Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 37 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


دُکھ سہنے کے لیے پُختہ اِرادہ

DETERMINED TO SUFFER
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
ہفتے کی شام، 10 مارچ، 2018
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Saturday Evening, March 10, 2018

’’اور جب یسوع کے اوپر اُٹھائے جانے کے دِن نزدیک آ گئے تو اُس نے پُختہ اِرادہ کے ساتھ یروشلیم کا رُخ کیا‘‘ (لوقا 9:51).

ڈٓاکٹر جان گِل نے کہا، ’’اب وقت ہو چکا تھا کہ یسوع، گلیل کے نشیبی علاقوں کو اپنا کام وہاں پر ختم کر چکنے کے بعد چھوڑتا اور یہودیہ کے بالائی علاقے میں جاتا اور اِس طرح وہاں سے اوپر یروشلم کے لیے… اِس کے بعد، وہ پھر کبھی بھی دوبارہ گلیل میں نہیں گیا… اور یروشلم جانے کے لیے پختہ اِرادہ کر لیا تھا… حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اُس کے ساتھ کیا ہونا تھا اور اُس کو کیا کیا برداشت کرنا تھا؛ کہ اُس نے اپنے لوگوں کے گناہوں کو اُٹھانا تھا، شریعت کے عذاب کو برداشت کرنا تھا، اور خُدا کے قہر کو سہنا تھا؛ اور کہ اُس کے بہت سے دشمن ہو جانے تھے، لوگ اور شیاطین جن کے ساتھ بھڑنا تھا، اور ایک درد سے بھرپور، ذلت آمیز اور لعنتی موت مرنا تھا؛ اِس کے باوجود اِن میں سے کوئی ایک چیز بھی اُس کو اپنے فیصلے سے ہٹا نہ پائی، اُس نے [وہاں پر] جانے کے لیے [پختہ اِرادہ کر لیا] تھا‘‘ (جان گِل، ڈی۔ ڈی۔ John Gill, D.D.، نئے عہد نامے کی ایک تفسیر An Exposition of the New Testament، دی بپٹسٹ سٹینڈرڈ بئیرر The Baptist Standard Bearer، دوبارہ اشاعت 1989، جلد اوّل، صفحہ 589؛ لوقا9:51 پر غور طلب بات)۔

’’اور جب یسوع کے اوپر اُٹھائے جانے کے دِن نزدیک آ گئے تو اُس نے پُختہ اِرادہ کے ساتھ یروشلیم کا رُخ کیا‘‘ (لوقا 9:51).

صلیب پر قربان ہونے کے لیے ’’اُس نے پختہ اِرادے کے ساتھ یروشلم کا رُخ کیا۔ میں اِس تلاوت میں سے تین خیالات سامنے لاؤں گا۔

I۔ پہلا، مسیح صلیب کے لیے مقصد کے تحت گیا تھا۔

مسیح کی مصلوبیت کوئی حادثہ نہیں تھی! جی نہیں! وہ پہلے ہی شاگردوں کو بتا چکا تھا،

’’ابنِ آدم کو کئی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وہ بزرگوں، سردار کاہنوں اور فقیہوں کی طرف سے ردّ کر دیا جائے گا۔ وہ اُسے قتل کر ڈالیں گے لیکن وہ تیسرے دِن زندہ ہو جائے گا‘‘ (لوقا 9:22).

دوبارہ اُس نے اُنہیں پہلے ہی بتا دیا تھا،

’’میری اِن باتوں کو کانوں میں ڈال لو کیونکہ اِبنِ آدم آدمیوں کے حوالے کیے جانے کو ہے۔ لیکن وہ اُس بات کو نہیں جانتے تھے کیونکہ وہ اُن سے پوشیدہ رکھی گئی تھی تاکہ وہ اُسے سمجھ نہ سکیں اور وہ اُس کے بارے میں یسوع سے پوچھتے بھی ڈرتے تھے‘‘ (لوقا 9:44۔45).

شاگرد اِس بات کو سمجھ نہیں پائے تھے کہ وہ یروشلم صلیب پر قربان ہونے کے لیے جا رہا تھا۔ لیکن مسیح یہ بات جانتا تھا اور اِس کو سمجھتا تھا۔ تیسری مرتبہ لوقا کی انجیل میں، مسیح نے کہا،

’’دیکھو، ہم یروشلیم جا رہے ہیں اور نبیوں نے جو کچھ ابنِ آدم کے بارے میں لکھا ہے وہ پُورا ہوگا۔ وہ غیر یہودی لوگوں کے حوالہ کیا جائے گا۔ وہ اُسے ٹھٹھوں میں اُڑائیں گے، بے عزت کریں گے اور اُس پر تھوکیں گے۔ اُسے کوڑوں سے ماریں گے اور قتل کر ڈالیں گے۔ لیکن تیسرے دِن وہ پھر زندہ ہو جائے گا۔ یہ باتیں اُن کی سمجھ میں نہ آ سکیں اور یسوع کا یہ قول اور اُس کا مطلب اُن سے پوشیدہ رہا‘‘ (لوقا 18:31۔34).

شاگردوں نے یسوع کے لیے اسرائیل کے مسیحا اور بادشاہ ہونے کی حیثیت سے تخت پر بیٹھنے کی توقع کی تھی۔ وہ بس یہ نہیں سمجھ پائے کہ کیوں اُسے [یسوع کو] صلیب پر مرنا پڑا تھا۔ کیوں؟ لوقا18:34 کہتی ہے کہ ’’یہ بات اُن سے پوشیدہ رہی تھی۔‘‘ یہ اُس وقت تک نہیں ہوا جب تک مسیح مُردوں میں سے زندہ نہیں ہوا کہ اُس نے اُن کے ذہن کو نہیں کھولا… اور اُن سے کہا، یوں لکھا ہوا ہے کہ مسیح دُکھ اُٹھائے گا اور تیسرے دِن مُردوں میں سے جی اُٹھے گا‘‘ (لوقا24:45۔46)۔ یوں، شاگردوں کے پاس خوشخبری کی کوئی سمجھ نہ تھی (1 کرنتھیوں15:1۔4) جب تک مسیح مُردوں میں سے جی نہ اُٹھا (حوالہ دیکھیں یوحنا20:22، 24۔28)۔

لیکن یسوع جانتا تھا وہ یروشلم کیوں جا رہا تھا۔ یوحنا رسول نے کہا کہ یسوع’’خوب جانتا تھا اُسے کن کن باتوں کا سامنا کرنا تھا‘‘ (یوحنا18:4)۔ اِس کے باوجود صلیب پر مرنے کے لیے ’’اُس نے پختہ اِرادے کے ساتھ یروشلم کا رُخ کیا‘‘ (لوقا9:51)۔ وہ جانتا تھا کہ خُداوند گتسمنی میں اُس کی جان کو ہمارے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ کچل ڈالے گا – جب تک اُس نے خونی پسینہ نہ بہایا اور اُس رات موت سے بچنے کے لیے خُداوند کے آگے پکار نہ اُٹھا کہ صبح شاید اُسے صلیب کے لیے جانا پڑے۔ وہ جانتا تھا کہ پیلاطوس اُسے کوڑے لگوائے گا، اور ہر مرتبہ جب دُرّہ اُس کی کمر پر برسے گا، اور ہر مرتبہ جو خون اُمڈے گا، اور اُس کی ہڈیوں پر سے کھال اُکھڑے گی، تو وہ کوڑے برسانے والے اُس پر ہنسیں گے اور اُس کا تمسخر اُڑائیں گے، جو اُس کے درد کو مذید اور شدید اور ہولناک کر دے گا۔ اور مسیح جانتا تھا کہ وہ یروشلم صلیب پر کیلوں سے جڑے جانے کے لیے جا رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اُس کو کوڑے مارنے والی جگہ سے گھسیٹتے ہوئے لے کر جائیں گے اور اُس کے ہاتھوں اور پیروں میں سے کیل ٹھونک کر گزاریں گے۔ پھر، جب سپاہی صلیب کو کھڑا کریں گے، تو وہ اپنے مرنے سے پہلے تپتے سورج میں گھنٹوں ننگا لٹکا رہے گا۔ جی ہاں، یسوع یہ سب کچھ جانتا تھا؛ وہ جانتا تھا کہ وہ دُکھ اُٹھانے، خون بہانے اور قربان ہونے کے لیے یروشلم جا رہا تھا۔ اِس کے باوجود ’’اُس نے پختہ اِرادے کے ساتھ یروشلم کا رُخ کیا‘‘ (لوقا9:51)۔ اُس کو جانے پر مجبور نہیں کیا گیا تھا! جی نہیں! وہ اپنی مرضی سے گیا تھا،

’’…جس نے اُس خُوشی کے لیے جو اُس کی نظروں کے سامنے تھی، شرمندگی کی پرواہ نہ کی بلکہ صلیب کا دُکھ سہا اور خدا کے تخت کی دائیں طرف جا بیٹھا‘‘ (عبرانیوں 12:2).

یسوع مسیح نے ’’اُس خوشی کے لیے جو اُس کی نظروں کے سامنے تھی،‘‘ ’’یروشلم کا رُخ کیا‘‘ – صلیب پر قربان ہونے کے لیے! کھڑے ہوں اور کورس گائیں، ’’صلیب میںIn the Cross۔‘‘

صلیب میں، صلیب میں،
   ہمیشہ میرا جلال ہو؛
جب تک میری بیخود روح پا نہ لے
   اُس دریا سے پرے سکون!
(صلیب کے نزدیک Near the Cross‘‘ شاعر فینی جے۔ کراسبیFanny J. Crosby ، 1820۔1915)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ جی ہاں، مسیح صلیب کے لیے مقصد کے تحت گیا تھا۔

’’اور جب یسوع کے اوپر اُٹھائے جانے کے دِن نزدیک آ گئے تو اُس نے پُختہ اِرادہ کے ساتھ یروشلیم کا رُخ کیا‘‘ (لوقا 9:51).

II۔ دوسرا، مسیح صلیب پر ہمارے لیے ایک مثال قائم کرنے کی خاطر گیا تھا۔

میں جانتا ہوں کہ پرانے زمانے کے بائبل کو مسترد کرنے والے آزاد خیال لوگ، جیسے ھیری ایمرسن فوسڈِک Harry Emerson Fosdick نے اُس نشاندہی پر ضرورت سے زیادہ اصرار کیا، کیونکہ اُن کے پاس زور دینے کے لیے کوئی دوسرا نکتہ نہیں تھا! یہی وہ نشاندہی ہے جو بائبل میں ہے – اِس لیے ہمیں کبھی کبھی اِس پر منادی کرنی چاہیے۔ پطرس رسول کوئی آزاد خیال نہیں تھا، اور اُس نے کہا،

’’مسیح نے تمہارے لیے دُکھ اُٹھا کر ایک مثال قائم کر دی تاکہ تُم اُس کے نقشِ قدم پر چل سکو‘‘ (1۔ پطرس 2:21).

قربان ہونے اور دُکھ سہنے کی خاطر مسیح نے ’’پُختہ اِرادے کے ساتھ یروشلم کا رُخ کیا۔‘‘ اور ہر حقیقی مسیح کو اُس کی ’’مثال‘‘ کی پیروی کرنے کے لیے رضامند رہنا چاہیے (1پطرس2:21)۔ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے ہر سچے مسیحی کو مسیح ہی کی مانند سختیوں اور آزمائشوں میں سے گزرنے کے لیے رضامند رہنا چاہیے، جیسا مسیح ہماری عظیم مثال نے کیا۔

میں جانتا ہوں کہ نام نہاد کہلائی جانے والی ’’خوشحال خوشخبریprosperity gospel‘‘ اِس وقت انتہائی مشہور ہے۔ بینی حِن Benny Hinn، جوئیل آسٹن Joel Osteen اور بے شمار دوسروں نے مسلسل TBN پر ’’خوشحالیprosperity‘‘ کی منادی کی۔ مگر یہ صرف ایک وقتی جنون ہے۔ آپ اِس کو اب سے چند ایک سال بعد اتنا زیادہ نہیں سُن پائیں گے (اگر کچھ سُن بھی پائے)۔ عالمگیر دھشت گردی کے عروج کے دوران، جو کہ ابھی صرف شروع ہوئی ہے، بے شمار لوگوں کو احساس ہو جائے گا کہ ’’خوشحال خوشخبری‘‘ ایک جھوٹی تعلیم ہے۔ حقیقی خوشخبری مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے سچے لوگوں کو خود انکاری کی اور صلیب برداشت کرنے کی ایک زندگی کے لیے بُلاتی ہے۔ یسوع نے کہا،

’’اگر کوئی میری پیروی کرنا چاہے تو وہ خود اِنکاری کرے اور روزانہ اپنی صلیب اُٹھائے اور میرے پیچھے ہو لے‘‘ (لوقا 9:23).

غور کریں کہ یسوع نے کہا، ’’اگر کوئی شخص‘‘ (دورِ حاضرہ کا ترجمہ ’’کوئی بھی‘‘)۔ وہ ’’اعلٰی درجے کے مقدسین‘‘ کے ایک مخصوص گروہ کے بارے میں بات نہیں کر رہا تھا۔ اُس نے کہا،

’’اگر کوئی میری پیروی کرنا چاہے تو وہ خود اِنکاری کرے اور روزانہ اپنی صلیب اُٹھائے اور میرے پیچھے ہو لے‘‘ (لوقا 9:23).

مجھے غلط مت سمجھیے گا۔ میں یقین نہیں رکھتا کہ انسانی اعمال ہماری نجات میں شامل ہوتے ہیں۔ نجات تو تمام کی تمام فضل سے ہے، ’’نہ ہی یہ تمہارے اعمال کا پھل ہے کہ کوئی فخر کر سکے‘‘ (افسیوں2:9)۔

’’کیونکہ وہ خدا ہی ہے جو تُم میں نیت اور عمل دونوں کو پیدا کرتا ہے تاکہ اُس کا نیک اِرادہ پورا ہو سکے‘‘ (فلپیوں 2:13).

جب خُدا آپ میں کام کر رہا ہوتا ہے تو آپ خود کی انکاری کرنے کے لیے اور صلیب اُٹھانے کے لیے رضامند ہو جائیں گے، اور سزایابی کی ذہنی اذیت میں سے گزر جائیں گے اور مسیح کے پاس آئیں گے اور ایک مسیحی کی مانند آزمائشوں اور صدموں میں سے گزر جائیں گے کیونکہ،

’’ہمیں خدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لیے بہت سی مصیبتوں کا سامنا کرنا لازم ہے‘‘ (اعمال 14:22).

کوئی شاید کہتا ہے، ’’اگر یہ اِس قدر مشکل ہے تو کیوں کوئی ایک مسیحی بننا چاہے گا؟‘‘ اِس کا جواب سادہ سا ہے۔

’’تیری لشکر کشی کے دِن، تیرے لوگ خوشی سے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں‘‘ (زبور 110:3).

میں جانتا ہوں کہ تیسری دُنیا میں بے شمار مسیحیوں کو اذیت دی جاتی ہے اور اُن کے ایمان کے لیے اُنہیں قید کر دیا جاتا ہے۔ اِس کے باوجود وہ مسیح کو نہیں چھوڑتے۔ آپ اُن کے بارے میں انٹر نیٹ پر www.persecution.com پر پڑھ سکتے ہیں۔ خُدا کے فضل کے وسیلے سے، آپ شاید اُن کی مانند بن جائیں، جیسے وہ مسیح کی مانند ہیں، جس نے ’’پُختہ اِرادے کے ساتھ یروشلم کا رُخ کیا‘‘ (لوقا9:51) – کیونکہ ’’مسیح نے تمہارے لیے دُکھ اُٹھا کر ایک مثال قائم کر دی تاکہ تُم اُس کے نقشِ قدم پر چل سکو‘‘ (1پطرس2:21)۔ یہ دُکھ اُٹھانے کے سبب سے ہے کہ ہم بالغ مسیحیوں میں بڑھتے ہیں۔ خُداوند مسیحی زندگی کی آزمائشوں اور بہت بڑے بڑے مصائب کو ہمیں ایمان میں اور زیادہ پاک باز اور مضبوط بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ پولوس رسول نے کہا،

’’ہم اپنی مصیبتوں میں بھی خُوش ہوتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ مصیبت سے صبر پیدا ہوتا ہے۔ اور صبر سے مُستقل مزاجی اور مستقل مزاجی سے اُمید پیدا ہوتی ہے۔ ایسی اُمید ہمیں مایوس نہیں کرتی کیونکہ جو پاک رُوح ہمیں بخشا گیا ہے اُس کے وسیلہ سے خدا کی محبت ہمارے دلوں میں ڈالی گئی ہے‘‘ (رومیوں 5:3۔5).

پھر آپ وہ کورس گانے کے قابل ہو جائیں گے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے کچھ لوگوں کا ابھی ایسا مطلب نہیں ہے، لیکن خُداوند کے وسیلے سے، کسی نہ کسی دِن آپ میں سے کچھ لوگوں کا یہی مطلب ہوگا۔ مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور اِس کو دوبارہ گائیں!

صلیب میں، صلیب میں،
   ہمیشہ میرا جلال ہو؛
جب تک میری بیخود روح پا نہ لے
   اُس دریا سے پرے سکون!

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ جی ہاں، مسیح صلیب پر ہمارے لیے ایک مثال قائم کرنے کی خاطر گیا – ہم پر یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ ہمیں اُس کی پیروی کرنے کی ضرورت ہے چاہے اِس کی کوئی بھی قیمت چکانی پڑے!

’’اور جب یسوع کے اوپر اُٹھائے جانے کے دِن نزدیک آ گئے تو اُس نے پُختہ اِرادہ کے ساتھ یروشلیم کا رُخ کیا‘‘ (لوقا 9:51).

III۔ تیسرا، مسیح صلیب پر ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے گیا۔

یسوع نے یعقوب اور یوحنا کو بتایا،

’’کیونکہ ابنِ آدم لوگوں کو ہلاک کرنے نہیں بلکہ بچانے آیا ہے‘‘ (لوقا 9:56).

یسوع نے زکائی کو بتایا،

’’ابنِ آدم گم شُدہ کو ڈھونڈنے اور بچانے آیا ہے‘‘ (لوقا 19:10).

صلیب پر اپنی موت کے وسیلے سے یسوع آپ کو سزا اور گناہ اور خُدا کے قہر سے نجات دلا سکتا ہے۔ یسوع آپ کو آپ کی جگہ پر صلیب پر آپ کے گناہوں کو ادائیگی کر کے مرنے کے ذریعے سے نجات دلا سکتا ہے۔ یسوع نے جان بوجھ کر ’’پختہ اِرادے کے ساتھ یروشلم کا رُخ کیا،‘‘ اور آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پر قربان ہو گیا۔ اشعیا نبی نے کہا،

’’خداوند نے ہم سب کی بدکاری اُس پر لاد دی‘‘ (اشعیا 53:6).

’’اپنے ہی عرفان کے باعث میرا صادق خادِم بہتوں کو راستباز ٹھہرائے گا؛ کیونکہ وہ اُن کی بُرائیاں خود اُٹھا لے گا‘‘ (اشعیا 53:11).

یسوع یروشلم آپ کی جگہ پر قربان ہونے کے لیے گیا، آپ کے گناہوں کی ادائیگی کرنے کے لیے گیا، آپ کے متبادل کے طور پر گیا۔ اِس کو اُس یسوع کا ’’متبادلیاتی کفارہ‘‘ کہتے ہیں۔ ڈاکٹر چارلس ھاج Dr. Charles Hodge نے کہا،

متبادلیاتی دُکھ سہنا اُس دُکھ کو برداشت کرنا ہوتا ہے جو ایک شخص دوسرے کی [جگہ] پر سہتا ہے (چارلس ھاج، پی ایچ۔ ڈی۔ Charles Hodge, Ph.D.، درجہ بہ درجہ علمِ الہٰیات Systematic Theology، عئیرڈ مینز Eerdmans، دوبارہ اشاعت1946، صفحہ 475)۔

یسوع مسیح، خُدا کا بیٹا، آپ کی جگہ پر آپ کے متبادل کی حیثیت سے قربان ہو گیا۔ یسوع نے آپ کے تمام گناہ کی ادائیگی کی جب وہ آپ کی جگہ پر آپ کی متبادل کی حیثیت سے صلیب پر قربان ہوا۔ اُس پر بھروسہ کریں اور آپ نجات پائیں گے! جیسا کہ اشعیا اِس کو تحریر کرتا ہے،

’’وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھایل کیا گیا، اور ہماری بد اعمالی کے باعث کُچلا گیا‘‘ (اشعیا 53:5).

اور پولوس رسول نے کہا،

’’کتابِ مقدس کے مطابق مسیح ہمارے گناہوں کے لیے قُربان ہوا‘‘ (1۔ کرنتھیوں 15:3).

صلیب پر مسیح کی موت خُدا کے انصاف کو مطمئن کرتی ہے۔ مسیح کی موت خدا کی شریعت کو مطمئن کرتی ہے۔ مسیح کی موت خُدا کے قہر کو تشفی دیتی ہے، مناتی ہے۔ اِس طرح سے، مسیح کی موت ہم گنہگاروں کے ساتھ خُدا کی صُلح کراتی ہے۔ مسیح کی موت بدی کی قوت سے آزادی دلاتی ہے۔ اِس ہی لیے یسوع آسمان سے نیچے آیا۔ اِس ہی لیے صلیب پر قربان ہونے کے لیے یسوع نے ’’پُختہ اِرادے کے ساتھ یروشلم کا رُخ کیا‘‘ (لوقا 9:51)۔ صلیب پر اُس کی موت آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرتی ہے، اور آپ تمام زمانوں اور تمام ابدیت کے لیے نجات پا جائیں گے! ہم کس قدر دعا مانگتے ہیں کہ خُداوند آپ کو یسوع کی جانب کھینچے! مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور حمدوثنا کا گیت نمبر1 اپنے گیتوں کے ورق پر سے گائیں۔

کس قدر واضح طور پر اُس کے تمام تشدد سے پُر زخم یسوع کے اُس پیار کو ظاہر کرتے ہیں۔
وہ زخم جن میں سے خون کی سُرخی مائل بنتی ہوئی کفارے کی دھاریں بہتی ہیں،
خون کے کفارے کی دھاریں بہتی ہیں۔

کس طرح کانٹے دار خون کے دھبوں سے بھرا تاج مسیح کے خوبصور سر میں گھونپا گیا!
کس طرح وہ کیل جنہوں نے اُن ہاتھوں اور پیروں کو بے رحمانہ تشّدد کے ساتھ چھیدا ٹھونکے گئے!
بے رحمانہ تشّدد کے ساتھ ٹھونکے گئے!

اوہ، اے تمام لوگو جن میں گناہ کے موذی دھبے پائے جاتے ہیں؛
آؤ، اُس کے تمام نجات دلانے والے خون میں دھو لو، اور تم پاک صاف ہو جاؤ گے،
اور تم پاک صاف ہو جاؤ گے۔
   (’’یسوع زخمی Jesus Wounded‘‘ شاعر ایڈورڈ کیسویل Edward Caswell، 1849؛
   بطرز شاہانہ مٹھاس تخت پر بیٹھتی ہے Majestic Sweetness Sits Enthroned‘‘)۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
   ’’یسوع زخمی Jesus Wounded‘‘ (شاعر ایڈورڈ کیسویل Edward Caswell، 1849؛
   بطرز شاہانہ مٹھاس تخت پر بیٹھتی ہے Majestic Sweetness Sits Enthroned‘‘)۔

لُبِ لُباب

دُکھ سہنے کے لیے پُختہ اِرادہ

DETERMINED TO SUFFER

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’اور جب یسوع کے اوپر اُٹھائے جانے کے دِن نزدیک آ گئے تو اُس نے پُختہ اِرادہ کے ساتھ یروشلیم کا رُخ کیا‘‘ (لوقا 9:51).

I.    پہلا، مسیح صلیب کے لیے مقصد کے تحت گیا تھا، لوقا9:22، 44۔45؛ 18:31۔34؛
لوقا24:45۔46؛ 1کرنتھیوں15:1۔4؛ یوحنا20:22، 24۔28؛ یوحنا18:4؛
عبرانیوں12:2 .

II.   دوسرا، مسیح صلیب پر ہمارے لیے ایک مثال قائم کرنے کی خاطر گیا تھا، 1پطرس2:21؛
لوقا9:23؛ افسیوں2:9؛ فلپیوں2:1:13؛ اعمال14:22؛ زبور110:3؛
رومیوں5:3۔5 .

III.  تیسرا، مسیح صلیب پر ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے گیا، لوقا 9:56؛ 19:10؛
اشعیا53:6، 11، 5؛ 1 کرنتھیوں15:3 .