Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


ابلیس اور حیاتِ نو

THE DEVIL AND REVIVAL
(Urdu)

جان سیموئیل کیگن کی جانب سے
by Mr. John Samuel Cagan

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 6 اگست، 2017
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, August 6, 2017

’’کیا تُو ہمیں پھر سے تازہ دم نہ کرے گا، تاکہ تیرے لوگ تجھ میں مسرور ہوں؟‘‘ (زبُور 85:6).

ہم دشمن کے علاقے میں زندگی گزارتے ہیں۔ ٹیکنالوجی اور خوشحالی کا روپ دھارے مادیت پرستی نے معاشرے پر قابو کیا ہوا ہے۔ ہر مہینے کچھ نہ کچھ نئے بحرانات دکھائی دیتے ہیں جو دُنیا کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں جیسا کہ ہم یہ بات جانتے ہیں۔ دُنیا ایک ایسی سمت کی جانب تیزی سے حرکت کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے جس کو کوئی ترقی کہتا ہے لیکن بائبل خطرناک کہتی ہے۔ ساری دُنیا میں کچھ مرکزی خیالات ہیں جو دُنیا کی نظر میں مختلف ہوتے ہیں لیکن اپنی حقیقت میں نہیں۔ ہر جانب ساری کی ساری دُنیا میں انسان ابلیس اور اُس کی بدروحوں کے قابو کے تحت ہے۔

I. پہلی بات، یہ دُنیا ابلیس کے قابو کے تحت ہے۔

انڈیا کا معاشرہ اور تہذیب ریاست ہائے متحدہ کے مقابلے میں نہایت مختلف ہے۔ انڈیا کے لوگ مختلف طرح سے لباس پہنتے ہیں، گاڑی مختلف طریقے سے چلاتے ہیں اور کھانا مختلف طریقے سے کھاتے ہیں۔ تاہم، دُنیا کے دوسری طرف ہونے کے باوجود، انڈیا کے لوگ بنیادی طور پر ایک جیسے ہی ہیں۔ وہ غیرمطمئن ہیں۔ وہ سکون کے بغیر ہیں۔ وہ اُمید کے بغیر ہیں۔ انڈیا کے لوگ خود کو تعلیم پانے کے لیے سخت مشکل میں ڈالتے ہیں اور سخت محنت کرتے ہیں۔ وہ یہ اِس لیے کرتے ہیں تاکہ وہ زندگی بسر کرنے کے معیار تک پہنچ پائیں جس کے لیے وہ یقین کرتے ہیں کہ اُنہیں اطمینان اور سکون اور اُمید دے گا۔ انڈیا کے لوگ اُس دِن کے بارے میں خواب دیکھتے ہیں کہ اُن کا ویزا منظور ہو جائے اور ایک بہتر دُنیا کے لیے اپنی دُنیا سے فرار ہو سکیں گے۔ وہ فرار ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ وہ غیرمطمئن ہیں۔ وہ سکون اور اُمید کے بغیر ہیں، بالکل جیسے وہ ریاست ہائے متحدہ میں ہیں اور ساری کی ساری دُنیا میں ہیں۔ دُنیا شیطان کے قبضے میں ہے۔ اور حقیقی مسیحیت حالتِ جنگ میں ہے۔

’’کیونکہ ہمیں خُون اور گوشت یعنی اِنسان سے نہیں بلکہ تاریکی کی دُنیا کے حاکموں، اِختیار والوں اور شرارت کی رُوحانی فوجوں سے لڑنا ہے جو آسمانی مقاموں میں ہیں‘‘ (افسیوں 6:12 NASB).

ساری کی ساری دُنیا میں انسان آسیبیت اور ابلیس کے اثر کے تحت ہے۔ انڈیا میں، آسیب یا بدروحوں نے لوگوں کو ہندواِزم اور بتوں کی پرستش کے ذریعے سے گرفت میں کیا ہوا ہے۔ ہر سڑک کے موڑ پر بت موجود ہیں۔ لوگ ایک ایسے مذہب میں پھنسے ہوئے ہیں جو اُنہیں بدنصیبی کی سزا کی جانب لے جاتا ہے۔ بدروحوں نے انڈیا کے لوگوں کو نسل در نسل جکڑ رکھا ہے، جو اُنہیں کسی بھی قسم کی نجات کی کسی بھی اُمید کو تلاش کرنے سے روک رہا ہے۔ وہ بدنصیب ہو چکے اور جو کچھ اُنہوں نے پہلے کیا تھا اُس کی سزا کے طور پر جینے اور مرنے کا مقدر طے کر چکے ہیں۔ غریب اور بھوکے کی مدد کرنے کے لیے کوئی بھی کوشش نہیں کی جانی چاہیے، کیونکہ بھوکے اور غریب اپنے گناہوں کے لیے کفارہ ادا کر رہے ہیں۔ انسان ابلیس کے ذریعے سے مایوسی میں جکڑا جا چکا ہے۔

انڈیا کی مانند جگہوں پر، آسیبیت کا تاثر واضع ہے۔ تاہم، ریاست ہائے متحدہ جیسی جگہوں پر، آسیب کا قبضہ زیادہ پُرکشش لیکن نقصان دہ ہے، کیونکہ یہ چُھپا ہوا ہے۔ شہر کے شہر مادیت پرستی کے ذریعے سے سحر میں جکڑے ہوئے ہیں۔ دولت اور خوشحالی کے بُت اشتہارات کا بھیس بدلے ہر عمارت سے لٹکے ہوئے ہیں۔ لوگ مادیت پرستی کے جھوتے خُدا کے تعاقب میں اپنی تمام زندگیاں ضائع کر چکے ہیں۔ اُنہیں باتیں کر کے اِس سے باہر نہیں نکالا جا سکتا۔ اُنہیں قائل نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اِس دُنیا کی چیزوں کے لیے اپنی زندگیوں کو ضائع کر رہے ہیں۔ وہ پھنس چکے ہیں۔ وہ قید میں ہیں۔ وہ ابلیس کے غلبے کے تحت ہیں۔

یہ غور کیا جا چکا ہے کہ ابلیس کی سب سے بڑی چال، لوگوں کو اِس بات پر یقین کرنے کے لیے دھوکہ دینا ہوتا ہے کہ وہ عمل نہیں کر رہا ہے اور کہ وہ حقیقی نہیں ہے۔ انڈیا میں، یہ واضح ہے کہ آسیب اور ابلیس متحرک ہیں اور لوگوں کے دِلوں اور ذہنوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ لیکن ریاست ہائے متحدہ میں، ابلیس اپنی سب سے بڑی چال چل رہا ہے۔ وہ دُنیا کو قائل کر چکا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ صاف اور محفوظ ہے۔ ابلیس لوگوں کو اِس بات کا یقین کرنے کے لیے بے وقوف بناتا ہے کہ آسیب حقیقی نہیں ہوتے، اور اِس طرح سے لوگ دعا نہیں مانگتے۔ ابلیس لوگوں کو اِس بات میں یقین کرنے پر بے وقوف بناتا ہے کہ دُنیا میں اُن کی جگہ صاف اور محفوظ ہے، اور یوں وہ روحانی جنگ کے لیے تیاری نہیں کرتے۔ لیکن خُدا ہمیں بتاتا ہے کہ ابلیس حقیقی ہے۔ خُدا ہمیں بتاتا ہے کہ ابلیس ہمارے ساتھ جنگ کی حالت میں ہے۔ خُدا ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں جنگ کے لیے تیاری کرنی چاہیے۔

’’خدا کے دیئے ہُوئے تمام ہتھیاروں سے لیس ہو جاؤ تاکہ تُم اِبلیِس کے منصوبوں کا مقابلہ کر سکو‘‘ (افسیوں 6:11).

لاس اینجلز میں ہمارے گرجا گھر میں، ہم ابلیس کی قوت کے بالکل مرکز میں واقع ہیں۔ ہم شیطانیت کے ہجوموں سے گِھرے ہوئے ہیں۔ آسیب اِس شہر کے لوگوں کو قوت کے کُھلم کُھلا مظاہروں کے ذریعے سے غلام نہیں بناتے بلکہ بے اعتقادی کے اندھے پن کے ساتھ۔ اِسی لیے لاس اینجلز میں ہمارے گرجا گھر میں، ہم خود کو یہ محسوس کرنے کے لیے اِجازت نہیں دے سکتے کہ ہم ایک عام اور صاف جگہ پر ہیں۔ ہم دشمن کے ساتھ میدان جنگ کی اگلی صفوں میں ہیں۔ بائبل کہتی ہے،

’’ہوشیار اور خبردار رہو کیونکہ تمہارا دشمن اِبلیس دھاڑتے ہُوئے شیر ببر کی مانند ڈھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے‘‘ (1۔ پطرس 5:8).

لاس اینجلز میں، ابلیس کی بادشاہت کی کُرسی میں، ابلیس اپنی تمام چالوں میں سے سب سے بڑی چال چل رہا ہے – بے اعتقادی کا دھوکہ۔ ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔ ہم ایک روحانی کشمکش میں ہیں۔ ابلیس جانتا ہے کہ اگر ہمارے گرجا گھر کو حیاتِ نو کا تجربہ ہوتا ہے، تو ابلیس کی تحریک کو اِس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔ اِس لیے وہ ہم پر ایک خاص قوت کے ساتھ حملہ کرتا ہے۔ اِس لیے ابلیس ہر وہ کچھ کرتا ہے جو وہ ہمیں بے اعتقادی کی حالت میں رکھنے کے لیے وہ کر سکتا ہے۔ اِس بہت بڑے روحانی میدانِ جنگ کی اگلی صفوں پر، ہمیں جان جانا چاہیے کہ ہم پر ویسے بم نہیں چلائے جائیں گے جیسے انڈیا میں آسیبیت اور بُت پرستی کے بھاری اسلحے اور بموں کو برسایا جاتا ہے۔ بلکہ اِس کے بجائے ہم پر ابلیس کے اور زیادہ منحوس اور مُہلک ہتھیاروں کے ساتھ حملہ کیا جاتا ہے۔ ہم پر بے اعتقادی کی نظر نہ آنے والی زہریلی گیس کے ساتھ حملہ کیا جاتا ہے۔ بائبل کہتی ہے،

’’تاکہ شیطان کو اپنا داؤ چلانے کا موقع نہ ملے کیونکہ ہم اُس کی چالبازی سے واقف ہیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں 2:11).

ہم شیطان کے آلات سے لا علم نہیں رہ سکتے۔ ابلیس آپ کو اِس بات میں یقین کرنے کے لیے بے وقوف بنانے کی کوشش کرتا ہے کہ ایک گرجا گھر کے لیے مُردہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ابلیس آپ کو اِس بات میں یقین کرنے کے لیے بے وقوف بنانے کی کوشش کرتا ہے کہ مسیحی زندگی کا بدحال اور ہولناک ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ابلیس نہیں چاہتا ہمارا گرجا گھر حیاتِ نو کا تجربہ کر پائے۔ ابلیس اپنی قوت میں ہمارے گرجا گھر کو حیات نو کا تجربہ کرنے سے روکنے کے لیے ہر اُس بات کو کرنے کی کوشش کرے گا۔ اور اِس طرح سے ابلیس اپنی سب سے زیادہ قابلِ بھروسہ اور طاقت سے بھرپور چال کو استعمال کرتا ہے۔ ابلیس چاہتا ہے کہ ہم یقین کر لیں کہ ہمیں حیات نو نہیں مل سکتا۔ لیکن ہم ابلیس سے تعلق نہیں رکھتے ہیں۔ ہم ابلیس کی فوج میں غلام نہیں ہیں۔ یسوع کے خون کے ذریعے سے، ہم خُدا کی فوج میں ہیں۔ بائبل کہتی ہے،

’’بچو، تُم خدا سے ہو اور اُن پر غالب آ گئے ہو کیونکہ جو تُم میں ہے وہ اُس سے جو دُنیا میں ہے، کہیں بڑا ہے‘‘ (1۔ یوحنا 4:4).

’’پس خدا کے تابع رہو اور اِبلیس کا مقابلہ کرو تو وہ تُم سے بھاگ جائے گا‘‘ (یعقوب 4:7).

ہمیں خُدا کی فرمانبرداری کے لیے بُلایا جاتا ہے۔ ہمیں ابلیس اور اُس کی دھوکہ بازی کے سامنے ہمت ہارنے اور خود کو اِس بات میں یقین کرنے کی اِجازت دینے کے لیے کہ ہم حیاتِ نو نہیں پا سکتے کے لیے نہیں بُلایا گیا ہے۔ ہمیں لڑنے کے لیے بُلایا گیا ہے۔ ہمیں ابلیس کی مزاحمت کرنے کے لیے بُلایا گیا ہے، روحانی جنگ میں۔ بائبل کہتی ہے،

’’جن ہتھیاروں سے ہم لڑتے ہیں وہ دُنیا کے ہتھیار نہیں بلکہ خدا کے ایسے قوی ہتھیار ہیں جن سے ہم بُرائی کے مضبوط قلعوں کو مسمار کر دیتے ہیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں 10:4).

آئیے ہم یقین کریں، اور آئیے ہم دعا مانگیں، اور اعتراف کریں، اور معاف کریں، اور اپنے گرجا گھر میں خُدا کے روح کو مدعو کریں۔

’’کیا تُو ہمیں پھر سے تازہ دم نہ کرے گا، تاکہ تیرے لوگ تجھ میں مسرور ہوں؟‘‘ (زبُور 85:6).

II. خُدا حیاتِ نو ابھی بھیج سکتا ہے۔

انڈیا میں ایک گاؤں میں رہنے والا ایک ڈاکٹر اپنے پڑوسیوں کی تعریف اور احترام کرنے سے محظوظ ہوتا ہے۔ وہ مناسب طور پر اور سلیقے سے زندگی بسر کرتا ہے۔ وہ خود کو مسیحی کہلانے کے لیے دشواری نہیں پاتا۔ اُس کا باپ مسیح کو قبول کرنے والوں میں سے پہلا تھا اور اِس بات کی وجہ سے مسترد کیا گیا تھا۔ وہ اپنے باپ کو سراہاتا اور اُس سے محبت کرتا ہے۔ وہ اپنے مذہب کی حیثیت سے، اپنے باپ کے مذہب مسیحیت کا اِعلان کرتا ہے۔ وہ ہندواِزم پر مسیحیت کو ترجیح دیتا ہے، جیسے کہ یہ صاف تر تھی، اور زیادہ سیلقہ مند تھی۔ جلد ہی وہ گرجا گھر میں ایک اہم شخص بن چکا تھا۔

وہ پاک تھا، باعزت اور قابلِ بھروسہ تھا۔ لیکن وہ گمراہ ہو گیا تھا۔ اُس ڈاکٹر نے مجھے ڈاکٹر ہائیمرز کے لکھے ہوئے بہترین واعظوں میں سے ایک ’’مسیح یسوع بخودJesus Christ Himself‘‘ کی منادی کرتے ہوئے سُنا۔ آپ مجھے اُسی واعظ کی منادی کرتے ہوئے سُن چکے ہیں۔ آپ میں سے کچھ نے شاید خود ڈاکٹر ہائیمرز کو اُس اعلیٰ درجے کے واعظ کی منادی کرتے ہوئے سُنا ہو۔ اِس ڈاکٹر نے بھی واعظ کو سُنا۔ اور جوں جوں وہ سُنتا گیا، اُس کو احساس ہوتا چلا گیا کہ وہ مسیحی مذہب کو تو قبول کر چکا تھا لیکن یسوع کو مسترد کر دیا تھا۔ جب اُس نے پیغام کی منادی کو سُنا، تو اُس کو احساس ہونا شروع ہوا کہ اُس کی پاک زندگی اصل میں گناہ سے بھرپور تھی۔ اُس رات کو پریشانی کی حالت میں گھر چلا گیا۔

اگلی صبح اُس نے پوچھا اگر میرے والد اور میں اُس کے گھر میں مدعو کیا جائیں تو آئیں گے۔ وہ ہمیں اپنی خواب گاہ میں لایا اور چائے پیش کی۔ اُس نے میرے والد کو ایک ترجمان کے ذریعے سے بتایا کہ اُس نے کبھی بھی نجات نہیں پائی تھی۔ اُس نے کہا کہ وہ جانتا ہے کہ وہ گناہ سے بھرپور رہ چکا تھا۔ اُس نے کہا کہ وہ یسوع پر بھروسہ کرنا چاہتا تھا۔ میرے ابو نے اُس کی مسیح کی جانب رہنمائی کی۔ سزایابی میں آئے ہوئے ایک دِل کے ساتھ، اس نے یسوع مسیح بخود پر بھروسہ کیا۔ اُس نے اُسی یسوع پر بھروسہ کیا جس نے میرے ابو کو نجات دلائی تھی، جس نے مجھے نجات دلائی تھی، اور جو آپ کو نجات دے سکتا ہے۔

’’یسوع مسیح کل اور آج بلکہ ابد تک یکساں ہے‘‘ (عبرانیوں 13:8).

ریاست ہائے متحدہ میں ایک شخص ایک سو سالوں تک ایک ڈاکٹر کی مشاورت کر سکتا ہے اور اُس کو منادی کر سکتا ہے اور پھر بھی اُس طرح سے اُس کے دِل کو نہیں چھو سکتا جیسے انڈیا میں اُس ڈاکٹر کے دِل کو چھوا تھا۔ جب ایک شخص یقین کر لیتا ہے کہ وہ پہلے ہی سے ایک مسیحی ہے، تو یہ تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے کہ اُنہیں دیکھنے پر مجبور کیا جائے کہ وہ گمراہ ہو چکے ہیں۔ اور اِس کے باوجود، یہ شخص، جس نے یقین کیا تھا کہ وہ اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ ایک مسیحی رہ چکا تھا، ایک واعظ میں احساس کرتا ہے کہ اُس کو مسیح میں نجات کی ضرورت تھی۔ اُس شخص کے بارے میں کیا بات مختلف تھی؟ اُس شخص کو خُدا کی قوت کے ذریعے سے چھوا گیا تھا۔ اُس شخص کو پاک روح کے ذریعے سے چھوا گیا تھا۔ انڈیا میں اُس ڈاکٹر نے یسوع پر بھروسہ کیا تھا اور خوشی مناتا ہوا چلا گیا تھا۔ پادری صاحب نے خوشی منائی تھی۔ اُن کے دوستوں نے خوشی منائی تھی۔ گرجا گھر اُس کی باقی کی ساری زندگی اُس کی گواہی میں خوشی منائے گا۔ فرشتوں نے آسمان میں خوشی منائی۔ وہ شخص تمام ابدیت تک مسیح کے ساتھ خوشی منائے گا۔ خُدا نے کم از کم بیس اور دوسرے لوگوں کو بھی اُس گاؤں میں چھوا۔ خُدا اپنی قوت میں اُن زندگیوں پر متحرک تھا، اور اُس گرجا گھر نے خُدا کی قوت میں خوشی منائی تھی۔

’’کیا تُو ہمیں پھر سے تازہ دم نہ کرے گا، تاکہ تیرے لوگ تجھ میں مسرور ہوں؟‘‘ (زبُور 85:6).

کیا خُدا لاس اینجلز میں جو ابلیس کی بادشاہت کی کُرسی ہے حیاتِ نو بھیج سکتا ہے؟ خُدا ہمیں ابھی حیاتِ نو بھیج سکتا ہے۔ ماضی میں، ہمارے گرجا گھر نے حیاتِ نو کا تجربہ نہیں کیا تھا، کیونکہ اراکین کی اکثریت گمراہ ہو چکی تھی، اور وہ واقعی میں خُدا کو اپنی زندگیوں میں نہیں چاہتے تھے۔ ماضی میں، ہمارے گرجا گھر نے حیاتِ نو کا تجربہ نہیں کیا تھا، کیونکہ ہم حیاتِ نو کی قیمت کو چکانے کے لیے تیار نہیں تھے، جو کہ توبہ اور گناہ کا اعتراف ہے۔ لیکن وہ ماضی میں تھا۔ خدا ہمیں ابھی حیاتِ نو بھیج سکتا ہے۔ جان آر۔ رائس John R. Rice آج کے لیے حیاتِ نو میں یقین رکھتے تھے۔ ڈاکٹر ہائیمرز آج کے لیے حیاتِ نو میں یقین رکھتے ہیں۔ آپ کو آج کے لیے حیاتِ نو میں یقین رکھنا چاہیے۔ خُدا تبدیل نہیں ہوا ہے۔ خُدا کہتا ہے، ’’میں خُداوند ہوں جو بدلتا نہیں‘‘ (مُلاکی3:6)۔ وہی خُدا جو انڈیا میں اُس ڈاکٹر کو تحریک دے سکتا ہے، لاس اینجلز میں ہمارے گرجا گھر میں تحریک لا سکتا ہے۔ وہی خُدا جس نے پہلی عظیم بیداری میں کلیسیاؤں کو نئی زندگی بخشی تھی آج ہمارے دور میں تحریک لا سکتا ہے۔

’’کیا تُو ہمیں پھر سے تازہ دم نہ کرے گا، تاکہ تیرے لوگ تجھ میں مسرور ہوں؟‘‘ (زبُور 85:6).

خُدا ہمیں ابھی حیاتِ نو بھیج سکتا ہے۔ ساری تاریخ میں خدا نازل ہوا ہے جب اُس کے لوگ اُس کی جانب واپس آئے۔ خُدا ہمیں حیاتِ نو بھیجنا چاہتا ہے۔ خُدا نہیں چاہتا کہ ہم مایوسی میں مُردہ دِل ہو جائیں۔ خُدا نہیں چاہتا کہ ہم جیسے ہیں ویسے ہی رہیں۔ خُدا ہم سے چاہتا ہے کہ ہمیں حیاتِ نو کے ساتھ برکت دے تاکہ ہم اُس میں شادمانی منائیں۔ اِسی لیے، ہمیں اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔

’’لیکن اگر ہم اپنے گناہوں کا اِقرار کریں تو وہ جو سچا اور عادل ہے ہمارے گناہ معاف کرکے ہمیں ساری ناراستی سے پاک کر دے گا‘‘ (1۔ یوحنا 1:9).

’’تُم ایک دُوسرے کے سامنے اپنے گناہوں کا اِقرار کرو اور ایک دُوسرے کے لیے دعا کرو تاکہ شفا پاؤ‘‘ (یعقوب 5:16).

ہمیں اپنی غلطیوں کو قبول کر لینا چاہیے۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ اعتراف کر لینا چاہیے۔ ہمیں ایک دوسرے کے لیے دعا مانگنی چاہیے۔ تب ہم سچے طور پر ایک دوسرے کے ساتھ محبت کریں گے! بائبل کہتی ہے،

’’لیکن تمہاری بدکاری نے تمہیں اپنے خدا سے دُور کر دیا ہے، اور تمہارے گناہوں نے اُسے تُم سے ایسا رُوپوش کیا، کہ وہ سُنتا نہیں‘‘ (اشعیا 59:2).

’’اگر ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم بے گناہ ہیں تو اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں اور ہم میں سچائی نہیں۔ لیکن اگر ہم اپنے گناہوں کا اِقرار کریں تو وہ جو سچا اور عادل ہے، ہمارے گناہ معاف کر کے ہمیں ساری ناراستی سے پاک کر دے گا‘‘ (1۔ یوحنا 1:8۔9).

یہ ابلیس ہے جو ہمیں قائل کرتا ہے کہ ہمیں پیچھے ہٹنا چاہیے۔ ابلیس ہم سے چاہتا ہے کہ ہم اپنی زندگی ایک مُردہ گرجا گھر میں آدھی نیند میں گزار دیں۔ ابلیس نہیں چاہتا کہ ہم اپنی مسیحی زندگی کو چاہت کے ساتھ گزاریں۔ ابلیس چاہتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو زُومبیز کی مانند گِھسٹ گِھسٹ کر مشکل سے گزاریں۔ لیکن خُدا ہمیں نئی زندگی بخشنا چاہتا ہے تاکہ ہم اُس میں شادمانی منا سکیں۔ خُدا ہمارے گرجا گھر سے نہیں چاہتا کہ وہ ایک بہت بڑی کوشش کی خصوصیت اور صرف تھوڑی سی کامیابی کی وجہ سے جانا جائے۔ خُدا نہیں چاہتا کہ ہم حوصلہ ہاریں۔ خُدا ہمارے گرجا گھر کو ایک روشنی کے مینار اور ایک بیکن کی طرح دُنیا کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ خُدا چاہتا ہے کہ ہم دُنیا میں سے آنے والے بشروں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ ہوں۔ خُدا ہمارے گرجا گھر کو اپنا گھر بنانا چاہتا ہے، جہاں پر خُدا آ سکے، اور اپنے لوگوں کے ساتھ موجود ہو۔ لیکن خُدا اپنے لوگوں کے ساتھ موجود نہیں ہو سکتا جہاں پر منافقت اور مسترد کیا جانا ہوتا ہے۔ خُدا اُن لوگوں کے ساتھ موجود نہیں ہوگا جو سچے طور پر ایک دوسرے سے محبت نہیں کرتے۔ خُدا اُن لوگوں کے ساتھ موجود نہیں ہوگا جو حسد کے ساتھ اور بُرے احساسات کے ساتھ بیمار ہیں۔ خُدا کڑواہت اور اِختلافات والی جگہ پر حاضر نہیں ہوگا۔ خُدا اُن لوگوں کے ساتھ موجود رہنا نہیں چاہتا جو خود غرض ہیں۔ خُدا اُن لوگوں کے ساتھ موجود رہنا نہیں چاہتا جو زیادہ تر صرف اپنی ہی پرواہ کرتے ہیں۔ خُدا نئی پائی ہوئی زندگی والے، قبول کرنے والے اور محبت کرنے والے لوگوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ خدا ہمیں بُلاتا ہے،

’’تُم ایک دُوسرے کے سامنے اپنے گناہوں کا اِقرار کرو اور ایک دُوسرے کے لیے دعا کرو تاکہ شفا پاؤ‘‘ (یعقوب 5:16).

خُدا ابھی ہمیں حیاتِ نو بھیج سکتا ہے۔ آج کی رات، ڈاکٹر ہائیمرز آپ کو اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے کے لیے ایک اور موقع دینے جا رہے ہیں تاکہ ہم اُس میں خوشی منا سکیں۔ میں دعا مانگتا ہوں کہ آپ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے تاکہ وہ آپ کو شفا دے سکے اور آپ کو خوشی بخشے!

’’کیا تُو ہمیں پھر سے تازہ دم نہ کرے گا، تاکہ تیرے لوگ تجھ میں مسرور ہوں؟‘‘ (زبُور 85:6).

دعا مانگیں کہ خُدا ہمارے دِلوں کو ایک دوسرے سے اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے کے لیے کھولے کہ ہم شفا پائیں! دعا مانگیں کہ خُدا ہمارے گرجا گھر میں حیاتِ نو کو بھیجے تاکہ ہم اُس میں خوشی منائیں! ڈاکٹر ہائیمرز، مہربانی سے آئیں اور اِس عبادت کا اختتام کریں۔

میں آپ سے آج کی صبح ایک دوسرے کے ساتھ اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے کے لیے پوچھنے نہیں جا رہا ہوں۔ لیکن آج کی رات میں ’’حیاتِ نو میں شادمانی منانے سے پہلے اعترافConfession Before Rejoicing in Revival‘‘ پر بات کرنے جا رہا ہوں۔ پھر میں آپ سے ایک دوسرے کے ساتھ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کے لیے کہوں گا اور ایک دوسرے کے لیے دعا مانگنے کے لیے کہوں گا، کہ آپ شفا پائیں اور خُدا کی خوشی آپ کے دِلوں میں نازل ہو۔ مہربانی سے آج کی شام 6:15 پر واپس اِس اہم عبادت کے لیے آئیں۔ مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور حمدوثنا کا گیت نمبر 7 گائیں، ’’مجھے دعا کرنا سیکھا Teach Me to Pray۔‘‘ گانا گانے سے پہلے ایک اور بات، میں چاہتا ہوں کہ جان کیگنJohn Cagan، ہارون ینسیAaron Yancy، جیک ناآنJack Ngann، مسز لیMrs. Lee اور مس گیویعن Miss Nguyen میرے آفس میں آج شام کی عبادت کے لیے دعا مانگنے 4:00 بجے آئیں۔ آج بپتسمہ کی کلاس منسوخ ہو گئی ہے۔ کوئی بھی جو آج شام کے لیے دعا مانگنا چاہتا ہے وہ میرے بیرونی آفس میں آج شام کو اعترافات کے لیے دعا مانگنے کی خاطر آ سکتا ہے۔ مسیحی تبدیلیوں کے لیے دعا مت مانگیں۔ صرف خالص اعترافات کے لیے دعا مانگیں۔ اور ہر کسی کو گرجا گھر میں دعا کے رویے کے ساتھ آنا چاہیے۔ عبادت سے پہلے کوئی کافی یا ریفریشمنٹ نہیں ہوگی۔ سیدھے اِسی اجتماع گاہ میں آئیں اور دعا مانگیں۔ آج کی شام مہربانی سے کوئی اونچی آواز میں بات نہ کرے۔ اب گائیں ’’مجھے دعا کرنا سیکھا Teach Me to Pray۔‘‘ آپ کے گیتوں کے ورق پر 7 نمبر ہے۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک میں سے تلاوت ڈاکٹر سی۔ ایل۔ کیگن Dr. C. L. Cagan نے کی تھی: اشعیا64:1۔4 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجیمن کینکیڈ گریفتھ نے گایا تھا:
’’تیرے لیے اور محبت More Love to Thee‘‘ (شاعر الزبتھ پی۔ پرینٹس Elizabeth P. Prentiss، 1818۔ 1878)۔

لُبِ لُباب

ابلیس اور حیاتِ نو

THE DEVIL AND REVIVAL

جان سیموئیل کیگن کی جانب سے
by Mr. John Samuel Cagan

’’کیا تُو ہمیں پھر سے تازہ دم نہ کرے گا، تاکہ تیرے لوگ تجھ میں مسرور ہوں؟‘‘ (زبُور 85:6).

I.    پہلی بات، یہ دُنیا ابلیس کے قابو کے تحت ہے، افسیوں 6:12، 11؛
1۔پطرس 5:8؛ 2۔ کرنتھیوں 2:11؛1۔ یوحنا 4:4؛ یعقوب 4:7؛ 1۔ کرنتھیوں 10:4 .

II.   خُدا حیاتِ نو ابھی بھیج سکتا ہے، عبرانیوں 13:8؛ ملاکی 3:6؛
1۔یوحنا 1:9؛ یعقوب 5:16؛ اشعیا 59:2؛1۔ یوحنا 1:8۔9 .