Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


حیاتِ نو کے لیے دوبارہ جِہدوجہد کرنا

STRIVING AGAIN FOR REVIVAL
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونئیر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
جمعرات کی شام، 10 اگست، 2017
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Thursday Evening, August 10, 2017

’’جب تک وہ اپنے گناہوں کا اِقرار نہیں کرتے میں اپنے مقام کو واپس چلا جاؤں گا، وہ میرا چہرہ ڈھونڈیں گے؛ اور اپنی مصیبت میں بڑی سرگرمی سے مجھے ڈھونڈیں گے‘‘ (ہوسیع 5:15).

گذشتہ اِتوار کی رات جب آپ کھانا کھا رہے تھے تو میں اپنے آفس میں گیا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ ہم دوبارہ ناکام ہو چکے تھے! حیاتِ نو کے بجائے ہمارے ہاں افراتفری تھی۔ کچھ لوگوں نے بغاوت کی۔ عبادت سے پہلے کچھ لوگ آگے پیچھے بھاگے کرُسیاں بجائیں، ایک کے بعد دوسری عجیب حرکت بے چینی سے کی۔ گرجا گھر نے بے بسی اور پریشانی کو محسوس کیا۔ گرجا گھر نے شیطان اور اُس کے آسیبوں کے قابو کے تحت محسوس کیا۔ میں اپنے گھر کے آفس میں بیٹھا اور رویا۔ میں ہمت ہارنا چاہتا تھا۔ ہم نے اِس قدر سخت کوشش کی تھی اور اِس کے باوجود اِس قدر بُری طرح سے ناکام رہے۔ میں نے بے شمار رہنماؤں سے پوچھا ہمیں آگے کیا کرنا چاہیے۔ اُنہوں نے مجھے بتایا کہ موضوع تبدیل کر لو اور حیاتِ نو کے بارے میں منادی کرنا بھول جاؤ۔ مجھے یوں لگا جیسے خُدا نے کہا، ’’جب تک وہ اپنے گناہوں کا اِقرار نہیں کرتے میں اپنے مقام کو واپس چلا جاؤں گا، وہ میرا چہرہ ڈھونڈیں گے‘‘ (ہوسیع5:15)۔ بیشک میں اِن الفاظ کو جانتا ہوں جو اِسرائیل سے تعلق رکھتے ہوئے نبی کو دیے گئے تھے، لیکن یہ ایک سچائی کو پیش کرتے ہیں جس کا آج ہم پر اِطلاق ہوتا ہے۔ اِس لیے میں تمام رات اپنی مطالعہ گاہ میں بیٹھا اور اِس واعظ کو لکھا۔

I۔ پہلی بات، ہمارا جرم کیا تھا؟

جب میں نے سوچا گذشتہ اِتوار کو کیا رونما ہوا تھا، تو میری سمجھ میں آنا شروع ہو گیا کیا غلط ہوا تھا۔ یہ اِتوار کی صبح شروع ہوا تھا۔ جان کیگن John Cagan نے ’’ابلیس اور حیاتِ نوThe Devil and Revival‘‘ پر ایک سخت واعظ دیا تھا۔ جان نے کہا تھا، ’’حقیقی مسیحیت حالتِ جنگ میں ہے۔

’کیونکہ ہمیں خُون اور گوشت یعنی اِنسان سے نہیں بلکہ تاریکی کی دُنیا کے حاکموں، اِختیار والوں اور شرارت کی رُوحانی فوجوں سے لڑںا ہے جو آسمانی مقاموں میں ہیں‘ (افسیوں 6:NASB12).

ریاست ہائے متحدہ میں، ابلیس اپنی سب سے بڑی چال چل رہا ہے… ابلیس لوگوں کو اِس بات میں یقین کرنے پر کہ دُنیا میں اُن کی جگہ پاک اور محفوظ ہے بے وقوف بناتا ہے، اور اِس لیے وہ روحانی جنگ کے لیے تیاری نہیں کرتے ہیں۔ لیکن خُدا ہمیں بتاتا ہے کہ شیطان حقیقی ہوتا ہے۔ خُدا ہمیں بتاتا ہے کہ ابلیس ہمارے ساتھ جنگ کر رہا ہے۔ خُدا ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
     لاس اینجلز میں ہمارے گرجا گھر میں، ہم ابلیس کی قوت کے بالکل مرکز میں واقع ہیں۔ ہم شیطانیت کے ہجوموں سے گِھرے ہوئے ہیں۔ آسیب اِس شہر کے لوگوں کو قوت کے کُھلم کُھلا مظاہروں کے ذریعے سے غلام نہیں بناتے بلکہ بے اعتقادی کے اندھے پن کے ساتھ ۔ اِسی لیے لاس اینجلز میں ہمارے گرجا گھر میں، ہم خود کو یہ محسوس کرنے کے لیے اِجازت نہیں دے سکتے کہ ہم ایک عام اور صاف جگہ پر ہیں۔ ہم دشمن کے ساتھ میدان جنگ کی اگلی صفوں میں ہیں… ابلیس نہیں چاہتا ہمارا گرجا گھر حیاتِ نو کا تجربہ کرے۔ ابلیس اپنی قوت میں موجود ہر وہ بات کرے گا جو ہمیں حیاتِ نو کا تجربہ کرنے سے روک دے… ابلیس ہم سے چاہتا ہے کہ ہم یقین کر لیں کہ ہمیں حیاتِ نو نہیں مل سکتا۔ لیکن ہمارا تعلق ابلیس سے نہیں ہے۔ ہم ابلیس کی فوج میں غلامی نہیں کرتے۔ یسوع کے خون کے ذریعے سے، ہم خُدا کی فوج میں ہیں… ہم روحانی جنگ میں ابلیس کی مزاحمت کرنے کے لیے بُلائے گئے ہیں… اِس لیے آئیے ہم یقین کر لیں، اور آئیے ہم دعا مانگیں، اور اعتراف کریں، اور معاف کریں، اور اپنے گرجا گھر میں خُدا کے روح کو مدعو کریں۔ ’کیا تو ہمیں پھر سے تازہ دم نہ کرے گا تاکہ تیرے لوگ تُجھ میں مسرور ہوں؟‘‘‘ (زبور85:6)۔

جان کے فصیح اور قوت سے بھرپور واعظ کو شاندار داد ملی تھی! جی ہاں، وہ ایک عظیم پیغام تھا، اور میں نے بھی داد دی تھی! لیکن ہم اِتوار کی رات کو ہی جان کے واعظ کو بھول چکے تھے اور وہی ہمارا جرم تھا! ہم بھول گئے تھے کہ ہمارا گرجا گھر ابلیس کی قوت کے مرکز میں تھا۔ ہم بھول گئے تھے کہ ہم شیطانیت کے ہجوموں سے گِھرے ہوئے تھے۔ ہم بھول چکے تھےکہ شیطان کی سب سے بڑی چال اپنی حقیقت کی جانب سے ہمیں اندھا کر دینا ہوتی ہے۔ ہم بھول گئے تھے کہ شیطان اپنے بس میں موجود ہر وہ کچھ کرے گا جو ہمارے گرجا گھر کو حیاتِ نو کا تجربہ پانے سے روک سکے۔ اور اِسی لیے ہم جنگ کے لیے بِنا تیاری کے گرجا گھر میں گُھسے چلے آئے۔ یہاں تک کہ وہ جو دعا مانگ رہے تھے دعا میں سے اُٹھ کھڑے ہوئے، اور بِنا تیاری کیے شیطان کی قوت میں گُھستے چلے گئے! ہم اتنے ہی بِنا تیاری کے تھے جتنے گتسمنی کے باغ میں شاگرد تھے۔ وہ دعا میں سے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے اور مسیح کو بھول گئے تھے، اُن سپاہیوں سے پرے بھاگ رہے تھے جو نجات دہندہ کو گرفتار کرنے کے لیے آئے تھے! وہ ہمارا جرم تھا! ہم بھول گئے کہ شیطان یہاں پر عبادت کو قتل کرنے کے لیے آیا تھا۔ ہم جیسے پطرس اپنی تلوار کے ساتھ لپکا تھا، تاریکی میں سے تڑپتا ہوا، مکمل طور پر بِنا تیاری کے، مکلمل طور پر مخمسے میں پڑا ہوا، پریشان اور ہارا ہوا۔ ابلیس جیت گیا اور ہمیں شکست ہوئی۔ میں اپنے دفتر میں دوڑا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ میں نے سوچا، ’’ہم حیاتِ نو کبھی بھی نہیں پائیں گے!‘‘ میں نے ایک شکست کھائے ہوئے بوڑھے شخص کی مانند محسوس کیا، جو تاریکی میں نظر بچا کر دبے پاؤں کِھسک لینے کے لیے تیار تھا۔ میں نے خُدا کی جانب سے خُود کو چھوڑا ہوا محسوس کیا۔

’’جب تک وہ اپنے گناہوں کا اِقرار نہیں کرتے میں اپنے مقام کو واپس چلا جاؤں گا، وہ میرا چہرہ ڈھونڈیں گے؛ اور اپنی مصیبت میں بڑی سرگرمی سے مجھے ڈھونڈیں گے، اور اپنی مصیبت میں بڑی سرگرمی سے مجھے ڈھونڈیں گے‘‘ (ہوسیع 5:15).

II۔ دوسری بات، ہمیں اب کیا کرنا چاہیے؟

میں اِقرار کرتا ہوں میں دستبردار ہونے کے لیے تیار تھا جب میں اِتوار کی رات کو گھر پہنچا تھا۔ میں نے تھکا ہوا اور بوڑھا محسوس کیا، اور بے بس، اور بے جان اور ریٹائر ہونے کے لیے اور چلے جانے کے لیے تیار محسوس کیا۔ لیکن پھر مجھے یاد آیا صدر نیکسن نے کیا کہا تھا، ’’انسان ختم نہیں ہو جاتا جب اُسے شکست ہوتی ہے۔ وہ ختم ہوتا ہے جب وہ دستبرداری قبول کر لیتا ہے۔‘‘ اور میں دستبردار ہونے والوں میں سے نہیں ہوں!

میری سوانح حیاتِ کے تعارف میں جان کیگن نے میرے بارے میں یہ بات کہی تھی، ’’اُن کی انتہائی شناخت اِس گرجا گھرکی زندگی کے ساتھ جُڑی ہوئی ہے۔ اُن کے پاس مسیح اور اِس گرجا گھر جو ایک سُپر سٹار اٹھلیٹ ، سیاسی بازی گر اور فاتحین کی مانند ہے کے جواز کے لیے ایک ذہنی یکسوئی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ کلیسیا مسیح کی دُلہن ہے اور اِسی لیے وہ دعا مانگتے ہیں، لڑتے ہیں اور اِس کلیسا کی بھلائی کے لیے منادی کرتے ہیں… ڈاکٹر ہائیمرز یقین رکھتے ہیں اور زندہ مسیحیت کے لیے لڑتے ہیں… ڈاکٹرہائیمرز ہمارے گرجا گھر اور خُدا کے لیے جنگ کرتے رہنا جاری رکھیں گے۔‘‘

یہاں عمدہ اور اچھے نوجوان لوگ ہیں جو مجھے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں شاندار مضبوط نوجوان عورتیں ہیں جو مجھے دیکھتی ہیں۔ مجھے آپ کو نا اُمید نہیں کرنا چاہیے۔ اور میں آپ لوگوں کو نااُمید کروں گا بھی نہیں! سب سے زیادہ اہم، خُدا مجھے دیکھ رہا ہے! اور میں اُس کو بھی نااُمید نہیں کروں گا! میں نے اِس واعظ کو گذشتہ اِتوار کو صبح 3:00 بجے کے بعد اپنے گھر کے دفتر میں لکھا تھا۔ میں نے تب کہا تھا، اور میں اب کہتا ہوں، میں ہمارے گرجا گھر میں حقیقی حیاتِ نو کی جنگ کے لیے ہمت نہیں ہاروں گا! میں اِس منبر پر کھڑا ہو جاؤں گا اور حیاتِ نو کے لیے منادی کروں گا ’جب تک ستارے اپنی جگہ سے گِر نہ پڑیں۔ میں اِس منبر پر سے اُس وقت تک منادی کروں گا جب تک کہ سورج جل نہیں جاتا اور آسمان سیاہ نہیں پڑ جاتے اور زمین خُدا کی سزا کی آگ میں جل کر راکھ نہیں ہو جاتی! اور حیاتِ نو پر میرے واعظ انٹرنیٹ پر صدیوں تک چلتے رہیں گے – دُنیا کے خاتمے کے بغیر!

اور میں آپ میں سے ہر ایک سے ایک اور مرتبہ میری پیروی کرنے کے لیے پوچھ رہا ہوں۔ آپ نے گرجا گھر کی بہت بڑی تقسیم کی بیابانی میں میری پیروی کی تھی۔ آپ نے اِس عمارت کے دو ملین ڈالر اُتارنے کے لیے پیروی کی تھی۔ آپ میں سے کچھ نے تو اُس وقت بھی میری پیروی کی تھی جب آپ کے اپنے بچے اِس دُنیا کی جانب واپس نکل کھڑے ہوئے تھے۔ آپ میں سے کچھ، جیسے نائی ایوز سلاسارNieves Salazar، جوآنا آرٹی آگا Juana Arteaga اور روز شینالٹکوئن Rose Chenault-Quinn نے قبر اور موت تک میری پیروی کی۔ اُن کے لیے خُداوند تیرا شکر ہو! اور اب میں آپ سے ایک اورجنگ میں میری پیروی کرنے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ حیاتِ نو کے لیے جنگ میں میرے پیچھے آئیں اور یہ ابھی ہی کریں!

ہم گذشتہ اِتوار کو ابلیس کے ذریعے سے شکست کھا چکے تھے۔ لیکن ایک شکست جنگ کا فیصلہ نہیں سُنا دیتی۔ ہم اُس وقت تک لڑتے رہیں گے، خُدا کے اچھے وقت میں، وہ آسمان چاک کرتا ہے اور ہمارے گرجا گھر میں قوت کی ایک بہت بڑی لہر کے ساتھ نازل ہوتا ہے۔ ہمیں دعا مانگتے رہنا چاہیے جب تک خُدا ہمیں جواب نہیں دے دیتا۔ ہمیں اپنے گرجا گھر کا دفاع کرنا چاہیے، چاہے کوئی بھی قیمت چکانی پڑے۔ ہمیں ساحلوں پر دعا مانگنی چاہیے، ہمیں زمینوں پر دعا مانگنی چاہیے، ہمیں میدانوں اور سڑکوں پر دعا مانگنی چاہیے، ہمیں پہاڑیوں پر دعا مانگنی چاہیے، ہمیں کبھی بھی شیطان اور اُس کی قوتوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالنے چاہیے۔ ہمیں دعا مانگتے رہنا جاری رکھنا چاہیے جب تک خُدا اپنی پاک آگ ہم میں سے ہر ایک کے دِل اور زندگیوں میں نازل کرنے کے وسیلے سے جواب نہیں دے دیتا! – اور ہمارے گرجا گھر کو قوت میں اور محبت میں ایک نئی زندگی نہیں بخشتا!

’’روح، اب ہمارے تمام دِلوں کو محبت کے ساتھ پگھلا ڈال اور تحریک دے، عالم بالا سے ہم پر پرانے وقتوں کی قوت کی سانس پھونک ڈال۔‘‘

اِسے میرے ساتھ گائیں!

’’روح، اب ہمارے تمام دِلوں کو محبت کے ساتھ پگھلا ڈال اور تحریک دے، عالم بالا سے ہم پر پرانے وقتوں کی قوت کی سانس پھونک ڈال۔‘‘
      (’’پرانے وقتوں کی قوت Old-Time Power‘‘ شاعر پال ریڈر Paul Rader، 1879۔1938)۔

’’تم میں سے کون سا باپ ایسا ہے کہ جب اُس کا بیٹا مچھلی مانگے تو اُسے مچھلی نہیں بلکہ سانپ پکڑا دے؟ یا انڈا مانگے تو اُس کے ہاتھ میں بِچھو تھما دے۔ پس جب تُم بُرے ہو کر بھی اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دینا جانتے ہو تو کیا آسمانی باپ اُنہیں پاک روح افراط سے عطا نہ فرمائے گا جو اُس سے مانگتے ہیں‘‘ (لوقا 11:11۔13).

آؤ، میری جان، تمہارا لباس تیار ہے،
   یسوع دعا کا جواب دینے سے پیار کرتا ہے؛
اُس نے خود تمہیں دعا کرنے کے لیے کہا ہے،
   اِس لیے وہ تمہیں انکار نہیں کرے گا،
اِس لیے وہ تمہیں انکار نہیں کرے گا۔

جب تم بادشاہ کے حضور میں جا رہے ہو؛
   اپنے ساتھ ڈھیروں دعائیں لے کر جاؤ؛
کیونکہ اُس کی قوت اور فضل ایسا ہے
   کوئی بھی کبھی ضرورت سے زیادہ مانگ نہیں سکتا،
کوئی بھی کبھی ضرورت سے زیادہ مانگ نہیں سکتا۔
   (’’آؤ، میری جان، تمہار لباس تیار ہے Come, My Soul, Thy Suit Prepare‘‘ شاعر جان نیوٹن John Newton، 1725۔1807)۔

اور میں ایک بار کے لیے تو جان کیگن کے ساتھ مکمل طور سے متفق ہوں جب اُنہوں نے کہا، ’’خُدا ہمیں نئی زندگی بخشنا چاہتا ہے تاکہ ہم اُس میں شادمانی منا سکیں۔ خُدا ہمارے گرجا گھر سے نہیں چاہتا کہ وہ ایک بہت بڑی کوشش کی خصوصیت اور صرف تھوڑی سی کامیابی کی وجہ سے جانا جائے۔ خُدا نہیں چاہتا کہ ہم حوصلہ ہاریں۔ خُدا ہمارے گرجا گھر کو ایک روشنی کے مینار اور ایک بیکن کی طرح دُنیا کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ خُدا چاہتا ہے کہ ہم دُنیا میں سے آنے والے بشروں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ ہوں۔ خُدا ہمارے گرجا گھر کو اپنا گھر بنانا چاہتا ہے، جہاں پر خُدا آ سکے، اور اپنے لوگوں کے ساتھ موجود ہو۔ لیکن خُدا اپنے لوگوں کے ساتھ موجود نہیں ہو سکتا جہاں پر منافقت اور مسترد کیا جانا ہوتا ہے۔ خُدا نیچے نہیں آئے گا اور اُن لوگوں میں نہیں بسے گا جو حسد اور بُرے احساسات کے ساتھ بھرے ہوئے ہیں۔ خُدا کڑواہت اور اِختلافات والی جگہ پر نیچے نازل نہیں ہوگا۔ خُدا اُن لوگوں کے ساتھ موجود رہنا نہیں چاہتا جو خود غرض ہیں۔ خُدا اُن لوگوں کے ساتھ موجود رہنا نہیں چاہتا جو زیادہ تر صرف اپنی ہی پرواہ کرتے ہیں۔ خُدا اُن لوگوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہے [جو ایک دوسرے کے ساتھ اپنے گناہ کا اعتراف کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے دعا مانگتے ہیں کہ اُنہیں شفا ملے]۔ یہ ہی وجہ ہے کہ خُدا ہمیں بُلاتا ہے ’ایک دوسرے کے ساتھ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کے لیے اور ایک دوسرے کے لیے دعا مانگنے کے لیے اور ہم شفا پا جائیں‘ (یعقوب5:16)۔ خُدا ہمیں حیاتِ نو بھیج سکتا ہے۔ اپنی غلطیوں اور گناہوں کا اعتراف کر لیں تاکہ ہم اُس میں شادمانی منا سکیں۔ اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیں تاکہ وہ آپ کو شفا بخش سکے اور آپ کو خوشی دے سکے!‘‘ میں نے جانJohn کا حوالہ دیا کیونکہ میں بذاتِ خود یہ بات بہتر طور پر نہ کہہ پاتا! جان دُرست تھا، اور میں مکمل طور پر اُس کے ساتھ متفق ہوں! آئیے حیاتِ نو کے لیے دعا مانگیں جب تک کہ خُدا ہمارے درمیان نازل نہیں ہو جاتا!

’’کاش کہ تُو آسمان کو چاک کر دے اور نیچے اُتر آئے، اور پہاڑ تیرے حضور میں لرزنے لگیں! جس طرح آگ سوکھی ٹہنیوں کو جلا دیتی ہے اور پانی میں اُبال لاتی ہے، اُسی طرح تُو نیچے آ کر اپنا نام اپنے دشمنوں میں مشہور کر اور تیری حضوری میں قوموں پر کپکپی طاری ہو جائے! کیونکہ جب تُو نے ایسے بھیانک کام کیے جن کی ہمیں توقع نہ تھی، تب تُو نیچے اُتر آیا اور پہاڑ تیرے سامنے تھر تھرا اُٹھے‘‘ (اشعیا 64:1۔3).

لیکن کچھ اور بھی ہے جو ہمیں کرنا چاہیے، دعا مانگنے کے ساتھ ساتھ۔ یسوع نے بارہا کہا، ’’چوکنا رہو اور دعا مانگو۔‘‘ گذشتہ اِتوار کو ہم نے دعا مانگی، لیکن ہم میں سے بے شمار ’’چوکنا‘‘ نہیں رہے۔ وہ لڑکے جو اِدھر اُدھر کُرسیاں بجا رہے تھے چوکنے نہیں رہے تھے۔ وہ لوگ جنہوں نے لوگوں کو غلط جگہوں پر بیٹھا دیا چوکنے نہیں رہے تھے۔ بے شمار دوسرے لوگوں نے ایک کے بعد دوسری بے وقوفانہ حرکت کی کیونکہ وہ چوکنے نہیں رہے تھے۔ یسوع نے کہا، ’’جاگتے اور دعا کرتے رہو تاکہ آزمائش میں نہ پڑو‘‘ (مرقس14:38)۔ ہم گذشتہ اِتوار کو شکست کھا گئے تھے کیونکہ ہم ابلیس کے لیے چوکنا نہیں رہے تھے! میں آپ سے کہتا ہوں مہربانی سے اِس اِتوار کی شام آپ جوکچھ بھی کریں احتیاط کے ساتھ چوکنے رہیں۔ حیات نو کے لیے دعا مانگنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا اگر ہم عبادت میں کیا کرتے ہیں اُس کو احتیاط کے ساتھ نہ دیکھیں۔ بس خاموشی آئیں، بیٹھیں اور دعا مانگیں۔ اِدھر اُدھر جلد بازی میں مت دوڑیں جیسے آپ جانتے ہی نہیں ہیں کہ کیا کرنا ہے! چوکنے رہیں اور دعا کرتے رہیں۔

’’اپنی مصیبت میں بڑی سرگرمی سے مجھے ڈھونڈیں گے‘‘ (ہوسیع5:15)۔ ہم مصیبت میں رہ چکے ہیں۔ لیکن ہمت مت ہاریں۔ اِتوار کی شام کو دعا میں اور چوکسی میں آئیں۔ یہ سوچتے ہوئے آئیں کہ آپ کو خُدا سے کیا اعتراف کرنے کی ضرورت ہے، اور آپ کو کس کے پاس جانا چاہیے اور اعتراف کرنا چاہیے اور کس کے لیے دعا مانگنی چاہیے! پھر شیطان جیت نہیں پائے گا۔ پھر خُدا کو جلال ہو گا اور وہ شاید اُس حیاتِ نو کو ہم پر بھیج دے جس کی ہمیں اِس قدر شدت کے ساتھ ضرورت ہے۔ خُدا حیاتِ نو کو بھیج سکتا ہے۔ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں تاکہ ہم اُس میں شادمانی منا سکیں۔ دعا مانگیں کہ خُداوند ہمارے دِلوں کو ایک دوسرے کی غلطیوں کا اعتراف کرنے کے لیے کھولے، تاکہ ہم اُس میں شادمانی منا سکیں۔ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں تاکہ خُداوند ہمیں خوشی بخش سکے!

میں آج کی شام آپ سے ایک دوسرے سے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کے لیے کہنے نہیں جا رہا ہوں۔ لیکن میں وہ اِتوار کی رات کو کہوں گا۔ آج کی شام میں آپ سے چاہتا ہوں کہ دو دو کر کے یا تین تین ہو کر خُدا سے آپ پراور دوسروں پر یہ ظاہر کرنے کے لیے دعا مانگیں کہ آپ کو اِتوار کی رات کو کس بات کا اعتراف کرنے کی ضرورت ہے۔ جب ہماری بہن ’’مجھے دعا کرنا سیکھا دے Teach Me to Pray‘‘ بجائیں تو میں آپ سے چاہتا ہوں خُدا سے دِلوں کو پِگھلانے اور اِتوار کی شام کو گناہ کا اعتراف کرنے کے لیے اکٹھے ہو کر دعا مانگیں۔

اب کھڑے ہو جائیں اور گائیں، ’’مجھے دعا کرنا سیکھا دے Teach Me to Pray۔‘‘ یہ آپ کے گیتوں کے ورق پر نمبر 2 ہے۔

مجھے دعا کرنا سیکھا، خُداوند، مجھے دعا کرنا سیکھا؛ یہی دِن اور رات میرے دِل کی پُکار ہے؛
میں تیری مرضی اور تیری راہ کا منتظر ہوں؛ مجھے دعا کرنا سیکھا، خداوند، مجھے دعا کرنا سیکھا۔

دعا میں قوت، خُداوندا، دعا میں قوت! یہاں گناہ اور دُکھ اور خُدشوں کی زمین میں؛
لوگ برگشتہ اور مر رہے ہیں، لوگ نااُمیدی میں ہیں؛ ہائے مجھے قوت بخش دے، دعا میں قوت!

میری کمزور مرضی کو، خُداوند، تو ہی از سر نو نیا کر سکتا ہے؛ میری گناہ سے بھرپور فطرت کو تو ہی کُچل سکتا ہے؛
مجھے بالکل ابھی نئی قوت کے ساتھ لبریز کر دے؛ دعا مانگنے کی قوت اور عمل کرنے کی قوت بخش دے۔

اب 18 نمبر گائیں، ’’اِس کو آگے پھیلائیںPass It On۔‘‘

آگ کو جلانے کے لیے صرف ایک چنگاری کی ضرورت پڑتی ہے،
اور جلد ہی وہ جو اُس کے اِردگِرد ہیں اُس کی حدت سے گرمائش پا سکتے ہیں،
ایسا ہی خُدا کی محبت کے ساتھ ہوتا ہے، ایک مرتبہ آپ اِس کا تجربہ کر لیں،
آپ اُس کی محبت کو ہر کسی میں پھیلائیں گے، آپ اِس کو آگے پھیلانا چاہیں گے۔
بہار کیسا شاندار وقت ہے، جب سارے درخت کونپلیں نکال رہے ہوتے ہیں،
پرندے چہچہانا شروع کرتے ہیں، پھول اپنے کھلنے کو شروع کرتے ہیں،
ایسا ہی خُدا کی محبت کے ساتھ ہوتا ہے، ایک مرتبہ آپ اِس کا تجربہ کر لیں،
آپ اُس کو گانا چاہیں گے، یہ چشمے کی مانند تازہ ہوتا ہے۔ آپ اِس کو آگے پھیلانا چاہیں گے۔

میرے دوست، میں آپ کے لیے خواہش کرتا ہوں، یہ خوشی جو میں نے پائی ہے،
آپ اُس [خُداوند] پر انحصار کر سکتے ہیں، اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا آپ کہاں بندش میں ہیں،
میں پہاڑوں کی چوٹیوں سے اِس کو پکاروں گا، میں چاہتا ہوں میری دُنیا جان جائے،
مسیح کی محبت میرے پاس چلی آئی ہے، میں اِس کو آگے پھیلانا چاہتا ہوں۔
   (’’اِس کو آگے پھیلائیں Pass It On‘‘ شاعر کرٹ قیصر Kurt Kaiser، 1969؛ پادری صاحب نے ترمیم کی)۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کینکیڈ گریفتھ نے گایا تھا:
’’ہائے زندگی کی سانس O Breath of Life‘‘ (شاعر بیسی پی۔ ہیڈ Bessie P. Head، 1850۔1936)۔

لُبِ لُباب

حیاتِ نو کے لیے دوبارہ جِہدوجہد کرنا

STRIVING AGAIN FOR REVIVAL

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونئیر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’جب تک وہ اپنے گناہوں کا اِقرار نہیں کرتے میں اپنے مقام کو واپس چلا جاؤں گا، وہ میرا چہرہ ڈھونڈیں گے؛ اور اپنی مصیبت میں بڑی سرگرمی سے مجھے ڈھونڈیں گے‘‘ (ہوسیع 5:15).

I.    پہلی بات، ہمارا جرم کیا تھا؟ افسیوں 6:12؛ زبُور 85:6 .

II.   دوسری بات، ہمیں اب کیا کرنا چاہیے؟ لوقا 11:11۔13؛ یعقوب 5:16؛
اشعیا64:1۔3؛ مرقس 14:38 .