Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


اے خُداوندا، اپنی شہرت کو بحال کر!

REVIVE THY WORK, O LORD!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
ہفتہ کے دِن کی شام، 30 ستمبر، 2017
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Saturday Evening, September 30, 2017

ڈاکٹر ابنصر پورٹر Dr. Ebenezer Porter نے مذہبی حیاتِ نو پر خطوطLetters on Religious Revivals نامی ایک کتاب تحریر کی۔ یہ وہ کتاب ہے جو اُنہوں نے اپنی موت سے کچھ عرصہ پہلے 1832 میں تحریر کی تھی۔ ڈاکٹر پورٹر ایک کانگریگیشنل مذہبی خادم [منسٹر] تھے۔ وہ بے شمار حیات انواع میں گواہ اور شریکِ کار رہے تھے۔ اُنہوں نے تعلیم دی کہ حیاتِ انواع کو نایاب نہیں ہونا چاہیے، بلکہ حیاتِ نو کو گرجا گھروں کا مسلسل تجربہ ہونا چاہیے۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ حیاتِ انواع کا مطالعہ سیمنری کی تعلیم کا ایک اہم حصہ ہونا چاہیے تاکہ نوجوان پادری صاحبان اُن گرجا گھروں میں جن کی وہ قیادت کریں حیاتِ انواع کی رہنمائی کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ آج، [امریکہ] میں بے شمار گرجا گھر گذشتہ صدی سے تقریبا کسی بھی قسم کے حیاتِ نو کے بغیر رہے ہیں۔ یہ ڈاکٹر پال اے۔ سیڈار Dr. Paul A. Cedar کا نقطہٗ نظر ہے جو امریکہ کے ایونجیلیکل فری گرجا گھر کے صدر ہیں، یہ بات اُنہوں نے ڈاکٹر پورٹر کی حیاتِ نو پر کتاب کے ابتدائی تعارف میں کہی۔

1832 میں ڈاکٹر پورٹر نے کہا، ’’اب ہمارے گرجا گھروں کو جس بات کا خطرہ ہے وہ غیرتبدیل شُدہ مرد [اور عورتیں] اپنی [رُکنیت] کے لیے قبول کر لیے جائیں گے، اِس اُمید کے ساتھ کہ وہ مسیحی ہیں۔ کیا اِس [خوف] کو [سچا] ہونا چاہیے، ایک اور صدی تباہ کُن نتائج افشا کر دے گی‘‘ (حیاتِ نو پر خطوطLetters on Revival سے توضیح کی گئی، صفحات147۔148، 1832)۔ ڈاکٹر پورٹر نے کہا کہ فنی Finney کے طریقہ کاروں سے مسیح میں جھوٹا ایمان لائے ہوئے لوگوں کے گرجا گھروں میں آنے کے چند ایک سال کے ساتھ وہ گرجا گھر ’’بالکل ویران‘‘ ہو جائیں گے۔

ڈاکٹر پورٹر نے وہ پیشن گوئی 1832 میں کی تھی۔ 1932 تک (’’ایک دوسری صدی‘‘) پروٹسٹنٹ اور بپٹسٹ کلیسیائیں فنی کے دِنوں سے لیکر مسیح میں جھوٹا ایمان لائے ہوئے ممبرز کا اضافہ کرنے کے نتیجے میں آزاد خیالی کی جانب رُخ موڑ چکی تھیں۔ دوسرے لفظوں میں فنی کی ’’فیصلہ سازیت Decisionism‘‘ نے ہماری کلیسیاوٗں کو، مسیح میں جھوٹا ایمان لائے ہوئے غیرتبدیل شُدہ لوگوں کے ساتھ بھرنے اور حقیقی حیاتِ نو کو مارنے کے ذریعے سے تباہ کر دیا۔ تقریباً سارے کے سارے غیرنجات یافتہ ممبرز کے ساتھ اور زیادہ تر پادری صاحبان کے خود اپنے غیرتبدیل شُدہ ہونے یا اخلاقی طور پر گِرے ہوئے ہونے کی وجہ سے ہماری کلیسیائیں اب ایک ایونجیلیکل اِزم کو جنم دے رہی ہیں جو بے بس اور مُردہ ہے، ڈاکٹر فرانسس شیفرDr. Francis Schaeffer کے الفاظ میں ’’ایک بہت بڑی ایونجیلیکل بربادی۔‘‘ اِس بربادی کے لیے کیا جواب ہے؟ مہربانی سے حبقوق 3 باب کھولیں۔ یہ سیکوفیلڈ مطالعۂ بائبل کے صفحہ957 پر ہے۔ مہربانی سے کھڑے ہو جائیں جب میں آیات ایک اور دو کو پڑھوں۔

شگایونوت باجے پر حبقوق کی دعا۔ اے خداوند، میں نے تیری شہرت سُن لی ہے، اور اے خدا میں تیرے کاموں سے ڈر گیا۔ ہمارے دِنوں میں اُنہیں بحال کر، ہمارے زمانوں میں اُن کی شہرت کر، قہر میں رحم کو یاد فرما‘‘ (حبقوق 3:1،2).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

شگایونوت ایک موسیقانہ اصطلاح ہے۔ اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ حبقوق نبی نے اِس دعا کو حمدوثنا کے ایک گیت کی حیثیت سے پیش کیا۔ یہ حمدوثنا کے گیت، ’’تیری شہرت کی بحالی ہوRevive Thy Work‘‘ کی مانند ایک دعا ہے۔

اے خُداوندا! تیری شہرت کی بحالی ہو! تیرا قوی ہاتھ برہنہ ہوتا ہے؛
اُس آواز کے ساتھ بول جو مُردوں کو جگاتی ہے، اور تیرے لوگوں کو سُنائی دیتی ہے۔
بحالی ہو! بحالی ہو! اور تروتازہ کر دینے والی بوچھاڑ ہو؛
سارے کا سارا جلال خود تیرا اپنا ہو؛ برکت ہماری ہو۔
   (’’تیری شہرت کی بحالی ہوRevive Thy Work ‘‘ شاعر البرٹ میڈلین Albert Midlane، 1825۔1909)۔

یہاں گیت میں نبی کی دعا موجود ہے۔

I۔ پہلی بات، ’’اے خُداوندا، میں تیرا خطاب سُن چکا ہوں، اور خُوفزدہ تھا۔‘‘

ڈاکٹر جان آر۔ رائس نے کہا، حبقوق اپنے اِردگرد ہر طرف گناہ، تشدد اور بُت پرستی پر غمزدہ تھا – یہ بات لوگوں پر انصاف اور سزا کے لیے پکارتی تھی… جب حبقوق نے اپنے لوگوں پر خُدا کی جانب سے بھیجے جانے والے غموں اور دُکھوں کے بارے میں سُنا، تو خُدا کی تنبیہہ نے اُس کو خوفزدہ کر دیا اور اُس کی حیاتِ نو کے لیے پُرخلوص دعا مانگنے میں رہنمائی کی‘‘ (بشر کو جیتنے کی آگ The Soul Winner’s Fire، صفحہ69، 70)۔

ایک نوجوان شخص کی حیثیت سے میں نے عظیم مبلغین کو سُنا، جیسے کہ نوجوان بلی گراھم Billy Graham نے خُدا کے انصاف اور قہر پر، جہنم پر، اور ناقابلِ معافی گناہ پر تلخ واعظوں کی تبلیغ کی۔ حیات نو کے زمانوں میں تمام کے تمام اعلیٰ درجے کے مبلغین نےانصاف اور جہنم پر منادی کی تھی – اور اُن میں سے کوئی ایک بھی بائبل کا اُستاد نہیں تھا جیسا کہ آج ہماری زیادہ تر واعظ گاہوں میں ہمارے پاس ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر اساحل نٹیلٹنDr. Asahel Nettleton فنّی Finney سے پہلے آخری عظیم قومی ایونجیلسٹ تھے۔ اُنہوں نے جاناتھن ایڈورڈز Jonathan Edwards کی مانند، ایڈورڈز کے عظیم واعظ ’’ایک ناراض خُدا کے ہاتھوں میں گنہگار Sinners in the Hands of an Angry God‘‘ جیسے موضوعات پر منادی کی – وہ واعظ جو پہلی عظیم بیداری کے لیے ایک عامِل تھا۔ اُن کا ہم عصرو ہم عمر تھیوڈور فریلینگحوئسین Theodorus Frelinghuysen حیاتِ نو کے بارے میں برابر کی چوٹ کا سخت مبلغ تھا۔ فریلینگحوئسین نے انسان کی ’’گناہ سے بھرپور گہری فطرت‘‘ پر منادی کی تھی۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ لوگ عموما اپنی مسیح میں ایمان لانے کی تبدیلی سے پہلے گناہ کے ساتھ شدید جدوجہد کا تجربہ کرتے ہیں۔ اُس کے لوگ حیاتِ نومیں پاک روح کے نزول کو دیکھنے کے لیے جلد ہی بے تاب ہو جاتے تھے۔ میں خواہش کرتا ہوں کہ امریکہ میں ہر نوجوان مبلغ سکاٹ میز Scott Maze کی تحریر کی ہوئی کتاب تھیوڈور فریلینگحوئسین کی انوینجلزِم: پہلی عظیم بیداری کے لیے ایک عاملTheodorus Frelinghuysen’s Evangelism: Catalyst to the First Great Awakening، کو پڑھ پائے (ریفارمیشن ہیریٹیج بُکس Reformation Heritage Books، 2011)۔ یقینی طور پر ہر کیلوِنسٹ ’’بائبل کے اُستاد‘‘ کو اِسے ضرور پڑھنا چاہیے۔ آج فریلینگحوئسین جیسے دل پر چوٹ مارنے والے مبلغین کی شدید ضرورت ہے۔ ہم اُس کے جیسی جرأت مندانہ منادی کے بغیر کبھی بھی دوبارہ حیاتِ نو نہیں پائیں گے۔

اور پھر ڈیونکن کمیپبل Duncan Campbell تھے۔ برائین ایچ۔ ایڈورڈز نے کہا، ’’جو لوگ حیاتِ نو میں منادی کرتے ہیں ہمیشہ نڈر اور فوری ہوتے ہیں۔ ڈیونکن کمیپبل کی منادی نے گناہ کو اُس کی بدصورتی کے ساتھ … اور مسیح کے بغیر زندگی گزارنے اور مرنے کے نتائج کو عیاں کیا… اپنے چہرے بہتے پسینے کی دھاروں کے ساتھ، اُس نے مردوں اور عورتوں کے آگے زندگی کے طریقے اور موت کے طریقوں کو رکھا‘‘ (حیاتِ نو: خُدا کے ساتھ لبریز لوگ Revival: A People Saturated With God، صفحہ103)۔ اُنہوں نے اِس قدر زبردست تبلیغ کی کہ گمراہ لوگ آنسوؤں کے ساتھ گناہ کی سزایابی کے تحت آ جاتے، اور مغربی دُنیا کے آخری علاقائی عظیم حیاتِ نو میں، لوئیس کے جزیروں Isle of Lewis پر لوگ پوری طرح مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے تھے۔

ایک نوجوان شخص کی حیثیت سے میں نے اِس قسم کی منادی سُنی تھی اور اِس نے مجھے خوفزدہ کر دیا تھا – جیسے اِس نے جبقوق کو خوفزدہ کر دیا تھا۔ ’’اے خُداوندا، میں تیرا خطاب سُن چکا ہوں اور خوفزدہ تھا۔‘‘ اُس خوف نے میرے اندر حیاتِ نو کے لیے منادی کرنے کی چاہت کو بیدار کیا۔ اور ایسا ہی ہر وفادار مبلغ میں ہونا چاہیے۔ یہ بات آپ کو حیات نو بھیجنے کے لیے خُدا سے چاہت کرنے پر مجبور کر دے گی!

II۔ دوسری بات، ’’اے خُداوندا، اپنی شہرت کو بحال کر۔‘‘

ہر سردمہر اور اخلاقی طور پر گرے ہوئے مسیحی کو دعا مانگنی چاہیے، ’’اے خُداوندا، اپنی شہرت کو بحال کر‘‘ مجھ میں۔ ہر اِخلاقی طور پر گِرے ہوئے مسیحی کو حیاتِ نو کی اشد ضرورت ہے۔ آپ کبھی خوش تھے، لیکن اب آپ اُداس ہیں۔ آپ کبھی پُرمسرت تھے لیکن اب آپ خود کی شکایت کرتے اور خود کے لیے دُکھ محسوس کرتے ہیں۔ آپ کبھی یسوع کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوا کرتے تھے۔ اب آپ بُڑبُڑاتے اور شکایت کرتے اور نقص ڈُھونڈتے ہیں۔ آپ کا گھر اکثر ایک جیتی جاگتی جہنم کی مانند ہوتا ہے۔ آپ شدت کے ساتھ اُداس اور پریشان ہوتے ہیں۔ آپ اپنی زندگی کے لیے خُدا کی مرضی کے بارے میں تعجب کرتے ہیں۔ آپ کی پہلی سی محبت کہاں پر ہے؟ وہ خوشی کہاں پر ہے جو آپ کے پاس سالوں پہلے ہوا کرتی تھی؟ نبی کے ساتھ دعا مانگیں، ’’اے خُداوندا، اپنی شہرت کو بحال کر‘‘ میرے دِل میں۔ مجھے اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے میں مدد دے اور تیرے لیے میری محبت کو بحال کر۔‘‘ اُس حیات نو کو ہاتھ سے جانے مت دیجیے جو خُدا نے ہمارے لیے بھیجا ہے! یہ شاید جلد ہی ختم ہو جائے۔ اِس کے اِن آخری لمحات کو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کے لیے سمیٹ لیں۔ ہم آپ کے لیے دعا مانگیں گے۔ خُدا جواب دے گا۔ ’’جی نہیں، وہ جواب نہیں دے گا،‘‘ آپ کہتے ہیں۔ وہ آپ کے دماغ میں شیطان کی آواز ہے۔ وہ آپ کو جواب دے گا! اُس نے کہا، ’’مجھے پکار، اور میں تجھے جواب دوں گا‘‘ (یرمیاہ33:3)۔ اور صرف دعا ہی مت مانگیں، بلکہ ’’اپنے بدن ایسی قربانی ہونے کے لیے پیش کرو جو زندہ ہے، پاک ہے اور خُداوند کو پسند ہے۔ یہی تمہاری معقول عبادت ہے‘‘ (رومیوں12:1)۔ یسوع کے لیے اپنی پہلی سی محبت کی جانب واپس جائیں – ورنہ آپ اُس خوشی کو گنوا دیں گے جو آپ کو خُدا کے بھیجے ہوئے اِس حیاتِ نو میں مل سکتی ہے! ’’خُداوند، ایک حیاتِ نو بھیج دے‘‘ – کھڑے ہوں اور اِس کو گائیں!

خُداوند، ایک حیاتِ نو بھیج دے، خُداوند ایک حیاتِ نو بھیج دے؛
خُداوند، ایک حیاتِ نو بھیج دے، اور اِس کو تیرے پاس سے ہی نازل کر۔

اب اِس کو ’’اور اِس کو مجھ پر نازل ہو لینے دے‘‘ کے ساتھ ختم کریں۔ اِسے گائیں!

خُداوند، ایک حیاتِ نو بھیج دے، خُداوند ایک حیاتِ نو بھیج دے؛
خُداوند، ایک حیاتِ نو بھیج دے، اور اِس کو مجھ پر نازل ہو لینے دے۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

آپ میں سے کچھ اب بھی مسیح میں غیرتبدیل شُدہ ہیں۔ خود پر افسوس کرنا چھوڑ دیں۔ اِسے روکیں! خود کے لیے افسوس محسوس کرنا یہ ایک گناہ ہے! عیسو نے خود کے لیے افسوس محسوس کیا تھا – اور اُس نے کبھی بھی نجات نہیں پائی تھی! یہوداہ نے خود کے لیے افسوس محسوس کیا تھا – اور اُس نے بھی کبھی بھی نجات نہیں پائی۔ شمعون جادوگر نے خُود کے لیے افسوس محسوس کیا تھا، اور یہاں تک کہ پطرس سے اُس کے لیے دعا مانگنے کو کہا تھا، لیکن وہ جہنم میں گیا تھا اور وہاں پرآج رات کو بھی جل رہا ہے۔ خود پر افسوس محسوس کرنے کے بجائے، اپنے گناہ کا اقرار کریں۔ اِقرار کریں کہ آپ کے دِل میں خُدا کے لیے کوئی حقیقی محبت نہیں ہے۔ اِقرار کریں کہ آپ گرجا گھر میں ایک منافق کی مانند بیٹھتے ہیں – لیکن آپ یسوع پر بھروسہ نہیں کریں گے، جو تنہا آپ کو اُس خون سے جو اُس نے صلیب پر بہایا تھا آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کر سکتا ہے اور آپ کو نجات دے سکتا ہے! یسوع کے پاس آئیں اور اُس پر بھروسہ کریں، جبکہ پاک روح ابھی تک حیاتِ نو میں کام کر رہا ہے۔ ’’اے خُداوندا، اپنی شہرت کو بحال کر!‘‘ ’’میں آ رہا ہوں خُداوند I Am Coming Lord‘‘ – کھڑے ہوں اور اِس کو گائیں!

میں آ رہا ہوں خُداوند! ابھی تیرے پاس آ رہا ہوں!
مجھے دھو ڈال، مجھے اُس خون میں جو کلوری پر بہا تھا پاک صاف کر ڈال۔

صرف خواتین۔

اب ہر کوئی گائے۔

III۔ تیسری بات، ’’ہمارے دِنوں کے وسط میں اُنہیں بحال کر، ہمارے زمانوں میں اُن کی شہرت کر، قہر میں رحم کو یاد فرما۔‘‘

’’اے خداوند، میں نے تیری شہرت سُن لی ہے، اور اے خدا میں تیرے کاموں سے ڈر گیا۔ ہمارے دِنوں کے وسط میں اُنہیں بحال کر، ہمارے زمانوں میں اُن کی شہرت کر، قہر میں رحم کو یاد فرما‘‘ (حبقوق 3:2).

یہ ’’ہمارے زمانے کے وسط میں ہے‘‘ کہ ہمیں حیاتِ نو کی ضرورت ہے۔ ایک گھڑی میں شاید وقت بالکل ٹھیک ہو جب اُس میں پہلی مرتبہ چابی بھری جاتی ہے، لیکن اگر وہ چابی بھرے بغیر بہت دیر تک چلتی رہے، تو وہ آہستہ آہستہ وقت میں پیچھے ہوتی چلی جائے گی۔ یہاں تک کہ دورِحاضرہ کی گھڑیاں بھی ایسا ہی کرتی ہیں اگر اُن کی بیٹریاں اپنی طاقت کھو دیں۔ ایک بشروں کو جیتنے والا یا ایک مبلغ جو چابی بھرے بغیر طویل مدت تک جاری رہتا ہے وہ طاقت کبھی بھی نہیں رکھتا جو کبھی اُس میں ہوا کرتی تھی۔ مسیحیوں کو چابی بھرنے یا بیٹریوں میں نئی طاقت ڈلوانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ آپ کو حیاتِ نو کی ضرورت ہے – نئی قوت ’’زمانوں کے وسط میں۔‘‘ میں منح ووMinh Vu اور بائییانگ ژینگBaiyang Zhang جیسے بے شمار مسیحیوں کو دیکھ چکا ہوں جو جوش سے بھرے ہوئے ہیں۔ لیکن آہستہ آہستہ وہ ’’گھڑی‘‘ اپنی طاقت کو کھونا شروع کر دیتی ہے۔ وہ قدرتی طور پر اخلاقی زوال میں مبتلا ہو جائیں گے جب تک اُنہیں ’’زمانے کے وسط میں‘‘ بحال نہیں کیا جاتا۔

بے شمار لوگ ایک خوبصورت لڑکی سے شادی کرتے ہیں اور شادی کے پہلے سالوں میں اُس کے ساتھ خوشی خوشی زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہ محنت کرتا ہے۔ وہ اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے۔ وہاں نئے بچوں کے جنم لینے کی خوشی سے پھولے نہ سمانا اور باپ بننے کی ذمہ داریوں کی خوشی۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد، ’’زمانوں کے وسط میں،‘‘ اُس کے بچے جب اُس کا گھر محفوظ دکھائی دیتا ہے اور بڑھ رہے ہوتے ہیں، بے شمار لوگ ایک بُری عورت کے چُنگل میں پھنس جاتے ہیں۔ بے شمار مرد اور عورتوں کو پتا چلتا ہے کہ بچوں کے بڑے ہو چکنے کے بعد اُن کے گھروں میں دراڑ پڑ چکی ہوتی ہے۔ بے شمار لوگ جواء شروع کر دیتے ہیں یا زندگی میں کامیابی کو دیکھ چکنے کے بعد کاروبار میں دغاباز ہو جاتے ہیں۔ اور میں جانتا ہوں کہ بے شمار بوڑھے مبلغین ایک طویل اور کامیاب مذہبی خُدمت کے بعد تلخ اور کڑوے ہو جاتے ہیں۔ وہ وسطی سال، وہ یکساں سال، حیاتِ نو کی شدید ضرورت کے دور ہوتے ہیں۔

’’اے خداوند، میں نے تیری شہرت سُن لی ہے، اور اے خدا میں تیرے کاموں سے ڈر گیا۔ ہمارے دِنوں میں اُنہیں بحال کر، ہمارے زمانوں میں اُن کی شہرت کر، قہر میں رحم کو یاد فرما‘‘ (حبقوق 3:2).

کیا آپ کو بحال ہونے کی ضرورت ہے؟ یہاں ابھی نیچے آئیں اور خُدا کے سامنے اِس کا اعتراف کریں اور اُس سے آپ کو بحال کرنے کے لیے دعا مانگیں۔ آپ شاید یہاں پہلے آ چکے ہوں، لیکن دوبارہ آئیں، جیسا کہ لوتھر نے کہا۔ آپ آئیں جبکہ ایمی Emi نمبر19 بجاتی ہیں، ’’محبت یہاں ہے Here is Love۔‘‘ اگر آپ ابھی تک گمراہ ہیں، یسوع کے پاس ابھی چلے آئیں، جبکہ ابھی حیاتِ نو یہیں پر ہے۔ ابھی سبز سائیڈ والی کرسی پر چلے آئیں۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بیجنیمن کینکیڈ گریفتھMr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا:
’’اے خُدا، مجھے جانچ Search me, O God‘‘ (زبور139:23۔24)\
’’زندہ خُدا کا روحSpirit of the Living God‘‘ (شاعر دانی ایل آئیورسن Daniel Iverson، 1899۔1977؛ پادری صاحب کی جانب سے ترمیم کی گئی)\
’’خُداوندا، ایک حیاتِ نو کو بھیجLord, Send a Revival ‘‘ (شاعر ڈاکٹر بی۔ بی۔ میکینی Dr. B. B. McKinney، 1886۔1952؛ پادری صاحب کی جانب سے ترمیم کی گئی)\
’’زندہ خُدا کا روحSpirit of the Living God‘‘ (شاعر دانی ایل آئیورسن Daniel Iverson، 1899۔1977؛ پادری صاحب کی جانب سے ترمیم کی گئی)\

لُبِ لُباب

اے خُداوندا، اپنی شہرت کو بحال کر!

REVIVE THY WORK, O LORD!

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’شگایونوت باجے پر حبقوق کی دعا۔ اے خداوند، میں نے تیری شہرت سُن لی ہے، اور اے خدا میں تیرے کاموں سے ڈر گیا۔ ہمارے دِنوں میں اُنہیں بحال کر، ہمارے زمانوں میں اُن کی شہرت کر، قہر میں رحم کو یاد فرما‘‘ (حبقوق 3:1،2).

I.    پہلی بات، ’’اے خُداوندا، میں تیرا خطاب سُن چکا ہوں، اور خُوفزدہ تھا،‘‘
حبقوق3:2الف

II.   دوسری بات، اے خُداوند، میں تیرا خطاب سُن چکا ہوں، اور خوفزدہ تھا،‘‘
 حبقوق3:2 ب؛ یرمیاہ33:3؛ رومیوں12:1 .

III.  تیسری بات، ’’ہمارے دِنوں کے وسط میں اُنہیں بحال کر، ہمارے زمانوں میں اُن کی شہرت کر، قہر میں رحم کو یاد فرما، ‘‘ حبقوق3:2ج۔