Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


بپتسمہ دینے والی وہ نئی ’’بے نظیر‘‘ عبادت گاہ

THE “NEW” NEW BAPTIST TABERNACLE!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 2 جولائی، 2017
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Morning, July 2, 2017

’’کاش کہ تُو آسمان کو چاک کر دے اور نیچے اُتر آئے، اور پہاڑ تیرے حضور میں لزرنے لگیں‘‘ (اشعیا64:1)۔

جب خُدا نیچے آتا ہے تو ’’پہاڑ [اُس کی] حضوری میں لرزنے لگتے ہیں۔‘‘ بے اعتقادی کے پہاڑ اُس کی حضوری میں لرزنے لگتے ہیں۔ شک و شُبہے کے پہاڑ اُس کی حضوری میں لرزنے لگتے ہیں۔ خوف کے پہاڑ اُس کی حضوری میں لرزنے لگتے ہیں۔ تکبّر کے پہاڑ اُس کی حضوری میں لرزنے لگتے ہیں۔ مایوسی کے پہاڑ اُس کی حضوری میں لرزنے لگتے ہیں۔ خودغرضی کے پہاڑ اُس کی حضوری میں لرزنے لگتے ہیں۔ شیطانی جبروظلم کے پہاڑ اُس کی حضوری میں لرزنے لگتے ہیں۔ تمام کے تمام پہاڑ جو مسیح کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں جب خُدا حٰیاتِ نو میں نیچے آتا ہے تو لرزنے لگتے ہیں! ’’خُدا کی حضوری پر پہاڑ [جیسے آتش فشاں سے لاوے کی مانند] شاید لرزنے لگتے ہیں!‘‘

حقیقی حیاتِ نو کی دعا کا مطلب ہوتا ہے کہ خُدا پر قائم رہنا اور اُسی پر ٹکے [اُسے جانے نہ دینا] رہنا – جیسے یعقوب نے کیا تھا جب وہ تمام رات دعا میں مسیح کے ساتھ کُشتی لڑتا رہا تھا – اور کہا، ’’جب تک تو مجھے برکت نہ دے میں تجھے نہ چھوڑوں گا‘‘ (پیدائش32:26)۔ ڈاکٹر لائیڈ جونز Dr. Lloyd-Jones نے کہا کہ حیات نو کی دعا ’’خُدا کو تھامے رہنا، اُس سے اِلتجا کرتے رہنا، اُس کے ساتھ جواز کرتے رہنا، اور یہاں تک کہ گِڑگڑاتے رہنا ہوتا ہے، اور یہ صرف اُسی وقت ہوتا ہے جب ایک مسیحی اُس حالت تک پہنچتا ہے کہ وہ سچ میں حیات نو کی دعائیں مانگنا شروع کرتا ہے! (لائیڈ جونزLloyd-Jones، حیاتِ نو Revival، صفحہ305).

لیکن حیاتِ نو کی دعا اشعیا جیسے لوگوں سے آنی چاہیے، وہ لوگ جو اُس نبی کے ساتھ کہتے ہیں، ’’میں حاضر ہوں ، مجھے بھیج‘‘ (اشعیا6:8) – وہ لوگ جو اپنی زندگیوں کو ہمارے خُداوند اور اُس کے مسیح کی خدمت میں قربان کر دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں! ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر نے کہا،

اگر مسیحیت کو زندہ رہنا ہے تو اُسے لوگ دوبارہ چاہیے؛ صحیح قسم کے لوگ۔ اُسے اُن کمزوروں کو رد کر دینا چاہیے جو بولنے کی جرأت نہیں کرتے… اُسے ایسے لوگوں کی تلاش کرنی چاہیے جو انبیا اور شُہدا جیسی مٹی کے بنے ہوں… وہ خُدا کے لوگ اور جرأت کے لوگ ہوں گے… اُن کی دعائیں اور ضمانت کے ذریعے سے [خُدا] طویل مدت سے اِلتوا میں پڑے حیات نو کو بھیج [دے گا]‘‘ (ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر Dr. A. W. Tozer، ہمیں خُدا کے لوگوں کی دوبارہ ضرورت ہے We Need Men of God Again) ۔

یہ ہے جس کی اِس لمحے ہمارے گرجا گھر کو ضرورت ہے – خُدا کے لوگ، اور جرأت والے لوگ۔‘‘ ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو اِس دُنیا کے زِعم باطِل کو دیکھ چکے ہیں، وہ لوگ جو تحفظ کے بجائے قربانی کو چاہتے ہوں۔ مرد اور عورتیں جو خوف سے آزاد ہوں، مرد اور عورتیں جو نبی کےساتھ مل کر کہیں، ’’میں حاضر ہوں ، مجھے بھیج‘‘ (اشعیا6:8)، نوجوان مرد اور عورتیں جو اپنی روح کی گہرائیوں سے دعا مانگیں،

’’کاش کہ تُو آسمان کو چاک کر دے اور نیچے اُتر آئے، اور پہاڑ تیرے حضور میں لزرنے لگیں جس طرح آگ سوکھی ٹہنیوں کو جلا دیتی ہے اور پانی میں اُبال لاتی ہے، اُسی طرح تُو نیچے آ کر اپنا نام اپنے دشمنوں میں مشہور کر اور تیری حضوری میں قوموں پر کپکپی طاری ہو جائے!‘‘ (اشعیا 64:1̵2).

نوجوان لوگو، جاگ اُٹھو اور اپنے ہونٹوں کو دعا کے لیے وقف کر دو کہ دعا جو جوش اور قوت کے ساتھ ہو۔ نوجوان لوگو، جاگ اُٹھو اور یسوع مسیح خُدا کے بیٹے کے لیے اپنے سکون، اپنی خوشحالی، اپنی انتہائی زندگیوں کی قربانی دو! نوجوان لوگو، جاگ اُٹھو دعا میں اپنی تمام تر قوت کے ساتھ ابلیس اور اُس کے آسیبوں کے ساتھ لڑو، خُدا کے جلال کے لیے دعا مانگیں کہ وہ ہمارے گرجا گھر میں حیاتِ نو کی ایک طاقتور بوچھاڑ کے ساتھ نازل ہو! ’’بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیوOnward, Christian Soliers۔‘‘ یہ گیتوں کے ورق پر ایک نمبر پر ہے۔ اسے گائیں! کھڑے ہو جائیں اور اِس گائیں!

بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو، جنگ کے لیے قدم بڑھاتے چلو،
یسوع کی صلیب کی قیادت میں بڑھتے چلو:
مسیح جو شاہی حاکم ہے دشمن کے خلاف رہنمائی کرتا ہے؛
جنگ میں اُس کے جھنڈوں کو آگے بڑھتا ہوا دیکھو۔
بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو، جنگ کے لیے قدم بڑھاتے چلو،
یسوع کی صلیب کی قیادت میں بڑھتے چلو۔
   (’’بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو Onward, Christian Soldiers‘‘ شاعرہ سابین بارنگ گوولڈ Sabine Baring-Gould، 1834۔1924)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

نوجوان لوگو، میں بھی جوان رہ چکا ہوں، لیکن اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔ اور ایسے ہی ہمارے رہنما ہو چکے ہیں۔ ہم نے اِس گرجا گھر کی رہنمائی گرجا گھر کی تقسیم کے طویل خستہ حال سالوں میں کی ہے۔ ہم نے اپنے وقت، پیسے اور اپنی جوانی کے سالوں کی قربانی اِس گرجا گھر کو اتنا ہی اچھا بنانے کے لیے جتنا کہ یہ ہے، دی ہے۔ اور یہ کافی اچھا ہے۔ ہم نے قیمت چکائی ہے۔ ہم نے اُس عالمگیر منادی کی قیمت چکائی ہے جو اِس گرجا گھر کی انٹرنیٹ پر ہے۔ لیکن ہماری پیشانی پر جوانی کی شبنم اب مذید اور باقی نہیں رہی ہے۔ ہمارے پاس اب وہ طاقت اور قوتِ برداشت نہیں ہے جو اِس گرجا گھر کو اگلے مرحلے تک پہنچائے۔ ہمارے پاس مذید اور وہ توانائی، وہ جوش و ولولہ یا وہ مرضی نہیں ہے جو اِس گرجا گھر کو اگلے مرحلے تک بُلند کرنے کے لیے رہنمائی کرے۔ ہم نے اپنی جوانی کی قوت کو اِس گرجا گھر کو بچانے میں صرف کر دیا ہے، لیکن ہمارے پاس مذید اور قوت نہیں ہے کہ بپتسمہ دینے والی وہ نئی ’’بے نظیر‘‘ عبادت گاہ کی تخلیق کر پائیں۔ آپ نوجوان لوگوں کو یہ ضرور کرنا چاہیے، ورنہ یہ کی ہی نہیں جائے گی۔ اِسے کریں! اِسے کریں! اِسے کریں!

میں کبھی ایک جوشیلا نوجوان پادری ہوا کرتا تھا۔ میں جھنجھوڑ ڈالنے والی استعداد کے ساتھ اِتوار کو تین مرتبہ منادی کر پاتا تھا۔ میں 1,000 لوگوں کی جماعت کی توجہ مرکوز کیے رکھتا تھا، جن میں سے ایک تہائی تو پہلی مرتبہ آئے ہوتے تھے۔ لیکن میں اب 73 سال کا کینسر سے بچا ہوا بوڑھا ہوں۔ لیکن میں اب اُس تمام کے لیے انتہائی بوڑھا ہو چکا ہوں۔ طویل دعا اور ریاضت کے بعد، میں جان چکا ہوں کہ ہم مذید اور انتظار نہیں کر سکتے۔ میں کہتا ہوں کہ ہمیں اپنے نوجوان لوگوں میں ابھی سے قیادت کو منتقل کرنا شروع کرنے کی ضرورت ہے – جب کہ ابھی ہمارے پاس آپ کی مدد کرنے اور آپ کی رہنمائی کرنے اور رُکنے کے لیے وقت ہے۔ اگلی بہار میں منسٹری میں مجھے ساٹھ سال پورے ہو چکے ہوں گے۔ چند ایک مبلغین ہی ساٹھ سالوں کی خدمت کے بعد ابھی تک پادری ہیں۔ میں یقیناً محسوس کرتا ہوں کہ میرے لیے اب اُتر جانے اور ایک رہنمائی کرنے والا بننے کا وقت آ چکا ہے۔ بجائے اِس کے کہ ایک قائد رہوں۔ اِسی لیے، میں تجویز دیتا ہوں کہ ہمارے گرجا گھر کو منسٹری کے لیے جان سیموئیل کیگن کو مذہبی عہدے پر تعینات کرنا چاہیے، اور کہ اُنہیں اُس وقت میں ہمارے گرجا گھر کا پادری صاحب بن جانا چاہیے! اُس وقت میں پیچھے ہٹ جاؤں گا اور اُن کا رہنما بن جاؤں گا، پادری ایمریٹُس Pastor-Emeritus کے خطاب کے ساتھ۔ میں اِس کے علاوہ تجویز دیتا ہوں کہ اُس وقت نوح سُونگ Noah Song کو منسٹری کے لیے لائسنس جاری کیا جائے، اور کہ ہارون ینسی Aaron Yancy، جیک نان Jack Ngann، ایبل پرودھوم Abel Prudhomme اور کیو ڈُونگ لی Kyu Dong Lee کو اِس گرجا گھر کے مُنادوں کی حیثیت سے مذہبی عہدے پر فائز کیا جائے، اور کہ ہارون ینسیAaron Yancy کو ’’منادوں کے چیئرمین‘‘ کا مستقل خطاب دیا جائے۔ ہم تب ایک نئے سسٹم کو اپنائیں گے، ہمارے گرجا گھر میں اِن عمدہ لوگوں میں سے بے شمار کو اپنی اپنی باری کی بنیادوں پر ’’سرگرم مُناد‘‘ بنائیں گے۔ اب لمحے کو جکڑنے کا وقت آ چکا ہے اور ہمارے گرجا گھر کی مشعل کو اب نوجوان لوگوں کے حوالے کرنے کا وقت آ چکا ہے۔ اب اُنہیں ہماری رہنمائی اصل میں بپتسمہ دینے والی اُس نئی ’’بے نظیر‘‘ عبادت گاہ کو بنانے کے لیے کرنی چاہیے۔ بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو!Onward, Christian Soldiers ! کھڑے ہوں اور دوسرا بند اور کورس گائیں۔

فتح کی علامت پر شیطان کا میزبان دیکھنا بھاگ جائے گا؛
تب بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو، فتح کی جانب بڑھتے چلو!
ستائش کی پکاروں پر جہنم کی بنیاد کانپتی ہیں؛
بھائیوں، اپنی آوازیں بُلند کریں، اپنے ترانوں کو اور اونچا گائیں!
بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو، جنگ کے لیے قدم بڑھاتے چلو،
یسوع کی صلیب کی قیادت میں بڑھتے چلو۔

اِس کے باوجود میں ساٹھ سالوں کے تجربے سے جانتا ہوں کہ تنہا آپ کی جوانی اِس کو انجام نہیں دے پائی گی۔ ہمیں خُدا کے روح کا تروتازہ نزول پانا چاہیے ورنہ آپ یہ نہیں کر سکتے۔

بپتسمہ دینے والے چینی گرجا گھر میں ڈاکٹر ٹموتھی لِن Dr. Timothy Lin 24 سالوں تک میرے پادری صاحب رہے تھے۔ ڈاکٹر لِن دعا کے ایک قوی شخص تھے۔ ڈاکٹر لِن نے کہا، ’’دعا کا ہدف خُدا کی حضوری کو پانا ہوتا ہے۔‘‘ اُںہوں نے کہا، ’’آخری دِنوں کو کلیسیا کے پاس خُدا کی حضوری کا ہونا لازم ہے اگر وہ بڑھنا چاہتی ہے۔ خُدا کی حضوری کے بغیر تمام کی تمام کوششیں بے مقصد ہوں گی‘‘ اور ناکامیاب ہوں گی۔ شیطان جانتا ہے کہ ہم خُدا کی حضوری کی قوت کے بغیر بڑھ نہیں پائیں گے۔ ڈاکٹر لِن نے کہا کہ ہم جس قدر مسیح کی آمد ثانی کے قریب تر ہوتے جائیں گے، اُتنا ہی زیادہ شیطان کا دباؤ دعا کے خلاف ہوتا جائے گا‘‘ (تمام حوالے ڈاکٹر لِن کی کتاب کلیسیا کے بڑھنے کا راز The Secret of Church Growth میں سے لیے گئے ہیں)۔ پولوس رسول نے کہا، ’’ہمیں خون اور گوشت یعنی انسان سے کُشتی نہیں لڑنی‘‘… بلکہ شیطان اور اُس کے آسیبوں سے لڑنا ہے (افسیوں6:12)۔ ہم کیسے تاریکی کی قوتوں کے خلاف کُشتی کر سکتے ہیں؟ پولوس نے جواب دیا۔ ’’پاک روح کی ہدایت سے ہر وقت اور ہر طرح دعا اور مِنّت کرتے رہو‘‘ (افسیوں6:18)۔ جب کوئی دوسرا دعا مانگ رہا ہوتا ہے، تو اپنے ذہن کو جب رہنما دعا مانگتا ہو تب ہر اِلتجا کو سُننے کے لیے مجبور کریں! ہر اِلتجا کے اختتام پر ’’آمین‘‘ کہیں۔ یہ بات رہنما کی دعاؤں کو خود آپ کی اپنی دعا بنا دیتی ہے! یہ بات ہماری دعاؤں کو شیطان کے خلاف ایک طاقتور قوت بنا ڈالتی ہے! کھڑے ہوں اور دوبارہ دوسرا بند گائیں!

فتح کی علامت پر شیطان کا میزبان دیکھنا بھاگ جائے گا؛
تب بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو، فتح کی جانب بڑھتے چلو!
ستائش کی پکاروں پر جہنم کی بنیاد کانپتی ہیں؛
بھائیوں، اپنی آوازیں بُلند کریں، اپنے ترانوں کو اور اونچا گائیں!
بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو، جنگ کے لیے قدم بڑھاتے چلو،
یسوع کی صلیب کی قیادت میں بڑھتے چلو۔

اور ہماری خاص دعا ہمارے کام میں خُدا کے نیچے آ جانے کے لیے ہونی چاہیے – ایک طاقتور حیاتِ نو میں خُدا کی حضوری کے نازل ہونے کے لیے!

’’کاش کہ تُو آسمان کو چاک کر دے اور نیچے اُتر آئے، اور پہاڑ تیرے حضور میں لزرنے لگیں‘‘ (اشعیا64:1)۔

جب خُدا ہمارے درمیان نیچے نازل ہوتا ہے تو ’’[اُس کے] حضور میں پہاڑ لرزنے لگتے ہیں۔‘‘ اُس کی حضوری میں بے اعتقادی کے پہاڑ لرزا جاتے ہیں! اُس کی حضوری میں شک و شُبہے کے پہاڑ لرزا جاتے ہیں! اُس کی حضوری میں حسد کے پہاڑ لرزا جاتے ہیں! اُس کی حضوری میں وہ پہاڑ جو ہمیں ایک دوسرے سے جُدا کر دیتے ہیں لرزا جاتے ہیں! اور اُس کی حضوری میں ایک دوسرے کے لیے گہری محبت اُمڈ آتی ہے! وہ پہاڑ جو ہمارے خُداوند اور اُس کے مسیح کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں آتش فشاں میں سے پگھلتے ہوئے لاوے کی مانند نیچے بہتے ہیں، ہماری جانب آگ کی مانند بہتے ہیں، حیاتِ نو میں نیچے بہتے ہیں! میں آپ پر خُدا کی حضوری کو ہمارے پاس ایک طاقتور حیاتِ نو میں نیچے آنے کے لیے ہر روز شدت کے ساتھ دعا مانگنے کی ذمہ داری ڈالتا ہوں! حیاتِ نو کی دعا کا مطلب ہوتا ہے خُدا پر یقین قائم رکھنا اور یعقوب کی مانند دعا مانگنا، ’’جب تک تو مجھے برکت نہ دے میں تجھے نہ چھوڑوں گا۔‘‘ جیسا کہ ڈاکٹر لائیڈ جونز نے کہا، حیات نو کی دعا ’’خُدا کو تھامے رہنا، اُس سے اِلتجا کرتے رہنا، اُس کے ساتھ جواز کرتے رہنا، اور یہاں تک کہ گِڑگڑاتے رہنا ہوتا ہے، اور یہ صرف اُسی وقت ہوتا ہے جب ایک مسیحی اُس حالت تک پہنچتا ہے کہ وہ سچ میں حیات نو کی دعائیں مانگنا شروع کرتا ہے! [اُس طرح دعا مانگتا ہے، کہ وہ حیات نو کی دعائیں مانگ رہا ہے]،‘‘ حیاتِ نو Revival، صفحہ305۔

آپ میں سے کچھ شاید نہیں چاہتے کہ ہم حیاتِ نو کے لیے دوبارہ دعائیں مانگیں! آپ شاید سوچتے ہیں کہ گذشتہ سال کی ’’حیاتِ نو کی مشعل‘‘ نے کوئی اتنی اچھی کارکردگی نہیں دکھائی! لیکن آپ غلطی پر ہیں! گذشتہ سال ہمارے پاس حیاتِ نو کی صرف ’’مشعل‘‘ تھی، لیکن دیکھیں اُس کے نتیجے میں کیا ہوا – جان کیگن نے مزاحمت کرنی چھوڑ دی اور خوشخبری کی منادی کرنے کے لیے گُھٹنے ٹیک دیے! ہمارے پاس ایک نئے پادری صاحب ہیں – اور وہ حیاتِ نو کی اُسی ’’مشعل‘‘ سے اُبھر کا سامنے آئے ہیں! اگلے موسمِ خزاں میں ہمارے پاس بپتسمہ دینے کے لیے تین گنا اُتنے ہی لوگ زیادہ ہوں گے جتنے ہمارے پاس کبھی ہوا کرتے تھے! کہاں سے اِس قدر زیادہ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے والے لوگ آئے؟ وہ حیاتِ نو کی اُس چھوٹی سی ’’مشعل‘‘ سے آئے جو خُدا نے گذشتہ گرمیوں میں ہم پر بھیجا تھا، یہ ہے جہاں سے وہ آئے ہیں! دوسرا بند دوبارہ گائیں! اِس کو دوبارہ گائیں!

فتح کی علامت پر شیطان کا میزبان دیکھنا بھاگ جائے گا؛
تب بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو، فتح کی جانب بڑھتے چلو!
ستائش کی پکاروں پر جہنم کی بنیاد کانپتی ہیں؛
بھائیوں، اپنی آوازیں بُلند کریں، اپنے ترانوں کو اور اونچا گائیں!
بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو، جنگ کے لیے قدم بڑھاتے چلو،
یسوع کی صلیب کی قیادت میں بڑھتے چلو۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

ہم نے جب گذشتہ سال حیاتِ نو کی اُن عبادتوں کو بند کیا تھا تو میں آپ کو بتا چکا ہوں ہمارے پاس حیاتِ نو کی صرف ایک ’’مشعل‘‘ تھی، لیکن ہمارے پاس شاید اِس سال خُدا کی حضوری کا شدید نزول ہو جائے۔ میں ساٹھ سالوں کے تجربے سے جانتا ہوں کہ یہ رونما ہو سکتا ہے۔ بہتے پانی سے بننے والی نالی کی صفائی کرنے والے کے ملنے سے پہلے آپ کو حیاتِ نو کا ایک ’’لمس‘‘ مل سکتا ہے! درحقیقت یہی تو چینی گرجا گھر میں رونما ہوا تھا۔ اِسی طرح سے یہ آتا ہے۔ پہلے نمبر پر – ایک لمس! دوسرے نمبر پر – بہتے پانی سے بننے والی نالی کی صفائی کرنے والا ! میں اپنی زندگی میں تین بہت بڑے بڑے حیات نو دیکھ چکا ہوں! میں جانتا ہوں خُدا یہاں ہمارے گرجا گھر میں یہ دوبارہ کر سکتا ہے! اور میں جانتا ہوں کہ تنہا اِن نوجوان لوگوں کو قیادت دے دینے سے ہمارے گرجا گھر کو قوت نہیں ملے گی، نا ہی ہم اُس بپتسمہ دینے والی نئی ’’بے نظیر‘‘ عبادت گاہ کو دیکھ پائیں گے جب تک کہ ہم خُدا کی پاک حضوری کی قوی طاقت کے ہمارے درمیان نازل ہونے کے لیے دعا نہیں مانگتے!

’’کاش کہ تُو آسمان کو چاک کر دے اور نیچے اُتر آئے، اور پہاڑ تیرے حضور میں لزرنے لگیں‘‘ (اشعیا64:1)۔

مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور حمدوثنا کا گیت نمبر3 گائیں، شاعر پال ریڈر Paul Rader، 1879۔1938 کی جانب سے کی گئی شاعری ’’پرانے وقتوں کی قوتOld-Time Power۔‘‘

ہم تیری برکات کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں، ہم اپنے خُدا کا اِنتظار کریں گے؛
ہم اُس میں بھروسہ کریں گے جس نے ہم سے محبت کی، اور جس نے ہمیں اپنے خون سے خریدا۔
روح، اب ہمارے تمام دِلوں کو محبت کے ساتھ پگھلا ڈال اور تحریک دے،
عالم بالا سے ہم پر پرانے وقتوں کی قوت کی سانس پھونک ڈال۔

ہم تیری قوت میں جلال پائیں گے، ہم شاندار فضل کے بارے میں گیت گائیں گے؛
ہم اپنے درمیان، جیسے تو نے وعدہ کیا تھا، آ جا، اوہ آ جا، اور اپنی جگہ لے لے۔
روح، اب ہمارے تمام دِلوں کو محبت کے ساتھ پگھلا ڈال اور تحریک دے،
عالم بالا سے ہم پر پرانے وقتوں کی قوت کی سانس پھونک ڈال۔

ہمیں اپنے سامنے دعا میں سرنگوں کر ڈال، اور ہماری جانیں ایمان کے ساتھ متاثر ہوں،
جب تک کہ ہم ایمان کے وسیلہ سے آگ اور پاک روح کے وعدے کا دعوی نہ کریں۔
روح، اب ہمارے تمام دِلوں کو محبت کے ساتھ پگھلا ڈال اور تحریک دے،
عالم بالا سے ہم پر پرانے وقتوں کی قوت کی سانس پھونک ڈال۔
   (’’پرانے وقتوں کی قوت Old-Time Power‘‘ شاعر پال ریڈر Paul Rader، 1879۔1938)۔

میرے پیارے دوست، یسوع مسیح آپ کے گناہ کا کفارہ چکانے کے لیے صلیب پر قربان ہو گیا تھا۔ یسوع مسیح نے اُس صلیب پر اپنے قیمتی خون کو آپ کے گناہ کو دھونے کے لیے بہا دیا تھا۔ یسوع مسیح مُردوں میں سے زندہ ہو چکا ہے۔ وہ اوپر آسمان میں آپ کے لیے دعا مانگ رہا ہے۔ صرف اُسی پر بھروسہ کریں۔ صرف اُسی پر بھروسہ کریں۔ صرف اُسی پر ابھی بھروسہ کریں۔ وہ آپ کو بچا لے گا۔ وہ آپ کو بچا لے گا۔ وہ آپ کو ابھی بچا لے گا!

سائمن فریسی کے گھر میں گناہ سے بھرپور ایک عورت یسوع کے پاس آئی۔ بائبل کہتی ہے،

’’اور دیکھو، ایک بدچلن عورت جو اُسی شہر کی تھی، یہ سُن کر کہ یسوع اُس فرِیسی کے گھر میں کھانا کھانے بیٹھا ہے، سنگِ مرمر کے عِطردان میں عِطر لائی۔ اُس نے یسوع کے پاؤں کے پاس پیچھے کھڑی ہو کر رونا شروع کر دیا اور وہ اپنے آنسوؤں سے اُس کے پاؤں بھگونے لگی اور اپنے سر کے بالوں سے اُنہیں پونچھ کر بار بار اُنہیں چُومنے لگی اور عِطر سے اُن کا مسح کرنے لگی‘‘ (لوقا 7:37۔38).

یہ عورت شہر میں ایک گنہگار کی حیثیت سے جانی جاتی تھی۔ لوگ جانتے تھے کہ وہ انتہائی گنہگار تھی۔ اُس کی بہت بُری ساکھ تھی۔ وہ یسوع کے پیچھے سے رینگ کر آئی جب وہ کھانا کھا رہا تھا اور اُس کے پیروں کا مسح کیا، اور اُس کے پیروں کو چوما۔ وہ یسوع کے پاس آئی تھی۔

’’اور یسوع نے اُس خاتون سے کہا، تیرے گناہ معاف ہُوئے۔ جو لوگ اُس کے ساتھ دسترخوان پر تھے یہ سُن کر دل ہی دل میں کہنے لگے، یہ کون ہے جو گناہ بھی معاف کرتا ہے؟ لیکن اُس نے خاتون سے کہا، تیرے ایمان نے تجھے بچا لیا ہے، سلامتی کے ساتھ رخصت ہو‘‘ (لوقا 7:48۔50).

یہ گناہ سے انتہائی بھرپور تھی۔ لیکن وہ پھر بھی یسوع کے پاس آئی تھی۔ وہ اُس کے پاس آئی تھی اور اُس کے پیروں کو چوما تھا۔ اور اُس نے اُس عورت سے کہا، ’’تیرے گناہ معاف ہوں۔‘‘ اُس نے صرف یسوع کے پاس آنے کا کام کیا تھا۔ لیکن وہی کافی تھا! اُس کے گناہ معاف کیے جا چکے تھے اور وہ نجات پا چکی تھی!

نجات پانے کے لیے آپ کو صرف وہی کرنا ہے جو اُس عورت نے کیا تھا۔ وہ محض یسوع کے پاس آنے کے وسیلے سے نجات پا گئی تھی۔ اور یسوع آپ سے کہتا ہے،

’’میرے پاس آؤ…اور میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی 11:28).

اگر آپ یسوع کے پاس بالکل ابھی جائیں گے، اِس ہی صبح، تو وہ آپ کے گناہوں کو معاف کر دے گا اور آپ کی جان کو نجات دلائے گا، بالکل جیسے اُس نے بائبل کے زمانے میں لوگوں کو نجات دلائی تھی۔ وہ آپ کو نجات دے گا اگر آپ اُس کے پاس آ جائیں گے۔ وہ آپ کے تمام گناہوں کو اُس خون سے دھو ڈالے گا جو اُس نے صلیب پر بہایا تھا۔ وہ آپ کو اپنی راستبازی کے لبادے میں ملبوس کر دے گا۔ وہ آپ کو نجات دلائے گا۔ آپ کو صرف اُس کے پاس ہی تو آنا ہے۔ وہ آسمان میں خُدا کے داہنے ہاتھ پر بالکل ابھی زندہ ہے۔ کیا آپ اُس کے پاس جائیں گے؟ ایک پرانا گیت کہتا ہے،

اپنی غلامی، دُکھوں اور اندھیروں سے باہر،
   یسوع، میں آتا ہوں، یسوع، میں آتا ہوں؛
تیرے نور، شادمانی اور آزادی میں داخلے کے لیے،
   یسوع، میں تیرے پاس آنے کے لیے آتا ہوں؛
تیرے پیار میں پنپنے کے لیے اپنی خود کی ذات سے نکل کر،
   مایوسی سے نکل کر عالمِ بالا میں بے خودی میں آنے کے لیے،
فاختہ کی مانند پر پھیلائے نظریں اوپر اُٹھائے،
   یسوع میں تیرے پاس آنے کے لیے آتا ہوں۔
(’’یسوع، میں آتا ہوں Jesus, I Come‘‘ شاعر ولیم ٹی. سلیپر William T. Sleeper، 1819۔1904).


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک میں سے تلاوت مسٹر نوح سونگ Mr. Noah Song نے کی تھی: اشعیا 64:1۔4۔
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
نے گایا تھا: ’’اے خُداوندا، اپنے کام کو نئی زندگی بخش
Revive Thy Work, O Lord‘‘ (شاعر البرٹ مِڈلین Albert Midlane، 1825۔1909)۔