Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


حیاتِ نو کے لیے دِل کی پکار!

HEARTCRY FOR REVIVAL!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 16 جولائی، 2017
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Morning, July 16, 2017

’’مجھے پُکار اور میں تجھے جواب دُوں گا اور تجھے نہایت غیر معمولی اور پوشیدہ باتیں بتاؤں گا جنہیں تُو نہیں جانتا‘‘ (یرمیاہ 33:3).

گذشتہ اِتوار کو میں نے ’’ حیاتِ نو میں دعا کی جنگ!‘‘ پر منادی کی تھی۔ میں نے کہا تھا کہ ہم مادیت پرستی کے ایک بہت بڑے آسیب کے تحت زندگی بسر کر رہے ہیں۔ میں نے کہا تھا، ’’خُدا جا چکا ہے! وہ ہمارے گرجا گھروں کو چھوڑ چکا ہے۔ وہ ہمارے گرجا گھر کو چھوڑ چکا ہے… لیکن ہم نہیں چاہتے کہ خُدا نیچے آئے۔ ہمارے کاہلانہ غنودگی اِس کے بجائے پاک روح کے بغیر ایک گرجا گھر چاہتی ہے۔ بس روزمرّہ کے کاموں کو کرتے رہنا جاری رکھو۔ ہنگامہ کیوں کھڑا کیا جائے؟ ہمیں پریشان کیوں کیا جائے؟ ہمیں ہماری غنودگی میں سو لینے دیں۔ ہم خُدا کی موجودگی اور طاقت کے لیے روزے رکھنا اور دعا مانگنا جیسے مشکل کام میں واپس پڑنا نہیں چاہتے۔‘‘ ہم نے چند ہفتوں میں سترہ لوگوں کو نجات دلائی تھی۔ ڈاکٹر چعینDr. Chan بحال ہوئے اور نئی احیاء پائی تھی۔ جان سیموئیل کیگنJohn Samuel Cagan نے خوشخبری کی منادی کرنے کے لیے خود کو حوالے کر دیا تھا۔ ہارون ینسیAaron Yancy اور جیک ناآنJack Ngann منادوں کے لیے اُمیدوار ٹھہرائے گئے۔ کرسٹین گئیویعن Christine Nguyen اور مسز لِی Mrs. Lee دعائیہ جنگجو بنیں۔

ہمارے پاس حیاتِ نو کی ایک ’مشعل‘ تھی۔ اُن دِنوں میں ڈاکٹر کیگن اور میں نے جانا کہ جب خُدا موجود تھا تو لوگ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے تھے، لیکن جب خُدا موجود نہیں تھا تو کچھ بھی رونما نہیں ہوا۔ ہارون اور جیک ناآن نے کچھ اور بھی سیکھا تھا۔ اُںہوں نے سیکھا تھا کہ دعا میں کیسے ابلیسی قوتوں کے خلاف کشتی کی جاتی ہے۔ جیک نے کہا،

’ہم نے خُدا کی حضوری کے لیے دعا مانگنی شروع کی۔ جب میں نے اپنی دوسری دعا شروع کی، میں نے لااُبالی سا اور بے ہوش ہونے کے قریب شروع ہوتا ہوا محسوس کیا۔ دعائیں منظم کرنے میں مشکل پیش آ رہی تھی ہم نے محسوس کیا کہ ایک بہت بڑی آسیبی رکاوٹ تھی اور میں دعا جاری رکھنے کے قابل نہیں تھا۔ ہم نے شیطانی موجودگی کے اُٹھائے جانے جبکہ مسیح کے خون کی اِلتجا کرنے کے لیے اپنے گھٹنوں پر ہو کر دعا مانگنی شروع کر دی۔ میں نے فرش پر اوندھے مُنہ لیٹے ہوئے اِختتام کیا۔ ہم نے اِن حالتوں میں دعا کرنے کا ایک تیسرا چکر شروع کیا اور ہم نے محسوس کرنا شروع کر دیا کہ خُدا اندھیرے کو توڑنا شروع کر چکا تھا اور شیطان کی موجودگی اُٹھا لی گئی۔ ہم جان گئے تھے کہ [شام کی عبادت] نہایت اہم ہونے جا رہی تھی۔ یہ تقریبا شام کے 4:00 بجے کے قریب ہوا تھا۔‘

دو گھنٹوں کے بعد، شام کی عبادت میں، مسٹر وِرجِل نِکل Mr. Virgel Nickell آنسوؤں سے لبریز سامنے آئے، اور ڈاکٹر کیگن نے مسیح کے لیے اُن کی رہنمائی کی۔ تب ہم جان گئے کیوں ہارون اور جیک کو دو گھنٹے پہلے دعا میں شیطان کے ساتھ اِس قدر زیادہ جدوجہد کرنی پڑی تھی!‘‘

’’کیونکہ ہمیں خُون اور گوشت یعنی اِنسان سے نہیں بلکہ تاریکی کی دُنیا کے حاکموں، اِختیار والوں اور شرارت کی رُوحانی فوجوں سے لڑنا ہے جو آسمانی مقاموں میں ہیں‘‘ (افسیوں 6:12).

روحانی جنگیں دعا کے ذریعے سے جیتی جاتی ہیں!

’’مجھے پُکار اور میں تجھے جواب دُوں گا اور تجھے نہایت غیر معمولی اور پوشیدہ باتیں بتاؤں گا جنہیں تُو نہیں جانتا‘‘ (یرمیاہ 33:3).

’’دعا میں طاقت Power in Prayer،‘‘ کھڑے ہو جائیں اور اِسے گائیں!

دعا میں قوت، خُداوندا، دعا میں قوت!
   یہاں گناہ اور دُکھ اور خُدشوں کی زمین میں؛
لوگ نااُمیدی میں ہیں، ہمیں حیاتِ نو کی ضرورت ہے؛
   ہائے مجھے قوت بخش دے، دعا میں قوت!
(’’مجھے دعا کرنا سیکھا Teach me to Pray، شاعر البرٹ ایس۔ ریٹسز Albert S. Reitz ، 1879۔ 1966)
میں نے تیسری ’’لوگ نااُمیدی میں ہیں، ہمیں حیاتِ نو کی ضرورت ہے؛ ہائے مجھے قوت بخش دے، دعا میں قوت! We need revival, souls in despair; O give me power, power in prayer! لائن کو تبدیل کیا تھا

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

شیطان نے آپ میں سے بے شمار لوگوں کو حیاتِ نو کے لیے دعا مانگنے سے رُکا ہوا ہے۔ میں نے گذشتہ جمعرات کی رات ایک ووٹ لیا تھا۔ میں نے کہا تھا، ’’آپ لوگوں میں سے کتنے سوچتے ہیں میں اپنے گرجا گھر میں مذید اور لوگوں کو چاہتا ہوں جب میں آپ سے حیاتِ نو کی دعا مانگنے کے لیے کہتا ہوں؟‘‘ ہمارے لوگوں میں سے تقریباً آدھے لوگوں نے اپنے ہاتھ کھڑے کیے تھے۔ تب میں نے کہا تھا، ’’آپ لوگوں میں سے کتنے لوگ سوچتے ہیں میں چاہتا ہوں مذید اور زیادہ کام کریں جب میں نے آپ سے حیاتِ نو کی دعا مانگنے کے لیے کہا تھا؟‘‘ آپ میں سے تقریباً ایک تہائی لوگوں نے ہاتھ کھڑے کیے۔ یہ بھونچکا کر دینے والی بات تھی۔ میں بے شمار مرتبہ آپ کو بتا چکا ہوں، ’’یہ مزید اور لوگوں کے لیے نہیں ہوتا!‘‘ میں کئی مرتبہ آپ لوگوں کو بتا چکا ہوں ’’یہ اور زیادہ کام کرنے کے لیے نہیں ہوتا!‘‘ کئی مرتبہ میں آپ کو بتا چکا ہوں، ’’جب حیاتِ نو آئے گا تو کام کم ہو جائے گا!‘‘

آپ کو اب ہمارے لیے ایک مہمان لانے کے لیے سینکڑوں اور سینکڑوں ناموں کو حاصل کرنا پڑتا ہے۔ اور وہ ایک مہمان واپس بھی نہیں آتا! حیاتِ نو میں آپ کو کہیں کم نام ملتے ہیں اور کہیں کم مہمان آتے ہیں لیکن مہمانوں میں سے زیادہ تر واپس آ جائیں گے۔ ہمیں یہاں تک کہ انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم شاید مکمل طور پر بند کرنی پڑ جائے گی اور کہیں زیادہ لوگ آئیں گے اور نجات پا جائیں گے! وہاں چینیوں کے گرجا گھرمیں اُن کے ہاں کوئی انجیلی بشارت کا پرچار نہیں ہوتا۔ وہ کسی بھی سواری کا انتظام نہیں کرتے۔ اور اِس کے باوجود 2,000 لوگ اندر آتے ہیں اور ٹکتے ہیں۔ کیوں؟ کیوں کہ اُن کے ہاں حیات نو آیا! اِس وجہ سے! میں یہ بات پہلے کہہ چکا ہوں، لیکن آپ نے میرا یقین نہیں کیا۔ آپ نے میرا یقین اِس لیے نہیں کیا کیونکہ آپ نے اِسے دیکھا ہی نہیں تھا۔ ہماری تلاوت کو سُنیں۔

’’مجھے پُکار اور میں تجھے جواب دُوں گا اور تجھے نہایت غیر معمولی اور پوشیدہ باتیں بتاؤں گا جنہیں تُو نہیں جانتا‘‘ (یرمیاہ 33:3).

’’میں تجھے نہایت غیرمعمولی اور پوشیدہ باتیں بتاؤں گا جنہیں تو نہیں جانتا۔‘‘ کیا آپ اُس بات کر یقین کر سکتے ہیں؟ کیا آپ یقین کرنے کے لیے اِس قدر زیادہ حلیم ہو سکتے ہیں کہ خُدا وہ باتیں کر سکتا ہے جو اِس سے پہلے آپ نے کبھی بھی نہیں دیکھیں؟ کیا آپ یقین کر سکتے ہیں کہ خُدا اُن دعاؤں کے جواب میں ’’جنہیں آپ نہیں جانتے نہایت غیرمعمولی اور پوشیدہ باتیں کر سکتا ہے‘‘؟ کھڑے ہو جائیں اور اِسے گائیں!

دعا میں قوت، خُداوندا، دعا میں قوت!
   یہاں گناہ اور دُکھ اور خُدشوں کی زمین میں؛
لوگ نااُمیدی میں ہیں، ہمیں حیاتِ نو کی ضرورت ہے؛
   ہائے مجھے قوت بخش دے، دعا میں قوت!
(’’مجھے دعا کرنا سیکھا Teach me to Pray، شاعر البرٹ ایس۔ ریٹسز Albert S. Reitz ، 1879۔ 1966)

ہم دِل کھول کر گمراہ بچوں کو گرجا گھر میں لانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ مگر وہ خُدا کو محسوس نہیں کر سکتے جب وہ یہاں پر پہنچتے ہیں۔ کیوں نہیں؟ کیونکہ وہ یہاں پر طاقت میں نہیں ہوتا۔ خُدا قطعی طور پر پاک ہے۔ وہ جانتا ہے کہ آپ لوگوں میں سے بے شمار واقعی میں یقین نہیں رکھتے کہ وہ ’’نہایت غیر معمولی اور پوشیدہ باتیں کر سکتا ہے جنہیں آپ نہیں جانتے ہیں۔‘‘ آپ بس اُس میں یقین نہیں کرتے۔ آپ سوچتے ہیں کہ یہ سب پریوں کی کہانیاں ہیں۔ آپ سوچتے ہیں کہ میں ایک بوڑھا شخص ہوں، جو ایک معجزے کے بارے میں بے تُکی باتیں کرتا رہتا ہے، ایک معجزہ جس کو آپ نے کبھی بھی نہیں دیکھا، لہٰذا آپ اِس کا یقین بھی نہیں کرتے۔

ہم بے شمار معجزات دیکھ چکے ہیں، لیکن آپ اِس کا اب بھی یقین نہیں کرتے! اُنتالیس لوگوں نے دو ملین ڈالز یعنی دو کروڑ روپے ادا کیے گرجا گھر کی اِس عمارت کو بچانے کے لیے۔ کوئی ایک بھی مبلغ جس سے میں یہ بات نہیں سوچتا کہ یہ کیا جا سکتا ہوگا۔ لیکن یہ کیا گیا تھا! یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے! لیکن آپ اِس کو دیکھتے نہیں ہیں! آپ اِس کا یقین نہیں کرتے! گذشتہ سال چند ایک ہفتوں کے اندر ہمارے ہاں 17 لوگوں نے نجات پائی تھی۔ لیکن آپ یہ دیکھتے ہی نہیں ہیں! آپ یقین ہی نہیں کرتے یہ معجزہ ہے! ہمیں ہمارے مبلغ کے طور پر جان کیگنJohn Cagan ملے، ایک نئے پادری صاحب کی حیثیت سے، حالانکہ اُنہوں نے اپنے دانتوں کو بھینچا تھا اور کہا تھا، ’’میں یہ کبھی بھی نہیں کروں گا!‘‘ یہ ایک معجزہ ہے۔ لیکن آپ اِس کو نہیں دیکھتے! آپ اِس کا یقین نہیں کرتے! ہم عالمگیر سطح پر مذہبی خدمت 35 زبانوں میں کر رہے ہیں – ساری دُنیا کو یہ واعظ بھیج رہے ہیں۔ لیکن آپ یہ نہیں دیکھتے! آپ اِس کا یقین نہیں کرتے!

اوہ، میں دعا مانگتا ہوں کہ بیدار ہو جائیں گے اور حیاتِ نو کے معجزے کے لیے دعا مانگیں گے! اوہ، کہ آپ فریسیوں کی مانند نہیں ہونگے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے، ’’اگرچہ یسوع نے اُن کے درمیان اِتنے معجزے دکھائے تھے، اِس کے باوجود بھی وہ اُس پر ایمان نہ لائے‘‘ (یوحنا12:37).

اور میں اب جانتا ہوں کہ آپ کے مذہب میں اب کوئی خوشی نہیں رہی، اور کھبی کبھار میرا دِل آپ کے لیے روتا ہے۔ آپ کے پاس کوئی خوشی نہیں ہے۔ آپ کے پاس کوئی اُمید نہیں ہے۔ آپ بیچارے سیمسون کی مانند قیدخانے میں ایک غلام کی حیثیت سے چکی پیستے رہتے ہیں۔ جی ہاں! آپ میں سے کچھ کے لیے یہ گرجا گھر ایک قیدخانہ ہے، ایک قیدخانہ ہے جہاں پر آپ عبادتوں میں محنت و مشقت سے گزرتے ہیں، جہاں پر آپ انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم دینے کے غلامانہ کام سے گزرتے ہیں۔ آپ اِس سے اِسی لیے نفرت کرتے ہیں! لیکن آپ جانتے نہیں ہیں فرار کیسے ہوا جائے! آپ روحانی زنجیروں کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں، چکی پیس رہے ہیں، پیس رہے ہیں، چکی بغیر کسی اُمید کے پیسے جا رہے ہیں۔ کبھی کبھی آپ چھوڑنے کے بارے میں سوچتے ہیں۔ میں آپ میں سے کچھ کو جانتا ہوں۔ لیکن آپ چھوڑ نہیں سکتے۔ آپ کے واحد دوست یہیں پر ہیں۔ آپ کے واحد رشتے دار یہیں پر ہیں! آپ کیسے مسلسل چکی پیستے رہنے کو چھوڑ سکتے ہیں، گرجا گھر کی اُس نفرت سے بھرپور کام اور مشقت کو، جو آپ کو ایک قیدخانے کی مانند لگتا ہے؟ میں آپ کی مدد کرنا چاہتا ہوں! خُدا جانتا ہے میں چاہتا ہوں! فرار ہونے کے لیے صرف ایک ہی راہ ہے۔ آپ کیسے جانتے ہیں، جناب مبلغ صاحب؟ کیونکہ میں اِسی مقام سے گزر چکا ہوں جہاں پر آپ ابھی ہیں! میں ایک گرجا گھر میں زنجیروں میں جکڑا چکّی پسیتا رہا ہوں، پیستا رہا ہوں، اِس سے نفرت کرتے ہوئے – لیکن کوئی فرار نہیں تلاش کر پایا! فرار ہونے کی واحد راہ یسوع ہے! اپنے گناہوں کا اعتراب کر لیں! کیوں نہیں؟ آپ کے گناہ وہ زنجیریں ہیں جنہوں نے آپ کو جکڑا ہوا ہے! اُن سے چُھٹکارہ حاصل کریں! توبہ کریں اور خون کے وسیلے سے پاک صاف ہو جائیں، کیونکہ صرف یسوع ہی آپ کی زنجیروں کو کھول سکتا ہے اور آپ کو دوبارہ آزاد کروا سکتا ہے۔

’’تُم ایک دُوسرے کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراب کرو اور ایک دُوسرے کے لیے دعا کرو تاکہ شفا پاؤ…‘‘ (یعقوب 5:16).

اپنے خدشات کا، اپنے شکوک کا، اپنے گناہوں کا، اپنے غصے کا، اپنی کڑواہٹ کا، اپنے حسد کا اعتراب کریں۔ ’’اِس لیے تم ایک دوسرے کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراب کرو اور ایک دوسرے کے لیے دعا کرو تاکہ شفا پاؤ …‘‘ (یعقوب5:16)۔ ایک عورت نے ایسا کیا تھا! اور یسوع نے اُس کو شفا دی۔ ایک شخص نے ایسا کیا، اور یسوع نے اُس کو شفا دی۔ بالکل ابھی اُمید کی ایک کِرن ہے۔ آپ سوچتے ہیں، ’’کیا یہ سچ ہو سکتا ہے؟‘‘ جی ہاں! یہ سچ ہے! کسی کے لیے دعا مانگیں کہ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراب کرے اور یسوع کے وسیلے سے شفا پائے۔

’’یسوع نے کہا، ’مبارک ہیں وہ جو غمگین ہیں‘ (متی5:4) یہ اُن کے لیے حوالہ دیتا ہے جو اپنے گناہ کو محسوس کرتے ہیں اور اِس پر روتے ہیں۔ گناہ ہمیشہ اُس مسیحی کے لیے جو حیاتِ نو کی چاہت رکھتا ہے ایک مسئلہ ہوتا ہے، اور حیاتِ نو ہمیشہ اُن باتوں کے ساتھ جن کو دُنیا دیکھ نہیں پاتی پریشانی سے نمٹتا ہے۔ حیاتِ نو ہمیشہ تاریک جگہوں پر نور برستا ہے… حیاتِ نو کی تیاری کے لیے، اِیوان رابرٹز نے اُنہیں یاد دلایا کہ وہ [پاک] روح تب تک نہیں آئے گا جب تک لوگ تیار نہیں ہوتے: ’ہمیں [کلیسیا] کو تمام بُری باتوں سے چُھٹکارہ دِلانا ہے – تمام کینہ، بُغض، تعصب اور غلط فہمیوں سے۔ [مت دعا مانگیں] جب تک تمام ناراضگیاں معاف نہ کر دی جائیں: لیکن اگر آپ محسوس کریں آپ معاف نہیں کر سکتے، مٹی کی جانب جُھک جائیں، اور معاف کر دینے والی روح کے لیے مانگیں۔ آپ کو وہ تب مل جائے گی‘‘‘ … صرف پاک صاف مسیحی ہی خُدا کے نزدیک زندگی بسر کر سکتا ہے (برائن ایچ۔ ایڈورڈزBrian H. Edwards، حیاتِ نوRevival، ایونجیلیکل پریس Evangelical Press، 2004، صفحہ 113)… ’’ہر شخص نے ایک دوسرے کو بُھلا دیا۔ ہر ایک خُدا کے روبرو تھا [جب اُنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراب کر لیا]… [یہ بات] تقریباً ہر ریکارڈ شُدہ حیاتِ نو میں مثالی ہے۔ بغیر گہری، غیرآرام دہ اور عاجزانہ گناہ کی سزایابی کے کوئی حیاتِ نو نہیں ہوتا‘‘ (ibid.، صفحہ116)… ’’آج ہمارا ایک ناپاک گرجا گھر ہے کیونکہ مسیحی گناہ کو محسوس نہیں کرتے یا اِس سے خوف نہیں کھاتے… وہ جو حیاتِ نو کی نہایت خواہش رکھتے ہیں اُنہیں اپنے دِلوں کا جائزہ لینے سے شروع کرنا چاہیے اور ایک پاک خُدا کے سامنے زندگی بسر کرنی چاہیے۔ اگر ہم اپنے گناہوں پر پردہ ڈال لیتے ہیں اور اِن کا ابھی اعتراب نہیں کرتے[ تو ہمارے ہاں حیاتِ نو نہیں ہوگا]… ایک پاک خُدا چھوٹے سے چھوٹے گناہ کے بارے میں بھی مسیحی کو آگاہ ہونے پر مجبور کرتا ہے… وہ جو اپنے بارے میں جانتے ہیں کہ وہ ایک پاک خُدا کی موجودگی میں ہیں ہمیشہ ذاتی گناہ کے بارے میں آگاہ رہتے ہیں… سزایابی کا یہ گہرا کام معافی کے نئے نئے دریافت کیے ہوئے تجربے میں ہمیشہ آزادی اور خوشی کے لیے رہنمائی کرتا ہے۔ ’دِل کو مارنے‘ کی پیروی کرنے سے نجات کی خوشی کا اُبال اُٹھتا ہے‘‘ (ibid.، صفحہ 120)۔

’’کیا تُو ہمیں پھر سے تازہ دم نہ کرے گا، تاکہ تیرے لوگ تجھ میں مسرور ہوں؟‘‘ (زُبور 85:6).

ہم اپنے دِلوں میں خوشی کو نہیں منا سکتے جب تک کہ ہم اپنے گناہوں کا آنسوؤں کے ساتھ اعتراب نہیں کرتے! یہ چین میں رونما ہو رہا ہے۔ پھر ہمارے گرجا گھر میں کیوں نہیں ہو رہا؟ ہم ایک دوسرے کے ساتھ اپنے گناہوں کو اعتراب کرنے سے اور ایک دوسرے کے لیے دعا مانگنے سے کہ وہ شاید شفا یاب ہو جائیں خوفزدہ ہوتے ہیں۔ دوسرے کیا سوچیں گے اِس بات کا خوف ہمیں اعتراف کرنے سے روکتا ہے۔ اشعیا نے کہا، ’’تم کون ہو جو فانی انسان سے اور آدم زاد جو محض گھاس ہیں ڈرتے ہو… اور خُداوند اپنے خالق کو بھول جاتے ہو… ‘‘ (اشعیا51:12، 13)۔

10 نمبر گائیں!

’’اَے خدا، تُو مجھے جانچ اور میرے دل کو پہچان:
مجھے آزما اور میرے مضطرب خیالات کو جان لے:
اور میرے دل کو پہچان؛
مجھے آزما اور میرے مضطرب خیالات کو جان لے؛
اور دیکھ مجھ میں کوئی بُری روش تو نہیں،
اور مجھے ابدی راہ میں لے چل۔‘‘
   (زبُور 139:23، 24).

17 نمبر گائیں!

م

یرے سارے تخّیل کو پورا کر، گناہ کے نتیجہ کو ناکام کر دے
   باطن میں جگمگاتی چمک کو چھاؤں دے۔
مجھے صرف تیرا بابرکت چہرہ دیکھ لینے دے۔
   تیرے لامحدود فضل پر میری روح کو لبریز ہو لینے دے۔
میرے سارے تخّیل کو پورا کر، الٰہی نجات دہندہ،
   جب تک تیرے جلال سے میری روح جگمگا نہ جائے۔
میرے سارے تخّیل کو پورا کر، کہ سب دیکھ پائیں
   تیرا پاک عکس مجھ میں منعکس ہوتا ہے۔
(’’میرے سارے تخّیل کو پورا کرFill All My Vision‘‘ شاعر ایوس برجیسن کرسچنسن Avis Burgeson Christiansen، 1895۔1985)۔

آپ نے پہلے اعتراف نہیں کیا تھا۔ آپ جانتے تھے آپ کو کرنا چاہیے تھا، لیکن آپ خوفزدہ تھے۔ ایک عورت نے مجھے بتایا کہ وہ ہولناک طور پر فون پر ہی اخلاقی طور پر خراب ہو چکی تھی۔ پھر میں نے اِتوار کی صبح اُس پر نظر ڈالی اور اُس نے مجھے دیکھا۔ میں دیکھ سکتا تھا وہ آنا چاہتی تھی۔ آخر کو، وہ ایک مُناد کی بیوی تھی! لوگ کیا سوچیں گے اگر وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتی ہے؟ بھول جائیں دوسرے کیا سوچتے ہیں! جب ہم کھڑے ہوں اور گیت گائیں، آئیں اور یہاں دوزانو ہو جائیں اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں۔ خُدا آپ کو گناہ کی سزایابی میں لاتا ہے، اور پھر وہ خون جو مسیح نے صلیب پر بہایا آپ کو پاک صاف کر کے نیا بنا ڈالتا ہے۔

17 نمبر گائیں!

میرے سارے تخّیل کو پورا کر، گناہ کے نتیجہ کو ناکام کر دے
   باطن میں جگمگاتی چمک کو چھاؤں دے۔
مجھے صرف تیرا بابرکت چہرہ دیکھ لینے دے۔
   تیرے لامحدود فضل پر میری روح کو لبریز ہو لینے دے۔
میرے سارے تخّیل کو پورا کر، الٰہی نجات دہندہ،
   جب تک تیرے جلال سے میری روح جگمگا نہ جائے۔
میرے سارے تخّیل کو پورا کر، کہ سب دیکھ پائیں
   تیرا پاک عکس مجھ میں منعکس ہوتا ہے۔
(’’میرے سارے تخّیل کو پورا کرFill All My Vision‘‘ شاعر ایوس برجیسن کرسچنسن Avis Burgeson Christiansen، 1895۔1985)۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک کی تلاوت مسٹر نوح سانگ Mr. Noah Song نے کی: 1۔یوحنا 1:5۔10۔
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’ہائے زندگی کی سانس O Breath of Life‘‘ (شاعر بیسی پی۔ ھیڈ Bessie P. Head، 1850۔1936)۔