Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


حیاتِ نو میں دعا کی جنگ!

THE BATTLE OF PRAYER IN REVIVAL!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 9 جولائی،
2017 A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, July 9, 2017

جب میں حمدوثنا کے گیتوں والی اپنی کتاب میں دیکھتا ہوں تو مجھے کوئی بھی گیت گرجا گھر حالتِ جنگ میں ہے اِس موضوع پر نہیں ملتا – ماسوائے ایک کے۔ صرف ایک ہی ہے گرجا گھر کی جنگجوئی پر، اور اُس گیت میں بھی صرف ایک ہی شعر ہے! ’’تحفظsecurity‘‘ پر پندرہ گیت ہیں۔ ’’ستائشpraise‘‘ پر اکیس گیت ہیں۔ ’’بچوں‘‘ کے لیے بیس گیت ہیں۔ ’’عزت و تعظیمadoration‘‘ کے بارے میں اکیس گیت ہیں۔ لیکن گرجا گھر کی ’’جنگجوئیتmilitant‘‘ پر اُس کتاب میں صرف ایک ہی گیت ہے – گرجا گھر حالتِ جنگ میں! اور اُس گیت میں صرف ایک ہی بند ہے اور وہ ہمیں نہیں بتاتا کہ جنگ کو کیسے جاری رکھا جا سکے! یہ ہے اُس ساری کی ساری کتاب میں وہ بند جو ہمیں بتاتا ہے کہ ہم بدروحوں اور ابلیس کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہیں! مسٹر گریفتھ نے وہ بند بالکل ابھی گایا تھا۔

فتح کی علامت پر شیطان کا میزبان دیکھنا بھاگ جائے گا؛
تب بڑھتے چلو، مسیح سپاہیو، فتح کی جانب بڑھتے چلو!
ستائش کی پکاروں پر جہنم کی بنیاد کانپتی ہیں؛
بھائیوں، اپنی آوازیں بُلند کریں، اپنے ترانوں کو اور اونچا گائیں!
بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو، جنگ کے لیے قدم بڑھاتے چلو،
یسوع کی صلیب کی قیادت میں بڑھتے چلو۔
   (’’بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو Onward, Christian Soldiers‘‘ شاعرہ سابین بارنگ گوولڈ Sabine Baring-Gould، 1834۔1924)۔

وہ ہی واحد بند ہےاُس واحد گیت میں جو ہمیں بتاتا ہے کہ ہم شیطان اور اُس کی بدروحوں کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہیں! اور وہ ہی ایک بند تمام دورِ حاضرہ کی حمدوثنا کے گیتوں کی کتابوں میں سے ہٹایا جا چکا ہے! اُس بند کو 1957 میں ہٹایا گیا تھا۔ اور اُس سے بھی بدتر یہ کہ وہ سارے کا سارا گیت اب دورِ حاضرہ کی تقریباً ساری حمدوثنا کے گیتوں کی کتابوں میں سے ہٹایا جا چکا ہے! مغربی دُنیا میں مسیحی تو یہاں تک بھی نہیں جانتے کہ ایک جنگ ہے جو جاری ہے۔ وہ سوئے ہوئے ہیں۔ مغربی بپٹسٹ ہر سال اپنے گرجا گھروں میں سے ایک چوتھائی ملین لوگ کھو دیتے ہیں۔ اُن کے ایک ہزار گرجا گھر ہر سال اپنے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دیتے ہیں! اِس میں ہمارے BBFI گرجا گھر بھی شامل ہیں۔ دعائیہ اِجلاسوں کو بائبل کے مطالعے میں بدلا جا چکا ہے یا ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا چکا ہے۔ اچانک ہی مغربی دُنیا میں ہر جگہ پر گرجا گھروں میں رات کی عبادتوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اِس میں ہمارے BBFI گرجا گھر بھی شامل ہیں۔ نام نہاد کہلائی جانے والی ’’تبلیغ‘‘ خشک مٹی کی مانند بائبل کی تفاسیر میں تبدیل کی جا چکی ہے۔ انجیلی بشارت کی حقیقی منادی مر چکی ہے۔ میں کسی بھی ایسے پادری صاحب کو نہیں جانتا جن کو یہ معلوم ہو کہ کیسے انجیلی بشارت کے واعظ کو تیار کیا جائے – اِس سے بھی بُرا یہ کہ اُس واعظ کی منادی کیسے کی جائے! مجھے آج اپنے گرجا گھروں میں سے کسی میں بھی انجیلی بشارت کی منادی سُنائی نہیں دیتی۔ ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز Dr. Martyn Lloyd-Jones بیسویں صدی کے عظیم ترین مبلغین میں سے ایک تھے۔ اُنہوں نے کہا،

      خُدا جانتا ہے کہ مسیحی کلیسیا بے انتہا طویل مدت سے بیابان میں رہ چکی ہے۔ اگر آپ کلیسیا کی تاریخ کو تقریباً 1840 سے پہلے پڑھیں تو آپ جان جائیں گے کہ بے شمار ممالک میں کبھی سلسلہ وار حیاتِ نو ہوا کرتے تھے… تقریباً ہر دس سال یا کچھ زیادہ کے عرصے میں۔ یہ اُس جیسا نہیں رہا ہے۔ 1859 سے لیکر اب تک صرف ایک ہی بڑا حیاتِ نو رہ چکا ہے… ہم کلیسیا کی طویل تاریخ کے سب سے زیادہ بنجر [بےجان] عرصوں میں سے ایک میں سے گزر چکے ہیں… اور یہ ابھی تک جاری ہے… [کسی] ایسے پر یقین مت کریں جو رائے دیتا ہو کہ ہم اِس میں سے باہر نکل چکے ہیں، ہم نہیں نکلے ہیں۔ کلیسیا بیابان میں ہے (مارٹن لائید جونز، ایم۔ ڈی۔ Martyn Lloyd-Jones, M.D.، حیاتِ نو Revival، کراسوے کُتب Crossway Books، 1992 ایڈیشن، صفحہ129)۔

ہمارے گرجا گھر اِس قدر مُردہ کیوں ہیں؟ ہم چالیس منٹوں تک کورس گا گا کر جان ڈالنے کی کوشش کر چکے ہیں! ہم لوگوں کے جذبات کو گٹاروں اور ڈرموں کے پھندوں کے ساتھ اُبھارنے کی کوشش کر چکے ہیں۔ لیکن اِن سے مدد نہیں ملی ہے! کچھ بھی ایسا نہیں جو کیا گیا اور اُس نے مدد کی ہو – کسی بات نے بھی بپٹسٹ یا کرشماتی مشن والوں کو خُدا کے بھیجے ہوئے حیاتِ نو کا تجربہ کرنے میں مدد دی ہو۔ میں دہراتا ہوں – کسی چیز نے بھی ہماری مدد نہیں کی ہے!

جواب کیا ہے؟ ہم نہیں جانتے ہم کس سے لڑ رہے ہیں! ہم تو یہاں تک نہیں جانتے کہ ہم ایک لڑائی میں ہیں! مہربانی سے سیکوفیلڈ مطالعہ بائبل میں صفحہ 1255 کو کھولیں۔ یہ افسیوں6:11 اور 12 آیت ہے۔ مہربانی سے کھڑے ہو جائیں جب میں آیت 11 اور 12 پڑھوں۔

’’خدا کے دیئے ہوئے تمام ہتھیاروں سے لیس ہو جاؤ تاکہ تُم اِبلیس کے منصوبوں کا مقابلہ کر سکو۔ کیونکہ ہمیں خُون اور گوشت یعنی اِنسان سے نہیں بلکہ تاریکی کی دُنیا کے حاکموں، اِختیار والوں اور شرارت کی رُوحانی فوجوں سے لڑنا ہے جو آسمانی مقاموں میں ہیں‘‘ (افسیوں6:11،12).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ نئی امریکی سٹینڈرڈ بائبل آیت 12 کا ترجمہ یوں کرتی ہے،

’’کیونکہ ہمیں خُون اور گوشت [یعنی ایک اِنسانی دشمن] سے نہیں بلکہ تاریکی کی دُنیا کے حاکموں، اِختیار والوں اور شرارت کی رُوحانی فوجوں سے لڑنا ہے جو آسمانی مقاموں میں ہیں‘‘ (افسیوں 6:12 NASB)۔

ڈاکٹر چارلس رائری Dr. Charles Ryrie نے کہا، ’’ایماندار کی دُشمن شیطان کے آسیبی لشکر ہوتے ہیں جو ہمیشہ فانی جنگ کے لیے کمربستہ ہوتے ہیں‘‘ (افسیوں6:12 پر غور طلب بات)۔ یہ ایک اندیکھی جنگ ہے – شیطان کے ساتھ روحانی جنگ۔ ہمارے پاس شیطان اور اُس کے آسیبوں کے ساتھ لڑنے کے لیے کوئی قوت اور کوئی جوش نہیں ہے۔ ہم تو یہاں تک بھی نہیں جانتے کہ ہمیں اُن سے لڑنا بھی چاہیے کہ نہیں! شیطان ہمیں سُلا چکا ہے! یہاں تک کہ ’’بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیوOnward, Christian Soldiers‘‘ میں وہ ایک بند بھی غلط ہے۔ یہ کہتا ہے، ’’ستائش کی پکاروں پر جہنم کی بنیادیں کانپتی ہیں!‘‘ جی نہیں – وہ نہیں کانپتی! آسیب ’’ستائش کی پکاروں‘‘ سے خوفزدہ نہیں ہوتے ہیں! وہ ’’ستائش کی پکاروں‘‘ پر ہنستے ہیں! وہ بپٹسٹس کے گیتوں کے کورسوں پر ہنستے ہیں! گٹاروں اور ڈرموں کے پھندوں کے ساتھ ! وہ کرشماتی مشن والوں کی پکاروں پر ہنستے ہیں! وہ ہم پر ہنستے ہیں یہ سوچنے کے لیے کہ ہم اُنہیں شور مچانے اور ڈرموں کو پیٹنے کے ساتھ خوفزدہ کر کے بھگا سکتے ہیں!

ہمیں بالکل بھی نہیں سوچنا چاہیے کہ ہمارے پاس ایک آسان کام ہے۔ شیطان کے سب سے بڑے ترین ہتھیاروں میں سے ایک یہ ہے کہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرنا کہ ہم حیاتِ نو میں خُدا کی موجودگی کو باآسانی پا سکتے ہیں، ’’کیونکہ ہم گوشت اور خون یعنی انسان کے خلاف جدوجہد نہیں کرتے۔‘‘ ہمیں تاریکی کی آسیبی قوتوں کے خلاف جدوجہد کرنے اور کُشتی کرنے کے لیے بُلایا گیا ہے۔

ہمیں نہیں سوچنا چاہیے کہ اِن قوتوں کے خلاف جدوجہد کرنا اور کُشتی کرنا آسان ہے! سب سے پہلے، ہم ایک ایسی تہذیب میں زندگی بسر کر رہے ہیں جو اُن کے قابو میں ہے۔ میں غور کر چکا ہوں کہ حیاتِ نو مغربی دُنیا کے مقابلے میں کہیں زیادہ اکثر مرتبہ کافروں کی سرزمینوں پر آتا ہے۔ یہ اِس لیے ہے کیونکہ ہم امریکہ میں اور مغرب میں ایک ایسی تہذیب میں زندگی بسر کر رہے ہیں جو انتہائی شدید طور پر ایک قوی آسیب کے قابو میں ہے جو ہمیں اپنی قوت میں گرفت کیے ہوئے ہے۔ ہمیں اِس دُنیا کے تاریکی کے حکمرانوں کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے۔ جیسے کہ ڈاکٹر اُونگر Dr. Unger نے اِس کا ترجمہ کیا، ’’اِس تاریکی کے دُنیاوی حکمرانوں کے خلاف۔‘‘ ڈاکٹر رائری نے کہا، ’’بُرے فرشتے قوموں کے معاملات پر حکمرانی کرنے کی تلاش میں رہتے ہیں… اچھے اور بُرے فرشتوں کے درمیان قوموں پر قابو پانے کے لیے جنگ جاری رہتی ہے‘‘ (رائری مطالعہ بائبلRyrie Study Bible، دانی ایل10:13 پر غور طلب بات)۔ ڈاکٹر اُونگر نے اُنہیں ’’اِس تاریکی کے دُنیاوی حکمران‘‘ کہا ہے (بائبلی آسیبیت کا علم Biblical Demonology، کریگل Kregel، 1994، صفحہ 196)۔ دانی ایل 10:13 میں حکومت کرنے والے آسیب کو ’’فارس Persia کی سلطنت کا شہزادہ‘‘ کہا گیا تھا۔ آج ’’مغرب کا شہزادہ‘‘ امریکہ اور اُس کے اِتحادیوں کو قابو میں کیے ہوئے ہے۔ حکومتی آسیب کو ہمارے لوگوں کو مادیت پرستی کی غلامی میں جکڑے رکھنے کی قوت پانے کی اجازت دی جا چکی ہے۔ مادیت پرستی کے آسیب امریکہ اور اُس کے اِتحادیوں کو قابو میں کیے ہوئے ہیں۔ مادیت پرستی کے آسیب ہماری دُعاؤں میں رکاوٹ کھڑی کرتے ہیں، ہمارے لوگوں کو غلامی میں جکڑتے ہیں، اور حیاتِ نو کو رونما ہونے سے روکتے ہیں۔ ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز اُن چند ایک عظیم ترین مبلغین میں سے ایک ہیں جنہوں نے اِس بات کو سمجھ لیا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ آسیب غیر مسیحیوں کے ذہنوں کو اندھا کر چکا ہے اور ہمارے گرجا گھروں کو تباہ کر چکا ہے۔ اُنہوں نے کہا، ’’خُدا کا مکمل تصور واقعی میں غائب ہو چکا ہے… خُدا اور مذہب اور نجات کے بارے میں اعتقاد بُھلایا اور نظرانداز کیا جا چکا [ہے]‘‘ (حیاتِ نو Revival، ibid.، صفحہ13)۔ یہ مادیت پرستی کے بہت بڑے آسیب کے کاموں کی وجہ سے رونما ہو چکا ہوا ہے، وہ آسیب جس کو میں ’’مغرب کا شہزادہ‘‘ کہہ چکا ہوں۔

تیسری دُنیا میں ایسی قومیں ہیں جہاں مادیت پرستی کی حکومت کرنے والے آسیب کے پاس ویسی ہی قوت نہیں ہے جیسی اُس کے پاس ہماری تہذیب میں ہے۔ چین میں لاکھوں نوجوان لوگ، افریقہ میں، انڈوچائینہ میں – وہاں پر لاکھوں نوجوان لوگ مسیحی ہوتے جا رہے ہیں۔

لیکن امریکہ اور اُس کے اِتحادی ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں نوجوان لوگ گرجا گھروں کو چھوڑ رہے ہیں۔ رائے شماری کرنے والے جارج برنا George Barna ہمیں بتاتے ہیں کہ اُن لوگوں میں سے 88 % جو ہمارے گرجا گھروں میں پروان چڑھتے ہیں تقریباً 25 برس کے عمر تک پہنچنے سے پہلے ہمارے گرجا گھروں کو ’’کبھی نہ واپس آنے‘‘ کے لیے چھوڑ جاتے ہیں۔

کیسے مادیت پرستی کا وہ بہت بڑا آسیب اُنہیں قابو میں کرتا ہے؟ وہ فحاشی کے ذریعے سے قابو میں کیے جاتے ہیں، جس کو وہ گھنٹوں انٹرنیٹ پر گھورتے رہتے ہیں۔ وہ دعا کرنے پر ہنستے ہیں، لیکن وہ سوشل میڈیا کے ذریعے سے لگاتار گھنٹوں مسحور رہتے ہیں۔ جس لمحے وہ صبح جاگتے ہیں وہ اپنے سمارٹ فونز تھام لیتے ہیں۔ حال ہی کی ایک رپورٹ کے مطابق، وہ دِن میں 150 مرتبہ سے زیادہ اپنے سمارٹ فونز کو چیک کرتے ہیں۔ وہ چرس کے ذریعے سے کاہلانہ غفلت کے نشے میں دھت رہتے ہیں۔ صبح سے لیکر رات گئے تک اُن آلات کے ذریعے سے جو اُںہیں مادیت پرستی کے آسیبوں کے ساتھ جوڑے رکھتے ہیں واقعی میں قابو میں رہتے ہیں۔ وہ تقریباً ہر آزاد لمحہ اپنے سمارٹ فونز کو گھورنے میں خرچ کر دیتے ہیں۔ وہ اُنہیں اِس طرح سے گھورتے ہیں جیسے قدیم اسرائیلی اشعیا نبی کے دور میں اپنے بتوں کو گھورا کرتے تھے۔ میں کہتا ہوں کہ سوشل میڈیا وہ بُت ہے جسے شیطان آج ہمارے نوجوان لوگوں کے ذہنوں اور دِلوں کو قابو کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے! اور مبلغین کی ایک بہت بڑی تعداد یہ سوچتی ہے کہ یہ بات نہایت اِطمینان بخش اور جدید ہے! اُںہیں یہاں تک کہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ شیطانی قوتوں کے ساتھ نمٹ رہے ہوتے ہیں، جیسا کہ ڈاکٹر لائیڈ جونز نے کہا! کوئی تعجب نہیں کہ ہمارے گرجا گھر اِس قدر دُنیاوی اور اِس قدر زیادہ کمزور ہیں!

ہوسیع نبی کے دور میں یہ اِس قدر بدتر ہو چکا تھا کہ خُدا نے اُس سے کہا، ’’[اسرائیل] بتوں سے مل گیا، اِسے اکیلا چھوڑ دو‘‘ (ہوسیع4:17)۔ اُس قوم کا ساتھ خُدا نے چھوڑ دیا تھا۔ وہ تنہا چھوڑ دیے گئے تھے، آسیبوں کی قوت اور قابو کے تحت تنہا – شیطانی قوتوں کے ذریعے سے غلامی میں جکڑے ہوئے!

ہم اُںہیں گرجا گھر میں لاتے ہیں۔ لیکن یہاں پر خُدا نہیں ہے۔ وہ محسوس کر سکتے ہیں کہ خُدا یہاں پر نہیں ہے۔ ہوسیع نبی نے کہا کہ وہ ’’خُداوند کو ڈھونڈنے نکلتے ہیں؛ لیکن وہ اُسے نہیں پائیں گے؛ کیونکہ وہ اُن سے دور ہو چکا ہے‘‘ (ہوسیع5:6)۔ خُدا جا چکا ہے! وہ ہمارے گرجا گھروں کو چھوڑ چکا ہے۔ وہ اب کئی ہفتوں سے ہمارے گرجا گھر کو چھوڑ چکا ہے۔ وہ اِس لیے نہیں چلا گیا کیونکہ وہ وجود نہیں رکھتا۔ اوہ، جی نہیں! وہ جا چکا ہے کیونکہ وہ وجود رکھتا ہے! یہ ہی وجہ ہے کہ وہ ہمیں تنہا چھوڑ چکا ہے۔ وہ کُؒلّی طور پر پاک ہے۔ وہ ہمارے ساتھ مکمل طور سے ناراض ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ ہمیں تنہا چھوڑ چکا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارے درمیان اُس کی موجودگی نہیں ہوتی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پاک روح جا چکا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں حیاتِ نو نہیں ہوتا!

ہم اُنہیں گرجا گھر میں لاتے ہیں۔ ہم اُنہیں سالگرہ کی دعوت اور اچھا کھانا کھلاتے ہیں۔ ہم اُنہیں ایک کارٹون دکھاتے ہیں۔ لیکن بس یہی سب کچھ اُن کے لیے ہمارے پاس ہوتا ہے! ہم اُس پُرخلوص دوست کی مانند ہوتے ہیں جس نے کہا، ’’میرے پاس کچھ بھی نہیں کہ اُس کی خاطر تواضع کر سکوں‘‘ (لوقا11:6)۔ اُس کا دوست آیا تھا لیکن اُس کے پاس اُس کی خاطر تواضع کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا! کچھ بھی نہیں ماسوائے تھوڑے سے کھانے اور ایک پرانے کارٹون کے۔ خُدا کے بارے میں اُس کی تواضع کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں! اور تمثیل اِن الفاظ کے ساتھ ختم ہوتی ہے، ’’کیا آسمانی باپ اُںہیں پاک روح افراط سے عطا نہ فرمائے گا جو اُس سے مانگتے ہیں؟‘‘ (لوقا11:13)۔

لیکن ہم واپس ماضی میں نہیں جانا چاہتے اور وہ نہیں کرنا چاہتے جو گذشتہ سال کیا تھا۔ ہماری کاہلانہ غنودگی اور سُستی ایک ایسا گرجا گھر بنا ڈالے گی جو پاک روح کے بغیر ہو گا۔ صرف روزمرّہ کے معمول کے مطابق کام کرتے رہیں۔ ہنگامہ کیوں کھڑا کیا جائے؟ ہمیں پریشان کیوں کیا جائے؟ ہمیں ہماری مدہوشی میں سو لینے دیں۔ ہم خُدا کی حضوری اور قوت کے لیے دعا اور روزے رکھنے کے مشکل کام کے لیے واپس جانا نہیں چاہتے۔

ہمارے گرجا گھر میں چالیس سالوں سے ایک بھی حیاتِ نو نہیں آیا۔ کیوں نہیں آیا؟ میں نے کئی مرتبہ حیاتِ نو پر منادی کی۔ لیکن ہمارے پاس کبھی ایک بھی نہیں آیا۔ جب بھی ہم نے حیاتِ نو پر زور دیا تو پیچھے ہٹنے کا ایک ہولناک ردعمل ہوتا تھا۔ برکت کے بجائے وہ ایک لعنت کی مانند لگتا تھا! یہ بہت زیادہ حد تک اِس وجہ سے تھا کیونکہ ہمارے گرجا گھر میں اکثریت غیرتبدیل شُدہ لوگوں کی ہے۔ وہ جو حیات نو چاہتے تھے اُن کی چھوٹی سے اقلیت تھی۔ وہ اُن کے ذریعے سے جو غیرتبدیل شُدہ ہوتے تھے مغلوب ہو جاتے تھے۔ لیکن آہستہ آہستہ وہ لوگ چھوڑتے چلے گئے۔ ہمارے زیادہ تر لوگ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل شُدہ ہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ اب یہ وقت دوبارہ سے حیات نو کے لیے دعا مانگنے کا تھا۔

اُن کی تعداد سے زیادہ ہونے کے لیے جن کی مسیح میں ایمان لانے کی جھوٹی تبدیلیاں تھیں اب کافی زیادہ حقیقی مسیحی تھے۔ لہٰذا ہم نے حیاتِ نو کے لیے دعا مانگنی شروع کر دی۔ ہم میں سے کافی تھے جو خُدا میں یقین رکھتے تھے کہ وہ ہمیں جواب دیتا ہے۔ جیسی زاکامیٹژِں Jesse Zacamitzin نے نجات پائی۔ منحو Minh Vu نے نجات پائی۔ ڈینی کارلوس Danny Carlos نے نجات پائی۔ آیاکو زبالاگا Ayako Zabalaga نے نجات پائی۔ ٹموتھی چعین Timothy Chan نے نجات پائی۔ جوزف گونگ Joseph Gong نے نجات پائی۔ جولی سیوائیلے Julie Sivilay نے نجات پائی۔ بائینگ ژینگ Baiyang Zhang نے نجات پائی۔ اینڈریو میٹ سوساکا Andrew Matsusaka نے نجات پائی۔ الیسیا زیکامٹژِن Alicia Zacamitzin نے نجات پائی۔ تھامس لوآنگ Thomas Luong نے نجات پائی۔ ٹام چیا Tom Xia نے نجات پائی۔ اَروِن لُوErwin Luu نے نجات پائی۔ جیسیکا یعِن Jessica Yin نے نجات پائی۔ رابرٹ وینگ Robert Wang نے نجات پائی۔ سوزان چو Susan Chu نے نجات پائی۔ ورجیل نیکل Virgel Nickell نے نجات پائی۔ 17 لوگوں نے نجات پائی۔ ڈاکٹر چعینDr. Chan نے نئی زندگی پائی۔ جان سیموئیل کیگن John Samuel Cagan نے خوشخبری کی منادی کرنے کے لیے خود کو حوالے کر دیا۔ ہارون ینسی Aaron Yancy اور جیک ناآن Jack Ngann مُناد بننے کی اُمیدوار بنے۔ کرسٹین گئویعن Christine Nguyen اور مسز لی Mrs. Lee دعائیہ جنگجو بنیں۔

لیکن ہمیں تقریبا ہر رات ابلیس اور اُس کے آسیبوں کے ساتھ لڑائی کرنی پڑی تھی! ڈاکٹر کیگن نے یہ بات حیات نو کے روزانہ ہونے والے واقعات میں تحریر کی تھی۔ ’’ڈاکٹر ہائیمرز نے کہا جب اُںہوں نے یہ ڈائری پڑھی کہ اُںہوں نے دو باتیں محسوس کیں۔ پہلی بات، جب خُدا پاک روح موجود تھا، بہت بڑی بڑی اور قوی باتیں رونما ہوئیں۔ دوسری بات، جب خُدا موجود نہیں تھا تو کچھ بھی رونما نہیں ہوا تھا۔‘‘ حیات نو کے دوران ایک شخص نے مجھ پر حملہ کیا تھا اور اپنے خاندان کے ساتھ گرجا گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ اور ایک نوجوان خاتون نے گرجا گھر چھوڑ دیا تھا۔ اُنہوں نے بالکل ویسے ہی ردعمل ظاہر کیا تھا جیسے پرانے ’’کُھلے دروازے‘‘ کے لوگ کرتے تھے۔ اِس قسم کی باتیں واضح طور پر مخالفانہ حیاتِ انواع میں شیطان کے چہرے کو ظاہرکرتی ہیں۔

جیک نعان Jack Ngann نے دعا میں شیطان کے ساتھ کشمکش کے بارے میں تحریر کیا۔ جیک ہارون ینسی Aaron Yancy کے ساتھ دعا مانگ رہے تھے۔ اُںہوں نے کہا، ’’ہم نے خُدا کی حضوری کے لیے دعا مانگنی شروع کی۔ جب میں نے اپنی دوسری دعا شروع کی، میں نے لااُبالی سا اور بے ہوش ہونے کے قریب شروع ہوتا ہوا محسوس کیا۔ دعا بنانے میں مشکل پیش آ رہی تھی اور میں نے ہارون کو بتایا کہ میں دعا جاری رکھنے کے قابل نہیں ہوں۔ تب ہارون نے دعا مانگنی شروع کی اور اُس نے بھی اپنی دعاؤں کو منظم کرنے میں دشواری کا تجربہ کیا۔ ہم نے محسوس کیا کہ ایک بہت بڑی شیطانی رکاوٹ تھی اور ہم نے شیطانی موجودگی کے اُٹھائے جانے جبکہ مسیح کے خون کی اِلتجا کرنے کے لیے اپنے گھٹنوں پر ہو کر دعا مانگنی شروع کر دی۔ میں نے فرش پر اوندھے مُنہ لیٹے ہوئے اِختتام کیا۔ ہم نے اِن حالتوں میں دعا کرنے کا ایک تیسرا چکر شروع کیا اور ہم نے محسوس کرنا شروع کر دیا کہ خُدا اندھیرے کو توڑنا شروع کر چکا تھا اور شیطان کی موجودگی اُٹھا لی گئی۔ ہم جانتے تھے کہ وہ اِجلاس نہایت اہم ہونے جا رہا تھا۔ یہ تقریبا صبح کے 4:00 بجے کے قریب ہوا تھا۔‘‘

اُس شام کو، شام کی عبادت میں دو گھنٹے بعد، میں نے منادی کی تھی کہ کیوں امریکہ اور مغرب میں گرجا گھروں میں حیاتِ نو رونما نہیں ہوتا۔ اُس واعظ میں جان کیگن کی مکمل گواہی شامل تھی۔ جب میں نے دعوت دی تو مسٹر نیکل Mr. Nickell آنسوؤں کے ساتھ سامنے آئے تھے اور اقرار کیا تھا کہ وہ گمراہ تھے۔ ڈاکٹر کیگن نے اُن کی مشاورت کی اور اُںہوں نے یسوع پر بھروسہ کیا اور نجات پائی تھی۔ اب ہم جان گئے تھے کیوں ہارون اور جیک ناآن کو دو گھنٹے پہلے دعا میں شیطان کے ساتھ اِس قدر زیادہ جدوجہد کرنی پڑی تھی!

نئے سال والے دِن میں نے ’’جہنم کا ایک سال – حیاتِ نو کا ایک سال!A Year of Hell – A Year of Revival!‘‘ کے عنوان پر ایک واعظ کی تبلیغ کی تھی۔ میں نے کہا تھا کہ ہم نے نئے عہدنامے کی مسیحیت کا حقیقی تجربہ کیا تھا – جو کہ ایک روحانی فوجی مڈبھیڑ ہے۔

’’کیونکہ ہمیں خُون اور گوشت یعنی اِنسان سے نہیں بلکہ تاریکی کی دُنیا کے حاکموں، اِختیار والوں اور شرارت کی رُوحانی فوجوں سے لڑنا ہے جو آسمانی مقاموں میں ہیں‘‘ (افسیوں 6:12).

وہ جنگ صرف دعا میں حقیقی فوجی مڈبھیر کے ذریعے سے جیتی گئی تھی۔

منگل کے روز جان سیموئیل اور ڈاکٹر کیگن انڈیا کے لیے سفر پر نکلیں گے جہاں پر تین مختلف انجیلی بشارت کے پرچار کی تحاریک میں منادی کریں گے۔ میں ہمارے گرجا گھر میں ہر ایک سے بدھ کی شام کو ایک دعائیہ اِجلاس میں آنے کے لیے کہہ رہا ہوں – کوئی انجیلی تبلیغ نہیں۔ ہم جان کیگن کے اِجلاس میں لوگوں کے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کے لیے ایک گھنٹے تک دعا مانگیں گے، اور مذید ایک اور گھنٹہ ہمارے گرجا گھر میں خُدا کے نیچے نازل ہونے کے لیے دعا مانگیں گے۔ میں بُدھ کی شام 7:00 بجے اِس اہم دعائیہ اِجلاس میں آپ سب کو یہاں پر موجود ہونے کے لیے کہہ رہا ہوں۔

میں نے آج شام کو انجیل کی تبلیغ نہیں کی۔ لیکن میں اِس کی ہر عبادت میں تمام وقت منادی کرتا رہا ہوں۔ یسوع آپ کے گناہوں کے لیے صلیب پر قربان ہوا تھا۔ اُس نے آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کرنے کے لیے اپنے پاک خون کو بہایا تھا۔ وہ خُدا کے داہنے ہاتھ پر زندہ بیٹھا آپ کے لیے دعائیں مانگ رہا ہے۔ یسوع مسیح بخود میں بھروسہ کریں۔ وہ آپ کو آپ کے گناہ اور خُدا کی سزا سے بچا لے گا۔ میں دعا مانگتا ہوں کہ آپ جلد ہی یسوع میں بھروسہ کریں گے۔

ڈاکٹر کیگن اور جان کیگن، مہربانی سے آئیں اور مُنبر کے سامنے اِن دو کرسیوں پر تشریف رکھیں۔ وہ منگل کے روز تین ہفتوں کے لیے انڈیا جانے کے لیے نکل جائیں گے۔ جان وہاں پر تین مختلف شہروں میں انجیلی بشارت کے پرچار کی تحاریک میں منادی کریں گے۔ جماعت میں ہر کوئی، مہربانی سے سامنے آئے اور اُن کے لیے دعا مانگے۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک کی تلاوت ڈاکٹر سی۔ ایل۔ کیگن Dr. C. L. Cagan نے کی: افسیوں6:10۔12 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو Onward, Christian Soldiers‘‘ (شاعرہ سابین بارنگ گوولڈ Sabine Baring-Gould، 1834۔1924) ۔