن گئی۔ رومیوں5:12 آیت کہتی ہے،

’’ایک آدمی کے ذریعے سے گناہ دُنیا میں داخل ہوا، اور گناہ کے سبب سے موت آئی…‘‘ (رومیوں5:12)

یہ دونوں روحانی اور جسمانی موت کی جانب نشاندہی کرتی ہے۔ آدم کے گناہ کر چکنے کے بعد، خُداوند نے کہا،

’’تو خاک ہے، اور خاک ہی میں پھر لوٹ جائے گا‘‘ (پیدائش3:19)۔

یوں، جسمانی کے ساتھ ساتھ روحانی موت بھی آدم کے گناہ کا نتیجہ ہے۔

آدم کی برگشتگی کے نتیجے میں، گناہ نوعِ انسانی میں عالمگیر ہو گیا۔ تمام لوگ اب ایک گناہ سے بھرپور فطرت کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، جو آدم سے وراثت میں ملی ہے، جو نسلِ انسانی کا وفاقی سربراہ ہے۔ بائبل کہتی ہے،

’’جیسے ایک آدمی کے ذریعے گناہ دُنیا میں داخل ہوا اور گناہ کے سبب سے موت آئی؛ ویسے ہی موت سب انسانوں میں پھیل گئی کیونکہ سب نے گناہ کیا‘‘ (رومیوں5:12)۔

برگشتہ انسان کی وہ گنہگار فطرت ساری بائبل میں پیش کی گئی۔

’’ایسا کوئی بھی شخص نہیں جو گناہ نہ کرتا ہو‘‘ (1۔ سلاطین 8:46).

’’زمین پر ایسا راستباز کوئی نہیں ہے، جو صرف نیکی ہی نیکی کرے اور کبھی گناہ نہ کرے‘‘ (واعظ 7:20).

’’کوئی راستباز نہیں، ایک بھی نہیں، کوئی سمجھدار نہیں، کوئی خدا کا طالب نہیں۔ سب کے سب گمراہ ہو گئے، وہ کسی کام کے نہیں رہے، کوئی نہیں جو بھلائی کرتا ہو، ایک بھی نہیں‘‘ (رومیوں 3:10۔12).

’’تاکہ ہر مُنہ بند ہو جائے اور ساری دنیا خدا کے سامنے سزا کی مستحق ٹھہرے‘‘ (رومیوں 3:19).

’’اگر ہم دعوٰی کرتے ہیں کہ ہم بے گناہ ہیں تو ہم اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں اور ہم میں سچائی نہیں‘‘ (1۔ یوحنا 1:8).

آدم کا گناہ اُس کی تمام آل اولاد سے منسوب ہو گیا، یعنی کہ، ساری نوعِ انسانی کے ساتھ۔ نسلِ انسانی کی عضوی یگانگت کی وجہ سے، خُدا آدم کے گناہ کو فوراً اُس کی آل اولاد سے منسوب کرتا ہے۔ اِس طرح، جو فطرت تمام لوگوں میں اب موجود ہے وہی مسخ شُدہ فطرت ہے جس کی وجہ سے آدم برگشتگی کے بعد دیوانہ ہو گیا تھا۔ رومیوں5:12 آیت کے مطابق موت (دونوں روحانی اور جسمانی) تمام لوگوں میں منتقل ہو گئی، کیوں کہ اُن تمام نے آدم میں گناہ کیا، جو اُن کا وفاقی سربراہ تھا۔

یہ ہے جس سے ہم نسلِ انسانی کے ’’مکمل اخلاقی زوال‘‘ کا مطلب لیتے ہیں۔ اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ انسان کے پاس اپنی قدرتی مسخ شُدہ حالت میں خُدا کے لیے کوئی سچی محبت نہیں ہوتی۔ اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ خود کو خُدا پر ترجیح دیتا ہے، کہ وہ خود سے اپنے خالق کے مقابلے میں زیادہ پیار کرتا ہے۔ مکمل اخلاقی زوال کا یہ مطلب بھی ہوتا ہے کہ ہر شخص کے پاس اپنی قدرتی حالت میں خُدا کے لیے ناپسندیدگی ہوتی ہے، اُس کی جانب نفرت یا ناپسندیدگی کا احساس ہوتا ہے، اور اُس کے خلاف ہوتا ہے۔

’’کیونکہ جسمانی نیت خدا کی مخالفت کرتی ہے‘‘ (رومیوں 8:7).

وہ ’’جسمانی نیت‘‘ ’’ایک شخص کے نہ سُدھرنے‘‘ دوبارہ نہ جنم لینے کی جانب نشاندہی کرتی ہے (دی جینیوا بائبل The Geneva Bible، 1599، رومیوں8:7 پر غور طلب بات)۔

یوں، آدم کی برگشتگی کا، پیدائش تین باب میں، آپ پر براہ راست اثر ہوتا ہے۔ چاہے آپ نے گرجا گھر میں پرورش پائی ہو یا نہ پائی ہو، آپ کو ایک فطرت ملی ہوتی ہے جس میں خُدا اور مسیح کے لیے ناپسندیدگی ہوتی ہے، جو آپ کے خاندان کے بانی آدم سے آپ میں منتقل ہوئی ہوتی ہے۔ کچھ بھی جو آپ سوچتے ہوں، سیکھتے ہوں یا کر سکتے ہوں آپ کے وراثتی اندرونی بدکاری کو پلٹ نہیں سکتا۔ اِس لیے، نجات کو ایک ’’بیگانے‘‘ منبع سے آنا چاہیے، ایک منبع جو مکمل طور پر آپ کی ذات سے باہر ہو۔ اور وہ منبع خُدا خود ہے۔ خُدا کو آپ کو آپ کی اندرونی بدکاری سے بیدار کرنا چاہیے۔ خُدا کو آپ کے نجات کے بارے میں جھوٹے تصورات کو مُرجھا ڈالنا چاہیے، اور آپ کو اپنی ہی اندرونی بدکاری کے لیے قائل کرنا چاہیے۔ خدا کو آپ کو مسیح کی جانب کھینچنا چاہیے، دونوں پاکیزگی کے لیے اور آپ کی اپنی ذات میں اُس نئے جنم کی تخلیق کے لیے۔ آدم کے گناہ کی وجہ سے، کوئی بھی نہیں ما سوائے مسیح کے، جو ’’آخری آدم‘‘ ہے آپ کو نجات دِلا سکتا۔ وہ تنہا فضل کے وسیلے سے نجات ہے، تنہا مسیح کے ذریعے سے۔ یہ ہے جس پر ہم یقین رکھتے ہیں اور منادی کرتے ہیں۔

آدم کی برگشتگی سے پہلے، اُس کی خُدا کے ساتھ کامل رشتہ داری تھی۔ وہ خُداوند کے ساتھ ایک دوست کی حیثیت سے چلتا تھا۔ لیکن اُس کے گناہ کر چکنے کے بعد، آدم اور اُس کی بیوی باغ کے درختوں میں خُدا سے چُھپ گئے تھے۔

آپ آدم کے ہی بچے ہیں۔ اِس ہی لیے خُدا کے بارے میں آپ کی سوچ سرے سے ہی غلط ہے! اُس پر بھروسہ کرنے کے بجائے، آپ اُس کے خلاف بغاوت کرتے ہیں، اور اُس سے چُھپتے ہیں، بالکل جیسے آپ کے خاندان کے بانی آدم نے کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ایک کے بعد دوسری غلطی کرتے ہیں جو آپ مسیح پر بھروسہ کرنے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ آپ کا ذہن چکراتا رہتا ہے – اُنہی غلطیوں کو بار بار، بار بار، اور بار بار، متواتر کرتا رہتا ہے۔

کالج کے ایک طالب علم کی گواہی

میری مسیح میں ایمان لانے کی ایک کے بعد دوسری جھوٹی تبدیلی ہوئی تھی۔ میں نے سوچا تھا کہ مسیح میں ایمان لانے کی تبدیلی میں مجھے ایک احساس کو پانے کی ضرورت تھی۔ مسیح میں ایمان لانے کی جھوٹی تبدیلی پانا میرے لیے ایک ہولناک دور تھا۔

جب میں مشاورت کے لیے آتا، تو میں کہنے کے لیے کچھ نہ کچھ سوچنے کی کوششیں کرتا۔ میں یاد کرنے کی کوششیں کرتا کہ واعظ میں کیا کہا گیا تھا، تاکہ میں اُس میں سے کچھ نہ کچھ دہرا پاؤں۔ لیکن میرے لفظوں میں کبھی بھی کوئی معنی نہیں ہوتے تھے۔ میں کسی دوسرے کی مسیح میں ایمان لانے کی تبدیلی کی گواہی کی نقل کرنے کی کوشش کرتا۔ کیسی دیوانگی!

میں نے تنہا دعا مانگنی شروع کی اور میرے خود کے گناہ کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ تب خوشخبری کی منادی میرے لیے بالکل واضح ہو گئی۔ میں یسوع کے پاس خود میں بِنا کسی اُمید کے ایک تباہ حال گنہگار کی حیثیت سے آیا – لیکن میری اُمید یسوع مسیح میں تھی۔ یسوع کے پاس آنا اور اُس کے خون کے وسیلے سے میرے گناہوں کا دُھل جانا میرے لیے سب سے زیادہ اہم بات تھی۔ میں نے اُس کے خون میں بھروسہ کیا۔

کالج کی عمر کی خاتون کی گواہی

شیطان مجھے بتاتا رہا، ’’یہ لوگ غلط ہیں۔ تم جیسی ہو ویسی ہی کامل ہو۔ تمہیں یسوع کی ضرورت نہیں۔‘‘ پھر میں گرجا گھر میں آئی اور جان گئی کہ میں غلط تھی۔ میں رو رہی تھی اور چُپ نہیں ہو پا رہی تھی۔ ڈاکٹر کیگن نے مجھ سے پوچھا، ’’کیا تم مسیح کے پاس آؤ گی؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’جی ہاں، میں اُس کے پاس آؤں گی۔ میں اُس کے پاس آؤں گی۔‘‘ اُس دِن میں نے خود کو یسوع کے حوالے کر دیا۔ میں نے خود کو مکمل طور سے یسوع کے حوالے کر دیا۔ یسوع مسیح نے مجھے گلے سے لگا لیا اور میرے گناہ اُس کے خون میں دُھل گئے۔

ایک نوجوان شخص کی گواہی

میں مذید اور اِس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر پا رہا تھا کہ میرا دِن بھدا، باغی، بُرائی سے بھرا ہوا اور خُدا کے خلاف تھا۔ میرا دِل خود کو یہ سوچنے کے لیے مذید اور دھوکہ نہیں دے سکتا تھا کہ میں ایک اچھا شخص ہوں۔ میں ٹھیک نہیں تھا اور مجھ میں کوئی اچھائی نہیں تھی۔ میں جانتا تھا کہ اگر میں اُسی لمحے مر جاتا ہوں تو میں سیدھا جہنم میں جاؤں گا۔ میں جہنم میں جانے کے لیے مستحق تھا۔ میں ایک گنہگار تھا۔ میں نے سوچا تھا میں لوگوں سے اپنے گناہوں کو چھپا لوں گا۔ لیکن میں اُنہیں خُدا سے نہیں چُھپا سکتا تھا۔ خُدا نے میرے تمام گناہ دیکھے تھے۔ میں نے آدم کی مانند منع کیے ہوئے پھل کو اُس کے کھا چکنے کے بعد خُدا سے چُھپنے کی کوششیں کرتے ہوئے محسوس کیا۔ میں نے مکمل طور پر بے بس محسوس کیا۔ میرے تمام اچھے اعمال مجھ جیسے تباہ حال گنہگار کو نہیں بچا پائے۔ تنہا مسیح نے مجھے نجات دلائی۔ اُس کے خون نے مجھے ڈھانپا اور میرے تمام گناہوں کو دُھو ڈالا۔ مسیح نے مجھےاپنے خون کا لبادہ پہنایا۔ اُس نے مجھے اپنی راستبازی میں لپیٹا۔ اُس کے خون نے میرے گناہ سے بھرپور دِل کو دُھو ڈالا۔ میرا ایمان اور یقین تنہا مسیح ہی میں ہے۔ میں ایک گنہگار تھا – لیکن یسوع نے مجھے نجات دلائی۔

کالج کی عمر کی ایک نوجوان لڑکی کی گواہی

میں گرجا گھر میں داخل ہوئی اور میرا دِل بوجھل تھا۔ میں نے محسوس کیا میں ایک گنہگار تھی۔ میں مذید اور اِس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر پا رہی تھی کہ میرا دِن بھدا، باغی، بُرائی سے بھرا ہوا اور خُدا کے خلاف تھا۔ پھر، جب واعظ اختتام کے قریب تھا، میں نے پہلی مرتبہ خوشخبری کو سُنا۔ میرے لیے اِس کا پہلے کبھی بھی کوئی مطلب نہیں ہوتا تھا۔ مسیح صلیب پر میری جگہ قربان ہو گیا، میرے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے۔ وہ میرے لیے صلیب پر مرا تھا! اُس کا خون میرے لیے بہا تھا! مجھے شدت کے ساتھ یسوع کی ضرورت تھی۔ میری نظریں مجھ سے مل نہیں پا رہی تھیں۔ میں نے پہلی مرتبہ مسیح کی جانب نظر اُٹھائی، اور اُسی لمحے میں مسیح نے مجھے نجات دلائی! اب میں سمجھ گئی جان نیوٹن کا ’’حیرت انگیز فضل! کس قدر میٹھی وہ آواز، جس نے مجھ جیسے تباہ حال کو بچایا! میں جو کبھی کھو گیا تھا، لیکن اب مل گیا ہوں، اندھا تھا لیکن اب دیکھتا ہوں!‘‘ میں ایک گنہگار تھا اور یسوع مسیح نے مجھے میرے گناہ سے نجات دلائی۔

میں نے یسوع کو دیکھا یا محسوس نہیں کیا تھا۔ میرے پاس کوئی الہٰی مذہبی تجربہ نہیں تھا۔ میں نے بس سادگی سے اُس پر بھروسہ کیا تھا۔ جس لمحے میں نے یسوع پر بھروسہ کیا، اُس نے اپنے خون کے ساتھ میرے گناہوں کو دھو ڈالا۔

میں اپنے نجات دہندہ کو پکارتے ہوئے سُن سکتا ہو، میں اپنے نجات دہندہ کو پکارتے ہوئے سُن سکتا ہو،
میں اپنے نجات دہندہ کو پکارتے ہوئے سُن سکتا ہو، میں اُس کے ساتھ جاؤں گا، سارا راستہ اُسی کے ساتھ!
   (جہاں وہ میری رہنمائی کرتا ہے Where He Leads Me‘‘ شاعر ارنسٹ ڈبلیو۔ بلینڈی
      Ernest W. Blandy، 1890)۔

خُداوندا! میں آ رہا ہوں، میں ابھی تیرے پاس آ رہا ہوں؛
مجھے دُھو ڈال، مجھے خون میں پاک صاف کر ڈال جو کلوری پر بہا تھا۔
   (’’اے خُداوند میں آ رہا ہوں I Am Coming, Lord، شاعر لوئیس ہارٹسو
      Lewis Hartsough ، 1828۔1919)۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تنہا گیت مسٹر بیجیمن کینکیڈ گریفتھ نے گایا تھا:
’’اے خُداوند میں آ رہا ہوں I Am Coming, Lord‘‘
(شاعر لوئیس ہارٹسو Lewis Hartsough ، 1828۔1919)۔