Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


حیاتِ نو مسترد کیے جانے کا علاج کرتا ہے

REVIVAL CURES REJECTION
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
بدھ کے دِن کی شام، 9 اگست، 2017
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Wednesday Evening, August 9, 2017

’’محبت میں خوف نہیں ہوتا بلکہ کامل محبت خوف کو دُور کر دیتی ہے کیونکہ خوف کا تعلق سزا سے ہوتا ہے اور جو کوئی خوف رکھتا ہے وہ محبت میں کامل نہیں ہوتا‘‘ (1۔ یوحنا 4:18).

ایک مشہورومعروف نفسیات دان نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں 288 خوفوں کی فہرست ہے، وہ خوف جن کا تجربہ لوگ زندگی میں کرتے ہیں – وہ 288 ہیں! چھ سب سے زیادہ عام خوف ہیں مسسترد کیے جانے کے خوف، موت کے خوف، بڑھاپے کے خوف، غربت کے خوف، بیماری کے خوف اور تنقید کے خوف۔ اُس نفسیات دان نے پھر کہا، ’’مسترد کیے جانے کے خوف تمام خوفوں میں سب سے زیادہ بڑے خوف ڈر یا خدشات ہیں۔ مسترد کیے جانے کا خوف موت کے خوف کے مقابلے میں بہت مضبوط ترین ہوتا ہے!‘‘ اِس کے بارے میں سوچیں! لوگ مسترد کیے جانے کے مقابلے میں مر جانے کو ترجیح دیں گے!

ڈاکٹر کرسٹوفر کیگن غالباً کسی دوسرے شخص کے مقابلے میں مجھے کہیں بہتر طور پر جانتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا، ’’ڈاکٹر ہائیمرز ایک عام خاندان میں نہیں پلے بڑھے تھے۔ اگر اُنہوں نے پرورش پائی ہوتی تو وہ کہیں زیادہ باہررہنے والے اور گُھلنے ملنے والے ہوتے۔ لیکن اِن تمام متحرکات اور تردید کیے جانے نے اِن کو کہیں اور زیادہ تنہائی پسند کر دیا – ایک ہستی جو باطن میں دیکھتی ہے۔ آپ شاید اُن کے بارے میں ایک تنہا پسند کے طور نہ سوچتے ہوں کیونکہ وہ بہت اچھی منادی کرتے ہیں۔ ایک اندر سے وہ ایک حساس انسان ہیں، خود اپنی کمزوری سے واقف۔‘‘ ڈاکٹر کیگن دُرست تھے۔ میں خوش لوگوں کے ہجوم میں ہو سکتا ہوں، اُن کی رفاقت سے خوش ہوتا ہوا، جب اچانک میرا موڈ بدلتا ہے اور میں وجودیت سے متعلق کرب اور تنہائی کی تکلیف اور مسترد کیے جانے اور ذہنی دباؤ کو محسوس کرتا ہوں۔ وہ واحد وقت جب میں مسترد کیے جانے کو محسوس نہیں کرتا اُس لمحے ہوتا ہے جب میں تنہا ہوتا ہوں یا جب میں خُدا کی حضوری کو محسوس کرتا ہوں۔

وہ ادوار جب میں نے گرجا گھر میں گھر جیسا محسوس کیا حیاتِ نو کے ادوار تھے – جب خُدا اِس قدر حقیقی تھا کہ اُس نے میرے مسترد کیے جانے اور تنہائی کے احساسات کو نکال باہر پھینکا۔

یہ ہی وجہ ہے کہ میں اِس قدر بہتر طور پر سمجھتا ہوں کہ نوجوان لوگ کیسا محسوس کرتے ہیں جب وہ گرجا گھر میں آتے ہیں۔ ہم اُنہیں قبولیت اور محبت پیش کرتے ہیں۔ لیکن اُن کے چند ایک مرتبہ آ چکنے کے بعد ہم سوچتے ہیں وہ ’’اندر‘‘ رچ بس گئے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں وہ اب ٹھیک ہیں۔ جلد ہی وہ ویسے ہی کم درجے والے اور مسترد کیے ہوئے محسوس کرتے ہیں جیسے وہ آنے سے پہلے کرتے تھے۔ صرف وہی جو قبولیت کو محسوس کیے بغیر ٹھہرتے ہیں ساتھ چلنے کے اہل ہوتے ہیں۔ وہ ٹھہرتے ہیں جیسے میں ٹھہرا تھا۔ حالانکہ میں نے مسترد کیا ہوا محسوس کیا تھا، میں گرجا گھر میں ٹِکا رہا تھا کیونکہ اِس کے علاوہ کہیں اور جانے کی راہ نہیں تھی۔ میں ایک تنہائی پسند انسان تھا، لیکن کم از کم گرجا گھر میں بے شمار لوگ ہوتے تھے۔ لہٰذا میں نے قبول کیا ہوا محسوس کرنے کا دکھاوا کیا حالانکہ اندر سے میں دُکھی تھا اور مسترد کیا ہوا محسوس کرتا تھا۔ اِتوار کی راتوں کو، جب میں گھر جایا کرتا، تو مسترد کیے جانے کا احساس تقریباً لبریز ہو جایا کرتا تھا۔ ایک مشہور گیت کے الفاظ میرے ذہن میں گردش کیا کرتے تھے جب میں گھر کی جانب گاڑی میں جایا کرتا تھا، ’’قدرتی طور پر، دوبارہ تنہاAlone again, naturally۔‘‘

گرجا گھر میں ایک نوجوان شخص قبولیت اور محبت کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اُنہیں صرف سردمہری اور مسترد کیے جانا ملتا ہے۔ تقریباً تمام کے تمام نوجوان لوگ جو گرجا گھر کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ایسا کرتے ہیں کیونکہ گرجا گھر وہ مہیا کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے جس کا یہ وعدہ کرتا ہے۔ ہم گاتے ہیں

گرجا کرنے کے لیے گھر چلے آئیں اور کھائیں،
پیاری رفاقت کے لیے اِکھٹے ہوں،
یہ کافی پیاری دعوت ہوگی
جب ہم کھانا کھانے کے لیے بیٹھتے ہیں۔

وہ ہمیں یہ گاتا ہوا سُنتے ہیں اور دوسروں کی بے نفسی کو محسوس کرتے ہیں۔ وہ گرجا گھر کی جانب ایک تمسخرانہ روئیہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اُن کے چہروں پر ایک بے نفس سی مسکراہٹ ہوتی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں ہم ’’پیاری رفاقت‘‘ کے بارے میں جھوٹ بول رہے ہیں۔ وہ ’’جب ہم کھانا کھانے کے لیے بیٹھتے ہیں تو پیاری رفاقت‘‘ کو محسوس نہیں کرتے۔ وہ سوچتے ہیں، ’’یہ لوگ ’پیاری رفاقت‘ کے بارے میں باتیں تو کرتے ہیں لیکن یہ اِس کو محسوس نہیں کرتے۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر ہائیمرز بھی اِس کو محسوس نہیں کرتے۔‘‘ اِسی لیے، وہ دُنیا کی جانب واپس دوڑ جاتے ہیں۔ وہ دُنیا کی جانب واپس اِس لیے چلے جاتے ہیں کیونکہ وہ گرجا گھر کے مقابلے میں کوئی اِس قدر بدترین محسوس نہیں ہوتی۔ اور کم از کم دُنیا ’’پیاری رفاقت‘‘ کے بارے میں جھوٹ نہیں بولتی۔ کم از کم دُنیا میں آپ کو شاید ایک دوست مل ہی جائے جو آپ کو قبول کرتا ہو۔ کچھ ایسا جو گرجا گھر میں آپ کو کبھی بھی نہیں ملتا۔ یہاں آپ کو صرف منافقت اور سردمہری ملتی ہے اور مسترد کیے جانا ملتا ہے۔

کیا بات ہمیں گرجا گھر میں مسیحی محبت کو پنپنے سے روکتی ہے؟ یہ خوف ہے جو ہماری حقیقی مسیحی محبت کو لُٹتا ہے۔ وہ میرے بارے میں کیا سوچتے ہونگے؟ وہ میرے بارے میں کیا کہیں گے؟ کیا ہو اگر وہ واقعی میں میرے بارے میں جان گئے؟ کیا ہو اگر وہ واقعی میں جان گئے میں کیا سوچتا یا کیسا محسوس کرتا ہوں؟ وہ مجھے مسترد کر دیں گے – یہ ہے جو وہ کریں گے! اور مسترد کیے جانے کا خوف سب سے بڑا خوف ہوتا ہے – موت کے خوف سے بھی بڑا خوف! بیماری کے خوف سے بھی بڑا خوف۔ اتنی وسیع دُنیا میں کسی دوسرے خوف کے مقابلے میں بہت بڑا!

اِس بات کو شاعر رابرٹ فراسٹ Robert Frost نے بخوبی بیان کیا۔ اُن کی نظم ’’انکشاف Revelation‘‘ کہلاتی ہے۔

ہم اپنے لیے ایک الگ جگہ بناتے ہیں
اُن نرم الفاظ کے پیچھے جو چُبھتے اور توہین کرتے ہیں،
لیکن ہائے، یہ بے چین دِل
جب تک کوئی ہمیں واقعی میں باہر سے ڈھونڈ نہ لے۔

یہ بدقسمتی ہے اگر معاملہ ایسا ہوتا ہے
(یا ہم کہتے ہیں) کہ آخر میں
ہم متاثر کرنے کے لیے اصلیت بتاتے ہیں
ایک دوست کے بارے میں سمجھنا۔

لیکن ایسا سب کے ساتھ ہوتا ہے، اُن بچوں سے لیکر جو کھیلتے ہیں
چُھپن چُھپائی سے لیکر دور خُدا تک کے لیے،
لہٰذا وہ تمام جو اِس قدر بخوبی چُھپ جاتے ہیں
اُنہیں بولنا چاہیے اور ہمیں بتانا چاہیے وہ کہاں پر ہیں۔
   (’’انکشاف Revelation‘‘ شاعر رابرٹ فراسٹ Robert Frost، 1874۔1963)۔

اور یہ بات ہمیں ہماری تلاوت تک لے آتی ہے۔

’’محبت میں خوف نہیں ہوتا بلکہ کامل محبت خوف کو دُور کر دیتی ہے کیونکہ خوف کا تعلق سزا سے ہوتا ہے اور جو کوئی خوف رکھتا ہے وہ محبت میں کامل نہیں ہوتا‘‘ (1۔ یوحنا 4:18).

ہم کیسے مسترد کیے جانے کے خوف پر قابو پاتے ہیں؟ کامل محبت کے ذریعے سے! لیکن ہم کیسے ’’کامل‘‘ محبت پاتے ہیں؟ صرف ’’میں آپ سے محبت کرتا ہوں! میں آپ سے محبت کرتا ہوں! کہہ دینے ہی سے نہیں۔ 1 یوحنا3:18 پر نظر ڈالیں، ’’میرے چھوٹے بچو، ہم محض کلام اور زبان ہی سے نہیں بلکہ سچائی کے ساتھ اپنے عمل سے بھی محبت کا اِظہار کرتے ہیں۔‘‘ ہم وہ کیسے کرتے ہیں؟ یہ کوئی آسان نہیں ہوتا۔ ہم یہ کرنے سے ڈرتے ہیں۔ ہمیں شاید مسترد کر دیا جائے!!! لیکن ہمیں یہ کرنا ہی ہوتا ہے اگر ہم واقعی میں سچے طور پر حیاتِ نو کو چاہتے ہیں۔ ہمیں یہ کرنے کے لیے خود کو مجبور کرنا ہی ہوتا ہے۔ ہمیں ایک دوست کی سمجھ کو متاثر کرنے کے لیے اصلیت بولنی ہی پڑتی ہے۔‘‘ لہٰذا وہ تمام جو [خود کو] بخوبی چُھپا لیتے ہیں اُنہیں بولنا چاہیے اور ہمیں بتانا چاہیے وہ کہاں پر ہیں۔‘‘ یہ ہے وہ انکشاف جو ہمارے پاس ضروری ہونا چاہیے اگر ہم واقعی میں حیاتِ نو چاہتے ہیں! مہربانی سے 1 یوحنا1:9 اور 10 پڑھیں۔ کھڑے ہو جائیں جب میں یہ پڑھوں۔

’’لیکن اگر ہم اپنے گناہوں کا اِقرار کریں تو وہ جو سچا اور عادل ہے ہمارے گناہ معاف کر کے ہمیں ساری ناراستی سے پاک کر دے گا۔ اگر ہم کہیں کہ ہم نے گناہ نہیں کیا تو اُسے جھوٹا ٹھہراتے ہیں اور اُس کا کلام ہم میں نہیں ہے‘‘ (1۔ یوحنا 1:9، 10).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا ہی حیاتِ نو کی چابی ہے۔ اگر ہم خُدا کے خلاف گناہ کر چکے ہیں تو آنسو کے ساتھ اُس خُداوند سے اپنے گناہوں کا اعتراف کر لینا ہی کافی ہوتا ہے۔ محض لفظوں میں نہیں، بلکہ آنسوؤں کے ساتھ، جیسے وہ چین میں کرتے ہیں، جیسے وہ تمام حقیقی حیاتِ نو میں کرتے ہیں۔ برائن ایڈورڈز نے بجا طور پر کہا، ’’سزایابی کے آنسوؤں کے بغیر حیاتِ نو نامی کوئی چیز نہیں ہوتی‘‘ (حیاتِ نوRevival، صفحہ 115)۔ دوبارہ، اُںہوں نے کہا، ’’گناہ کی عاجزانہ اور بے سکون، گہری سزایابی کے بغیر کوئی ٓحیاتِ نو نہیں ہوتا‘‘ (صفحہ116)۔ گہری سزایابی کی وجہ اِس لیے ہوتی ہے تاکہ لوگ اپنے گناہ کو محسوس کریں اور اِس سے نفرت کریں‘‘ (صفحہ 112)۔ گناہ کی سزایابی حیات نو کے لیے چابی ہے! اگر ہم خُدا کے خلاف گناہ کر چکے ہیں، تو ہم آنسوؤں کے ساتھ خُدا سے اعتراف کر سکتے ہیں، اور وہ ’’ہمیں تمام ناراستی سے پاک صاف‘‘ کر دے گا۔ کھڑے ہو جائیں اور گائیں ’’اے خُداوندا، میری تلاش کرSearch me, O God۔‘‘

’’اَے خدا! تُو مجھے جانچ اور میرے دل کو پہچان:
مجھے آزما اور میرے مضطرب خیالات کو جان لے:
اور میرے دل کو پہچان؛
مجھے آزما اور میرے مضطرب خیالات کو جان لے؛
اور دیکھ، مجھ میں کوئی بُری روش تو نہیں،
اور مجھے ابدی راہ میں لے چل۔‘‘
(زبور 139:23، 24).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ ہم نے کبھی بھی مکمل حیاتِ نو نہیں پایا کیونکہ ہم نے ہمیشہ خود کو دھیمے لفظوں کے پیچھے رکھا جو طنز کرتے اور مذاق اُڑاتے ہیں (ٹھٹھا، حقارت آمیز مسکراہٹ، تضحیک، لطیفے کرنا)۔‘‘

لیکن، دوسری بات، ہمیں مذید اور گہرائی تک جانا چاہیے۔ یعقوب5:16 کھولیں۔ مہربانی سے کھڑے ہو جائیں جب میں اِس کو پڑھوں۔

’’تُم ایک دُوسرے کے سامنے اپنے گناہوں کا اِقرار کرو اور ایک دُوسرے کے لیے دعا کرو تاکہ شفا پاؤ‘‘ (یعقوب 5:16).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں، میتھیو ھنریMatthew Henry نے کہا،

یہاں پر جو اعتراف درکار ہے وہ مسیحیوں کا ایک دوسرے کے بارے میں ہے… ہماری مصالحت کے ساتھ اعتراف کی ضرورت ہے جیسا کہ ہمارے ساتھ عدم اتفاق ہوتا ہے جہاں وہ اپنی دعاؤں کے ذریعے سے شاید ایک دوسرے کی مدد کر پائیں تاکہ اپنے گناہ کی معافی حاصل ہو جائے اور اُن کے خلاف قوت مل جائے۔ وہ جو ایک دوسرے کے ساتھ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں اُنہیں ایک دوسرے کے لیے دعا مانگنی چاہیے۔

یعقوب5:16 پر نئے عہد نامے کا اِطلاق ہوا تبصرہ The Applied New Testament Commentary یہ خیال پیش کرتا ہے،

سچی رفاقت پانے کا مطلب ہوتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں۔ جب ہم ایسا کرتے ہیں تو ہمیں روحانی شفا ملے گی۔ ہمیں ایک دوسرے سے باتوں کو چُھپانا نہیں چاہیے۔

کیونکہ ہر مسیحی کے دوسرے کی جانب غلطیاں ہوتی ہیں۔ ہماری موروثی خودغرضی کی وجہ سے ہم تمام لوگ ایک دوسرے کے لیے اپنی محبت میں آہستہ آہستہ اِخلاقی طور پر گِرتے چلے جاتے ہیں۔ گرجا گھر میں کوئی آپ کے ساتھ ایک بے رحمانہ بات کہتا ہے، یا آپ کے بارے میں کہتا ہے۔ کوئی آپ کے بارے میں پرواہ کرتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ کوئی آپ کے اُس کام کو جو آپ خُداوند کے لیے کرتے ہیں سراھاتا نہیں ہے۔ کوئی آپ کو پریشان کرنے کے لیے کچھ کرتا ہے۔ کوئی آپ کے احساسات کو مجروح کرتا ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ اپنی غلطیوں کو نہیں چھپانا چاہیے۔ خُدا کی حضوری کو پانا ایک انتہائی قیمتی بات ہے۔ اپنی تکلیفوں اور غموں پر ڈٹے رہنا ہمیں ایک دوسرے سے محبت کرنے سے روکتا ہے۔ اکثر اوقات گناہ کی یہ گہری سزایابی کھلم کُھلا اور عوامی اعتراف کی جانب رہنمائی کرتی ہے… جہاں غلط تعلقات ایک جانب رکھ دیے جاتے [ہیں]… مسرت اور جلال کے سامنے، یہاں سزایابی ہوتی ہے، اور یہ خُدا کے لوگوں کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔ آنسو اور خُدائی دُکھ ہوتا ہے۔ غلطیوں کو دُرست کرنا ہوتا، خُفیہ باتیں، جو لوگوں کی آنکھوں سے دور ہوتی ہیں، باہر پھینکیں جاتی ہیں، اور بُرے تعلقات کی کُھلم کُھلا اصلاح کی جاتی ہے۔ اگر ہم یہ [کرنے کے لیے] تیار نہیں ہوتے ہیں، تو ہمیں حیات نو کے لیے بہتر ہے کہ دعا نہیں مانگنی چاہیے۔ حیاتِ نو کا اِرادہ گرجا گھر کی لطف انگیزی کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ اُس کی پاکیزگی کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ آج ہمارے پاس ایک ناپاک گرجا ہے کیونکہ مسیحی گناہ کو محسوس نہیں کرتے ہیں[اور ایک دوسرے کے ساتھ اِس کا آنسوؤں میں اعتراف نہیں کرتے]‘‘ (ایڈورڈز Edwards، حیاتِ نو Revival، صفحات119، 120)۔

ہم اپنے دِلوں میں خوشی نہیں منا سکتے جب تک ہم آنسوؤں کے ساتھ ایک دوسرے کے گناہوں کا اِعتراف نہیں کرتے۔ یہ بارہا چین میں رونما ہوتا ہے۔ تو پھر ہمارے گرجا گھر میں کیوں نہیں؟ ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کے لیے نہایت متکبر ہوتے ہیں۔ ہم دوسرے کیا سوچیں گے اِس بارے میں خوفزدہ ہوتے ہیں۔ ابلیس اِس خوف کو ہمیں اعتراف کرنے سے روکنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ابلیس جانتا ہے کہ وہ ہمیں دوسرے ہمارے بارے میں کیا کہیں گے سے خوفزدہ کر دینے کے ذریعے سے حیاتِ نو کی خوشی سے دور رکھ سکتا ہے۔ ابلیس جانتا ہے کہ ہمیں خوفزدہ کر دینا ہمارے گرجا گھر کو کمزوری میں اور نقصان میں مبتلا کر دے گا۔ دوسرے کیا سوچیں گے اِس بات کا خوف ہمیں اعتراف کرنے سے اور ہماری جانوں کو شفا پانے سے روکتا ہے۔ اشعیا نے کہا، ’’تم کون ہو جو فانی انسان سے اور آدم زاد جو محض گھاس ہیں ڈرتے ہو… اور اپنے خالق اور خداوند کو بھول جاتے ہو‘‘ (اشعیا51:12، 13)۔ بائبل کہتی ہے، ’’اِنسان کا خوف پھندا ثابت ہو سکتا ہے‘‘ (اِمثال29:25)۔ مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور اِمثال28:13 پڑھیں۔ یہ سیکوفیلڈ مطالعہ بائبل کے صفحہ 692 پر ہے۔ ہر کوئی اِس کو باآوازِ بُلند پڑھے!

’’جو اپنے گناہ چھپاتا ہے کامیاب نہیں ہوتا، لیکن جو اقرار کرکے اُن کو ترک کرتا ہے، اُس پر رحم کیا جائے گا‘‘ (امثال 28:13).

’’اے خُداوندا، میری تلاش کرSearch me, O God‘‘ – اسے گائیں۔

’’اَے خدا! تُو مجھے جانچ اور میرے دل کو پہچان:
مجھے آزما اور میرے مضطرب خیالات کو جان لے:
اور میرے دل کو پہچان؛
مجھے آزما اور میرے مضطرب خیالات کو جان لے؛
اور دیکھ، مجھ میں کوئی بُری روش تو نہیں،
اور مجھے ابدی راہ میں لے چل۔‘‘
   (زبور 139:23، 24).

’’جیتے جاگتے خُداوند کی روح Spirit of the Living God‘‘! اِسے گائیں!

جیتے جاگتے خُداوند کی روح، نیچے آ، ہم دعا مانگتے ہیں۔
جیتے جاگتے خُداوند کی روح، نیچے آ، ہم دعا مانگتے ہیں۔
مجھے پگھلا، مجھے ڈھال، مجھے توڑ، مجھے موڑ۔
جیتے جاگتے خُداوند کی روح، نیچے آ، ہم دعا مانگتے ہیں۔
   (جیتے جاگتے خُداوند کی روح Spirit of the Living God‘‘ شاعر ڈینیئل آئیورسن Daniel Iverson، 1899۔1977؛
      ڈاکٹر ہائیمرز نے ترمیم کی)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

مسیح نے کہا، ’’مبارک ہیں وہ جو ماتم کرتے ہیں۔‘‘ یہ اُن کی جانب حوالہ دیتی ہے جو اپنے گناہ کا اعتراف کرتے ہیں اور اِس پر روتے ہیں۔ گناہ اُن کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہوتا ہے جو حیاتِ نو کے لیے چاہت رکھتے ہیں۔ حیاتِ نو ہمیشہ ہمیں اُن اندرونی گناہوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے جنہیں دُنیا دیکھتی نہیں ہے۔ حیاتِ نو ہمارے دِلوں کے اندرونی گناہوں پر نور برساتا ہے۔ جب وہ اپنی مذہبی جماعت کو حیات نو کی تیاری کے لیے حوصلہ دے رہا تھا، تو ایوان رابرٹز Evan Roberts نے اُنہیں بتایا کہ پاک روح اُس وقت تک نازل نہیں ہوگا جب تک کہ لوگ تیار نہیں ہو جاتے۔ اُس نے کہا، ’’ہمیں تمام بُرے خیالات سے چُھٹکارا پانا چاہیے‘‘ – تمام کڑواہٹ، تمام اِختلافات، تمام غصّے۔ اگر آپ محسوس کرتے ہیں آپ کسی کو معاف نہیں کر سکتے، تو جُھک جائیں اور معافی مانگنے کی روح کے لیے دعا مانگیں – دوسرے شخص کے پاس جانے اور معافی مانگنے کے لیے رضامند ہو جائیں – صرف تب ہی آپ خُدا کی پیاری حضوری کو محسوس کر پائیں گے۔ صرف پاک مسیحی ہی خُدا کی پاک موجودگی اور محبت کو محسوس کر سکتا ہے۔ حیاتِ نو کی خوشی ایک ناپاک گرجا گھر میں جیسا کہ ہمارا ہے نہیں نازل ہو سکتی جب تک کہ ہم اپنے گناہ کا اقرار نہیں کرتے اور اِس کا آنسوؤں کے ساتھ اعتراف نہیں کرتے۔ صرف تب ہی ہم خُدا کی حضوری کی مسرت کو محسوس کر پائیں گے۔ ہماری بہن ’’میرے سارے تخّیل کو پورا کرFill All My Vision‘‘ بجائیں گی جب ہم آپ کو اِتوار کی رات کو اعترافات کی دعا مانگنے کا موقع پیش کریں گے۔ ایک دوسرے کے پاس جائیں، دو دو کر کے یا تین تین کر کے اور اِتوار کی رات کو اعترافات کے لیے سخت دعا مانگیں۔ اب کھڑے ہو جائیں اور گائیں ’’میرے سارے تخّیل کو پورا کرFill All My Vision‘‘۔ یہ 17 نمبر ہے۔

میرے سارے تخّیل کو پورا کر، نجات دہندہ، میں دعا مانگتا ہوں،
   آج مجھے صرف یسوع کو دیکھ لینے دے؛
حالانکہ وادی میں سے تو میری رہنمائی کرتا ہے،
   تیرا کبھی نہ مدھم ہونے والا جلال میرا احاطہ کرتا ہے۔
میرے سارے تخّیل کو پورا کر، الٰہی نجات دہندہ،
   جب تک تیرے جلال سے میری روح جگمگا نہ جائے۔
میرے سارے تخّیل کو پورا کر، کہ سب دیکھ پائیں
   تیرا پاک عکس مجھ میں منعکس ہوتا ہے۔

میرے سارے تخّیل کو پورا کر، ہر خواہش
   اپنے جلال کے لیے رکھ لے؛ میری روح راضی ہے
تیری کاملیت کے ساتھ، تیری پاک محبت سے
   آسمانِ بالا سے نور کے ساتھ میری راہگزر کو بھر دیتی ہے
میرے سارے تخّیل کو پورا کر، الٰہی نجات دہندہ،
   جب تک تیرے جلال سے میری روح جمگا نہ جائے۔
میرے سارے تخّیل کو پورا کر، کہ سب دیکھ پائیں
   تیرا پاک عکس مجھ میں منعکس ہوتا ہے۔

میرے سارے تخّیل کو پورا کر، گناہ کے نتیجہ کو ناکام کر دے
   باطن میں جگمگاتی چمک کو چھاؤں دے۔
مجھے صرف تیرا بابرکت چہرہ دیکھنے لینے دے۔
   تیرے لامحدود فضل پر میری روح کو لبریز ہو لینے دے۔
میرے سارے تخّیل کو پورا کر، الٰہی نجات دہندہ،
   جب تک تیرے جلال سے میری روح جگمگا نہ جائے۔
میرے سارے تخّیل کو پورا کر، کہ سب دیکھ پائیں
   تیرا پاک عکس مجھ میں منعکس ہوتا ہے۔
(’’میرے سارے تخّیل کو پورا کرFill All My Vision‘‘ شاعر ایوس برجیسن کرسچنسن Avis Burgeson Christiansen، 1895۔1985)۔

اب گائیں ’’میں اِس کو آگے پھیلانا چاہتا ہوں I Want To Pass It On۔‘‘ یہ آپ کے گیتوں کے ورق پر نمبر 18 ہے۔

آگ کو جلانے کے لیے صرف ایک چنگاری کی ضرورت پڑتی ہے،
اور جلد ہی وہ جو اُس کے اِردگِرد ہیں اُس کی حدت سے گرمائش پا سکتے ہیں،
ایسا ہی خُدا کی محبت کے ساتھ ہوتا ہے، ایک مرتبہ آپ اِس کا تجربہ کر لیں،
آپ اُس کی محبت کو ہر کسی میں پھیلائیں گے، آپ اِس کو آگے پھیلانا چاہیں گے۔
بہار کیسا شاندار وقت ہے، جب سارے درخت کونپلیں نکال رہے ہوتے ہیں،
پرندے چہچہانا شروع کرتے ہیں، پھول اپنے کھلنے کو شروع کرتے ہیں،
ایسا ہی خُدا کی محبت کے ساتھ ہوتا ہے، ایک مرتبہ آپ اِس کا تجربہ کر لیں،
آپ اُس کو گانا چاہیں گے، یہ چشمے کی مانند تازہ ہوتا ہے۔ آپ اِس کو آگے پھیلانا چاہیں گے۔

میرے دوست، میں آپ کے لیے خواہش کرتا ہوں، یہ خوشی جو میں نے پائی ہے،
آپ اُس [خُداوند] پر انحصار کر سکتے ہیں، اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا آپ کہاں بندش میں ہیں،
میں پہاڑوں کی چوٹیوں سے اِس کو پکاروں گا، میں چاہتا ہوں میری دُنیا جان جائے،
مسیح کی محبت میرے پاس چلی آئی ہے، میں اِس کو آگے پھیلانا چاہتا ہوں۔
   (’’اِس کو آگے پھیلائیں Pass It On‘‘ شاعر کرٹ قیصر Kurt Kaiser، 1969؛ پادری صاحب نے ترمیم کی)۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’ہمیں دوبارہ احیاء بخش دے Revive Us Again‘‘
(شاعر ولیم پی، میکے William P. Mackay، 1839۔1885)۔